بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 جُمادى الأولى 1443ھ 09 دسمبر 2021 ء

بینات

 
 

نام ونمود اور ریاکاری کی مذمت


نام ونمود اور ریاکاری کی مذمت

 

انسان کی عبادت اور اعمال کا دارومدار نیت پر ہے، اگر نیت خالص ہے تو اعمال اللہ کے ہاں قبول ہوتے ہیں، اگر نیت میں کھوٹ ہے یا ریاکاری یا نام ونمود مقصود ہے تو ایسے اعمال بجائے قبولیت کے انسان کے لیے موجبِ وبال بنیں گے۔ علماء کرام نے لکھا ہے کہ اعمال کی قبولیت کی دو شرائط ہیں: پہلی شرط یہ ہے کہ وہ عمل خالص اللہ کے لیے ہو، دوسری شرط یہ ہے کہ وہ عمل سنت کے مطابق ہو۔ ان دو شرائط میں سے کوئی بھی ایک شرط نہ پائی گئی تو وہ عمل قبول نہیں ہوگا، اور ریاکاری ایسا مذموم وصف ہے کہ اس کی وجہ سےمسلمان کا بڑے سے بڑا نیک عمل اللہ کے ہاں رائی کے دانے کی حیثیت نہیں رکھتا، اور ریاکاری کے بغیر کیا ہوا چھوٹاعمل بھی اللہ کے ہاں پہاڑ کے برابر حیثیت رکھتا ہے۔ اللہ رب العزت نے ریاکاری کی مذمت مختلف آیات میں بیان فرمائی ہے، چنانچہ ارشاد ہے: 
’’فَمَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَاۗءَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖٓ اَحَدًا۔‘‘
’’پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو، اسے چاہیے کہ وہ اچھے اعمال کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔‘‘ (الکہف:۱۱۰)
دوسری جگہ ارشاد ہے: 
’’وَالَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ رِئَاۗءَ النَّاسِ وَلَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللہ وَلَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِر وَمَنْ یَّکُنِ الشَّیْطٰنُ لَہٗ قَرِیْنًا فَسَاۗءَ قَرِیْنًا۔‘‘ (النساء:۳۸)
’’جو لوگ اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لیےخرچ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پرایمان نہیں رکھتےاور جس کا ہم نشین اور ساتھی شیطان ہو، وہ بدترین ساتھی ہے۔‘‘ 
ایک اور مقام پر اﷲ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
’’یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِکُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰى کَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَا لَہٗ رِئَاۗءَ النَّاسِ وَلَا یُؤْمِنُ بِاللہ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ‘‘ (البقرہ :۲۶۴)
’’اے ایمان والو! اپنی خیرات کو احسان جتا کر اور ایذا پہنچا کر برباد نہ کرو! جس طرح وہ شخص جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرے اور نہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھے نہ قیامت پر۔‘‘ 
ان آیات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ریاکار اپنے عمل سے یہ بات ثابت کرتا ہے کہ اﷲ سے اس کو اجر کی توقع نہیں، کیوں کہ جس سے توقع ہوگی اُسی کے لیے عمل کیا جائے گا اور ریاکار کو خالق کے بجائے مخلوق سے اجر کی توقع ہوتی ہے۔ اسی طرح اس کا آخرت پر بھی ایمان نہیں کہ اگر ایمان ہوتا تو ہرگز خالق کو چھوڑ کر مخلوق سے اجر کی توقع نہ رکھتا اور آخرت کی باز پرس سے ڈرتا۔احادیثِ مبارکہ میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریاکاری کی سخت مذمت بیان فرمائی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’کیا میں تمہیں اس چیز کی خبر نہ دوں جو میرے نزدیک تمہارے لیے مسیح دجال سے بھی زیادہ خوفناک ہے؟ راوی کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: ہاں! کیوں نہیں؟! فرمایا: وہ شرکِ خفی ہے کہ آدمی کھڑا ہوکر نماز پڑھے اور کسی شخص کو اپنی طرف دیکھتا ہوا دیکھ کر اپنی نماز اور سنوار لے۔‘‘ (سنن ابن ماجہ)
دوسری حدیث میں ہے:
’’جب اللہ تعالیٰ تمام اگلوں اور پچھلوں کو قیامت کے روز جس کی آمد میں کوئی شک نہیں جمع کرے گا، تو ایک آواز لگانے والا آواز لگائے گا:’’ جس نے اللہ کے لیے کیے ہوئے کسی عمل میں کسی غیر کو شریک کیا ہو وہ اس کا ثواب بھی اسی غیر اللہ سے طلب کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ شرک سے تمام شریکوں سے زیادہ بے نیاز ہے۔‘‘ (سنن الترمذی)
 ایک اور مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جوشخص شہرت کے لیے کوئی عمل کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے عیوب ظاہر کر دے گا اور جو دکھاوے کے لیے عمل کرے گا اللہ تعالیٰ اُسے رسوا کر دے گا۔‘‘ (بخاری)
اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اخلاص کے ساتھ نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا کرے۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے