بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شوال 1441ھ- 07 جون 2020 ء

بینات

 
 

مملکتِ پاکستان اور مسلمانوں کا فریضہ

مملکتِ پاکستان اور مسلمانوں کا فریضہ


 طاقت و قوت، دولت و ثر وت اور حکومت و سلطنت اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم نعمتیں ہیں جو مسلمانوں کو صرف اس لیے دی جاتی ہیں کہ ان کے ذریعہ اس سر زمین پر اللہ تعالیٰ کا قانون اور احکامات نافذ کر کے اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مستحق بنیں، چنانچہ تقریباً ایک ہزار سال تک اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ان نعمتوں سے سرفر از فرمایا، لیکن جب مسلمان قومیں دولت وحکومت کے نشہ میںمست ہو کر اس مقصد سے منحرف وروگرداں اور اس کی پاداش کے طور پر سلطنت کی اہلیت سے محروم ہوگئیں تو اللہ تعالیٰ کی وہ نعمتیں بھی ان سے چِھن گئیں، کہیں تو بالکلیہ ان نعمتوں سے محروم ہوئیں اور کہیں حقیقۃً تو چھن گئیں برائے نام رہ گئیں۔
اسی قانونِ فطرت کے تحت متحدہ ہندوستان پر صدیوں مسلمانوں کا اقتدارِ اعلیٰ بر قرار رہا ہے اور اسلامی پرچم اس پورے برِصغیر پر لہراتا رہا، لیکن آخر شامتِ اعمال کے برے نتائج سامنے آئے اور برطانوی استعمار کے ابوالہول نے مسلمانوں کی عزت وعظمت، دولت وثروت اور حکومت و سلطنت سب خاک میں ملادی۔
غلامی کی رُسوا کن ٹھوکریں کھانے کے بعد آنکھ کھلی تو عرصۂ دراز تک تو بارگاہِ الٰہی میں گریہ وزاری اور آہ وفغاں کرتے رہے اور کچھ عرصہ دولتِ رفتہ کو دوبارہ حاصل کرنے کی تد بیر یں بھی کیں اور قربانیاں بھی دیں، آخر پھر دریائے رحمت جوش میں آیا اور تو فیقِ الٰہی نے سہارا دیا اور چھنی ہوئی سلطنت کا کچھ حصہ دوبارہ بطورِ امتحان عطا فرمایا، اسی کا نام پاکستان ہے۔
 ظاہر ہے کہ پاکستان کی تشکیل کا واحد مقصد حکومتِ الٰہی کا قیام تھا، نعمتِ حق کا خوانِ یغما اس کا نام لینے والی مخلوق کے لیے بچھانا تھا، اس کے قانونِ رحمت، قانونِ عدل وانصاف اور قانونِ حکمت وعدالت کو اس پاک سر زمین پر نافذ کرنا تھا، تاکہ اس ارضِ پاک پر ایک پاکیزہ معاشرہ کی تشکیل وتعمیر ہو اور اس پا کیزہ ماحول میں ایک خدا پرست صالح اُمت وجود میں آئے اور وہ اپنے پاکیزہ کردار اور اہلیت وصلاحیت کی بنا پر ہندوستان کے بقیہ حصہ کی وراثت کے صحیح معنی میں مستحق بنے ، دین ودنیا ہر اعتبار سے ایک معیاری حکومت، فلاحی مملکت اور ایمانی قوت سے مسلح قوم بن کر جلد از جلد اس قابل ہوجائے کہ اُمتِ مسلمہ کے چھ کروڑ نفوس جو ایک ظالم وجابر اور بے رحم اقتدار کے آہنی شکنجہ میں کراہ رہے ہیں، ان کو اس ’’دیو استبداد‘‘ کے خونخوار پنجے سے نجات دلائے۔
 یہی ہماری آرزو ہے اور یہی ہر مسلمان کی تمنا ہونی چاہیے، اسی خواہش کے تحت ’’بینات‘‘ کے صفحات پر جو کچھ لکھا جاسکا لکھا گیا، کسی کسی وقت طرزِبیان سخت اور درشت بھی ہوگیا ہے اور تنقید نے شدید لہجہ بھی اختیار کرلیا، لیکن الحمدللہ! جو کچھ اَب تک لکھا گیا ہے اور جو کچھ آئندہ لکھا جائے گا، وہ محض اخلاص پر مبنی اور اسی قلبی آرزو کی ایک دَبی ہوئی تڑپ ہوتی ہے جو تیز وتند تعبیر اور طرزِ ادا کی شکل اختیار کر لیتی ہے، ہوسکتا ہے کہ حقیقت ناشناس طبائع کے لیے ہماری یہ تلخ نوائی قابلِ اعتراض ہو، ہوا کرے۔ واقعہ بہرحال یہ ہے: ہم نہ رسمی سیاست جانتے ہیں اور نہ سیاستِ حاضرہ کے مردِ میدان میں نہ کسی سیاسی جماعت سے تعلق ہے نہ اس کی تر جمانی، نہ قومی اسمبلی میں کوئی کر سی حاصل کرنے کی خواہش ہے نہ کسی کر سیِ وزارت کی تمنا، ہاں! یہ خواہش اور کو شش وکاوش ضرور ہے کہ قومی یا صوبائی اسمبلی کی کرسی پر بیٹھنے والے اور قلمدان وزارت و حکومت سنبھا لنے والے افراد اس کرسی اور قلمدان کی واقعی اہلیت کسی نہ کسی طرح ضرور پیدا کرلیں اور جس طرح وہ دنیا میں عزت وعظمت سے ہمکنار ہوئے تھے، اسی طرح آخرت کی سرخروئی سے بھی ضرور سرفراز ہوں، یعنی اللہ تعالیٰ کے قانونِ عدل وانصاف کو اس پاک سرزمین میں ضرور نافذ اور اُستوار کریں، تاکہ اسلامی مملکت کا وقار خالق ومخلوق دونوں کی نظروں میں پیدا کرسکیں، اسی مقصد کے لیے ہم وقتاً فوقتاً ان کو جھنجھوڑتے رہتے ہیں۔
بہرحال جس طرح ہر پاکستانی کا طبعی اور فطری جذبہ یہ ہے اور ہونا چاہیے کہ ہمارا یہ ملک دنیا میں ایک مضبوط اور طاقت ور ملک اور اغیار واعداء کی گوناگوں ریشہ دوانیوں سے ہمیشہ محفوظ رہے، اسی طرح ایک سچے پاکستانی مسلمان کے دل میں بحیثیت مسلمان ہونے کے یہ تڑپ بھی ضرور ہے اور ہونی چاہیے کہ اس مملکت میں اسلامی قانون ضرور جا ری ہو اور پاکیزہ اسلامی معاشرہ کی تشکیل ضرور ہو، تاکہ حیاتِ طیبہ اور پاکیزہ معیشت کی دینی اور دنیوی برکات سے یہ مملکت مالامال ہو، لیکن جب بھی وہ یہ محسوس کرے کہ حالات کی رفتار اُمید اور توقع کے بالکل برعکس ہے اور مقصد فوت ہورہا ہے، پوری قوم مجموعی طور پر سیرت وصورت، گفتارو کردار، اخلاق واطوار اور جذبات ورجحانات غرض ہر اعتبار سے ایک خدافراموش قوم کی صورت اختیار کرتی جارہی ہے تو اس کو یہ اندیشہ اور اس پر جانکاہ صدمہ بھی ضرور ہو گا کہ خدا نا کردہ -خاکم بدہن- یہ آزمائشی طور پر دی ہوئی نعمت کہیں پھر نہ چھن جائے۔
 اس لیے کہ کسی بھی شخص کے مسلمان ہونے کے معنی ہی یہ ہیں کہ وہ خدااور رسول سے معاہدہ کر چکا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی بہرحال اطاعت کرے گا۔ احکامِ الٰہیہ کو بدل وجان تسلیم اور ان پر عمل پیرا ہوگا اور اگر اس کے ہاتھ میں اقتدارِ اعلیٰ ہے یا آئے گا تو ان احکامِ الہٰیہ کو ملک میں نافذ بھی کرے گا، اس حقیقت کے ہوتے ہوئے جب مسلمان اس معاہدے کی خلاف ورزی کرے گا تو قوی اندیشہ ہے کہ وہ اس عہد شکنی کے جرم کی سزا میں جلد یا بدیر پکڑا نہ جائے۔ پھر کیونکر ممکن ہے کہ ایک مسلمان مملکت کا مسلمان شہری ملک کی اس غیر اسلامی رفتار کو دیکھ کر خاموش بیٹھا رہے۔

دینی اتحاد

مسلمان از روئے مذہب جس طرح اس کا مامور ہے کہ اپنے ملک اور قوم کا ایک فرد ہونے کی حیثیت سے اپنی ملکی مسلمان برادری کے حق میں قولاً وفعلاً جس طرح ممکن ہو خیر خواہی کرے، اسی طرح وہ عالمگیر اسلامی اُخوت کی بنا پر ایک عالمگیر برادری -مسلمانانِ عالم- میں منسلک ہونے کی حیثیت سے مذہباً اس کا بھی مامور ہے کہ ہر ملک کے مسلمانوں کے حق میں قولاً و فعلاً جس طرح ممکن ہو خیرخواہی اور خیرسگالی کا فرض ادا کرے۔ قرآن کریم کے واضح ارشادات اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح احادیث اس عالمی اسلامی خیرخواہی کے باب میں بکثرت موجود ہیں۔
اس لیے کہ مسلمان کے لیے عالمگیر رابطہ عالم اسلام اور عالمگیر رشتہ اُخوتِ اسلامی اور دینی وحدت ہے، جس میں تمام روئے زمین کے مسلمان منسلک ہیں، نہ قومیت مسلمانوں کا رشتۂ اتحاد ہے، نہ وطنیت، نہ رنگ اور نہ نسل۔ اسلامی قومیت کی اساس اتحادِ خون ونسل، اتحادِ ملک ووطن اور اتحادِ رنگ وروپ سب سے بر تر اور وراء الوراء خالص دینی اتحاد ہے، جو محض ایک روحانی اور معنوی رشتہ ہے اور ظا ہر ہے کہ روحانی رشتہ مادی رشتہ سے بہت زیادہ اعلیٰ وارفع اور قومی ومحکم تر ہوتا ہے، اس لیے تمام اسلامی حکومتوں اور تمام ممالک کے مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس روحانی رشتہ - اسلامی وحدت- کو ہر طرح کے اضمحلال اور ضعف سے محفوظ کر کے قوی سے قوی تر بنائیں۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے