بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 جُمادى الأولى 1444ھ 01 دسمبر 2022 ء

بینات

 
 

 کرپٹو کرنسی، این ایف ٹی، اور بلاک چین  (پہلی قسط)


 کرپٹو کرنسی، این ایف ٹی، اور بلاک چین 

تعارف، مغالطے، شرعی نقطۂ نظراور ہماری ذمہ داری

(پہلی قسط)

 

   کرپٹو کرنسی کا موضوع پچھلے ایک عرصہ سے اہلِ علم کے زیربحث ہے، تقریباً تمام اہلِ علم اس بات پر متفق ہیں کہ کرپٹو کرنسی کا کاروبار محض ہندسوں کا گورکھ دھندہ ہے۔ قماربازی کی خطرناک نئی شکل ہے۔ کرپٹو کرنسی فقہی اور قانونی لحاظ سے کسی طور پر بھی کرنسی کے درجہ میں شمار نہیں کی جاسکتی۔ کرپٹو کرنسی کا فرضی تخیُّلاتی کاروبار معاشرے میں معاشی اَبتری اور مفروضوں پر مبنی کاروبار کے فروغ کا ایک ناجائز حربہ ہے۔ اہلِ علم کی اس رائے کے سامنے دھندے سے وابستہ افراد یہ چقمہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ناجائز کہنے والے علماء کرام درحقیقت کمپیوٹر کی ان مہارتوں سے دور ہیں، جو اس سسٹم کو سمجھنے کے لیے درکار ہیں۔ ان کے اسی بے تکے اشکال یا دھوکے سے آگاہ کرنے کے لیے کمپیوٹر سائنس کے ایک ماہر صاحبِ علم کی فنی تحقیق نذرِ قارئین کی جارہی ہے، تاکہ ان قماربازوں کا یہ دھوکہ یا واہمہ بھی وا ہوسکے۔ اس مضمون کا فنی اور تعارفی پہلو اس موضوع پر تحقیق کرنے والے اہلِ علم وصاحبانِ تحقیق کے لیے اچھی افادیت کا حامل ہے۔ 
    محترم مضمون نگار صاحب ڈاکٹر مبشر حسین رحمانی منسٹر ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی (MTU) آئرلینڈکے کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ میں لیکچرار ہیں اور پچھلے کئی سالوں سے بلاک چین کے موضوع پر تدریس و تحقیق انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے ۲۰۱۱ء میں یونیورسٹی آف پیرسVI، فرانس سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے آٹھ کتابیں لکھی ہیں جن میں سے دو کتابیں بلاک چین ٹیکنالوجی سے متعلق ہیں، جس میں سے ایک کتاب کو باقاعدہ ٹیکسٹ بک کے طور پر آئرلینڈ میں ماسٹرز کے نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔ بلاک چین کے موضوع پر اُن کے دسیوں تحقیقی مقالے دنیا کے بہترین تحقیقی جرائد کے اندر شائع ہوچکے ہیں۔ نیز ایک طالب علم نےبلاک چین کے موضوع پر اُن کی سُپرویژن میں پی ایچ ڈی آسٹریلیا سے مکمل کی ہے اور دوسرے کی پی ایچ ڈی اختتامی مراحل میں ہے۔ وہ کئی بہترین تحقیقی مقالوں کے ایوارڈز وصول کرچکے ہیں۔ اُن کو کمپیوٹر سائنس کے شعبےمیں اُن کی تحقیق کی بنیاد پرسن ۲۰۲۰ ء اور ۲۰۲۱ء میں دنیا کے ایک فیصد بہترین سائنسدانوں کی فہرست میں شامل کیا گیا۔    (ادارہ بینات)

پچھلے کئی سالوں سے ہمارے پیارے وطن پاکستان میں سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا اور براڈکاسٹ میڈیا میں کچھ اس طرح کی باتیں سننے اورپڑھنےکو مل رہی ہیں: 
’’کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ ایک لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کریں اور چھ سے آٹھ ماہ میں جو منافع حاصل کریں، وہ تقریباً چالیس ہزار روپے ہو؟ یعنی شرحِ منافع ۴۰ فیصد ہو، آپ کے پیسے ایک لاکھ سے ایک لاکھ چالیس ہزار روپے ہوجائیں، کچھ محنت بھی نہ کرنی پڑے اور محض موبائل یا کمپیوٹر کی چند کلک کرنے پر اتنا زیادہ منافع حاصل ہوجائے؟ جی ہاں اب یہ ممکن ہے!!! ابھی کرپٹو کرنسی (بٹ کوائن، ایتھر، لائٹ کوائن وغیرہ) اور این ایف ٹی میں سرمایہ کاری کریں اور اس عظیم الشان منافع کمانے کے موقع سے فائدہ اٹھائیں۔ ‘‘
’’ اگر حکومتِ پاکستان کرپٹوکرنسی کے ذریعے عالمی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرے تو محض کچھ عرصے میں حکومتِ پاکستان اپنے تمام قرضوں کو معاف کرواسکتی ہے، بلکہ آئندہ پیدا ہونے والا ہر پاکستانی بچہ مقروض ہونے کے بجائے دوسرے عالمی ترقی پذیر ممالک کو قرضہ فراہم کرنے والا ملک بن جائے گا اور پاکستان میں خوشحالی کی چشمے اُبل جائیں گے۔ ‘‘
ہماری رائے میں یہ وہ زہر کی میٹھی گولی ہے، جو کہ پاکستانی عوام کو دی جارہی ہے اور یہ اس حد تک پاکستانی نوجوانوں میں مقبول ہے کہ ہر تیسرا نوجوان اسی فکر میں ہے کہ وہ اس کے ذریعے سے منافع کمائے۔ اسی پر اکتفا نہیں بلکہ کچھ دینی حُلیے والے اشخاص جو کہ اپنے آپ کو دینی حلقے سے جوڑتے ہیں اور علمائے کرام سے اپنا تعلق جتاتے ہوئے نظر آتے ہیں، اس بات کی بھرپور ترغیب دے رہے ہیں کہ یہ سرمایہ کاری نہ صرف یہ کہ جائز ہے، بلکہ اگر ہم نے بحیثیتِ قوم اس وقت اس عظیم موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا تو ہم صدیوں پیچھے رہ جائیں گے، جیسا کہ آج ہم عالمی معاشی نظام میں پیچھے ہیں۔ وہ یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ آج جو ہماری عالمی معاشی نظام میں حالت ہے، وہ ان علمائے کرام کی وجہ سے ہے جنہوں نے ایک صدی پہلے پیپر کرنسی (کاغذی نوٹ) اور بینک کے عالمی نظام کی مخالفت کی اور اُس کو بروقت نہ اپنانے دیا اور آج ہم نے اُن کی اس بات کے ماننےکا انجام دیکھ لیا۔ یہی کچھ لوگ اپنے آپ کو کرپٹو کرنسی، بلاک چین اور کمپیوٹر سائنس کا ماہر گردانتے ہیں اور علمائے کرام کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ چونکہ وہ کرپٹو کرنسی، بلاک چین اور کمپیوٹر سائنس کے ماہر ہیں اور وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ سارا کرپٹوکرنسی وغیرہ کا نظام صحیح ہے، لہٰذا مفتیانِ کرام ان ماہر لوگوں کی رائے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کرپٹو کرنسی کے جائز ہونے کا فیصلہ صادر فرمادیں۔ ہمارے مشاہدے میں یہ بات بھی آئی ہے کہ کچھ مفتیانِ کرام جو کہ سوشل میڈیا میں فعال اور مشہور ہیں، ان خود ساختہ کمپیوٹر ماہرین کی رائے کی بنیاد پر اور اس بات پر کہ ان ماہر لوگوں کا دینی حلیہ اور ذہن بھی ہے، وہ کرپٹو کرنسی کے جوازکا نہ صرف یہ کہ فتویٰ دے رہے ہیں، بلکہ اب انہوں نے لوگوں کوباقاعدہ کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کی ترغیب بھی دینی شروع کردی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ کرپٹو کرنسی، بلاک چین اور کمپیوٹر سائنس کے کچھ ماہر حضرات عوام الناس پر یہ بات بھی باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ جو دارالافتاء اور مفتیانِ کرام کرپٹو کرنسی کے جائز ہونےکے بارے میں تردُّد کا شکار ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی کی اصل حقیقت ان مفتیانِ کرام پر عیاں نہیں ہے، اور اپنے تئیں کہہ رہے ہیں کہ ان علمائے کرام اور مفتیانِ کرام کو کمپیوٹر سائنس کے ماہرین نے کرپٹوکرنسی کی اصل حقیقت نہیں بتائی اور اب چونکہ ہم ماہر ہیں اور آپ کو اصل حقیقت سے آگاہ کررہے ہیں، لہٰذا آپ کرپٹوکرنسی کی حلت اور جواز پر فیصلہ صادر فرمادیں۔ 

اسکل بیسڈ اکانومی، پاکستان کی سائنس و ٹیکنالوجی میں پائیدار ترقی اور کرپٹوکرنسی

اسی کو تھوڑا بڑے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ پاکستان پر اس وقت مجموعی طور پر اربوں ڈالر کا قرضہ ہے۔ [1, 2, 3] اس قرضے سے نجات حاصل کرنے کے لیے براڈکاسٹ میڈیا میں کچھ لوگ باقاعدہ ایک منظم طریقے سے دعوت دے رہے ہیں کہ حکومت معاشی باگ ڈور ان لوگوں کے حوالے کرے اور وہ کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرکے پاکستان کو اس قرضے سے نجات دلائیں گے، نیز وہ عوام کو بھی کرپٹوکرنسی میں سرمایہ کاری کی ترغیب دے رہے ہیں، اور بہت سارے یوٹیوبرز اس کو باقاعدہ ایک ہنر یعنی اسکل skill کے طور پر متعارف کروارہے ہیں کہ نوجوان نسل اس کرپٹو کرنسی اور این ایف ٹی ٹیکنالوجی کو سیکھے اور پیسے کمائے۔ نیز حکومت بھی اس میں کچھ پیچھے نہیں اور وہ ایسے سوشل میڈیا پر متحرک لوگوں کو نہ صرف یہ کہ ایوارڈ سے نواز رہی ہے، بلکہ اُن کی ان کاوشوں کو سراہ رہی ہے، ہنر یعنی اسکلز سیکھنے کے لبادے میں اس کو اسکلز بیسڈ اکانومی یعنی ہنر پر مبنی معیشت skills based economy کا نام دیا جارہا ہے اور یہ باور کرایا جارہا ہے کہ اس سے ہمارے ملک کی قسمت بدل جائے گی۔ جب ہم یورپ اور امریکہ میں دیکھتے ہیں تو وہاں بھی یہی صورتِ حال ہے، کچھ لوگ وہاں کےسادہ عوام کو بھی اس کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کی ترغیب دے رہے ہیں اور نتیجتاً لوگ جوق در جوق اپنا سرمایہ کرپٹوکرنسی میں لگا رہے ہیں۔ راقم یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان اگر عالمی طور پر سائنس اور ٹیکنالوجی میں دیرپا ترقی sustainable scientific development کرنا چاہتا ہے تو ہمیں سائنس اور ٹیکنالوجی کی خدمت کرنی ہوگی، نہ کہ چندہنر یعنی اسکلز عوام کو سکھا کر وقتی طور پر نفع حاصل کرلیا جائے، جیسا کہ کرپٹو کرنسی کے معاملے میں کیا جارہا ہے۔ آپ کو اگر نئی ٹیکنالوجی پر کام کرنا ہے اور سائنس میں پاکستان اور مسلمانوں کا نام روشن کرنا ہے تو مغرب کی اندھی تقلید کرتے ہوئے بس اُن کی ٹیکنالوجی کومِن و عن اختیار کرنے اور صرف استعمال کرنے کے بجائےایسے عالمی معیار کے محققین اور سائنسدانوں کی ایک کھیپ تیار کیجئے جو کہ عالمی سطح کی تحقیق کرکےایسے متبادل حل اُمت کو دیں جو کہ شریعت کے اصولوں کے مدِ نظر رکھتے ہوئے بنائے گئے ہوں۔ ہمیں اپنے آپ سے یہ سوال پوچھناچاہیے کہ کیوں پاکستان کی سائنس اور ٹیکنالوجی کی یونیورسٹیوں میں صرف مغرب کی سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی کو پڑھایا جاتا ہے؟ اور تحقیق، جستجو، تنقیدی سوچ اور سائنسی دنیا میں کچھ نیا کرنے کا فقدان ہے؟ اور کیوں اگر کچھ سائنسدان اعلیٰ معیار کی تحقیق کرنا بھی چاہیں تو ان کی ہر طرح سے حوصلہ شکنی کی جاتی ہے؟

حلال کمانے اور خرچ کرنے کی اہمیت اور اسلاف کا طرزِ عمل

علمائے کرام سے ہم یہ سنتے رہتے ہیں کہ مال کماؤ تو حلال کماؤ اور خرچ کرو تو جائز مصارف میں خرچ کرو۔ ہم اسلاف کے واقعات پڑھتے رہتے ہیں کہ وہ مال کمانے میں تقویٰ اختیار کرتے تھے، اور مشتبہ مال سے بھی اجتناب برتتے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق  رضی اللہ عنہ  کا واقعہ شیخ الحدیث  رحمۃ اللہ علیہ  نے فضائلِ اعمال میں لکھا ہے کہ کس طریقے سے انہوں نے حلق میں اُنگلی ڈال کر قے کردی کہ کہیں مشتبہ مال ان کے جسم کا حصہ نہ بن جائے۔ ہماری درخواست خاص طور پر نوجوانوں سے یہ ہے کہ صرف مادی چیزوں میں نہ اُلجھ جائیں اور صرف پیسہ کمانا ہی ہمارا مقصد نہ ہو، بلکہ ہم اپنی نیت درست کریں، ملک و ملت و دین کی خدمت کی نیت کریں اور پھر جائز طریقے سے جتنا چاہیں پیسہ کمائیں۔ جائز طریقوں سے کمائی کرنا کوئی منع نہیں ہے۔ 

کیا اگلا عالمی معاشی نظام کرپٹو کرنسی کی بنیاد پر ہوگا؟

بہت ہی مخلص انداز میں بعض لوگ اس بات کی ترویج و اشاعت کررہے ہیں کہ:
’’اگر ہم ابھی بھی حرکت میں نہیں آئیں گے اور کرپٹوکرنسی میں سرمایہ کاری نہیں کریں گے اور اس کو اختیار نہیں کریں گے تو عالمی معاشی نظام ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا۔‘‘
 ان لوگوں کا مطمحِ نظر یہ ہے کہ وہ علمائے کرام کو دلیل سے قائل کرلیں کہ آپ علمائے کرام اس کرپٹو کرنسی کو جائز قرار دے دیں، کیونکہ اگلی معاشی صف بندی میں کرپٹو کرنسی کو بنیادی اہمیت حاصل ہوگی۔ اس دلیل کو اور مضبوط کرنے کے لیے یہ حضرات یہ بات کہہ رہے ہیں کہ اب سے تقریباً سو سال پہلے مولانا شمس الحق افغانی  رحمۃ اللہ علیہ  نے پیپر کرنسی کے بارے میں کہا تھا کہ یہ رائج ہو کر رہے گی اور آج ہم نے دیکھ لیا کہ وہ رائج ہے۔ وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ جب وقت تبدیل ہوتا ہے تو بڑے بڑے مسائل آتے ہیں۔ دیکھیں! ٹی وی آگیا، کیا ہم اس کو روک پائے؟ وہ یہ کہتے ہیں کہ فتویٰ چلتا نہیں اور چیز اپنے قدم جمالیتی ہے۔ اور وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ یہ کرپٹو کرنسی بھی رائج ہو کر رہے گی اور اگلا معاشی نظام کرپٹو کرنسی کی بنیاد پر ہوگا۔ اگر اس میں بعض سودی مسائل پیش آتے ہیں تو ہمیں اس کا حل نکالنا چاہیے۔ اب چونکہ مسلمانوں کی طرف سے حل نکالنے میں بہت دیر ہوچکی ہے، لہٰذا اُن حضرات کی رائے میں کرپٹوکرنسی کا استعمال جائز ہے۔ قارئین ملاحظہ کرسکتے ہیں کہ کرپٹو کرنسی، این ایف ٹی اور اس سے متعلقہ چیزوں کے بارے میں کس طرح سے معاشرے میں تشکیک پیدا ہو گئی ہے، لہٰذا اس مضمون میں پہلے ہم کرپٹو اثاثوں (کرپٹو کرنسی، ورچول کرنسی، این ایف ٹی، ٹوکن، ڈی سینٹرلائژڈ فنانس اور اس سے متعلقہ پروڈکٹس اور سروسز) سے متعلق بنیادی معلومات فراہم کریں گے، کچھ مغالطوں کے جوابات پیش کریں گے اور پھر ہم آپ کے سامنے چند گزارشات رکھیں گے، تاکہ کرپٹو اثاثوں کی حقیقت واضح ہوجائے۔ 

اثاثے، ان کی ملکیت اور ان کا ریکارڈ

انسان کے اثاثے (assets) رکھنےکی تاریخ بہت پرانی ہے۔ ان اثاثوں میں سواری، زیورات، درہم، دینار، کرنسی، سونا، زرعی اراضی، گھر، اس کے زیر استعمال چیزیں اور دیگر اجناس شامل ہیں۔ اثاثے دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک وہ جو کہ فن جیبل fungible ہوں اور دوسرے وہ جو کہ نون فن جیبل Non-fungible ہوں۔ فن جیبل اثاثے وہ ہوتے ہیں جو کہ ایک جیسے ہوتے ہیں اور اگر ان اثاثوں کی مقدار اور قسم ایک جیسی ہو توآپس میں ان کا ردوبدل یا ایکسچینج آسانی سے ہوجاتا ہے، مثلاً معدنیات، دھاتیں (سونا، چاندی) اور کرنسی فن جیبل اثاثوں کے طور پر دیکھی جاتی ہیں۔ اثاثےجیسے کہ رئیل اسٹیٹ (گھر، جائیداد وغیرہ)، ہیرا (ڈائمنڈ) یہ نون فن جیبل اثاثے شمار ہوتے ہیں۔ ان اثاثوں میں ہر ایک اثاثہ ایک خاص انفرادی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی قدر (ویلیو) اس کے ساتھ خاص طور پر مخصوص ہوتی ہے، مثلاً ایک ہیرا ایک خاص تراش کا ہوگا اور یہ کسی دوسرے ہیرے کے ساتھ تبدیل نہیں ہوسکتا، کیونکہ ہر ہیرا اپنی صفت میں ممتاز ہوتا ہے، اسی طرح سے اثاثے ڈیجیٹل بھی ہوسکتے ہیں، مثلاً ویڈیو، آڈیو، تصویرjpeg image، ڈاکومنٹ یا کرپٹوکرنسی اور یہ ڈیجیٹل اثاثے Intangible ہوتے ہیں، یعنی جو کہ Not physically present حسی طور پر موجود نہیں ہوتے۔ 
یہ اثاثے کسی ایک شخص کی ملکیت بھی ہوسکتےہیں اور ان کو کئی اشخاص شراکت میں بھی رکھ سکتے ہیں۔ نیز یہ اثاثے کسی کمپنی یا حکومتی ادارے کی ملکیت بھی ہوسکتے ہیں۔ زندگی میں ایسے کئی مواقع آتے ہیں جب ان اثاثوں کی ملکیت تبدیل ہوتی ہے ۔ نیز ان اثاثوں کو خریدا اور بیچا بھی جاتا ہے، مگر اس کے لیے سب سے پہلے ان اثاثوں کی ملکیت کا تعین ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ جب کسی شخص کا انتقال ہوتا ہے تو علمِ وراثت (علم الفرائض) کے قانون کے تحت مرنے والے کے اثاثوں کو اس کے وارثین میں منتقل کردیا جاتا ہے[4]۔ اس کے ساتھ ساتھ بیع و شراکت کے لیے بھی ان اثاثوں کو منتقل کیا جاتا ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہوا کہ اثاثوں کا باقاعدہ ایک ریکارڈ رکھا جاتا ہے، تاکہ اثاثوں کی خرید وفروخت ہوسکے، اثاثوں کی ملکیت کا تعین ہوسکے اور اسی کو کھاتہ (ledger) کہا جاتا ہے۔ 
صدیوں سے ان کھاتوں کو رجسٹرز پر، کاغذی کاپیوں پر محفوظ کیا جاتا رہا ہے اور رجسٹری جیسے محکمے کا باقاعدہ وجود ہوا ہے۔ پاکستان میں پٹواری کا باقاعدہ پورا نظام موجود تھا اور ابھی بھی کافی حد تک موجود ہے، جو کہ زرعی اراضی اور اجناس وغیرہ جیسے کھاتوں کے نظام کو سنبھالتا ہے۔ اسلام کے اندر بھی باقاعدہ طور پر اراضی سے متعلق احکامات موجود ہیں اور فقہاء کرام نے اس کے تفصیلی احکامات بیان فرمائے ہیں۔ نیز اراضی سےمتعلق ریکارڈ مرتب کرنا اس لیے بھی ضروری ہے، تاکہ اس سے متعلق شرعی احکامات مثلاً عشر و خراج، اراضی اوقاف پر عمل ہوسکے۔[5] اس کے علاوہ پلاننگ کمیشن آف پاکستان بھی مختلف نوع کے اعداد و شمار (ڈیٹا) کو اکٹھا اور محفوظ کرتا ہے، تاکہ حکومتی پالیسی کا اجرا میں معاون کا کردار ادا کرسکے۔ اس کے علاوہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹ اسٹکس (شماریات) پورے پاکستان سے مردم شماری، قیمتوں کے اعداد و شمار اور اُن کا چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ اقتصاد، اور تجارت سے متعلق اعداد و شمار کو اکھٹا اور محفوظ کرتا ہے۔ 
کھاتے مختلف اقسام کے ہو سکتے ہیں، مثلاً ٹرانزیکشن لیجر Transaction Ledger، بیلنس لیجر Balance Ledger، عمومی لیجر General Ledger، سب لیجر Sub Ledger، سنگل Single Ledger یا ڈبل لیجرDouble Ledger۔ لیجر (کھاتا) کسی بھی معاشی نظام کے دل کی طرح ہوتا ہے۔ کھاتوں کے اندر اخراجات، آمدنی، ملازموں کی تنخواہوں وغیرہ کو ریکارڈ (محفوظ) کیا جاتا ہے۔ ان مختلف اقسام کے کھاتوں کو ملاکر ایک بڑا کھاتہ بھی بنایا جاسکتا ہے اور اسی کو عمومی لیجر General Ledger کہا جاتا ہے۔ ٹرانزیکشن لیجر Transaction Ledger کے اندر معاملات، سودا یا لین دین کا کھاتہ رکھا جاتا ہے، جبکہ بیلنس لیجر Balance Ledger کے اندر دن کے آخر میں جمع اور نکالے گئے پیسوں کا اندراج ہوتا ہے۔ لیجر (کھاتوں) کی زبان میں اگر بات کی جائے تو بٹ کوائن ایک ٹرانزیکشن لیجر ہے، جبکہ ایتھریم ایک بیلنس لیجر ہے۔ 
کمپیوٹر کی ایجاد نے جہاں اور بہت ساری سہولیات فراہم کیں، وہیں پچھلی کچھ دہائیوں سے ان کھاتوں کو کمپیوٹر پر محفوظ کیا جانے لگا۔ اس کے لیے شروع میں مختلف سافٹ وئیرز -جنہیں word processing software spread sheets  کہا جاتا ہے- کا استعمال ہونے لگا، مثلاً مائیکروسافٹ ورڈ MS Word یا مائیکرو سافٹ ایکسل MS Excel ۔ مگر ان میں مسائل یہ تھے کہ ڈیٹا یعنی اعداد وشمار کو باآسانی تبدیل کیا جاسکتا تھا، پھر بعد میں خصوصی سافٹ وئیر تیار کیے جانے لگے، جیسے MS Access Oracle MYSQL Mongo DB  جن کی مدد کے ان کھاتوں کو محفوظ کیا جانے لگا اور ان کو ڈیٹا بیس مینجمنٹ سسٹم (data base management system (dbms کہا جاتا ہے۔ ان کھاتوں کو کمپیوٹر پر محفوظ کرنے سےکئی سہولتیں میسر آئیں، جن میں سب سے اہم مائیکرو سیکنڈ کے اندر کروڑوں کے ریکارڈ میں سے اپنے مطلوبہ مواد تک باآسانی رسائی ہے اور نادرا اس کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ 
پھر جیسے جیسے کمپیوٹر سائنس نے ترقی کی اور ایک سے زائد کمپیوٹر کو منسلک کرکے کمپیوٹر نیٹ ورک وجود میں آئے تو پھر یہ کھاتے مختلف کمپیوٹرز پر محفوظ کیے جانے لگے اور مختلف لوگ، مختلف جگہوں سے بیک وقت ان کھاتوں میں ردوبدل کرسکتے تھے، پھر انٹرنیٹ کی ایجاد نے اس پر چارچاند لگا دیئے اور اب یہ کھاتے پوری دنیا میں کسی بھی جگہ سے رسائی کے قابل ہوئے۔ اس سے پھر ڈسٹری بیوٹڈ لیجر distributed ledger کا نظام وجود میں آیا، جس میں کھاتے کی کاپی ایک سے زیادہ جگہوں پر موجود ہوتی تھی اور ایک سینٹرل سرور central serverیعنی ایک مرکزی کمپیوٹر ان تمام کھاتوں کے نظام کو چلاتا ہے۔ بات صرف اب یہاں پر نہیں رکی، بلکہ کمپیوٹر سائنس نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ اب ان کھاتوں کو مختلف جگہوں پر رکھا جاتا ہے اور کئی لوگ بیک وقت اس تک رسائی حاصل کرتے ہیں اور ریکارڈ میں ردوبدل بھی کرتے ہیں اور اس کے لیے سینٹرل سرور یعنی مرکزی کمپیوٹر کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔ اسی کو تقسیم شدہ کھاتوں کا نظام یعنی ڈسٹری بیوٹڈ لیجر سسٹم ( Distributed Ledger System DLT) یا بلاک چین blockchain کہا جاتا ہے اور اس کو پبلک بلاک چین یعنی عوامی کھاتہ بھی کہا جاتا ہےاور اسی ارتقاء کو ہم نے تصویر نمبر۱  میں دکھایا ہے۔ آسان الفاظ میں بلاک چین ایک ایسے کمپیوٹر نظام کا نام ہے جس کے اندر کھاتوں کو ایک خاص طریقے سے محفوظ کیا جاتا ہے، جس کے اندر کوئی بھی آسانی کے ساتھ ردوبدل نہیں کرسکتا۔ 

تصویر نمبر ۱: کھاتوں (ریکارڈ اور اعداد و شمار) کا کاغذی کاپیوں سے کمپیوٹر تک اور پھر کمپیوٹر نیٹ ورک سے بلاک چین تک کا ارتقائی سفر

1- کھاتوں (اعداد وشمار اور ریکارڈ) کو رجسٹر اور کاغذی کاپیوں پر محفوظ کرنا
2 - کھاتوں (اعداد وشمار اور ریکارڈ) کو کمپیوٹر پر مائیکروسافٹ یا دیگر کمپنیوں کے سافٹ وئیر پر محفوظ کرنا
3- کھاتوں (اعداد وشمار اور ریکارڈ) کو کمپیوٹر کے نیٹ ورک پر ڈیٹا بیس مینیجمنٹ سسٹم کے ذریعہ محفوظ کرنا اور اس نظام کو سینٹرل کمپیوٹر کے ذریعہ کنٹرول کرنا
4- کھاتوں (اعداد وشمار اور ریکارڈ) کو کمپیوٹر کے نیٹ ورک پر بلاک چین کے ذریعہ محفوظ کرنا، جس کے اندر ہر کمپیوٹر پر تمام ریکارڈ موجودہو، اور اس نظام کو سینٹرل کمپیوٹر کے بغیر کنٹرول کرنا

وفاق المدارس کے امتحانی نظم اور نتائج سے بلاک چین کے نظام کو سمجھنا

پاکستان میں اکیس ہزار چار سو باون کی تعداد میں مدارس ہیں، جو کہ وفاق المدارس سے رجسٹرڈ ہیں، ان میں ایک لاکھ چھیاسٹھ ہزار آٹھ سو تیرہ اساتذہ کرام جبکہ انتیس لاکھ اسی ہزار چھ سو ترانوے طلباء و طالبات زیرِ تعلیم ہیں۔[6] ہم فرض کرلیتے ہیں کہ ان میں سے ہر مدرسے کے پاس اپنا ایک کمپیوٹر ہے، جس کی مدد سے وہ اپنے طلباء کا ریکارڈ محفوظ کرتے ہیں۔ یہ ریکارڈ داخلہ فارم سے لے کر درستگی و گمشدگیِ اسناد وغیرہ پر مشتمل ہوتے ہیں اور ان کے اندر نام طالبِ علم، ولدیت، تاریخِ پیدائش، شناختی کارڈ نمبر، پتہ، اور مدرسہ سے تصدیق وغیرہ جیسی معلومات پُر کرنی ہوتی ہیں۔ پھر یہ ریکارڈ مختلف مدارس وفاق المدارس کو مہیا کرتے ہیں، تاکہ وفاق المدارس طلباء کے امتحانات کا نظم بنا سکے، یعنی ان تمام مدارس کے طلباء کو امتحانی فارم پُر کرنا ہوتا ہے اور پھر وفاق المدارس میں وہ سارا ریکارڈ ایک کمپیوٹر پر محفوظ ہوجاتا ہے۔ اس کے لیے وفاق المدارس نے ایک آئن لائن داخلہ فارم مہیا کیا ہوا ہے،جس کو ہر طالب علم پُر کرے گا یا پھر کاغذی پُر شدہ امتحانی فارم اپنے مدرسے کے توسط سےوہ وفاق المدارس کو ارسال کرے گا۔ دونوں ہی صورتوں میں وہ ریکارڈ وفاق المدارس اپنے کمپیوٹر میں محفوظ کرے گا اور احتیاطاً آفس میں کاغذی ریکارڈ بھی محفوظ رکھا جائے گا۔ وفاق المدارس کمپیوٹر پر اس ریکارڈ کو محفوظ کرنے کے لیے کسی عام سے سافٹ وئیر مثلاً MS Excel, MS Access  یا کسی مضبوط ڈیٹا بیس مینجمینٹ سسٹم DBMS کا انتخاب کرے گا، مثلاً mOracle, MongoDB, MySQL۔ اور پھرسالانہ امتحانات ہوجائیں گے اور جب امتحانی کاپیاں چیک ہوجائیں گی تو امتحانات کا نتیجہ عام کردیا جائے گا۔ اب اس امتحانی نتیجہ کو پورے پاکستان سے طلبائے کرام اور مدارس کے منتظمین انٹرنیٹ کی مدد سے اپنے ہی مدرسے، شہر سے گھر بیٹھے دیکھ سکتے ہیں۔ وہ چاہیں تو موبائل فون سے میسیج کرکے بھی اپنا مطلوبہ رول نمبر دے کر امتحانی نتیجہ معلوم کرسکتے ہیں۔ تو اس سارے امتحانی نظام اور نتائج کے نظام کو وفاق المدارس کے اندر کمپیوٹر پر سافٹ وئیر کی مدد سے محفوظ کیا جارہا ہے اور اس قسم کے سافٹ وئیر کو ڈیٹا بیس مینجمنٹ سسٹم کہا جاتا ہے اور یہ سب کچھ ایک Centralized سینٹرلائژڈ طریقے یعنی وفاق المدارس میں موجود مرکزی کمپیوٹر سے انجام دیا جارہا ہے۔ 
کمپیوٹر سائنس کے اندر ترقی نے جہاں اور بہت ساری آسانیاں پیدا کی ہیں، وہیں بہت سارے خطرات بھی پیدا ہوگئے ہیں، مثلاً خدانخواستہ کسی عالمی سائبر حملے cyber attack کی صورت میں وفاق المدارس میں محفوظ سارا ریکارڈ (رجسٹریشن، امتحانات و نتائج) ضائع یا تبدیل ہوسکتا ہے۔ نیز ایسا سائبر حملہ بھی ہو سکتا ہے جس میں وفاق المدارس میں موجود لوگوں کو پتہ ہی نہ ہو اور کئی سال پرانے ریکارڈ میں تبدیلی کرلی گئی ہو۔ یا یہ بھی ممکن ہے کہ سائبر حملے کی صورت میں جس دن وفاق المدارس نے اعلان کیا ہو کہ وہ سالانہ نتائج کا اعلان کرے گا، اس دن ڈینائیل آف سروس اٹیک (Denial of Service Attack DoS) کی وجہ سے وفاق المدارس کے کمپیوٹر کام کرنا چھوڑ دیں اور پورے پاکستان میں موجود طلباء اور مدارس کو مشکل پیش آئے۔ یہ تو ہم نے عام سی مثال پیش کی ہے، مگر اس کی سنگینی کا اندازہ وہ ممالک بخوبی کرسکتے ہیں، جہاں پر سارا نظام ہی کمپیوٹر کے نیٹ ورک کے مرہونِ منت ہے۔ انہی تمام معاملات کو دیکھتے ہوئے کمپیوٹر سائنس کے محققین ہمیشہ اس بات کی کوشش میں سرگرداں رہتے ہیں کہ کیسے کمپیوٹر نیٹ ورک زیادہ سے زیادہ مؤثر اور محفوظ ہوں۔ اسی تناظر میں کمپیوٹر سائنس دانوں نے ایک طریقہ ڈھونڈا، جس کو بلاک چین ٹیکنالوجی کہا جاتا ہے، جس کی مدد سے ہم اس طرح کے ریکارڈ کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ 
اب اگر وفاق المدارس اپنے سارے ریکارڈ کو بلاک چین پر محفوظ بنانے کی صورت بناتا ہے تو اس صورت میں یہ سارا ریکارڈ ایک بلاک چین میں محفوظ ہوگا اور اس سارے ریکارڈ کی مکمل کاپی ہر مدرسے کے پاس محفوظ ہوگی۔ اور کوئی بھی مدرسہ اس ریکارڈ میں ذرہ برابر بھی تبدیلی نہیں کرسکتا، جب تک ایک معتدبہ تعداد جو کہ ۵۱ فیصد مدارس کی تعداد سے زیادہ ہونی چاہیے، جو کہ تقریباً دس ہزار مدارس سے زیادہ بنتی ہے، جب تک کہ اس تبدیلی کو تسلیم approve and validate نہ کرلیں۔ اب اس صورت میں خدانخواستہ کوئی بھی سائبر حملہ ہوتا ہے تو یہ ریکارڈ وفاق المدارس کےایک کمپیوٹر پر محفوظ ہونے کے بجائے پورے پاکستان کےتمام مدارس کے کمپیوٹرز پر محفوظ ہوگا اور سائبر حملہ کرنے والوں کو پاکستان کے تمام مدارس کے تمام کمپیوٹرز پر جاکر وہ ریکارڈ تبدیل کرنا ہوگا جو کہ تقریباً ناممکن ہے، کیونکہ یہ مدارس پاکستان کے طول و بلد میں ہرجگہ موجود ہیں اور اتنی بڑی تعداد میں ان تمام کمپیوٹرز پر تبدیلی کرنا بہت مشکل ہے۔ اس طرح کے نظام کے اندر وفاق المدارس کے تمام ریکارڈ ایک پبلک بلاک چین کی مدد سے عوامی سطح پر publicly موجود ہوگا اور جو چاہے جب چاہے اس کو دیکھ سکے گا اور اسی وجہ سے یہ سارا نظام آڈٹ میں بھی آسانی فراہم کرے گا اور اس میں شفافیت بھی ہوگی۔ اس کے علاوہ یہ ریکارڈ اتنا محفوظ ہوگا کہ اس کے اندر ایک نکتے کی بھی تبدیلی نہیں لائی جاسکتی۔ اور اگر کوئی تبدیلی مقصود بھی ہوگی (مثلاً ایک طالب علم کے نتائج پیپر کی ری چیکنگ کے بعد تبدیل کرنے ہیں) تو وہ سب ریکارڈ بھی محفوظ ہوگا۔ تو خلاصہ کلام یہ ہوا کہ بلاک چین ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جس کی مدد سے ہم ریکارڈ کو محفوظ بناتے ہیں، گو کہ موجودہ اور مروجہ کمپیوٹر پر ریکارڈ محفوظ کرنے کے طریقوں کے مقابلے میں بلاک چین کے اپنے کچھ فائدے اور نقصانات ہیں، مگر یہ بہت زبردست ٹیکنالوجی ہے، جس کو دنیا بھر میں بہت زیادہ پذیرائی مل رہی ہے۔ 
اس وفاق المدارس کی مثال کو ہم ایک اور تناظر میں بھی دیکھ سکتے ہیں جس کوکمپیوٹر سائنس کی زبان میں سینٹرلائزڈ - مرکزیت Centralized اورڈی سینٹرلائزڈ- لا مرکزیت De-Centralized بھی کہا جاتا ہے۔ وفاق المدارس کے پاس جب ایک سینٹرل کمپیوٹریعنی مرکزی کمپیوٹر server ہے اور اس کی مدد سے وہ تمام مدارس کے کمپیوٹرز کو کنٹرول کررہےہیں یا ان کو معلومات پہنچا رہے ہیں یا آسان الفاظ میں facilitate کررہے ہیں تو یہ سینٹرلائزڈ یعنی مرکزی سسٹم کہلائے گا اور اس کے لیے وہ ڈیٹابیس مینجمنٹ سسٹم کا استعمال کریں گے۔ اس کو اگر ہم بینکنگ سسٹم کے حوالے سے دیکھیں تو بینکنگ سسٹم ایک سینٹرلائزڈ سسٹم ہے، کیونکہ اس کے اندر ایک سینٹرل بینک یا حکومت کی مرکزیت ہے اور وہی اس پورے معاشی نظام کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اس کے برعکس ہمارے پاس ڈی سینٹرلائزڈ سسٹم ہوتے ہیں، جن کے اندر کوئی بھی مرکزی کمپیوٹر نہیں ہوتا اور ہر کمپیوٹر خود مختار ہوتا ہے کہ جس کمپیوٹر سے چاہے مواصلاتی رابطہ قائم کرے۔ وفاق المدارس کے امتحانی نظام کو جب ہم بلاک چین کے ذریعے سے قائم کریں گے تو ہر مدرسے کے پاس تمام مدارس کا یعنی پورے وفاق المدارس کا ریکارڈ موجود ہوگا اور وفاق المدارس کا مرکزی کمپیوٹر ان تمام مدارس کے کمپیوٹرز کو کنٹرول نہیں کررہا ہوگا۔ اس نظام کو اگر بینکنگ سسٹم کے تناظر میں دیکھیں تو یہ سمجھیں کہ کسی ملک میں کئی بینک موجود ہیں، مگر نہ ہی کوئی حکومت ہے اور نہ ہی کوئی سینٹرل بینک ہے جو کہ ان بینکوں کے نظام کو کنٹرول کرسکے یا ریگولیٹ کرسکے۔ تو خلاصہ کے طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بلاک چین ہمیں مرکزی سسٹم یعنی سینٹرلائزڈ سسٹم سے ہٹا کر غیر مرکزی نظام یعنی ڈی سینٹرلائزڈ سسٹم کی طرف لے جاتا ہے۔ 

کیا بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال جائز ہے؟

مفتیانِ کرام یہ فرماتے ہیں کہ: بلاک چین ٹیکنالوجی کو سیکھنا اور اس کا استعمال عمومی طور پر جائز ہے، جیسے ہم نے مثال کے ذریعے سے آپ کو بتایا کہ یہ بلاک چین ٹیکنالوجی وفاق المدارس کے ریکارڈ کو محفوظ کرنے کے لیے بھی استعمال ہوسکتی ہے، نیز اگر کوئی چاہے تو ناجائز کاموں کی تفصیلات محفوظ کرنے کے لیے بھی اس کو استعمال کرسکتا ہے، جیسے شراب کی فیکٹریوں میں بننے والی شراب کا ریکارڈ رکھنے کے لیے یا انشورنس کا ریکارڈ رکھنے کے لیے وغیرہ، تو علمائے کرام یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ: اگر کچھ لوگ بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال غلط قسم کے ریکارڈ کو محفوظ کرنے کے لیے کررہے ہیں تو ہم مطلقاً بلاک چین ٹیکنالوجی کوہی ناجائز قرار نہیں دیں گے۔ یہ ایسا ہی ہے کہ ہم DBMS کو یا کمپیوٹر کو ناجائز قرار دے دیں، کیونکہ اس کو بھی ناجائز کاموں کے ریکارڈ کو محفوظ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے یا کوئی چھری کو ہی مطلقاً ناجائز قرار دے دے، کیونکہ اس سے کوئی ناحق قتل بھی کرسکتا ہے۔ بس ہماری گزارش یہ ہوگی کہ اگر آپ بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال کسی خاص سیکٹر میں کرنا چاہتے ہیں تو مفتیانِ کرام سے رجوع کریں، تاکہ وہ آپ کو اس کے شرعی استعمال کے متعلق احکامات بتاسکیں۔ 

بلاک چین (blockchain ) ٹیکنالوجی کیا ہے؟

بلاک چین ایک ایسی کمپیوٹر ٹیکنالوجی کا نام ہے جس کی مدد سے ہم ایک کمپیوٹر نیٹ ورک پر ریکارڈ کو محفوظ کرتے ہیں، جس کی تعریف کچھ اس طرح سے ہوگی: ’’بلاک چین ایک ایسا ڈیٹا اسٹرکچر یعنی ڈیٹا محفوظ کرنے کا طریقہ کار ہے، جس کے اندر ایک مرتبہ ریکارڈ اگر بلاک چین میں محفوظ کردیا گیا تو پھر اس کے اندر تبدیلی نہیں لائی جاسکتی، شامل کیے گئے ریکارڈ کو صرف پڑھا جاسکتا ہے اور نیا ڈیٹا ہمیشہ بلاک چین کے آخر میں شامل کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے بلاک چین ایک بہت زیادہ غیر تغیر قسم کا ریکارڈ محفوظ کرنے کا نظام مہیا کرتا ہے۔‘‘ 
اس کے علاوہ ایک خصوصیت بلاک چین کی یہ ہے کہ اس کے اندر اگر کوئی شخص ایک نقطے کی بھی تبدیلی کی کوشش کرتا ہے تو وہ بآسانی ٹریس کی جاسکتی ہے اور یہی وہ ایک خصوصیت ہے جس کی وجہ سے بلاک چین بہت زیادہ مشہور ہے۔ نیز بلاک چین کے ذریعے سے بننے والے نظام کے اندر ہم اس بات کی بھی کھوج لگا سکتے ہیں کہ کس ٹرانزیکشن کی ابتدا کہاں سے ہوئی تھی؟ اور پھر وہ کن کن لوگوں کے ذریعے سے ہوتے ہوئے آگے گئی، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آڈٹ کے پراسس کے اندر بہت آسانی پیدا ہوجاتی ہے۔ 
 بلاک چین ٹیکنالوجی کا سب سے پہلا استعمال ایک کرپٹو کرنسی (بٹ کوائن) کو بنانے کے لیے کیا گیا۔ بٹ کوائن کو سن ۲۰۰۸ء میں ساتوشی ناکاموٹو Satoshi Nakamoto نے اپنے وائٹ پیپر میں سب سے پہلی مرتبہ تعارف کروایا اور سن ۲۰۰۹ء میں بٹ کوائن کا لیجر وجود میں آیا۔[7,8] بٹ کوائن نے اس بلاک چین ٹیکنالوجی کی افادیت کو پوری دنیا کے سامنے رکھا اور چونکہ بلاک چین ٹیکنالوجی کا یہ ایک معاشی استعمال تھا، لہٰذا کمپیوٹر سائنسدانوں نے خوب اس نظام کی جانچ کی کہ کہیں اس میں کوئی سقم نہ ہو۔ 
بٹ کوائن چونکہ ایک اہم کرپٹو کرنسی ہے اور اس کے اندر پیسے کے اہم معاملات کا ریکارڈ محفوظ رکھنا تھا تو بلاک چین ٹیکنالوجی کے اندر اتنی انتظامی استطاعت، جدت اور محفوظ طریقہ اپنایا گیا اور اس کے نظام کو پرکھا گیا کہ کہیں اس میں کوئی خرابی تو نہیں۔ اس بلاک چین کے بٹ کوائن کے استعمال نے جہاں دنیا کے کمپیوٹر سائنسدانوں اور محققین کو اس بات کی گارنٹی دی کہ بلاک چین میں بہت ساری افادیت ہے، وہیں کچھ لوگوں کو یہ گمان ہوگیا کہ شاید بلاک چین اور کرپٹو کرنسی ایک ہی چیز کے دو نام ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ بلاک چین کا پہلا استعمال کرپٹو کرنسی کے ریکارڈ کو محفوظ بنانے کے لیے کیا گیا تھا، پھر اس ٹیکنالوجی کی افادیت کو دیکھتے ہوئے اس کو زندگی کے ہر شعبے میں استعمال کیا جانے لگا ہے۔[9] تو ہم عمومی طور پر کہہ سکتے ہیں کہ بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال کرپٹو کرنسی میں پانچ فیصد سے بھی کم ہوگا اور اس کے بالمقابل زندگی کی مختلف شعبہ جات میں اس کا کثیر استعمال ہے، جس میں آپ جہاں جہاں آج کل کمپیوٹر کو ریکارڈ محفوظ کرنے کے لیے استعمال کررہے ہیں، وہاں پر بلاک چین متبادل کے طور پر استعمال کی جاسکتی ہے، مگر اس ٹیکنالوجی کو پوری طرح اپنانے میں کچھ سال لگیں گے۔ 

بلاک چین ٹیکنالوجی کے کام کا طریقہ کار، مروجہ بینکنگ کا نظام اور مائننگ

 

تصویر نمبر۲: بینک کے نظام سے پیسے بھیجنے کا طریقہ کار

۱: زید: پیسے بھیجنے والا            ۲: زید کے بینک کا لیجر (کھاتہ) اور زید کا بینک
۳: سینٹرل بینک کا لیجر (کھاتہ)، سینٹرل بینک    ۴: بکرکے بینک کا لیجر (کھاتہ)، بکر کا بینک
۵: بکر، پیسے وصول کرنے والا
1- زیداپنے اکاؤنٹ تک رسائی کرے گا اور پھر اپنے بینک سے کہے گا کہ ۱۰۰۰ روپے بکر کو بھیج دیئے جائیں۔
2- زید کا بینک پہلے چیک کرے گا کہ زید کے پاس بینک میں اتنے پیسے بھی ہیں؟ اگر ہیں تو پھر وہ اپنے پاس کھاتے میں اپ ڈیٹ کرے گا کہ ۱۰۰۰ روپے زید کے بینک اکاؤنٹ میں سے نکال دیئے جائیں، پھر وہ بکر کے بینک کو بتائے گا کہ بکر کو ۱۰۰۰ روپے زید کی طرف سے وصول ہوئے ہیں۔
3 - سینٹرل بینک کا کام یہ ہوگا کہ وہ اس بات کا انتظار کرے کہ دونوں بینک یہ تبادلہ کررہے ہیں اور اس میں کہیں کوئی کمی کوتاہی تو نہیں۔
4- بکر کے بینک کو جب زید کے بینک کی طر ف سے کہا جائے گا کہ بکر کو ۱۰۰۰ روپے ملے ہیں تو وہ اپنے کھاتے میں بکر کے اکاؤنٹ میں ۱۰۰۰ روپے کی انٹری ڈال دے گا۔
5- بکر جب اپنے اکاؤنٹ تک رسائی کرے گا تو اس کو وہ ۱۰۰۰ روپے اپنے بینک اکاؤنٹ میں موصول ہوئے نظر آئیں گے۔
تصویر نمبر: ۲ کے اندر قارئین مثال کے ذریعے سے سمجھ سکتے ہیں کہ بینک کے نظام کے تحت زید اگر بکر کو پیسے بھیجے گا تو کس طریقے سے زید اور بکر کے بینک اپنے کھاتوں (ڈیٹا بیس سسٹم) میں پیسوں کی نقل و حرکت کو اپ ڈیٹ یعنی اس میں اندراج کریں گے۔ اب اگر کسی وجہ سے زید کے بھیجے ہوئے پیسے بکر کو منتقل نہیں ہوتے تو سینٹرل بینک کے پاس شکایت جائے گی اور وہ اس پیسوں کے بھیجنے کے عمل کو شفاف بنائے گا، یعنی سینٹرل بینک کا کام ایک حکومتی ریگولیٹر اور صارف کو تحفظ فراہم کرنے والے کا ہوگا۔ 
قارئین! اسی تصویر نمبر:۲ کے تحت آپ یہ دیکھ سکتے ہیں کہ جب زید اپنے کمپیوٹر یا موبائل فون سے اپنے بینک اکاؤنٹ تک رسائی کرتا ہے تو اس کے کمپیوٹر یا موبائل فون میں ۱۰۰۰ روپے حسی طور پر موجود نہیں ہوتے، بلکہ زید اپنے بینک کے کھاتے تک رسائی کرتا ہے، جس کے اندر یہ لکھا ہوا ہے کہ زید کے پاس ۱۰۰۰ روپے موجود ہیں۔ زید کو اپنے اکاؤنٹ تک رسائی کے لیے ایک یوزر نیم (نام) user name اور پاس ورڈ(خفیہ کوڈ) password دیا جائے گا اور وہ خود بھی رکھ سکتا ہے۔ اب اس یوزرنیم اور پاس ورڈ کی مدد سے زید اپنے بینک اکاؤنٹ تک رسائی کرسکتا ہے۔ یہ رسائی موبائل فون کی ایپلیکیشن Mobile Phone Application کی مدد سے بھی ہوسکتی ہے، بینک کی ویب سائٹ website کے ذریعے سے بھی ہوسکتی ہے، اے ٹی ایم کارڈ ATM Card کی مدد سے اے ٹی ایم مشین ATM Machine سے بھی ہوسکتی ہے۔ اس کے ساتھ زید دنیا کے کسی کونے سے اپنے یوزر نیم اور پاس ورڈ کی مدد سے اپنے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ غرض یہ یوزرنیم اور پاس ورڈ زید کو یہ گارنٹی دے گا کہ وہ بحفاظت اپنے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرلے۔ زید کا یوزر نیم پبلک ہوسکتا ہے، یعنی کوئی بھی اس کو جان سکتا ہے، مگر زید کا پاس ورڈ خفیہ ہونا چاہیے اور صرف اسی کو معلوم ہونا چاہیے، اگر وہ کسی اور کو معلوم ہوگیا تو کوئی بھی اس کے اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔ 
جب زید اپنے بینک سے درخواست کرتا ہے کہ بکر کو ۱۰۰۰ روپے بھیج دیئے جائیں تو زید کا بینک اپنے کھاتے کو اَپ ڈیٹ کرتا ہے اور اس کھاتے میں سے زید کے اکاؤنٹ میں سے ۱۰۰۰ روپے منہا کردیتا ہے۔ یہاں پر یہ ذہن میں رہے کہ جب زید نے اپنے موبائل فون یا کمپیوٹر سے اپنے اکاؤنٹ تک رسائی کی تو اُس نے ایک ٹرانزیکشن Transaction کی اور یہ ٹرانزیکشن ۱۰۰۰ روپے کی تھی اور اس ٹرانزیکشن کے اندر وہ اپنے بینک سے یہ کہہ رہا ہے کہ میرے اکاؤنٹ سے ۱۰۰۰ روپے نکال کر بکر (جس کا اکاؤنٹ نمبر زید نے اپنے بینک کو ٹرانزیکشن میں لکھ کر دیا ہے) کو دے دیئے جائیں۔ کمپیوٹر کی زبان میں ایک کمانڈ command زید کے موبائل فون یا کمپیوٹر نے بنائی ہے اور اسی کو ہم ٹرانزیکشن کہتے ہیں اور وہ زید کے مرکزی کمپیوٹر یعنی central server تک گئی، پھر زید کا بینک بکر کے بینک کو کہتا ہے کہ بکر کو ۱۰۰۰ روپے بھیجے گئے ہیں اور پھر بکر کا بینک اپنے کھاتے میں اندراج کرلیتا ہے کہ بکر کے پاس اب ۱۰۰۰ روپے ہیں۔ 
یہاں پر بھی جب بکر اپنے اکاؤنٹ تک رسائی کرے گا تو وہ اصل میں اپنے کھاتے تک رسائی کرے گا، ۱۰۰۰ روپے حسی طور پر اس کے کمپیوٹر یا موبائل فون میں موجود نہ ہوں گے۔ تو اصل میں اس سارے بینک کے نظام میں پیسوں کی منتقلی کھاتوں کے اندراج میں تبدیلی کے تحت ہورہی ہے اور ایسا قطعی طور پر نہیں ہورہا کہ ۱۰۰۰ روپے زید کے موبائل فون سے اُٹھ کر بکر کے موبائل فون میں جارہے ہیں۔ پھر لازمی بات ہے کہ دن کے آخر میں یا مہینے کے آخر میں تمام بینک باقاعدہ کاغذی نوٹوں کی منتقلی بھی کرتے ہوں۔ 
اب اس مثال کے ذریعے سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ زید اور بکر دونوں ہی بینک پر بھروسہ trust کرتے ہیں اور یہی وہ بھروسہ ہے کہ جس کی بنیاد پر ہم سارالین دین کرتےہیں۔ بلاک چین کے اندر ہم اس بینک کو -جسے ہم تھرڈ پارٹی Third party or intermediary یا ایک طرح سے ضامن بھی کہتے ہیں- ہٹا رہے ہیں اور اجتماعی بھروسہ اس کے بغیر پیدا کررہے ہیں۔

حواشی وحوالہ جات

[1] State Bank of Pakistan (SBP) Annual Report in Urdu, https//:www.sbp.org.pk/reports/annual /arFY21/Urdu/Complete.pdf 
]2] SBP Annual Report, https//:www.sbp.org.pk/reports/stat_reviews/Bulletin/2021 /Sep /Domestic%20 and %20 External%20Debt.pdf 
[3] BBC News on Pakistan’s debt, https//:www.bbc.com/urdu/pakistan-56122186 

[4] مفتی محمد نعیم میمن صاحب دامت برکاتہم، آسان احکامِ میراث، رحمانی پبلیکشنز، کراچی، پاکستان، سن ۲۰۲۲ء
[5] مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ، القول الماضی فی احکام الاراضی، اسلام کا نظامِ اراضی، عشر و خروج کے احکام اور فتوح الہند، دارالاشاعت، کراچی، پاکستان

]6]   وفاق المدارس العربیہ پاکستان http//:www.wifaqulmadaris.org/pages/introduction.php 

]7] S. Nakamoto, Bitcoin: A Peer-to-Peer Electronic Cash System, Dec. 2018, ]online[ Available: http//:bitcoin.org/bitcoin.pdf 
]8] F.Tschorsch and B. Scheuermann, "Bitcoin and Beyond: A Technical Survey on Decentralized Digital Currencies," in IEEE Communications Surveys & Tutorials, vol. 18, no. 3, pp. 2084-2123, thirdquarter 2016.
]9] M. S. Ali, M. Vecchio, M. Pincheira, K. Dolui, F. Antonelli and M. H. Rehmani, ‘‘Applications of Blockchains in the Internet of Things: A Comprehensive Survey,’’ in IEEE Communications Surveys & Tutorials, vol. 21, no. 2, pp. 1676-1717, Secondquarter 2019.

(جاری ہے)
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین