بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1442ھ- 26 ستمبر 2020 ء

بینات

 
 

معاشرے کی اصلاح و بگاڑ پر مالی رویوں کے اثرات (پہلی قسط)

معاشرے کی اصلاح و بگاڑ پر مالی رویوں کے اثرات

(پہلی قسط)

 

اسلام ایک جامع اور ہمہ گیر ضابطۂ حیات ہے، اس نے انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہمہ پہلوؤں کے لیے زریں ہدایات پیش کی ہیں۔ دنیا میں انسان کے مالی حاصلات سے متعلق بھی اسلام نے مفصل ہدایات دی ہیں، جن کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی ضروریات کی تکمیل کے لیے ’’مال‘‘ بطور وسیلہ و انعام عطا فرمایا ہے۔ قرآن مجید نے مال کی اس حیثیت کو ’’جَعَلَ اللّٰہُ لَکُمْ قِیَامًا‘‘ سے تعبیر کر کے واضح کیا ہے کہ مال انسانی معاش اورعالم انسانی کے قیام کاذریعہ ہے۔ اسی وجہ سے اس کی طلب کو ’’فریضۃ بعد الفریضۃ‘‘ (فرائض کے بعد فریضہ) کہا گیا ہے اور اس کے لیے کی جانے والی سعی اور کوشش ’’عبادت‘‘ بتلائی گئی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشادِ گرامی ہے: ’’نعما بالمال الصالح للرجل الصالح‘‘ (مشکوٰۃ) یعنی ’’نیک آدمی کے لیے اچھااور پاکیزہ مال بہترین متاعِ حیات ہے۔‘‘ اسی طرح نصوص (قرآن کی آیات اور احادیث) میں تجارت کے لیے ’’فضل اللّٰہ‘‘ (اللہ کا فضل) خوراک کے لیے ’’الطیبات من الرزق‘‘ (کھانے کی پاکیزہ چیزیں) ، لباس کے لیے ’’زینۃ اللّٰہ‘‘ (اللہ کی زینت) ، رہائش کے لیے ’’سکن‘‘ (سکون کی جگہ) اوراموال کے لیے ’’خیر‘‘ (بھلائی) جیسے احترامی القاب استعمال کیے گئے ہیں اور مال ودولت کی حفاظت کا بھرپور داعیہ بھی دلوں میں پیدا کیا گیا ہے، یہاں تک کہ اگر مال کی حفاظت کے لیے جان کا قیمتی سرمایہ پیش کرنے کی نوبت بھی آجائے تو اسے نہ صرف گوارا کیا گیا ہے، بلکہ ایسے شخص کو شہادت کے اجر کی خوشخبری بھی سنائی گئی ہے۔ ان تمام ارشادات سے اسلام کی نظرمیں مال کا تصورایک محبوب ومطلوب چیزکی شکل میں سامنے آتا ہے۔ 
لیکن جب ہم غورکرتے ہیں توہمیں اسلامی لٹریچرمیں دنیااوردنیاوی مال کے لیے ’’متاع الغرور، فتنۃ‘‘  اور ’’لعب و لہو‘‘  کے الفاظ بھی ملتے ہیں، نیز ڈھیروں روایات میں مال و دنیا کی مذمت اور اس کی محبت پر اُخروی عذاب کی وعیدیں آئی ہیں، جن سے مال کا ایک بھیانک تصور سامنے آتا ہے۔ کوتاہ نظری اس موقع پر تضادکاشبہ بھی پیداکرسکتی ہے، لیکن بغورجائزہ لینے پرواضح ہوتاہے کہ اسلام کی نظرمیں تمام تر مالی وسائلِ معاش و انتظامِ عالم کے محض ذرائع اور انسانی راہ گزر کے مرحلے ہیں، اس کی اصل منزل درحقیقت ’’مال و دولت‘‘ سے آگے کردار کی بلندی اور اس کے نتیجے میں آخرت کی بہبود ہے، انسان کااصل مسئلہ اوراس کی زندگی کا بنیادی مقصدانہی دومقاصد کی تحصیل ہے، لیکن چونکہ ان منزلوں کوشاہراہ ِدنیاسے گزرے بغیرحاصل نہیں کیاجاسکتا، اس لیے مال کاحصول بھی انسان کے لیے ضروری ہوجاتا ہے، لہٰذاجب تک مال انسان کی اصلی منزل کے لیے راہ گزرکا کام دے، تو وہ فضل اللّٰہ، خیراور زینۃ اللّٰہـ ہے، لیکن جہاں انسان اس راہ گزر کی بھول بھلیوں میں اُلجھ کررہ جائے اور اس پراپنی اصل منزلِ مقصودکوقربان کرڈالے یا بالفاظِ دیگرمال ہی منزلِ مقصودبنالے تو یہی مالی وسائل ’’متاع الغرور، فتنۃ‘‘ اور ’’لعب و لہو‘‘ بن جاتے ہیں۔ 
 اسی تناظر میں انسان اور مال کا باہمی تعلق ’’کسب‘‘ بتلایا گیا ہے، یعنی انسان مال کا مالک نہیں، بلکہ محض ’’کاسب‘‘ (کمانے والا) ہے، جہاں کہیں اس کی ملکیت کاذکرہے وہ ملک حقیقی نہیں، بلکہ عطائی ہے اور انسان کے پاس بطور نائب اور خلیفہ مال میں وقتی اور عارضی تصرف کا اختیار ہے، جسے استعمال کرنے میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو حدود و قیود کا پابند بنایا ہے۔ اس مختصر سے تجزیے سے اسلام کی نظر میں مال کی حیثیت پوری وضاحت سے سامنے آجاتی ہے کہ نہ تو مال شجرِممنوعہ ہے کہ اس کے ساتھ راہبانہ رویہ برتا جائے اور نہ ہی مقصدِ زندگی کہ اس کی پوجاپاٹ میں ساری قوتیں صرف کرلی جائیں، بلکہ یہ کارگاہِ حیات کی ایک ضرورت ہے، جس کے حصول وصرف میں خداوند کریم کے احکامات کو پیش نظررکھناضروری ہے۔ 

مال اورمعاشرتی رویے

انسانی معاشرت میں مال کے ساتھ کیارویہ برتا گیا ہے اور اس کے معاشرے کی اصلاح و بگاڑ پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں، ذیل میں انہی امور کا مختصر جائزہ پیش خدمت ہے۔ اسلام نے مال سے متعلق معاشرے میں اساسی طورپرتین رویوں کی نشاندہی کی ہے:
پہلے رویے کو قرآن مجید نے ’’بخل وشُح‘‘ سے تعبیر کیاہے۔ 
دوسرے رویے کے لیے ’’إسراف وتبذیر‘‘ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ 
جب کہ تیسرے رویے کو ’’اقتصاد‘‘ اور ’’إنفاق‘‘ کہاہے۔ 
اسلام نے ان میں سے پہلے دو رویوں کومنفی قراردے کران کی خوب مذمت کی ہے، اپنے پیروؤں کو ان سے بچنے کی تاکیدکی ہے اور اس کے لیے ترغیب وترہیب ہردوپہلوؤں سے کام لیا ہے، جبکہ تیسرے رویے کومحمود و مطلوب بتلایا ہے اور اسے برتنے پر دنیا و آخرت کے انعامات کے وعدے کیے ہیں۔ یہ بات پیش نظر رہے کہ اسلام کی نظرمیں معاشرے کے بگاڑاورفسادکی بنیادپہلے دورویے ہیں اور تیسرا رویہ ہی اس بگاڑکی اصلاح کاکارنامہ سرانجام دے سکتاہے، لہٰذا ذیل میں ان رویوں کا مختصر جائزہ اوراقتصادوانفاق کے ذریعے معاشرتی بگاڑکی اصلاح کے طریقوں پرروشنی ڈالتے ہیں۔ 

 بخل وشُح 

اسلام نے مال کی محبتِ عقلی کوبرائی کی جڑقراردیاہے۔ ’’بخل وشح‘‘ کا رویہ حب ِمال کا مظہر ہے۔ بخل اپنے ذاتی سرمائے سے واجب اخراجات کوروکنے کانام ہے۔ قرآن مجیدنے تنبیہ کی ہے کہ مال بچانے کی یہ روش شرکاپیش خیمہ ہے، اسے جولوگ اپنی معاشی ترقی کاسبب تصورکرتے ہیں وہ دھوکے میں ہیں اوراس راز سے بروز قیامت پردہ اُٹھ جائے گا۔ ارشاد خداوندی ہے:
’’وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُونَ بِمَآ أٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ہُوَ خَیْْرًا لَّہُمْ  بَلْ ہُوَ شَرٌّ لَّہُمْ  سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ۔‘‘                          (آل عمران:۱۸۰) 
ترجمہ: ’’اور وہ لوگ جو اس چیز (کے خرچ کرنے) میں بخل کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنی عنایت سے انہیں دے رکھی ہے، وہ خیال نہ کریں کہ (یہ بخل) ان کے لیے بہتر ہے بلکہ یہ ان کے لیے بہت براہے، جس (مال) میں وہ (آج) کنجوسی کر رہے ہیں یقینا قیامت کے دن اسی کے طوق ان کے (گلوں میں) ڈالے جائیں گے۔ ‘‘
احادیث مبارکہ میں بخل کو کفار کا شیوہ، دین بیزاری، خبثِ باطن اور جہنم کے عذاب کا سبب قرار دیا گیا ہے اوربتلایاگیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  اس رویّے سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے۔ 
بخل سے قریب تررویہ ’’شُحّ‘‘  ہے۔ ’’شُحّ‘‘ اس باطنی بیماری کانام ہے کہ انسان اپنے مالی وسائل سے کبھی سیر نہ ہو اور وہ اپنی پوری توانائی اس پر صرف کردے کہ کسی طرح دوسروں کے مالی وسائل اس کے قبضہ میں آجائیں۔ قرآن مجیدنے واضح کیاہے کہ حقیقی کامیابی سے وہی شخص ہمکنار ہو سکتا ہے جو ’’شُحّ‘‘  کے رویے سے پوری طرح پاک ہو، لہٰذا جذبۂ’’شُحّ‘‘  سے مغلوب شخص اسلام کی نظر میں ہرگز کامیاب نہیں، کیونکہ’’شُحّ‘‘  وہ رویہ ہے جو انسان کو ہوسِ مال اور حرصِ اقتدار کی راہ سجھاتا ہے اور اسے ظلم و تعدی پر آمادہ کرتا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشادِ گرامی ہے: 
’’واتقوا الشُّحَّ فإن الشُّحَّ یھلک من کان قبلکم، حملھم علٰی أن سفکوا دمائھم واستحلوا محارمھم۔‘‘                                              (مسلم) 
ترجمہ :’’شُحّ‘‘  سے بچو، پس بے شک ’’شُحّ‘‘  نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا، انہیں خون بہانے اور عزتیں پامال کرنے پر برانگیختہ کیا۔ ‘‘
’’شُحّ‘‘  کے اس مختصر تجزیہ سے واضح ہوتاہے کہ آج ترقی یافتہ اورمہذب کہلانے والے انسانی معاشروں میں اپنی دولت وثروت بڑھانے کے لیے جاری رسہ کشی اور مکروہ اقدامات کے پیچھے یہی جذبہ کار فرما ہے، مثلاً:
۱:-’’شُحّ‘‘  کی باطنی بیماری کے بسببِ تجارت کے نام پر سٹہ، لاٹری، قمار اور غرر کی گرم بازاری ہے اور اس عنوان سے بے تحاشا دولت لوٹی جارہی ہے۔ 
۲:- ’’ھل من مزید‘‘کے اس نظریے نے سودکی مختلف شکلوں کو رواج دے کر اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم  سے اعلانیہ جنگ کے دروازے کھولے ہیں۔ سود کا ایک ذرہ کھانا اپنی ماں کے ساتھ چھتیس مرتبہ بدکاری سے بدتر بتلایا گیا، اور اس میں ملوث ہر فرد پر لعنت کی گئی ہے۔ 
۳:-زیادہ سے زیادہ مال جمع کرنے کی سوچ نے محض مالی نفع کے لیے نشہ آور، مضرِ صحت اور مخربِ اخلاق چیزوں کے وسیع پیمانے پر کاروبار، بلکہ مالی وسائل میں اضافے کے لیے عزت و آبرو تک کی سودے بازی کو جواز بخشا ہے۔ رویہ شح کے حاملین نے انسان کوتمام خدائی اوراخلاقی پابندیوں سے بغاوت پرآمادہ کرکے اسے یہ راستہ سجھایاہے کہ وہ معاشرے کاترقی یافتہ اور کامیاب فرد تبھی کہلا سکتا ہے، جب مالی وسائل میں اضافہ کرے، چاہے یہ سنیماکھول کرممکن ہو، نیم برہنگی کے ساتھ فلمیں بنانے، طوائف بننے یا ہیروئن اور شراب کا کاروبار کر کے ممکن ہو، بس مقصد یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ مال بٹورا جائے۔ 
۴:-آج عالمی سطح پر احتکار و ادخار (ذخیرہ اندوزی) کے ذریعے پیدا کردہ مصنوعی بحران بھی اس رویے کانتیجہ ہیں۔ دنیاکی بڑی آبادی پانی کوترس رہی ہے، لیکن منرل واٹرکی لاکھوں بوتلیں اس لیے سمندر بردہورہی ہیں کہ ان کی مارکیٹ ویلیومیں کمی نہ آئے اوران کی طلب، ہر حال میں رسدسے زیادہ رہے۔ بچے بنیادی خوراک اور دودھ کی کمی کے باعث مر رہے ہیں، جبکہ نیسلے کے خوراکی پیکٹس اور دودھ کے ڈبے سمندری آلودگی کاذریعہ بن رہے ہیں۔ یہ’’شُحّ‘‘  کے رویے کے مظاہر ہیں جس نے انسان کوحیوانوں سے بدتر بنا دیا ہے۔ 
۵:-صحت و تعلیم جیسی بنیادی ضروریات کو بھی اس رویے کے حاملین نے نفع بخش صنعت کی شکل دے دی ہے اور ان پرمال بٹورنے کی روش اب کوئی عیب نہیں، بلکہ بہت بڑاکمال اور معاشرے پراحسان تصور ہوتا ہے۔ 
۶:-ان تمام مفاسد سے بڑھ کرکمزوراورترقی پذیرملکوں کے وسائل لوٹنے اورہتھیانے کے لیے بدامنی کی خاکہ سازیاں، لوگوں کے معاشی استیصال پر مبنی نظاموں کی تشکیل، ان پر جنگوں کی تسلیط اور معاشی پابندیاں اسی رویے کے نمو اور ارتقا کے مظاہر ہیں، جن سے خطۂ ارضی کا امن و سکون تباہ اور انسانی معاشرہ اپنے بگاڑ کی انتہائی حدوں کو چھو رہا ہے۔                                 (جاری ہے)

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے