بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الثانی 1442ھ- 01 دسمبر 2020 ء

بینات

 
 

پیغامِ پاکستان کی روشنی میں ضابطۂ اخلاق  اور اُس کا تجزیہ 

پیغامِ پاکستان کی روشنی میں ضابطۂ اخلاق  اور اُس کا تجزیہ 


وطنِ عزیز پاکستان کی مقتدر قوتوں کے ایماء اور خواہش پر اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے ۲۰ شقوں پر مشتمل ایک ضابطۂ اخلاق جاری کیا گیا ہے، اس ضابطۂ اخلاق پر ملک کی نامی گرامی شخصیات کے دستخط موجود ہیں۔ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد جو ایک ممتاز دانشور اور تجزیہ نگار ہیں، انہوں نے اس پیغام اور ضابطہ کا ایک مفید تجزیہ کرکے کئی ایک سوالات اُٹھائے ہیں، جو واقعی غوروخوض اور بحث وتمحیص کے متقاضی ہیں۔ قارئینِ بینات کے افادے کے لیے اس تجزیہ کو شائع کیا جارہا ہے۔ پہلے اس ضابطۂ اخلاق کو ایک بار پڑھ لیں اور اس کے بعد اس پر چند سوالات اور اس کا تجزیہ ملاحظہ کریں۔ (ادارہ)

 

پیغامِ پاکستان کی روشنی میں ضابطۂ اخلاق 

1-    تمام شہریوں کا یہ فرض ہے کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کو تسلیم کریں۔ ریاستِ پاکستان کی عزت و تکریم کو یقینی بنائیں اور ہر حال میں ریاست کے ساتھ اپنی وفاداری کے حلف کو نبھائیں۔ 
2-    اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تمام شہری دستورِ پاکستان میں درج تمام بنیادی حقوق کے احترام کو یقینی بنائیں۔ ان میں مساوات، سماجی اور سیاسی حقوق، اظہارِ خیال، عقیدہ، عبادت اور اجتماع کی آزادی شامل ہیں۔ 
3-    دستورِ پاکستان کی اسلامی ساخت اور قوانینِ پاکستان کا تحفظ کیا جائے گا ۔ پاکستان کے شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ شریعت کے نفاذ کے لیے پرامن جدوجہد کریں۔
4-    اسلام کے نفاذ کے نام پر جبر کا استعمال، ریاست کے خلاف مسلح کارروائی، تشدد اور انتشار کی تمام صورتیں بغاوت سمجھی جائیں گی اور یہ شریعت کی روح کے خلاف ہیں۔ اور کسی فرد کو یہ حق نہیں کہ وہ حکومتی، مسلح افواج اور دیگر سیکیورٹی کے اداروں کے افراد سمیت کسی بھی فرد کو کافر قرار دے۔ 
5-    علماء و مشائخ اور زندگی کے ہر شعبہ سے متعلقہ افراد کو چاہیے کہ وہ ریاست اور ریاستی اداروں خاص طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مسلح افواج کی بھرپور حمایت کریں، تاکہ معاشرے سے تشدد کو جڑ سے اُکھاڑ دیا جائے۔
6-     ہر فرد ریاست کے خلاف لسانی، علاقائی، مذہبی اور فرقہ وارانہ تعصبات کی بنیاد پر چلنے والی تحریکوں کا حصہ بننے سے گریز کرے ، ریاست ایسے گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔
7-    کوئی شخص فرقہ وارانہ نفرت، مسلح فرقہ وارانہ تنازعہ اور جبراً اپنے نظریات کسی دوسرے پر مسلط نہ کرے، کیونکہ یہ شریعت کی کھلی خلاف ورزی ہے اور فساد فی الارض ہے۔
8-     کوئی نجی یا سرکاری یا مذہبی تعلیمی ادارہ عسکریت کی تبلیغ نہ کرے، ایسی سرگرمیوں میں ملوث افراد اور اداروں کے خلاف قانون کے مطابق ثبوت اور شواہد کی بنیاد پر سخت کارروائی کی جائے گی۔
9-     انتہا پسندی، فرقہ واریت اور تشدد کو فروغ دینے والوں، خواہ وہ کسی بھی تنظیم یا عقیدے سے ہوں، ان کے خلاف سخت انتظامی اور تعزیری اقدامات کیے جائیں گے۔
10-     اسلام کے تمام مکاتبِ فکر کایہ حق ہے کہ وہ اپنے اپنے مسالک اور عقائد کی تبلیغ کریں، مگر کسی کو کسی شخص، ادارے یا فرقے کے خلاف نفرت انگیزی اور اہانت پر مبنی جملوں یا بے بنیاد الزامات لگانے کی اجازت نہیں ہو گی۔
11-     کوئی شخص خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، جملہ انبیائے کرام ؑ، امہات المومنینؓ، اہلِ بیت اطہارؓ، خلفائے راشدینؓ اور صحابہ کرامؓ کی توہین نہیں کرے گا۔
12-     کوئی شخص کسی مسلمان کی تکفیر نہیں کرے گا اور صرف مذہبی سکالر ہی شرعی اصولوں کی وضاحت مذہبی نظریہ کی اساس پر کرے گا، البتہ کسی کے بارے میں کفر کے مرتکب ہونے کا فیصلہ صادر کرنا عدالت کا دائرۂ اختیار ہے ،مسلمان کی تعریف وہی معتبر ہو گی جو دستورِ پاکستان میں ہے۔
13-     کوئی شخص کسی قسم کی دہشت گردی کو فروغ نہیں دے گا، دہشت گردوں کی ذہنی و جسمانی تربیت نہیں کرے گا، ان کو بھرتی نہیں کرے گا اور کہیں بھی دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہو گا۔
14-    سرکاری، نجی اور مذہبی تعلیمی اداروں کے نصاب میں اختلافِ رائے کے آداب کو شامل کیا جائے گا، کیونکہ فقہی اور نظریاتی اختلافات پر تحقیق کرنے کے لیے سب سے موزوں جگہ صرف تعلیمی ادارے ہوتے ہیں۔
15-     تمام مسلم شہری اور سرکاری حکام اپنے فرائض کی انجام دہی اسلامی تعلیمات اور دستورِ پاکستان کی روشنی میں کریں گے۔
16-     بزرگ شہریوں،خواتین، بچوں، خنثیٰ اور دیگر تمام کم مستفیض افراد کے حقوق کے حوالہ سے اسلامی تعلیمات ہر سطح پر دی جائیں گی۔
17-    پاکستان کے غیر مسلم شہریوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہب اور مذہبی رسومات کی ادائیگی اپنے اپنے مذہبی عقائد کے مطابق کریں۔
18-    اسلام خواتین کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے ، ہر فرد غیرت کے نام پر قتل، قرآن پاک سے شادی، ونی، کاروکاری اور وٹہ سٹہ سے باز رہے، کیونکہ یہ اسلام کی رو سے ممنوع ہیں۔
19-    کوئی شخص مساجد، منبر و محراب، مجالس اور امام بارگاہوں میں نفرت انگیزی پر مبنی تقاریر نہیں کرے گا اور فرقہ وارانہ موضوعات کے حوالہ سے اخبارات اور ٹی وی یا سوشل میڈیا پر متنازعہ گفتگو نہیں کرے گا۔
20-     آزادیِ اظہار‘ اسلام اور ملکی قوانین کے ماتحت ہے ، اس لیے میڈیا پر ایسا کوئی پروگرام نہ چلایا جائے جو فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے کا سبب بنے اور پاکستان کی اسلامی شناخت کو مجروح کرے۔
                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                         ڈرافٹ تشکیل شدہ
                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                قبلہ ایاز(پی ایچ ڈی ، ایڈنبرا)
                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                  چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل

 

--------------------

 

تجزیہ


پہلا سوال یہ ہے کہ اس ضابطۂ اخلاق کا اطلاق کن پر ہوتا ہے؟ اگر اس کا جواب یہ ہے کہ جن اہلِ علم و دانش نے اس پر دستخط کیے ہیں، انہی پر اس کا اطلاق ہوگا اور وہ اپنے اپنے حلقۂ اثر میں اس پر عمل کروائیں گے، تو اگلا سوال یہ ہے کہ کیا ان حضرات کی جانب سے یک طرفہ التزام ہے یا یہ دو طرفہ معاہدہ ہے؟ اس ضابطۂ اخلاق کے متن سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ یک طرفہ التزام ہے، یہاں تک کہ جہاں دستور و قانون کی رو سے کسی امر میں کوئی ذمہ داری ریاست یا حکومت پر عائد کی گئی ہے، وہاں بھی اس ضابطۂ اخلاق میں ریاست و حکومت کی ذمہ داری پر خاموشی اختیار کرکے صرف اپنے اوپر بعض ذمہ داریوں کے اقرار و التزام کی صورت اختیار کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر پہلی دو شقیں دیکھ لیجیے! جس میں ریاست کے متعلق شہریوں کی ذمہ داریوں کا تو ذکر کیا گیا ہے، لیکن شہریوں کے متعلق ریاست کی ذمہ داریوں کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ ضابطۂ اخلاق کی تیسری شق میں دستور کی اسلامی ساخت اور قوانین کے تحفظ کا ذکر کیا گیا ہے، لیکن یہ صیغۂ مجہول میں کیا گیا ہے اور یہ نہیں معلوم ہوتا کہ یہ تحفظ کس کی ذمہ داری ہے؟!
اہم بات یہ ہے کہ ضابطۂ اخلاق کی یہ دو شقیں دستور کی جن دفعات سے ماخوذ ہیں، ان دفعات سے آگے پیچھے دستور میں ہی ریاست کی ذمہ داریوں کا بھی ذکر ہے، مثلاً دستور کی دفعہ: ۵ میں ریاست کے ساتھ شہریوں کی وفاداری کا ذکر ہے، لیکن اس سے قبل دستور کی دفعہ: ۴ میں ریاست کی اس ذمہ داری کا ذکر کیا گیا ہے کہ پاکستان کے ہر شہری بلکہ یہاں موجود ہر شخص کے ساتھ جو بھی سلوک اور معاملہ کیا جائے گا، وہ قانون کے حدود کے اندر رہ کر کیا جائے گا۔ مزید یہ کہا گیا ہے کہ کسی شخص کو کسی ایسے کام سے نہیں روکا جاسکتا جس سے قانون نے اُسے نہ روکا ہو، نہ ہی کسی شخص کو کسی ایسے کام کا حکم دیا جاسکتا ہے، جو قانون نے اس پر لازم نہ کیا ہو۔
سوال یہ ہے کہ ریاست کی اس واضح ترین اور قطعی ذمہ داری کا ذکر اس ضابطۂ اخلاق میں کیوں نہیں کیا گیا؟ اگر دستور کی صرف اس ایک دفعہ پر عمل کیا جائے تو بہت سارے مسائل ختم ہوجائیں گے،’’مثلاً کسی ادارے کو یہ حق نہیں رہے گا کہ وہ کسی بھی عذر یا مصلحت کی بنیاد بناکر کسی کو جبراً گمشدہ کرلے، کیونکہ یہ دستور اور قانون کی بدترین خلاف ورزی ہے۔‘‘
یک طرفہ التزام کی یہ صورت صرف پہلی تین شقوں تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ اس ضابطے کی تمام شقوں میں جاری و ساری ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس یک طرفہ التزام کو اس پہلو سے مناسب سمجھا گیا ہو کہ یہ ریاست اور افراد کے درمیان سمجھوتا نہیں، بلکہ (اس ضابطے پر دستخط کرنے والے) اہلِ علم و دانش کا، جو مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھتے ہیں، آپس میں سمجھوتا ہے۔ تاہم سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب اس کی تیسری شق میں دستور کی اسلامی ساخت اور قوانین کے تحفظ کا وعدہ کیا گیا ہے، تو وہ وعدہ کس کی جانب سے ہے؟ کیا وہ بھی دستخط کرنے والے اصحاب کی جانب سے ہے؟ ظاہر ہے کہ اس کی کوئی تک نہیں بنتی۔ کیا وہ ریاست کی جانب سے ہے؟ تو ریاست کی جانب سے نمائندگی کس نے کی؟ کیا مذہبی اُمور کے وفاقی وزیر نے دستخط اپنی ذاتی حیثیت میں کیے ہیں یا ریاست کے نمائندے کے طور پر؟ یا اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین نے ریاست کے نمائندے کے طور پر یہ ذمہ داری اُٹھائی ہے؟
یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ دستور کی اسلامی ساخت اور قوانین کا تحفظ کوئی معمولی امر نہیں ہے۔ یہ بہت بھاری ذمہ داری ہے اور یہ ذمہ داری اُٹھانا تنہا کسی فرد کے بس کی بات نہیں ہے، خواہ وہ فرد کتنا ہی طاقتور اور مؤثر ہو۔مثلاً کیا دستور کی اسلامی ساخت کے تحفظ سے صرف یہ مراد ہے کہ دستور میں موجود اسلامی دفعات میں کوئی ترمیم یا تبدیلی نہیں کی جائے گی؟ اگر صرف یہی مراد ہو تو یہ بھی بہت بھاری ذمہ داری ہے۔ کئی لوگوں نے باقاعدہ مشن کے طور پر یہ مہم شروع کر رکھی ہے کہ وہ وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل کے اداروں کو ہی ختم کردیں۔ کیا اس ضابطۂ اخلاق کی تیسری شق کی رو سے ریاست یہ وعدہ کررہی ہے کہ ایسا کچھ نہیں کرنے دیا جائے گا؟ یا یہ دستخط کرنے والے اصحاب ہی اعلان کررہے ہیں؟ اگر یہ دوسری صورت ہے تو یہ تو گویا یہ اصحابِ علم ان اداروں کے تحفظ کے لیے جدوجہد کا اعلان کررہے ہیں۔ کیا واقعی ان کا کچھ ایسا ارادہ ہے؟
پھر دستور کی اسلامی ساخت کے تحفظ سے صرف اتنی مراد لینا کافی نہیں ہے کہ وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل کے ادارے نام کی حد تک باقی رہیں، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ یہ ادارے اپنی دستوری ذمہ داری بطریقِ احسن ادا کریں اور ریاست اس سلسلے میں اُن کی بھرپور مدد کرے، مثلاً دیکھ لیجیے کہ سودی قوانین کے خلاف مقدمہ وفاقی شرعی عدالت میں اٹھارہ سال سے زیرِ التوا ہے، لیکن عدالت اس کا فیصلہ کرنے کی طرف نہیں بڑھ پارہی۔ اسی طرح عائلی قوانین کے خلاف وفاقی شرعی عدالت نے۱۹۹۹ء میں فیصلہ دیا تھا۔ ۲۱ سال ہونے کو آئے، سپریم کورٹ کی شریعت اپیلیٹ بنچ میں اس کے خلاف اپیل کی سماعت زیرِ التوا ہے۔ کیا پچھلے کئی سالوں سے آپ نے ایک دفعہ بھی سنا ہے کہ سپریم کورٹ کی شریعت اپیلیٹ بنچ نے کسی مقدمے کا فیصلہ سنایا ہو؟ یہ بھی دیکھیے کہ دستور کی رو سے وفاقی شرعی عدالت میں آٹھ جج ہونے چاہئیں جن میں تین عالم جج ہوں، لیکن پچھلے تیس سالوں میں کبھی بھی یہ آٹھ جج پورے نہیں ہوسکے اور پچھلے کتنے ہی سالوں سے بس تین ججز پر یہ عدالت چل رہی ہے۔ اس وقت بھی دیکھ لیجیے کہ اس عدالت میں صرف تین ججز ہیں، ان کے سامنے مقدمات کی تعداد کا بھی معلوم کیجیے اور یہ بھی دیکھ لیجیے کہ دن میں وہ مقدمات کی سماعت کے لیے کتنا وقت دیتے ہیں؟!
تو جنابِ والا! دستور کی اسلامی ساخت کا تحفظ کوئی معمولی کام نہیں ہے۔ ان دستوری اداروں کو بے دست و پا اور عملاً غیر مؤثر کردیا گیا ہے۔ انہیں مؤثر کیسے بنایا جائے گا؟ ضابطۂ اخلاق اس سلسلے میں مکمل طور پر خاموش ہے۔
اس ضابطۂ اخلاق کی چوتھی شق بہت اہم دوررس نتائج کی حامل ہے اور اس پر کئی شرعی و قانونی سوالات اُٹھتے ہیں، مثلاً کیا شرعاً واقعی ’’اسلامی نظام کے نفاذ کے نام پر جبر کا استعمال، ریاست کے خلاف مسلح کارروائی، تشدُّد اور انتشار کی تمام صورتیں‘‘ بغاوت سمجھی جاتی ہیں؟ مزید واضح کردوں کہ میرا سوال ’’تمام صورتوں‘‘ کے بارے میں ہے؟ ’’فقہ البغي‘‘ سے ادنیٰ مناسبت رکھنے والے طالب علم بھی جانتے ہیں کہ اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔ پھر ہمارے ان کبار اہلِ علم و افتاء نے اس پہلو پر غور کیوں نہیں کیا؟ کیا وہ اس کے جواب میں یہ کہیں گے کہ یہاں شرعی اصطلاح میں بغاوت مراد نہیں، بلکہ لغوی مفہوم میں یہ بات کہی گئی ہے؟ کیا اتنی اہم دستاویز میں ایسی فروگزاشت کے لیے ایسا عذر قابلِ قبول ہوسکتا ہے؟
اس شق میں مزید جو یہ فرمایا گیا ہے کہ حکومت، مسلح افواج یا سیکیورٹی اداروں کے کسی فرد کو کافر قرار نہیں دیا جاسکتا، کیا یہ بات جس مطلق انداز میں کہی گئی ہے، اس اطلاق کے ساتھ یہ شرعاً قابلِ قبول ہے؟ مثلاً اگر کوئی یہ پوچھے کہ ان مذکورہ طبقات کے افراد میں کسی معین فرد نے اگر کفرِ بواح کا ارتکاب کیا، جس میں تاویل کی گنجائش ہی نہ ہو اور وہ قطعی طور پر ثابت بھی ہو جس سے وہ انکار بھی نہ کرتا ہو، تو کیا تب بھی اس شق کی رو سے اُسے کافر نہیں کہا جاسکے گا؟
کیا ہمارے ان اصحابِ علم و دانش نے جناب جاوید احمد غامدی کا موقف قبول کرلیا ہے؟ جس کی رو سے کسی بھی شخص کو، جو خود کو مسلمان کہتا ہے، کافر نہیں کہا جاسکتا؟ بظاہر ایسا نہیں ہے، کیونکہ آگے شق ۱۲ میں تصریح کی گئی ہے کہ کسی کو کافر قرار دینے کا اختیار عدالت کے پاس ہے اور اس مقصد کے لیے مسلمان کی وہی تعریف معتبر ہوگی جو دستور میں مقرر کی گئی ہے، چنانچہ مثلاً اگر حکومتی اہلکاروں میں کوئی قادیانی ہو، تو دستور میں موجود تعریف کی رو سے وہ مسلمان نہیں ہے۔
تاہم یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ شق ۱۲ کی رو سے کسی کو کفر کا مرتکب قرار دینے کا فیصلہ عدالت کے پاس ہے، تو کس عدالت کے پاس یہ اختیار ہے؟ اور کس قانون کی رو سے ہے؟ میرے علم میں تو پاکستان میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے جو کسی عدالت کو یہ اختیار دیتا ہو کہ وہ کسی کو کفر کا مرتکب قرار دے۔ کیا ضابطۂ اخلاق مرتب کرنے والے بزرگوں نے تکفیر کے متعلق فتووں کی روک تھام کی کوشش کرتے ہوئے اس پہلو پر غور کی زحمت گوارا کی ہے کہ پاکستان میں کسی قانون میں بھی کسی بھی عدالت کو یہ اختیار نہیں دیا گیا ہے؟ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر یہ بھی معلوم حقیقت ہے کہ توہینِ رسالت کے سوا کسی اور نوعیت کے ارتداد پر پاکستانی قانون کی رو سے کوئی سزا نہیں، البتہ مرتد کی بیوی تنسیخِ نکاح کے قانون کے تحت فسخِ نکاح کے لیے عدالت میں دعویٰ دائر کرسکتی ہے، تو جب توہینِ رسالت کے سوا کسی اور نوعیت کے ارتداد پر پاکستانی قانون میں کوئی سزا ہی نہیں ہے، تو کوئی عدالت اس چکر میں پڑے گی کیوں کہ کسی شخص نے کفر کا ارتکاب کیا ہے یا نہیں؟
ضابطۂ اخلاق کی پانچویں شق بہت حیران کن ہے اور اس سے بین السطور جو کچھ معلوم ہورہا ہے وہ بہت خوفناک ہے، کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ’’معاشرے سے تشدد کو جڑ سے اُکھاڑنے‘‘ کے لیے ریاست کا ارادہ یہ ہے کہ وہ ’’اداروں اور مسلح افواج‘‘ کو استعمال کرے اور اسی لیے علما و مشائخ سے اُن کی تائید کے لیے کہا گیا ہے۔ کیا واقعی ریاست کا ارادہ یہ ہے کہ معاشرے سے تشدد کو جڑ سے اُکھاڑنے کے لیے زیادہ بڑی سطح کا تشدد کیا جائے؟
چھٹی شق میں لسانی و دیگر تعصبات پر مبنی تحریکوں سے گریز کی نصیحت کے بعد کہا گیا ہے کہ ’’ریاست ایسے گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔‘‘ یہ بات کس کی جانب سے کہی جارہی ہے؟ کیا اس ضابطۂ اخلاق کا التزام کرنے والے اصحابِ علم و دانش کی جانب سے؟ ظاہر ہے کہ نہیں، کیونکہ وہ تو خود اپنے اوپر ذمہ داریاں عائد کررہے ہیں، یہ تو واضح طور پر ریاست کی جانب سے اعلان معلوم ہورہا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ چونکہ ان اصحابِ علم و دانش کو بتادیا گیا ہے کہ: ’’ریاست ایسے گروہوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی‘‘ اس لیے انہوں نے اپنے اوپر یہ التزام ضروری سمجھا کہ وہ ایسے گروہوں سے خود کو الگ تھلگ رکھے۔ پچھلی شق کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے اور آگے شق۸ اور ۹ کو بھی دیکھا جائے جس میں سخت کارروائی اور تعزیری اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے، تو صورت حال کی سنگینی مزید واضح ہوجاتی ہے۔
درمیان میں شق ۷ میں بعض سرگرمیوں کو نہ صرف ’’شریعت کی کھلی خلاف ورزی‘‘ کہا گیا ہے، بلکہ اُنہیں ’’فساد فی الارض‘‘ کا عنوان بھی دیا گیا ہے۔ کیا دستخط کرنے والے صاحبانِ علم و دانش نے اس پر غور کیا ہے کہ پاکستانی قانون کی رو سے ’’فساد فی الارض‘‘ کسے کہتے ہیں؟ اگر نہیں تو مجموعۂ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ ۲۹۹ (ای، ای) اور دفعہ ۳۱۱ ملاحظہ کریں اور اُنہیں انسدادِ دہشت گردی کے قانون کی دفعہ ۷ اور دفعہ ۲۱-ایف کے ساتھ ملا کر پڑھیں تو معلوم ہو کہ اس کے نتائج اور اثرات کیا کچھ ہوں گے اور ریاست کے لیے آپ کتنا وسیع اور خطرناک اختیار مان رہے ہیں!
شق ۱۰ میں جو بات کہی گئی ہے، وہ پہلے ہی سے قانون میں موجود ہے، مسئلہ اس قانون کے نفاذ کا ہے۔
یہی کچھ شق ۱۱ کے متعلق کہا جائے گا۔ ہاں! اس شق میں ایک واشگاف غلطی بھی ہوئی ہے، جب آخر میں یہ لکھا گیا کہ: ’’نہ ہی توہینِ رسالت کے کیسز کی تفتیش یا استغاثہ میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔‘‘ ظاہر ہے کہ یہاں ’’نہیں‘‘ غلطی سے لکھا گیا ہے۔
شق ۱۲ پر بات ہوچکی۔شق ۱۲ سے لے کر ۲۰ تک میں مذکور اُمور بھی شق ۱۰ اور ۱۱ کی طرح غیرضروری ہیں، کیونکہ یہ اُمور قانون کی رو سے پہلے ہی سے لازم ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان صاحبانِ علم و دانش نے ان اُمور کے متعلق جو قانوناً ان پر پہلے ہی لازم ہیں، اپنے اوپر التزام کرکے اس قانونی ذمہ داری کو مؤکد کردیا ہے۔
البتہ شق ۲۰ بہت دلچسپ ہے اور صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہاں مختلف الانواع آراء کا ملغوبہ بنا کر اچار بنانے کی کوشش کی گئی ہے، مثلاً معلوم ہوتا ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی کے متعلق بعض لوگوں کو یہ فکر تھی کہ اس کے ذریعے اسلامی شعائر اور پاکستان کے اسلامی شناخت پر حملے ہوتے ہیں تو اُن کی روک تھام ضروری ہے، لیکن بعض دوسرے لوگوں کی خواہش تھی کہ اظہارِ رائے کی آزادی پر اس قدغن کا ذکر کیا جائے کہ اس آزادی کو فرقہ وارانہ مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔ ان دو کیمپس کی آراء کی تلفیق سے وہ صورت بنی جو اَب شق ۲۰ میں نظر آرہی ہے۔
یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اظہار رائے کی آزادی کے حق پر پاکستان کے دستور میں پہلے ہی سے کچھ قدغنیں موجود ہیں۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں دستور کی دفعہ: ۲۹ کے اس حصے کا متن جوں کا توں نقل کیا جائے، تاکہ سند رہے اور بوقتِ ضرورت کام آوے:


    subject  to  any  reasonable  restrictions imposed by law in the interest of the glory of Islam or the integrity, security or defence of Pakistan or any part thereof, friendly relations with foreign States, public order, decency or morality, or in relation to contempt of court, commission of or incitement to an offence.

جی! دیکھ لیجیے کہ اظہارِ رائے کی آزادی کے حق پر دستور نے کن پہلوؤں سے قانونی قدغنیں لگانے کی اجازت دی ہے:۱:- اسلام کی عظمت کے مفاد میں،۲:- پاکستان، یا اس کے کسی حصے، کی سالمیت، دفاع یا تحفظ کی خاطر،۳:- دیگر ریاستوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے لحاظ سے،۴:- امنِ عامہ کی خاطر،۵:- حیا یا اخلاق کی خاطر،۶:- عدالت کی توہین کے متعلق،۷:- جرم کے ارتکاب یا اس کی ترغیب کی روک تھام کے لیے۔
کیا ضابطۂ اخلاق کے مرتبین یا ملتزمین کو یہ بتانا گستاخی کے مترادف ہوگا کہ ان قدغنوں کی موجودگی میں کسی اور ضابطۂ اخلاق کی کوئی ضرورت نہیں تھی؟
اور ہاں! ان قدغنوں کی موجودگی میں بسکٹ کا بے ہودہ اشتہار ہو، ورزش کرتی خاتون کے ساتھ مرد ٹرینر ہو، یا واہیات ڈراموں کے فحش ڈائیلاگ ہوں، سب کچھ قانوناً روکا جاسکتا ہے اور اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پر اسلامی جمہوریۂ پاکستان میں اُن کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
یہ بات ہمارے ان بزرگوں کے کرنے کی تھی، لیکن بدقسمتی سے ان کی توجہ دیگر کاموں کی طرف تھی۔اللہ اُن پر اور ہم سب پر رحم کرے۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے