بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

24 شوال 1443ھ 26 مئی 2022 ء

بینات

 
 

گھریلو تشدُّد (روک تھام اور تحفظ) کا بل (ساتویں اور آخری قسط)


گھریلو تشدُّد (روک تھام اور تحفظ) کا بل


Domestic violence (prevention and protection)  Bill,2021

(ساتویں اور آخری قسط)


بل پر شق وار تبصرے کے بعد اب اس کی چند موٹی موٹی خامیوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے:

مصالحت کی مخالفت

خاندان کی بنیاد زوجین کے تعلق پر ہے۔ اگر زوجین کے مابین نزاع ہوجائے تو اس کے لیے قرآن کریم میں ’’نشوز، شقاق اور اعراض‘‘ وغیرہ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں اور اس کےحل کےلیے مصالحت پر زور دیا گیا ہے۔ قرآن کریم کی یہ مصالحتی تجویز اس کے اصولوں کے ہم آہنگ ہے، کیونکہ جب وہ عائلی زندگی کی بنیاد صلح وصفائی، عفو و درگزر، حسنِ سلوک، صلہ رحمی اورایثار وہمدردی پر رکھتا ہے تو ان اُصولوں کا تقاضابھی مقدمہ بازی نہیں، بلکہ چشم پوشی ہے اور مخاصمت نہیں، بلکہ مصالحت ہے۔ قرآن پاک کی روشنی میں مصالحت میں خیر ہے اور کوئی ایک فریق صلح کی خواہش ظاہر کرے تو دوسرے کو بھی صلح کے لیے جھک جانا چاہیے۔ ان قرآنی ہدایات کی روشنی میں بہتر تو یہی ہے کہ زوجین کے مابین سمجھوتے کے لیے کسی بیرونی مدد کی ضرورت ہی نہ پڑے اور زوجین ہی صلح وصفائی سے کام لے کر جھگڑا نمٹادیں، کیونکہ کسی بیرونی فریق کی شرکت سےبسااوقات نجی احوال بھی اس کے علم میں آجاتے ہیں جس کے بعد گھر کی بات گھر میں نہیں رہتی، بلکہ گھرگھر کہانی بن جاتی ہے اورنہیں تو زوجین کاوقاربیرونی فریق کی نظر میں ضرور کم ہوجاتا ہے، مگربسااوقات اس کے بغیر چارہ کار بھی نہیں ہوتا، مثلاً قصور بیوی کا ہو اور شوہر نے اصلاح کے لیے تدریجی مراحل اختیار کرلیے ہوں یا نزاع باہمی ہو اور زوجین خود کوئی حل تلاش نہ کرسکیں توپھر مخلص اورمعاملہ فہم حضرات کے سامنے وجہِ نزاع کا ذکر کردینا چاہیے۔ 
ایسے موقع پر میاں بیوی دونوں کی طرف سے ایک ایک نمائندے پر مشتمل ایک مصالحتی کمیٹی قائم کرنی چاہیے جو زوجین کے درمیان اختلاف کو ختم کرکے ان کے درمیان اتفاق کی کوشش کرے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِھِمَا فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِّنْ اَہْلِہٖ وَ حَکَمًا مِّنْ اَہْلِہَا اِنْ یُّرِیْدَا اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللہُ بَیْنَہُمَااِنَّ اللہَ کَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا۔‘‘                     (النساء:۳۵)
آیتِ شریفہ مصالحتی کمیٹی کے بارے میں درج ذیل ہدایات پر مشتمل ہے:
q : اس کمیٹی کی تشکیل حکامِ وقت،زوجین کے اولیاء یا مسلمانوں کی کوئی جماعت یا زوجین کے رشتہ دار کریں گے۔ خود زوجین بھی اس کی تشکیل کرسکتے ہیں۔
w : حکم کی تعبیر سے معلوم ہواکہ کمیٹی یا پنچایت ایسے افراد پر مشتمل ہو جو فیصلے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، چنانچہ وہ ذی علم ہوں ،دیانت دار ہوں، معتدل طبیعت کے مالک ہوں، نیک سیرت ہوں اور جھگڑے کے حل کی صلاحیت رکھتےہوں۔
e : کمیٹی دونوں طرف کے ارکان پر مشتمل ہو، تاکہ جانبداری کی بدگمانی پیدا نہ ہو۔
r : کمیٹی کے ارکان دونوں کے رشتہ دار ہوں، کیونکہ رشتہ دار خیرخواہ ہوتے ہیں، اندرونی معاملات سے اور زوجین کے مزاج سے واقف ہوتے ہیں۔ 
t : کمیٹی کا مقصد میاں بیوی کے درمیان مصالحت کرانا ہے۔ یہی اس کمیٹی کی تشکیل کا مقصد ہے، اس سے زیادہ کا مینڈیٹ انہیں حاصل نہیں ہے، البتہ اگرمیاں بیوی انہیں اپنا مختار بناتے ہیں اور انہیں فیصلے کا اختیار سپرد کرتے ہیں توپھر ان کا فیصلہ زوجین کا فیصلہ سمجھا جائے گا۔
y : کمیٹی خلو صِ دل سے چاہے گی تو زوجین میں موافقت ہوجائے گی۔ اگر صلح کی کوشش ناکام ہوجائے تو کمیٹی کے خلوص میں کمی ہوگی۔
u : کمیٹی کی نیت ،اس کے افعال وکردار سب کچھ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہے۔ اگر وہ غفلت یا سستی برتے گی یا جانبداری کا مظاہرہ کرے گی یا اس کی نیت زوجین میں جوڑ پیداکرنے کی نہ ہوگی تو اللہ تعالیٰ کو اس کی خبر ہے۔
i : ’’خِفْتُمْ‘‘ (اندیشے) کوبعض نے علم کے معنی میں لیا ہے، یعنی جب زوجین کے درمیان ناچاقی کا علم ہوجائے تو مصالحتی کوشش کاآغاز کردینا چاہیے اورجنہوں نے اس کوظن کے معنی میں لیا ہے، ان کے قول کے مطابق تو بس بھنک پڑتے ہی اصلاحی اقدام شروع کردینا چاہیے۔
o : قرآن کریم نے خطاب اورضمائر کےصیغے استعمال کیے ہیں، مگران کے مصداق کو متعین نہیں کیا ہے، اس ابہام کی وجہ سے ایک دنیا آیتِ کریمہ میں سمٹ کر جمع ہوگئی ہے، چنانچہ یہ آیت مختصر ہونے کے باوجود ایک جامع اورمکمل پروگرام پر مشتمل ہے۔ ’’فَابْعَثُوْا‘‘ کی مخاطبین کو ن ہیں؟ ان کو مبہم رکھا گیا ہے، اس ابہام کی وجہ سے حُکّام اس حکم میں داخل ہیں، چنانچہ ان کا فریضہ اگر بگاڑ کو ختم کرنے کا ہے تو بگاڑ پیدا نہ ہونے دینا بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ بگاڑ کے انسداد کے شرعی قانون کا نفاذ ضروری ہے، کیونکہ اسی سےفرد کے فرد کے ساتھ تعلقات شرعی ہوسکتے ہیں، ورنہ قطع تعلق کانتیجہ جس طرح فسا د ہے، اسی طرح غیر شرعی تعلق کا نتیجہ بھی فساد ہے۔
بہرحال اس مصالحتی کونسل کا فائدہ یہ ہے کہ گھر کا معاملہ اگر گھر ہی میں حل نہ ہوسکے تو خاندان کی سطح پر حل ہوجاتا ہے اورگلی کوچوں اورچوراہوں میں اس پر تبصروں کی نوبت نہیں آتی اوربالفرض معاملہ عدالت تک جاپہنچے توعدالت کو بھی حکم یہ ہے کہ فیصلے کے بجائے وہ ایک ثالثی کمیٹی مقررکرے جو دونوں کے اختلافات کا جائزہ لے اوراپنی رپورٹ پیش کرے۔
مصالحتی کونسل کا یہ طریقہ کاراختلافات کے حل کافوری اورتیز طریقہ ہے،یہ طریقہ آسان بھی ہے اور مفت ہونے کے علاوہ باعزت اوردیرپا بھی ہے۔ اگر عدالت سے رجوع کیا جائے تو اس کا لگا بندھا طریقہ کار اور متعین اسلوب ہوتا ہے۔ اسے انسانوں سے زیادہ ضابطوں کی اوردلوں سے زیادہ اصولوں کی فکر ہوتی ہے۔ انسان ٹوٹتے ہیں تو ٹوٹ جائیں ، مگر ضابطے نہیں ٹوٹنے چاہئیں، کیونکہ وہ اسی کی پابند ہے۔ اس کافیصلہ بھی ظاہری شواہدپرہوتا ہے جو کہ ضروری نہیں ہے کہ درست ہوں۔ اگر شواہد درست ہوں اور فیصلہ شواہد کے مطابق ہو، پھربھی فیصلہ بے رحم چھری ہوتاہے جوجذبات اوراحساسات سے عاری اوررشتوں کی نزاکت سے ناواقف ہوتا ہے اور کاٹ کر رکھ دیتا ہے ۔
عدالتی فیصلہ قطعِ نزاع تو کردیتا ہے مگر مطمئن بھی کردے ،ایسا ضروری نہیں ہے ۔یہی وجہ ہے کہ فیصلے کے بعد ایک فریق فتح کا پھریرا لہراتا ہوانکلتا ہے ، توشکست خوردہ فریق بازی کو پلٹنے کے لیے نیا محاذ کھولنے کی تدبیریں سوچنے لگتا ہے۔ اگروہ قانون کے جبر سے خاموش بھی رہے توفیصلہ کا کڑوا بیج اس کے دل میں زہریلے برگ وبار لاتا رہتا ہے۔ اگر عدالتی فیصلے ہی خانگی امور میں آئیڈیل انتخاب ہوتے تو قرآن کریم مصالحت کی تجویز نہ دیتا، اسے بہتر نہ قراردیتا، زوجین کو ثالث کے انتخاب کی ہدایت نہ کرتا اور مصالحت کی حوصلہ افزائی نہ کرتا، احادیث مصالحت کو پسند نہ کرتیں ،قاضیوں کو یہ تلقین نہ کی جاتی کہ وہ فیصلے سے پہلے فریقین کو مصالحت کا موقع دیں اورجھوٹ جیسے کبیرہ گناہ کی مصالحتی عمل میں کہنے کی اجازت نہ دی جاتی۔ 
عدالت کے علاوہ فتوی کے ذریعے بھی نزاع کاحل ڈھونڈا جاسکتا ہے۔ فتویٰ اسلامی نظامِ عدل میں نیم عدالتی کارروائی کی حیثیت رکھتا ہے۔ آج بھی مسلمانوں کا فتوی کے ادارے پر اعتماد ہے اور ایسے مسلمانوں کی کمی نہیں ہے جو اپنےمعاملات میں غیر شرعی قوانین کے بجائے شریعت کو فیصل اور حکم بنانے پر راضی ہیں، مگر عموماً فتوی کااجراء یکطرفہ موقف پر ہوتاہے۔ مفتی کا منصب بھی حقائق کی چھان بین نہیں ہوتا ہے اور فتوی کا حصول بھی مصالحت کے نقطۂ نظر سے نہیں، بلکہ حق یا ناحق یا شرعی حکم کی دریافت کے لیے ہوتا ہے ۔
عدالت اورفتوی کے بجائے عائلی تنازعات کے حل کے سلسلے میں بہترحل صلح کا ہی ہے ۔ دورِ عثمانی میں باقاعدہ ثالث ہوتے تھے جن کانام ہی ’’مُصلِحون‘‘ تھا اوروہ عدالتوں سے وابستہ ہوتے تھے۔ کئی ممالک نے اس راز کو پالیا ہے اور وہاں عائلی تنازعات کےحل کے لیے تربیتی طریقے وضع کیے گئے ہیں۔ ان ممالک میں خانگی جھگڑوں کو نمٹانے کے لیے زوجین کی باقاعدہ کونسلنگ کی جاتی ہے۔ ہمارے ملک میں مختلف قوانین میں صلح اور اس سے ملتے جلتے الفاظ کا استعمال ہوا ہے، مگراس کا قانونی مفہوم متعین نہیں کیا گیا ہے۔عائلی قوانین مجریہ ۱۹۶۱ء میں طلاق کے بعد مصالحت کی کوششوں کا ذکر ہے، حالانکہ اس عمل کی ضرورت طلاق سے پہلے ہوتی ہے۔
اس مجوزہ بل میں مصالحت کاکوئی طریقہ کار تجویز نہیں کیا گیا ہے۔ اگربل صرف مصالحت سے خاموش ہوتا تو زیادہ تشویشناک نہیں تھا، مگر المیہ یہ ہے کہ بل مصالحت کے اصولوں کے برعکس سفر کرتا ہے اور اس کی کوشش مصالحتی کا وشوں کو ناکام بنا نے کی نظر آتی ہے۔ مصالحت کے لیے اولین شرط یہ ہے کہ فریقین اس کی ضرورت محسوس کریں، لیکن جب ستم رسیدہ پختہ شعور کامالک نہ ہو، طبیعت خواہشات کی اسیر اور روایات واقدار کی باغی ہو، دوسری طرف جب قانون اپنی پوری قوت کےساتھ اس کے پشت پر کھڑا ہو اور اس کا ارادہ مدعی علیہ کو نشانۂ عبرت بنانے کا ہو اور اس کے ساتھ متضرر کو آزادی، خلوت میں عدمِ مداخلت، من پسند رہائش، جرمانہ وہرجانہ اور مالی امداد وغیرہ کے خواب دکھائے گئے ہوں تو وہ مصالحت کی ضرورت کیوں محسوس کرے؟ اوراس پر کیوں کر آمادہ ہو؟
اگرفیملی کے افرادمصالحت کی اہمیت کو جانتے ہوں اور اس کی ضرورت محسوس کرتے ہوں تووہ باوجود خواہش کےاس میں کامیاب نہیں ہوسکتے ہیں، کیونکہ یہ بل تنازع کے ایک فریق متضررکو اس طرح اُچک لیتا ہے اورخاندان سے اسے یوں کاٹ لیتا ہے، گویا وہ نہ کسی خاندان کا فرد ہے،نہ وہ کسی کی اولاد ہے، نہ ہی اس کا کسی سے رشتہ ناطہ ہے اور نہ ہی آئندہ کےلیے اسے خاندان یا تعلقات کی ضرورت ہے، گویا وہ کسی آسمانی سیارے سے اُترا تھا اور اب دوبارہ ہمیشہ کے لیے واپس جارہا ہے۔ اگر متضرر کو خاندان سے کاٹنا مقصد نہیں ہے تو پھر ہر نوع کا رابطہ اس سےممنوع کیوں ہے؟ مدعی علیہ کے رشتہ داروں کی اس سے ملاقات پر پابندی کیوں ہے؟ دونوں کے درمیان ایک مخصوص فاصلہ برقرار رکھنا کیوں ضروری ہے اور متضرر کو بجائے خاندان کےکسی سنجیدہ، برگزیدہ، عمر رسیدہ اور خیرخواہ شخصیت کے بجائے اپنے محبوب اور دوست کے ساتھ رہنے کا حق کیوں ہے؟
مصالحت اس وقت ممکن ہوتی ہے جب ٹوٹے ہوئے رابطے بحال ہوں۔ رابطوں کی بحالی سے غلط فہمیاں دور ہوتی ہیں اورفریقین ایک دوسرے کواپنی رائے سے متفق کرنے کی کوشش کرتے ہیں ،کچھ مانو اورکچھ منواؤ کی بنیاد پربات آگے بڑھتی ہے اورایک دوسرے سے وعدے اوریقین دہانیاں اور ضروری ہو تو ضامن یا ضمانت لے کر جھگڑا ختم کردیا جاتا ہے، مگر جب رابطے ہی منقطع ہوں تو ایک دوسرے کو کیسے قائل کیا جاسکتا ہے؟
اگر دونوں کے ہمدرد درمیان میں آکر تنازع کو حل کرنا چاہیں تو ثالث بھی سب سے پہلے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لاتا ہے، مگر یہ قانون اس کی بھی گنجائش نہیں چھوڑتا ہے۔
اگرچہ اس بل کے تحت وقوع پذیر جرم کو قابل راضی نامہ قراردیا گیا ہے، مگربل جو میکنزم تجویز کرتا ہے، اس کے تحت راضی نامہ جو مصالحت ہی کا دوسرا نام ہے، مشکل ضرور نظرآتا ہے۔ بل سروس فراہم کنندہ اور افسرِ تحفظ وغیرہ کی صورت میں جو کردارمتعارف کراتا ہے اورتھانہ،پناگاہ،شیلٹرہوم وغیرہ کی صورت میں جن اداروں کو پیش کرتا ہے۔ وہ سب اجنبی لوگ ،اجنبی ماحول اوراجنبی جگہیں ہیں، جب کہ مصالحت میں وقت اور مقام کی پابندی نہیں ہوتی، اجنبی لوگ اوراجنبی ماحول نہیں ہوتا ہے، جیسا کہ ذکر ہوا کہ میاں بیوی کے درمیان اختلاف کے وقت قرآن کریم ان کو حکم دیتا ہے کہ اپنی اپنی طرف سے ایک ایک ثالث کا انتخاب کریں اور ثالث ان کے رشتہ داروں میں سے ہوں۔ اگرثالثان کی خواہش مصالحت کی ہوگی تو اللہ پاک بھی زوجین کے درمیان موافقت پیدا فرمادیں گے۔ جو ہمدردی اور خلوص ایک رشتہ داردوسرے رشتہ دار کے لیے رکھتا ہے، باوجود کوشش کے ایک اجنبی وہ جذبات اپنے دل میں پیدا نہیں کرسکتا ہے۔ ثالث جب رشتہ داروں میں سے ہوتا ہے تو مصالحت کی کامیابی کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں، کیونکہ مصالحت کی کامیابی کے لیے درست معلومات کا حصول شرط ہے ۔خاندان کا ممبر ہونے کی حیثیت سے ثالث درست حقائق سے واقف ہوتا ہے اوراگر وہ واقف نہ بھی ہو تودیگررشتہ داروں کے ذریعے اس کے لیے درست معلومات تک رسائی آسان ہوتی ہے۔ نجی احوال کے متعلق بھی خاندان کے رکن سے تو کھل کر گفتگو ہوسکتی ہے، مگر اجنبی لوگوں کے سامنے ایسا ممکن نہیں ہوتا ہے۔اس کے علاوہ خاندان کا فرد ہونے کی حیثیت سے وہ فریقین کی ثقافت ، رسم ورواج، کردار،خاندان کے حالات، اوران کے مزاج سے واقفیت رکھتا ہے ۔وہ طویل نشستوں میں فریقین کاذہن پڑھ لیتا ہے اوران کو ایک درمیانی راستے تک لانے میں کامیاب ہوجاتا ہے ،وہ اس مقصد کے لیے دیگر اقارب کی بھی مدد لے سکتا ہے اورفریقین پر اثرورسوخ رکھنے والی شخصیات کو استعمال کرلیتا ہے، مگر ایک سرکاری افسر کے لیے یہ سب کچھ ممکن نہیں ہوتا ہے۔ان امور کی وجہ سے ثالث محض رسمی کارروائی انجام نہیں دیتا، بلکہ اس کی شدید خواہش فریقین میں مصالحت کی ہوتی ہے اوراگر مصالحت کے بجائے کوئی اورفیصلہ کرتا ہے توتمام حقائق کے جائزے کے بعد وہی فریقین کے حق میں مفید ہوتا ہے۔
تادیبِ اولاد
تادیب کا حق جس طرح شوہر کو حاصل ہے، اسی طرح والدین کو بھی حاصل ہے۔ والدین کو یہ حق اس وجہ سے حاصل ہے کہ ان پر اولاد کی تربیت کی بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ تربیت بظاہر ایک سادہ سا لفظ ہے اور روزمرہ کی گفتگو میں زبانوں پر باربار آتا ہے، اس کثرتِ استعمال کی وجہ سے اس کی وسعت اور اہمیت کی طرف نظر نہیں جاتی، حالانکہ یہ لفظ اپنے اندر بہت گہری حقیقت رکھتا ہے۔یہ لفظ تین بنیادی ذمہ داریوں کی نشان دہی کرتا ہے:
q : پرورش ونگہداشت،جس کا تعلق جسمانی ضروریات سے ہے۔ فقہ میں اس مقصدکے لیے نان ونفقہ، رضاعت اور حضانت کے ابواب قائم کیے گئے ہیں۔
w : تعلیم، اس میں دینی ودنیوی حقوق اور ذمہ داریوں کی تعلیم شامل ہے۔
e : درست شخصیت کی تعمیر،اس کو تزکیۂ نفس سے بھی تعبیر کرسکتے ہیں۔
ان ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے شریعت والدین کو تادیب کاحق دیتی ہے، جس سے مراد تنبیہ اورسرزنش ہے اور آخری چارہ کار کے طور پر اس میں مناسب جسمانی سزا بھی شامل ہے۔
تادیب کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب تعلیم وتربیت کے تقاضوں میں کوئی خلل آتا ہے، مثلاً اولاد تعلیم میں سستی کرے یا غفلت برتے جس سے شخصیت کاظاہر بگڑتا ہے یا معصیت کا مرتکب ہو،بری صحبت میں بیٹھتاہو یا چوری کرتا ہو جو باطن کے بگاڑ ،بدسیرتی اوربدخلقی کی علامت ہے تو تادیب واجب ہوجاتی ہے۔ تادیب چونکہ غلطی کی اصلاح کے لیے ہوتی ہے ،اس لیے شریعت اپنے عام مزاج کے مطابق تدریج کے اصول کو بروئے کار لاتی ہے ،اس لیے پہلے پہل غلطی کی نشاندہی کرکے سمجھایابجھایا جاتا ہے اور فوائد ونقصانات سے آگاہ کیا جاتا ہے، بلکہ اگر مصلحت چشم پوشی سے کام لینے کی ہو تو غلطی سے صرف نظر کرلیا جاتا ہے، پھر ڈرانے دھمکانے سے کام لیا جاتا ہے اور اگر یہ حربہ بھی کارگر ثابت نہ ہو تو سختی اوردرشتی سے کام لیاجاتا ہے اور ان سب کی ناکامی کے بعد حسب ضرورت ومصلحت جسمانی سزا دی جاتی ہے۔
اگرچہ اولاد کی تادیب جائز ہے، مگر تادیب کے طور پر جسمانی سزا کی اجازت اس وقت ہے، جب بچے کی عمر سات سال یا اس سے زیادہ ہو، کیونکہ اس سے پہلے ناسمجھی کا زمانہ ہوتا ہے۔جب بچے کا شعور کچھ پختہ ہوجائے، مگرمکمل پختہ نہ ہوجسے صبی ممیز کہا جاتا ہے توپھر اس کی تادیب جائز ہے۔اس حالت کا زمانہ سات سے بلوغت تک رہتا ہے۔اس مدت میں اگرچہ بچے کی تادیب جائز ہے، مگر اس کا کوئی فعل یا ترکِ فعل خواہ کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو،وہ جرم نہیں ہے اور اس پر فوج داری سزا کا اجراء ناجائز ہے۔ بلوغت کے بعد بچے کا فعل جرم بن جاتا ہے اور اس کو فوج داری سزادینا بھی جائز ہوجاتا ہے۔ 
اولاد کے متعلق تادیب کا حق اس پہلو سےزیادہ اہمیت رکھتا ہے کہ شوہر کو تادیب(ضرب) کا حق ہے، مگر اس پر تادیب کا وجوب نہیں ہے، لیکن اولاد کی تادیب واجب ہے، کیونکہ ان کی تادیب سے مقصود ان کی تعلیم ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ مسلمان معاشرہ روزِ اول سے لےکر آج تک اس کو ایک لازمی ذمہ داری سمجھتا چلا آرہا ہے، گویا یہ ایک مسلمہ روایتی قدر ہے جس کو ممنوع قراردینا خود جرم تو ہوسکتا ہے، مگر جائز قانون نہیں ہوسکتا ہے۔
یہ بل حقِ تادیب کے اس طورپر خلاف ہے کہ تادیب میں وعظ ونصیحت اورپھر تخویف وتہدید بھی شامل ہے، مگراس بل کی شقوں کاسہارا لے کر اولاد عدالت پہنچ سکتی ہے کہ انہیں گھریلوتشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین