بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 ستمبر 2020 ء

بینات

 
 

وطن اصلی اور وطن اقامت کا مسئلہ!

وطن اصلی اور وطن اقامت کا مسئلہ!



کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ:
۱- زید کی جائے ملازمت اس کے گھر سے تقریباً سو کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے‘ وہاں اس کے کمرے میں اس کا ذاتی بستر ‘ چار پائی اور دیگر سامان موجود ہے‘ وہ کبھی تو پندرہ دن کی نیت کر کے وہاں رہتا ہے اور کبھی پندرہ دن سے کم‘ اب اگراس کی پندرہ دن سے کم کی نیت ہے‘ تووہاں نمازیں پوری پڑھے یا قصر کرے؟علمائے کرام سے سن رکھا تھا کہ کسی کی وطن اقامت میں پندرہ دن سے کم رہنے کی نیت ہے تواس کے لئے وہاں قصر نماز ہوگی۔ اب ایک مفتی صاحب نے بتایا کہ وطن اقامت میں اگر اس کا ایک کمرہ ہے اور اس کی چابی بھی اس کے پاس ہے تو اگر کسی بھی وقت اس نے وہاں پندرہ دن رہنے کی نیت کرلی تو مقیم ہو جائے گا۔ وطن اقامت‘ وطن اصلی میں آنے جانے کی وجہ سے باطل نہ ہوگا۔ وطن اصلی سے وطن اقامت میں آتے ہی وہ مقیم ہوجائے گا‘ اگرچہ وطن اقامت میں اس نے پندرہ دن سے کم رہنے کی نیت کی ہو‘ اس عالم دین نے علامہ شامی اور چند دیگر عصر حاضر کے علماء کا زبانی طور پر حوالہ دیا ہے، آپ سے گذارش ہے کہ آپ وطن اقامت کے بارے میں مفتی بہ قول کو مع حوالہ جات تحریر فرمائیں اور یہ بھی تحریر فرمائیں کہ وطن اقامت کون کونسی شرائط کی بناء پر باطل نہ ہوگا ۔
۲- ایک دینی طالب علم جوکم ازکم ایک سال تک کسی مدرسہ میں قیام کا ارادہ رکھتا ہو‘ اور وہ ایک بار پندرہ دن سے زائد کی نیت سے مذکورہ مدرسہ میں قیام کرچکا ہے ۔ اب اگر وہ مدرسہ میں پندرہ دن سے کم کی نیت سے آئے تو کیا مدرسہ میں قصر نماز پڑھے یا پوری ؟ جب کہ وہ مدرسہ کے جس کمرہ میں رہتا ہے اس کے مشترکہ تالے کی ایک چابی اس کے پاس ہے‘ اس کا ذاتی بستر‘ چار پائی‘ پیٹی اور کپڑوں کا بیگ وغیرہ مدرسہ میں ہوتا ہے ۔
۳- اب تک اگروہ طالب علم پندرہ دن سے کم رہنے کی صورت میں قصر نمازیں پڑھتا اور پڑھاتا رہا تو اس کی ان گذشتہ نمازوں کا کیا حکم ہوگا؟
از راہ کرم جواب عنایت فرمائیں‘ اللہ تعالیٰ آپ کو دنیا وآخرت کی کامیابی سے سرفراز فرمائیں۔
مستفتی:دوست محمد متعلم موقوف علیہ
الجواب ومنہ الصدق والصواب
واضح رہے کہ وطن اقامت کے بارے میں فقہ حنفی کی کتابوں سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ وطن اقامت سے بنیت سفر نفس خروج ہی وطن اقامت کے لئے مبطل ہے‘ جیساکہ ”الدر المختار“ ج:۲‘ص:۱۳۲ باب صلاة المسافر میں ہے:
”(و)یبطل (وطن الاقامة بمثلہ و) بالوطن الاصلی (و) بانشاء (السفر)“۔
اور فتاویٰ ہندیہ الباب الخامس عشر‘ ج:۱‘ ص:۱۴۲ میں ہے:
”ووطن الاقامة یبطل بوطن الاقامة وبانشاء السفر وبالوطن الاصلی ہکذا فی التبیین“۔
اسی طرح حلبی کبیر :
”فصل فی صلاة المسافر : ص:۵۴۴‘ ط:
سہیل اکیڈمی میں ہے۔ مذکورہ بالا عبارات فقہیہ سے بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ مقیم آدمی اگر بنیت سفر وطن اقامت سے چلا جائے تو دو بارہ جب اس وطن اقامت میں پندرہ دن سے کم کی نیت کرکے آئے گا تو وہ مسافر رہے گا اور قصر نماز پڑھے گا‘ لیکن ان عبارات فقہیہ کی صحیح مراد سمجھنے کی ضرورت ہے۔ وہ یہ کہ عبارات فقہیہ پر غور کرنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وطن اقامت سے محض سفر کرنا ہی وطن اقامت کے لئے مبطل نہیں ہے یعنی وطن اقامت محض سفر کرنے سے باطل نہیں ہوتا‘ بلکہ سفر بصورت ارتحال مبطل ہے یعنی یہ بطلان اس وقت ہوگا جب کہ وطن اقامت سے جاتے وقت اپنا سامان وغیرہ بھی ہمراہ لیجاکر وطن اقامت کو بالکلیہ ختم کردے‘ جس سے یہ سمجھا جائے کہ مذکورہ شخص کا ارادہ فی الحال دو بارہ یہاں آنے کا نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وطن اصلی سفر سے باطل نہیں ہوتا‘ کیونکہ وطن اصلی سے سفر کرنا وطن اصلی کے چھوڑنے پر دلالت نہیں کرتا‘ بلکہ اہل وعیال وغیرہ کی موجودگی اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جانے والا اس مقام پر دوبارہ واپس آنے کے قصد وارادہ سے جارہا ہے‘ لہذا اگر وطن اصلی سے جانے والا کوئی شخص اہل وعیال سمیت چلا جائے اور کسی دوسری جگہ کو وطن اصلی بنالے اور پہلے والے وطن اصلی کو بالکلیہ ختم کردے تو ایسی صورت میں پہلے والے وطن اصلی کی وطنیت بھی ختم ہوجاتی ہے‘ یہ بات کتب فقہ میں مصرح ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ بطلان وطن کا مدار ترک وطن یا اعراض عن التوطن پر ہے‘ محض خروج بنیت سفر پر نہیں‘ پس جس خروج سے بھی ترک توطن کا عزم کرلیا اور وہاں سے نکل پڑا اور اس وطن کی رہائش بالکلیہ ختم کردی‘ یا کسی دوسری جگہ کو وطن اصلی بنالیا‘ تو وہ وطن باطل ہو جائے گا‘ خواہ یہ وطن اصلی ہو یا وطن اقامت ہو۔ البتہ ان دونوں وطنوں سے سفر کرنے میں عام طور پرایک فرق ہوا کرتا ہے جس کی وجہ سے ان دونوں وطنوں کے متعلق حکم مختلف ہوا کرتا ہے‘وہ یہ کہ : وطن اصلی سے سفر عام حالات میں بدوں ارادہ ترک وطن ہوتا ہے یعنی کسی حاجت وغیرہ کے لئے سفر کرنا پڑتا ہے پھر واپس اسی وطن پر آنا ہوتا ہے اور یہ سفر بصورت ارتحال نہیں ہوتا۔ اس کے برخلاف وطن اقامت سے سفر عموماً بارادہٴ ترک وطن ہوتا ہے‘ کیونکہ اصلی رہائش تو کسی اور جگہ ہوتی ہے‘ یہاں ضرورت کے لئے قیام تھا‘ ضرورت پوری ہونے پر یہاں سے جانا ہوتا ہے‘ اس فرق کے پیش نظر یہ کہا گیا ہے کہ سفر وطن اقامت کے لئے مبطل ہے‘ پس متون کی تعبیر سفر کے اسی فرد مطلق کے بارے میں ہوگی‘ تمام سفروں کے بارے میں نہیں ہوگی ”بدائع“ کی تعلیل سے یہی معلوم ہوتا ہے ‘ ملاحظہ ہو:
”وینقض بالسفر ایضا‘ لان توطنہ فی ہذا المقام لیس للقرار‘ ولکن لحاجة‘ فاذا سافر منہ یستدل بہ علی قضاء حاجتہ فصار معرضا عن التوطن بہ فصار ناقضا لہ دلالة“۔ (کتاب الصلاة فصل: والکلامہ فی صلاة المسافر: ط: سعید)
امام کاسانی کی مذکورہ تعلیل سے یہی بات ظاہر ہوتی ہے کہ وطن اقامت کو باطل کرنے والے سفر سے مراد یہ ہے کہ اب یہاں رہائش کی حاجت نہ رہے اور جانے والا اس مقام کی وطنیت کو ختم کردے اور یہ اس سفر میں ہوتا ہے جو کہ بصورت ارتحال ہوتا ہے اور وطن اقامت میں کچھ بھی نہ رہے۔ اس کے برخلاف جس شہر یا جگہ میں کامل رہائش ہے‘ رہائش کی نیت بھی ہے اور رہائش کا سامان بھی وہی ہیں‘ اگرچہ وہ اس کا وطن اصلی نہیں ہے تو یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس شخص نے اپنا وطن اقامت ختم نہیں کیا۔ صاحب بحر نے تصریح کی ہے کہ بقاء ثقل یعنی سامانِ رہائش وغیرہ کے باقی رہنے سے وطن اقامت باقی رہتا ہے‘ اگرچہ دوسری جگہ سفر اختیار کرلے۔ صاحب بحر کی عبارت ملاحظہ ہو:
”وفی المحیط: ولوکان لہ اہل بالکوفة واہل بالبصرة‘ فمات اہلہ بالبصرة لاتبقی وطنا لہ‘ وقیل: تبقی وطنا‘ لانہا کانت وطنا لہ بالاہل والدار جمیعا فبزوال احدہما لایرتفع الوطن‘ کوطن الاقامة یبقی ببقاء الثقل وان اقام بموضع آخر“۔ (باب المسافرج:۲‘ ص:۱۳۶‘ ط: سعید)
۱- لہذا صورت مسئولہ میں اگر زید اپنے گھر سے سو کلو میٹر دور‘ جائے ملازمت میں رہائش پذیر ہے‘ جائے ملازمت میں اس کا کمرہ ‘ ذاتی سامان جیسے بستر‘ چار پائی وغیرہ موجود ہے تو اس صورت میں اگر ایک دفعہ جائے ملازمت میں پندرہ دن اقامت کرچکا ہے‘ جیساکہ سوال میں تصریح ہے تو جب تک زید اس جگہ ملازمت کو چھوڑ کر موجودہ رہائش بالکل ختم نہیں کرتا‘ اس وقت تک جب بھی وطن اقامت (جائے ملازمت) آئے تو چاہے ایک ہی دن کے لئے آئے‘ وہ مقیم ہی رہے گا اور پوری نماز پڑھے گا‘ قصر نہیں کرے گا۔
۲- کوئی طالب علم اگر کسی مدرسہ میں ایک سال یا اس سے زائد مدت تک پڑھنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس مدرسہ میں اس کا سامان وغیرہ موجود ہے اور ایک مرتبہ اس مدرسہ میں پندرہ دن کی اقامت بھی کر چکا ہے تو مدرسہ اس طالب علم کا وطن اقامت بن چکا ہے‘ لہذا جب تک یہ طالب علم مذکورہ مدرسہ سے مستقل نہیں چلاجاتا‘ اس وقت تک جب بھی اس مدرسہ میں سفر وغیرہ سے آئے گا تو مدرسہ آنے کے بعد خواہ پندرہ دن سے کم ہی کیوں نہ ہو‘ وہ مقیم ہی شمار ہوگا اور مذکورہ مدرسہ میں قصر نماز نہیں پڑھے گا‘ بلکہ پوری نماز پڑھے گا۔
۳- مذکورہ بالا تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ مذکورہ طالب علم مذکورہ مدرسہ میں مقیم شمار ہوگا اور مقیم کے لئے چار رکعت والی نمازوں میں مکمل چار رکعت پڑھنا واجب اور ضروری ہے‘ اگر مقیم آدمی بجائے چار رکعت کے قصر نماز پڑھے تو اس کی نماز بوجہ ناقص ہونے کے ادا نہ ہوگی۔ اسی طرح مقیم امام اگر چار کے بجائے دو رکعت پڑھائے یعنی نماز قصر پڑھائے تو جب امام کی نماز درست نہیں ہوئی تو مقتدیوں کی نمازیں بھی ادا نہیں ہوئیں۔ ایسی پڑھی گئیں تمام نمازوں کا اعادہ واجب اور ضروری ہے‘ ورنہ فرض ذمہ میں باقی رہے گا‘جیساکہ حدیث شریف میں ہے:
”عن عائشة زوج النبی ﷺ قالت: فرضت الصلاة رکعتین فی الحضر والسفر فاقرت صلاة السفر وزیدت فی صلاة الحضر“۔ (مسلم شریف‘ ج:۱‘ ص:۲۴۱‘ ط: قدیمی)
دوسری حدیث شریف میں ہے:
”عن ابن عباس  قال ان اللہ فرض الصلاة علی لسان نبیکم علی المسافر رکعتین وعلی المقیم اربعاوفی الخوف رکعة“۔ (حوالہ بالا)
اور فتاویٰ شامی میں ہے:
”بل التضمین ان صلاة الامام متضمنة لصلاة المقتدی ولذا اشترط عدم مغایرتہما فاذا صحت صلاة الامام‘ صحت صلاة المقتدی‘ لانہ متی فسدالشئ فسد ما فی ضمنہ“۔ (کتاب الصلاة‘ باب الامامة ج:۱‘ ص:۵۹۱‘ ط:سعید)
لہذا مذکورہ طالب علم نے حالت اقامت میں پوری نماز پڑھنے کی بجائے جو نمازیں قصر پڑھی ہیں اور اسی طرح جو نمازیں امام بن کر پڑھائی ہیں تو ایسی تمام نمازوں کا اعادہ امام اور مقتدی پر لازم ہے۔ اعادہ کے لئے اگر ممکن ہوسکے تو فرداً فرداً اطلاع کردی جائے یا بصورت دیگر عام اعلان کے ذریعہ ایسے مقتدیوں کو پڑھی گئی نمازوں کا اعادہ کرنے کا کہہ د یا جائے۔
الجواب صحیح الجواب صحیح
صالح محمد کاروڑی محمد داؤد
کتبہ
عبد الواحد ایاز
متخصص فی الفقہ الاسلامی
جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے