بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ذو الحجة 1445ھ 23 جون 2024 ء

بینات

 
 

مولانا سید محمد شاہد سہارن پوریؒ کی رحلت


مولانا سید محمد شاہد سہارن پوریؒ کی رحلت


شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا قدس سرہٗ کے نواسہ، جامعہ مظاہر علوم سہارن پور کے ناظم اعلیٰ کتبِ کثیرہ کے مصنف ، نامور عالم دین حضرت مولانا سید محمد شاہد سہارن پوریؒ ۲۰؍ ربیع الاول ۱۴۴۵ھ مطابق ۶؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء بروز جمعہ مغرب سے پہلے اس دنیائے رنگ وبو میں ۶۷ بہاریں گزار کر راہیِ عالمِ آخرت ہوگئے، إنا للہ وإنا إلیہ راجعون، إن للہ ماأخذ ولہٗ ما أعطٰی وکل شيء عندہٗ بأجل مسمّٰی۔
مولانا سید محمد شاہد ۲۱؍جنوری ۱۹۵۱ء بروز جمعہ اپنے نانا شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا قدس سرہٗ کے گھر سہارن پور میں پیدا ہوئے۔ ۱۸؍جولائی ۱۹۵۶ء کو خانقاہ عالیہ رائے پور میں تعلیم کی بسم اﷲ ہوئی۔ ۲۲؍فروری ۱۹۶۰ء بروز جمعہ دعوت و تبلیغ کے امیر دوم حضرت جی مولانا محمد یوسف، امیر سوم حضرت مولانا انعام الحسن کاندھلوی اور مولانا حکیم سید محمد ایوب کی موجودگی میں حفظ کی تکمیل ہوئی۔ کچھ عرصہ عصری تعلیم بھی حاصل کی۔ ۶؍فروری ۱۹۶۶ء کو مظاہر علوم میں درجہ متوسطہ میں باضابطہ داخلہ ہوا اور اس سال رمضان المبارک کی تراویح میں مسجد حکیماں والی اپنی خاندانی مسجد میں قرآن مجید سنایا۔
۱۵؍جنوری ۱۹۶۹ء کو مولانا انعام الحسن کاندھلوی کی صاحبزادی سے آپ کا عقد ہوا۔ شعبان ۱۳۹۰ھ، اکتوبر ۱۹۷۰ء میں مظاہر علوم سہارن پور سے دورہ حدیث مکمل کیا۔ حضرت مولانا محمد یونس جونپوری کے ہاں بخاری شریف ومسلم شریف، مولانا محمد عاقل صاحب کے ہاں ابودائود اور نسائی شریف، مولانا مفتی مظفر حسین کے ہاں ترمذی شریف، مولانا اسعداﷲ صاحب کے پاس طحاوی شریف پڑھیں۔ اگلے سال دسمبر ۱۹۷۰ء سے اکتوبر ۱۹۷۱ء تک بیضاوی، مدارک، درمختار، ملا حسن، دیوان متنبی پڑھ کر تکمیل کا کورس مکمل کیا۔ شوال ۱۳۹۲ھ مطابق اکتوبر ۱۹۷۲ء سے مظاہر علوم میں تدریس کا آغاز کیا اور آخری دم تک مظاہر علوم ہی میں متوسطہ سے دورہ حدیث شریف تک اسباق پڑھائے۔ تدریس میں بھی مولانا سید محمد شاہد سہارن پوری اپنے بزرگوں کی روایات کے امین رہے۔ مولانا سید محمد شاہد سہارن پوری کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اپنی پیدائش سے لے کر حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا کاندھلویؒ کے وصال تک ان کے شب وروز اپنے نانا شیخ الحدیث کے زیر تربیت وزیرسایہ گزرے۔ ان کی فضیلت کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ درس وتدریس، تصوف وتبلیغ، تصنیف وتالیف ، مظاہر علوم کے نظم ونسق میں حضرت شیخ الحدیث کی روایات کا پرتو لیے ہوئے تھے۔ مظاہر علوم کی تعمیر وترقی، تعلیمی وتربیتی ماحول کو وہ عروج بخشا جو آپ ہی کا حصہ تھا۔ آپ بیک وقت مظاہر علوم کی نظامت اور نظام الدین دہلی کے تبلیغی مرکز کی خدمت دونوں کو اپنے ساتھ لے کر چلے۔ مظاہر علوم اور نظام الدین کے معاملات کے مدوجزر میں بہت ہی امن وسلامتی، دور بینی اور بیدار مغزی اور بالغ نظری سے حالات کی کشتی کوصحیح سمت اور منزل پر جا کر اُتارا۔
جامعہ مظاہر علوم کی تاریخ، اس کی خدمات، مظاہر علوم کے فضلاء کے حالات و واقعات پر ایسی شاندار اور وقیع کئی کتابیں تحریر کیں جو تاریخ میں اپنے مثالی کردار کی حامل ہیں۔ مظاہر علوم کی تاسیس سے لے کر اس وقت تک کی مکمل تاریخ کا ایسا نقشہ قلم بند کیا کہ بر صغیر کی پوری تاریخ کا خلاصہ بھی قلم بند ہوگیا۔ آپؒ تاریخ مظاہر اور خدمات مظاہر پر کلید کی حیثیت رکھتے تھے۔ مولانا سید محمد شاہد سہارن پوریؒ کے بیرون کے بہت تبلیغی اسفار ہوئے، جہاں تشریف لے جاتے اپنی باغ وبہار شخصیت کی یادیں چھوڑ آتے۔ ان کا تبلیغی وعلمی بہت بڑا حلقہ تھا۔ حضرت شیخ الحدیث کی علمی جانشینی اور ان کے خاندان کے جملہ اکابر کی روایات کے آپ علمبردار تھے اور اس بات میں کوئی مبالغہ نہیں کہ وہ عبقری انسان تھے۔ شب وروز دینی تعلیم کو ترویج دینے اور پروان چڑھانے میں آپ کا ایک مثالی کردار رہا، درجنوں کتابیں آپ کی قلمی یادگار ہیں، جس میں بعض کئی جلدوں میں ہیں۔ ۱۹۹۳ء سے جامعہ مظاہرعلوم کے امین عام تھے، اس وقت اپنے حالاتِ زندگی ’’حیاتِ مستعار‘‘ کے نام سے لکھ رہے تھے، جس کی تین جلدیں منظر عام پر آچکی ہیں، چوتھی اور آخری جلد زیر تصنیف تھی، جامعہ مظاہرعلوم اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے باہمی تعلقات پر ایک دستایزی کتاب ’’دو علمی آبشار‘‘ طباعت کے لیے پریس جاچکی ہے۔ ماہنامہ مظاہر علوم کے مدیر مولانا عبداﷲ خالد قاسمی، مولانا شاہد سہارن پوری جامعہ مظاہر علوم کے ناظم اعلیٰ کی بابت لکھتے ہیں کہ:’’مدرسہ کے داخلی وخارجی معاملات ومسائل پر بڑی گہری نظر رکھتے تھے، طلبہ کے مسائل، تعلیمی سرگرمیوںپر نظر، اس کے استحکام کے لیے مسلسل کوشش، مدرسہ کے مالیاتی نظام کو باریک بینی سے دیکھنا اور اس کے سلسلہ میں صائب اور درست فیصلے کرنا، یہ وہ امتیازی خصوصیت تھی جن کی بنا پر برملا یہ کہا جاتا ہے کہ مظاہر علوم کی تاریخ میں ایسی جفا کش، محنتی اور تدبیر وتدبر کی حامل شخصیت نہیں گزری۔‘‘
اللہ تعالیٰ حضرت مولانا کی حسنات کو قبول فرمائے، ان کو جنت الفردوس کا مکین بنائے، اور ان کے لواحقین، منتسبین اور عقیدت مندوں کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ ادارہ بینات حضرت مولانا کے لواحقین سے تعزیت کا اظہار کرتا ہے اور قارئینِ بینات سے ان کے لیے ایصالِ ثواب کی درخواست کرتا ہے۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین