بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 رجب 1444ھ 01 فروری 2023 ء

بینات

 
 

’’KalPay ‘‘کمپنی کے ساتھ معاملات کا شرعی حکم

’’KalPay ‘‘کمپنی کے ساتھ معاملات کا شرعی حکم


 ایک کاروباری مسئلہ میں شرعی راہ نمائی درکار ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا الیکٹرانک آئٹم کا کاروبار ہے، ہم اپنی پراڈکٹ مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعہ فروخت کرتے ہیں، جس میں سے ایک طریقہ ’’Online E Commerce‘‘ کا بھی ہے، جس میں ہم اپنی پراڈکٹ اپنی ویب سائٹ اور دیگر اس طرح کی مارکیٹ سے آن لائن فروخت کرتے ہیں، ہم چاہتے ہیں ہم اپنے کسٹمرز کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دے سکیں، تاکہ کسٹمر کی ضرورت بھی پوری ہو ، اور ہمارے کسٹمرز کی تعداد بھی بڑھے، اس سہولت کے پیشِ نظر ایک طریقہ قسطوں (Instalment) پر اشیاء فروخت کرنے کا ہے، چوں کہ ہم خود مختلف وجوہات کی بنا پر یہ طریقہ اختیار نہیں کرتے، اس لیے اس سہولت کو حاصل کرنے کے لیے ہم نے انسٹالمنٹ کی سہولت فراہم کرنے والی کمپنی سے بات چیت کی ہے، ان میں ایک کمپنی ’’KalPay‘‘ ہے۔
 انہوں نے جو ہمیں اپنا طریقہ کار بتایا اور اپنا ایگریمنٹ بھی دیا (جو استفتاء کے ساتھ منسلک ہے) اور زبانی طور پر بھی ہم نے ان سے تفصیلات معلوم کیں، جس کا حاصل یہ ہے کہ:
 اگر کسی کسٹمر کو ہماری پراڈکٹ چاہیے ہو تو وہ ہماری ویب سائٹ پر آئے گا، اور وہاں کسی بھی پراڈکٹ کو خریدے گا، اس کے بعد اس چیز کی قیمت ادا کرنے کے لیے اس کے پاس مختلف آپشن میں سے ایک ’’KalPay‘‘ کا آپشن ہوگا، اگر وہ اس آپشن کو منتخب کرے تو ’’KalPay‘‘اس پراڈکٹ کی مکمل قیمت ( سروس چارجز کاٹ کر) ہمیں ادا کردے گا، اور اس کسٹمر سے وہ رقم دو، تین یا چار ماہ کی قسطوں میں وصول کرلے گا ، اس کے عوض وہ کسٹمر سے کسی قسم کے چارجز نہیں لے گا، اور وہ ہم سے فی پراڈکٹ %۵ (پانچ فیصد)سروس چارجز لے گا۔
 اس کا فائدہ کسٹمر کو یہ ہوگا کہ اس کو جو پراڈکٹ نقد میں جتنے کی ملنی تھی، اتنی ہی قیمت میں اس کو وہ پراڈکٹ قسطوں پر مل جائے گی، اور اس کو کسی قسم کے اضافی چارجز ادا نہیں کرنے ہوں گے۔ اور ہمیں اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ ہمیں اپنی پراڈکٹ کے مکمل پیسے فوری مل جائیں گے، جس سے ہمارے کسٹمر کی تعداد میں اضافہ ہوگا، اور ہمارا پیمنٹ وصول کرنے کا رسک ختم ہوجائے گا۔
نوٹ:
’’KalPay‘‘ کے منسلکہ ایگریمنٹ اور ان سے بات چیت کرنے سے مزید جو باتیں واضح ہوئیں، وہ درج ذیل ہیں:
q-’’KalPay‘‘ ہم سے خرید وفروخت کا معاملہ نہیں کرتا، بلکہ صرف پیمنٹ کی ادائیگی کی سروس فراہم کرتا ہے، خریدوفروخت کی انوائس بھی عام خریداروں کی طرح ہمارے اور کسٹمر کے درمیان کی ہی بنتی ہے۔
w-’’KalPay‘‘ ہماری پراڈکٹ کی باقاعدہ مارکیٹنگ نہیں کرتا، کسٹمر ہمارے اسٹور سے ہی سامان خریدتا ہے، البتہ صرف پیمنٹ کے طریقہ میں ’’KalPay‘‘ کے آپشن کا اضافہ ہوجاتا ہے، تاہم یہ ممکن ہے کہ بالواسطہ ایک قسم کی مارکیٹنگ خود ہی ہوجاتی ہے۔
e- اگر کسٹمر پیمنٹ (یعنی قسطوں کی ادائیگی)نہیں کرسکا تو ہماری ذمہ داری نہیں ہوگی، بلکہ یہ’’KalPay‘‘ کی ذمہ داری ہوگی، ہم %۵ (پانچ فیصد)سروس چارجز دے کر اس پیمنٹ کے رسک سے بری ہوجاتے ہیں۔
r- کسٹمر اگر وقت پر پیمنٹ نہیں کرسکا، یا وہ درمیان میں ماہانہ اقساط بڑھانا چاہے تو اس پر اضافی رقم لاگو ہوتی ہے۔
مذکورہ بالا تمام تفصیلات کی روشنی میں آپ سے یہ درخواست ہے کہ ہمیں اپنے کسٹمرز کو سہولت دینے کے لیے ’’KalPay‘‘ سے مذکورہ معاملہ کرنا کیسا ہے؟ اگر شرعاً یہ جائز ہو تو ہم ان سے کام شروع کردیں، اور اگر ناجائز ہوتو اس کا اگر کوئی حل ممکن ہو تو اس کی راہ نمائی فرمادیں۔       مستفتی: محمد محفوظ

الجواب باسمہٖ تعالیٰ

سوال میں بیان کردہ صورت اور منسلک معاہدہ کے مندرجات کے مطابق ’’KalPay‘‘ کمپنی کے معاملات کے شرعی حکم کا تعلق کمپنی کے مندرجہ ذیل معاملات سے ہے:
q- بیچنے والے (سائل) کو یہ سہولت فراہم کرے گی کہ وہ خریدار پر واجب الاداء رقم سائل کو نقد میں ادا کردے گی اور خریدار سے وصولی کی مکمل ذمہ داری خود لے لے گی، حتی کہ اگر خریدار رقم ادا نہیں کرتا ہے تو ’’KalPay‘‘ کو سائل سے وصولی کا بھی اختیار نہیں ہوگا۔
w- اس سہولت کے عوض ’’KalPay‘‘ کمپنی سائل سے اس معاہدہ کے مطابق %۵ (پانچ فیصد)سروس چارچز وصول کرےگی۔اور اس سروس چارجز کی وصولی کا طریقہ یہ ہوگا کہ ’’KalPay‘‘ سائل کو رقم کی ادائیگی کے وقت یہ %۵ (پانچ فیصد)منہا کر کے ہی اد اکرے گی۔
e- اسی طرح ’’KalPay‘‘ کمپنی خریدار سے وقت پر ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں یا اقساط بڑھانے کی صورت میں اضافی رقم وصول کرے گی۔
اب نمبر وار کمپنی کے مذکورہ تینوں معاملوں کا شرعی حکم بیان کیا جاتا ہے:
q- ’’KalPay‘‘ (کمپنی) کا سائل (بیچنے والے) کو سامان کی مکمل قیمت ادا کردینا اور وصولی کی مکمل ذمہ داری خود لینا (حتیٰ کہ وصولی نہ ہونے کی صورت میں بھی سائل سے مطالبہ کا اختیار نہ ہونا ) شرعاً یہ دین (ادھار) کی خریدو فروخت کا معاملہ ہے، یعنی ’’KalPay‘‘ (کمپنی) سائل سے اس کا ادھار (وہ دین جو سامان کی خریداری کے عوض ہے) خرید لیتا ہے، گویا کہ اب ’’KalPay‘‘ (کمپنی) کا ادھار (دین) اس خریدار پر ہے اور سائل کا اب اس ادھار سے کوئی تعلق نہیں ہے، اسی وجہ سے خریدار کے ادا نہ کرنے کی صورت میں بھی سائل پر کسی قسم کا مالی بوجھ نہیں ہے ۔ اس طرح ادھار (دین) کی خریداری درست نہیں ہے اور یہ بیع شرعاً باطل ہے، لہٰذا یہ معاملہ درست نہیں ہے۔
w-’’KalPay‘‘ کمپنی جو %۵ (پانچ فیصد)سروس چارجز سائل سے لیتی ہے، وہ اس نقد ادائیگی کی سہولت کے عوض لیتی ہے، یعنی ’’KalPay‘‘ جو سائل سے اس کا ادھار (دین) خریدتی ہے، اس پر %۵ (پانچ فیصد)سروس چارچز لیتی ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ’’KalPay‘‘ سائل سے اس کا زیادہ قیمت کا ادھار (دین) کم قیمت پر خرید لیتی ہے (مثلاً ۱۰۰روپے کا ادھار  ۹۵روپے میں خرید لیتی ہے)۔ اول شق نمبر:۱  میں گزر چکا کہ یہ ادھار خریداری کا معاملہ ہی درست نہیں ہے اور کم قیمت پر خریدنا اس کو سودی معاملہ بھی بنا دے گا، کیونکہ نتیجہ کے اعتبار سے ’’KalPay‘‘ ۱۰۰روپے کے عوض ۹۵روپے خرید رہی ہے، لہٰذا اس معاملہ میں سودی معاملہ کا گناہ بھی ہوگا۔
e-’’KalPay‘‘ کمپنی کا وقت پر قیمت کی ادائیگی نہ کرنے کی صورت میں اور قسطوں کی تعداد بڑھانے کی صورت میں اضافی رقم لینا جائز نہیں ہے، بلکہ یہ بھی سود ہے۔
خلاصہ یہ ہوا کہ ’’KalPay‘‘ کمپنی کے مذکورہ تینوں معاملات ناجائز ہیں اور نمبر ۲ اور ۳ سودی معاملے ہیں، لہٰذا اس کمپنی کا کاروبار کا طریقۂ کار درست نہیں ہے، لہٰذا اس کمپنی کے ساتھ منسلکہ معاہدہ کے مطابق معاملہ کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ کمپنی کے معاملہ نمبر: ۱ اور ۲ میں سائل براہِ راست شریک ہوگا، کیونکہ کہ اُدھار(دین) کی خریداری کا معاملہ سائل سے ہی ہوگا اور سائل ہی سروس چارچز کی شکل میں سود کی ادائیگی ’’KalPay‘‘ کو کرے گا اور معاملہ نمبر: ۳ میں سائل براہِ راست شریک نہیں ہوگا، کیونکہ وہ اضافی رقم ’’KalPay‘‘ کمپنی خریدار سے لے گی، لیکن اس معاہدہ کی رو سے اس سودی معاملہ پر سائل کی رضامندی ضرور شامل ہوجائے گی اور وہ سودی معاملہ میں معاون بن جائے گا۔
مذکورہ معاملہ جس میں بیچنے والے کو نقد مکمل رقم مل جائے اور خریدار کو ادھارپر سامان مل جائےاور ’’KalPay‘‘ کو مطلوبہ نفع مل جائے کی متبادل صورت یہ ممکن ہے کہ ’’KalPay‘‘ کمپنی سائل سے مطلوبہ سامان خرید لے اور قبضہ بھی کرلے (قبضہ کی جو صورت ممکن ہو، مثلاً ’’KalPay‘‘ کمپنی کا کوئی نمائندہ سائل کے پاس آکر سامان پر قبضہ لے لے یا ’’KalPay‘‘ کمپنی اپنے کسی گوڈاون وغیرہ میں وہ سامان منگوالےیا جو ممکنہ صورت ہو) اور پھر ’’KalPay‘‘ کمپنی خریدے ہوئے مال کو خریدارکے ہاتھ مثلاً پانچ فیصد نفع شامل کر کے کل قیمت متعین کر کے ادھار پر فروخت کردے ۔ ادھار فروخت کرتے وقت قسطیں طے کرلے اور قسطوں میں تاخیر کی صورت میں قیمت میں کسی قسم کا اضافہ نہ کرے، یعنی جب کوئی خریدار سامان خریدنے کا ارادہ ظاہر کرے اور ادھار پر خریدنا چاہتا ہو تو سائل اس کو مال فروخت نہ کرے، بلکہ سائل ’’KalPay‘‘ کو سامان فروخت کرے اور ’’KalPay‘‘ اس سامان پر قبضہ کرلے اور پھر ’’KalPay‘‘ اس خریدار کو قیمت میں اضافہ کرکے سامان فروخت کرے۔’’KalPay‘‘ کم قیمت پر سائل سے خریدے اور قبضہ کرنے کے بعد زیادہ قیمت پر خریدار کو فروخت کرے، بعد میں کسی وجہ سے اضافہ نہ کرے۔ ایسا کرنے کی صورت میں سائل کو مکمل رقم نقد کی صورت میں مل جائے گی، خریدار کو سامان اُدھار مل جائے گا اور ’’KalPay‘‘ کمپنی کو %۵ (پانچ فیصد)یا جتنا نفع لینا چاہے مل جائے گا اور سائل کی بِکری (سیل) میں بھی اضافہ ہوجائے گا۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
’’وأفتی المصنف ببطلان بيع الجامکيۃ، لما في الأشباہ بيع الدين إنما يجوز من المديون وفيہا (قولہ: وأفتی المصنف إلخ) تأييد لکلام النہر، وعبارۃ المصنف في فتاواہ سئل عن بيع الجامکيۃ: وہو أن يکون لرجل جامکيۃ في بيت المال ويحتاج إلی دراہم معجلۃ قبل أن تخرج الجامکيۃ فيقول لہ رجل: بعتني جامکيتک التي قدرہا کذا بکذا، أنقص من حقہ في الجامکيۃ فيقول لہ: بعتک فہل البيع المذکور صحيح أم لا لکونہ بيع الدين بنقد أجاب إذا باع الدين من غير من ہو عليہ کما ذکر لا يصح قال: مولانا في فوائدہٖ: وبيع الدين لا يجوز ولو باعہ من المديون أو وہبہ.۔۔۔۔‘‘
(کتاب البیوع، ج:۱، نمبر: ۴، ص: ۵۱۷، ایچ ایم سعید)
’’الأشباہ والنظائر‘‘ میں ہے:
’’وبيع الدين لا يجوز، ولو باعہ من المديون أو وہبہ جاز والبنت لو وہبت مہرہا من أبوہا أو ابنہا الصغير من ہٰذا الزوج ۔ إن أمرت بالقبض صحت وإلا لا؛ لأنہ ہبۃ الدين من غير من عليہ الدين، (انتہی) ۔ 
وفي مداينات القنيۃ: قضی دين غيرہ ليکون لہ ما علی المطلوب فرضي جاز، ثم رقم لآخر بخلافہ: ولو أعطی الوکيل بالبيع للآمر الثمن من مالہ قضاء علی المشتري علی أن يکون الثمن لہ کان القضاء علی ہٰذا فاسدا ويرجع البائع علی الآمر بما أعطاہ وکان الثمن علی المشتري علی حالہ۔ (انتہی) ۔۔۔۔ 
وخرج عن تمليک الدين لغير من ہو عليہ ‌الحوالۃ؛ فإنہا کذٰلک مع صحتہا کما أشار إليہ الزيلعي منہا. وخرج أيضًا الوصيۃ بہٖ لغير من ہو عليہ، فإنہا جائزۃ کما في وصايا البزازيۃ؛ فالمستثنی ثلاث۔
وفرع الإمام الأعظم رحمہ اللہ علٰی عدم صحۃ تمليکہٖ من غير من عليہ أنہ لو وکلہٗ بشراء عبد بما عليہ ولم يعين المبيع والبائع لم يصح التوکيل۔‘‘ 
(الأشباہ والنظائر، الفن الثالث، القول فی الدین، ص: ۳۰۹، دار الکتب العلمیۃ)
’’فتاویٰ ہندیہ‘‘ میں ہے:
’’يحتاج إلٰی شرط رابع في عقد الصرف إذا کان المعقود عليہ من جنس واحد وہو التساوي في الوزن کذا في خزانۃ المفتين ۔۔۔۔ الدراہم والدنانير لا تتعينان في عقود المعاوضات عندنا ولا يجوز بيع الذہب بالذہب ولا الفضۃ بالفضۃ إلا مثلًا بمثل تِبرًا کان أو مصنوعا أو مضروبا ولو بيع شيء من ذٰلک بجنسہٖ ولم يعرفا وزنہما أو عرفا وزن أحدہما دون الآخر أو عرف أحد المتصارفين دون الآخر ثم تفرقا ثم وزنا وکانا سواء فالبيع فاسد۔‘‘ 
(فتاویٰ ہندیہ، کتاب الصرف، باب ثانی، فصل اول، ج: ۳ ، ص؛ ۲۱۸، دار الفکر)
فتاویٰ شامی میں ہے:
’’ہو لغۃ: مطلق الزيادۃ وشرعًا (فضل) ولو حکمًا فدخل ربا النسيئۃ ...... (خال عن عوض) ۔ خرج مسألۃ صرف الجنس بخلاف جنسہٖ (بمعيار شرعي)..... (مشروط) ذلک الفضل (لأحد المتعاقدين) أي بائع أو مشتر، فلو شرط لغيرہما، فليس بربًا بل بيعًا فاسدًا (في المعاوضۃ)۔‘‘ 
(فتاویٰ شامی ، کتاب البیوع، باب الربا، ج: ۵، ص: ۱۶۸، ایچ ایم سعید)
فتاویٰ شامی میں ہے:
’’قولہ: لزم کل الثمن حالا) لأن ‌الأجل في نفسہ ليس بمال، فلا يقابلہ شيء ‌حقيقۃ إذا لم يشترط زيادۃ الثمن بمقابلتہ قصدا، ويزاد في الثمن لأجلہ إذا ذکر ‌الأجل بمقابلۃ زيادۃ الثمن قصدا، فاعتبر مالا في المرابحۃ احترازا عن شبہۃ الخيانۃ، ولم يعتبر مالا في حق الرجوع عملا بالحقيقۃ بحر۔‘‘
(فتاویٰ شامی، کتاب البیوع، باب المرابحہ و التولیۃ، ج: ۵، ص: ۱۴۲، ایچ ایم سعید) 


فقط واللہ اعلم
الجواب صحیح
الجواب صحیح
کتبہ 
محمد انعام الحق
شعیب عالم
مصطفیٰ امین


تخصصِ فقہِ اسلامی


جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین