بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 صفر 1442ھ- 26 ستمبر 2020 ء

بینات

 
 

مرابحہ مؤجَّلہ --- اِرتقائی، واقعاتی اور تجزیاتی مطالعہ (پہلی قسط)

مرابحہ مؤجَّلہ

اِرتقائی،واقعاتی اور تجزیاتی مطالعہ     (پہلی قسط)


’’تخصصِ فقہِ اسلامی تعلیمی سال ۱۴۴۰ھ کے تیسرے سہ ماہی میں تخصص کے طلبہ کے سامنے بندہ نے اسلام کی طرف منسوب مروجہ بینکوں کے بارے میں مختلف عناوین پر محاضرے پیش کیے، مختلف طلبہ اپنی دلچسپی اور سہولت کے مطابق کچھ محاضرات ضبطِ تحریر میں لائے۔ ان موضوعات میں سے ایک موضوع ’’سرمایہ دارانہ معیشت کے زیرِاثر مرابحہ مؤجلہ کا مطالعہ‘‘ بھی تھا، شرکاء تخصص میں سے مولوی فضل الرحمن سلمہٗ نے راقم کے افادات کو جمع کیا اور اس کی روشنی میں اپنے انداز سے اس تقریر کو مزید تحقیق وتخریج کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی، جسے غیرسودی بینک کاری کے اصلاحی سلسلوں میں شمولیت کے لائق قرار دیتے ہوئے شاملِ اشاعت کیا جارہا ہے۔‘‘                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                        (رفیق احمد)

 

حرفِ اول

اس مقالے کا مقصد ایک مبتدی کے طور پر یہ سمجھنا اور سمجھانا ہے کہ تدریجی بنیادوں پر ’’مرابحہ مؤجَّلہ‘‘ اول تا حال کن ادوار سے کیسے متعارف ہواہے؟! پھر اصل واقعے کے پسِ منظر کی روشنی میں علمائے عصر کے اختلاف کی نوعیت سے واقفیت اور حقیقی صورتِ حال سے آگاہی حاصل کرنا ہے۔ نیز اُن کے تحریری و جوابی سلسلوں کی کتابوں کوتجزیاتی مطالعے کے مرحلے سے گزارنا بھی اس مقالے کا ایک مقصد ہے، چنانچہ وہ قاری کہ جس نے کبھی بینک کاری کے ساتھ ’’مرابحہ مؤجَّلہ‘‘ کا نام تک نہ سنا ہو، یا مرابحہ کے ساتھ مؤجلہ کا لفظ دیکھا اور سنا نہ ہو تو وہ اس مقالے کو پڑھ کر نا صرف یہ کہ ’’مرابحہ مؤجَّلہ‘‘ کو کسی حد تک سمجھ لے گا، بلکہ اس کی واقعاتی تہہ تک بھی بہ آسانی پہنچ جائے گا اور اگر کوئی قاری اس واقعے کے پسِ منظر کو ذہن میں رکھ کر آگے تجزیاتی مطالعہ کے لیے قدم بڑھائے گا تو ان شاء اللہ! اس کو حقیقی صورتِ حال تک رسائی میں زیادہ دشواری پیش نہیں آئے گی، ان شاء اللہ!

نکتۂ بحث

اس وقت بینکوں میں ’’مرابحۂ مؤجَّلہ‘‘ کی بنیاد پر وسیع پیمانے کے ساتھ معاملات ہورہے ہیں، گویا کہ اسلامی بینک کا اصلی نام یا دوسرا نام’’مرابحہ مؤجَّلہ‘‘ ہے ، ’’مرابحہ مؤجَّلہ‘‘ کا جو حکم ہوگااسی کو اسلامی بینک کا حکم قراردیا جائے گا، اس لیے ہم ’’مرابحہ مؤجَّلہ‘‘ پر قدرے تفصیلی بحث کی کوشش کرتے ہیں۔

اسلامی بینک میں ’’مرابحہ مؤجَّلہ‘‘ کا تناسب

ڈاکٹر محمود احمد غازی کی کتاب میں ہے۔
’’اس وقت مرابحہ کے نام پر جو کاروبار ہورہا ہے وہ بیشتر اسلامی بینکوں کا اگر ۹۹ نہیں ، ۸۰-۹۰ فیصد تو ضرور ہے۔ ‘‘ (۱)
’’غیرسودی بینک کاری ‘‘ میں ہے:
’’اس وقت غیرسودی بینکوں میں جو طریقہ سب سے زیادہ رائج ہے، وہ مرابحہ مؤجلہ کا طریقہ ہے۔‘‘ (۲)
اس لیے اس موضوع پر ابتداء تا انتہاء مطالعہ کا داعیہ دل میں پیدا ہوا، چنانچہ مطالعہ کیا، مطالعہ کے نتیجے میں جو باتیں سامنے آئیں، ان کو یہاں سپردِ قلم کیا جاتا ہے:
اسلامی بینکوں میں مرابحہ کو اتنی قبولیت وپذیرائی کیوں ملی؟ بینکوں میں مرابحہ کی حیثیت کیا ہے؟ کیا مرابحہ حیلہ ہے؟ بینک مرابحہ کو کیوں عزیز رکھتا ہے؟ نفع ونقصان میں شرکت کی بنیاد پر معاملات کرنے کو بینک کیوں تیار نہیں؟
یہ اور ان جیسے کئی سوالات کا ہم مطالعاتی تناظر میں جائزہ لیں گے۔ یہی ہمارا نکتۂ بحث ہے۔ لیکن اس سے پہلے تمہید کے طور پر ہم اسلام کے معاشی نقطۂ نظر اور سرمایہ دارانہ نظام پر کچھ تعارفی گفتگو کریں گے، گو کہ تمہید قدرے طویل محسوس ہو، لیکن طوالت فائدہ سے خالی نہیںہوگی، اور مقصد سے دوری کی بجائے قریب کرنے کا ذریعہ ہوگی۔ ان شاء اللہ!
آئیے! سب سے پہلے ہم اسلام کا معاشی نقطۂ نظر پڑھتے ہیں:

اسلام کا معاشی نقطۂ نظر

یہ حقیقت ہے کہ انسانی معاشرہ کو تباہ وبرباد اور نظامِ معیشت کو درہم برہم کردینے والی تمام تر خرابیوں اور بدکاریوں کی جڑقومی معیشت میں ہوسِ زر اور اس کے نتیجے میں پروان چڑھنے والی ’’زراندوزی‘‘ ہے، جس کو معاشیات کی اصطلاح میں ’’اِکتنازِ زر‘‘ اور ’’اِنجمادِ دولت‘‘ کہتے ہیں۔
اسلام نے اس ’’اِکتنازِ زر‘‘ اور ’’اِنجمادِ دولت‘‘ کی بیخ کنی کرنے اور دولت کو چند ہاتھوں میں سمٹنے سے بچانے کی یعنی سرمایہ کو متحرک رکھنے کی اور سمٹی ہوئی دولت اور منجمد سرمایہ کو گردش میں لانے کی تین تدبیریں تجویز کی ہیں:
۱:- انفاق               ۲:- زکوٰۃ وصدقات واوقاف            ۳:-توریث ووصیت
اور زراندوزی کو جنم دینے اور پروان چڑھانے والے تین حرام ذرائع:
۱:-سود اور سودی کاروبار     ۲:-جوا، سٹہ اور بیمہ کاری            ۳:-بیوعِ فاسدہ
 یعنی ناجائز معاملات کو قطعاً حرام یا ممنوع قرار دیا ہے۔(۳)
اسلام کے معاشی نظام کو ’’اِکتنازِ دولت‘‘ سے محفوظ رکھنے کی اہم ترین انفاق سے متعلق ان چند آیات پر ہم اکتفا کرتے ہیں ۔ (۴) ۔۔۔۔۔۔۔ ان آیات کی روشنی میں اس انفاق کے مصارف ومدات کی تشخیص وتحدید حسبِ ذیل ہے:

مستقل انفاقات

۱:- اہلِ خانہ! خود، بیوی، نابالغ یا ضرورت مند اولاد، ضرورت مند ماں باپ، عبید واماء، موجودہ زمانے میں ان کی جگہ نوکر وخادمِ اہل۔
۲:- کنبہ، ضرورت مند قرابت دار الاقرب فالاقرب کی ترتیب سے، مجبور ومعذور قرابت دار ، اہلِ محلہ، ضرورت مند ہمسایہ قریب، ہمسایہ بعید، شریکِ حرفہ وکسبِ معاش۔
۳:- اہلِ ملک! یتیم قرابت دار وغیرقرابت دار، مساکین ومحتاجین، خواہ سائل ہوں خواہ غیرسائل۔
۴:- اہلِ حرفہ وشرکاء کار قومی وملکی! مصارفِ حرب ودفاع ورفاہِ عام۔

عارضی انفاقات

غیرمستطیع مسافر، غیرمستطیع مدیون، خسارہ زدہ (دیوالیہ) تاجر و کاروباری۔ (۵) وقف اور وصیت‘ انفاق فی سبیل اللہ کی ایک ایسی دو اہم ترین صورتیں ہیں جو مسلمان اغنیاء کے پاکیزہ جذبۂ برّ و احسان اور خدمتِ خلق کا عظیم تر مظہر اور معاشی اعتدال کو استوار رکھنے کا زبردست وسیلہ ہیں۔(۶)
اسلامی شریعت نے مختلف عنوانات سے موقت اور غیرموقت صدقات اور کفارات (بطورِ عقوبت مالی سزا) بہت کثرت سے مسلمانوں کے ذمے عائد کیے ہیں کہ ان کے ذریعہ سے بھی آس پاس کے حاجت مندوں کی کافی حد تک معاشی اعانت ہوسکتی ہے۔ (۷)
صدقۂ فطر، فدیۂ صوم، عیدِ قربان، دمِ شکر، کفارۂ صوم وغیرہ اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
اگر ان انفاقات اور زکوٰۃ وصدقات ادا کرتے رہنے کے باوجود سرمایہ جمع ہو بھی جاتا ہے تو اس کی وفات کے بعد اسلامی احکام کے مطابق میراث وہ طریقہ ہے جس سے سرمایہ خواہ کسی بھی صورت میں ہو‘ متفرق اور متعدد ملکیتوں میں تقسیم ہوکر حرکت میں آجاتا ہے۔ 
تمام املاک کے ایک فرد (مرنے والا) کے بجائے متعدد افراد، ذکور واناث (مرد بھی عورتیں بھی) مالک بن جاتے ہیں اور انجمادِ دولت کی بیخ کنی ہوجاتی ہے۔ (۸)
غرض اسلام کے معاشی نظام کو استوار رکھنے اور منصفانہ تقسیمِ دولت کے یہ تین بنیادی اصول ہیں:
۱:- مسلمان صاحبِ مال کی ضروریات سے زائد اموال کا مختلف مدات میں انفاق (خرچ کرتے رہنا)۔
۲:- صاحبِ نصاب مسلمان مالداروں کے نموپذیر اموال اور پیداوار میں سے زکوٰۃ اور عشر یا نصف عشر اور صدقاتِ واجبہ کا ادا کرتے رہنا۔
۳:- مسلمان مرنے والے کی تمام املاک کی ورثاء (ذوی الفروض، عصبات اور ذوی الارحام) پر حسبِ قاعدۂ شرعیہ تقسیم کرنا۔
ان تینوں اصول پر عمل کرنے کی صورت میں کسی اسلامی ملک میں اکتنازِ زر یعنی قومی سرمایہ کے چند ہاتھوں یا چند خاندانوں میں سمٹ کر جام ہوجانے کا کوئی امکان باقی نہیں رہتا اور نہ ملک کے ۹۰ فیصد افراد فقر وافلاس کی انسانیت سوز اور مذہب دشمن لعنت میں گرفتار ہوسکتے ہیں اور نہ اسلامی ملک میں اشتراکیت اور سوشلزم کے پروپیگنڈے کے لیے فضا سازگار ہوسکتی ہے اور نہ ملک میں معاشی بحران کا وہ آتش فشاں پہاڑ پھٹ سکتا ہے، جس کا لاوا ملک کے امن وسلامتی کو پھونک سکے۔ (۹)

حوالہ جات وحواشی

۱:- اسلامی بینک کاری، ایک تعارف، ڈاکٹر محمود احمد غازی، زوار اکیڈمی پبلی کیشنز، اشاعت دوم: ۲۰۱۳ء، ص:۱۷۱
۲:- غیرسودی بینک کاری، حضرت مفتی محمد تقی عثمانی، مکتبہ معارف القرآن، جنوری ۲۰۱۶ء، ص:۷۴
۳:-اسلامی معاشیات، بنیادی خاکہ، نتیجۂ فکر: مجلس تحقیق مسائل حاضرہ، مکتبہ بینات، ۲۰۱۱ء
۴:- اس نظام کو قرآن واحادیث کی روشنی میں تفصیل سے سمجھنے کے لیے ’’اسلامی معاشیات‘‘ کا صفحہ: ۲۵ سے ۶۳ تک کا مطالعہ کیجیے۔
۵:- اسلامی معاشیات، ص:۳۸        ۶:-ماخذ سابق:۵۲
۷:-ماخذ سابق:۶۰            ۸:- اسلامی معاشیات، بنیادی خاکہ، مجلس تحقیق مسائل حاضرہ، ص:۶۲
۹:-اسلامی معاشیات، بنیادی خاکہ، مجلس تحقیق مسائل حاضرہ، ص:۶۳                                           (جاری ہے)
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے