بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الثانی 1442ھ- 01 دسمبر 2020 ء

بینات

 
 

موبائل اکاؤنٹ اور فری منٹ کا حکم

موبائل اکاؤنٹ اور فری منٹ کا حکم


کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام ا س مسئلہ کے بارے میں کہ:
ایک کمپنی نے یہ اسکیم بنائی ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے موبائل میں اکاؤنٹ بنالیتاہے اور پھر ریٹیلر کے ذریعے اپنے اکاؤنٹ میں کم از کم ۱۰۰۰ ہزار روپیہ جمع کروادے اور ایک دن گزرجائے، تو کمپنی اس شخص کو مخصوص تعداد میں فری منٹس دے دیتی ہے۔ اس اکاؤنٹ کے کھلوانے کے لیے کوئی فارم وغیرہ فل نہیں کرنا پڑتا اور فری منٹس ملنا اس شرط کے ساتھ مشروط ہوتا ہے کہ اکاؤنٹ میں کم از کم ۱۰۰۰ روپے جمع رہیں، جیسے ہی ایک روپیہ اس مقدار سے کم ہوگا، تو یہ سہولت ختم ہوجائے گی۔
موبائل اکاؤنٹ میں ایک سہولت یہ بھی ہے کہ اپنے اس اکاؤنٹ کے ذریعے منی ٹرانسفر بھی کی جاسکتی ہے اور اس صورت میں ریٹیلر کے ذریعے بھیجنے کی نسبت ۲۲ فیصد کم پیسے لگیںگے اور اس سہولت کے لیے پہلے سے کوئی رقم ہونا ضروری نہیں ہے۔ جس وقت رقم بھیجنی ہے، اسی وقت وہ رقم ساتھ میں ٹیکس ڈلوا کر ٹرانسفر کردیں تو ٹرانسفر ہو جائے گی، جبکہ رقم ایک دن جمع نہ رکھیں، بلکہ اسی دن کے اندر ٹرانسفر کردیں۔
اس اکاؤنٹ میں ایک سہولت یہ بھی ہے کہ اس کے ذریعے بل بھی جمع کروایا جاسکتا ہے اور یہ بل جمع کروانے کے لیے بھی کوئی رقم اکاؤنٹ میں ہونا ضروری نہیں اور اس جمع کروانے پر کوئی ٹیکس بھی نہیں لگے گا اور اس صورت میں فری منٹس وغیرہ کی کوئی سہولت بھی نہیں ملے گی، جبکہ رقم ایک دن جمع نہ رکھیں، بلکہ اسی دن کے اندر ٹرانسفر کردیں۔شرعی رہنمائی فرمائیں کہ:
۱:- اس طرح کا اکاؤنٹ کھلواکر فری منٹس لینا جائز ہے یا نہیں؟ اور جو ریٹیلر رقم جمع کرتا ہے، اس کے لیے کیا حکم ہے؟
۲:- اگر کوئی اس ارادے سے اکاؤنٹ کھلوائے کہ میں فری منٹس نہیں لوں گا، فقط رقم ٹرانسفر کرنے یا بل جمع کروانے کے لیے رقم جمع کرواؤںگا اور اسی وقت ہی رقم ٹرانسفر کردوں گا یا بل جمع کروادوں گا، ایک دن گزرنے ہی نہیں پائے گا، تو کیااس طرح اکاؤنٹ کھلوانا شرعاً جائز ہے؟ مستفتی:محمد قاسم

الجواب حامدا ومصلیا

’’ایزی پیسہ اکاؤنٹ‘‘ ایک ایسی سہولت ہے جس میں آپ اپنی جمع کردہ رقوم سے کئی قسم کی سہولیات حاصل کرسکتے ہیں، مثلاً: بلوں کی ادائیگی، رقوم کا تبادلہ، موبائل وغیرہ میں بیلنس کا استعمال، وغیرہ۔ نیز تحقیق کرنے پر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ان کی پشت پر ایک بینک ہوتا ہے، جس کا نام: ’’Telenor Micro-Financing bank‘‘ ہے، یہ بھی ایک قسم کا بینک ہی ہے کہ جس میں عام طور پر چھوٹے سرمایہ داروں کی رقوم سود پر رکھی جاتی ہیں اور اس میں سے چھوٹے کاروباروں کے لیے سود پر قرض بھی دیا جاتا ہے۔
اس کی فقہی حیثیت یہ ہے کہ اس اکاؤنٹ میں جمع کردہ رقم قرض ہے اور چوں کہ قرض دے کر اس سے کسی بھی قسم کا نفع اُٹھانا جائز نہیں ہے، اس لیے قرض کے بدلے کمپنی کی طرف سے دی جانے والی سہولیات وصول کرنا اور ان کا استعمال کرنا جائز نہیں ہے، لہٰذا کمپنی اکاؤنٹ ہولڈر کو اس مخصوص رقم جمع کرانے کی شرط پر یومیہ فری منٹس اور میسچز وغیرہ کی سہولت فراہم کرتی ہے یا رقم کی منتقلی پر ڈسکاؤنٹ وغیرہ دیتی ہے یا ایزی لوڈ پر کیش بیک دیتی ہے تو اُن کا استعمال جائز نہیں ہوگا، اس لیے کہ اس اکاؤنٹ میں رقم رکھوانا در حقیقت قرض ہے اور قرض دینا تو فی نفسہٖ جائز ہے، لیکن کمپنی اس پر جو مشروط منافع دیتی ہے یہ شرعاً ناجائز ہے، اس لیے کہ قرض پر شرط لگاکر نفع کے لین دین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سود قرار دیا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، کتاب البیوع والاقضیۃ، رقم الحدیث:۲۰۶۹۰)
نیز چونکہ اس صورت میں مذکورہ اکاؤنٹ کھلوانا ناجائز معاملے کے ساتھ مشروط ہے، اس لیے یہ اکاؤنٹ کھلوانا یا کھولنا بھی جائز نہیں ہوگا۔
اگر کوئی ’’ایزی پیسہ اکاؤنٹ‘‘ کھلواچکا ہو تو اس کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ جلد از جلد مذکورہ اکاؤنٹ ختم کروائے اور صرف اپنی جمع کردہ رقم واپس لے سکتاہے یا صرف جمع کردہ رقم کے برابر استفادہ کرسکتا ہے، اس رقم پر ملنے والے اضافی فوائد حاصل کرنا اس کے لیے جائز نہیں ہوںگے۔
اور اگر کوئی کمپنی ایزی پیسہ اکاؤنٹ کھلوانے کو مخصوص رقم جمع کرانے سے بھی مشروط نہ کرے اور رقم جمع کرنے پر اضافی رقم یا سہولیات وغیرہ بھی نہ دے، بلکہ رقوم کی منتقلی، بلوں کی ادائیگی یا لوڈ کرنے کی حد تک سہولیات ہوں تو ایسا اکاؤنٹ کھلوانا اور اس سے استفادہ کرنا جائز ہوگا۔
واضح رہے کہ عموماً ایزی پیسہ اکاؤنٹ پہلی صورت والا ہوتا ہے، اس لیے ’’ایزی پیسہ اکاؤنٹ‘‘ کھلوانے سے اجتناب کیا جائے۔فتاویٰ شامی میں ہے: 
’’وفي الأشباہ: کل قرض جر نفعًا حرام، فکرہ للمرتہن سکنی المرہونۃ بإذن الراہن۔‘‘ (کتاب البیوع، باب فی القرض، مطلب کل قرض جر نفعا، ج :۶، ص:۱۶۶، ط:سعید)
’’وفیہ أیضا وفي الخانیۃ: رجل استقرض دراہم وأسکن المقرض في دارہ، قالوا: یجب أجر المثل علی المقرض لأن المستقرض إنما أسکنہ في دارہ عوضًا عن منفعۃ القرض لامجانا۔‘‘ (کتاب الاجارۃ، باب الاجارۃ الفاسدۃ، مطلب فی استئجار الماء مع القناۃ واستئجار الآجام والحیاض للسمک، ج: ۶، ص:۶۳،ط:سعید)
’’إعلاء السنن‘‘ میں ہے:
’’قال ابن المنذر: أجمعوا علی أن المسلف إذا شرط علی المستسلف زیادۃ أو ہدیۃ فأسلف علی ذٰلک إن أخذ الزیادۃ علی ذٰلک ربا۔‘‘ (کتاب الحوالۃ، باب کل قرض جر منفعۃ، ج: ۱۴، ص:۵۱۳، ط:ادارۃ القرآن) واللہ اعلم

 الجواب صحیح

 الجواب صحیحکتبہ

 ابوبکر سعید الرحمن

محمد انعام الحق

حسین احمد ایوبی

الجواب صحیح

 

تخصصِ فقہِ اسلامی

 محمد داؤد

 

جامعہ علومِ اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے