بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 ربیع الثانی 1441ھ- 11 دسمبر 2019 ء

بینات

 
 

مغرب کی اذان و اقامت کے درمیان وقفہ کی حد اور موجودہ طرزِ عمل کافقہی جائزہ!

مغرب کی اذان و اقامت کے درمیان وقفہ کی حد اور موجودہ طرزِ عمل کافقہی جائزہ!

الحمد للّٰہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علٰی سید المرسلین وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ أجمعین، أما بعد! ’’عن الصنابحيؓ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: لاتزال أمتي في مسکۃ من دینہا مالم ینتظروا المغرب اشتباک النجوم مضاھاۃ الیہود ومالم یؤخروا الفجر مضاھاۃ النصرانیۃ۔‘‘                     (رواہ الطبرانی فی الکبیر ورجالہ ثقات، مجمع الزوائد،ج:۱،ص:۱۳) وقال الشیخ ظفر أحمد العثماني رحمہ اللّٰہ في إعلائہٖ معزیا إلٰی الإمام النوويؒ: ’’وفي النیل: قال النوويؒ في شرح مسلم:’’ إن تعجیل المغرب عقب غروب الشمس مجمع علیہ ، قال: وقد حکي عن الشیعۃ فیہ لاالتفات إلیہ ولاأصل لہٗ ، وأما الأحادیث الواردۃ في تأخیر المغرب إلٰی قرب سقوط الشفق فکانت لبیان جواز التاخیر وقد سبق إیضاح ذٰلک ، لأنھا کانت جوابًا للسائل عن الوقت، وأحادیث التعجیل المذکورۃ في ھٰذا الباب وغیرہ إخبار عن عادۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم المتکررۃ التي واظب علیہا إلا لعذر فالاعتماد علیہا۔ قولہ: عن الصنابحي۔۔۔۔۔الخ قلت: دلالتہ علٰی کراہۃ تاخیر المغرب ظاھرۃ۔‘‘           (اعلاء السنن ،باب کراہۃ التاخیر فی المغرب وبیان حدہ، ج:۲، ص:۴۸، ط: ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیۃ) مغرب کی اذان اور اقامت کے درمیان وقفہ ہونا چاہیے یا نہیں ؟ اگر ہونا چاہیے تو اس کی مقدار کتنی ہو؟ یہ ایسا بے غبار مسئلہ ہے کہ تمام فقہی مسالک میں واضح طور پر لکھا ہوا ہے، اہل تشیع کے علاوہ تمام فقہائ‘ مغرب کی اذان واقامت کے درمیان خاطر خواہ تاخیر کو ’’تعجیل مغرب‘‘ کی سنت کے خلاف سمجھتے آرہے ہیں۔ فقہائے متقدمین کے ہاں ’’تعجیلِ مغرب‘‘ کے مسنون ودائمی عمل کی رعایت کی خاطر مغرب کی اذان و اقامت کے درمیان رکعتین کی ادائیگی اور عدم ادائیگی کا اختلاف‘ خود اس بات کا واضح بیان ہے کہ فقہائے امت کی نظر میں اذانِ مغرب اور اقامت کے درمیان وقفہ کی گنجائش کتنی محدود ہے اور فقہائے احناف رکعتین کے وقفہ کو ’’تعجیلِ مغرب‘‘ کے مسنون دائمی عمل کے خلاف ہونے کی بناپر ’’تاخیرِ مغرب‘‘ کا باعث شمار کرتے اور مکروہ قرار دیتے ہیں ، اس حوالہ سے فقہائے احناف کا نقطۂ نظر جتنا واضح ہے، اتنا ہی ٹھوس، مدلل اور مبرہن بھی ہے، اگر کوئی حنفی طالب علم فقہائے احناف کے مسلک اور اس کی حدیثی بنیاد کو سمجھنا چاہے تو اس کے لیے علامہ ظفر احمد عثمانی نور اللہ مرقدہٗ کی ’’اعلاء السنن‘‘ کا ایک باب ’’باب کراہۃ التاخیر في المغرب وبیان حدہٖ‘‘ یا اس باب کی ایک حدیث متعلقہ افادات کے ساتھ بھی کافی ہے۔ درج بالا حدیث مبارک اور اس کی شرح میں مغرب کی اذان و اقامت کے درمیان وقفہ کا حکم، اس کی حد، تاخیر کے بیان پر مشتمل روایات کا محمل اور مغرب کی اذان واقامت کے درمیان وقفہ کے اصل خوگر لوگوں کی مختصر الفاظ میں نشاندہی فرمائی گئی ہے۔ حدیث بالا اور اس کی شرح سے بنیادی پانچ امور مستفاد ہوتے ہیں: 1:… مغرب کی نماز سورج غروب ہوتے ہی بلاتاخیر پڑھنا آپ a کی عادتِ متکررہ اور دائمی عمل رہا ہے، کبھی کبھار تاخیر کسی عذر یا بیانِ وقت کے طور پر ہی منقول ہے۔ 2:… مغرب کی نماز سورج غروب ہوتے ہی بلاانتظار پڑھنا امت محمدیہ (l) کے تمسک بالدین اور تدیّن کی امتیازی نشانی ہے، آسمان پر ستارے دکھائی دینے تک تاخیر کرنا یہود کی مشابہت ہے۔  3:… غروبِ آفتاب کے ساتھ ہی مغرب کی نماز معتدبہ تاخیر کے بغیر شروع کردینا ‘ امت مسلمہ کا اجماعی معمول ہے، تاخیر کرنا اہل تشیّع کا ناقابل التفات اور بے بنیاد عمل ہے۔ 4:… جن حدیثوں میں ’’شفق‘‘ تک مغرب کی تاخیر کا ذکر ملتا ہے، وہ مجمع علیہ اور مطلوبہ تعجیل کو نظر انداز کرنے یا مطلوبہ تعجیل سے رخصت دلانے کے لیے نہیں ہے، بلکہ ایسی روایات تو  محض تاخیر کے جواز کو بتانے کے لیے ہیں، یا ایسی روایات مغرب کے وقت سے متعلق سوال کے جواب وارد ہوئی ہیں۔ 5:… علامہ ظفر احمد عثمانی v فرماتے ہیں کہ حدیث صنابحی ’’ تاخیر مغرب‘‘ کے مکروہ ہونے پر واضح دلالت کرتی ہے۔ حدیثِ مذکور اور اس کی متعلقہ تفصیل کو زیربحث مسئلہ کے بارے میں فقہائے احناف کے مسلک کی تلخیص کہنا بالکل بجا ہے۔ اذانِ مغرب اور اقامت کے درمیان خاطر خواہ وقفہ کو فقہائے احناف‘ آپ a کے دائمی عمل، مزاجِ شریعت اور اجماعِ امت کے خلاف ہونے کی بناپر مکروہ قرار دیتے ہیں اور فقہاء کے ہاں مطلق کراہت کا مدلول کراہت تحریمی ہوتا ہے۔ یہ تفصیل امام محمد بن الحسن الشیبانیؒ کی ’’کتاب الاصل ‘‘سے لے کر امام سرخسیؒ کی ’’المبسوط‘‘، علامہ کاسانی کی ’’بدائع الصنائع‘‘، ابن نجیم کی ’’البحرالرائق‘‘ اور ابن عابدینؒ کی ’’ردالمحتار‘‘ تک ہمارے فقہی ذخیرہ کی تمام معتمد ومتداول کتب میں وضاحت کے ساتھ مذکور ہے۔ ان تمام کتابوں میں ’’تعجیلِ مغرب‘‘ کے منافی‘ تاخیر کی آخری حد ’’رکعتین‘‘ میں صرف ہونے والے وقت کو قرار دیا ہے، اس سے قبل سکتہ، وقفۂ یسیرہ ، جلسۂ یسیرہ اور جلسہ بین الخطبتین کی حد کو اذان واقامت کے درمیان فاصلہ کی جائز اور مباح حد بتایا ہے اور بعض روایات سے تین آیات کی تلاوت میں صرف ہونے والے وقت کی مقدار وقفہ کو جائز اور مباح قرار دیا ہے۔ ہمارے بعض اکابر نے اذان خانہ سے امام کے پیچھے مصلی تک پہنچنے کے دورانیہ کو مغرب کی اذان واقامت کے درمیان فاصلہ کی حد قرار دیا ہے۔ فقہائے کرام کی تصریحات جہاں مغرب کی اذان واقامت کے درمیان‘ مباح یا مطلوب فاصلہ کا تعیّن کررہی ہیں، وہاں ان سے ’’تعجیلِ مغرب‘‘ کی دائمی سنت پر عمل کی بابت فقہائے احناف کی حساسیت بھی عیاں ہے۔ امام اعظم v تین چھوٹی آیات کی حد اس لیے بتاتے ہیں کہ ’’تعجیلِ مغرب‘‘ کی سنت فوت نہ ہوجائے۔ امام محمد v ’’سکتہ‘‘ کی قید اس لیے لگاتے ہیں کہ کہیں تعجیل کے برعکس تاخیر مغرب لازم نہ آئے ، دیگر فقہائے احناف جمعہ کے دو خطبوں کے درمیان جلسہ کا دورانیہ اس لیے ذکر فرماتے ہیں کہ اس سے زیادہ ’’تاخیر مغرب‘‘ کے زمرے میں جاسکتا ہے۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ فقہائے احناف ’’تعجیلِ مغرب‘‘ پر کتنے حریص ہیں اور تاخیر مغرب سے بچنے کا کتنا اہتمام فرماتے ہیں!! اس واضح حقیقت کے تناظر میں اگر دیکھا جائے تو فقہ حنفی کے پیروکاروں کے درمیان مغرب کی اذان اور اقامت کے درمیان ۲/۳ منٹ، پانچ منٹ یا آٹھ منٹ کا وقفہ تو دور کی بات ہے نفسِ سوال کی گنجائش بھی پیدا نہیں ہونی چاہیے تھی، مگر بعض حضرات نے عوام کی کسل مندی کو جواز بناکر مغرب کی اذان اور اقامت کے درمیان (موصولہ اطلاعات کے مطابق) ۲؍ منٹ سے لے کرآٹھ منٹ تک کے مستقل وقفے کو نہ صرف جائز قرار دیا ہے، بلکہ اسے فقہ حنفی اور بعض اکابرِ دیوبند کے ہاں محقق عمل بھی کہہ گزرے ہیں، جس کی ادنیٰ توجیہ محض وہم یا علمی مغالطہ سے کی جاسکتی ہے۔ بنابریں مغرب کی اذان اور اقامت کے درمیان ۲؍ منٹ یا اس سے زائد وقفے کا رواج ہمارے شہر کراچی یا ملک کے دیگر شہروں میں اس وقت رائج ہے، ہماری رائے میں یہ عمل کئی وجوہ سے جائز نہیں: الف:… مغرب کی اذان واقامت کے درمیان معتدبہ فاصلہ نہ کرنا بلکہ جلد ی پڑھنا آپ a کا دائمی معمول ہے، مغرب کی اذان اور اقامت کے درمیان معتدبہ وقفے کو مستقل معمول بنانا سنت کے ترک اور خلافِ سنت کو معمول بنانے کے مترادف ہے۔ اہلِ علم جانتے ہیں کہ سنت کے حکم میں کبھی کبھار عذر کی بناپر ترک کی گنجائش تو موجود ہے، لیکن ’’ترکِ سنت‘‘ کو دائمی معمول کا درجہ دینا وہ بھی دینی امر میں یہ معاملہ عمل سے نکل کر اعتقاد کے دائرے میں جاکر سنگین تر ہوسکتا ہے۔ ب:… مغرب کی اذان اور اقامت کے درمیان معتد بہ فاصلے کی ’’حد‘‘ فقہ حنفی کے اصول، متون، شروح سے لے کر عربی واردو فتاویٰ تک صراحت کے ساتھ مذکور ہے، یعنی تین چھوٹی آیات کی تلاوت، یا دو خطبوں کے درمیان بیٹھنے کی مقدار یا تین قدم چلنے کا دورانیہ ‘ تعجیل مغرب کے منافی نہیںہے، اس دورانیہ کو فقہاء کے ہاں معتدبہ (خاطرخواہ)فاصلہ شمار نہیں کیا جاتا ، اس سے زیادہ فاصلہ فقہائے کرام کے ہاں ایسا خاطر خواہ/ معتدبہ فاصلہ شمار ہوتا ہے جو تعجیلِ مغرب کے منافی اور تاخیر مغرب کا باعث بننے کی بناپر ہمارے ائمہ کے ہاں مکروہ ہے۔ اہل علم جانتے ہیں کہ نماز کے دوران کسی مکروہ عمل کو مستقل طور پر دہرانا یا نماز کی ادائیگی کے لیے کراہت کو معمول بنالینا نتیجۃً فسادِ صلوٰۃ پر بھی منتج ہوسکتا ہے، اگر نماز فاسد نہ بھی ہو تو ثواب میں کمی کا باعث تو بہرحال بنتا ہے۔ کیا اہل علم اس پر رضامند ہوسکتے ہیں کہ کاہل نمازیوں کی رعایت کی خاطر بروقت مسجد میں آنے والے نمازیوں کی نماز کو مستقل طور پر کراہت کی نذر کیا جائے؟! ہمارے خیال میں تو یہ ترجیح ورعایت کم از کم مغرب کی نماز میں تو شرعی مزاج کے خلاف ہے، شرعی مزاج تو یہ ہے کہ کاہلوں کی خاطر‘ پابند نمازیوں کو انتظار نہ کرایا جائے۔ ج:… تجربہ ومشاہدہ یہ ہے کہ کاہل اور سست لوگوں کو جتنی چھوٹ ملتی رہے وہ اتنا ہی سست ہوتے چلے جاتے ہیں، کاہلوں کی کاہلی میں معاون بننے کی بجائے ان کی چستی اور نشاط میں معاون بننا زیادہ ضروری ہے، ایسے لوگوں کو دو منٹ بعد میں آنے کی بجائے دو منٹ پہلے آنے پر رضامند وآمادہ کرنے کی ترغیب دینا دینی تقاضا ہے۔ د:… فقہائے امت اور اکابرِ ملت کے معمول سے ہٹ کر رائے زنی کا معمول معاملات اور معاشرت سے متعلق بعض امور میں تو ایک عرصہ سے رائج ہے، بعض اہل علم حالات کی مجبوری ، عوام کی سہولت اور معاشرتی تقاضوں کو بنیاد بناکر معاملات اور معاشرت سے متعلق بعض فقہی احکام میں بھی تن آسانی، سہولت کوشی اور رخصت فراہمی کی خدمات انجام دیتے چلے آرہے تھے، مگر ہمارے خطے میں کم از کم عبادات اس وبائے مسموم سے محفوظ تھیں، اب مغرب کی اذان اور اقامت کے درمیان وقفے کو سندِ جواز عطا کرنے کے عمل سے یہ جرأت عبادات میں بھی آگے بڑھ سکتی ہے اور تمام عبادات میں سہولت پسندی اور رخصت فراہمی کا سلسلہ بڑھنے کا شدید اندیشہ ہے، جو کہ ہمارے خیال میں فسادِ دین کا آخری درجہ ہوگا، ولاسمح اللّٰہ۔ پس سدِ ذرائع کے طور پر اس طرزِ عمل کو یہیں روک دینا ضروری معلوم ہوتا ہے۔ ہ:… مغرب میں تعجیل کے منافی عمل (جو تاخیر کو مستلزم ہو)اُسے حدیثی اور فقہی نصوص میں یہود اور اہل تشیع کا طریقہ قراردیا گیا ہے ،اہل علم کو سوچنا چاہیے کہ ہمارے تاخیری فتوے ہماری نمازوں کو یہودیوں اور سبائیوں کی مشابہت یا اس کے قریب پہنچانے کا ذریعہ بن سکتے ہیں، اس لیے ہمیں اپنے ایسے فتووں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ ہمارے صلحاء ‘وضع قطع لباس اور حلیے میں یہود ونصاریٰ کی مشابہت کو برداشت نہیں فرماتے تو عبادات میں ان کی مشابہت تک لے جانے والے راستہ کو اپنا نا کہاں درست ہوسکتا ہے؟ بہرحال اذانِ مغرب اور اقامت کے درمیان مروجہ وقفہ فقہائے احناف کے ہاں بظاہر اتنا ہلکا نہیں تھا جتنا ہمارے بعض اہل علم نے سمجھا ہے۔ تمام اہل علم قابل قدر اور لائق صداحترام ہیں، لیکن اگر کسی صاحب ِ علم کو اس سلسلے میں علمی مغالطہ ہوا تو انہیں مزید مراجعت فرمالینے کی ضرورت کا احساس ضرور ہونا چاہیے، تاکہ علمی خرابی اور عوامی تشویش سے بچاجاسکے۔ زیرِبحث مسئلے میں علمی مغالطہ سے بچنے اور عوامی تشویش سے بچاؤ کی خاطر ’’مرکزالعلوم الاسلامیہ منگھوپیرکراچی‘‘ کے مہتمم حضرت مولانا مفتی امداداللہ صاحب حفظہٗ اللہ نے یہ مجموعہ تیار کیا ہے، جس کا عنوان ہے: ’’اذانِ مغرب کے بعد مروجہ وقفہ کی شرعی حیثیت، قرآن وسنت کی روشنی میں‘‘، اس مجموعہ میں مؤلف گرامی نے زیربحث مسئلہ کی شرعی حیثیت کا ہمہ جہتی جائزہ لیا ہے، قرآن وسنت ، آثارِ صحابہؓ، مذاہب اربعہ اور فقہائے احناف کے متقدمین ومتأخرین کے اقوال کی روشنی میں یہ تحقیقی کاوش پیش فرمائی ہے۔ جہاں تک میں دیکھ سکا ہوں مؤلف موصوف نے اذانِ مغرب اور اقامت کے درمیان وقفے سے متعلق ممکنہ مظان سے ایسا واضح حکم بیان کردیا ہے کہ فقہی طالب علم کے لیے کسی قسم کی غلط فہمی کی گنجائش نہیں چھوڑی، بالخصوص بعض اہل علم کی طرف سے محقق ابن ہمامؒ، حضرت علامہ کشمیریؒ اور حضرت حکیم الامت تھانوی wکی جو عبارات اذانِ مغرب اور اقامت کے درمیان مروجہ وقفہ کے جواز کے لیے پیش فرمائی گئی تھیں، مؤلف نے ان عبارات سے متعلق مغالطہ یا غلط فہمی کا بڑے مؤدب انداز میں مسکت تحقیق کے ساتھ جواب دیا ہے۔ قارئین اس کتاب کو پڑھنے کے بعد کم از کم یہ اطمینان ضرور حاصل فرمائیں گے کہ اذانِ مغرب کے بعد مروجہ وقفہ کم از کم فقہ حنفی کی روسے خلافِ سنت اور مستقل معمول بنانا موجب کراہت ہے اور فقہ حنفی میں یہ حکم روزِ روشن کی طرح واضح ہے ، جن حضرات نے اس سے ہٹ کر فتویٰ دیا ہے یا اس عمل کو اختیار فرمایا ہے تو وہ  فتویٰ اور عمل کم از کم حنفی اکثریت والے پاکستان میں قابلِ اعتبار اور لائقِ اختیار نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ مؤلف محترم کی اس کاوش کو قبول فرمائے، اُسے بارآور ثابت فرمائے اور ذخیرۂ آخرت بنائے، آمین! وصلی اللّٰہ علٰی سیدنا محمد وعلٰی آلہ وصحبہ أجمعین

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے