بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الاول 1444ھ 07 اکتوبر 2022 ء

بصائروعبر (اداریے)

نکاح نامے میں ختمِ نبوت کا حلف 

نکاح نامے میں ختمِ نبوت کا حلف 

 

روزنامہ جنگ کراچی ۲۷؍ اکتوبر ۲۰۲۱ء بروز بدھ کی خبر ہے کہ پنجاب اسمبلی نے نکاح نامے میں ختمِ نبوت کا حلف نامہ شامل کرنے کی متفقہ قرارداد منظور کرلی۔ یہ قرارداد مسلم لیگ (ق) کی رکن اسمبلی خدیجہ عمر، بسمہ چوہدری اور مسلم لیگ (ن) کے مولانا الیاس چنیوٹی کی جانب سے نکاح نامے کے فارم میں ختمِ نبوت کا حلف شامل کرنے کے لیے پیش کی گئی۔ مشترکہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی، نکاح نامہ میں اس حلف نامہ کو شامل کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ آئے دن قادیانی نوجوان اپنی قادیانیت کو دجل اور فریب کی چادر میں چھپاکر مسلمان خواتین سے نکاح کرلیتے تھے اور کچھ عرصہ کے بعد برملا کہتے کہ ہم تو قادیانی ہیں، جیسا کہ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر جناب پرویز الٰہی صاحب نے اس موقع پر کہا کہ: 
’’بہت سے ایسے کیس سامنے آرہے ہیں کہ شادی کے بعد دولہا قادیانی نکلا۔ اس کے سدِباب کے لیے نکاح نامے میں بھی ختمِ نبوت کا حلف نامہ شامل کرنا بہت ضروری ہے، تاکہ نکاح ہونے سے پہلے ہی تمام شکوک وشبہات دور کرلیے جائیں۔‘‘ 
اب ظاہر ہے کہ ایک کافر کا نکاح مسلم خاتون سے یا مسلم نوجوان کا قادیانی کافرہ عورت سے کیسے ہوسکتا ہے؟ جب کہ قرآن کریم واضح الفاظ میں کہتا ہے: 
’’لَاھُنَّ حِلٌّ لَّھُمْ وَلَاھُمْ یَحِلُّوْنَ لَھُنَّ۔‘‘ (الممتحنہ:۱۰)
’’نہ تو یہ عورتیں ان (کفار) کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ (کافر) ان کے لیے حلال ہیں۔‘‘
قادیانیوں کے اس دجل وفریب کو روکنے کی خاطر پنجاب اسمبلی نے یہ قابلِ تقلید وتحسین کام کیا، جس کو سراہنا چاہیے اور ہر مسلمان بالخصوص پاکستانی مسلمان اس کو وقت کی ضرورت سمجھتا ہے۔ ہر باشعور غیرت مند مسلمان چاہے گا کہ اس کو صرف قرارداد کی منظوری کی حد تک نہ روکا جائے، اور صرف پنجاب اسمبلی ہی نہیں، بلکہ سندھ، بلوچستان اور کے پی کے کی صوبائی اسمبلیوں کے علاوہ وفاقی حکومت بھی اس کو بل کی شکل میں منظور کرے، بلکہ اس کو قانون اور دستور کا حصہ بنایا جائے۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جہاں ایک طرف پنجاب اسمبلی کے اس احسن اقدام کی تعریف کی جارہی ہے، دوسری طرف چند ایک ایسے حضرات بھی سامنے آئے ہیں، جو بظاہر اس اقدام کے متأثرین میں شامل نہیں تھے، بلکہ ایک طرح سے مذہبی نقاب پوش تھے، انہوں نے غیرضروری طور پر ایسے قابلِ تعریف اقدام کا تمسخر اُڑانے کی کوشش کی، جس سے پوری پاکستانی قوم اور پنجاب اسمبلی میں ان کے نمائندوں کے جذبات کی توہین اور قادیانی طبقے کی ہمدردی کی بدبو محسوس ہونے لگی ہے۔ انہوں نے اس قرارداد پر ایسے ریمارکس دیئے اور تبصرہ کیا جو بجائے مسلمانوں کی مدد اور حمایت کے وہ سراسر نہ صرف یہ کہ قادیانیوں کی حمایت اور تعاون ہی تعاون ہے، بلکہ انہوں نے اپنے اس تبصرہ میں طنزاً اور استہزاء ً اذان کو بھی نشانہ بنایا اور ساتھ ساتھ اقامت اور امام کے بارہ میں طنز کردیا کہ اس کو بھی امامت سے پہلے یہ حلف نامہ پر کرنا چاہیے۔ قارئین بھی ان کے اس تبصرے کو ملاحظہ فرمائیں، پہلا طاعن لکھتا ہے کہ:
’’زیادہ مناسب ہوگا کہ اذان میں بھی ’’أشھد أن محمدا رسول اللہ‘‘ کے بعد دو دفعہ ’’أشھد أن محمداً خاتم النبیین‘‘اور دو دفعہ ’’أشھد أن محمداً لانبي بعدہ‘‘پڑھا جائے۔‘‘
دوسرا طعنہ زن اس پر مزید اضافہ کرتا ہے:
’’ اقامت میں بھی شامل ہو اور ہر نماز سے پہلے امام ختمِ نبوت کے حلف نامے پر دستخط کرے۔‘‘
ان دونوں کے رد میں جب کچھ لوگوں نے گرفت کی تو دوسرا طاعن اس پر مزید اضافہ کرتے ہوئے اگرچہ عنوان تو ’’میں رجوع اور توبہ کرتا ہوں‘‘ کا لگایا ہے، لیکن کچھ اپنی دینی خدمات گنواتے ہوئے اور اپنی صفائی پیش کرنے کے بعد لکھتا ہے:
’’ ..... لہٰذا اب میں نہ صرف نکاح نامے پر حلف والی تجویز کی اس شرط کے ساتھ حمایت کرتا ہوں کہ بات کو یہاں روکا نہ جائے، بلکہ مزید آگے بڑھایا جائے، مثلاً فیس بک پر موجود مولانا صاحبان کی پوسٹ پڑھنے سے پہلے ان سے قادیانیت، غامدیت سمیت تمام فتنوں سے براء ت کا حلف ضرور لے لیا کریں، کیا پتا وہ پچھلے کچھ عرصے سے ڈی ٹریک ہوگئے ہوں، جب مدرسے کا مولوی گمراہ ہوسکتا ہے تو مثلاً ولایت کی چکاچوند میں بیٹھے کسی امام کا کیا پتا۔ میں یہ بھی تجویز پیش کرتا ہوں کہ اسمبلیوں میں موجود مذہبی لوگوں کے پیچھے پڑجائیں کہ اس موضوع پر صرف قرارداد نہیں، باقاعدہ بل ساری اسمبلیوں سے پاس کرائیں، آخر ختمِ نبوت کی خدمت شروع کی ہے تو اسے انتہا تک پہنچانے کے لیے کم از کم اپنا پورازور لگادیں۔ نکاح خواں اور نکاح کے گواہان بھی ختمِ نبوت کے حلف نامے پر دستخط کریں، بلکہ قرارداد پیش کرنے والوں سے باز پرس کی جائے کہ انہوں نے اس پہلو کو کیوں نظر انداز رکھا؟ چونکہ قادیانیوں کا معاشی بائیکاٹ کرنا ہوتا ہے، اس لیے ہر دکان میں نمایاں جگہ حلف نامہ لٹکانا ضروری قرار دیا جائے، ہر گاہک بھی حلف نامہ پیش کرے، چونکہ قادیانیوں کا سماجی بائیکاٹ کرنا ہوتا ہے، اس لیے ہر آدمی کے گلے میں حلف نامہ لٹکانا ضروری قرار دیا جائے، اور ہاں ہر نماز سے پہلے امام صاحب ختمِ نبوت کا حلف نامہ پڑھ کر سنائیں۔ اتنے اہم ایمانی معاملے کے لیے تجاویز میں اضافہ کرکے آپ بھی اجروثواب حاصل کرسکتے ہیں۔‘‘
اب پاکستانی مسلمان ہونے کی حیثیت سے آپ ہی سوچیں کہ جو کچھ اس موصوف نے لکھا ہے، کیا یہ مسلمانوں کی ترجمانی ہے یا قادیانیوں کی حمایت؟ فیصلہ آپ کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ایسے مذہبی نقاب پوش چند ایک حضرات کے نام سامنے نہ ہوتے تو ان کی اس عبارت کو ہر پڑھنے والا یہی کہتا اور سمجھتا کہ یہ قادیانیوں نے لکھا ہے یا کوئی قادیانی نواز ہے، جو ان کو خوش کرنے کے لیے لکھ رہا ہے۔ 
راقم الحروف نہیں سمجھ سکتا کہ یہ حضرات کیوں اس طرح کی تحریریں لکھ رہے ہیں؟! آخر اُن کی مجبوری کیا ہے؟ جو اس طرح کے افکار کے کھلم کھلا اظہار پر ان کو آمادہ کررہی ہے۔
خدارا! ایسے حضرات کو سوچنا چاہیے کہ ہمارا ہر قول اور ہر فعل نامۂ اعمال میں محفوظ ہورہا ہے، قرآن کریم میں ارشاد ہے: 
’’مَایَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ۔‘‘ (ق:۱۸)
’’ وہ منہ سے کوئی بات بھی نکالنے نہیں پاتا مگر اس کے پاس ایک حاضر باش نگران موجود رہتا ہے ۔‘‘
اسی طرح ارشاد ہے: 
’’کِرَامًا کَاتِبِیْنَ یَعْلَمُوْنَ مَاتَفْعَلُوْنَ‘‘ (الانفطار:۱۱-۱۲)
’’ کچھ ایسے معزز لکھنے والے ، جو جانتے ہیں وہ سب کچھ جو تم لوگ کرتے ہو۔‘‘
ان حضرات کے نام راقم الحروف نے عمدا ً اور جان بوجھ کر اس لیے نہیں لکھے، تاکہ یہ حضرات اپنی سوچ اور فکر کو پرکھ سکیں اور ان کو اپنے ان جملوں اور تبصرہ کی حساسیت کااحساس ہو اور وہ اپنی اس فکر اور سوچ میں تبدیلی لاسکیں، اس سے ان کا ہی فائدہ ہوگا، ورنہ علیم بذات الصدور کا فرمان ’’وَحُصِّلَ مَا فِيْ الصُّدُوْرِ‘‘ (اور کھول کر رکھ دیا جائے گا وہ سب کچھ جو کہ (مخفی و مستور) ہوگا سینوں میں) کا اظہار تو روزِ جزاء ضرور ہوگا اور اس وقت ان کے حصے میں سوائے پچھتاوے کے اور کچھ ہاتھ نہ آئے گا، إن أرید إلا الإصلاح مااستعطتُ وما توفیقي إلا باللہ، علیہ توکلت وإلیہ أنیب۔

وصلی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیدنا محمد و علٰی آلہٖ و صحبہٖ أجمعین