بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 20 نومبر 2019 ء

بینات

 
 

کاسٹک سوڈا کے شرعی احکامات

کاسٹک سوڈا کے شرعی احکامات

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: کاسٹک سوڈا ( Caustic soda) ایک غیر نامی مرکب ہے، اس کو سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے حصول کا ایک ماخذ نمک ہے، جس کا طریقہ یہ ہے کہ نمک کو پانی میں حل کرکے اس میں سے بجلی کی روگزارتے ہیں تو کاسٹک سوڈا بن جاتا ہے۔ اس کے حصول کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ یہ کیلشیم ہائیڈرو آکسائیڈ (جوکہ چونے سے بنتا ہے) اور سوڈیم کار بونیٹ (کھارا سوڈا) کو ملانے سے حاصل ہوتا ہے۔ اس کے ماخذ یا اس کے حصول کے مراحل میں کہیں بھی حیوانی اجزاء شامل نہیں ہوتے، بلکہ اس کا تمام تر تعلق جمادات سے ہے۔ کاسٹک سوڈاکااستعمال: اس کا ایک نمایاں استعمال یہ ہے کہ یہ کھانے کے تیل/ گھی میں کچھ مضر صحت اجزائ( Fatty Acid )کی مقدار کو کم کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ یہ ایک خاص طریقے سے تیل/گھی میں ملایاجاتا ہے، جس کے بعد یہ اپنے ساتھ ( Fatty Acid ) کو لے کر تیل/گھی سے خارج ہوجاتا ہے، تیل میں باقی نہیں رہتا۔ اس سے کوئی نشہ نہیں ہوتا (اگرچہ یہ کھایا نہیں جاتا) اس کو کھانا صحت کے لئے مضر ہے۔مندرجہ بالا معلومات کی روشنی میں چند سوالات کے جوابات درکار ہیں: سوالات: ۱…کیا کاسٹک سوڈا حلال ہے؟ ۲…اس کو تیل/گھی میں سے(Fatty Acid)کم کرنے کے لئے جو استعمال کیا جاتا ہے، کیا یہ استعمال شرعاً جائز ہے؟ ۳…اس کو کپڑے اور منہ دھونے کے صابن میں ملایاجاتا ہے، اس میں کوئی حرج تو نہیں؟ ۴…ا س کا انسانی جسم پر کسی بھی طرح کے خارجی استعمال کے بارے میں کیا حکم ہے؟ ۵…اس کا دواؤں میں استعمال ہو تو اس دوا کے کھانے کا کیا حکم ہے؟ ۶…کاسٹک سوڈے کی طرح دیگر ایسی چیزیں جو زمین سے نکلتی ہیں اور ان کے حصول یا تیاری کے مراحل میں آخر تک کسی حیوانی جزء کی آمیزش یا استعمال نہ ہو، ایسی تمام چیزوں کے کھانے یا ان کے خارجی استعمال کے احکام کیا ہوںگے؟ براہِ کرم جوابات دے کر ممنون فرمائیں۔فقط والسلام: فصیح اللہ خان، جامعہ کراچی الجواب باسمہٖ تعالیٰ ۱،۲:… کاسٹک سوڈا کے حلال یا حرام ہونے کا مدار صرف حیوانی اجزا کی آمیزش پر نہیں، بلکہ پاک ہونے یعنی نجاست ومضرت سے خالی ہونے یا نہ ہونے پر ہے۔ سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق اگر کاسٹک سوڈا نجاست سے پاک اور مضرت سے خالی ہے تو کاسٹک سوڈا حلال ہے اور اس کو تیل/گھی میں( Fatty Acid )کم کرنے کے لئے استعمال کرنا بھی جائز ہوگا۔ ۳:…جائز ہے۔ ۴:…جائز ہے۔ ۵:…جائز ہے۔ ۶:…وہ چیزیں جو حرام حیوان کے حرام اجزا کی آمیزش کے علاوہ نجاست ومضرت کے اجزا سے بھی خالی ہوں تو ایسی تمام چیزوں کے کھانے اور خارجی استعمال کی اجازت ہوگی۔ ’’قال الجصاصؒ تحت قولہ تعالیٰ: ’’یَسْئَلُوْنَکَ مَاذَا أُحِلَّ لَہُمْ قُلْ أُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبَاتُ‘‘ اسم الطیبات یتناول معنیین، أحدہما: الطیب المستلذ، والآخر: الحلال، وذلک لأن ضد الطیب الخبیث، والخبیث حرام، فإذا الطیب حلال، والأصل فیہ الاستلذاذ، فشبہ الحلال بہ فی انتفاع المضرۃ منہما جمیعا… فقولہ: ’’قُلْ أُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبَاتُ‘‘ جائز أن یرید بہ ما استطبتموہ واستلذتموہ مما لا ضرر علیکم فی تناولہ من طریق الدین، فیرجع ذلک إلی معنی الحلال الذی لاتبعۃ علی متناولہٖ، وجائز أن یحتج بظاہرہ فی إباحۃ جمیع الأشیاء المستلذۃ إلا ما خصہ الدلیل‘‘۔                                      (احکام القرآن للجصاصؒ، ۲؍۴۴۲، ط:قدیمی) فتاویٰ شامی میں ہے: ’’وہکذا یقول فی غیرہ من الأشیاء الجامدۃ المضرۃ فی العقل أو غیرہ یحرم التناول القدر المضر منہا دون القلیل النافع، لأن حرمتہا لیست لعینہا بل لضررہا‘‘۔                                        (۶؍۴۵۷،ط:سعید) فتاویٰ عالمگیری میں ہے: ’’سئل عن بعض الفقہاء عن أکل طین البخاریٰ ونحوہ قال لابأس بذلک مالم یضرہم، وکراہیۃ أکلہ لاللحرمۃ بل لتہییج الدائ‘‘۔       (۵؍۳۴۱،ط:رشیدیہ) الغرض کاسٹک سوڈا نجاست ومضرت سے خالی ہونے کی بنیاد پر حلال وپاک ہے۔ اس کا خوردنی وظاہری استعمال ذکر کردہ تفصیلات کی روشنی میں جائز ہے۔ فقط واللہ اعلم     الجواب صحیح         الجواب صحیح       الجواب صحیح              کتبہ    محمد انعام الحق       ابوبکرسعید الرحمن         رفیق احمد               ہمایوں شاہ                          متخصص فقہ اسلامی                      جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے