بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ذو الحجة 1441ھ- 06 اگست 2020 ء

بینات

 
 

مرابحہ مؤجَّلہ اِرتقائی،واقعاتی اور تجزیاتی مطالعہ (پانچویں اور آخری قسط)

مرابحہ مؤجَّلہ

اِرتقائی،واقعاتی اور تجزیاتی مطالعہ

(پانچویں اور آخری قسط)

 


بیعِ مؤجل / مرابحہ مؤجلہ کا آئینۂ ادوار اور اس کا تقابلی جائزہ

اب ہم اس بات کا مطالعاتی تناظر میں جائزہ لیں گے کہ بیع مؤجل کے لیے جو طریقِ کار وضع کیا گیا تھا، بعد میں چل کر کیا اس میں کوئی تبدیلی رونما ہوئی یا نہیں؟ اور کیا اس طریقِ کار کو بینکوں نے پوری طرح قبول کیا یا وہ ’’کچھ‘‘ نہ ماننے پر مصرّ رہے؟!
۱۹۸۱ء میں سب سے پہلے اسلامی نظریاتی کونسل نے بیعِ مؤجل کا جو طریقِ کار عبوری دور کے لیے تجویز کیا، وہ پیشِ خدمت ہے:
’’بیعِ مؤجل کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ یہ خرید وفروخت کا ایسا معاملہ ہے جس میں شئے متعلقہ کی قیمت فوری طور پر ادا کرنے کے بجائے کچھ عرصے بعد یک مشت یا قسطوں کی صورت میں ادا کی جاتی ہے۔ یہ طریقہ صنعتی اور زرعی شعبوں کے علاوہ اندرونی اور بیرونی تجارت میں سرمائے کی فوری ضروریات کی تکمیل کے لیے بڑا مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک بوری کھاد کی قیمت بینک کے لیے پچاس روپے ہے، لیکن بینک یہ کھاد سرمائے کے ضرورت مند کسانوں کو اپنے ایجنٹ کی معرفت ۵۵ روپے فی بوری کے حساب سے فروخت کرے گا اس شرط کے ساتھ کہ وہ اس کی قیمت ایک مقررہ مدت کے بعد ادا کریں گے۔ جب کہ بینک اپنے ایجنٹ کو پچاس روپے فی بوری کے حساب سے قیمت اس وقت یا اس سے پہلے ادا کر دے گا، جبکہ ایجنٹ بینک کے حسبِ ہدایت مال کسانوں کو مہیا کردے گا۔ ۔۔۔۔۔ اگرچہ یہ طریقہ اسلامی شریعت کے مطابق ہے، لیکن اس کے لیے شرط ہے کہ خرید کردہ شے متعلقہ ادارے کے حوالے کیے جانے سے پہلے بینک کے قبضے میں آجائے، تاہم اس شرط کی تکمیل کے لیے اتنی بات کافی ہے کہ بینک نے جس ادارے سے مال خریدا ہے وہ اس مال کو بینک کے نام پر علیحدہ کردے اور پھر اس شخص کو دے دے جسے بینک نے اس سلسلے میں مجاز ومختار قرار دیا ہو اور اس میں وہ شخص بھی شامل ہے جس کے لیے مال خریدا گیا ہے۔‘‘ (۱)
۱۹۸۵ء میں پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب کی کتاب ’’بلاسود بینکاری (عبوری خاکہ)‘‘ منظر عام پر آئی۔ اس میں ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب مرابحۂ مؤجلہ کا طریقِ کار ذکر کیا ہے۔(۲) اس میں سوائے اِن تین چار باتوں کے جو اسلامی نظریاتی کونسل کے پیش کردہ طریقِ کار میں نظر نہیں آئیں، باقی سب طریقِ کار یکساں ہے:
۱:-ڈاکٹر محمد طاہر القاری صاحب کی کتاب میں ’’بیعِ مؤجل‘‘ کے ساتھ ساتھ ’’بیعِ مرابحہ‘‘ کا ایک نیا نام نظر آتا ہے جو اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ میں نہیں ہے۔ 
۲:-ڈاکٹر قادری صاحب کی کتاب میں ’’قانونی قبضہ‘‘ کا تذکرہ ملتا ہے جس کا ذکر کونسل کی رپورٹ میں نہیں ہے۔ ملاحظہ ہو:
’’(i) ضروری نہیں کہ خریدے ہوئے مال کا ظاہری قبضہ بھی بیچنے سے پہلے بینک کے پاس ہو۔ وہ مال کی خریداری کے ساتھ جب اپنی ملکیت کے کاغذات مکمل کرلیتا ہے تو اس کا قانونی قبضہ ثابت ہوجاتا ہے اور اسی سے اس مال پر اس کا حقِ تصرف قائم ہوجاتا ہے۔ لہٰذا شرعاً جوازِ بیع کے لیے یہی قبضہ کافی ہے، کیونکہ ظاہری قبضے کا مقصد بھی حقِ تصرف کو ممکن بنانا ہوتا ہے، جو آج کے دور میں اموال کی بیع وشراء میں قانونی قبضے سے بتمام وکمال پورا ہورہا ہے۔‘‘(۳)
۳:- ڈاکٹر قادری صاحب کی کتاب میں اس بات کا ذکر بھی موجود ہے کہ سودی بینکوں کے شرحِ سود سے ہٹ کر الگ شرح مقرر کی جائے، تاکہ شرحِ سود سے مماثل نہ معلوم ہو۔ ملاحظہ ہو:
’’(ii) اُدھار کی صورت میں اضافی قیمت وصول کرنا بھی شرعاً جائز ہے، لیکن از راہِ احتیاط قیمت کا اضافہ اس شرح سے کیا جائے کہ شرح سود سے مماثل نہ معلوم ہو، ورنہ غلط فہمی پیدا ہوگی۔‘‘ (۴)
اس بات کا ذکر کونسل کی رپورٹ میں نظر نہیں آیا۔
۴:- ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب کی کتاب میں اس احتیاطی پہلو کا ذکر بھی ملتا ہے جو کونسل کی رپورٹ میں نہیں ہے:
’’(i رحمہ اللہ ) فریقین باہمی رضا مندی سے جس قیمت پر چاہیں بیع کریں۔ اس میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں۔ (لیکن معاشرے میں مہنگائی اور ناجائز منافع خوری کے رجحان کو روکنے کے لیے قانوناً یا رواجاً منافع کی کوئی خاص شرح اور اضافی قیمتوں کے لیے کوئی معقول حد مقرر کی جاسکتی ہے۔ ایسے احکام مصالحِ عامہ، ضرورت اور استحسان کے شرعی اصولوں کے تحت آتے ہیں)۔ (۵)
۱۴۲۱ھ مطابق ۱۹۹۱ء میں ’’مجلسِ تحقیقِ مسائلِ حاضرہ‘‘ کا بلاسود بینکاری کے حوالے سے جو اجلاس ہوا، اس میں مرابحہ مؤجلہ کا جو طریقِ کار طے کیا گیا، اس میں سابقہ کونسل کی رپورٹ اور جناب ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کی کتاب میں ذکر کردہ طریقِ کار سے درج ذیل باتیں صریح اضافی معلوم ہوتی ہیں:
۱:- عمیل کے بحیثیت وکیل خریدنے سے لے کر بینک سے اپنے لیے خریدنے تک کا جو درمیانی وقفہ ہوگا اس میں ٹریکٹر بینک کی ملکیت اور بواسطہ وکیل اس کے تقدیری قبضے میں رہے گا اور بینک کے ضمان میں ہوگا۔ پھر جب عمیل اور بینک کے درمیان بیع منعقد ہوجائے گی اس وقت ٹریکٹر کا ضمان عمیل کی طرف منتقل ہوگا۔
۲:-وکالت کا عقد کرتے وقت عمیل بطور وعدہ اس بات کی یقین دہانی کرائے گا کہ جب ٹریکٹر بینک کی ملکیت اور ضمان میں آجائے گا تو وہ یہ ٹریکٹر بینک سے پہلے سے طے شدہ قیمت پر خرید لے گا۔ 
۳:-چوںکہ ٹریکٹر عمیل نے بحیثیت وکیل خود خریدا ہے اور اس کے جملہ مطلوبہ اوصاف سے وہ خود واقف ہے، اس لیے جب بینک اس کو ٹریکٹر فروخت کرے گا تو اسے ’’جیسے ہے جہاں ہے‘‘ کی بنیاد پر فروخت کرے گا، جسے فقہی اصطلاح میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ یہ بیع ’’بشرط البراء ۃ من کل عیب‘‘ ہوگی، لہٰذا عمیل بیع کی تکمیل کے بعد کسی عیب کی بنیاد پر بینک کو وہ ٹریکٹر نہیں لوٹا سکے گا۔
۴:- ’’مرابحہ مؤجلہ‘‘ کے معاہدے کے تحت قیمت کی ادائیگی کی جو تاریخ متعین کی گئی ہے اس پر ادائیگی کی ضمانت حاصل کرنے کے لیے بینک عمیل سے کوئی وثیقہ طلب کرسکے گا ۔۔۔۔۔۔ ۔ 
۵:-عمیل سے عقدِ مرابحہ کرتے وقت یہ لکھوالیا جائے گا کہ اگر وہ ادائیگی کی اہلیت کے باوجود بروقت ادائیگی نہ کرسکا تو وہ اپنے واجب الادا دَین کا ایک مخصوص فیصد حصہ ایک خیراتی فنڈ میں چندے کے طور پر ادا کرے گا۔‘‘ (۶)
بطورِ تنبیہ یہاں ایک بات کی تصریح مناسب معلوم ہوتی ہے۔ ’’مجلسِ تحقیقِ مسائلِ حاضرہ‘‘ کے اجلاس کی جو روداد مرتب کی گئی، اس میں دو باتیں لکھنے سے رہ گئیں۔ بعد میں حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ نے ان کا تدارک کیا اور ان باتوں کوروداد کے حاشیہ پر رقم کردیا۔ 
ذیل میں ان دو باتوں کی تفصیل ملاحظہ ہو:
۱:-’’مجلسِ تحقیقِ مسائلِ حاضرہ‘‘ کے اجلاس میں یہ بات طے کی گئی تھی کہ بینک عمیل (خریدار) کے قبضے کی تصدیق کے لیے اپنا کوئی نمائندہ بھیجے گا۔ یہی بات اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ میں بھی لکھی گئی ہے کہ ’’بینک نے جس ادارے سے مال خریدا ہے وہ اس مال کو بینک کے نام پر علیحدہ کردے اور پھر اس شخص کو دے دے جسے بینک نے اس سلسلے میں مجاز ومختار قرار دیا ہو۔‘‘ (۷)
یعنی بینک کی جانب سے نمائندہ یا مجاز یا مختار ہونا چاہیے۔ لیکن ’’مجلسِ تحقیقِ مسائلِ حاضرہ‘‘ کے اجلاس کی روداد مرتب کرتے وقت یہ بات لکھنے سے رہ گئی، چنانچہ مجلسِ تحقیق کی روداد پڑھیے:
’’بینک کے لیے از خود تمام مطلوبہ اشیاء کی خریداری براہِ راست مشکل ہے، اس لیے وہ مطلوبہ اشیاء کی خریداری کے لیے خود عمیل کو اپنا وکیل بنا دے گا اور یہ عمیل پہلے وہ چیز مثلاً ٹریکٹر بینک کے وکیل کی حیثیت سے خرید کر قبضہ میں لے لے گا اور خریداری کی تکمیل پر بینک کو مطلع کر دے گا کہ میں نے وکالت کی بنیاد پر آپ کے لیے ٹریکٹر خرید کر اپنے قبضے میںلے لیا ہے اور اب میں وہ ٹریکٹر آپ سے اپنے لیے خریدنا چاہتا ہوں۔‘‘ (۸)
دیکھئے! اس مذکورہ بالا عبارت میں ’’بینک کے نمائندہ‘‘ کا کوئی ذکر نہیں ہے، اس لیے بعد میں حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ نے روداد کے اس حصے پر درج ذیل الفاظ کے ساتھ حاشیہ رقم فرمایا: 
’’مجلس نے یہاں یہ اضافہ بھی کیا تھا جو غالباً سہواً تحریر سے رہ گیا ہے: ’’بینک عمیل کے قبضے کی تصدیق کے لیے اپنا کوئی نمائندہ بھیجے گا، قبضہ ثابت ہونے پر اس کا سرٹیفکیٹ دے گا۔ ۱۲ رشید‘‘ (۹)
لیکن ۱۹۹۸ء میں منظر عام پر آنے والی کتاب ’’اسلامی بینکاری کی بنیادیں‘‘ میں ’’نمائندہ‘‘ یا بالفاظِ دیگر ’’تیسرے شخص‘‘ کے وجود کو بہرصورت لازمی قرار نہیں دیا گیا، بلکہ بعض صورتوں کو ’’تیسرے شخص‘‘ کی قید سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ پڑھیے:
’’شریعت کی رو سے مرابحہ کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ تمویل کار خود وہ چیز خریدے اور اپنے قبضے میں لائے یا یہ کام کسی تیسرے شخص کو اپنا وکیل بنا کر اس کے ذریعے سے کرایا جائے، اس کے بعد وہ چیز کلائنٹ (مشتری) کو بیچی جائے، تاہم بعض استثنائی صورتوں میں جہاں کسی وجہ سے سپلائی کنندہ سے براہ راست خریداری قابل عمل نہ ہو تو اس بات کی بھی اجازت ہے کہ وہ کلائنٹ کو اپنا وکیل بنادے، اور وہ اس کی طرف سے اس چیز کی خریداری کرے ۔۔۔۔۔۔ الخ۔‘‘ (۱۰)
یہی بات ’’اسلام اور جدید معیشت وتجارت‘‘ میں بھی موجود ہے۔ اور اسی بات کی طرف نظریاتی کونسل نے بھی اگرچہ اپنی رپورٹ میں اِن دبے اور مبہم الفاظ کے ساتھ: ’’اور اس میں وہ شخص بھی شامل ہے جس کے لیے مال خریدا گیا ہے‘‘ اشارہ کیا تھا، لیکن کھلے اور آزادانہ الفاظ میں اس کی تصریح بعد والی کتابوں میں ملتی ہے۔ 
۲:- ’’مجلسِ تحقیقِ مسائلِ حاضرہ‘‘ کے اجلاس میں دوسری یہ بات طے کی گئی تھی کہ خیراتی فنڈ بینک کی بجائے کسی ثالث کی تحویل میں رہے، لیکن مجلس کی روداد مرتب کرتے وقت یہ بات بھی لکھنے سے رہ گئی۔ چنانچہ روداد پڑھیے:
’’بعض علمائے عصر نے اس مسئلے کے حل کے لیے یہ تجویز پیش کی ہے: عمیل سے عقدِ مرابحہ کرتے وقت یہ لکھوا لیا جائے گا کہ اگر وہ ادائیگی کی اہلیت کے باوجود بروقت ادائیگی نہ کرسکا تو وہ اپنے واجب الاداء دَین کا ایک مخصوص فیصد حصہ ایک خیراتی فنڈ میں چندے کے طور پر ادا کرے گا۔اس غرض کے لیے بینک میں ایک خیراتی فنڈ قائم کیا جائے گا جو نہ بینک کی ملکیت ہوگا اور نہ اس کی رقم بینک کی آمدنی میں شامل ہو گی، بلکہ اس سے ناداروں کی امداد اور ان کو غیرسودی قرضے فراہم کرنے کا کام لیا جائے گا۔‘‘ (۱۱)
دیکھئے کہ مذکورہ بالا عبارت میں ’’ثالث کی تحویل‘‘ کا تذکرہ نہیں ہے، اس لیے حضرت مولانا مفتی رشید احمد صاحب رحمہ اللہ نے روداد کے اس حصے پر یہ وضاحتی حاشیہ رقم فرمایا:
’’مجلس کی تجویز تو یہ ہے کہ یہ فنڈ بینک کی بجائے کسی ثالث کی تحویل میں رہے، مگر بینک اپنی ہی تحویل میں رکھنے پر مصر ہے۔ ۱۲ رشید‘‘ (۱۲)
’’اسلامی بینکاری کی بنیادیں‘‘ نامی کتاب میں بھی اس قید کا لحاظ نظر نہیں آتا، چنانچہ دیکھئے: 
’’اس مقصد کے لیے یہ تجویز کیا گیا تھا کہ مرابحہ کے عقد میں داخل ہوتے وقت عمیل یہ ذمہ داری قبول کرے کہ وقت پر عدم ادائیگی کی صورت میں وہ بینک کے انتظام میں چلنے والے ایک خیراتی فنڈ میں ایک متعین رقم جمع کرائے گا … الخ۔‘‘ (۱۳)
اہلِ نظر سمجھتے ہوں گے کہ بینک اس فنڈ کو اپنی ہی تحویل میں رکھنے پر کیوں مصرّ ہے؟ 
’’مجلسِ تحقیقِ مسائلِ حاضرہ‘‘ کے اجلاس میں مرابحہ کے لیے جو طریقِ کار وضع کیا گیا تھا، اس میں اضافی باتوں کو پڑھنے کے بعد اب ہم اس کے بعد ’’اسلامی بینکاری کی بنیادیں‘‘ نامی کتاب میں مرابحہ مؤجلہ کا جو طریقۂ کار لکھا گیا ہے، اس کو دیکھتے ہیں کہ آیا اس میں کوئی نئی بات ہے یا نہیں؟
صفحہ: ۸۴ سے صفحہ: ۱۴۰ تک مرابحہ مؤجلہ پر جو تفصیل لکھی گئی ہے اور خاص کر طریقِ کار کے حوالے سے جو بحث مذکور ہے، اس میں ایسی کوئی قابلِ ذکر تبدیلی والی بات نہیں ملتی، تمام وہی باتیں ہیں جو گزشتہ صفحات میں ہم ’’اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ‘‘، ’’بلاسود بینکاری، عبوری خاکہ‘‘ اور ’’مجلسِ تحقیقِ مسائلِ حاضرہ‘‘ کی روداد میں پڑھ کر آئے ہیں۔ البتہ ایک کام ضرور کیا گیا ہے کہ مرابحہ کے معروف طریقِ کار کو ’’پانچ مراحل‘‘ میں تقسیم کرکے ایک نئی صورت اور نئے انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ یا اسی پرانے مرابحہ کے نئے ہونے کا محض تأثر فراہم کیا گیا ہے۔ باقی بات وہی ہے جو ہم گزشتہ صفحات میں پڑھ کر آئے ہیں۔ 

مرابحہ مؤجلہ بینکوں کا دل عزیز حیلہ کیوں ہے؟

مرابحہ کی اصل حیثیت اور بینکوں میں مرابحہ کے نام سے رائج مرابحہ کا طریقہ کار جان لینے کے بعد آگے ہم اس بات پر مختصر کلام کریں گے کہ مرابحہ کو حیلہ کیوں کہا جاتا ہے، حالانکہ مرابحہ تو درحقیقت بیع کی ایک قسم ہے؟ اور یہ کہ اسلامی بینک مرابحہ کو کیوں محبوب رکھتا ہے؟ اصل مثالی تمویلی طریقوں (شرکت و مضاربت) کو چھوڑ کر عبوری دور کے لیے پیش کردہ اس حیلے کو بینک کیوں دل عزیز رکھتا ہے؟
قارئین! اگر ہم ایک بات کو سمجھ لیں تو اُمید ہے کہ یہ سب سوالات حل ہوجائیں گے۔ وہ بات یہ ہے کہ بینک عالمی وضعی قانون کی رو سے زر کے لین دین کا ادارہ ہے، بینک تجارتی ادارہ نہیں ہے، اس لیے بینک براہ راست تجارت میں حصہ نہیں لیتا، اور نہ لے سکتا ہے۔ البتہ بینک تجارت تو نہیں کرتا، لیکن تجارت کے لیے سرمایہ داروں کو بطور سودی قرض کے رقم فراہم کرتا ہے۔ جب بینک کو اسلامی بنانے کی بات چلی تو سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ ہم فوری طور پر اصل اسلامی مثالی تمویلی طریقے شرکت ومضاربت کو کیسے نافذ کریں؟ اس لیے کہ بینکاری کی روح وہ ’’سودی قرضوں کی فراہمی کی بنیاد پر سرمایہ کاری‘‘ ہے، جس کا خاصہ یہ ہے کہ غریبوں سے دولت لے کر امیروں کی جھولیوں میں ڈالی جائے، جب کہ اگر شرکت ومضاربت کو نافذ کیا جائے تو ان دونوں کا خاصہ یہ ہے کہ وہ غریب وامیر دونوں کو برابر سرابر حقِ محنت کی بنیاد پر حق دینے کے علمبردار ہیں، تو اس طرح تو سرمایہ کاری کی جس عمارت کو کھڑے کرنے میں مغرب کو ۴۰۰ سال لگے ہیں، ہم اس کو اتنی آسانی سے ایک دم سے کیسے ڈھا دیں؟ اس طرح کرنے سے تو ہماری معیشت ڈوب کر رہ جائے گی؟
اس مشکل کے حل کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل سے تین سال کی مدت کی مہلت طلب کی گئی اور کونسل سے گزارش کی گئی کہ تین سال کے لیے عبوری دور کے طور پر ہمیں ایسے طریقے بتائے جائیں کہ جن کے اپنانے سے ہم صریح سود کے مرتکب نہ ہوں اور بینکوں کی سرمایہ کاری کے نتیجے میں جو منافع روایتی بینکوں کے روایتی طریقۂ کار کے مطابق حاصل ہوتے ہیں، وہ منافع بھی ہمیں حاصل ہوں، ان منافع میں ذرا بھر کمی نہ ہو۔ تو اس پس منظر میں اس وقت کونسل نے تین سال کے عبوری دور کے لیے چند طریقے تجویز کیے جن میں سے ایک طریقہ مرابحہ مؤجلہ کا بھی ہے، جو درحقیقت روایتی سودی قرضے سے سود کا لیبل ہٹا کر سودی قرضے پر اسلامی قلعی چڑھانے کے سوا کچھ نہیں تھا۔
دیکھئے! ’’سودی قرضوں کی فراہمی‘‘ کے لیے اسلامی بینکوں کو عبوری دور کے لیے عارضی متبادل کے طور پر جو طریقہ دیا گیا ہے وہ مرابحہ مؤجلہ کا طریقہ تھا، مرابحہ اگرچہ حقیقت میں بیع کی ایک قسم ہے، لیکن اس میں ’’مؤجلہ‘‘ کا تصور شامل کرکے اسے ’’سودی قرضوں کی فراہمی‘‘ کے ناجائز طریقے کی جگہ پر ایک جائز طریقے کے طور پر تمویل کاری کے لیے استعمال کیا گیا، اس لیے یہ حیلہ کے زمرے میں آتا ہے، اس لیے کہ اس طریقے سے سرمایہ دارانہ نظام کی روح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اسی وجہ سے یہ اسلامی مثالی طریقۂ تمویل نہیں ہے۔ اسی بناء پر اس کو حیلہ سے تعبیر کیا گیا اور اسی لیے بینک اس کو دل عزیز ومحبوب رکھتا ہے۔ اس بات کے لیے کتابوں سے تائیدات پیشِ خدمت ہیں:
ڈاکٹر محمود احمد غازی صاحب فرماتے ہیں: 
’’مرابحہ کی جو بھی شکل رائج ہے وہ اپنے چند ظواہر سے قطع نظر اپنی روح اور نتائج کے اعتبار سے روایتی سودی کاروبار سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔‘‘ (۱۴)
اسلامی نظریاتی کونسل کی نظر ثانی کی رپورٹ میں ہے:
’’ملک کے اسلامی حلقے اس امر کا حقیقی خطرہ محسوس کررہے ہیں کہ اگر نفع ونقصان میں شرکت (شراکت ومضاربت) کے لین دین میں سود کے بجائے مارک اپ (بیع مؤجل) کے طریقے کا وسیع پیمانے پر استعمال جاری رہا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سود کو حقیقی معنوں میں ختم کرنے کے بجائے صرف اس کا نام بدل دیا گیا ہے۔ مارک اپ کے تحت نفع ونقصان میں شرکت کا نظام، پرانے سودی نظام کو ایک نئے نام سے دوام بخشنے کی ایک صورت ہے ۔۔۔۔۔ اس لیے کہ مارک اپ (بیع مؤجل) کا نظام اپنے جوہر اور خصوصیات کے اعتبار سے سودی نظام سے پوری مطابقت رکھتا ہے۔‘‘ (۱۵)
’’مرابحہ بطورِ طریقۂ تمویل‘‘ کے عنوان سے بحث کرتے ہوئے حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہٗ لکھتے ہیں:
’’یہ بات کسی صورت نظر انداز نہیں ہونی چاہیے کہ مرابحہ اپنی اصل کے اعتبار سے طریقۂ تمویل نہیں ہے، یہ تو صرف سود سے بچنے کا ایک وسیلہ اور حیلہ ہے، ایسا مثالی ذریعۂ تمویل نہیں ہے جو اسلام کے معاشی مقصد کی تکمیل کرتا ہو۔ اس لیے معیشت کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے عمل میں اسے ایک عبوری مرحلے کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔‘‘ (۱۶)
’’غیرسودی کاؤنٹرز‘‘ کے نام سے لکھے گئے مقالے میں حضرت والا دامت برکاتہم ایک جگہ رقم طراز ہیں:
’’اگرچہ ٹھیٹھ اصطلاحی معنی کے لحاظ سے سود میں داخل نہیں ہوتا، لیکن اس کے رواجِ عام سے سود خور ذہنیت کی حوصلہ افزائی ہوسکتی ہے، اس لیے یہ کوئی پسندیدہ طریقِ کار نہیں ہے۔‘‘ (۱۷)
درج بالا عبارات کا حاصل درج ذیل ہے:
۱ - مرابحہ مؤجلہ اپنی روح اور نتائج کے اعتبار سے روایتی سودی کاروبار سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ 
۲ - مارک اپ (بیع مؤجل) کا نظام اپنے جوہر اور خصوصیات کے اعتبار سے سودی نظام سے پوری مطابقت رکھتا ہے۔
۳ - اس سے اسلام کے معاشی مقصد کی تکمیل نہیں ہوتی۔
۴ - رواجِ عام سے سود خور ذہنیت کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔
ان وجوہ کی بناء پر مرابحہ مؤجلہ کو حیلہ کہا گیا ہے۔ اور ان ہی خصوصیات کی بنا پر بینک اسے دل عزیز ومحبوب رکھتا ہے۔ اور اسی وجہ سے مروجہ اسلامی بینک اور غیر اسلامی بینک کے درمیان حد فارق واضح نہیں ہو پارہی۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور اُمورِ دینیہ میں ذاتِ الٰہی اور مسئولیتِ اخروی پر رہنے، لکھنے، پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

حواشی و حوالہ جات

۱:- اسلامی نظریاتی کونسل رپورٹ، ڈاکٹر تنزیل الرحمن، ص: ۲۸، ۲۹
۲:-تفصیل کے لیے: بلا سود بینکاری، عبوری خاکہ، ڈاکٹر محمد طاہر القادری، ص: ۶۳ تا ۶۹ 
۳:- بلا سود بینکاری، عبوری خاکہ، ڈاکٹر محمد طاہر القادری، ص: ۶۴
۴:- ماخذ سابق، ص: ۶۸                ۵:- بلاسود بینکاری، عبوری خاکہ : ۶۸ - ۶۹
۶:- تفصیل کے لیے: احسن الفتاویٰ، ج: ۷، ص: ۱۱۹ تا ۱۲۱ ملاحظہ ہو۔ 
۷:- اسلامی نظریاتی کونسل رپورٹ، ڈاکٹر تنزیل الرحمن، ص: ۲۹
۸:- احسن الفتاویٰ، ج:۷، ص: ۱۱۹            ۹:- حوالہ سابقہ 
۱۰:- اسلامی بینکاری کی بنیادیں، ص:۹۴ - ۹۵         ۱۱:- احسن الفتاویٰ، ج: ۷، ص: ۱۲۰ - ۱۲۱
۱۲:- سابقہ حوالہ                 ۱۳:- اسلامی بینکاری کی بنیادیں، مفتی محمد تقی عثمانی، ص: ۱۲۴
۱۴:- اسلامی بینکاری ایک تعارف، ڈاکٹر محمود احمد غازی، ص: ۱۷۱    ۱۵:- اسلامی نظریاتی کونسل رپورٹ، ص:۹۶
۱۶:-اسلامی بینکاری کی بنیادیں، ص:۹۳            ۱۷:- فقہی مقالات، ج:۲، ص: ۲۵۹ 
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے