بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ذو الحجة 1441ھ- 04 اگست 2020 ء

بینات

 
 

ٹی وی چینلوں کا ”رنگین اسلام“ (پہلی قسط)

ٹی وی چینلوں کا ”رنگین اسلام“




کسی مفکر کا کہنا ہے کہ ”پروپیگنڈا ذہین لوگوں پر احمقانہ تأثرات ڈالنے کا نام ہے“، بہ الفاظ دیگر پروپیگنڈا محض جھوٹ اور فریب ہے جو کہ عصرحاضر میں سب سے اہم ہتھیار کے طور پر استعمال ہورہا ہے، پروپیگنڈے کا اصول یہی ہے کہ بات اس طرح کہی جائے کہ پروپیگنڈا،پروپیگنڈا محسوس نہ ہو،ذرائع ابلاغ میں اس ہتھیار کا استعمال دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر ہوا جب برطانوی فوج نے جنگ کا پانسہ پلٹ دیا تھا تو امریکی ذرائع ابلاغ نے فتح کا سہرا برطانوی فوج کے سر باندھنے کے بجائے امریکی افواج کے سر باندھااوریہ پروپیگنڈا کیا کہ انہی کی بدولت یورپ نازیوں سے محفوظ رہ سکا ہے ، یہ پروپیگنڈا اتنا موٴثر ثابت ہوا کہ یورپی عوام کو یہ یقین ہوگیا کہ امریکہ ان کے لیے کسی مسیحا سے کم نہیں ،اس وقت سے لے کر آج تک ذرائع ابلاغ اس موٴثر ہتھیار کو کسی نہ کسی شکل میں مستقل استعمال کرتے چلے آرہے ہیں،عالمی ذرائع ابلاغ خالص یہودی میڈیا ہے جو ارب پتی یہودی تاجروں کے زیر اثر ہے اور یہودی کمیونٹی کا سب سے بڑا ہتھیارسمجھا جاتا ہے حتی کہ عالمی حالات پر اس کی اتنی گہری چھاپ ہے کہ ہر مشہور لیڈر یہودی میڈیا کی خوشامد کرتا نظر آتا ہے ،در اصل اس کے ذریعے یہودیوں نے اپنے دانشوروں کے ”پروٹوکولز“ کو عملی جامہ پہنایا ہے ، ”یہودی پروٹوکولز“ کے بارہویں باب میں درج ہے کہ ”ہماری منظوری کے بغیر کوئی ادنی سے ادنی خبر کسی سماج تک نہیں پہنچ سکتی ، اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہم یہودیوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ خبر رساں ایجنسیاں قائم کریں جن کا بنیادی کام ساری دنیا کے گوشے گوشے سے خبروں کا جمع کرنا ہو ،اس صورت میں ہم اس بات کی ضمانت حاصل کرسکتے ہیں کہ ہماری مرضی اور اجازت کے بغیر کوئی خبر شائع نہ ہو“۔

آج کے ترقی یافتہ دور میں ذرائع ابلاغ کا جو اہم کردار ہے وہ کسی ذی شعور سے مخفی نہیں ،اگرغور کریں تو دور حاضر کی بظاہرتمام تر قی وخوشحالی ، سائنسی ایجادات اور تحقیقات کا ادراک انہی ذرائع سے حاصل ہوتا ہے ، سیٹلائٹ کی ایجاد نے پوری دنیا کو سمیٹ کر ایک محلے کی طرح کردیا ہے ،دنیا کے کسی بھی حصے میں ہونے والے تمام واقعات ٹیلی وژن سکرین پر دیکھے جاسکتے ہیں ،ذرائع ابلاغ نے معلومات اور آگہی میں بے پناہ اضافہ کیا ہے ، اسی کے ذریعے کثرت معلومات کافتنہ تیزی سے پھلتا پھولتا جارہا ہے ،عالمی آگہی کا یہ عالم ہے کہ دنیا کے کسی حصے میں کوئی واقعہ یا حادثہ رونما ہوتا ہے تو ہر شخص اس سے واقف ہوتا ہے ،یہ ذرائع ابلاغ کا کمال ہے کہ اب کوئی بات ڈھکی چھپی نہیں رہ سکتی ۔

ذرائع ابلاغ کی افادیت مسلم ہے لیکن اس کے منفی پہلو بھی ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور وہ مخصوص مفادات کے حصول کے لیے ان کا استعمال نیز تشہیر کے لیے جو اشتہار دیے جاتے ہیں وہ اکثر مبالغے پر مبنی ہوتے ہیں اور مارکیٹنگ کے لیے جو نفسیاتی حربے استعمال کیے جاتے ہیں وہ مخصوص گروہوں کے مفادات کے لیے ہوتے ہیں اور عام آدمی کو اس سے نقصان پہنچتا ہے ، پھر قومی وبین الاقوامی ایجنسیاں انہیں اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی ہیں ، حکومتیں اور بین الاقوامی طاقتیں اپنی عوام کو مطیع رکھنے کے لیے گمراہ کن پروپیگنڈے کے ذریعے ایک خاص نقطہ نظر پروان چڑھاتی ہیں اور رائے عامہ کو متأثر کرنے یازیادہ دکھانے کے لیے ذرائع ابلاغ کو استعمال کیا جاتا ہے ، عوام کی برین واشنگ کے لیے میڈیا ایک موثر ہتھیار کے طور پر استعمال ہورہا ہے،نائن الیون کے حادثے کے بعد عالمی ذرائع ابلاغ نے اسلام اورمسلمانوں کے خلاف جس قدر غلیظ مہم چلائی ہے اس سے مسلمانوں کے تشخص کو بڑا نقصان پہنچا ہے ، پھر سب سے بڑھ کر یہ کہ ذرائع ابلاغ کو فحاشی ،عریانی اور بداخلاقی پھیلانے کے لیے بھی استعمال کیا جارہاہے جو معاشرے کی عمومی اخلاقی فضا کو تباہ کرنے کا ایک مہلک طریقہ ہے،دنیا کی طاقتور لابیاں اپنے مقاصد کے لیے ذرائع ابلاغ کو ڈھٹائی سے استعمال کررہی ہیں اور اپنے اہداف ومقاصد کے حصول میں کامیاب ہیں، خلاصہ یہ کہ آج میڈیا اس پوزیشن میں ہے کہ وہ پوری دنیا کو جس نہج پر اور جس سمت میں لے جانا چاہے لے جاسکتا ہے ،لوگ غیر ارادی اور غیر شعوری طور پر میڈیا کے ذریعے پھیلائی ہوئی باتوں کو بسروچشم قبول کرلیتے ہیں،گویا میڈیا واضح الفاظ میں دن کو رات ، سفید کو سیاہ اور سچ کو جھوٹ ثابت کرنے کی خدمات انجام دے رہا ہے ۔

ذرائع ابلاغ کی اس اہمیت کو دیکھتے ہوئے اکثر لوگ یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ علماء کو میڈیا خصوصا ٹی وی چینل پر آجانا چاہیے اور اسلام کے متعلق جو شکوک و شبہات اور پروپیگنڈے کیے جارہے ہیں اس کا دفاع ٹی وی چینل پہ آکر کرنااز حد ضروری ہے اور اس طرح صحیح اسلامی عقائد ،نظریات اور افکار کی تبلیغ بھی خود بخود ہوجائے گی ،اس ضمن میں وہ یہ دلیل دیتے ہوئے بھی نظر آتے ہیں کہ ”شدت پسند علماء “ ابھی نہیں تو کچھ عرصے بعد ضرور مان جائیں گے جس طرح لاوٴڈ اسپیکر کے مسئلے میں علماء نے شروع میں اختلاف کیا اور نہ مانا لیکن پھر کچھ عرصے بعد خود ہی زور وشور سے اس کا استعمال شروع فرمادیا ،لیکن یہ کہنے والے ٹی وی کی خرابیوں ،مفسدات اورمہلکات سے شاید اپنی نظریں چرالیتے ہیں ، میڈیا خصوصا ٹی وی چینل پہ آکر اسلام کی خدمت کسی طور ممکن نہیں ،ہاں! البتہ اسلام اور مسلمانوں کی توہین وتضحیک ضرور ممکن ہے ۔

میڈیا اسلام اور مسلمانوں کا خیر خواہ کبھی نہیں ہوسکتا ،ایک چینل کے تئیس گھنٹے توعریانی ،فحاشی وگمراہی کے لیے مخصوص ہو اور ایک گھنٹہ ”اسلام“ کے لیے، میڈیا کے ذریعے جو حضرات اسلام کی تبلیغ وترویج چاہتے ہیں اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ کسی کچرے کے ڈھیر پر عنبر وعودجیسی خوشبو رکھ دی جائیں اوروہاں سے گذرنے والوں کے بارے میں امید کی جائے کہ وہ اس کچرے کنڈی میں رکھی خوشبو سے لطف اندوز ہورہے ہوں گے ، ٹی وی چینل کا ”رنگین اسلام“ اس وقت مسلمان اورخاص طور پر غیر مسلموں میں اسلام کے متعلق تشویش کا باعث بن رہا ہے، اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایک مسئلہ کسی چینل پر فرض بتایا جاتا ہے ، دوسرے چینل پر اس کو بدعت کہتے ہیں اور تیسرا چینل اس کو سنت ثابت کررہا ہوتا ہے ،ذرا سوچیے ! ٹی وی دیکھنے والا ایک سادہ لوح آدمی اس سے اسلام کے متعلق کیا انتشار کا شکار نہیں ہوگا ؟!

پھر ٹی وی پر اسلام کے متعلق مذاکروں میں ہر خاص وعام کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ آکر جس طرح چاہیں اسلام کو تختہٴ مشق بنائیں اور ان نام نہاد ”اسلامی اسکالرز“ میں عالم غیر عالم کی کوئی تمیز نہیں کی جاتی اور اس کے ذریعے لوگوں کو لاشعوری طور پر یہ پیغام دینا بھی مقصود ہوتا ہے کہ ہر راہ چلتا پھرتا شخص اپنے تفہیم دین کے پر چارکا ”فطری حق “رکھتا ہے اور یہ نازک اور اہم دینی مسائل پرگفتگو کرنا صرف ”ملاوٴں “ ہی کی ٹھیکیداری نہیں ہے ۔

اور اگر کسی ٹی وی چینل کے مذاکرے میں کسی صحیح اور مستند عالم دین کو بلا بھی لیا جائے تو اس کے بلانے سے دین کی صحیح رہنمائی مقصود نہیں ہوتی بلکہ اس کو بلاکر دیگر لادین اور ملحد شرکاء کے اسلام کے متعلق ایسے فتنہ پرور سوالات و اعتراضات کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جنہیں سن کر کان ہی پکڑے جاسکتے ہیں،فارسی ادب کی سدا بہار کتاب ”گلستان “ کے چوتھے باب میں شیخ سعدی نے ایک حکایت بیان کی ہے کہ ایک عالم کا ایک ملحد کے ساتھ مناظرہ ہوگیاعالم نے اس بے دین کے سامنے ہار مان لی اور پیچھے ہٹ گیا ، کسی نے اس عالم سے پوچھا کہ جناب باوجود آپ علم وفضل رکھنے کے ایک ملحد سے مناظرے میں ہار گئے اور اس پردلائل کے ذریعے قابو نہ پاسکے ؟عالم نے جواب دیا کہ میرا علم تو قرآن ، حدیث اور فقہاء ومشائخ کے اقوال ہیں وہ ملحد ان سے عقیدت ہی نہیں رکھتا تو مجھے اس کا کفر سننا کس کام آئیگا؟بس اسی لیے میں نے ہار ماننے میں ہی عافیت جانی:

آنکس کہ بقرآن و خبر زو نرہی
آنست جوابش کہ جوابش ندہی

چنانچہ بارہا یہ بھی دیکھا گیا کہ مستند علماء سے ایسے سوالات کیے جاتے ہیں جن سے مقصد اس سوال میں پوشیدہ فتنہ کی نشر واشاعت ہو جس کے نتیجے میں دیکھنے والی عوام اس عالم کے جواب کی طرف تو غورنہیں کرتی اور اس فتنہ پرور سوال پر خود ان کے دل ودماغ میں اسلام کے متعلق شکوک وشبہات پیدا ہوجاتے ہیں اور ہوتے ہوتے اس سوال کی بازگشت زبان زد عام ہوجاتی ہے۔

ایک اوراہم چیز جو محسوس کی گئی کہ ان مواصلاتی اسلامی مذاکروں کے شروع ہوجانے سے عام آدمی بھی بلا سوچے سمجھے اسلام کے نازک اور دقیق مباحث کے بارے میں اپنی فہم اور سوچ کے بیان کرنے میں جری ہوگیا ہے جبکہ اس سے قبل عام لوگ اس قسم کے مسائل میں دخل اندازی نہیں کرسکتے تھے ،اور ان پروگراموں کی ”قابل قدر خدمت“ یہ ہے کہ دین کے مسلمہ اورمتفقہ مسائل کو موضوع بحث بناکر اس کو اختلافی بنایاجائے، مکالمہ یا تقریب بین المذاہب کے نام پر وحدت ادیان کو فروغ دیا جائے ، فکری اور نظریاتی گمراہیوں کو عقلی بنیادوں پر پھیلایاجائے ، اسلام کی تشریح وتعبیر عرب جاہلیت کے دور اورزمانے کے ساتھ مخصوص کی جائے۔

جو حضرات کہتے ہیں کہ میڈیا کے ذریعے اسلام کی صحیح خدمت یا کم از کم دفاعی خدمت ممکن ہے تویہ بات بھی غور کی محتاج ہے کہ نائن الیون کے بعد سے عالمی میڈیا نے اسلام کی بنیادوں پر جو رکیک حملے کیے ان کا اب تک کتنا دفاع ہوسکا ؟ پھر آج سے پندرہ سال پیچھے لوٹ کر دیکھیے جب کیبل ،ڈش اور چینلز کی بھرمار نہ تھی تب ہمارے معاشرے کے حالات کیسے تھے اور آج جب کہ میڈیا کا ہر چینل بزعم خود اسلام کی خدمت انجام دے رہا ہے تو اخلاقی گراوٹ ، فحاشی وعریانی کا ایک سیلاب ہے جو امنڈتا چلا آرہا ہے ،اور جب سمجھ دار اور باشعور عوام یا علماء کی طرف سے اس فحاشی وعریانی کے خلاف احتجاج کیا جائے تو ان کا یہ رد عمل پہلے سے موجود خانوں میں ”فٹ“ کردیا جاتا ہے کہ مذہبی عناصر ہمیشہ یہی رونا روتے رہتے ہیں حالانکہ اب عریانی وفحاشی کوئی ایسا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ عالمگیریت (گلوبلائزیشن )کا اہم جز ہے اورابلاغ کے تمام ذرائع بالخصوص ٹیلی وژن اب معاشرے کی تشکیل نو کے لیے استعمال ہورہے ہیں ، پھر یہ بات بھی قابل ملاحظہ ہے کہ اب توعریانی وفحاشی زندگی کا معمول بنا کر پیش کیا جارہا ہے ۔

ستم بالائے ستم یہ کہ حکومت نے اس فتنے کو گھر گھر پھیلانے کے لیے کیبل سسٹم شروع کردیا ، پہلے ڈش ہوا کرتا تھا ، لینے والا آدمی ڈرتا تھا کہ گھر کی چھت پر اس منحوس چھتری کو کیوں رکھا جائے ؟ یاکسی کی جیب گنجائش نہیں دیتی تھی کہ وہ ڈش خریدے ، حکومت نے آسانی کردی کہ گھر گھر ، بستی بستی کیبل سسٹم پھیلا دیا کہ صرف چند روپوں میں مہینے بھر کی عیاشی کوآسان بنادیااور دیکھا جائے تو یہ وہ واحد عیاشی ہے جس میں امیر وغریب برابر کے شریک ہیں ،اور تو اور بعض چینلز پر ہم جنس پرستی کے جواز اور نفاذ سے متعلق پروگرام پیش کیے جارہے ہیں اور اس کے لیے جو دلائل پیش کیے گئے وہ خالص کفر والحاد پر مبنی جن کو نقل کرنے کی راقم یہاں سکت نہیں رکھتا ،علماء سے عقیدت ومحبت رکھنے والی سادہ لوح عوام اس دھوکے میں آکرکہ فلاں عالم ومفتی کافلاں چینل پر دینی پروگرام آتا ہے یا حالات حاضرہ سے واقفیت کو اپنی اشد ضرورت سمجھتے ہوئے وہ بھی اپنے گھر میں ٹیلی ویژن لے آتا ہے اور پھر اس مختصر سے دورانیے کے ”دینی پروگرام“ کو ”عبادت“ سمجھتے ہوئے دیکھتا ہے، اوربقیہ تمام مشاہد ومناظرکو”ذہنی تفریح“ کے نام سے موسوم کردیتا ہے۔

بہت سارے مسلمان بھائیوں کو یہ غلط فہمی بھی ہوچلی ہے کہ اب عالم اسلام اور عالم کفر کے درمیان میڈیا وار (ذرائع ابلاغ کی جنگ) ہے ، اگر غور سے دیکھا جائے تو واقعی یہ مسلمانوں کو ”میڈیا(ذرائع ابلاغ)“ کے جال میں پھانسنے کی جنگ ہے اور مغرب اس سازش میں بدستوراور بآسانی کامیابیاں سمیٹتا جارہا ہے اور مسلمان دن بدن میڈیا کے شکنجے میں کستے چلے جارہے ہیں، اس پس منظر میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کیمرہ کی تصاویر کو بعض حضرات کے نزدیک اب تصویر کے حکم میں نہیں مانا جارہا ہے ، حالانکہ یہ سائنسی ترقی کا زمانہ ہے ، کل تک تصویر ہاتھوں سے نقش ونگار کے ذریعے بنائی جاتی تھی ، پھر اس کی ترقی یافتہ صورت کیمرہ فلم اور ریل پرنٹ کی شکل میں نمودار ہوئی وہ بھی تصویر کہلائی جاتی تھی اور علماء کے نزدیک وہ بھی بالاتفاق تصویر ہی کے حکم میں تھی ، اب اکیسویں صدی کے اس فیصلہ کن موڑ پر تصویر کی نئی ترقی یافتہ شکل ڈیجیٹل ٹیکنالوجی ہے بلکہ اب تو موبائل سے لے کر ٹیلی ویژن اسکرین تک تمام تصاویر اور ویڈیو ڈیجیٹل ہوچکی ہیں کیا یہ بھی تصویر کے حکم میں شامل نہیں ہیں؟ پھر اس کے بعدتصویر کی جو شکل سائنس دانوں نے مستقبل میں پیش کی ہے وہ لیزر ٹیکنالوجی ہے کہ تمام تصاویر ، فلم اور ٹیلی ویژن فضا میں دکھائی دیں گے جن کو ہاتھ سے محسوس نہیں کیا جا سکے گا اور جن کا کوئی جسمانی وجود بظاہرنہ ہوگا ، یہ تصویر کا محض سائنسی ارتقاء ہے جس سے اس کے شرعی حکم میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی ۔

مندرجہ بالا”شدت پسندانہ“ حقائق کے جواب میں فوری طور پر یہ کہاجاتا ہے کہ پھر اس کا متبادل کیا ہے ؟ اس کا سادہ اور آسان سا جواب یہی ہے کہ ان ”فتنوں“ کے متبادل راستے تلاش کرنے کے بجائے اسلاف اور اکابر کے راستوں کو اختیار کیا جائے ، دین اسلام کی حفاظ ت اور دفاع کو ان ”رنگینیوں“ کامحتاج نہ سمجھا جائے اور نہ ہی دین کی حفاظت اور دفاع کی آڑ میں ”اباحیت پسندی“ کے فلسفے کو اپنایا جائے،اگر امت کا ایک بڑا طبقہ کسی حرام میں صریح مبتلا ہو تو اس کا خیر خواہانہ حل یہ نہیں کہ اس حرام کا کوئی متبادل تلاش کیا جائے بلکہ عوام کو اس حرام سے بچانے کی صورت یہ ہے کہ عوام کو اس کبیرہ گناہ سے بچایا جائے ان کی اصلاح کی جائے کیونکہ متبادل کے اس اجتہادانہ استنباط کی صورت میں عوام حرام کو بھی حلال سمجھ بیٹھتی ہے، علماء کی شان ، وقار اور بہتری اسی میں ہے کہ وہ میڈیا خصوصا ٹی وی چینل کے اس گندے تالاب سے اپنے آپ کو دور رکھیں جہاں دین کی ہر خدمت سراب ہے ،جہاں ہر کھرے کو کھوٹے کے ساتھ تولا جارہا ہے جہاں حق کو باطل کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے