بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الاول 1443ھ 22 اکتوبر 2021 ء

بینات

 
 

مفقود الخبر (گم شدہ /لاپتا شخص) کے انتظار کی مدت کیا ہے؟

مفقود الخبر (گم شدہ /لاپتا شخص) کے انتظار کی مدت کیا ہے؟


کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
مفقود الخبر کو میراث ملنے کے حکم میں احناف کا راجح قول ۹۰ سال کا انتظار ہے؟ یا حاکم اس کی موت کا فیصلہ کردے تو جس وقت سے غائب ہوا، اُس وقت سے اُسے مردہ سمجھ کر اس کے بعد مرنے والے مورث کا حصہ اس کو نہیں ملے گا؟ کون سا حکم لگایا جائے گا؟
ہمارے استاذ صاحب کے بقول جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کا فتویٰ ہے کہ وہاں سے ۶۰ سال کی مدت کا فتویٰ دیاگیاہے اور اس مسئلے میں امام مالکؒ کا قول بھی ۹۰ سال کا ہے، جیساکہ ’’رد‘‘ میں مذکور ہے۔ کیا اس مسئلے میں مفقود الخبر کی زوجہ کی مدت میں امام مالکؒ کے قول کو لیا جاسکتا ہے؟ نیز ازراہِ کرم ساٹھ سال کے قول کی دلیل بھی ضرور بتلادیں، شکریہ، جزاک اللہ!                                                مستفتی:عزیز بن یعقوب، کلفٹن، کراچی

 

الجواب حامدًا ومصلیًا

واضح رہے کہ مفقود الخبر (گم شدہ/لاپتا) شخص کی میراث سے متعلق متقدمین احناف، مالکیہ اور شوافع کا مسلک یہ ہے کہ اس کی عمر کے ۹۰ سال تک انتظار کیا جائے گا اور اس کے بعد بھی اس کی خبر نہ ہو تو اس کی میراث تقسیم کردی جائے گی۔
بعض حضرات نے اس کے شہر کے، اس کے ہم عصر وہم عمر لوگوں کا اعتبار کیا ہے کہ جب وہ سب فوت ہوجائیں تو پھر اس کو بھی مردہ تصور کیا جائے گا۔ علامہ ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ  نے حدیث’’ أعمار امتي ما بین الستین إلی البسعین‘‘ کو لیتے ہوئے ستر سال کا قول اختیار کیا ہے۔ البتہ متأخرین نے ساٹھ سال کے قول کو ترجیح دی ہے، لیکن مفقود (گم شدہ /لاپتا شخص ) کی بیوی کے نکاح کے بارے میں علماء مالکیہ کا قول میراث کے حکم سے مختلف ہے۔ اس بارے میں ان کا قول چار سال کا ہے ، یعنی چار سال انتظار اور تلاش کے بعد مفقود (گم شدہ /لاپتا شخص ) کی بیوی کے مطالبہ پر عدالت ان کا نکاح فسخ کرسکتی ہے اور ماضی قریب کے ہمارے اکابر اور علمائے احناف نے اسی کو اختیار کرتے ہوئے اس پر فتویٰ دیا ہے اور اس کا ایک طریقہ کار وضع کردیاہے، جس کی تفصیل درج ذیل ہے:
اس لاپتا شخص کی بیوی قاضی کے پاس دعویٰ پیش کرے اور اس کے ساتھ تاحال اپنے نکاح کو ثابت کرے، اس کے بعد اپنے شوہر کے مفقود (لاپتا) ہونے کو ثابت کرے، پھر قاضی اس کے شوہر کی تلاش کا حکم دے، حتی الامکان جہاں جہاں ممکن ہو‘ وہاں تلاش کروائے۔ جب قاضی اس کے ملنے سے بالکل نااُمید ہوجائے تو عورت کو چار سال کی مہلت دے، اگر ان چار سالوں میں بھی اس کی کوئی خبر نہ آئے تو عورت دو بارہ در خواست دے کر نکاح فسخ کروالے اور شوہر کو مردہ تصور کرکے عدتِ وفات چار ماہ دس دن گزار کر دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔
مزید چار سال کے انتظار کا حکم اس وقت ہے جب عورت کے لیے نفقہ اور گزارہ کا بھی انتظام ہو اور عفت وعصمت کے ساتھ یہ مدت گزارنے پر قدرت بھی ہو۔ اگر اس کے نفقہ وغیرہ کا انتظام نہ ہو تو جب تک انتظار کر سکتی ہے‘ کرے، جس کی مدت ایک ماہ سے کم نہ ہو۔ اس کے بعد عدالت سے فسخِ نکاح کے لیے رجوع کرے اور اگر نفقہ وغیرہ کا تو انتظام ہے، لیکن بغیر شوہر کے رہنے میں عفت وعصمت کا خطرہ ہے تو پھر سال بھر صبر کرنے کے بعد قاضی کی طرف جائے اور مفقود کے ساتھ اپنے نکاح اور پھر اس کے غائب ہونے کو ثابت کرے کہ وہ اتنی مدت سے غائب ہے اور اس نے اس کے لیے نہ نان نفقہ چھوڑا ہے اور نہ کسی کو نفقہ کا ضامن بنایا۔ اور عفت کی صورت میں قسم کھائے کہ میں شوہر کے بغیر عفت قائم نہیں رکھ سکتی۔
جب اِثبات اور اِشہاد (یعنی شوہر کے لاپتہ ہونے کا ثبوت اور اس پر گواہی ) کا یہ عمل مکمل ہوجائے تو قاضی عورت کو کہہ دے کہ میں نے تمہارا نکاح فسخ کیا یا شوہر کی طرف سے طلاق دے دی، یا خود عورت کو اختیار دے دے کہ وہ اپنے آپ کو طلاق واقع کرے، جب وہ اپنے آپ پر طلاق واقع کردے تو قاضی اس طلاق کو نافذ کردے اور عورت عدت گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنا چاہے تو کرسکتی ہے۔ مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی صاحب نوراللہ مرقدہٗ تحریر فرماتے ہیں:
’’اس صورت میں عورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ عدالت میں دعویٰ تفریق بوجہ مفقود الخبری شوہر دائر کرے، حاکم بعد تحقیقات ایک سال کی مدت انتظار کے لیے مقرر کردے، اگر اس عرصہ میں زوجِ غائب نہ آئے تو نکاح فسخ کردے، تاریخِ فسخ سے عدت گزار کر دوسرا نکاح کرلے۔ ایک سال کی مدت مقرر کرنا ضروری ہے، ذرائعِ رسل ورسائل کا وسیع ہونا اس شرط کے خلاف نہیں ہے، اور نہ ذرائع کی وسعت اس امر کو لازم ہے کہ گم شدہ شوہر کا پتا معلوم ہوجائے کہ وہ زندہ ہے کہ نہیں، آج بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص کے متعلق معلوم کرنے کے لیے کہ وہ زندہ ہے یا نہیں؟ تمام ذرائع استعمال کرلیے جاتے ہیں اور فیصلہ کرلیا جاتا ہے، لیکن بعد میں فیصلہ غلط ہوتا ہے، غرض یہ کہ ایک سال کی مدت اس مصلحت کے لیے ہے کہ امکانی حد تک شوہر کے متعلق کسی نتیجہ پر پہنچا جائے، واللہ تعالیٰ اعلم۔ ‘‘
اور اگر دوسری شادی کے بعد پہلا شوہر لوٹ آئے تو مذکورہ خاتون کا نکاح اس کے پہلے شوہر سے بدستور قائم رہے گا، دوسرے شوہر کے ساتھ اس کا نکاح خود بخود باطل ہوجائے گا، اس لیے دوسرے شوہر سے فوراً علیحدگی لازم ہوگی اور اگر اس خاتون کی دوسرے نکاح کی رخصتی بھی ہوگئی ہو تو پہلے شوہر کو اس کے ساتھ صحبت کرنا اس وقت تک جائز نہیں ہوگا، جب تک وہ دوسرے شوہر کی عدت پوری نہ کرلے۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
’’(ولایفرق بینہٗ وبینہا ولو بعد مضي أربع سنین) خلافًا لمالکؒ ۔ وفي الرد: (قولہ: خلافًا لمالکؒ) فإن عندہٗ تعتد زوجۃ المفقود عدۃ الوفاۃ بعد مضي أربع سنین، وہو مذہب الشافعي القدیم وأما المیراث فمذہبہما کمذہبنا في التقدیر بتسعین سنۃ، أو الرجوع إلی رأي الحاکم۔‘‘(فتاویٰ شامی، ج:۴ ، ص:۲۹۵،سعید)
’’(قولہ: علی المذہب) وقیل بقدر تسعین سنۃ بتقدیم التاء من حین ولادتہ واختارہٗ في الکنز، وہو الأرفق ہدایۃ وعلیہ الفتوی ذخیرۃ، وقیل بمائۃ، وقیل بمائۃ وعشرین، واختار المتأخرون ستین سنۃ واختار ابن الہمام سبعین لقولہٖ علیہ الصلاۃ والسلام: ’’أعمار أمتي ما بین الستین إلی السبعین‘‘ فکانت المنتہی غالبًا۔‘‘                            (فتاویٰ شامی، ج:۴، ص:۲۹۶، سعید)
مزید تفصیل کے لیے دیکھئے حضرت تھانویؒ کی کتاب ’’حیلۂ ناجزہ‘‘۔ 

  

فقط واللہ اعلم

الجواب صحیح

الجواب صحیح

کتبہ

ابوبکر سعید الرحمٰن  

محمد شفیق عارف

محمد حذیفہ رحمانی

 

 

دارالافتاء

  

جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن 

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے