بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1442ھ 29 جولائی 2021 ء

بینات

 
 

نقدونظر ، ذوالقعدۃ ۱۴۴۲ھ

نقدونظر

 

یادداشت:پارلیمانی معرکۂ اسلام وقادیانیت

حضرت مولانا حکیم عبد الرحیم اشرفؒ ۔تدوین نو: ڈاکٹر زاہد اشرف صاحب۔ صفحات: ۲۲۴۔ مکتبۃ المنبر۔ زیر انتظام: عبد الرحیم اشرف ٹرسٹ، لاہور۔
پاکستان کی قومی اسمبلی میں ۱۹۷۴ء کو جب قادیانیت کا مسئلہ زیر بحث تھا تو حضرت مولانا حکیم عبد الرحیم اشرف صاحبؒ نے قادیانیوں کی کتابوں سے ان کے کفریات کو جمع کیا، اصل کتابوں کا عکس لگایا، اور اس کا ابتدائیہ لکھ کر ایک کتابچہ تیار کراکر تمام اراکینِ اسمبلی سے ملاقات کرکے ان کو یہ رسالہ دیا، جس سے ہر رکن اسمبلی قادیانیوں کے کفر پر مطلع ہوا۔ اس پر اُس وقت کے اکابرین نے آپ کے اس جذبہ کو خوب سراہا۔ 
اس کے علاوہ بھی حکیم صاحب نے قادیانیت پر کئی اور رسائل لکھے ہیں، جیسے:۱:-قادیانی غیر مسلم کیوں؟، ۲:-مرزا غلام احمد کے پمفلٹ’’ ایک غلطی کا ازالہ‘‘ کی ضبطی، ۳:-قادیانیوں سے پہلا خطاب، ۴:-قادیانی اور مسلمان۔ یہ تمام رسائل ’’احتسابِ قادیانیت‘‘ کی جلد نمبر:۳۸ ،صفحہ:۲۹ سے ۱۷۲ تک میں موجود ہیں۔ ضرورت تھی کہ اس دستاویز کو کتابی شکل میں شائع کیاجاتا۔ آپ کے صاحبزادہ حکیم زاہد اشرف صاحب نے بڑی محنتِ شاقہ کے بعد اس دستاویز کو زیورِ طبع سے آراستہ کیا ہے، اس پر وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔ 
عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ پر یہ دستاویز ایک عمدہ اضافہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے مرتب اور اُن کے معاونین کو جزائے خیر دے۔

وہ پروانے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے

حضرت مولانا جمیل الرحمٰن عباسی ۔ صفحات: ۳۰۴۔ قیمت: درج نہیں۔ ناشر: مکتبہ عشرہ مبشرہؓ، لاہور۔ ملنے کا پتا: مکتبہ صفدریہ، متصل مدینہ مسجد، ماڈل ٹاؤن بی، بہاولپور
حضرت مولانا جمیل الرحمٰن عباسی صاحب کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے بہت ہی خوبیوں سے مالامال کیا ہے، آپ جہاں بہترین مدرس، خوش الحان واعظ، پختہ مناظر ہیں، وہاں آپ بہترین قلمکار بھی ہیں، زیرِ تبصرہ کتاب ’’وہ پروانے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے‘‘ اشاعتِ دوم آپ کے اُن مضامین اور کالموں کا مجموعہ ہے جو آپ نے روز نامہ اسلام کے لیے لکھے، اس کتاب میں پچاس صحابہ کرامؓ کا معطر تذکرہ، صحابہ کرامؓ کی مدح سرائی اور ایمان افروز مضامین اور ولولہ انگیز اشعار کو جمع کیاگیاہے۔ 
چونکہ اخبار کے لیے کالم لکھنے اور مستقل کتاب تالیف کرنے میں فرق ہے، لیکن اس فرق کو یہاں ملحوظ نہیں رکھا گیا، اس لیے صحابہ کرامؓ کی سوانح میں یکسانیت نہیں ہے۔ کہیں کسی صحابیؓ کی تاریخ پیدائش اور تاریخ وفات لکھی گئی ہے اور کسی صحابیؓ کے تذکرہ میں ان کو چھوڑدیا گیا ہے، اسی طرح کسی صحابیؓ کی کل مرویات کی تعداد لکھی گئی ہے،اور کسی صحابی کے تذکرہ میں مرویات کی تعداد کو ذکر نہیں کیا گیا، مزید یہ کام بھی کرلیا جاتا کہ احادیث کی تخریج ، جلد مع صفحہ نمبر درج کی جاتی تو بہت اچھا ہوتا، اسی طرح احادیث پر اعراب لگائے جاتے، تاکہ عام پڑھنے والا بھی احادیث کو آسانی سے پڑھ لیتا۔ بہرحال مجموعی لحاظ سے کتاب عمدہ ہے، کاغذ بھی مناسب ہے، ٹائٹل بھی خوبصورت ہے۔ 
اللہ تبارک وتعالیٰ حضرت مولانا موصوف کی اس محنت، کوشش اور کاوش کو قبول فرمائے اور قارئین کے لیے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے محبت کا ذریعہ بنائے، آمین

تقاضائے ایمان در معاویہ بن ابی سفیان ( رضی اللہ عنہما )

حضرت مولانا حافظ محمد اقبال رنگونی۔ صفحات: ۳۰۰۔ قیمت: درج نہیں۔ ناشر: ادارہ اشاعتِاسلام مانچسٹر، برطانیہ۔ پاکستان میں ملنے کا پتا: صدیقی ٹرسٹ، المنظر اپارٹمنٹ، ۴۵۸، گارڈن ایسٹ، نزد لسبیلہ چوک، کراچی
صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی جماعت، وہ جماعت ہے جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کریم ، سنت نبویہ اور مکمل دین سیکھ کر آگے اپنے شاگردوں کے ذریعے اُمت تک پہنچایا، گویا صحابہ کرامؓ دینِ اسلام کے عینی شاہد ہیں۔ نزولِ وحی کو انہوں نے دیکھا، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کریم پر عمل کرتے ہوئے انہوں نے دیکھا، اگر صحابہ کرامؓ کے بارہ میں ذرہ بھی بدگمانی آگئی تو پورا دین مشکوک ہوجائے گا، اس لیے علمائے کرام نے لکھاہے کہ صحابہ کرامؓ کی سیرت اور اُن کے فضائل ومناقب کو جانچنا ہو تو قرآن کریم اور احادیثِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تناظر میں دیکھا اور پرکھا جائے، صحابہ کرامؓ تاریخ کا موضوع نہیں۔ 
بہرحال زیرِ تبصرہ کتاب ’’تقاضائے ایمان در مناقبِ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما ‘‘ میں ابتداء ً صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی فضیلت اور مقام کو قرآن وسنت کی روشنی میں واضح کیاگیا ہے اور پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حالات، مقام اور فضیلت کو احادیث اور علمائے کرام کی تقریظات، توضیحات اور ملفوظات کی روشنی میں لکھا گیا ہے۔ تحریر کا انداز علمی ہے اور کتاب مستند حوالوں سے مبرہن ہے ۔ 
کاغذ، جلد، طباعت ہرایک عمدہ ہے ۔ اُمید ہے کہ اس کی قدر افزائی کی جائے گی۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے