بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1444ھ 03 دسمبر 2022 ء

بینات

 
 

ڈیجیٹل ڈیوائس اور ایپلی کیشن --- دینی وسماجی نقصانات

ڈیجیٹل ڈیوائس اور ایپلی کیشن

دینی وسماجی نقصانات

’’جاندار کی مجسمہ سازی، منظر بندی اور صورت گری ہر دور میں مذموم اور مضر گردانی جاتی رہتی تھی، جبکہ دینِ اسلام میں اس عمل کی قباحت، مضرت اور فسادی حیثیت کو خوب واضح فرمایا گیا اور شرکیہ اعمال کے ساتھ جوڑتے ہوئے مسلمانوں کو اس عمل سے دور رہنے کا حکم دیا گیا، اس لیے جاندار کی تصویر کو مسلمانوں کے درمیان انتہائی قبیح اور مذموم عمل سمجھاجاتا تھا، مگر ۱۹۶۰ء کے آگے پیچھے کچھ عرب علماء نے تصویر سازی کے آلات کی جدت اور ندرت کی آڑ اور مصری وسعودی حکومتوں کی سرپرستی میں تصویر سازی کی نئی شکلوں کو پرانے احکام سے خارج قرار دیا، جس کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ تصویر سازی کا عمل حکام سے نکل کر علماء کی صفوں کا معمول بھی بننے لگا، بلکہ ایک قبیح شرعی محظور‘ علمی فتنہ بن گیا، اس فتنے کے انسداد کے لیے اس وقت کے متدین علماء نے اس خطے میں کوششیں کیں، مگر سرکاری سرپرستی کی وجہ سے جوازی فتویٰ‘ تقویٰ سے نکل کر نفسانی مسئلہ بن چکا تھا۔ تصویر سے متعلق اسی روش کا اعادہ ہمارے دور میں ڈیجیٹل آلات کے ذریعہ تصویر سازی کے بارے میں چل رہا ہے۔ ماہ نامہ ’’بینات‘‘ وقتاً فوقتاً اس فتنے سے آگاہ کرتا رہتا ہے، حال میں اس موضوع پر ایک صاحبِ تحقیق کی دو مختلف تحریریں ہمیں موصول ہوئیں، جو ڈیجیٹل تصویرکے فتنہ انگیز پہلو اور سماجی نقصانات سے آگاہی پر دعوتِ فکر کے درجہ میں ہیں، اور بنیادی طور پر ہمارے دارالافتاء کے موقف کے موافق ہیں، اس لیے یہ دونوں تحریریں ’’ڈیجیٹل ڈیوائس اور ایپلی کیشن ۔۔۔ دینی وسماجی نقصانات‘‘ کے عنوان سے شاملِ اشاعت کی جارہی ہیں ۔‘‘                                                     (ادارہ بینات)

 

ڈیجیٹل بدنظری اور معاشرے میں پھیلتی بےحیائی

اصل بات یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے ہمیں پریشانیوں سے بچانے کے لیے جو احکامات دئیے ہیں، ان پر اگر صحیح طور پر عمل کیا جائے تو تمام برائیاں معاشرے سے ختم کی جاسکتی ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے دینی حلقے ایسے فتنوں میں مبتلا ہوچکے ہیں جس کے باعث برائی کے خلاف بھی کھل کر بولنا مشکل نظر آتا ہے۔ اس حوالے سے معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے حیائی کا سب سے بڑا سبب ڈیجیٹل شکل میں جاندار کی تصویر کے حوالے سے علمائے کرام میں پیدا ہونے والا اختلاف ہے، جس سے بلاتخصیصِ عمر سب کی عزت و آبرو خطرے میں نظر آتی ہے۔
کیا فرق کریں سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں یا دینی مدارس میں، اس برائی کے اثرات اب دنیا کے کونے کونے میں پھیل چکے ہیں۔ حدودِ حرم اور دیگر مقدس مقامات پر بھی لوگ اس فتنے کا شکار نظر آتے ہیں۔ عبادت گاہوں اور تفریحی مقامات میں کوئی فرق نہیں رہ گیا۔ حج اور عمرے جیسی مقدس عبادات کے دوران بھی لوگ اپنی عبادت کی تشہیر کے ساتھ ساتھ دوسرے علاقوں سے آئی مسلمان خواتین کی تصاویر بھی بناکر فیس بک پر اور اپنی فرینڈ لسٹ میں شیئر کرنا عار محسوس نہیں کرتے اور جب کسی کو روکنے یا تنبیہ کرنے کی کوشش کی جائے تو آگے سے یہی سننے کو ملتا ہے کہ: ’’بھائی! اس میں علماء کا اختلاف ہے، اس لیے آپ کو زیادہ متشدد ہونے کی ضرورت نہیں۔‘‘
میں اپنے ایک دہائی سے زیادہ عرصے پر مبنی تعلیمی اور تحقیقی تجربے اور مشاہدے کی بنیاد پر اللہ کی قسم کھا کر یہ کہہ سکتا ہوں کہ اللہ رب العزت نے رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو علم اور حکمت کی ہر جہت کی چوٹی پر بٹھا رکھا ہے، اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ذریعے سے ایسے نفیس، باریک، خوبصورت اور سادہ انداز میں فتنوں سے بچنے کے اصول ہم تک پہنچائے ہیں کہ جس کی نظیر نہیں ملتی۔ علم وحکمت رکھنے والے علماء کرام بخوبی جانتے ہیں کہ اُمت کی نفسیات کو سمجھنے والا وقت کے نبی سے بہتر کوئی نہیں ہوتا، اور یہ بھی جانتے ہیں کہ قلب ہمیشہ نظر کے ذریعے سے شکار ہوتا ہے، اور اس بات کو بھی سمجھتے ہیں کہ دین ہمیں قیامت تک آنے والے فتنوں سے بچنے کے اصول بتاتا ہے۔
اگرچہ علمائے کرام اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ مسئلہ تصویر کا نہیں، بلکہ جاندار کی تصویر کا تھا، جس کو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے واضح طور پر منع فرمایا ہے، اورپانچ ہزار سال کی انسانی تاریخ بھی اس بات پر شاہد ہے کہ جس دور میں بھی معاشرے میں جاندار کی تصویریں عام ہوئی ہیں، وہاں شرک اور بےحیائی کو پھیلنے سے کوئی نہیں روک سکا۔
اس کے لیے چاہے زمانۂ قدیم مصر کے مجسموں اور اہراموں میں بنی تصاویر کا ہو یا سرزمینِ عرب پر آلِ سعود کا دورِ حکومت، جہاں ۱۹۶۶ء میں پہلی عرب خاتون ’’نوال بخش‘‘ کے ٹیلی ویژن پر نمودار ہونے سے اس فتنے کا دوبارہ سے آغاز ہوا، اور اب تو جدید سائنس بھی اس بات کو ثابت کرچکی ہے کہ جاندار کی تصویر دیکھنے سے انسان کے قلب و ذہن پر جو اثرات مرتب ہوتے ہیں اور دماغ میں جو کیمیائی تبدیلی پیدا ہوتی ہے اس کو جانچا جاسکتا ہے اور اس کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے، جس کی جیتی جاگتی مثال مغربی معاشرہ ہے، جہاں اب شرم و حیا کا کوئی تصور باقی نہیں رہ گیا، رشتوں کا تقدس ختم ہوچکا ہے اور ہر طرح کی نفسانی خواہش کو پورا کرنا ہر انسان اپنا حق سمجھنے لگا ہے، چاہے اس کے لیے اُس کو کسی بھی حد تک جانا پڑے۔
یہاں لمبی بات کرنا یا کسی پر تنقید کرنا مقصود نہیں، نہ ہی کسی بحث ومباحثے کو شروع کرنا مقصد ہے، لیکن اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جس مسئلے پر چودہ سو سال سے اُمت کا اتفاق تھا، اُس وقت تک اس طرح کی بے حیائی کے پھیلنے کے تمام راستے بند تھے۔
جب ۱۹۶۰ء کے اوائل میں جاندار کی تصویر کے حوالے سے عرب علمائے کرام سے غلط بیانی کرکے اور اُن کو نامکمل معلومات فراہم کرکےشک میں ڈالا گیا اور ایسے فتوے حاصل کیے گئے جس سے ڈیجیٹل شکل میں جاندار کی تصویرکے حوالے سے اختلاف پیدا ہوا، تو جمہور عرب علماء نے اس کی سخت مخالفت کی، مگر حکومتی سرپرستی حاصل ہونے کی وجہ سے اُن کی رائے کو نظر انداز کر دیا گیا، حتیٰ کہ اس کے نتیجے میں شاہ فیصل کے بھتیجے کو نیشنل ٹیلی ویژن سٹیشن کو بند کرانے کی غرض سے کیے گئے حملے کے دوران قتل کردیا گیا اور اس ساری صورت حال کا نقصان یہ ہوا کہ پھر ہمیشہ کی طرح عوام الناس نے علمائے کرام کے اختلاف سے ناجائز فائدہ اُٹھاتے ہوئے ہر طرح کی حد کو پار کر دیا، جس کے نتیجےمیں اب ہم بھی اُن مصائب اور مشکلات کا شکار ہیں، جس کا شکار کئی دہائیاں پہلے مغربی معاشرہ ہوچکا ہے۔
اب جو علمائے کرام صرف یہ کہہ کر اس مسئلے سے بری الذمہ ہوجاتے ہیں کہ یہ ایک اختلافی معاملہ ہے، تو وہ یہ نہ سمجھیں کہ آگے آنے والے حالات کی ذمہ داری اُن پر نہیں ہوگی، جبکہ ۱۹۶۰ء کی دہائی کے بعد سرزمینِ عرب پر پھیلنے والے جدت زدہ فتنوں کی صورت حال بھی ان کے سامنے ہے۔ 
یقیناً اللہ رب العزت نے ہمیں تقویٰ کی تلقین فرمائی ہے اور تقویٰ کا لباس بہترین لباس قرار دیا ہے، یہ وہ لباس ہے جس پر فتنوں کی گولیاں اثر نہیں کرتیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ہماری نجات اپنے اسلاف اوراکابر کی پیروی میں ہے، نہ کہ مادی ترقی سے متاثر ہوکر دین کو بدلنے میں۔

آپ اور آپ کا سمارٹ موبائل فون

اس حوالے سے بہت سی خبریں سننے میں آئی تھیں کہ آپ کا موبائل فون بغیر آپ کی اجازت کے آپ کی ویڈیو بھی بناسکتا ہے اور آپ کی باتیں کسی اور تک پہنچا بھی سکتا ہے، لیکن ظاہر ہے کہ ہر سنی سنائی بات پر یقین کرنا کوئی مناسب عمل نہیں، اب جبکہ ہم نے خود اس پر تجربہ کرکے اس بات کی یقین دہانی کرلی ہے کہ یہ بات بالکل درست ہے تو اب اس کے بارے میں آپ حضرات کو آگاہ کرنا ہمارا فرض ہے۔
پہلے تو اس بات کو اچھی طرح سے سمجھ لیں کہ آپ اپنے موبائل پر جن کمپنیوں کی ایپلیکیشنز استعمال کرنے پر مجبور ہیں، جیساکہ گوگل کا اینڈرائڈ آپریٹنگ سسٹم جو کہ آپ کے سمارٹ موبائل کو چلاتا ہے یا واٹس ایپ جس کے ذریعہ سے آپ لوگوں سے رابطے میں ہیں یا فیس بک جو کہ آپ کو سوشل میڈیا کے ذریعہ دنیا سے رابطے میں مدد فراہم کرتا ہے یا ایسی دیگر ایپلیکیشنز، یہ تمام تو بنیادی طور پر ہی اس بات کا مکمل اختیار رکھتی ہیں کہ آپ کی پرسنل انفارمیشن یعنی انتہائی ذاتی معلومات جس میں آپ کے موبائل کے کیمرے اور مائیک تک رسائی، آپ کےموبائل پر موجود کانٹیکٹس یعنی رابطوں کی تفصیل، آپ کے میسیجز یعنی پیغامات، آپ کی تصاویر اور ویڈیوز جو آپ نے اپنے موبائل پر محفوظ کی ہیں اور آپ کی لوکیشن جس پر آپ موجود ہیں یا جہاں جہاں آپ موبائل ساتھ لے کر گئے تھے، ان تمام چیزوں کے بارے میں معلومات حاصل کریں، ان معلومات کو محفوظ کریں اور مستقل بنیادوں پر اپنے نئے منصوبوں کی تکمیل کے لیے ان معلومات کو استعمال کریں۔
اب اس موقع پر اکثر لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اگر ان کمپنیوں کو ہمارے پرسنل ڈیٹا تک رسائی حاصل بھی ہے تو انہوں نے ہماری ان معلومات کا کرنا کیا ہے؟ یا پھر یہ کہ ہم کون سا کوئی ایسا غیرقانونی کام کر رہے ہیں جس سے ہمیں کسی نقصان کا اندیشہ ہو؟
تو یہ بات مان لیتے ہیں کہ آپ کوئی غیرقانونی کام نہیں کررہے، اس لیے آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن کون عقلمند یہ چاہے گا کہ اس کی نجی زندگی کے متعلق ساری معلومات ہر وقت کوئی اکٹھی کر رہا ہو، آپ کی باتیں ریکارڈ کی جا رہی ہوں، بند حالت میں بھی آپ کا موبائل آپ کی نقل و حرکت اور بات چیت کی تفصیل، تصاویر اور ویڈیوز محفوظ کر رہا ہو۔
اس حوالے سے بہت سے واقعات تو پہلے بھی سامنے آئے تھے کہ ایپ سٹور پر موجود عام ایپلیکیشنز جو کہ کسی بھی ایپلیکیشن ڈویلپر کی بنائی ہوئی ہو سکتی ہیں، وہ آپ کے پرسنل ڈیٹا تک رسائی حاصل کر لیتی ہیں، آپ کی ویڈیو بنانے، آپ کی آواز ریکارڈ کرنے اور آپ کی دیگر ذاتی معلومات حاصل کرنے تک کا اختیاراُن کے پاس آجاتا ہے۔ 
وہ لوگ جو کہ اپنے موبائل مرمت کے لیے کسی کے پاس بھیجیں، یا کسی کے بھیجے ہوئے میسج میں آنے والے کسی لنک کو کھول کر دیکھیں، یا کوئی انجانی فائل ڈاؤنلوڈ کرلیں، یا وجہ بے وجہ ایپ سٹور سے گیمز اور دیگر ایپلیکیشنز ڈاؤن لوڈ کرکےاستعمال کرنے کے عادی ہوں، وہ باآسانی اپنے موبائل میں کسی اور کو رسائی دینے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اور اگر ایسا کچھ نہ بھی ہو تو جن ایپلیکیشنز کا ذکر شروع میں کیا ہے، وہ تو آپ کی ساری ذاتی معلومات حاصل کرہی رہی ہیں۔
اس حوالے سے کم سے کم بھی احتیاطی تدبیر یہ ہے کہ :
۱:اپنی ذاتی زندگی کی حفاظت کے لیے اپنی سمارٹ ڈیوائسز کے کیمروں پر ٹیپ لگا کر اُن کو بند کریں۔
۲:اہم بات کرتے ہوئے ان کو اپنی آواز کی پہنچ سے دور رکھیں ۔
۳:اس بات کا یقین رکھیں کہ سمارٹ ڈیوائس جہاں بھی آپ کے ساتھ ہے، وہاں آپ کی موجودگی کے بارے میں آپ کے علاوہ اور بھی کوئی جان سکتا ہے۔
سوشل میڈیا اور اسمارٹ ڈیوائسز کے ذریعے سے آپ کی ذاتی معلومات دوسروں تک پہنچنے کے باعث ہونے والے بہت سے حادثات پہلے بھی مقامی اور غیر ملکی اخباروں کی زینت بن چکے ہیں۔
اس ساری تحریر کا مقصد آپ کو اس بات کا اشارہ دینا تھا کہ آپ کے آس پاس موجود سمارٹ ڈیوائسز جیسے موبائل فون، لیپ ٹاپ، سمارٹ ٹی وی، سکیورٹی کیمرے اور دیگر اس طرح کی چیزیں اگرچہ وہ آپ کی ملکیت ہوں یا کسی اورشخص کی، یہ آپ کی ذاتی زندگی میں بھرپور دخل اندازی کر رہی ہیں، آپ کی ذاتی معلومات اکٹھی کر رہی ہیں، اور اس معلومات کو بگ ڈیٹا کا حصہ بناکر آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی مصنوعی ذہانت کے مختلف منصوبوں میں استعمال بھی کر رہی ہیں، جو کہ ظاہر میں تو آپ کے فائدے کے لیےبھی ہوسکتے ہیں، لیکن ان کے باطنی عزائم تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ 
عقلمند کو تو اشارہ ہی کافی ہوتا ہے، اس حوالے سے مزید تحقیق آپ خود بھی کرسکتے ہیں۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین