بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 رمضان 1442ھ 11 مئی 2021 ء

بینات

 
 

کتاب ’’نصرۃ الفقہ‘‘  چند حقائق! 

کتاب ’’نصرۃ الفقہ‘‘ 

چند حقائق! 


حال ہی میں ’’نصرۃ الفقہ بجواب حقیقۃ الفقہ‘‘ نامی کتاب جو ادارۃ النعمان، پیپلز کالونی، گوجرانوالہ سے نومبر ۲۰۲۰ء میں طبع ہوئی ہے، یہ در حقیقت جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی کے شعبہ تخصص فی الفقہ کے دو طلبہ کا مقالہ ہے، جو انہوں نے ۱۴۰۱ھ و۱۴۰۲ھ میں حسب ذیل ترتیب کے مطابق لکھا ہے : 
۱:- ’’ حقیقۃ الفقہ‘‘ کے حصہ اول ودوم کا جواب جناب محمود حسن صدیقی چاٹگامی صاحب کا لکھا ہوا ہے، جوکہ بڑے سائزکے ۴۶۶ صفحات کے مجموعے کی صورت میں مقالات کے ریکارڈ کے مطابق ۴۴ نمبر پر مجلس دعوت وتحقیق میں موجود ہے ۔
اس مقالے میں جابجا پینسل اور نیلے بال پن سے تصحیحات بھی ثبت ہیں، جو بظاہر ہمیں مولانا عبد الحلیم چشتی صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تصحیحات معلوم ہوتی ہیں ۔
۲:- ’’ حقیقۃ الفقہ‘‘ کے مقدمہ پرتنقیدی کام جناب سردار احمدصاحب بہاولنگری کا کیا ہوا ہے، جیسا کہ انہوں نے خود اس کی وضاحت مقالہ کی ابتدا میں کی ہے، یہ مقالہ بڑے سائز کے ۳۰۷ صفحات کی صورت میں مقالات کے ریکارڈ کے مطابق ۷۷ نمبر پر مجلس میں محفوظ ہے۔
 اس مقالے میں بعض مقامات پر پینسل سے تصحیحات ثبت ہیں۔
مقالہ کی ابتدا میں(ص: ۱و۲) پر جناب سردار احمدصاحب بہاولنگری نے اپنے مقالہ کے لیے کچھ تعارفی کلمات مع تشکرِ مشرفین تحریر فرمائے ہیں، جو کہ حقیقت کو واضح کرنے کے لیے نہایت موزوں ہیں، ہم اسے یہاں نقل کیے دیتے ہیں:
٭
الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی محمد خیر خلقہٖ وخاتم النبیین وعلی آلہٖ وأصحابہ الذین ہم ہداۃ الدین وعلٰی من تبعہ من الفقہاء والمحدثین، أما بعد !
راقم الحروف سنہ ۱۴۰۲ھ مطابق سنہ ۱۹۸۲ ء جامعۃ العلوم الاسلامیہ (علامہ بنوری ٹاؤن کراچی ۵) سے فارغ ہوا تو فراغت کے بعد جامعہ میں درجہ تخصص فی الفقہ الاسلامی میں داخلہ لیا، دوسرے سال جب تخصص کے شرکاء کے لیے مقالات کے عنوان دئیے گئے، تو چونکہ مجھ سے ایک سال بیشتر مولوی محمود الحسن صاحب (چاٹگامی) ’’حقیقۃ الفقہ‘‘ (مؤلفہ مولوی محمد یوسف صاحب جے پوری) کے حصہ اول ودوم پر تنقید لکھ چکے تھے، اس لیے حضرت الاستاذ مولانا مفتی اعظم پاکستان ولی حسن صاحب زید مجدہ (مشرف درجہ تخصص فی الفقہ الاسلامی) اور حضرت العلام الاستاذ مولانا محمد عبد الرشید صاحب نعمانی مدظلہ (مشرف درجہ تخصص فی الحدیث) ہر دو حضرات نے باہمی مشورے سے ’’حقیقۃ الفقہ‘‘ کے مقدمہ پر تنقید کا کام میرے سپرد کیا، تا کہ ’’حقیقۃ الفقہ‘‘ پر تنقید کا یہ کام مکمل ہوجائے ۔
 اور یہ میری خوش قسمتی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ پر کیے گئے اعتراضات کے جواب کا کام مجھ سے لیا، کیونکہ مؤلف ’’حقیقۃ الفقہ‘‘نے جس طرح اپنی کتاب کے حصہ اول میں سادہ لوح عوام کو یہ باور کرانے کی سعی نا تمام کی ہے کہ فقہ حنفی تو ان مسائل کا نام ہے جو قرآن وحدیث کے مخالف ہیں، اسی طرح ان کا یہ مقدمہ بھی ایسی بےسرو پا باتوں سے لبریز تھا، جس میں مؤلف نے امام صاحبؒ کے عقائد اور اُن کی ذاتِ گرامی پر طرح طرح کے اعتراضات اور جرحیں کی ہیں اور فقہ حنفی پر مختلف طریقوں سے حملے کیے، کبھی اس کی تدوین پر اعتراض کیا اور کہیں یہ اعتراض کہ فقہ حنفی کی سند کا ہی پتہ نہیں، یہ بھی باور کرانے کی کوشش کی کہ کتبِ فقہ میں مندرجہ احادیث اعتبار کے قابل نہیں۔
ایک یہ اعتراض بھی کہ فقہ حنفی کا وجود کسی ایک متدین شخص کی کاوش کا مرہونِ منت نہیں، بلکہ اس کی ترتیب وتدوین پر بہت سے اہلِ بدعت کا اثر پڑا ہے۔
الغرض مؤلف کی اپنی بساط کے مطابق جو کچھ بھی بن سکا، ابلہ فریبی، خداع اور تلبیس میں کوئی کسر نہ چھوڑی، بلکہ اس امر کی پوری کوشش کی کہ حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور آپ کے شاگردوں اور کتبِ فقہ حنفی سے عوام کو جس طرح بھی بن سکے متنفر کیا جائے۔
اس ضرورت کے پیش نظر اساتذہ کرام نے یہ کام میرے سپرد کیا اور میں نے قابل اعتماد اور مستند حوالوں سے مؤلف کے اعتراضات کے جوابات دئیے، اور ہماری یہ کوشش محض علمی مناقشہ ہے، مؤلف کی طرح ہم نے اپنی تحریر میں سوقیانہ اور تلخ لہجہ اختیار نہیں کیا، جس سے کسی کی دل آزاری ہو، بلکہ ہم نے حقائق کو واضح کرتے ہوئے حضرات علماء کرام اور عوام کو غور وفکر کی دعوت دی ہے، اللہ تعالیٰ ہماری اس حقیرکوشش کو شرفِ قبول سے نوازے اور عام وخاص کو اس سے مستفید فرمائے، آمین۔
اس مقالہ کی تدوین وترتیب میں‘ میں حضرت الاستاذ مولانامحمد عبد الرشید صاحب نعمانی مدظلہ کا انتہائی ممنون ہوں کہ انہوں نے قدم قدم پر میری راہنمائی فرمائی، اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے اور ان کی حیات میں برکت عطا فرمائے ۔اب اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس مقالہ کو طباعت کے ذریعے منظر عام پر آنے کے اسباب پیدا فرمائے، وما ذٰلک علی اللہ بعزیز ۔
 سردار احمد
 ۲۳جمادی الثانی سنہ ۱۴۰۵ھ
 ۱۶مارچ سنہ۱۹۸۵ء 
مندرجہ بالا تحریر سے بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ مولانا نعمانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس مقالہ کو اہمیت کے ساتھ پایۂ تکمیل تک پہنچوایا ہے، لیکن مولانا ؒ اس کی تکمیل کے بعد اس کی اشاعت کے لیے کتنے فکرمند تھے، اس کا اندازہ آپ ذیل میں دی گئی جامعہ مدنیہ کے مدرس مولانا نعیم الدین صاحب کی تحریر سے لگاسکتے ہیں:
’’ مولانا نعمانی مرحوم نے بنوری ٹاؤن میں تدریس کے دوران ’’حقیقۃ الفقہ‘‘ جس میں حضرت امام صاحبؒ اور ان کی فقہ کے خلاف زہر اُگلا گیاہے، اس کا جواب املاء کرادیا تھا، میں نے مولانا مرحوم سے اسباق کے دنوں میں عرض کیا تھا: آپ وہ جواب لاہور بھیج دیں، ہم اس کی طباعت کا نظم کریں گے، مولانا نے وعدہ فرمایا کہ: میں کراچی جاکر کوشش کروں گا۔
چند ماہ بیشتر حضرت مولانا کا ایک خط بدست جناب مظفر لطیف صاحب راقم الحروف کو ملا، جس میں مولانا نے راقم سے دریافت فرمایا کہ: میں نے تمہیں ’’حقیقت الفقہ‘‘ کا جواب بھیجا تھا، اس کا کیا بنا؟ راقم نے جواباً مولانا کو تحریر کیا کہ مجھے تو وہ جواب کسی ذریعہ سے بھی نہیں ملا۔ راقم کے جوابی خط کا جواب مولانا کی طرف سے نہیں آیا ۔‘‘ 
(ماہنامہ انوارِ مدینہ، جمادی الاولیٰ۱۴۲۰ ھ، عنوان مضمون: آہ مولانا نعمانی مرحوم، کچھ یادیں کچھ باتیں، ص: ۲۹)
اس اعتبار سے تو اس مقالہ کی اشاعت بزرگوں کی کوشش کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا ہے، پر ساتھ ساتھ اس میں کچھ کمیاں اور خامیاں بھی رہ گئی ہیں، جن کی وضاحت ہم ضروری سمجھتے ہیں، اور ذیل میں ان تسامحات کو پیش کیے دیتے ہیں :
طبع شدہ مقالہ کے چند تسامحات 
۱:- اوّلاً تو مکمل مقالہ جناب محمود حسن صدیقی چاٹگامی صاحب کے نام سے شائع کیا گیا ہے، جو کہ سراسر خلافِ واقع ہے، جیسا کہ ہم نے اوپر واضح کردیا۔
۲:- مقالہ کی ابتدا میں جو تحریر جناب محمود حسن صدیقی چاٹگامی صاحب کی طرف سے لگائی گئی ہے، جس میں وہ کتاب لکھنے کا مقصد بیان کر رہے ہیں، وہ مدرسہ کے ریکارڈ میں موجود نہیں، اگر یہ از خود جناب محمود حسن صدیقی چاٹگامی صاحب کی تحریر ہے تو اس کا عکس کتاب میں ہونا چاہیے تھا ۔
۳:- طبع شدہ کتاب میں اس کے جامعہ کے مقالہ ہونے کے اظہار سے بے اعتنائی دکھائی گئی ہے، جو یقیناً ناشرین کی طرف سے اخلاقی کمزوری اور احسان فراموشی گردانی جا سکتی ہے ۔
۴:- بنگلہ دیشی مقالہ نگار کے حصہ میں بعض مقامات پر اردو زبان کی کمزوری واضح موجود ہے، جس کے درست کرنے کی ضرورت تھی۔
واللہ یقول الحق وہو یہدي السبیل
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے