بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

بینات

 
 

نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے فرائضِ منصبی!


نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کے فرائضِ منصبی!


 قرآن حکیم نے چار مقامات پر حضرت خاتم الا نبیاء جناب رسول اللہ a کے چار منصب بیان فرمائے ہیں:
۱:- آیات پڑھ کر سنانا۔
۲:- تزکیہ کرنا، یعنی کفر و شرک، بد عملی وبد اخلاقی اوراُمورِ جاہلیت سے ان کو پاک وصاف کرنا۔
۳:- کتاب اللہ کے احکام کی تعلیم دینا اور اس کے مضامین کی تشریح کرنا۔
۴:- حکمت ودانائی، احکام کے علل وغایات اور شریعت کے اُصول ومقاصد کی تعلیم دینا۔
 تز کیہ سے مراد عقائد ونظر یات اور اعمال واخلاق کی پاکیز گی ہے۔قرآن کریم نے تین مقامات پر تز کیہ کا ’’تعلیم‘‘ سے مقدم ذکر فرمایا، جس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ بقدرِ ضرورت تز کیہ تعلیم سے پہلے ہونا چاہیے۔ تعلیم اسی وقت مفید اور بارآور ہوسکتی ہے،جب کہ قلوب میں اس کے قبول کرنے کی اہلیت اور جذب کرنے کی صلاحیت موجود ہو، زمین کو پہلے کا شت کے قابل بنایا جائے، پھر تخم ریزی کی جائے، ورنہ وہی کیفیت ہو گی جو عارف شیرازیؒ نے فرمائی:
باراں کہ در لطافت طبعش خلاف نیست 
در باغ لالہ روید و در شورہ بوم خس
یہ تز کیہ حضرت خاتم الا نبیاء a کے فیضانِ صحبت اور مکارم اخلاق سے حاصل ہوتا تھا اور اب بھی بقدرِ استعداد اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں سے ربط وتعلق اور ان کی صحبت اور مجالست سے حاصل ہوسکتا ہے۔
دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ تعلیمِ کتاب وحکمت سے بھی اصل مقصود تز کیہ ہے، یہ نہ ہو تو ساری تعلیم بے کار ہے۔ اعمال واخلاق کے بغیر نرے علوم ومعارف کی حق تعالیٰ کے یہاں کوئی قدر نہیں۔ آدمی ساری دنیا کی کتابیں چاٹ لے ،لیکن اگر انسانی اخلاق اور ایمانی اعمال نہیں، تو پڑھالکھا جانور تو ہوسکتاہے، مگر انسان کہلا نے کا مستحق نہیں۔
تز کیہ کے بغیر نہ ایمان میں رسوخ کی کیفیت اور یقین واطمینان کی قوت پیدا ہوگی، نہ اخلاق درست ہو سکیں گے، نہ اخلاص کی دولت ملے گی ،نہ اعمال پر مداومت نصیب ہو گی، نہ اندر کا فر عون (مکار نفس) ہلاک ہوگا ،نہ مخلوق سے لڑائی بند ہو گی:
نفسِ ما ہم کم تر از فرعون نیست
یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام s فرماتے ہیں : ’’تعلمنا الإیمان ثم تعلمنا القرآن‘‘ (سنن ابن ماجہ،المقدمۃ،باب فی الایمان،ص:۷،ط:قدیمی) کہ ’’ہم نے پہلے ایمان سیکھا، پھر قرآن سیکھا۔‘‘ یہ ایمان کا سیکھنا ہی تز کیہ کہلا تا ہے کہ قلب غیر اللہ کے بتوں سے پاک ہو، اعمال ریا وغیر سے پاک ہوں اور نفس کمینے اخلاق سے پاک ہو، معاشرہ اُمورِ جاہلیت سے پاک ہو، کمائی حرام اور مکروہ ذرائع سے پاک ہو، وغیر ذلک۔
 یہی تز کیہ تھا جس کی وجہ سے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی بشارتوں سے نوازا اور اُنہیں آسمانی وحی کی شہادت اور سندملی۔ سورۂ فتح میں ان کے امتیازی اوصاف ذکر کرتے ہوئے ایک وصف باہمی رحمت وشفقت ذکر کیا گیا ہے: ’’رحما ء بینھم‘‘ یہ وصف کامل تزکیہ کے بعد ہی حاصل ہوسکتاہے اور اسی کو نہ سمجھنے کی خرابی ہے کہ صحابہ s سے بد گمانی پیدا ہوتی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعو در q نے صحابہ کرامs کا پہلا وصف یہی بیان فرمایا: ’’أبرھم قلبا‘‘ کہ ان کے دل بہت پاک صاف تھے ،دوسرا وصف بیان فرمایا : ’’وأعمقھم علمًا‘‘ ان کا علم بڑا گہرا تھا، تیسر اوصف بیان فرمایا :’’وأقلھم تکلفا‘‘ ان کی زندگی تکلفات اور تصنع سے پاک تھی۔(مشکوۃ،کتاب الایمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ،الفصل الثالث، ج:۱ص:۳۲، ط:قدیمی)
 حضراتِ صو فیاء اور اشاعتِ دین
حضرات صو فیا کرام (رحمہم اللہ) جن کے ذریعہ دین کی تبلیغ واشاعت سلاطین کی تلوار اور علماء کے قلم سے بھی زیادہ ہوئی ہے، ان کا خاص موضوع یہی ہے کہ نفوس کی تر بیت اور اخلاق کا تز کیہ کیا جائے۔ ان کے یہاں بھی تر بیت کا ایک طریقہ یہ ہے کہ پہلے جذب ہو، پھر سلوک، اسی کانام مجذوب سالک رکھتے ہیں، بظا ہر یہ طریقہ اقر ب الی القر آن ہوگا۔
 البتہ قرآن کریم میں صرف ایک جگہ جہاں آنحضرت a کے بارے میں حضرت ابراہیمm کی دعا نقل فرمائی ہے، آنحضرت a کے ان چار مناصب میں سے تز کیہ کو کتاب وحکمت کی تعلیم کے بعد سب سے آخر میں رکھا ہے۔ اس سے ایک تو اس طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم کا اول وآخری مقصد تز کیہ ہے۔ دوسرے اس طرف اشارہ ہے کہ تز کیہ بقدرِ ضرورت تو تعلیم سے پہلے ہو نا چاہیے، مگر کا مل تز کیہ کی نوبت علم کے بعد ہی آسکتی ہے، یعنی علم کے بعد عمل ہوگا اور علم ہی ذریعہ بنے گا عمل کا، گو یا اس آیت میں تر بیت کا دوسرا طریقہ بیان فرمایا ہے جو حضرات صو فیہ کے یہاں سالک مجذوب کہلا تا ہے، لوگوں کی استعدا دیں مختلف ہوتی ہیں، کسی کو تعلیم کے بعد بھی تز کیہ کی ضرورت رہتی ہے اور کسی کو تز کیہ کے بعد تعلیم کی حاجت ہوتی ہے، نہ تز کیہ کے مراتب ختم ہوتے ہیں، نہ تعلیم کی انتہا ہے۔
خلاصہ یہ کہ حضرت رسول اللہ a کا منصب صرف تعلیم اور سمجھا نا ہی نہیں تھا، بلکہ اس کی تعمیل کر انا اور قوم کو ایک باعمل امت بنانا بھی تھا، جب تک آنحضرت a کے دیئے ہوئے نقشہ کی مطابق تعلیم وتر بیت پر محنت نہیں ہوتی اور افراد کی اصلاح کے ذریعہ ایک پا کیزہ اور صالح معاشرہ وجود میں نہیں آتا، سیاسی محنت صحیح طریق پر بار آور نہیں ہوگی اور تمام قوتیں شر وفساد کی نذر ہوجائیں گی۔
اسلامی سیاست اور موجودہ سیاست
دینی تر بیت کے فقدان ہی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ باوجود یکہ تمام زعماء اور سیاسی لیڈر اسلامی خدمت کا اعلان فرمارہے ہیں اور ملک وملت کی صحیح نمائند گی کا دم بھرتے ہیں، یقینا ان میں سے بعض حضرات مخلص بھی ہوں گے اور وہ اسلام کے نام کو محض اقتدار طلبی کے لیے استعمال نہیں کرتے ہوں گے، لیکن ان اسلامی نمائندوں کی اکثریت اس بات سے بھی واقف نہیں کہ جس اسلام کا ہم نا م لیتے ہیں، اسی اسلام نے سیاست کے بھی کچھ آداب تجو یز کیے ہیں اور بے ہنگم سیاست بازی پر کچھ پا بندیاں عائد کی ہیں، مثلاً موجودہ سیاست کی بنیادہی اس بات پر قائم ہے کہ ایک شخص اقتدار طلبی کے لیے کھڑا ہو، اپنی پارٹی بنائے، اپنا پر وگرام قوم کے سامنے رکھے اور قوم سے اپیل کرے کہ اس کوووٹ دے کر کرسی اقتدار پر فائز کیا جا ئے، اس کے بعد وہ جانے اور قوم کے مسائل ۔
اب دیکھئے کہ اسلام اقتدار طلبی کے مزاج ہی کی جڑکاٹ دیتا ہے، اسلام اقتدار کی خواہش کو پسند نہیں کرتا، بلکہ وہ یہ ذمہ داری معاشرہ پر ڈالتا ہے کہ وہ ایسے افراد کو آگے لائے جو:’’لَایُرِ یْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْأَرْضِ وَلَا فَسَادًا۔‘‘ (القصص:۸۳) ’’جو نہیں چاہتے زمین میں اونچا ہونا اور نہ فساد۔‘‘  کے معیار پر پورے اُتریں۔ آنحضرت a کسی ایسے شخص کو جو عہدہ کی درخواست لے کر آئے عہدہ نہیں دیتے تھے، حضرت عثمان q نے ہاتھ جوڑ جوڑ کر اور منتیں کر کر کے حضرات صحابہ s کو عہدے دیئے ہیں۔ حضرت عثمان q نے حضرت عبد اللہ بن عمر r کو عہدۂ قضاء کی پیش کش کی، انہوں نے انکار کیا۔ امیر المؤ منین q نے فرمایا: تمہارے باپ نے بھی تو قبول کیا تھا؟۔عرض کیا: ان میں ہمت ہو گی، مجھ میں نہیں۔ امیر المؤ منینؓ نے منت وسماجت کی، مگر ان کی معذرت غالب آگئی ۔ حضرت عثمان q نے فرمایا: بہت اچھا، مگر کسی اور کو نہ بتانا، ورنہ کوئی بھی اس کے لیے آمادہ نہ ہوگا ۔ حضرت تھانوی v کے ملفوظات میں ہے کہ شاہ عبد العز یز v کا جامع مسجد دہلی میں وعظ تھا جس میں ایک انگر یز بہادر بھی موجود تھا، تقریر کے بعد اس نے مسلمانوں سے سوال کیا کہ مسلمانوں کے ہاتھ سے سلطنت کیوں جاتی رہی؟ کسی نے کچھ جواب دیا، کسی نے کچھ، اس نے کہا: میں بتا تا ہوں کہ اصلی وجہ یہ تھی کہ اس منصب کے اہل لوگوں نے اس سے گر یز کیا اور نااہل لوگ اوپر آگئے اور یہی نا اہلی زوال سلطنت کا باعث بنی۔
مسلمانوں کی نمائند گی
 ہم جانتے ہیں کہ اس زمانۂ قحط الر جال میں جس میں انسانوں کی تو افر اط ہے، مگر آدمی بہت کم ہیں، نہ اسلام کا معیاری معاشر ہ ہے، نہ معیاری نمائندے مل سکتے ہیں، لیکن کم ازکم اتنا تو ہو کہ جو لوگ اسلام کی خدمت اور مسلمانوں کی نمائند گی کا دعویٰ لے کر اُٹھیں، ان میں صوم وصلوٰۃ کی پابندی، دینی شعائر کا احترام، اسلام کے ضابطۂ حیات پر کامل اذعان اور اسلامی اخلاق و اعمال پائے جائیں، وہ قول کے سچے اور بات کے پکے ہوں، انہیں غریب مسلمانوں کے مسائل کی سمجھ بو جھ اور دینی احکام کا شعور ہو، ملت کے تمام افراد کے یکساں ہمدردہوں، وہ اسلام دشمن طاقتوں کے ہاتھ کا کھلو نا نہ بنیں۔ گزشتہ بائیس سالہ تجر بہ شاہد ہے کہ غیر تر بیت یا فتہ اور غیر اصلاح شدہ نمائندوں نے اسمبلیوں میں کیا گل کھلائے ہیں، اب پھر اسی قسم کے لوگوںکو آگے لانے کا مطلب اس کے سوااور کیا ہے کہ اس الیکشن اور اس کے بعد وجود میں آنے والے دستور سے جو تو قعات وابستہ کی جارہی ہیں ان کا حشر بھی وہی ہوگا جو پہلے ہو چکا ہے، یہ دستور سازی کا ساراوقت اکھاڑ پچھاڑ میں کھودیں گے اور ۱۲۰؍ دن بعد کہا جائے گا کہ اسلامی دستور پر قوم کے نمائندے متفق نہیں ہوسکے ، لا فعل اللّٰہ ذٰلک۔
جن لوگوں کا بار ہا تجر بہ ہوچکا ہے، دوبارہ ان ہی کا تجر بہ کیے چلے جانا اور جن کی اسلامیت کا نقشہ آنکھوں کے سامنے ہے اور ان پر اعتماد کر لینا اس کا نتیجہ سوائے ندامت کے اور کیا ہوگا ،حافظ شیرازی v فرماتے ہیں :
ہر چند کازمودم از وے نبود سودم
’’من جرب المجرب حلت بہ الندامۃ۔‘‘
’’میں نے ہر چند اُسے آز مایا، مگر مجھے اس سے کچھ نفع نہ پہنچا۔ جو شخص تجربہ شدہ کو آزماتا ہے اسے ندامت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔‘‘
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے