بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 رجب 1444ھ 31 جنوری 2023 ء

بینات

 
 

 کرپٹو کرنسی، این ایف ٹی، اور بلاک چین  تعارف، مغالطے، شرعی نقطۂ نظر اور ہماری ذمہ داری (تیسری قسط)

 کرپٹو کرنسی، این ایف ٹی، اور بلاک چین 

تعارف، مغالطے، شرعی نقطۂ نظر اور ہماری ذمہ داری

(تیسری قسط)

کرپٹو کرنسی کیا ہے؟


ایسی کرنسی جس کے اندر بہت ہی زیادہ طاقت ور کرپٹو گرافک الگوریتھمز Cryptographic Algorithms کا استعمال ہوتا ہو اس کو کرپٹو کرنسی( Crypto Currency) کہا جاتا ہے۔ کرپٹو کرنسی ایک طرح کا کرپٹو اثاثہ ہے۔ کرپٹو اثاثہ اصل میں قدر اور حقوق کا ڈیجیٹل اظہار ہے، جس کو ہم ڈسٹری بیوٹڈ لیجر ٹیکنالوجی اور اس سے ملتی جلتی ٹیکنالوجیز کی مدد سے الیکٹرونک طور پر منتقل اور محفوظ کرسکتے ہیں۔ کرپٹو کرنسی، ورچوئل کرنسی، این ایف ٹی، ٹوکن، ڈی سینٹرلائژڈ فنانس اور اس سے متعلقہ پروڈکٹس اور سروسز کو ہم عام طور سے کرپٹو اثاثہ تصور کرتے ہیں۔ عمومی طور پر ڈیجیٹل کرنسی Digital Currency کے اندر ان ہی کرپٹوگرافک الگوریتھمز Cryptographic Algorithmsکا استعمال ہوتا ہے، لہٰذا ڈیجیٹل کرنسی کو کرپٹو کرنسی بھی کہا جاتا ہے۔ ڈیجیٹل کرنسی وہ کرنسی ہوتی ہے جس کا حسی طور پر کوئی وجود نہ ہو، اور وہ اپنےچلنے میں کمپیوٹر کی محتاج ہو، لہٰذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کرپٹوکرنسی ایک ایسی کرنسی کو کہا جاتا ہے جس کے نظام کو چلانے کے لیے کمپیوٹر نیٹ ورک (بلاک چین - Blockchain) کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ بلاک چین سسٹم کرپٹو کرنسی کی مینیجمنٹ اور کھاتوں کے نظام کو محفوظ بنانے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ اس کی مدد سے نہ صرف یہ کہ نئی کرپٹو کرنسی وجود میں آتی ہے، بلکہ اس کی خرید و فروخت بھی اسی بلاک چین نیٹ ورک کے مرہونِ منت ہوتی ہے۔ 
کرپٹو گرافی یا کرپٹو لوجی  Cryptography Cryptology دراصل اس فن کو کہا جاتا ہے جس کے اندر مخفی تحریروں کو تبادلہ کیا جاتا ہے۔ اس فن کو رمزنگاری، خفیہ زبان یا پیغامات کو اس طرح اِن کوڈ Encode کرنے کا طریقہ بتلایا جاتا ہے کہ جس کے اندر کسی تحریر کو دشمن کی موجودگی میں وصول کنندہ کے علاوہ کوئی دوسرا نہ پڑھ سکے۔ یہ ریاضی کی ایک شاخ ہے اور کمپیوٹر سائنس کا اہم موضوع ہے۔ اِن کوڈنگ Encoding دراصل تحریر کو کسی مختلف زبان (یا مختصر زبان) میں لکھنے کو کہتے ہیں اور اس کے ذریعے سے مختلف مقاصد حاصل کیے جاتے ہیں، مثلاً تحریر کو چھپانا یا تحریر کو اس طرح سے تبدیل کرنا کہ وہ چھوٹی ہوجائے، تاکہ وہ کمپیوٹر میموری میں کم جگہ لے۔ اسی طریقے سے مواصلاتی نظام کے اندر بھی اِن کوڈنگ کو استعمال کیا جاتا ہے، تاکہ مختصر ڈیٹا ہم بھیجیں اور انرجی کم خرچ ہو اور زیادہ سے زیادہ مواد ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جائے۔ کرپٹو گرافک الگوریتھم کمپیوٹر کے وہ پروگرامز ہوتے ہیں جن کی مدد سے ہم ڈیٹا کو محفوظ بناتے ہیں اور ان میں سے چند مشہور اقسام یہ ہیں: اِن کرپشن Encryption، ڈیجیٹل سگنیچر Digital Signature، اور ہیشنگHashing۔ الگوریتھم کا لفظ محمد بن موسیٰ الخوارزمی کے نام پر رکھاگیا ہے جس پر آج کل کے تمام کمپیوٹر پروگرامز منحصر ہیں۔ اسی طریقے سے الجبرا Algebra جو کہ ریاضی کی ایک شاخ ہے کا لفظ بھی انہی کی ایک کتاب سے لیا گیا ہے۔ [1]
مروجہ کاغذی کرنسی (روپیہ، ڈالر، یورو) کے نظام کو سینٹرل بینک اور حکومت کے ذریعے سے کنٹرول اور ریگولیٹ کیا جاتا ہے، جبکہ کرپٹو کرنسی کا معاملہ اس کے برعکس ہے، لہٰذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کرپٹو کرنسی ’’عالمی کرنسی‘‘ کے طور پر بھی جانی جاتی ہے۔ اسی وجہ سے مختلف ممالک میں کرپٹو کرنسی کی ترسیل Cross-Border Transfer باآسانی ہوسکتی ہے۔ 
مشہور کرپٹو کرنسیوں میں بٹ کوائن Bitcoin، ایتھرEther، لائٹ کوائن Litecoin، ریپل Ripple، ایکس آر پی XRP وغیرہ شامل ہیں اور اس وقت سترہ ہزار سے زائد مختلف اقسام کی کرپٹو کرنسی عالمی مارکیٹ میں خریدو فروخت کے لیے موجود ہیں۔ ان کرپٹو کرنسیوں کو کرپٹو کرنسی ایکسچینج سے یورو، ڈالر یا پاکستانی روپیہ کے بدلے خریدا جاسکتا ہے۔ آسان طریقہ کار یہ ہے کہ سب سے پہلے آپ کرپٹو کرنسی والٹ انسٹال کریں گے اور اسی کے ذریعے سے کرپٹو کرنسی کی خرید و فروخت اور تبادلہ کیا جاسکتا ہے۔ اسی طریقے سے کرپٹو کرنسی کو مائننگ پراسس کے ذریعے سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ 
کوائن اور ٹوکن میں فرق
کرپٹو اثاثوں کی دنیا میں دو اصطلاحات بہت عام استعمال ہوتی ہیں، ان میں پہلی ’’کوائن ‘‘ Coin ہے، جبکہ دوسری ’’ٹوکن‘‘ Token ہے۔ کوائن وہ کرپٹو کرنسی ہے جس کو کام کرنے کے لیے کسی اور پلیٹ فارم کی ضرورت نہیں پڑتی، جیسے بٹ کوائن Bitcoin، ریپل Ripple، ایتھرEther اور ان کو Standalone Crypto Currency بھی کہا جاتا ہے۔ اس کےبالمقابل ٹوکن وہ کرپٹو کرنسی ہے جس کو کام کرنے کے لیے کسی اور پلیٹ فارم کی ضرورت پڑتی ہے، جیسے EOS Augur Golen وہ ٹوکن ہیں جو کہ ایتھریم Ethereum  کے اوپر بنائے گئے ہیں۔ کوائن اور ٹوکن کو ہم ایک دوسرے طریقے سے بھی سمجھ سکتے ہیں، مثلاً ایک گاڑی ہے جو کہ آپ نے خرید لی۔ اب اس گاڑی کی دیکھ بھال آپ نے کرنی ہے، یہ کوائن کی مثال ہے۔ اس کے برعکس اگر آپ نے ایک گاڑی کرایہ پر لی ہے تو اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری آپ پر نہیں ہے اور آپ کرایہ دے کر گاڑی استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ مثال ٹوکن کی ہے، یعنی کوائن کے اندر آپ کا اپنا بلاک چین کا نیٹ ورک ہوتا ہے اور آپ کو اس کی دیکھ بھال کرنی ہوتی ہے، جبکہ ٹوکن کے اندر آپ کسی اور کا بلاک چین کا نیٹ ورک استعمال کرتے ہیں اور اس کے اوپر اپنی کرپٹو کرنسی لانچ کرتے ہیں۔ اگر ہمیں یہ معلوم کرنا ہے کہ سترہ ہزار کرپٹو کرنسیوں میں سے کون سی کوائن ہیں اور کون سی ٹوکن؟ تو ہم کوائن مارکیٹ کیپ نامی ویب سائٹ www.coinmarketcap.com پر اس کا مشاہدہ کرسکتے ہیں۔ 
کرپٹوکرنسی کی مدد سے ہم کس طرح مارکیٹ سے اشیاء خرید سکتے ہیں؟
کرپٹو کرنسی کے مدد سے اگر ہم مارکیٹ سے اشیاء خریدنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے ہمیں اپنے کمپیوٹر یا موبائل میں والٹ انسٹال کرنا پڑے گا۔ اس کے بعد ہمارے والٹ کے اندر کرپٹوکرنسی کی مناسب مقدار ہونی چاہیے۔ یہ کرپٹو کرنسی کوئی بھی ہو سکتی ہے، مثلاً بٹ کوائن، ایتھر، لائٹ کوائن، ایکس آر پی وغیرہ۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں کرپٹو کرنسی ایکسچینج سے رابطہ کرکےسب سے پہلے کرپٹو کرنسی خریدنی پڑے گی۔ اس کو اس طرح سمجھئے کہ ہم ایک لاکھ پاکستانی روپے کے عوض کرپٹو کرنسی ایکسچینج سے بٹ کوائن یا کوئی دوسری کرپٹو کرنسی خریدیں گے، پھر یہ کرپٹو کرنسی ہمارے اکاؤنٹ (والٹ) میں آجائے گی اور پھر اس سے ہم اپنی مطلوبہ اشیاء خرید سکتے ہیں۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ اس کرپٹو کرنسی سے ہم وہی اشیاء خرید سکتے ہیں جن کی قیمت کرپٹو کرنسی میں متعین ہو اور جن کو کرپٹو کرنسی سے لینے کی اجازت ہو۔ اگر ہمیں کوئی ایسی چیز خریدنی ہے جس کی قیمت پاکستانی روپے، یورو یا امریکی ڈالر میں لکھی ہے تو ہمیں ایسی اشیاء یا اثاثے خریدنے کے لیے کرپٹو کرنسی ایکسچینج Coinbase, Binance, Bitfinex کو استعمال کرتے ہوئے اپنی کرپٹوکرنسی کو کاغذی کرنسی میں تبدیل کریں گے اور اپنی مطلوبہ اشیاء کو خریدیں گے۔ 
کرپٹوکرنسی کی مارکیٹ اتنی غیر مستحکم کیوں ہے؟
کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ کے غیر مستحکم ہونے کے کئی عوامل ہیں۔ سب سے پہلے تو طلب اور رسد Supply and Demand کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے۔ دوسرا یہ کہ چونکہ حکومت یا سینٹرل بینک ان کرپٹو کرنسی کے پیچھے نہیں ہوتا، لہٰذا کرپٹوکرنسی پر حکومت یا سینٹرل بینک کا کنٹرول نہیں ہوتا اور اس وجہ سے اس میں بہت زیادہ اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی کےاندر بذاتِ خود اپنی کوئی ذاتی قدر Intrinsic Valueنہیں ہوتی، جیسا کہ سونا چاندی وغیرہ میں ہوتی ہے (اگرچہ مارکیٹ میں اس وقت ہمیں کچھ ایسی کرپٹوکرنسی بھی مل جائیں گی، جن کے پیچھے سونا ہے)۔ اسی طرح اور بھی کچھ عوامل ہیں جن کی وجہ سے کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ اتنی زیادہ غیر مستحکم ہے، مثلاً مائننگ کی وجہ سے جس میں بہت زیادہ بجلی کا استعمال ہوتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ کرپٹو کرنسی قیاس آرائی، سٹے بازی Speculationکی وجہ سے بہت زیادہ غیر مستحکم ہوتی ہے۔ 
کرپٹو کرنسی کو عالمی سطح پر بینک کیوں تسلیم نہیں کرتے؟
کرپٹوکرنسی کو عالمی سطح پر بینک اس لیے تسلیم نہیں کرتے، کیونکہ ان کے کام کرنے کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے۔ سب سے پہلے تو کرپٹو کرنسی ڈی سینٹرلائژڈ Decentralized ہوتی ہے اور بلاک چین کے نیٹ ورک پر انحصار کرتی ہے۔ اس کے علاوہ کرپٹو کرنسی کے استعمال کرنے والے پوری دنیا میں کہیں بھی ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح سے کرپٹو کرنسی کی کوئی قانونی حیثیت آئرلینڈ یا کسی اور دوسرے یوری یونین کے ملک میں نہیں ہے، یعنی کرپٹو کرنسی کو سینٹرل بینک آف آئرلینڈ یا دوسرے یورپین سینٹرل بینک ریگولیٹ نہیں کرتے۔ تیسرے یہ کہ کرپٹو کرنسی کے پیچھے کوئی حکومت نہیں ہوتی۔ چوتھے یہ کہ کرپٹو کرنسی کی اپنی کوئی ذاتی قدر نہیں ہوتی۔ اس کے ساتھ ساتھ اور بھی کئی مسائل ہیں، جیسا کہ جب ہم بینک میں اکاؤنٹ کھلواتے ہیں تو بینک یہ تسلی کرتا ہے کہ بینک میں اکاؤنٹ کھلوانے والا کون (Know Your Customer KYC) ہے اور یہ چیز کرپٹو کرنسی میں تسلی بخش طریقے سے موجود نہیں ہے۔ اسی طریقے سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی میں جوپیسے استعمال ہوتے ہیں، بینک اور حکومتیں اس کو بھی ٹریک کرتی ہیں، اس کے متعلق بھی کرپٹوکرنسی میں کچھ مسائل ہیں جس کو (Anti-Money Laundering and Counterfeiting of Finance of Terrorism AML/CFT) وغیرہ کہتے ہیں، لہٰذا ان تمام عوامل کی وجہ سے کرپٹو کرنسی کو عالمی سطح پر بینک تسلیم نہیں کرتے۔ 
اس وقت کرپٹو کرنسی میں اتنی سرمایہ کاری کیوں بڑھ گئی ہے؟
کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ بہت زیادہ غیر مستحکم اور اُتار چڑھاؤ کا شکار ہے اور اسی وجہ سے اس کے اندر (Return on Investment ROI)سرمایہ کاری میں نفع بہت زیادہ ہے، مگر یہ بہت پُر خطر بھی ہے۔ اس کو اس مثال سے سمجھئے: جنوری ۲۰۲۱ء میں ایک بٹ کوائن تیس ہزار یورو سے زیادہ کا تھا۔ اپریل ۲۰۲۱ ء میں ایک بٹ کوائن کی قیمت سینتیس ہزار یورو سے زیادہ تھی۔ پھر اکتوبر ۲۰۲۱ ء میں اس بٹ کوائن کی قیمت تریپن ہزار یورو سے زیادہ کی تھی۔ لہٰذا اگر کسی نے بٹ کوائن میں جنوری ۲۰۲۱ ء میں سرمایہ کاری کی تو اکتوبر ۲۰۲۱ ء میں اس کو تئیس ہزار یورو کا نفع ایک سال سے کم عرصے میں ملے گا جو کہ تقریباً تریسٹھ لاکھ پاکستانی روپے بنتا ہے۔ یہ بہت زیادہ منافع ہے اور یہ وہ اصل وجہ ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کار جوق در جوق کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ یہاں پر ہم آپ کو تصویر کا دوسرا رخ بھی بتانا چاہتے ہیں۔ اگر کسی نے اکتوبر میں کرپٹوکرنسی میں سرمایہ کاری کی تو اب اس کو تئیس ہزار یورو (تقریباً تریسٹھ لاکھ پاکستانی روپے) کا نقصان اُٹھانا پڑے گا۔ دوسری وجہ کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرنے کی یہ ہے کہ آج کل این ایف ٹی مارکیٹ میں بہت زیادہ رجحان ہے اور این ایف ٹی کو خریدنے کے لیے ہم کرپٹو کرنسی کا ہی استعمال کرتے ہیں۔ 
ٹیبل نمبر ۲: کرپٹو کرنسی اور سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی میں فرق
کرپٹو کرنسی
سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی
 بینک کےنظام کا اس پر کنٹرول نہیں ہے۔ 
بینک اس کو کنٹرول کریں گے۔ 
حکومت اس کی پُشت پر نہیں ہوتی۔ 
حکومت اس کی پُشت پر ہوگی۔ 
اس کی ذاتی قدر طلب اور رسد کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ 
کچھ عوامل کی بنیاد پر حکومت اور سینٹرل بینک اس کی ذاتی قدر متعین کریں گے۔ 
اس میں قدر کی شرح غیر متعین ہے، یعنی اس میں بہت زیادہ تغیر ہوتا ہے۔ 
اس میں قدر کی شرح تقریباً متعین ہوتی ہے اور اس میں اتنا زیادہ تغیر نہیں ہوتا۔ 
یہ پوری دنیا میں استعمال ہوسکتا ہے اور اس کی ترسیل کے لیے ایکسچینج کی ضرورت نہیں پڑتی۔ 
اس کا استعمال اس کو ریگولیٹ کرنے والے ممالک کریں گے اور اس کی ترسیل کے لیے ایکسچینج ریٹ کی ضرورت پڑتی ہے۔ 
ٹرانزیکشن کے حساب سے اس کی رفتار سُست ہے۔ 
ٹرانزیکشن کے حساب سے اس کی رفتار بہت تیز ہے۔ 
کرپٹو کرنسی کا متبادل یعنی یورپ میں سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی پر قانون سازی
کرپٹو کرنسی کے مقابلے میں اس وقت جو یورپ کے سینٹرل بینک ہیں، وہ اس کے متبادل پر کام کررہے ہیں اور اس کو وہ ڈیجیٹل کرنسی کا نام دے رہے ہیں۔ یہ ڈیجیٹل کرنسی انہی سینٹرل بینک کے تابع ہوگی، یعنی ابھی ہمارے پاس یورو ہے جس کو یورپ کا سینٹرل بینک کنٹرول کررہا ہے اور یورو کاغذی نوٹ اور سکے کی شکل میں حسی طور پر ہمارے سامنے موجود ہے۔ کرپٹو کرنسی کے مقابلے میں یورپ یورو کو Digitalize ڈیجیٹلائزڈ کررہا ہے اور عنقریب یورو ڈیجیٹل شکل میں بھی موجود ہوگا، یعنی سینٹرل بینک ڈیجیٹل کرنسی (Central Bank Digital Currency CBDC) کا اجرا ہونے والا ہے، مگر بنیادی طور پر اس میں وہ سقم نہیں ہوگا جو کہ کرپٹو کرنسی میں موجود ہے، جیسا کہ ٹیبل نمبر: ۲ میں ہم نے صراحت کی ہے۔ 
حوالہ /ہنڈی اور کرپٹوکرنسی میں مماثلت
حوالہ اور ہنڈی کا کاروبار بین الاقوامی اور ملکی قانون کے تحت ممنوع ہے اور اس کی بنیادی وجہ منی لانڈرنگ اور پیسوں کی ترسیل کو بینکنگ چینل کے بجائے دوسرے ذریعے سے بھیجنا ہے۔ اگرحکومتی قانون حوالہ ہنڈی کی اجازت دیتاہے تو پھر حوالہ ہنڈی کے حکم کی مزید تفصیل ہے جو کہ مفتیانِ کرام سے معلوم کی جاسکتی ہے۔ حکومتوں کو اپنے نظام چلانے کے لیے ٹیکس لینا ہوتا ہے، لہٰذا وہ تمام معاشی سرگرمیوں کو حکومتی دائرہ کار یعنی ٹیکس رجیم Tax Regime کے اندر لانا چاہتی ہیں۔ تو اس تناظر میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ حوالہ ہنڈی سینٹرل بینک اور حکومت کے نظام سے ہٹ کر پیسوں کی ترسیل چاہتا ہے، یعنی جس کے پیچھے حکومت نہیں ہوتی اور لوگ آپس میں ہی لین دین اور پیسوں کا تبادلہ کرتے ہیں، اس سے ایک طرف تو ان کو بہت جلدی پیسوں کی ترسیل ہوجاتی ہے اور دوسری طرف ان کو بینکوں کی فیس بھی ادا نہیں کرنی پڑتی اور ایکسچینج ریٹ بھی مناسب ملتا ہے۔ تقریباً یہی صورت حال کرپٹوکرنسی کے لحاظ سے بھی ہے کہ اس کے اندر بھی پیسوں کی ترسیل کی جاتی ہے، سینٹرل بینک اور حکومت کے نظام سے ہٹ کر، البتہ حوالہ ہنڈی کرپٹوکرنسی سے اس طرح سے الگ ہے کہ حوالہ ہنڈی میں ہم کاغذی کرنسی کی ترسیل کرتے ہیں، جبکہ کرپٹوکرنسی میں ایک نئی ڈیجیٹل کرنسی کا نظام وجود میں آتا ہے۔ 
این ایف ٹی کیا ہے اور اس کی خریدوفروخت کہاں ہوتی ہے؟
این ایف ٹی( Non-Fungible Token NFT) کا مخفف ہے۔ این ایف ٹی اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا کا اصل مالک کون ہے؟ این ایف ٹی کو پبلک بلاک چین (ایتھریم) کے ذریعے محفوظ کیا جاتا ہے اور ایک خاص انفرادی نشان Identifier بھی اس کو لگایا جاتا ہےجو کہ کرپٹوگرافیکلی Cryptographically Secureمحفوظ ہوتا ہو اور نان فن جیبل ڈیجیٹل اثاثے کی ملکیت کو ظاہر کرتا ہے۔ این ایف ٹی کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ اس کی مدد سے ہم نئے سرے سےحقوقِ مجردہ Digital Property Rights ڈیجیٹل اثاثوں کی خریدوفروخت کی تعریف اور اصولوں کوبنا سکتے ہیں۔ این ایف ٹی کے ذریعے سے کوئی شخص کسی بھی ڈیجیٹل اثاثے کی ملکیت کو ثابت کرسکتا ہے اور اس کے ذریعے سے ہم ڈیجیٹل اثاثوں کے اصل مالک کا تعین کرسکتے ہیں اور نت نئے خرید و فروخت کے طریقے ایجاد کیے جاسکتے ہیں۔ 
این ایف ٹی اور کرپٹو کرنسی میں ایک طرح کی مماثلت ہے کہ دونوں ہی بلاک چین نیٹ ورک کے ذریعے وجود میں آتے ہیں۔ یہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ این ایف ٹی کرپٹو کرنسی نہیں ہے اور ہمیں ہر این ایف ٹی، این ایف ٹی مارکیٹ میں ایک انفرادی حیثیت میں ملے گا۔ ویڈیوگیمز سے لے کر تصویروں تک اور میوزک سے لے کر ڈیجیٹل آرٹ تک اور ٹوئیٹ Tweetسے لے کر این بی اے کے ٹاپ شاٹ NBA Top Shot تک جن کو مشغلہ Collectablesکے طور پر جمع کیا جاتا ہے، سبھی این ایف ٹی بن سکتے ہیں۔ اسی طرح سےاگر کسی کا ٹکٹ جمع کرنے کا مشغلہ ہے تو لوگوں کو معلوم ہے کہ بعض مرتبہ نایاب ٹکٹ کتنا مہنگا بکتا ہے، اگر یہی ٹکٹ کی تصویر ڈیجیٹل شکل میں موجود ہو تو وہ بھی این ایف ٹی بن سکتی ہے۔ ایک اور نکتہ ہمیں واضح ہونا چاہیے کہ کرپٹوکرنسیاں فن جیبل ہوتی ہیں، مثلاً ایتھر ETH فن جیبل ہے۔ اس کے برعکس این ایف ٹی ایک یونیک یعنی منفردٹوکن ہوتا ہے، اسی وجہ سے اس کو نان فن جیبل کہا جاتا ہے۔ 
این ایف ٹی کو خریدنے کے لیے ہمیں این ایف ٹی مارکیٹ میں جانا پڑے گا۔ چند مشہور این ایف ٹی مارکیٹOpenSea Nifty Gateway NBA Top Shot Crypto Punks Rarible ہیں۔ این ایف ٹی کو خریدنے کے لیے سب سے پہلےہمیں این ایف ٹی والٹ جیسا کہ Meta Mask Trust Wallet Coinbase  اپنے کمپیوٹر یا موبائل میں انسٹال کرنا پڑے گا، اس کے بعد ہم اس کی خریداری کرسکتے ہیں۔ آئیے! ایک آسان مثال سے این ایف ٹی کو سمجھتے ہیں۔ 
مونالیزا Mona Lisa کی تصویر حسی طور پر پیرس، فرانس کے Louvre Museum  لووغ میوزیم میں موجود ہے۔ اب یہ ایک انفرادی اور یونیک تصویر ہے جو کہ بہت زیادہ قیمتی اور انمول ہے۔ اب کوئی اس کی کیمرے یا موبائل سے تصویر بناتا ہے اور دوبارہ پرنٹ کرتا ہے تو یہ اصل تصویر کا متبادل نہیں ہوسکتا اور کوئی آسانی سے اس تصویر کی نقل بھی نہیں بنا سکتا۔ تو مونا لیزا کی جو اصل تصویر میوزیم میں موجود ہے، وہ اپنی قیمت برقرار رکھے گی۔ اس کے برعکس اگر کوئی مصور کمپیوٹر کی مدد سے ڈیجیٹل تصویر بناتا ہے تو وہ بھی تو انمول اور انفرادی حیثیت کی حامل ہے۔ اب یہ مصور جیسے ہی اس تصویر کو انٹرنیٹ پر اپلوڈ کرے گا تو کوئی بھی شخص اس کو نہ صرف یہ کہ ڈاؤنلوڈ کرسکتا ہے، بلکہ اس کی سینکڑوں کاپیاں انٹرنیٹ پر پھیلائی جاسکتی ہیں اور یہ ساری تصویریں اصل تصویر کی ہوبہو نقل ہو ں گی اور ان تصویروں میں اور اصل تصویروں میں کوئی فرق نہ ہوگا۔ اس کی وجہ سے جو مصور ڈیجیٹل آرٹ پر کام کرے گا، وہ بہت ساری مشکلات کا شکار ہوگا۔ اول یہ کہ وہ اس بات کا دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اصل تصویر اس کی بنائی ہوئی ہے۔ دوسرا یہ کہ اس کو تصویر کی اصل مالیت کا حصہ نہیں مل پائے گا، کیونکہ مونا لیزا والی تصویر اگر میوزیم میں نمائش Exhibition  میں لگی ہے تو میوزیم والے لوگوں کی آمد کے حساب سے اس کا حصہ رائلٹی Royalty میں مصور کو دیں گے۔ اس کے برعکس اگر یہی تصویر انٹرنیٹ میں موجود ہے تو کوئی بھی اس کو انٹرنیٹ سے کاپی کرکے اصل مصور کومعاشی طور پر بیش بہا نقصان پہنچا سکتا ہے۔ تیسری چیز یہ کہ بات صرف تصویر ہی کی حد تک نہیں، بلکہ کسی بھی قسم کے ڈیجیٹل اثاثے اس تشریح کے ذیل میں آئیں گے۔ تو ان سارے مسائل کو دیکھتے ہوئے کمپیوٹر کے ماہرین این ایف ٹی کا تصور لے کر آئے ہیں، یعنی جب آپ کے پاس این ایف ٹی ہے تو اس کو مطلب ہے کہ ڈیجیٹل اثاثوں کی یعنی ورچوئل اثاثوں کی خریدوفروخت کا اختیار آپ کے پاس ہے اور آپ این ایف ٹی کے ذریعے سے اس کی ورچوئل ملکیت کی خریدوفروخت کررہے ہیں۔ جب آپ ایک این ایف ٹی کو منٹ Minting an NFT کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ کسی ڈیجیٹل اثاثے یا ڈیٹا کو کرپٹو کلیکشن میں تبدیل کرکے اس کا اندراج بلاک چین میں کررہے ہیں۔ 
اس کو ایک مثال سے سمجھئے: اگر کسی شخص نے ایک ڈیجیٹل تصویر بنائی اور وہ اب انٹرنیٹ پر موجود ہے تو جتنی مرتبہ بھی لوگ اس کو ڈاؤنلوڈ کریں گے تو اس کا ایک حصہ مصور کو دیا جائے گا۔ اسی طریقے سے اگر کسی نے کوئی بیان آڈیو یا ویڈیوریکارڈ کروایا تو وہ بیان اگر کسی ویب سائٹ کو دیا یا یوٹیوب پر رکھا تو چینل والے اس کا ایک حصہ اس کی آمدنی میں دیں گے۔ اس کے برعکس اگر این ایف ٹی کے ذریعے اس ڈیجیٹل اثاثے کو محفوظ بنایا گیا تو اس پر نت نئے مالیاتی طریقے جیسے نیو بزنس ماڈلز کے ذریعے سے آمدنی کے ذرائع پیدا کیے جاسکتے ہیں۔ یہاں تک تو بات سمجھ میں آتی ہے، مگر مسئلہ جب پیدا ہوتا ہے جب ان ڈیجیٹل اثاثوں اور حسی چیزوں میں کوئی تطبیق نہیں ہوتی۔ اصل میں یہ مسئلہ سمجھئے:
’’اگر آپ کے پاس ایک این ایف ٹی ہے تو آپ کے پاس اس کی ایک خاص طریقے کی ملکیت ہے، مگر پھر بھی آپ اس ڈیجیٹل اثاثے کے حقیقی مالک نہیں ہیں۔ ‘‘
یہ وہ بنیادی نقطہ ہے جس میں شریعت ہماری رہنمائی کرتی ہے۔ آپ نے پچھلی مثال میں دیکھا کہ آپ ایک این ایف ٹی کی مدد سے جامعۃ العلوم الاسلامیہ کی ڈیجیٹل زمین کےاین ایف ٹی کے ذریعے سے مالک بن گئے اور آپ نے اس کی خرید وفرخت کرپٹوکرنسی کے مدد سے کی، مگر اس ڈیجیٹل زمین کی کوئی حقیقی حیثیت نہیں تھی۔ این ایف ٹی کے کام کرنے کے طریقہ کار کے مطابق اگر آپ ایک این ایف ٹی کے مالک ہیں تو اس کا قطعاً یہ معنی نہیں کہ آپ کے پاس اس کے کمرشل حقوق بھی موجود ہیں یا آپ ان کمرشل حقوق کے بھی مالک ہیں۔ این ایف ٹی کی ملکیت صرف یہ ثابت کرے گی کہ آپ ایک ڈیجیٹل اثاثے کے ایک خاص طریقے سے مالک ہیں، یعنی آپ کو شیخی بگھارنے کے حقوق Bragging Rights حاصل ہوں گے۔ ساری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر آپ ایک این ایف ٹی کے مالک ہیں تو یہ قطعی طور پر مماثلت نہیں رکھتا کہ آپ کسی حسی Physical Asset  اثاثے کے مالک ہیں۔ 
اصلی دنیا میں کرپٹوکرنسی اور این ایف ٹی ذاتی قدر کیسے رکھتی ہے؟
کرپٹو کرنسی کی قدر بلاک چین نیٹ ورک پرTrust بھروسہ سے پیدا ہوتی ہے، یعنی کرپٹو کرنسی کی قدراس کرپٹوکرنسی کے استعمال کرنے والوں پر منحصر کرتی ہے، یعنی کرپٹو کرنسی کے استعمال کرنے والے اس کرپٹو کرنسی کی مارکیٹ میں اس کرپٹو کرنسی کی طلب اور رسد کی بنیاد پر اس کی قدر کا تعین کرتے ہیں۔ 
این ایف ٹی کے تناظر میں ہر این ایف ٹی کی اپنی انفرادی قدر ہوتی ہے اور وہ کسی دوسرے این ایف ٹی کی قدر پر انحصار نہیں کرتی۔ این ایف ٹی کی قدر اس ڈیجیٹل اثاثے کی اہمیت اور انفرادی نوعیت Scarcity and Authenticity of Asset پر منحصر ہوتی ہے۔ 
لوگ کیوں این ایف ٹی خرید تےہیں؟
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لوگ این ایف ٹی کیوں خریدتے ہیں؟ بنیادی طور پر یہ لوگوں کے رجحان پر منحصر کرتا ہے۔ کچھ لوگ سرمایہ کاری کے لیے این ایف ٹی خریدتے ہیں، جبکہ دوسرے لوگوں کا مقصد اس کو استعمال کرنا ہوتا ہے۔ ایک این ایف ٹی جو کہ پانچ ہزار تصاویر پر مشتمل ایک تصویر ہے  Every Days: The First 5000 Days ، ابھی حال ہی میں اس کو ۶۹ ملین امریکی ڈالر میں فروخت کیا گیا۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ این ایف ٹی اتنی زیادہ قیمت پر بیچا جا رہا ہے تو انہوں نے دیکھا دیکھی این ایف ٹی میں سرمایہ کاری شروع کردی اور اسی وجہ سے مارکیٹ کے اندر این ایف ٹی خریدنے کا اتنا زیادہ رجحان ہے۔ اگر ہم این ایف ٹی کو استعمال کرنا چاہتے ہیں تو ہم بھی این ایف ٹی کو خرید سکتے ہیں، تاکہ ہم کسی ڈیجیٹل اثاثے کی ملکیت ظاہر کرسکیں، مثلاً کسی شخص نے کمپیوٹر پر ایک ڈیجیٹل تصویر بنائی اور اب وہ چاہتا ہے کہ اس تصویر کی ملکیت کا کوئی دوسرا دعویٰ نہ کرسکے تو وہ این ایف ٹی کا استعمال کرکے اس تصویر کی ملکیت کو ثابت کرسکتا ہے۔ 
کمپیوٹر گیم کے اندر این ایف ٹی کا استعمال
جو لوگ کمپیوٹر گیم کھیلتے ہیں، وہ گیم کے اندر کافی ساری چیزیں خریدتے ہیں۔ کچھ لوگ ان گیمز میں استعمال ہونے والے اثاثوں کو eBay یا Player Auctions پر بیچتے ہیں اور اس کے اندر دھوکہ دہی کا امکان ہوتا ہے کہ گیم کے اندر استعمال ہونے والا اثاثہ واقعتاً بیچنے والے شخص کا ہے بھی یا نہیں؟ اور خریدنے کے بعد خریدنے والے کو یہ اثاثہ ملے گا بھی یا نہیں؟ تو اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بھی این ایف ٹی کا استعمال ہوتا ہے، جو کہ گیم کے اندر استعمال ہونے والے اثاثوں کی ملکیت کو ظاہر کرتا ہے۔ 
کرپٹو کٹی Crypto Kitties ایک بلاک چین ویڈیو گیم ہے، جس کو ایتھریم کے اوپر بنایا گیا ہے۔ اس ویڈیوگیم کے اندر بلی کی ڈیجیٹل تصویر کی خریدوفروخت اور افزائشِ نسل( Breeding) بھی کی جاسکتی ہے، یعنی مارکیٹ پلیس پر جاکر نہ صرف یہ کہ ان بلیوں کو ایتھریم کی مدد سے خریدا جاسکتا ہے، بلکہ افزائشِ نسل کے تحت نئی بلی بھی بنائی جاسکتی ہے۔ 
کیا این ایف ٹی کی مدد سے حقیقی دنیا کے قیمتی اثاثوں کو بھی محفوظ بنایا جاسکتاہے؟
این ایف ٹی کی مدد سےحقیقی دنیا کے قیمتی اصلی اثاثوں کا اظہار اوران کو محفوظ بھی بنایا جاسکتا ہے، مثلاً Non Fungible Goods نان فنجیبل اشیاء۔ البتہ جب ہم حقیقی دنیا کے اثاثوں کا اظہار این ایف ٹی کی مدد سے کریں گے تو یہ بات ملحوظِ خاطر رہے کہ وہ قانونی طور پر تسلیم شدہ ہو اور ایک ہی اثاثے کی مختلف ڈیجیٹل شکلیں بنا کر ان کو ایک سے زائد مرتبہ نہ اظہار کیا جائے، ورنہ پھر جیسا ہم نے جامعۃ العلوم الاسلامیہ کی مثال میں دیکھا کہ اگر حقیقی اثاثے کو این ایف ٹی کے ذریعے سے اظہار کیا جائے، مگر اس کو حکومت تسلیم نہ کرے تو اس طرح کی بیع میں بہت ساری شرعی قباحتیں ہیں۔ 
این ایف ٹی اور اس کی نقل میں فرق کیسے کیا جائے گا؟
این ایف ٹی مارکیٹ کے اندر ہر این ایف ٹی کا ایک انفرادی نشان Identifier ہوتا ہے، جس کی وجہ سے اس این ایف ٹی کو دوسرے این ایف ٹی سےالگ سمجھا جاسکتا ہے اور اسی نشانIdentifier کی بنیاد پر اس این ایف ٹی کے اصلی مالک کی نشاندہی کی جاسکتی ہے۔ این ایف ٹی کی مدد سے کسی بھی ڈیجیٹل اثاثے کو ٹریس کیا جاسکتا ہے، اس کی اصل ملکیت کا تعین کیا جاسکتا ہے اور اس بات کا تعین کیا جاسکتا ہے کہ وہ ڈیجیٹل فن پارہ کا اصل مسکن یا کہاں سے اس کی بیع کی شروعات ہوئی؟ اس کا بھی تعین کیا جاسکتا ہے۔ 
میٹاورس کیا ہے؟
میٹا ورس بنیادی طور پر ایک ڈیجیٹل تخیلاتی دنیا یعنی ورچوئل دنیا کا نام ہے۔ آپ میں سے اگر کسی کو کمپیوٹر گیمز کھیلنے کا اتفاق ہوا ہو تو آپ کے علم میں ہوگا کہ اس کے اندر کچھ ڈیجیٹل کردار بنائے جاتے ہیں اور گیم کے اندر کے ماحول کو بالکل اصل زندگی کے مطابق ڈھالا جاتا ہے۔ جو کمپیوٹر گیم جتنا زیادہ حقیقی زندگی اور کرداروں سے مشابہت اختیار کرے گا، وہ اتنا ہی اچھا گیم تصور کیا جائے گا۔ اب اس گیم کی ورچوئل دنیا کو اگر ہم اعلیٰ قسم کے سائنسی آلات کے ساتھ جوڑ کر اس کو حقیقی دنیا سے جوڑیں تو یہ میٹاورس بن جاتا ہے۔ 
اسمارٹ کانٹریکٹ
اسمارٹ کانٹریکٹ Smart Contract ایک طرح کا ڈیجیٹل کانٹریکٹ ہے۔ مستقبل کے اسمارٹ کانٹریکٹ کے اندر جو ممکنہ مسائل ہوسکتے ہیں، ان میں گواہ بنانے سے متعلق شریعتِ اسلامی کے متعلق احکامات ہیں، مثلاً جب اسمارٹ کانٹریکٹ لکھا جائے گا تو اس کا گواہ کون ہو گا؟ کیا غیر جاندار کو گواہ بنایا جاسکتا ہے؟ اور پھر اگر مصنوعی ذہانت کی مدد سے یہ گواہ اپنی گواہی کو تبدیل کرے تو پھر کیا ہوگا؟ کیا کمپیوٹر گواہ کا کردار ادا کریں گے؟ اور پھر اگر کمپیوٹر گوا ہ کا کردار ادا کریں گے تو کیا ایسا شرعی طور پر جائز ہوگا؟ اگر جائز ہوگا تو شریعت میں عورت اور مرد کی گواہی کے الگ الگ احکامات ہیں، ان کو اس کمپیوٹر کے گواہوں پر کیسے منطبق کیا جائے گا؟
حواشی وحوالہ جات
[1]  John L. Esposito, The Oxford History of Islam, Oxford University Press USA; 1st Edition, 2000.
                                  (جاری ہے)
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین