بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ربیع الاول 1442ھ- 20 اکتوبر 2020 ء

بینات

 
 

ہمارے جناح صاحب رحمۃ اللہ علیہ 

ہمارے جناح صاحب رحمۃ اللہ علیہ 


اچھی صحبت، مخلص رفاقت، نیک جذبہ اور صالح عمل جس خوش بخت انسان کے حصے میں آجائے تو وہ زندوں میں زندہ اور مردوں میں بھی زندہ رہتا ہے، ایسی تابناک زندگی اُخروی کامیابی وفلاح کے لیے نیک فالی کا درجہ رکھتی ہے۔ ایسے ہی خوش بخت لوگوں میں سے ایک انسان ہمارے محترم بزرگوار جناب بھائی بخت رحمن بھی تھے، جنہیں ان کی مخلصانہ اور ہر مشکل کام میں قائدانہ کردار کی وجہ سے ان کے رفقائے کار ’’جناح صاحب‘‘ سے یاد کیا کرتے تھے۔ جناح صاحب کا آبائی تعلق تو سوات سے تھا، مگر ان کی زندگی کا بیشتر حصہ چونکہ کراچی میں ہی گزرا تھا، اس لیے ان کے عادات واطوار، انداز وگفتار اور سلیقہ وکردار میں دہلوی و لکھنوی جھلک بھی نمایاں محسوس ہوتی تھی۔
پیشے کے اعتبار سے ’’جناح صاحب‘‘ ڈرائیور، مکینک، پھر اسپیئر پارٹ کے ڈیلر تھے، مگر خداداد صلاحیت اور علمی و دینی شخصیات کی صحبت کی بدولت دینی، سیاسی اور تاریخی معلومات کا وسیع ذخیرہ اُن کے پاس محفوظ تھا، جس کے ذریعے وہ اپنے مصاحبین کو محظوظ فرمایا کرتے تھے، اور اپنے ہم نشینوں میں توجہ اور احترام کا مرکز بنے رہتے تھے۔
جامعہ کے ساتھ اُن کا تعلق غالباً ۱۹۸۸ء/۱۹۹۰ء سے قائم ہوا، جامعہ میں عید الاضحی کے موقع پر چرمہائے قربانی کا سلسلہ قدرے منظم انداز اور مرتّب طریقے پر مشتمل ہوتا ہے، اس نظم کے لیے عید کے موقع پر چھوٹی بڑی مختلف گاڑیوں کی ضرورت پڑتی ہے، گاڑیوں کے ڈرائیور حضرات عموماً منفرد شاہانہ مزاج کے حامل ہوتے ہیں، یہ لوگ بسااوقات اپنے ہر مخاطب کو سواری یا سامان سمجھ کر برتاؤ کرتے ہیں، ایسا ہی ایک معاملہ اس وقت شعبہ چرمِ قربانی کے ذمہ دار اساتذہ کے ساتھ پیش آیا کہ عین موقع پر کرائے پر لی ہوئی گاڑیوں کے ڈرائیور حضرات نے کام کرنے سے انکار کردیا اور جامعہ کے اساتذہ پریشانی سے دوچار تھے کہ اللہ تعالیٰ نے درویش مسجد سندھی مسلم سوسائٹی کراچی کے امام حضرت مولانا سید منہمر شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ذریعے جامعہ کے ساتھ تعاون کا فوری اور دیرپا انتظام فرما دیا۔ شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے قریبی علاقے چنیسر گوٹھ میں رہنے والے ٹرانسپورٹر احباب سے رابطہ کیا، وہ حضرات حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے معتقد تھے اور روایتی دین دار بھی تھے، انہوں نے فوری طور پر جامعہ کی ہنگامی خدمت کا بیڑہ اُٹھایا اور ہمیشہ کے لیے جامعہ کے ہو کر رہ گئے اور عید کے موقع پر جامعہ کے اساتذہ اور طلبہ کی طرح انتہائی معمولی معاوضوں پر جامعہ کی خدمت کے لیے ایک طرح سے وقف ہوگئے، اور اس مخلص جماعت کے لوگ آگے اپنے بچوں اور بھائیوں کو اس کارِ خیر میں شامل کرتے چلے گئے اور یہ سلسلہ اب تک قائم ہے۔ 
جناح صاحب مرحوم اس مخلص جماعت کے اولین رکنِ رکین تھے جو ہمیشہ پابندی سے عید الاضحی کے موقع پر جامعہ کی خدمت کے لیے تشریف لایا کرتے تھے۔ آخری چند سالوں میں آپ کے پاس ذاتی گاڑی نہیں تھی، اس وجہ سے وہ کسی سے عاریۃً گاڑی لے کر جامعہ کی خدمت کے لیے آیا کرتے تھے، پھر جب گاڑی نہ بھی ہوتی تو خود تشریف لے آتے اور اپنے شاگرد ڈرائیور حضرات کی نگرانی کرتے تھے اور انہیں بڑی تاکید کے ساتھ باور کراتے رہتے تھے کہ ہم لوگ بنوری ٹاؤن کے طلبہ اور اساتذہ کی طرح خدمت کے لیے آئے ہیں، ہمیں اساتذہ جس طرح، جس کام کا، جب تک کہیں گے ہمیں وہ کام کرنا ہے۔ جناح صاحب کے حسنِ تربیت کا اثر یہ تھا کہ ہمارے ساتھ کام کرنے والے ڈرائیور حضرات ڈرائیور کم اور فرمانبردار طالب علم زیادہ دکھائی دیتے تھے۔ جناح صاحب مرحوم اور ان کے رفقاء کی یہ نیکی، یہ جذبہ اور مخلصانہ تعلق جامعہ میں زندہ ہے، زندہ رہے گا اور ہمیشہ اُسے یاد رکھا جائے گا۔ 
مؤرخہ ۲۰محرم الحرام ۱۴۴۲ھ / ۹ ستمبر ۲۰۲۰ء کو جناح صاحب کی وفات کا جب علم ہوا تو جامعہ کے متعدد اساتذہ جنازہ میں شریک ہوئے اور تعزیت کے لیے بھی حاضر ہوئے، جبکہ دعائے مغفرت اور ایصالِ ثواب کا سلسلہ جامعہ، شاخہائے جامعہ اور بیرونِ جامعہ بلکہ بیرونِ ملک فضلائے جامعہ تک ہوتا رہا۔ یہ سب کچھ اُن کے اعمال کی قبولیت اور جامعہ کے ساتھ مخلصانہ، خادمانہ اور وفادارانہ تعلق کے اُخروی صلے کا دنیوی مظہر ہے۔ اللہ تعالیٰ جناح صاحب کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے جملہ پسماندگان کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔ 
بینات کے باتوفیق قارئین سے بھی بخت رحمن عرف جناح صاحبؒ کے لیے دعائے مغفرت اور ایصالِ ثواب کی توقع واستدعا ہے۔

 اللّٰہم اغفر لہ وارحمہ 
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے