بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 صفر 1443ھ 18 ستمبر 2021 ء

بینات

 
 

پوسٹ مارٹم کی غرض سے قبرکشائی کا حکم!


پوسٹ مارٹم کی غرض سے قبرکشائی کا حکم!


کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
میرے بیٹے علی احزم، عمر ۱۶ سال کا انتقال مؤرخہ ۲۱؍اپریل ۲۰۱۲ء کو گلے میں دوپٹے سے پھندا لگاکر پنکھے سے لٹکانے سے ہوا۔ وہ قوتِ سماعت وگویائی سے محروم تھا۔ کچھ طبّی شواہد اس طرح کے ملتے ہیں کہ لگتاہے کہ اس کو قتل کیا گیا ہے۔ اس بنا پر ہم قانونی کارروائی کرنا چاہ رہے ہیں کہ انصاف مل سکے ۔ اس کارروائی کے لیے پوسٹ مارٹم ضروری قرار دیا گیا ہے، اس کے لیے قبر کشائی کرنی ہوگی۔ کیا اتنے دن گزرنے کے بعد بہ نیتِ حق قبر کشائی کروانا جائز ہوگا؟ برائے مہربانی دین وشریعت کی روشنی میں آگاہ کیجئے۔ آپ کے جواب کے بعد ہی ہم کوئی قدم اُٹھائیںگے۔                        عائشہ بلوچ (والدہ)

الجواب باسمہٖ تعالیٰ

واضح رہے کہ انسان کے مرنے کے بعد بھی اس کی روح اور جسم کا باہمی ایسا تعلق قائم رہتا ہے جس پر قبر کے عذاب یا انعام کا مدار ہوتا ہے، اسی بنا پر یہ کہا جاتاہے کہ مرنے کے بعد میت کے جسم اور روح کا رشتہ ختم نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے انسانی حرمت کے اعتبار سے زندہ اور مردہ دونوں برابر ہیں، چنانچہ جس طرح زندہ انسان کو اس کی عزت اور شرافت کی بنا پر تکلیف دینا جائز نہیں، اسی طرح موت کے بعد بھی اس کو تکلیف دینا جائز نہیں ہے۔ نیز جس طرح مردہ انسان کو موت کے بعد تدفین سے قبل ایذاء پہنچانا جائز نہیں، بالکل اسی طرح تدفین کے بعد بھی ایذاء پہنچانا درست نہیں ہے، کیونکہ واقعہ یہ ہے کہ دفن کے بعد بھی میت کو زندہ لوگوں کے غلط افعال سے تکلیف پہنچتی ہے، جبکہ مسلمان میت کی نعش کا احترام بعض احوال میں زندہ سے بھی زیادہ لازم ہے۔
باقی رہا میت کو پہلی مرتبہ دفنانے کے بعد دوبارہ قبر سے نکالنا، تویہ بھی ایک ناجائز عمل ہے اور جبکہ قبر کشائی کرنے کا مقصد بھی ناجائز عمل یعنی پوسٹ مارٹم کرنا ہو تو اس کی قباحت وشناعت مزید بڑھ جاتی ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کا اپنے بیٹے کی قبر کشائی کروانا اور پھر صرف طبّی شواہد کی بنیاد پر اس کا پوسٹ مارٹم کروانا، یہ دونوں امور شرعاً ناجائز ہیں، جن سے مکمل اجتناب لازم ہے اور اس بنا پر سائلہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے بیٹے کی قبر جوں کی توں رہنے دیں، قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کرواکے گنہگار نہ بنیں۔ ’’البحر الرائق‘‘ میں ہے:
’’فلو دفن بلاغسل ولم یمکن إخراجہ إلا بالنبش صُلي علی قبرہ بلاغسل للضرورۃ، بخلاف ما إذا لم یہل علیہ التراب بعد، فإنہ یخرج ویغسل، ولو صلي علیہ بلاغسل جہلًا مثلًا، ولایخرج إلا بالنبش تعاد لفساد الأولی، وقیل: تنقلب الأولی صحیحۃ عند تحقق العجز فلاتعاد۔‘‘ (البحر الرائق، کتاب الجنائز، ج:۲، ص:۱۹۳، طبع: دارالکتاب الاسلامی )
وفیہ أیضًا:
’’قولہ: ولایخرج من القبر إلا أن تکون الأرض مغصوبۃ (أي بعد ما أہیل التراب علیہ لایجوز إخراجہ لغیر ضرورۃ للنہي الوارد عن نبشہٖ وصرحوا بحرمتہ وأشار بکون الأرض مغصوبۃً أو دفن في ملک الغیر أو دفن معہ مال أحیاء لحق المحتاج قد ’’أباح النبي صلی اللہ علیہ وسلم نبش قبر أبی رَغال لعصاً من ذہب معہ‘‘، کذا فی المجتبٰی، قالوا: ولو کان المال درہماً ودخل فیہ ما إذا أخذہا الشفیع فإنہ ینبش أیضاً لحقہ کما في فتح القدیر، وذکر فی التبیین: أن صاحب الأرض مخیَّرٌ إن شاء أخرجہ منہا وإن شاء ساواہ مع الأرض وانتفع بہا زراعۃً أو غیرہا، وأفاد کلام المصنف أنہ لو وضع لغیر القبلۃ أو علی شِقہ الأیسر أو جُعِلَ رأسُہٗ في موضع رجلیہ أو دُفن بلاغسل وأہیل علیہ التراب، فإنہٗ لاینبش، قال في البدائع، لأن النبش حرام حقاً للہ تعالٰی۔‘‘ (البحر الرائق، کتاب الجنائز، ج:۲، ص:۲۱۰،طبع: دارالکتاب الاسلامی ) ــــ فقط واللہ اعلم ـــــ
 

الجواب صحیح

الجواب صحیح

کتبہ

 محمد عبد المجید دین پوری

صالح محمد کاروڑی

محمد انس انور

الجواب صحیح

 

دارالافتاء

 رفیق احمد

 

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن 


 

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے