بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ربیع الثانی 1441ھ- 06 دسمبر 2019 ء

بینات

 
 

ڈیجیٹل تصویر یا اباحیتِ عامہ

ڈیجیٹل تصویر یا اباحیتِ عامہ

دین اسلام میں صورت گری، کسی بھی شکل میں ہو، کسی بھی طریقے سے بنائی جائے، بناوٹ کے لیے جو بھی آلہ استعمال ہو، کسی بھی غرض و مقصد سے تصویر بنائی جائے، حرام ہے، اس تنوع واختلاف سے صورت گری اور تصویر سازی کے حکم میں کوئی فرق نہیں آتا، نصوص کی کثیر تعداداور بے شمار فقہی تصریحات اس مضمون کے بیان پر مشتمل ہیں، جو اہل علم سے مخفی نہیں ہیں، ماضی قریب تک تصویر سازی کی حرمت کا مسئلہ اہل علم کے ہاں مسلم و متفق علیہ رہا ہے اور اسے بدیہی امور میں سمجھا جاتا تھا، یعنی جس کو عرف نے تصویر کہا وہ تصویر قرار پائی۔ مگر سب سے پہلے مصر اور عرب کے بعض علماء نے اس بدیہی امر کو نظری بنانے کی طرح ڈالی، بل کہ تصویر سازی میں زمانے، آلاتِ تصویر اور اغراض ومقاصد کی تبدیلیوں کو آڑ بنا کر تصویر کی بعض جدید شکلوں کو علمی انداز سے جائز و مباح قرار دینے کی سعی نا مشکور کی، اور ایک بدیہی منکر کو ایک علمی فتنہ بناکر کھڑا کردیا،جس کی پاداش میں عوام و خواص کے دلوں سے تصویر سازی کی حرمت وشناعت ہی رخصت ہونے لگی، ہمارے اکابر نے اس فتنے کو ’’فتنۂ اباحیت‘‘ سے تعبیر کیا ہے ، أعاذنا اللّٰہ من ذٰلک۔ تصویر کے معاملے میں اس وقت افسوس ناک صورت حال کا سامنا ہے، بعض اہل علم نے تصویر یا تصویر سازی کی ایک جدید شکل ’’ڈیجیٹل تصویر‘‘ (Digital Photo)کو فنی مباحث کی نذر کر کے جائز بتایا ہے، اس سے دو بڑی دینی خرابیاں پیدا ہوچکی ہیں: ایک خرابی یہ کہ آج تک فقہی احکام میں فنی باریکیوں یا آلاتِ ایجاد کو کبھی فقہی حکم کے لیے مدار نہیں بنایا گیا، مثال کے طور پر ’’الأذنان من الرأس‘‘ سے یہ استدلال تو درست قرار پاتا ہے کہ طہارت میں کانوں کا وظیفہ وہی ہو گا جو سر کا وظیفہ ہے یعنی مسح، مگر عبارت کا اس سے جو واضح اور متبادر مفہوم ہے یعنی کانوں کی جسمانی ووضعی ساخت کا سر کے ساتھ ہونا، اُسے فقہاء نے فقہی بحث سے خارج ہونے کی بنا پر قابل تعرض نہیں قراردیا، اسی طرح علم نجوم اور فلکیات کے احوال کی دریافتگی اور بیان کا معمول قبل از اسلام سے چلا آرہا تھا، آلاتِ اصطرلاب اور رصد گاہوں کا تصور بھی کافی قدیم ہے، مگر شریعت نے فلکی حساب کے لیے فنی مباحث یا متعلقہ آلات کے استعمال، طرقِ استعمال اور برآمد ہونے والے نتائج کو درخورِ اعتنا جاننے کی بجائے محض عمومی مشاہدہ و تجربہ کو فلکی حساب کے فقہی پہلو کی بنیاد قرار دیا: ’’صوموا لرؤیتہٖ وأفطروا لرؤیتہٖ۔‘‘ کسی بھی مسئلے کی فنی باریکیوں کی بنیاد پر فقہی تدقیقات کا یہ طرزِ عمل نیا تو ہرگز نہیں، بل کہ اس سے قبل خود کاغذی تصویر (Printed) کے بارے میں مصری اور کچھ مقامی اہل علم اس طرح کے فلسفے بتا بتا کر اپنا سا منہ لے کر ایک طرف ہوگئے تھے اور ہمارے اکابر نے ہمیشہ کاغذی تصویر کو مجسموں اور تماثیل کی طرح حرام ہی بتایا، انہوں نے فقہی حکم کی بنیاد آلات واشکال کی بدلتی صورتوں پر رکھی نہ فنی باریکیوں میں اُلجھے اور عوام الناس نے انہی کی بات کو امر شرعی کے طور پر قبول کیا، باوجود یہ کہ کاغذی تصویر اور قدیم دور کے مجسمات میں بہت بڑا فرق موجود تھا، مگر اب صورت حال کافی خطرناک حد تک مختلف ہوچکی ، اس وقت جو اہل علم ’’ڈیجیٹل سسٹم ‘‘ (Digital System) کے تحت تصویری عمل کی بدلی ہوئی شکلوں کو تصویر کی حرمت کے حکم سے خالی وخارج قراردے رہے ہیں، انہوں نے اپنے فقہی موقف کی ساری بنیاد تصویر سازی کی جدید شکل کے فنی پہلوؤں پر کھڑی کر رکھی ہے، یہ لوگ ڈیجیٹل تصویر کو انسان کا صنع وعمل ماننے یا کسی شکل وصورت کی ایجاد ماننے کی بجائے نقطوں (Dots)کا مجموعہ قرار دے رہے ہیں اور اس پر فنی باریکیوں سے جواز کا فقہی حکم کشید کرنے کے دعوے دار ہیں۔ یہ طرزِ استدلال، اسلاف کے طرزِ استدلال سے زیادہ مصر کے اباحیت پسند علما ء کرام کے طرزِ استدلال سے میل کھاتا ہے، اگر ہمارے معاشرے میں اس طرزِ استدلال نے جڑیں مضبوط کر لیں تو پھر کوئی بعید نہیں کہ تمام قدیم محرمات دھیرے دھیرے مباحات کی نئی فہرست بنتے چلے جائیں، کیوں کہ قریب قریب سارے محرمات کے ارتکابی طریقے، پرانے انداز اَب چھوڑ چکے ہیں، سود وہ ’’ربا‘‘ نہیں ہے جو نزولِ وحی کے زمانے میں تھا، قمار کی وہ شکل معدوم ہو چکی ہے جو حرمت کا حکم نازل ہونے کے دور میں پائی جاتی تھی، شراب کشیدگی، مہ نوشی کا سارا ترکیبی وفنی انداز یک سر بدل چکا ہے، بد کاری کے پرانے طریقے اور پرانے ناموں کی کلفت دم توڑ چکی ہے، اب فرینڈشپ، متعہ، مسیار اور وقتی زواج نئے اسلامی برقع میں ملبوس ہو کر سر بازار عام ہونے جارہے ہیں، مقام عبرت ہے کہ اگر ہم مصری ومغربی چھاننی میں منصوص وماثور احکام کو چھاننے بیٹھ گئے تو پھر قریب قریب ساری شریعت فضا میں اُڑتا ہوا بھوسہ ثابت ہوجائے گی۔ ولاسمح اللّٰہ ’’ڈیجیٹل تصویر‘‘ کو فنی مباحث کی نذر کرنے سے دوسری بڑی خرابی یہ پیدا ہو چکی ہے کہ ’’ڈیجیٹل تصویر‘‘ تصویر سازی کی مختلف شکلوں میں سے ایک شکل ہے اور اُسے تصویر سازی کی ممانعت سے مستثنیٰ قرار دینے والے حضرات بھی اس حد تک تصویر کی حرمت کے پرانے موقف کے تاحال قائل ہیں کہ یہ استثنا اسی وقت تک ہے جب تک یہ تصویر کاغذ یا کسی بھی پائے دار چیز پر پرنٹ نہ ہو، گویا ڈیجیٹل تصویر کو استثنا دینے والے حضرات بھی اپنے موقف میں تحدید کے روادار ہیں، مگر یہاں اس تحدید وتقیید پر دو اہم سوالات اٹھ رہے ہیں، جن کو کسی طور پر نظر انداز کرنا انتہائی مشکل ہے: پہلا سوال یہ اٹھتا ہے کہ ڈیجیٹل تصویر کو کیمرہ یا موبائل سے کاغذ پر پرنٹ(Print) کرنے کی آخر ضرورت کیا ہے؟ ایسا کون کرے گا؟ اور کیوں کرے گا؟ مجسمہ سازی، تماثیل اور تصاویر کی تاریخ تو یہ بتاتی ہے کہ اس عمل کا بنیادی مقصد یادگار اور تذکار ہوتا ہے، دوسرے مقاصد ثانوی ہوتے ہیں، اس بنیادی مقصد کے حصول کے لیے ہر دور میں اچھی سے اچھی شکل اور پائے دار سے پائے دار انداز اختیار کیا جاتا رہا ہے، چنانچہ ہر دور میں تصویر گری کے آلات کی جدّت وندرت اس پر شاہدِ عدل ہے،ڈیجیٹل تصویر کے جواز کے لیے جو حد مقرر کی گئی ہے، اس کے بارے میں کوئی عقل مند انسان خواہ وہ جاہل ہو یا عالم ہو، یہ سوچے اور بتائے کہ آیا فی زمانہ اس قید وحد بندی کا کوئی فائدہ، کوئی ضرورت یا کوئی اہمیت ہے؟ کیوں کہ موجودہ دور میں تصویر سازی اور منظر بندی کے لیے پرنٹ کا سہارا لینا، یا مجسمہ سازی اور تماثیل کی طرف پلٹ کر جانا ہمارے جدت پسندوں کی رائے اور زبان میں دقیانوسی کی بدترین مثال بن سکتی ہے، کیوں کہ بولتی، تھرکتی اور چلتی پھرتی تصویروں کے ذریعے اچھی، عمدہ اور شفاف منظر بندی کو چھوڑ کر کاغذ کے پرنٹ کا تکلف کر کے کون نادان مفت میں گناہ گار بننے کی راہ اختیار کرے گا، جب اس ’’تکلف‘‘ کی خارج میں کوئی حقیقت نہیں تو بھلا اس قید کے ساتھ ڈیجیٹل کے استثنائی جواز کو مقید کرنے کا تکلف چہ معنی وچہ حیثیت دارد؟ بس سیدھا ارشاد صادر ہو کہ ہر کہ ’’ ناروا‘‘ بود ’’روا‘‘ شد! دوسرا سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن اہل علم کی طرف سے ڈیجیٹل تصویر کا محدود ومقید جو بھی فقہی حکم بتایا گیا تھا، اس کے نتیجے میں عوام وخواص کی ہر مجلس ومحفل میں تصویر سازی، تصویر نمائی اور تصویروں کی تبادلاتی ریل پیل عام ہے اور مزید عام ہوتی جارہی ہے، اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ یہ کس ضرورتِ شدیدہ کی بنا پر ہورہا ہے؟ بعض لوگ مختلف دینی یا زمانی ضرورتوں کی بنا پر تصویر کو جائز قرار دیتے ہیں، جو کہ مستقل موضوع ہے، اُسے کسی مستقل نشست میں سمجھنے کی کوشش کریں گے، یہاں صرف یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ آیا ڈیجیٹل تصویر کا جواز بتانا اتنا ناگزیر تھا کہ اگر اس موقع پر اپنی رائے کو عام نہ کیا جاتا تو کسی بڑے شرعی مفسدے کا خطرہ تھا؟ آخر ہمارے اہل علم کو ایسا کون سا دینی، علمی اور فقہی اقتضا درپیش تھا جس کے تحت ڈیجیٹل تصویر کو جائز قرار دیا گیا اور اس کے نتیجے میں اب ہر ہاتھ میں کیمرہ نظر آتا ہے اور ہر مجلس میں تصویر سازی کا عمل رائج ہے؟! اور یہ عمل بے دریغ ہورہا ہے، مجوزین کی طرف سے بیان کردہ ضرورت‘ اپنی حدود وقیود سے کہیں آگے بڑھ چکی ہے اورتفریح، لہو ولعب اور فیشن کے طور پر تصویر سازی ہو رہی ہے، اسے لغو بات کہیں گے یا کار ثواب؟ اور علمی تاریخ کا یہ استفسار بھی ہمارے مجوزین کے ذمے قرض ہے کہ ڈیجیٹل تصویر کے لیے تصویر کی حرمت سے استثنا بتانا زیادہ ضروری تھایا تصویر کے معاملے میں مسلمانوں کو احساسِ گناہ سے محروم کرنا زیادہ سنگین ہے؟ ایک اور اہم سوال بھی جواب چاہتا ہے کہ اگر مسلمان ڈیجیٹل تصویر کی بدولت مجسمہ سازی کی مشقت اُٹھانے سے بے نیاز ہو جائیںاور پرنٹڈ(Printed) تصاویر سے مستغنی ہو جائیں تو قرآن وسنت میں صورت گری اور تصویر سازی کی حرمت بیان کرنے والی نصوص کا مدلول ومصداق کیا بچے گا؟ آیا نصوص شرعیہ کو قیامت سے قبل ہی معطل قرار دیں گے ؟! یا تصویری مقاصد کو احسن انداز میں پورا کرنے والی ڈیجیٹل تصویر کی کسی قسم کو ایسی نصوص کا مصداق مانیںگے؟ یا پھر قیامت سے پہلے اباحیتِ عامہ کی قیامت برپا کرنے کی جسارت پر مصر رہیں گے؟ أللّٰہم أرنا الحق حقا وارزقنا اتباعہ وأرنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابہ

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے