بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ذو الحجة 1443ھ 02 جولائی 2022 ء

بینات

 
 

گوگل ایڈسینس کی کمائی  .... وضاحتیں اور غلط فہمیاں

گوگل ایڈسینس کی کمائی  .... وضاحتیں اور غلط فہمیاں


بعض بڑی جامعات، بعض مدارس اور بعض معروف علماء کرام تک ایڈسینس کے متعلق غلط معلومات پہنچنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعض معروف دینی اداروں اور شخصیات کے یوٹیوب چینلز، ویب سائٹس اور اپلیکیشنز پرایڈسینس کے اشتہارات چلنے لگے اور اس ناجائز ذریعہ سے کمائی کا رجحان پیدا ہو گیا۔ یہ صورت حال ہمارے لیے انتہائی افسوسناک اس لیے بھی تھی، کیونکہ ہم اس کی حقیقت سے پچھلے دس سال سے بخوبی واقف تھے، اس میں کسی طرح بھی شک کی گنجائش نہیں تھی کہ کمائی کا یہ طریقہ جائزنہیں ہے۔
ہم سب یہ جانتے ہیں کہ دین کی خدمت کے لیے مقدار نہیں، بلکہ معیار کو ملحوظِ خاطر رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ حرام اور مشتبہ مال سے دین کی خدمت نہیں ہوسکتی، بلکہ دین کو نقصان پہنچانے کے اسباب ہی پیدا ہوتےہیں، لیکن اب دینی حلقوں کی بعض معروف شخصیات اور بعض اداروں کا اس حوالے سے طرزِ عمل نئی نسل سے حلال وحرام کا ادراک مکمل طور پرختم کرنے کا باعث بن رہا ہے۔
اب یہ صورت حال ہے کہ جب کوئی کسی عمومی مسئلے پر بھی بات کرے تو لوگ اس کو تقویٰ اور فتویٰ کا فرق سمجھانے لگتے ہیں، جس سے عام طور پر لوگوں کا مقصد اپنے ضمیر کو مطمئن کرنا ہوتا ہے کہ فتویٰ میں گنجائش بتائی گئی ہے اور تقویٰ تو ہر کسی کا اپنا ذاتی معاملہ ہے، اگرچہ یہ تقویٰ اور فتویٰ کا نہیں، بلکہ ایک واضح حلال اور حرام کا مسئلہ ہی کیوں نہ ہو۔
زیرِ نظر موضوع کے حوالے سے جو لوگ نہیں جانتے، وہ بھی یہ سمجھ لیں کہ ’’ایڈسینس‘‘ گوگل کی ایک سروس ہے، جو اپنے مشتہرین یعنی ایڈورٹائزرز کے اشتہارات‘ اپنے ساتھ الحاق شدہ یوٹیوب کے چینلز، ویب سائٹس اور موبائل ایپلی کیشنز پر دکھاتا ہے۔مشتہرین کے اشتہارات کو متوقع خریدار تک پہنچانے کے لیے گوگل کا الگوریدم ایک خاص طریقۂ کار استعمال کرتا ہے جو کہ ۲۰۱۱ء میں رائج ہوا، جسے گوگل کی طرف سے شومن گوسماجمدر (Shuman Ghosemajumder) نے ۱۳؍اکتوبر ۲۰۱۱ء کو Interest based advertising کے نام سے گوگل کے آفیشل اکاؤنٹ سے متعارف کروایا تھا، جس کا مقصد مشتہرین کے اشتہارات کو صحیح خریداروں تک پہنچانا اور ان کو ’’کلیک فراڈ‘‘ سے بچانا تھا۔ (اگر آپ کو یہ معلوم نہیں کہ کلک فراڈ کیا تھا تو اس کے حوالے سے سرچ کر لیجئے۔)اب اس کے بعد وہ حضرات جو کہ گوگل کے ساتھ ایڈ سینس کے پروگرام میں جڑے ہوئے تھے، یعنی اپنی ویب سائٹ پر اشتہارات دکھا کر پیسے کماتے تھے، ان کے لیے یہ بات بالکل ناممکن ہوگئی کہ وہ اِن اشتہارات پر پورا کنٹرول حاصل کر سکیں جو کہ اُن کے یوٹیوب چینلز، ویب سائٹس اور موبائل ایپلی کیشنز پر دکھائے جائیں گے، کیونکہ اب گوگل لوگوں کی براؤزنگ ہسٹری دیکھ کر اشتہارات دکھانے کا اعلان کر چکا تھا۔
اب جو یہ کہتے ہیں کہ براؤزنگ ہسٹری ہمارا مسئلہ نہیں ہے تو اس حوالے سے ہم اس آرٹیکل کے آخر میں تفصیلی بات کرنے جا رہے ہیں، اس لیے پورے تحمل کے ساتھ مکمل بات سمجھنے کی کوشش کیجئے:
گوگل ایڈسینس کی کمائی کے ناجائز ہونے کی بنیادی وجہ وہ اشتہارات ہی ہیں جو شرعی تقاضوں کے مطابق نہیں ہوتے اور آپ کی ویب سائٹ، یوٹیوب چینل یا ایپ اسٹور میں موجود کسی ایپلیکیشن پر لوگوں کو دکھائے جاتے ہیں اور انہی اشتہارات کے دکھائے جانے سے آپ کو پیسے ملتے ہیں ۔
اس حوالے سے اکثر لوگ اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ آپ کے پاس جائز اشتہارات کے انتخاب کا اختیار موجود ہوتا ہے، اور یہ غلط تأثر اس بنیاد پر پیدا ہوا ہے کہ گوگل بہت سی کیٹیگریز بند کرنے کا آپشن دیتا ہے، جیسے شراب، سود اور کیسینو یعنی جوا خانے وغیرہ۔
یہاں اس بات کو واضح طور پر سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کیٹیگریز بند کرنے سے ناجائز اور حرام مواد پر مبنی اشتہارات بند نہیں کیے جا سکتے، کیونکہ عمومی طور پر جائز اور حلال اشیاء کے اشتہارات بھی ناجائز اور حرام مواد پر ہی مبنی ہوتے ہیں، جیسے خواتین کی تصاویر، ویڈیوز اور موسیقی وغیرہ جو تقریباً ہر اشتہار میں پائے جاتے ہیں، جبکہ یہ بات ہم بخوبی جانتے بھی ہیں کہ تقریباً ہر ملک میں جائز اور حلال پروڈکٹس کے اشتہارات میں ناجائز اور حرام مواد موجود ہوتا ہے، جیسے موبائل فون، کپڑے، جوتے، بچوں کے کھلونے یہاں تک کہ دودھ، مکھن، بسکٹ، مشروبات، چاکلیٹ، جوس، چائے کی پتی، بسکٹ، تعمیراتی کمپنیوں یہاں تک کے تعلیمی اداروں تک کے اشتہارات ناجائز اورحرام مواد پر مبنی ہوتے ہیں۔ 
تو اب اس بات کی تسلی کر لیں کہ جائز اشتہارات کا انتخاب نہ تو آپ کے اختیار میں ہے اور نہ ہی آپ ناجائز اور حرام مواد پر مبنی اشتہارات کو کسی طور پر بھی روک سکتے ہیں۔ 
آج پوری دنیا کی اشتہاری صنعت یعنی ایڈورٹائزنگ انڈسٹری جائز اور ناجائز کے فرق کو سمجھنے کے حوالے سے تقریباً اندھی اور بہری ہے۔ ان کو صرف اپنی مصنوعات کی فروخت کے لیے ایسے اشتہارات بنانا مقصود ہوتے ہیں جو کہ جاذبِ نظر ہوں، تا کہ لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف مائل کرسکیں۔ ایڈورٹائزنگ انڈسٹری میں جائز اور حلال اشتہارات کا تناسب اس قدر کم ہےکہ جیسے آٹے میں نمک۔ 
اب جو گوگل ایڈسینس کو جائز قرار دینے کی کوشش کرنے والے ’’کرائے کے مکان‘‘ کی مثال دیتے ہیں کہ آپ نے تو مکان کرائے پر دیا، اب کرایہ دار اس میں اگر کوئی غیر شرعی کام کرے تو آپ کی ذمہ داری نہیں ہے، یعنی آپ نے تو اپنی ویب سائٹ یا یوٹیوب چینل یا اپنی ایپلی کیشن پر گوگل کو اشتہار چلانے کی اجازت دی ہے، اب اگر گوگل غلط اشتہار چلائے تو وہ آپ کی ذمہ داری نہیں۔ یہ کہنا سراسر بے بنیاد اور غلط بات ہے، کیونکہ جب آپ کو یہ معلوم ہے کہ کرایہ دار نے اس مکان میں ناجائز اور حرام کام کرنے ہیں تو پھر یہ کیسے جائز ہو گا کہ آپ اس کو مکان بھی کرائے پر دیں اور پھر اس گناہ میں شریک بھی نہ سمجھے جائیں اور آپ کی آمدنی بھی حلال ہو؟ 
اور ویسے تو آپ جانتے ہیں کہ اگر کرایہ دار کوئی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث پایا جائے تو مالک مکان کو بھی مجرم ہی سمجھا جاتا ہے اور اس کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جاتی ہے، تو اس لیے یہ کرائے کے مکان والی مثال یہاں دینا بالکل غلط ہے، کیونکہ آپ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ آپ کے گوگل ایڈسینس کے ساتھ منسلک ہونے کی وجہ سے دیکھنے والوں کو ناجائز مواد پر مبنی اشتہارات ضرور نظر آئیں گے اور ان کو روکنے کا کوئی بھی طریقہ آپ کے پاس موجود نہیں ہے۔
صرف دل کو تسلی دینے کے لیے یہ خیال کر لینا کہ ’’ہم نے تو کیٹیگری بلاک کر دی ہے، اس لیے اب ہماری ذمہ داری نہیں۔‘‘ یہ اپنے ساتھ جھوٹ بولنے کے مترادف ہے، اور اس کا مطلب ہے کہ آپ اس بات سے صرفِ نظر کرکے صرف آمدنی بڑھانے کے لیے اس ذریعے کو اختیار کر رہے ہیں اور آپ کے پاس نہ تو اس کی کوئی واضح دلیل ہے اور نہ ہی کوئی اس گناہ میں شریک ہونے کا جواز۔
اب آخر میں بات کر لیتے ہیں براؤزنگ ہسٹری کے حوالے سے اس غلط فہمی کی کہ جس کی براؤزنگ ہسٹری ٹھیک نہ ہو، اس کو ناجائز مواد پر مبنی اشتہارات نظر آئیں گے اور جس کی براؤزنگ ہسٹری ٹھیک ہو تو اس کو جائز اور حلال مواد پر مبنی اشتہارات ہی نظر آئیں گے۔
اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے ہم پہلےبھی کئی یوٹیوب چینلز چیک کر چکے تھے، لیکن ابھی ہمیں کچھ حتمی ثبوت حاصل کرنے تھے، جس سے کہ یہ ثابت ہوجائے کہ براؤزنگ ہسٹری کا جائز اور حلال اشتہارات کے نظر آنے یا نانظر آنے سے سراسر کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔جب کہ ہم پہلے یہ بات بھی واضح کر چکے ہیں کہ ایڈورٹائزنگ انڈسٹری میں جائز اور حلال اشتہارات کا تناسب اس قدر کم ہے کہ جیسے آٹے میں نمک، جس سے کہ نہ تو کوئی خاطر خواہ آمدنی ہوسکتی ہے اور نہ ہی پھر اس جھنجٹ میں پڑنے کا کوئی فائدہ رہ جاتا ہے۔
ہوا یوں کہ رمضان المبارک سے پہلے ہماری اکیڈمی کے نئے کورسز کی تیاری کے لیے ’’ڈیل انٹیل ژیون‘‘ کا ایک کمپیوٹر خریدا گیا تھا، اس کی ہارڈ ڈسک فارمیٹ کی گئی تھی اور یہ مکمل طور پر خالی تھی، چونکہ اس کمپیوٹر کی نا تو کوئی براؤزنگ ہسٹری تھی اور نہ ہی اس پر کوئی وائی فائی ڈیوائس پہلے انسٹال کی گئی تھی، اس لیے ہمارا خیال تھا کہ یہ کمپیوٹر چلاتے ہی فوری طور پر گوگل ایڈ سینس کی براؤزنگ ہسٹری کے حوالے سے جو غلط تأثر ہے، اس کو دور کیا جائے۔جب ہم نے اس کمپیوٹر کو جس کی کوئی براؤزنگ ہسٹری موجود ہی نہیں تھی، انٹرنیٹ سے کنیکٹ کرکے فوری طور پر اُن یوٹیوب چینلز کا جائزہ لیا جو ظاہری طور پر دینی نسبت رکھنے والے تھے، تو وہی ہوا جو ہمارا اندازہ تھا کہ ان پر جو اشتہارات نظر آ رہے تھے، ان کا دور تک بھی جائز اور حلال ہونے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
شاید مزید اس موضوع پر بات کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ گئی، کیونکہ گوگل ایڈ سنس کی وکالت کرنے والے اپنے کمپیوٹر اور موبائل پر بھی یہ مشاہدہ کر چکے ہوتے ہیں کہ اس میں ناجائز اشتہارات کو روکنا ممکن نہیں۔ہمارے نزدیک اس موضوع پر مزید بحث ومباحثہ کرنا صرف وقت ضائع کرنے کے مترادف ہوگا ۔اگرچہ ان ساری چیزوں کی وضاحت 2011 ء سے پہلے ہی مل گئی تھی، جب کہ گوگل نے الگوریدم میں تبدیلی کا اعلان بھی نہیں کیا تھا، لیکن دانستہ طور پر اس موضوع پر کبھی بات کرنا ضروری نہیں سمجھا، کیونکہ یہ تو روزِ روشن کی طرح واضح تھا کہ ایڈورٹائزنگ انڈسٹری جائز اور ناجائز کے فرق سے تقریباً لاتعلق ہے اور ان کے اس طرزِ عمل کی وجہ سے کبھی بھی کوئی دین کی سمجھ رکھنے والا اس طریقہ کار کو اپنی آمدنی کا ذریعہ بنانے کا کبھی سوچے گا بھی نہیں، لیکن اب دینی حلقوں میں اس فتنے کے عام ہونے کی وجہ سے ہمیں اس موضوع پر حتمی بات کرنی پڑی ۔
آخر میں ایک بار پھر عرض کر دیں کہ بعض دینی حلقوں کی معروف شخصیات اور بعض معروف دینی اداروں اور درسگاہوں کا اس حوالے سے غیرسنجیدہ طرزِ عمل‘ نئی نسل سے حلال وحرام کا ادراک مکمل طور پرختم کرنے اور ساتھ ہی بے حیائی کے چلتے طوفان کو مزید بڑھانے کا باعث بھی بن رہا ہے ۔ 
اہلِ علم حضرات کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے وسائل اور تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے اُن حضرات تک صحیح معلومات پہنچائیں جو کم علم لوگوں کے کہنے میں آکر اِس پُرفتن راستے پر چل پڑے ہیں۔ اللہ رب العزت ہمیں دین کی سمجھ عطا فرمائے اور اس پُرفتن دور میں گنجائشوں پر چلنے کے بجائے تقویٰ اور اخلاص کو اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین