بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1441ھ- 07 اگست 2020 ء

بصائروعبر (اداریے)

اُخوتِ اسلامی اور اس کی اہمیت !

اُخوتِ اسلامی اور اس کی اہمیت !

الحمد للّٰہ وسلامٌ علٰی عبادہٖ الذین اصطفٰی

اسلامی اُخوت وہ عالمگیر رابطۂ وحدت اور رشتۂ یگانگت ہے جو تمام جغرافیائی، نسلی، لسانی، ملکی اور وطنی حدودو قیود سے آزاد اور امتیازات سے وراء الوراء ہے۔ یہ وہ روحانی رشتہ ہے جو مادی علائق ور وابط سے منزہ اور بالا تر ہے۔ وحیِ ربانی کی آیاتِ بینات اور صاحبِ وحی ورسالت  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ارشاداتِ مقدسہ میں اس کی تفصیلات و تمثیلات کے مستقل ابو اب موجود ہیں، ارشادِ الٰہی ہے:
’’کُنْتُمْ اَعْدَائً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِکُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہٖ اِخْوَانًا۔‘‘       (آل عمران:۱۰۳)
’’ تم (ایک دوسرے کے) دشمن (خون کے پیاسے) تھے، پس اللہ نے تمہارے دلوں میں اُلفت پیداکردی، اب تم اس کے انعام ورحمت سے (ایک دوسرے کے) بھائی ہوگئے۔‘‘
 ارشادِ نبوی ( صلی اللہ علیہ وسلم )ہے:
’’الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ کَالْبُنْیَانِ یَشُدُّ بَعْضُہٗ بَعْضًا وَشَبَّکَ بَیْنَ أَصَابِعِہٖ۔‘‘     (صحیح البخاری،ابواب المظالم والقصاص، باب نصرالمظلوم،ج:۱ص۳۳۱،ط:قدیمی)
’’ ایک مو من دوسرے مومن کے لیے عمارت کے رَدّوں کی مانند ہے، جس کا ایک رَدَّا دوسرے رَدّے کو مضبوط ومحکم کرتا ہے۔ اور (آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس تمثیل کا مشاہدہ کرانے کے لیے) اپنی ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پیوست کرلیں اور فرمایا: اس طرح۔‘‘
 نیز ارشاد ہے:
’’مَثَلُ الْمُؤْمِنِیْنَ فِيْ تَوَادِّھِمْ وَتَرَاحُمِھِمْ وَتَعَاطُفِھِمْ مِثْلَ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَکٰی مِنْہُ عُضْوٌ تَدَاعٰی لَہٗ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّھَرِ وَ الْحُمّٰی۔‘‘(بخاری ومسلم بروایت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ)
’’ مومنوں کی مثال باہمی دوستی، شفقت وعاطفت اور ایک دوسرے پر مہربان ہونے میں جسم (کے اعضاء) کی مانند ہے، جب جسم کا کوئی ایک عضو مر ض میں مبتلا ہوتا ہے تو تمام جسم کے اعضاء بیماری کی تکلیف کی وجہ سے راتوں کو جا گنے اور بخار کا اثر قبول کرنے میں اس کا سا تھ دیتے ہیں (اور پورا جسم بیمار ہوجاتا ہے)۔‘‘
اس کے با لمقابل اس رابطۂ وحدت اور رشتۂ اُخوت کو پارہ پارہ کر دینے کے بارے میں شدید وعیدیں اور بلیغ مثالیں آئی ہیں، چنانچہ ارشاد ہے:
’’أَلَا أُخْبِرُکُمْ بِأَفْضَلَ مِنْ دَرَجَۃِ الصِّیَامِ وَالصَّلٰوۃِ وَالصَّدَقَۃِ، قَالُوْا: بَلٰی، قَالَ: إِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَیْنِ، فَإِنَّ فَسَادَ ذَاتِ الْبَیْنِ ھِيَ الْحَالِقَۃُ، لَا أَقُوْلُ: تَحْلِقُ الشَّعْرَ وَلٰکِنْ تَحْلِقُ الدِّیْنَ۔‘‘ ابوداؤد،ترمذی، بروایت ابوالدرداءؓ) 
’’ فرمایا: کیا میں تمہیں روزہ، نماز اور صدقہ کے درجہ سے بھی افضل (عبادت) نہ بتلاؤں؟ (صحابہؓ نے) عرض کیا: کیوں نہیں؟! (ضرور بتلائیے) فرمایا: (وہ عبادت) باہمی تعلقات کی اصلاح (خوشگوار بنانا) ہے، اس لیے کہ اس کے مقابلہ پر آپس کے تعلقات کو بگاڑنا (اور خراب کرنا) ہی مونڈ دینے والی (معصیت) ہے، میرا مطلب یہ نہیں کہ یہ (حرکت) بالوں کو مو نڈ تی ہے، بلکہ یہ تو (پوری قوم کے) دین (وایمان) کو مونڈ ڈالتی ہے (تباہ کر دیتی ہے)۔‘‘
دنیائے اسلام کے لیے مسلمانوں کے باہمی اتحاد و تعاون سے بڑھ کر کوئی نعمت اور حمت نہیں، جس طرح دنیا میں مسلمانوں کے تخرُّب (دھڑے بندی) اور افتراق سے بڑھ کر کوئی عذاب نہیں، قرآن کریم کی آیتِ کریمہ:
’’اَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعًا وَّ یُذِیْقَ بَعْضَکُمْ بَاْسَ بَعْضٍ۔‘‘                      (الانعام:۶۵)
’’ یا تم کو مختلف گر وہوں میں بانٹ دے اور ایک دوسرے سے لڑادے (خانہ جنگی کے عذاب میں مبتلا کر دے)۔‘‘
 میں اسی عذاب کا ذکر فرمایا ہے۔

جہادِ پاکستان اور اتحاد

آج اگر مراکش سے لے کر انڈونیشیا تک کے مسلمانوں میں باہمی اتحاد و تعاون اور تنظیم کی روح کار فرما ہوجائے تو یقینا دنیا کی سب سے بڑی طاقت اسلام اور مسلمانوں کی طاقت ہو۔ خدا کا شکر ہے کہ جہادِ پاکستان کے موقع پر اس اسلامی اتحاد و تعاون کی ہلکی سی جھلک سامنے آگئی اور ترکی، ایران، عرب اور جاوہ نے اس نازک موقع پر پاکستان کی اعانت وامداد کرکے یہ وحدتِ اسلامی کا بھولا ہوا سبق مسلمانوں کو یاد دلایا ہے اور اب محسوس ہوتا ہے کہ یہ جہاد کیا تھا‘ نفحۂ الٰہیہ (نسیمِ رحمتِ الٰہی) کا ایک ایسا جھونکا تھا جس نے اسلامی اُخوت ووحدت کی لہر بجلی کی طرح دنیا کے مسلمانوں میں دوڑادی اور مشاہدہ میں آگیا کہ جہاد ہی ایسی نعمت ہے جس کے ذریعہ حق تعالیٰ کی رضا و خو شنودی کی سعادت اور دنیا کی عزت وعظمت میسر آسکتی ہے اور اسی نعمت سے محرومی مسلمانوں کی دنیا اور آخرت دونوں میں ذلت اور رسوائی کا باعث بنتی ہے۔ خاتم الانبیاء  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسی حقیقت کی طرف اُمت کو ذیل کے الفاظ میں متوجہ فرمایا ہے:
’’الْجِھَادُ مَاضٍ إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔‘‘ (المعجم الاوسط)
’’ جہاد قیامت کے دن تک جاری رہے گا۔‘‘
اندرونِ ملک میں بھی اسی جہاد کی برکت سے پوری قوم میں بے نظیر اتحاد ویگانت اور ہمدردی و تعاون کے جذبات یکدم بیدار ہوگئے، تمام جماعتی اور سیاسی تفرقے مٹ گئے، ایثار و سرفروشی کے احساسات بروئے کار آگئے اور چشم زدن میں اہلِ پاکستان اس عظیم نعمت سے سر فراز ہوگئے جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔
درحقیقت پاکستان کا یہ دور نہایت مبارک و مسعود ہے جس میں قوم کو بہت بڑی سعادت سے ہمکنار ہونا نصیب ہوا، اور برسوں کے خوابِ غفلت سے پوری قوم بیدار ہوگئی۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ تاریخِ اسلام میں مسلمانوں کی تر قی وبرتری کا راز سربستہ منکشف ہوگیا، آیاتِ جہاد اور احادیثِ قتال فی سبیل اللہ کے حقائق وبرکات کا مشاہدہ ہوگیا۔
کاش! مسلمان اس عظیم الشان نعمتِ الٰہی کا صرف زبانی شکر یہ کے بجائے حقیقی شکر یہ ادا کریں اور اس منحوس زندگی کو یکسر ختم کر دیں جو غضبِ الٰہی اور قہرِ خدا وندی کو دعوت دیا کرتی ہے۔ اربابِ اقتدار کا بھی فرض ہے کہ اللہ کی دی ہوئی اس طاقت وقدرت سے صحیح فائدہ اُٹھائیں اور اس ملک میں اللہ تعالیٰ کا قانونِ رحمت وحکمت یعنی مکمل نظامِ شریعت جلد از جلد جاری کردیں اور اس کی رہنمائی میں ملک کے اندر ایک صالح معاشرہ کی تشکیل کریں اور اس شکرِ نعمت کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے وعدے:
’’لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَأَزِیْدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِیْدٌ۔‘‘             (ابراہیم:۷)
’’ اگر تم نے شکر کیا تو ہم تمہیں زیادہ دیں گے اور اگر تم نے کفر کیا تو (یاد رکھو) میرا عذاب بڑا سخت ہے۔‘‘
 کے مطابق دنیا میں اور زیادہ سے زیادہ عزت وعظمت اور طاقت وقوت کی نعمت سے فراز ؟؟؟ ہوں اور آخرت میں رضاء الٰہی اور ابد الآباد تک رہنے والی لا ز وال نعمتوں سے مالا مال ہوں۔
مگر اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ امر یکہ، روس ،برطانیہ، فرانس اور چین وغیرہ طاغوتی طاقتوں اور خالص مفاد پرست خود غرض قوموں سے اپنا دامن چھڑا کر احکم الحاکمین کی بارگاہِ جلال وکبریا میں سرِ نیاز خم کریں اوررب العالمین کی بارگاہِ قدس میں سر بسجود ہوکر کونین کی نعمتوں اور سعادتوں سے سربلند اور سرخرو ہوں۔

 پاکستان کی اصلاح کے لیے چند ضروری تجاویز

چند خوش آئند تبدیلیاں دیکھ کر خوشی ہوئی، ریڈیوکے نظام میں کچھ تبدیلی آگئی ہے۔ سنا ہے کہ کا لجوں اور یو نیورسٹیوں میں مخلوط تعلیم ختم کرنے کے لیے بھی احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں۔ سب سے زیادہ نیک فال یہ ہے کہ قرآن عظیم کے بارے میں پہلی مرتبہ یہ اعلان ہوا ہے کہ حکومتِ پاکستان قرآن کریم کی رہنمائی کو رہنما اصول کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔ لیکن یہ تبدیلیاں اور اقدامات اصلاحِ حال کے لیے قطعاً ناکافی ہیں۔ 
ریڈ یو پر اگر چہ عام گا نے بند کر دیئے گئے ہیں، لیکن قومی اور رزمی ترانے صنفِ نازک کی سریلی آوازوں اور طاؤس ورباب کے دلکش نغموں کے ساتھ اور مو سیقی کی تر نم ریزیاں ابھی تک باقی ہیں، یہ نہ مرض کا پورا علاج ہے اور نہ کامل شکرِ نعمت۔ یہ درست ہے کہ معاشرہ کا مذاق اتنا بگڑ چکا ہے کہ یکدم اصلاح ممکن نہیں، تاہم مدبرانہ تدریجی نظام کے ساتھ مز ید اقدامات کے جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔ قرآنی قانون اور شرعی نظام جلد از جلد نافذ ہونا چاہیے، ہر قسم کے رَقص وسر ود کی محفلیں رفتہ رفتہ ختم ہونی چاہئیں، کلبوں اور اعلیٰ سو سائٹیوں میں عورتوں اور مردوں کے بے محابا اختلاط، سر کاری تقریبات میں لا زمی عورتوں کی شرکت کی بھی بیخ کنی ہونی چاہیے۔ اخبار اور سائل میں ملکی اور غیر ملکی عورتوں کے نیم عریاں فوٹو اور تصاویر کی اشاعت خصوصاً کا روباری اغراض کے لیے سینما اور دوسری کمپنیوں کے اشتہارات میں عورتوں کی تصا ویر کی اشاعت واستعمال قطعاً ممنوع ہونا چاہیے۔ شراب نوشی اور قمار بازی بہر صورت قابل سزا جرم قرار دیا جانا چاہیے۔
 غرض نہ صرف اغیار بلکہ اعداء کی اس مستعار تہذیب وثقافت اور ملعون زندگی کو جس کی یہ سب نحوستیں ہیں، یکسر خیر باد کہہ کر دنیا میں ایک با وقار وباعزت اور خوددار وطاقت ور قوم کی تشکیل ناگزیر ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کا ملہ اور آخرت کی مسئو لیت پر کامل یقین وایمان موجود ہو اور عہدِ حاضر کے تجربات ومشاہدات سے استفادہ کرنے والی عقل، صحیح عزمِ راسخ اور خود اعتمادی کی طاقت میسر ہو تو دنیا کی کوئی مشکل بھی مشکل نہیں ہے، عبرت کے لیے چین کی مثال موجود ہے، مگر درحقیقت یقین محکم ہونے کے بجائے کمزور، عقل کامل ہونے کے بجائے ناقص اور عزم راسخ ہونے کے بجائے متزلزل اور احساسِ کمتری غیر شعوری طور پر مسلط ہوچکا ہے۔ اسی قصور اور خامی کی وجہ سے صورتِ حال میں مؤ ثر انقلاب آفریں اقدامات کی ہمت نہیں ہوتی۔ اللّٰھُمَّ اھْدِ قَوْمِيْ فَإِنَّھُمْ لَایَعْلَمُوْنَ۔

گر و ہ بندی، افتراق اور علماء کرام

جس طرح عوام اور قوم کے دوسرے طبقوں میں انتشارو افتراق اور تحزُّب (گر وہ بندی) کار فرما ہے، اسی طرح علماء کرام کے طبقوں اور دینی اداروں میں بھی تشتُّت وافتراق موجود ہے، نہ صرف مختلف مکاتبِ فکر کے علماء میں بلکہ ایک ہی مکتبِ فکر کے بزرگوں میں بھی یہی صورت حال کار فر ما ہے۔ کہیں جمعیت علماء اسلام ہے تو کہیں جمعیت علماء پاکستان، اور کہیں مجلسِ احرارِ اسلام موجود ہے تو کہیں جمعیتِ اہلِ حدیث، کہیں تنظیمِ اہلِ سنت ہے تو کہیں ادارہ ختم نبوت، دین کے لیے یہ انتشارو افتراق سانحۂ عظیم ہے۔ کاش! یہ سب ادارے یا کم ازکم ایک ایک مکتب خیال کے ادارے ایک مرکز پر جمع اور متحد ومتفق ہوجائیں اور پھر باہمی تعاون ومشاورت اور متحدہ نظام کے تحت تقسیم کار کے اصول پر جو جماعت جس مقصد کے لیے زیادہ اہل اور موزوں ہو وہ کام اس کے سپر د کردیا جائے۔ آپس میں کلی ارتباط واتحاد، تعاون وتنا صر اور ہم آہنگی ویگا نگت موجود ہو اور سب ایک نظام میں منسلک ہوں۔
 

وصلی اللّٰہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیدنا محمد وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ أجمعین