بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 نومبر 2019 ء

بینات

 
 

 مسجد ِ اقصیٰ کی تولیت اور عمار خان ناصر صاحب کی تحریر ات (تفصیلی و تنقیدی جائزہ)       (تیسری قسط)

 مسجد ِ اقصیٰ کی تولیت اور عمار خان ناصر صاحب کی تحریر ات

(تفصیلی و تنقیدی جائزہ)       (تیسری قسط)

 

آنجناب کے ’’اعتراضات‘‘
۱:… آنجناب نے اس پر ایک تو وہی ’’صراحت ‘‘والا ’’پرانا ‘‘اعتراض کیا ، لیکن ظاہر ہے کہ جب اس واقعے کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اس امت کو خیر امت کا لقب دیا،تو اس حکمت کی طرف ایک اعتبار سے ’’صریح‘‘اشارہ ہوگیا ۔ذوق والوں پر اس کی’’ صراحت‘‘ مخفی نہیں ہے۔
۲:…آنجناب نے ایک ’’عجیب ‘‘اعتراض یہ بھی کیا ہے کہ اگر اس واقعے سے مسجد ِ اقصیٰ کی تولیت امت ِ مسلمہ کے پاس آگئی تو ان کی تالیف کا مقصد کیونکر حاصل ہوگا؟ کیونکہ اس سے تو آنجناب کے بقول اُنہیں اشتعال میں آنا چاہیے کہ ان کا قبلہ ان سے چھین لیا گیا۔گویا آنجناب کے نزدیک اس واقعے سے تولیت کی منسوخی اور یہود کی تالیف ِ قلب دونوں اخذ کرنا ایک قسم کا تعارض ہے،لیکن آنجناب کو یہ تضاد دو وجہ سے پیش آرہا ہے:
پہلی وجہ:آنجناب تحویلِ قبلہ کے اس واقعے کو تولیت کا ’’باقاعدہ اعلان‘‘بنا رہے ہیں ،حالانکہ ہم کئی با ر کہہ چکے ہیں کہ یہ باقاعدہ اعلانات اور دلائل نہیں ہیں ،بلکہ یہ تو حقِ تولیت کے مظاہر ہیں ۔حقِ تولیت کی اصل دلیل تو اللہ تعالیٰ کا وہ ضابطہ اور خاص ’’سنت‘‘ہے،جو ان مقامات ِ مقدسہ کے بارے میں تمام ادیان ِ سماویہ میں مسلم ہے ۔نیز یہ سنت ’’قولی اعلانات‘‘ کی بجائے عام طور پر ’’فعلی ‘‘شکل میں ظاہر ہوتی ہے ،(اگرچہ کتب ِ سماویہ میں اس ضابطے کا اعلان بھی مختلف مواقع پر کیا گیا،جیسے ہم ماقبل میں تورات اور قرآن پاک کے حوالے سے دونوں مقدس مقامات کے بارے میں اس ’’سنت‘‘ کا ذکر کر چکے ہیں )یعنی کہ ان مقدس مقامات پر اللہ تعالیٰ اہلِ حق کو غلبہ دے دیتے ہیں ۔چنانچہ مسجد ِحرام پر اللہ تعالیٰ نے اس امت کو فتح ِمکہ کی شکل میں تولیت عطا کی ،حا لانکہ آنجناب کا ’’مفروضہ اعلان ‘‘توایک سال بعد ۹ھ میں کیا گیا،جبکہ مسجد ِ اقصیٰ پر تولیت کی آپ ا نے باقاعدہ خوشخبری دی اور یہ خوشخبری حضرت عمر ؓ کے ہاتھوں پوری ہوئی اور ان کے دور میں اس مقدس مقام کی تولیت بھی اس امت کے پاس آگئی۔
دوسری وجہ:آنجناب نے یہاں اس حکم کی مختلف گروہوں کے اعتبار سے مختلف حیثیتوں کو ’’خلط‘‘ کر دیا ،اس لیے آنجناب کو تضاد نظر آیا۔گویا حیثیت کی قید کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے آنجناب کو تعارض نظر آیا۔اس حکم کی حیثیت یہودیوںکے اعتبار سے تالیف ِ قلب تھی ،منافقین اور کمزور ایمان والوں کے اعتبار سے ابتلاء و آزمائش کی تھی اور پختہ اور حقیقی ایمان کے حامل آپ ا کے سچے متبعین کے اعتبار سے اُنہیں اس مقدس گھر کا ذمہ دار بنا کر انہیں خیر امت کے منصب پر فائز کرنا تھا (اگرچہ اس کا ظہور کئی سال بعد حضرت عمرؓ کے دور میں ہوا)اس کی مثال بالکل یوں ہے کہ قرآن پاک کی حیثیت مومنین کے اعتبار سے ذریعۂ رحمت ہے اور کفار کے اعتبار سے ذریعۂ ضلالت ہے ، جیسا کہ خودقرآن پاک نے اپنی یہ مختلف حیثیات بیان کی ہیں (۱)  تو آنجناب اس ’’تعارض ‘‘ کے بارے میں کیا کہیں گے؟ یہی وجہ ہے کہ یہ تضاد چودہ سو سالہ تاریخ میں صرف آنجناب کو نظر آیا ۔سلف سے اعراض کر کے ،صرف عقل اور محض عقل کو بنیاد بنا کر شرعی نصوص کی تفسیر کرنے سے ایسے تضادات پیش آجایا کرتے ہیں ۔
۳:…آنجناب نے یہود کے حق ِ تولیت کے باقی رہنے میں اس سے بھی ’’استدلال‘‘کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود قرآن پاک میں’’قِبْلَتَہُمْ‘‘کا لفظ کہہ کر گویا یہود کے اس مقدس مقام پر تولیت کی ’’توثیق ‘‘کر دی، کیونکہ آنجناب کے بقول تنسیخ ِ تولیت کے مبحث میں یہ نسبت موزوں معلوم نہیں ہوتی ۔
 اس’’شاہکار استنباط ‘‘پر ہم صرف اتنا کہتے ہیں کہ آنجناب صرف اس سوال کا جواب دیں کہ اگر مسجد ِ اقصیٰ کو یہود کا صرف قبلہ ’’کہنا‘‘(وہ بھی ان کے زعم کے مطابق) ان کے حق ِ تولیت کے باقی رہنے کی ’’دلیل‘‘ہے، تو مسلمانوں کے لیے تو اللہ تعالیٰ نے اس مقام کو باقا عدہ شرعی حکم کے تحت قبلہ ڈیڑھ سال تک ’’بنایا‘‘کیایہ مسلمانوں کے حق ِتولیت کے لیے مؤید نہیں ہے؟تعجب ہے کہ ایک فریق کے لیے صرف قبلہ ’’کہنے ‘‘سے تو حق ِتولیت ثابت ہوتی ہو اور دوسرے فریق کے لیے اسے باقاعدہ قبلہ ’’بنانے ‘‘سے ان کے حق ِ تولیت کا اشارہ تک نہ بنتا ہو؟چنانچہ آنجناب لکھتے ہیں:
 ’’ہم فی الواقع نہیں سمجھ سکے کہ اس پس ِ منظر کے ساتھ مسجد ِ اقصیٰ کو عارضی طور پر مسلمانوں کا قبلہ مقررکرنے کے اس حکم کودلالت کی کونسی قسم کے تحت مستقل تولیت کا پروانہ قرار دیا جاسکتا ہے؟‘‘۔
ہم بھی ’’بجواب ِآں غزل ‘‘کہتے ہیں :
 ’’ہم فی الواقع نہیں سمجھ سکے کہ اس پس ِ منظر کے ساتھ مسجد ِ اقصیٰ کو صرف یہود کا قبلہ کہنے سے دلالت کی کونسی قسم کے تحت اس مغضوب ِ علیہم قوم کو اللہ کا یہ مقدس و مطہر گھر مستقل طور پر دینے کا پروانہ قرار دیا جا سکتا ہے؟‘‘۔
مشرکینِ مکہ پر قیاس 
جناب عما ر صاحب نے حق ِ تولیت کے ’’مزعومہ شرعی دلائل ‘‘کا ذکر کرتے ہوئے تیسرے نمبر پر یہ ’’دلیل ‘‘ذکر کی ہے اور یہ’’دعویٰ ‘‘کیا ہے کہ مسلم مفکرین یہود کی تولیت کی منسوخی کے لیے مسجد ِ اقصیٰ کو مسجد ِ حرام پر اور یہود کو مشرکین ِمکہ پر ’’قیاس ‘‘کرتے ہیںکہ جس طرح مشرکین مکہ اللہ کی نافرمانی کے نتیجے میں مسجد ِحرام کی تولیت سے محروم کیے گئے ،اسی طرح یہود بھی اپنی نافرمانیوں کی بدولت مسجد ِ اقصیٰ کی تولیت سے محروم ہوںگے۔ 
 آنجناب نے یہ استدلال حضرت قاری محمد طیب صاحب ؒ کی مایہ ناز کتاب ’’مقامات ِ مقدسہ اور ان کا اجتماعی نظام ‘‘کے ایک اقتباس سے اخذ کیا ہے ،ہم سب سے پہلے حضرت قاری صاحبؒ کی وہ عبارت قارئین کے سامنے پیش کرتے ہیں ،پھر آنجناب کے ’’حسن ِاستنباط ‘‘سے متعلق چند باتیں عرض کریں گے ۔حضرت قاری صاحبؒ لکھتے ہیں :
 ’’یہ تینوں مرکز اسلام کی جامعیت کی وجہ سے مسلمانوں کو کسی کے دیے سے نہیںملے، بلکہ خدا کی طرف سے عطا ہوئے ا ور انہی کے قبضہ و تصرف میں دیے گئے ہیں ، جن میں کسی غیر کے دخل یا قبضے کا از روئے اصول سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔حجاز میں مشرکین ملت ِ ابراہیم کے نام سے عرب پر قابض و متصرف تھے ،لیکن جب انہوں نے شعائر اللہ کی جگہ بے جان مورتیوں اور پتھر کے سنگ دل خدائوں کو جگہ دی، تو سنت اللہ کے مطابق ان کا قبضہ تبدیل کر دیا گیا ۔شام کی مقدس سرزمین بلا شبہ اولا ً یہودکو دی گئی اور فلسطین ان کے قبضے میں لگا دیاگیا ،جیسا کہ قرآن ’’ کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمْ‘‘سے اس کا اُنہیں دے دیا جانا ظاہر کیا ہے،لیکن انہوں نے عہد شکنی کی اور الٰہی میثاق کو توڑ ڈالا۔ ان حرکات کے انتہا کو پہنچ جانے پر حق تعالیٰ نے انہیں بیت المقدس کی تولیت اوراس ملک کی ملکیت سے محروم کرکے ان پر نصاریٰ کو مسلط کر دیا ،چنانچہ بعثت ِ نبوی سے تین سو سال پہلے نصاریٰ ‘شام اور فلسطین کی ارضِ مقدس پر قابض ہو گئے ،لیکن اقتدار جم جانے کے بعد رد ِعمل شروع ہوااور بالآخر وہ بھی قومی اور طبقاتی رقابتوں میں مبتلا ہو کر اسی راہ پر چل پڑے تھے جس پر یہود چلے تھے ،صخرۂ معلقہ کو جو یہود کا قبلہ تھا، غلاظت کی جگہ قرار دیا اور اس کی انتہائی توہین شروع کر دی، محض اس لیے کہ وہ یہود کا قبلہ تھا،اس پر پلیدی ڈالی اور اسے مزبلہ (کوڑی)بناکر چھوڑا۔ ظاہر ہے کہ شعائر الٰہیہ اور نشانات ِ خداوندی کے بعد کوئی قوم بھی پنپ نہیں سکتی ،اس لیے بالآخر نصاریٰ کا بھی وقت آگیا،ان کا اقتدار یہاں ختم ہوا اور حق تعالیٰ نے مسلمانوں کو غلبہ دے کر اُنہیں بیت المقدس کا متولی بنا یا۔‘‘                          (بحوالہ مذکورہ مضمون)
 آنجناب نے اس عبارت سے یہ نتیجہ اخذ کیاہے :
 ’’اس میں اہل ِ کتاب کو مشرکین مکہ پر اور اس کے نتیجے میں مسجد ِ اقصیٰ کی تولیت کے معاملے کو مسجد ِحرام کی تولیت کے معاملے پر قیاس کیا گیا ہے‘‘۔
 قارئین سے درخواست ہے کہ وہ حضرت قاری صاحبؒ کی عبارت کو دوبارہ غور سے پڑھیں اور خصوصاً تحریر میں نمایاں کردہ جملوں اور الفاظ کو توجہ سے دیکھیں ،پھر جناب عمار صاحب کے اخذ کردہ نتیجے کو دیکھیں اور انصاف سے فیصلہ کریں کہ کیا واقعی حضرت کا مقصد ایک’’ عقلی قیاس ‘‘پیش کرنا ہے؟جیسا کہ آنجناب نے ’’دعویٰ ‘‘کیا ہے یا حضرت قاری صاحب اس عبارت میں اس ’’سنت اللہ‘‘ اور ’’خداوندی ضابطے‘‘ کو بیان کرنا چاہتے ہیں ،جس کو ہم نے اس تحریر میں بار بار بیان کیا ہے؟
 حضرتؒ نے اس عبارت میں سب سے پہلے ان عبادت گاہوں کے لیے ’’مرکز ‘‘کا لفظ استعمال کیا، اس سے اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ جن مقامات کی ہم بات کر رہے ہیں ،وہ کسی مخصوص قوم، ملت اور مذہب کی’’جاگیر ‘‘نہیں،بلکہ یہ مقامات اللہ کے منتخب کردہ مراکز ہیں۔ اس سے آنجناب کے اس نظریے کی تردید ہو گئی کہ مسجد ِ اقصیٰ کی حیثیت محض بنی اسرائیل کے قومی قبلہ اور مرکز ِ عبادت کی ہے، چنانچہ آنجناب لکھتے ہیں:
 ’’اس کے برعکس مسجد ِ اقصیٰ کی حیثیت محض بنی اسرائیل کے قومی قبلہ اور مرکز ِ عبادت کی تھی ‘‘۔
 اس کے بعد حضرت قاری صاحبؒ نے مشرکین کے حق ِ تولیت کے ختم ہونے کو یوں بیان کیا :
 ’’تو سنت اللہ کے مطابق ان کا قبضہ تبدیل کیا گیا ‘‘۔
 کیا جناب عمار صاحب بتائیں گے کہ ’’سنت اللہ ‘‘سے کیا مراد ہے؟ اور حضرت اس لفظ سے ان مراکز عبادت کے لیے اللہ کی کونسی ’’سنت‘‘ اور ’’ضابطے‘‘ کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں؟
 پھر حضرت قاری صاحبؒ نے مسجد ِ اقصیٰ کی تولیت یہود سے نصاریٰ کی طرف منتقل ہونے کو یوں بیان کیا:
 ’’انہوں نے عہد شکنی کی اور الٰہی میثاق کو توڑ ڈالا ،ان حرکات کے انتہا کو پہنچ جانے کی بنا پر حق تعالیٰ نے انہیں بیت المقدس کی تولیت اور اس ملک کی ملکیت سے محروم کر دیا‘‘۔
اس عبارت میں حضرت قاری صاحب ؒ نے پھر اس ’’سنت اللہ‘‘ کی طرف اشارہ کیاکہ اللہ تعالیٰ نے خود اُنہیں ان کی مذکورہ حرکات کی بنا پر مسجد ِ اقصیٰ کی تولیت سے محروم کر دیا۔
اس کے بعد اس مقدس مقام کی تولیت مسلمانوں کی طرف منتقل ہونے کو کچھ یوں بیان کیا:
’’ظاہر ہے کہ شعائر الٰہیہ اور نشاناتِ خداوندی کے بعد کوئی قوم بھی پنپ نہیں سکتی، اس لیے بالآخر نصاریٰ کا وقت آگیا ،ان کا اقتدار ختم ہوا اور حق تعالیٰ نے مسلمانوں کو غلبہ دے کر انہیں بیت المقدس کا متولی بنا دیا ۔‘‘
 اس پوری عبارت کا تجزیہ کرنے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حضرت قاری صاحبؒ مسجد ِ اقصیٰ اور مسجد ِ حرا م دونوں کو شعائر اللہ ،نشاناتِ خداوندی ،مراکز ِعبادت اور مقدس مقام مانتے ہیں ۔پھر ان مقاماتِ مقدسہ کے بارے میں اس ’’سنت اللہ‘‘ اور ’’خدائی ضابطے‘‘ کو بیان کیا ،جس کی طرف ہم کئی بار اس تحریر میں اشارہ کر چکے ہیں ،چنانچہ حضرت قاری صاحبؒ مشرکین سے بیت اللہ کی تولیت چھیننے ،یہود کے مسجد ِ اقصیٰ کی تولیت سے محروم ہونے ،نصاریٰ کے مسجد ِ اقصیٰ کی تولیت سے معزولی اور آخر میں مسلمانوں کا ان مقدس مقامات کی تولیت سنبھالنے کو ’’سنت اللہ‘‘ اور اسی ’’خداوندی ضابطے‘‘ کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ لیکن آنجناب کا ’’حسن ِ استنباط ‘‘ ہے کہ اس عبارت سے ایک ’’عقلی قیاس ‘‘ ثابت کر رہے ہیں ۔
 اس کے بعد آنجناب نے اپنے ’’غلط نتیجے ‘‘ کی بنیا د پر بحث کی پوری عمارت کھڑی کردی اور اس ’’مزعومہ قیاس ‘‘ کے رد میں درج ذیل نکات اٹھائے :
نکتہ نمبر:۱…حق تولیت کے لیے ’’صریح دلیل ‘‘ کی ضرورت ہے ،اُسے صرف قیاس سے ثابت نہیں کیا جاسکتا۔
نکتہ نمبر:۲…مشرکین ِ مکہ اور اہلِ کتاب کے جرائم ،احکامات اور ان دو مسجدوں کی نوعیت میں خاصا فرق ہے ،اس لیے ان کے حق ِ تولیت کے احکام الگ ہوں گے،چنانچہ مفصل بحث کر کے آ خر میں لکھتے ہیں :
 ’’دونوں عبادت گاہوں کے درجے اور احکام میں پائے جانے والے ان اصولی و فروعی فروق کو حق تولیت کے معاملے میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، بلکہ اس پر بھی گہرے طور پر اثر انداز ہوتے ہیں ‘‘۔
تعجب ہے کہ مسلم مفکرین کو تو حق ِ تولیت قیاس سے ثابت کرنے پر کوس رہے ہیں ،لیکن خود یہ فرق بھی قیاس سے نکال رہے ہیں کہ ان دونوں گروہوں کے نام الگ الگ رکھنا ،جزیہ کے حکم میں فرق،عبادت گاہوں کی بقا و ہدم میں فرق اور اس جیسے دیگر فروق ’’دلالت ‘‘ کرتے ہیں کہ حق ِ تولیت میں بھی فرق ہے ،اگر قاری صاحبؒ با لفرض اپنی عبارت میں ’’اشتراک العلۃ یدل علٰی اشتراک الحکم‘‘ والا ’’قیاس ‘‘ پیش کر رہے تھے ،تو آنجناب ’’افتراق العلۃ یدل علی افتراق الحکم ‘‘ والا قیاس پیش نہیں کر رہے ہیں؟یا للعجب ۔
تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
وہ تیرگی جو میرے نامۂ اعمال میں تھی
 اس پوری مفصل بحث میں آنجناب نے اپنے اس ’’قیاس ‘‘ پر پورا زور صرف کرنے کے علاوہ حق ِ تولیت کے حوالے سے اپنے موقف پر ایک بھی ’’صریح دلیل ‘‘ نہیں دی ۔
نکتہ نمبر:۳… آنجناب نے اپنا سارا زور اس پر صرف کیا کہ مشرکین مکہ کی تولیت سے محرومی کی واحد وجہ ’’شرک ‘‘ ہے اور اہل کتاب چونکہ قرآنی اصطلاح کے اعتبار سے مشرکین نہیں ہیں، اس لیے یہ ’’قیاس‘‘ غلط ہے۔ہم آنجناب سے پوچھتے ہیں کہ پھر مسجد ِ حرام کی تولیت کے معاملے میں اہل ِ کتاب کا کیا حکم ہے ؟ کیونکہ وہ مشرکین نہیں ہیں !ظاہر ہے کہ اللہ نے مسجد ِ حرام سے صرف مشرکین کی بے دخلی کے بارے میں’’صریح نص‘‘ نازل کی ہے ؟کیا آنجناب کے پاس اس حوالے سے ایک بھی ’’صریح نص‘‘ ہے کہ اہل ِ کتاب مسجد ِ حرام کی تولیت کے حق دار نہیں ہیں؟آنجناب ’’أخرجو الیہود و النصاریٰ من جزیرۃ العرب ‘‘ جیسی نصوص پیش کریں گے، لیکن عرض یہ ہے کہ جب حضرت عمرؓ کی بیت المقدس کے بارے میں یہود کے حوالے سے لگائی جانے والی ایک شرط ’’ولا یسکن بإیلیا معہم أحد من الیہود‘‘ مسجد ِاقصیٰ پریہود کی تولیت سے آنجناب کے بقول مانع نہیں بنتی تو ’’  أخرجوا الیہود والنصارٰی ‘‘ والی نص اہل ِکتاب کی تولیت سے مانع کیسے بنے گی؟نیز اگر اہل کتاب اس پر اپنے ’’مذہبی حق‘‘ کایوں دعویٰ کریں کہ ’’یہ گھر بنی اسرائیل کے جد ِامجد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر کیا ہے اور جب بنی اسرائیل کے ایک پیغمبر حضرت سلیمان علیہ السلام نے جو گھر بنا یا ،آپ اس پر ہمارا ’’تاریخی و مذہبی حق ‘‘تسلیم کرتے ہیں تو اس گھر پر ہمارا حق کیونکر نہیں ہوگا ،جو سب بنی اسرائیل کے جد ِامجد نے تعمیر کیا ہے؟‘‘ آنجناب اس حوالے سے کیا ’’تحقیق‘‘ پیش فرمائیں گے؟
اصل بات یہ ہے کہ نصوص میں بطور ِ علت شرک کا جو بیان ہوا ہے ،اس میں مقصود اہل ِ کتاب سے احتراز ہے ہی نہیں ،جیسا کہ آنجناب کا گمان ہے ،بلکہ وہ علت ایمان کے مقابلے میں بیان ہوئی ہے ۔گویا اس میں مشرکین کا تقابل مومنین کے ساتھ کیا گیا ہے، نہ کہ اہل ِ کتاب کے ساتھ،یعنی مشرکین مکہ کو اس لیے مسجد ِ حرام کی تولیت نہیں مل سکتی ، کیونکہ وہ مشرک ہیں یعنی مومن نہیں ہیں ۔علمی اصطلاح میں اس کو یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہ حصر اضافی ہے، نہ کہ حقیقی۔چنانچہ علامہ آلوسی ؒ سورۂ انفال کی آیت ’’إِنْ أَوْلِیَائُ ہٗ إِلَّاالْمُتَّقُوْنَ ‘‘ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :
’’  وما أولیاء المسجد الحرام إلا المتقون من الشرک الذی لا یعبدون فیہ غیرہٗ تعالٰی وا لمراد بہم المسلمون وہذہٖ المرتبۃ الأولٰی من التقوٰی ‘‘۔ (۲)
اسی طرح مفسرین نے سورۂ براء ت کی آیت ’’شَاہِدِیْنَ عَلٰی أَنْفُسِہِمْ بِالْکُفْرِ ‘‘میں صرف مشرکین کا ذکر نہیں کیا ،بلکہ اہل ِ کتاب کا بھی ذکر کیا ،چنانچہ امام ابن ِ کثیر ؒ کی جو عبارت آنجناب نے نقل کی ہے ،اس سے آگے عبارت یوں ہے :(جو آنجناب کو شاید’’نظر ‘‘ نہیں آئی )
’’ وہم شاہدون علی أنفسہم بالکفر أی بحالہم و قالہم کما قال الذی لو سألت النصرانی: ما دینک ؟ لقال: نصرانی ، والیہودی ما دینک؟ لقال: یہودی ، والصائبین و المشرک، لقال: مشرک ‘‘۔(۳)
 نیز اس بات کی تائید اگلی آیت سے بھی ہوتی ہے اس میں ’’مساجد اللّٰہ ‘‘ کی تولیت صرف غیر مشرکین یعنی مومنین کا حق بتلایا گیا ہے:
 ’’  إِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّٰہِ مَنْ أٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْأٰخِرِ وَ أَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ أٰتٰی الزَّکٰوۃَ وَلَمْ یَخْشَ إِلاَّ اللّٰہَ‘‘۔                                                         (البراء ۃ:۱۸)
’’اللہ کی مسجدوں کو تو وہی لوگ آباد کرتے ہیں ،جو اللہ اور آخرت پر ایمان لائے ہوں اور نماز قائم کریں ،زکوۃ ادا کریں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں ‘‘۔
اس موقع پر آنجناب نے مسجد ِ اقصیٰ و مسجد ِ حرام اور مشرکین و اہل کتاب کے درمیان جتنے ’’فروق‘‘ بیان کیے ہیں اور دونوں کے جد ا جدا احکامات پر جتنا ’’زور ‘‘ صرف کیا ہے ، ان کو یہاں زیر ِ بحث لانا بے فائدہ ہے ،کیونکہ ان فروق کی وجہ سے ان دو مقدس مقامات کی تولیت میں فرق نکالنا آنجناب کا ’’قیاس ‘‘ہے، جس پر آنجناب نے پوری بحث میں کوئی ’’دلیل‘‘نہیں دی ۔اس کے علاوہ یہ سارے فروق واقعی حق تولیت میں بھی ’’علت ِمؤثرہ ‘‘ کا کردار ادا کرتے ہیں ،اس پر بھی ’’دلیل‘‘ کی ضرورت ہے ،کیونکہ مقیس و مقیس علیہ کا تمام اوصاف میں کلی ’’اشتراک ‘‘ صحت ِ قیاس کے لیے کسی کے نزدیک بھی شرط نہیں ہے ۔ 
آنجناب نے مسجد ِ حرام کی تولیت سے مشرکین کی محرومی کی علت ’’شرک ‘‘ نکالی ہے ،اس پر سوال یہ ہے کہ اس حکم کی علۃ العلۃ کیا ہے ؟یعنی شرک کیوں ایک مقدس گھر کی تولیت سے بے دخلی کی علت ہے؟تو اس بارے میں گزارش یہ ہے کہ اس حکم کی اصل علت ’’اللہ کی نافرمانی اور تکذیب ِ پیغمبر‘‘ہے کہ مشرکین چونکہ اپنے شرک کی آڑ میں اللہ کی نافرمانی اور اللہ کے ایک جلیل القدر پیغمبر کی تکذیب کر رہے تھے، تو اللہ نے اُنہیں اس گھر کی تولیت سے محروم کردیااور یہی علت اہل ِ کتاب میں بھی پائی جاتی ہے، اس لیے وہ بھی ایک مقدس گھر کی تولیت سے محروم ہوں گے۔اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ یہود کی بیت المقدس سے دو مرتبہ جلاوطنی‘ اللہ کی نافرمانی اور اس کے جلیل القدر پیغمبروں کی تکذیب اور ان کی اطاعت سے انکار کی وجہ سے ہوئی تھی ۔سورۂ اسراء کی ابتدائی آیات اس پر شاہد ہیں، اور یہی علت آج کے یہودیوں میں موجود ہے ،اس لیے وہ اس مقدس گھر کی تولیت کے قطعاً حقدار نہیں ہوں گے۔
نکتہ نمبر:۴…اس بحث کے آخرمیں آنجناب نے ایک ’’تضاد ‘‘کا دعویٰ بھی کیا ہے ،چنانچہ لکھتے ہیں :
 ’’علاوہ ازیں اس تضاد کا کیا حل ہے کہ جب اسلام میں اہل ِ کتاب کی عام عبادت گاہوں کو تحفظ دیا گیا اور ان پر اہل مذہب کی تولیت و تصرف کا حق تسلیم کیا گیا ،تو ان کے قبلہ اور مرکزِ عبادت کے بارے میں یہ فیصلہ کیوں کیا گیا کہ وہ اس پر تولیت ، تصرف اور اس میں عبادت کا حق نہیں رکھتے؟‘‘۔
 آنجناب کو یہ تضاد اس لیے نظر آرہا ہے کہ آنجناب کے نزدیک مسجد ِ اقصیٰ کی حیثیت محض یہود کی ایک قومی عبادت گاہ اور مرکز ِ عبادت کی ہے اور آنجناب اس کو صرف یہود کا مرکز ِعبادت ’’فرض‘‘ کر کے ساری بحث کر رہے ہیں ،حالانکہ ہم اس کی وضاحت بار بار کر چکے ہیں کہ مسجد ِ اقصیٰ صرف یہود کا قبلہ و مرکز نہیں ہے ،بلکہ وہ دنیا کے ان چند مقدس مقامات میں سے ایک مقدس مقام ہے ،جس کی بنیاد،تعمیر، اور تجدید اللہ کے حکم سے اللہ کے جلیل القدر انبیاء ؑنے کی ہے اور ایسے مقدس مقامات کے بارے میں ’’سنت اللہ ‘‘یہی ہے کہ وہ ہر زمانے کے اہل ِ حق کو ملتے ہیں ۔یہود کو بھی ایک زمانے میں یہ مقام اسی لیے ملا تھا کہ وہ اس وقت اہل ِ حق تھے ۔اگر آنجناب اپنا زاویۂ نظر تبدیل کر لیں ،تو اس میں ایک رَتی کے برابر تضاد نہیں ہے۔اپنے ذہن سے ’’غلط مقدمات ‘‘ فرض کر کے جب احکاما ت ِ شریعت پر نظر ڈالیں گے تو تضادات کے سوا کیا نظر آئے گا؟
فتح ِ بیت المقدس کی بشارت
 جناب عمار صاحب نے ’’دلائل ِ شرعیہ ‘‘ پر نقد کرتے ہوئے ایک ’’دلیل ‘‘ یہ بھی بیان کی ہے کہ بعض حضرات احا دیث میں بیت المقدس کی فتح کی بشارت کو بھی مسجد ِ اقصیٰ کی تولیت کی دلیل بناتے ہیں ۔ آنجناب نے اس پر اعتراض یہ کیا ہے کہ بیت المقدس شہر کی فتح کی بشارت سے وہاں پر موجود عبادت گاہوں پر تولیت کاحق کہاں سے لازم آیا؟کیونکہ کسی شہر کا فتح ہو کر مسلمانوں کے قبضے میں آنا اور بات ہے، جبکہ وہاں پر موجود عبادت گاہوں پر تولیت ایک اور بحث ہے ۔
 آنجناب سے گزارش ہے کہ نصوصِ شرعیہ میں بیت المقدس کا لفظ مسجد ِ اقصیٰ کے لیے ہی استعمال ہوا ہے ،اس لفظ کا بلد ِقدس کے لیے استعمال کا رواج محققین کے نزدیک خلافت ِعباسیہ کے دور میں خصوصاً ہارون الرشید کے دور میں شروع ہوا (۴)لہٰذا جب اس سے مراد ہی مسجد ِ اقصیٰ ہے تو پھر ان احادیث کو تولیت کی دلیل کیوں نہیں بنا یا جاسکتا ؟ذیل میں چند نصوص ذکر کرتے ہیں ،جن میں مسجد ِ اقصیٰ کے لیے بیت المقدس کا لفظ استعمال ہوا ہے:
۱:…نسائی شریف میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے ہاتھوں مسجد ِ اقصیٰ کی تعمیر کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے:
’’  لَمَّا فرغ سلیمانؑ من بناء بیت المقدس سأل اللّٰہَ ثلاثاً‘‘۔(۵)
۲:…معراج کی رات آپ ا مسجد ِ اقصیٰ میں داخل ہوئے اور آپ ا کے اعزاز کے لیے انبیاء ؑکو جمع کیا گیا ،اس کا ذکر یوں ہے :
’’  ثم دخلت بیت المقدس ، فجمع لی الأنبیائؑ‘‘۔  (۶)
۳:… جب آپ ا معراج سے واپس تشریف لائے اور علیٰ الصباح یہ واقعہ بیان کیاتو مشرکین نے امتحاناً مسجد ِ اقصیٰ کے بارے میں سوالات شروع کر دیے ، اللہ تعالیٰ نے مسجد ِ اقصیٰ کو آپ ا کے سامنے ظاہر کر دیا ،اس کا ذکر یوں ہوا ہے :
’’  فجلا اللّٰہ لی البیت المقدس‘‘۔ (۷)
۴:…امام ابو دائود ؒ نے باب باندھا ہے :
’’  باب من نذر أن یصلی فی بیت المقدس‘‘۔ (۸)
۵:…امام ابن ماجہ ؒ نے باب باندھا ہے :
’’  باب من أہل من بیت المقدس‘‘۔ (۹)
۶:…ترمذی شریف میں حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہما السلام کا ایک لمبا واقعہ مذکور ہے، اس میں حضرت یحییٰ علیہ السلام نے مسجد ِ اقصیٰ میں بنی اسرائیل کو جمع کیا ،اس کا تذکرہ یوں آیا ہے :
’’  فجمع الناس فی بیت المقدس فامتلأ المسجد ‘‘۔(۱۰)
۷:…حضرت ِ حذیفہ بن یمان ؓ کی روایت میں ہے :
’’  أصلی رسول اللّٰہ ا فی بیت المقدس ؟‘‘۔(۱۱)
۸:…امام رازیؒ تفسیر کبیر میں لکھتے ہیں :
’’  وقولہ (إلی المسجد الأقصیٰ) اتفقواعلی أن المرادمنہ بیت المقدس‘‘۔(۱۲)
۹:…روح المعانی میں علامہ آلوسی ؒ لکھتے ہیں :
’’( إلی المسجد الأقصٰی) وھو بیت المقدس‘‘۔ (۱۳)
۱۰:…امام ابن کثیر ؒ لکھتے ہیں :
’’ (إلی المسجد الأقصٰی)  وھو بیت المقدس‘‘۔(۱۴)
 ان نصوص سے یہ بات واضح طورپرثابت ہوتی ہے کہ بیت المقدس کا لفظ قرآن و حدیث میں مسجد ِ اقصیٰ کے لیے ہی بولا جاتا ہے ۔اس کے علاوہ آنجناب نے شاید ’’قصداً‘‘اس بشارت اور پیش گوئی پر اکتفا کیا ،حالانکہ اس حوالے سے مزید نصوص بھی آئی ہیں ،کاش! آنجناب ان پر بھی ’’خامہ فر سائی ‘‘ فرماتے۔اب ان میں سے چند کا ذکر کیا جاتا ہے:
۱:…مسجد ِ اقصیٰ میں دجال (یہود کا سربراہ)داخل نہیں ہو سکے گا۔(۱۵)
۲:… بیت المقدس میں مسلمان قرب ِ قیامت میں محصور ہوں گے۔(۱۶)
۳:…بیت المقدس کی خرابی و بربادی کے ساتھ مدینہ منورہ کی خرابی و بربادی کا بڑا گہرا تعلق ہے۔(۱۷)
۴:…ابواب ِ بیت المقدس پر جو لشکر جہاد کرے گا، وہ حق لشکر ہو گا۔(۱۸)
تکوینی مشیت اور تشریعی حکم میں فرق
 جناب عمارصاحب نے مسجدِ اقصیٰ سے یہود کی بے دخلی کے واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہود پر ان کی نافرمانی کے نتیجے میں بخت نصر اور دوسرے فاتحین کا مسلط ہونا خالص ایک تکوینی معاملہ ہے ،اس لیے اسے اپنے حق میں دلیل نہیں بنایاجاسکتا ۔آنجناب نے یہاں بھی ’’خلط ِ مبحث ‘‘ سے کام لیا ،حالانکہ سورۂ اسراء میں مذکور واقعات تشریعی اور تکوینی دونوں قسم کے احکام پر مشتمل ہیں :
۱:…حکم ِتشریعی تو یہ ہے کہ نافرمانی اور سرکشی کی وجہ سے یہود سے مسجد ِ اقصیٰ کی تولیت چھین لی گئی ،یہ وہی ضابطہ ہے جو کتب ِسماویہ میں بار بار بیان ہواہے۔لہٰذا آئندہ جو بھی گروہ اور جماعت اس طرح نافرمانی کا ارتکاب کرے گی، وہ اس گھر کی تولیت سے یہود کی طرح محروم ہو گی۔
۲:…اس نافرمانی کے نتیجے میں ان پر ایسے فاتحین مسلط ہونا ،جنہوں نے بیت المقدس کو ویران و برباد کیا ،یہ ایک خالص تکوینی معاملہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسی کی مذمت ’’وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللّٰہِ ‘‘ میں بیان کی ہے ،اس لیے اگر اب کوئی ان واقعات سے استدلال کرتے ہوئے اس مقدس مقام کی بے حرمتی روا رکھے گا ،تو وہ یقیناً مذمت کا مستحق ہو گا۔اب امت ِ مسلمہ کے مفکرین اس تکوینی معاملے سے استدلال کرتے ہوئے مسجد ِ اقصیٰ کی حرمت کو پامال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، یا وہ اس میں بیان کیا ہوا حکم اور اللہ کی ’’سنت‘‘ سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ مقدس گھر اس ’’مغضوب علیہم‘‘ قوم کو نہ دیا جائے؟ آنجناب خود فیصلہ کر لیں ۔
مَا کَانَ لِلْمُشْرِکِیْنَ أَنْ یَّعْمُرُوْا مَسَاجِدَ اللّٰہِ کی تعمیم 
 آنجناب نے لکھا ہے کہ اس آیت کے عموم سے استدلال کرتے ہوئے تمام مساجد اور تمام کفار کو اس حکم میں شامل کرنا درست نہیں ہے ،کیونکہ یہ صرف مسجد ِ حرام کے بارے میں ہے اور یہ حکم صرف مشرکین کے ساتھ خاص ہے ۔آنجناب سے گزارش ہے کہ اگر استدلال کرنا بھی ہے تو وہ اس آیت کی بجائے اگلی آیت سے ہوتا ہے ،اس میں اللہ نے اپنے گھروں کے بارے میں ایک عمومی ضابطہ بیان کیا ہے ،اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
’’  إِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّٰہِ مَنْ أٰ مَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْأٰخِرِ وَ أَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ أٰ تٰی الزَّکٰوۃَ وَلَمْ یَخْشَ إِلاَّ اللّٰہَ ‘‘۔                                                          (البراء ۃ :۱۸)
ترجمہ:’’ اللہ کی مسجدوں کو تو وہی لوگ آباد کرتے ہیں ،جو اللہ اور آخرت پر ایمان لائے ہوں اور نماز قائم کریں ،زکوٰۃ ادا کریں اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں ‘‘۔
اس کی تفسیر میں اما م ِ اہل سنت اما م ماتریدی ؒ لکھتے ہیں:
’’  فذلک کلہ علی المسلمین أی علیہم عمارۃ المساجد و بہم تعمر المساجد ولہم ینبغی أن یعمروھا ‘‘۔(۱۹)
 ترجمہ:’’یہ سارے کام مسلمانوں کا فریضہ ہیں ،یعنی ان کی ذمہ د اری مساجد کو آباد کرنا ہے ،اور انہی سے مساجد حقیقت میں آباد ہوتی ہیںاور انہی کا حق ہے کہ وہ مساجد کو آباد کریں ‘‘۔
 بیت المقدس میں یہود کا قیام 
 حضرت عمر ؓ نے بیت المقدس کی فتح کے وقت جو شرائط لگائیں تھیں ،ان میں ایک شرط یہ بھی شامل تھی کہ یہود میں سے کوئی بھی بیت المقدس میں قیام نہیں کر سکے گا ۔اب یہ شرط کتنی صراحت کے ساتھ یہود کی تولیت کی نفی کر رہی ہے !کیونکہ اگر واقعی از روئے ’’شریعت ‘‘مسجد ِ اقصیٰ پر یہود کا حق ہو تا تو حضرت عمر ؓ اس میں ضرور کوئی ایسا استثناء کرتے ،جس سے ان کا یہ ’’شرعی حق ‘‘ پامال نہ ہوتا۔یہ کونسی ’’عدالت‘‘ ہے کہ عیسائیوں کی عام عبادت گاہ کا تو اتنا خیال رکھ رہے ہیں کہ ان میں نماز بھی پڑھنا گوارا نہیں کر رہے ہیں ،لیکن یہود کو نہ صرف ان کی ’’مرکزی عبادت گاہ‘‘ سے محروم رکھ رہے ہیں ،بلکہ انہیں اس شہر میں قیام کی اجازت نہیں دے رہے ہیں کہ وہ کم از کم اُسے دیکھ ہی لیا کریں ؟
آنجناب نے جو اس کا ’’شاہکار جواب ‘‘ دیا ہے ،قارئین بھی اس سے لطف اندوز ہوں۔ آنجناب نے لکھا ہے کہ:’’ یہ شرط اصل میں عیسائیوں کی درخواست پر لگائی گئی،جو پرانے زمانے میں ایک رومی بادشاہ نے لگائی تھی اور عیسائی اسی شرط کو برقرار رکھناچاہ رہے تھے ‘‘۔اب جناب عمار صاحب کو کون بتائے کہ کیا اس شرط کا پس ِ منظر اور سبب بتانے سے کیا یہ بات ثابت ہوگئی کہ حضرت عمر ؓ کی نظر میں ان کا حق ِتولیت باقی ہے ؟نیز مسلمان فاتح تھے یا مفتوح کہ عیسائیوں کی درخواست پر ایک ’’غیر شرعی ‘‘شرط لگانے پر آمادہ ہو گئے ؟حقیقت یہ ہے کہ یہ شرط اور مسجد ِ اقصیٰ پر یہود کی تولیت ایک دوسرے کے بالکل معارض ہے ۔اگر آنجناب کا موقف تسلیم کرلیں کہ مسجد ِ اقصیٰ پر یہود کا ’’تاریخی و مذہبی حق‘‘ باقی ہے اور از روئے شریعت ان کا یہ حق منسوخ نہیں ہوا ،تو حضرت عمرؓ کی عدالت پر ایسا دھبہ لگتاہے جس کی امت کے تمام مفکرین مل کر بھی مناسب توجیہ نہیں کر سکتے ، کیونکہ مسجد ِ اقصیٰ پر یہود کا حق تسلیم کرتے ہوئے اس شرط کی اس کے سوا کوئی توجیہ نہیں ہو سکتی کہ انہوں نے یہ شرط لگا کر یہود کا یہ حق ’’غصب ‘‘کر لیاجو شریعت کی رو سے اُنہیں عطا ہوا تھا۔ 
 حوالہ جات
۱…البقرۃ:۲۶۔                ۲…روح المعانی ،۹؍ ۲۰۲۔
۳…ابن ِکثیر ،۷؍۱۵۸۔                ۴…المدخل الی دراسۃ المسجد الا قصی، ص:۳۱۔
۵…سنن نسائی ،فضل المسجد الاقصیٰ ،رقم الحدیث: ۶۹۲۔        ۶…نسائی ،فرض الصلاۃ،رقم الحدیث:۴۴۹۔
۷…بخاری، حدیث الاسراء ،رقم الحدیث: ۳۸۸۶۔        ۸…ابو دائود ،ص:۳۷۱۔
۹…ابن ِماجہ ،۲؍۹۹۸۔                ۱۰…ترمذی ،مثل الصلوۃوالصیام والصدقۃ،رقم الحدیث:۲۸۶۳۔
۱۱…ترمذی ،کتا ب التفسیر ،رقم ۳۱۴۷۔            ۱۲…تفسیر ِکبیر،۲۰؍۱۴۷۔
۱۳…روح المعانی ،۱۵؍۹۔            ۱۴…ابن کثیر ،۸؍۳۷۳۔
۱۵…مسند احمد ،۳۲؍۳۴۹۔            ۱۶…ایضاً۔
۱۷…مسند ِاحمد ،۳۶؍۶۵۷۔    ۱۸…ایضاً۔    ۱۹…تاویلات ،۵؍۳۱۷۔
(جاری ہے)

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے