بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 شعبان 1445ھ 23 فروری 2024 ء

بینات

 
 

ماہِ رجب سے متعلق فضائل واحکام قرآن وحدیث کی روشنی میں

ماہِ رجب سے متعلق فضائل واحکام

قرآن وحدیث کی روشنی میں


اللہ رب العزت نے اپنی تمام مخلوق میں انسان کو اشرف واکرم بنایا، اس کی فطرت میں نیکی وبدی، بھلائی وبرائی، تابعداری وسرکشی اور خوبی وخامی دونوں ہی قسم کی صلاحیتیں اور استعدادیں یکساں طور پر رکھ دی ہیں۔ نیز انسانوں میں سے بعض کو بعض پر فضیلت بخشی، بعض کو رفعِ درجات سے نوازا تو کسی کو اپنے سے ہم کلامی کا شرف عطا کیا۔ اسی طرح دیگر مخلوقاتِ عالم میں فرقِ مراتب کا لحاظ رکھا، چنانچہ زمین وآسمان ، انس وجن میں تفاوتِ مراتب نمایاں ہے۔ اسی طرح مہینہ وایام میں بھی بعض کو جزوی فضائل کے لحاظ سے مقدم رکھا ہے، اسی بنا پر قمری مہینہ رجب کو بعض پہلؤوں کے لحاظ سے دیگر مہینوں سے امتیاز حاصل ہے۔ ذیل میں ماہِ رجب کے متعلق چند فضائل واحکام پیش خدمت ہیں:

’’رجب‘‘ کی وجہ تسمیہ

علامہ عبدالرؤف مناوی  رحمۃ اللہ علیہ  لکھتے ہیں: ’’سمي الشہر رجب رجبا؛ لأنہٗ يترجب؛ أي: يتکثر ويتعظم فيہ خير کثير لشعبان ورمضان‘‘ (۱) عربوں میں بطور صیغہ یوں استعمال کیاجاتا ہے: ’’رجب فلانا أي ہابہ وعظمہ‘‘ : عربوں میں اس مہینہ کی عظمت وتقدس کے سبب اس کو ’’رجب ‘‘ سے تعبیر کیا جاتا تھا، یہی وجہ ہے کہ عربوں میں اس کو ’’رجب الأصم‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا تھا، جس کا معنی یہ ہے کہ اس ماہ کی عظمت وتقدس کی وجہ سے غیر مسلم بھی اس میں جنگ وحرب سے خود کو باز رکھتے تھے، نیز اس ماہ میں’’یا قوماہ ویاصباحاہ‘‘ جیسی ایمرجنسی کی صدا ئیں بلند کرنے کی نوبت نہیں آتی تھی۔(۲)
اس کی تائید ایک مرفوع روایت سے بھی ہوتی ہے: 
’’إن رجب شَہْرُ اللہِ، وَيُدْعَی الأصَمَّ، وَکَانَ أہْلُ الْجَاہِلِيَّۃِ إِذَا دَخَلَ رَجَبُ يُعَطِّلُوْنَ أسْلِحَتَہُمْ وَيَضَعُوْنَہَا، فَکَانَ النَّاسُ يَأمَنُوْنَ وَتَأمَنُ السُّبُلُ، وَلَا يَخَافُوْنَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا حَتّٰی يَنْقَضِيَ۔‘‘ (۳)
’’بلاشبہ ماہ ’’رجب ‘‘ کو اللہ رب العزت کی جانب سے ایک خاص نسبت حاصل ہے، اس کو ’’رجب الأصم‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے، جاہلیت کے دور میں بھی اس مہینہ کے آغاز پر ہر دو فریق اپنے ہتھیار ڈال کر خود کو جنگ وقتال سے باز رکھتے تھے ، اور اس مہینہ میں امن واطمینان سے زندگی بسر کرتے تھے،جس سے راستے بھی پُر امن ہوجاتے تھے، اس مہینہ کے اختتام تک کسی قسم کا خوف وخطر باقی نہ رہتا تھا۔‘‘ 

رجب الأصمکہنے کی وجہ
 

اس حوالہ سےحضرت ابن عباس  رضی اللہ عنہما  کی ایک موقوف روایت ہے: 
’’وَسُمِّيَ أصَمَّ؛ لأنَّ الْمَـلائِکَۃَ تُصَمُّ أذَانُہَا؛ لِشِدَّۃِ ارْتِفَاعِ أصْوَاتِہَا بِالتَّسْبِيْحِ وَالتَّقْدِيْسِ۔‘‘ (۴)
’’اس ماہِ رجب کو ’’الأصم‘‘ کے ساتھ موسوم کرنے کی وجہ یہ ہے کہ فرشتوں کی تسبیح و تقدیس کی بلند صداؤں کی وجہ سے گویا لوگوں کے کان بہرے ہوجاتے تھے۔‘‘ 

ماہِ رجب کی فضیلت 

ماہِ رجب چونکہ اشہرِ حرم کا حصہ ہے،ا س بنا پر اشہرِ حُرم سے متعلق وارد عمومی فضائل بھی اس کی اہمیت کو اُجاگر کرنے کے لیے کافی ہیں، لیکن بعض خصوصی فضائل کا بھی ثبوت ملتا ہے، جس سے مزید اہمیت کا اندازہ لگانا ممکن ہے، یہی وجہ ہے کہ ابن دحیہ ؒ نے اس مہینہ کے اٹھارہ نام ذکر کیے ہیں(۵)، لہٰذا ’’کثرۃ الأسماء تدل علٰی شرف المسمّٰی‘‘ (ناموں کی کثرت مسمٰی کے شرف وفضیلت کی دلیل ہے)کے ضابطہ کے تحت اس کی اہمیت وفضیلت واضح ہوتی ہے، بہرحال قرآن و حدیث کی روشنی میں چند فضائل پیش خدمت ہیں:

1-قابلِ احترام مہینہ 

ماہِ رجب ان مہینوں میں سے ہے جن کو ’’أشہر الحرم‘‘ سے جانا جاتا ہے، ان مہینوں میں مشرکینِ مکہ بھی خون خرابے سے احتراز کرتے تھے، ان کی فضیلت کا قرآن مجید میں یوں ذکر ہے:
 ’’إِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوْرِ عِنْدَ اللہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا فِيْ کِتٰبِ اللہِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْأرْضَ مِنْہَا أرْبَعَۃٌ حُرُمٌ‘‘(۶) 
’’یقیناً ان مہینوں کا شمار (جو کہ) کتابِ الٰہی میں اللہ کے نزدیک (معتبر ہیں) بارہ مہینے (قمری) ہیں، جس روز اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین پیدا کیے تھے (اسی روز سے اور) ان میں چار مہینے ادب کے ہیں۔‘‘ (بیان القرآن)
’’عن أبی بکرۃ رضي اللہ عنہ، عن النبي ﷺ، قال: الزمان قد استدار کہيئتہٖ يوم خلق اللہ السماوات والأرض، السنۃ اثنا عشر شہرا، منہا أربعۃ حرم، ثلاث متوالیات: ذوالقعدۃ وذوالحجۃ والمحرم، ورجب مضر الذي بین جمادی وشعبان۔‘‘(۷)
’’‎ ‎زمانہ پھر اپنی پہلی اسی ہیئت پر آ گیا ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا تھا۔ سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے، ان میں سے چار حرمت والے مہینے ہیں: تین تو لگاتار یعنی ذی قعدہ، ذی الحجہ اور محرم، اور چوتھا رجبِ مضر جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان میں ہے۔‘‘ 

2-نیک عمل کے اجر میں اضافہ اور برائی کی شناعت میں زیادتی

محققین کے مطابق ان مہینوں میں بطور خاص گناہوں سے بچنے اور نیک اعمال کا اہتمام کرنا چاہیے، اللہ رب العزت نے جس طرح بعض کوبعض پر فوقیت وفضیلت سے نوازا ہے، یہ ایام بھی اللہ کی عطا ہیں، جس کے سبب ان ایام کو خاص فضیلت بخشی ہے، اور ان میں گناہوں کے وبال میں اضافہ ہے، اور یہ متفقہ ضابطہ ہے کہ زمان یا مکان کی خصوصیت سے اس عمل میں شدت پیدا ہوجاتی ہے، چنانچہ آیتِ کریمہ ’’فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْھِنَّ أَنْفُسَکُمْ‘‘، ’’سو ان مہینوں میں اپنے آپ پر ظلم نہ کرنا‘‘ کے تحت حضرت ابن عباس  رضی اللہ عنہما  سے موقوف روایت ہے، فرمایا:
’’لَا تَظْلِمُوْا أنْفُسَکُمْ فِيْ کُلِّہِنَّ، ثُمَّ اخْتَصَّ مِنْ ذٰلِکَ أرْبَعَۃَ أشْہُرٍ فَجَعَلَہُنَّ حُرُمًا، وَعَظَّمَ حُرُمَاتِہِنَّ، وَجَعَلَ الذَّنْبَ فِيْہِنَّ أعْظَمَ، وَالْعَمَلَ الصَّالِحَ وَالْأجْرَ أعْظَمَ۔‘‘(۸)
ترجمہ: ’’سال کے تمام مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم سے خود کو محفوظ رکھو، خصوصاً ان چار مہینوں میں، ان کو اللہ رب العزت نے قابلِ احترام بنایا ہے، اور ان کی حرمت کو عظمت و بڑائی سے نوازا ہے، ان میں گناہ کی شدت میں اضافہ ہوجاتا ہے، نیز نیک عمل اور اس کے اجر میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔‘‘ 

3-روزے رکھنے کی ترغیب 

اشہرِ حرم میں روزے کی فضیلت سے متعلق آثارِ صحابہؓ سمیت حدیث مرفوع بھی منقول ہے، چنانچہ سنن ابی داؤد کی روایت ہے:
’’ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر ہوا، اور عرض کیا کہ اللہ کے رسول! آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے دریافت کیا: تم کون ہو؟ یعنی میں نہیں پہچانتا۔ اس نووارد نے عرض کیا: میں باہلی (نسبت سے معروف شخص )ہوں، جو آپ کے پاس ہجرت کے پہلے سال حاضرِ خدمت ہوا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: تمہیں کیا ہوگیا، تمہاری تو اچھی خاصی حالت تھی؟‎ ‎جواب دیا: جب سے آپ کے پاس سے گیا ہوں رات کے علاوہ کھایا ہی نہیں(یعنی مسلسل روزے رکھتا رہا ہوں)۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: تم نے خود کو سزا میں کیوں مبتلا کر رکھا ہے؟ پھر فرمایا: تم صبر کے مہینہ(رمضان ) کا روزہ رکھو، اور ہر مہینہ میں ایک روزہ رکھو۔ انہوں نے عرض کیا: اور اضافہ کردیجیے، کیونکہ مجھ میں مزید روزے رکھنے کی طاقت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا‎: ‎پھر دو دن روزہ رکھ لیا کرو، انہوں نے کہا: اس سے زیادہ کی میرے اندر طاقت ہے، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا‎: ’’‎تین دن کے روزے رکھ لیا کرو۔ انہوں نے کہا: اضافہ کیجیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا‎: ‎حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھو اور چھوڑ دو، حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھو اور چھوڑ دو، حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھو اور چھوڑ دو‎۔‘‘ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنی تین انگلیوں سے اشارہ کیا، پہلے بند کیا، پھر انگلیوں کو اپنی حالت پر چھوڑ دیا۔‘‘ (۹)
مذکورہ روایت کے علاوہ حضرت عبداللہ بن عمر  رضی اللہ عنہما  اور کبار تابعین میں سے حضرت حسن بصری  رحمۃ اللہ علیہ  سے اس مہینہ میں روزہ رکھنے کا ثبوت ملتا ہے۔(۱۰)
ملاحظہ :’’اشہرِحرم‘‘ میں چونکہ رجب کا مہینہ بھی داخل ہے، لہٰذامذکورہ آثار کی روشنی میں اس مہینہ میں روزہ رکھنے کی بھی ترغیب معلوم ہوتی ہے۔ حافظ ابن حجر  رحمۃ اللہ علیہ  ماہِ رجب میں روزہ سے متعلق متعدد روایات پیش کرکے اُن کی اسنادی حیثیت کو جانچنے کے بعد بطورتبصرہ لکھتے ہیں : 
’’ماہِ رجب کے روزوں کی فضیلت سے متعلق روایات عام طور پردو قسم میں منحصر ہیں: q-ضعیف روایات، w-موضوع روایات‘‘ ۔ (۱۱)
چند سطور بعد اسنادی حیثیت سے ان تمام روایات پر ضُعف کا حکم لگایا ہے۔
لیکن یاد رہے کہ روزہ خود مستقل ایک نیک عمل ہے، اور پھر رجب کا اشہرِحرم میں ہونا اس کے ثواب میں اضافہ کا باعث ہے، لہٰذا اس مہینہ میں کسی بھی دن کسی خاص و متعین اجر وعقیدہ کے بغیر روزہ رکھنا یقیناً باعثِ خیر وامرِ مستحب ہے۔ حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ   ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں:
 ’’دوسری حیثیت رجب میں شہرِ حرام ہونے کی ہے، جو اس (رجب) میں اور بقیہ اشہرِ حرم میں مشترک ہے ، پہلی حیثیت سے قطع نظر صرف اس دوسری حیثیت سے اس میں روزہ رکھنے کو مندوب (پسند) فرمایا گیا ہے۔‘‘(۱۲)

4-آغازِ مہینہ پر دعا کا اہتمام

امام بیہقی  رحمۃ اللہ علیہ  کی شعب الایمان کی روایت ہے کہ حضرت انس بن مالک  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں: ’’کان رسول اللہ ﷺ إذا دخل رجب قال: اللّٰہم بارک لنا في رجب وشعبان وبلغنا رمضان۔‘‘ (۱۳)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   کا معمول تھا کہ جب رجب کے مہینہ کا آغاز فرماتے تو یہ دعا مانگتے: اے اللہ! رجب وشعبان کے مہینہ میں ہمارے لیے برکتیں عطا فرما، اور رمضان کے مہینہ تک پہنچا۔‘‘ 
فائدہ: اس روایت کی سند میں ایک راوی ’’زائدۃ‘‘ پر بعض ائمہ فن نے کلام کیا ہے، بعض نے ثقہ ومعتبر قرار دیا ہے۔(۱۴)، البتہ یہ روایت معنی ومفہوم کے لحاظ سے درست ہے،اور اکابرین کااس پر عمل بھی رہا ہے۔ نیز فضائل کےباب میں توسع وگنجائش کی بنا پر اس دعا کو پڑھنے میں حرج نہیں ۔ (۱۵)
اس دعا کی وضاحت کرتے ہوئے ملا علی قاریؒ لکھتے ہیں: 
’’اللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا أيْ: فِيْ طَاعَتِنَا وَعِبَادَتِنَا، فِيْ رَجَبَ وَشَعْبَانَ، وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ، أيْ: إِدْرَاکَہٗ بِتَمَامِہٖ، وَالتَّوْفِيْقَ لِصِيَامِہٖ وَقِيَامِہٖ۔‘‘(۱۶)
’’اے اللہ! ماہِ رجب وشعبان میں ہماری طاعت وعبادت میں برکت عطا فرما، اور ہمیں رمضان المبارک کے مبارک لمحات کے حصول، اور اس میں روزے وتراویح کی توفیق خاص نصیب فرما ۔‘‘

ماہِ رجب سے متعلق عوام الناس میں رائج دیدہ ودانستہ غلطیوں کی اصلاح

 

1-واقعۂ اسراء کی تاریخ 

آج کل عوام میں یہ بات مشہور ہوگئی ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو سفرِ اسراء و معراج جس میں جنت و دوزخ کا مشاہدہ، حق تعالیٰ شانہ کا قرب، پانچ نمازوں کا تحفہ اور دیگر بڑی بڑی نشانیوں کی زیارت کا شرف یہ حتمی طور پر ستائیسویں رجب کو حاصل ہوا تھا، جبکہ واقعۂ معراج کے حوالہ سے کسی صحیح حدیث سے متعین دن کا ثبوت نہیں ملتا ،عام طور پر اس دن مختلف محفلوں ومجلسوں کا انعقاد کرکے مختلف بدعات کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔ افسوس کہ ان مجالس کی زیرسرپرستی اور انتظامات دین دار سمجھے جانے والے لوگوں کے سپرد ہوتے ہیں، جو اس میں بڑھ چڑھ کر شریکِ کار نظر آتے ہیں۔
سفرِ معراج کس سال، کس مہینے اور کس دن میں واقع ہوا؟ علماء سیرت کے ہاں ان تینوں امور کی تعیین میں شدید اختلاف ہے، تاہم اتنی بات پر اتفاق ہے کہ یہ واقعہ بعثتِ نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم  کےبعد اور ہجرت سے قبل پیش آیا۔ نیز مہینہ کی تعیین کے سلسلہ میں بھی پانچ اقوال ملتے ہیں:
۱-ربیع الاول، ۲-ربیع الثانی، ۳-رجب، ۴-رمضان، ۵-شوال۔(۱۷)
یہاں قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جانثار صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  کی ایک بڑی جماعت ،جن کی تعداد کم وبیش پینتالیس تک ذکر کی گئی ہے، جنہوں نےاجمالاًو تفصیلاً اس واقعہ کو نقل کیا ہے، لیکن اس کے باوجود اس رات میں مخصوص عبادت واہتمام کو نقل کرنا تو دور، اس عظیم سفر کی تاریخ کا تعین ہی نہیں کیا گیا۔

2- ستائیسویں رجب کا روزہ 

کسی بھی معتبر سند سے مروی روایت میں اس دن سے متعلق کوئی خاص نفلی عبادت منقول نہیں ہے، لہٰذا اس دن سے متعلق مخصوص ثواب کی نیت سے روزہ رکھنا درست نہیں ہے، فتاویٰ دار العلوم دیوبند میں حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمٰن صاحب  رحمۃ اللہ علیہ  لکھتے ہیں:
’’ستائیسویں رجب کو جسے عوام ’’ہزارہ کا روزہ‘‘ کہتی ہے، اور اس کے روزے کے ثواب کو ہزار روزوں کے برابر تصور کرتی ہے، اس کی کچھ اصل نہیں ہے۔‘‘ (۱۸)

3-رجب کے کونڈے

عوام میں رائج غلط رسوم میں ایک اصلاح کُن رسم کونڈے کی ہے، جس کے لیے ۲۲؍ رجب کا دن مختص کیا گیا ہے، اور مختلف من گھڑت پس منظر بیان کرکے اس کے اثبات و جواز کی کوشش کی جاتی ہے، جس میں کثیر العیال فقر وفاقہ میں گرفتار شخص کی زندگی کی حضرت جعفر صادق  رحمۃ اللہ علیہ  کے نام پر کونڈے تیار کرنے کی برکت سے معاشی فراخی و انقلاب کی جھوٹی داستان کو بیان کیا جاتا ہے، جبکہ درحقیقت روافض کی جانب سے حضرت امیر معاویہ  رضی اللہ عنہ  کی وفات پر خوشی کے اظہار کے لیے ایک حیلہ اختیار کیا جاتا ہے ، لہٰذا مسلمانوں کو ایسی رسومات سے احتراز کرنا چاہیے۔ (۱۹)

4- صلاۃ الرغائب

عوام میں یہ بات معروف ہے کہ ستائیسویں رجب کو مغرب کے بعد بارہ رکعت چھ سلام سے مخصوص سورتوں کے ساتھ اس نماز کے بعد مخصوص کلمات سے منقول درود شریف کے اہتمام کو امرِ مندوب سمجھا جاتا ہے، نیز ایک مرفوع روایت پیش کرنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے:
’’عَنْ أنَسٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللہِ ﷺ، قَالَ: ’’فِيْ رَجَبَ لَيْلَۃٌ يُکْتَبُ لِلْعَامِلِ فِيْہَا حَسَنَاتُ مِائَۃِ سَنَۃٍ، وَذٰلِکَ لِثَلَاثٍ بَقِيْنَ مِنْ رَجَبَ، فَمَنْ صَلّٰی فِيْہَا اثْنَتَيْ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً، فَقَرَأ فِيْ کُلِّ رَکْعَۃٍ فَاتِحَۃَ الْکِتَابِ وَسُوْرَۃً مِّنَ الْقُرْآنِ، يَتَشَہَّدُ فِيْ کُلِّ رَکْعَتَيْنِ وَيُسَلِّمُ فِيْ آخِرِہِنَّ، ثُمَّ يَقُوْلُ: سُبْحَانَ اللہِ، وَالْحَمْدُ لِلہِ، وَلَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ، وَاللہُ أکْبَرُ مِائَۃَ مَرَّۃٍ، وَيَسْتَغْفِرُ اللہَ مِائَۃَ مَرَّۃٍ، وَيُصَلِّيْ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ مِائَۃَ مَرَّۃٍ، وَيَدْعُوْ لِنَفْسِہٖ مَا شَاءَ مِنْ أمْرِ دُنْيَاہُ وَآخِرَتِہٖ، وَيُصْبِحُ صَائِمًا، فَإِنَّ اللہَ يَسْتَجِيْبُ دُعَاءَہٗ کُلَّہٗ إِلَّا أنْ يَّدْعُوَ فِيْ مَعْصِيَۃٍ۔‘‘ (۲۰)
’’حضرت انس  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا : رجب میں ایک رات ہے کہ اس میں نیک عمل کرنے والے کو سو برس کی نیکیوں کا ثواب ہے اور وہ رجب کی ستائیسویں شب ہے، جو ا س میں بارہ رکعت پڑھے ، ہر رکعت میں سورۂ فاتحہ اور ایک سورت، اور ہر دور رکعت پر التحیات اور آخر میں بعد سلام سُبْحَانَ اللہِ، وَالْحَمْدُ لِلَہِ، وَلَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ، وَاللہُ أکْبَرُ سو بار، استغفار سو بار ، درود سو بار، اور اپنی دنیا وآخرت سے جس چیز کی چاہے دعا مانگے اور صبح کو روزہ رکھے تو اللہ تعالیٰ اس کی سب دعائیں قبول فرمائے، سوائے اس دعا کے جو گناہ کے لیے ہو۔‘‘ 
حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ  اور ابن جوزی  رحمۃ اللہ علیہ  نے اس روایت کو موضوع قرار دیا ہے۔(۲۱) اور اس کے تمام راویوں کو مجہول قرار دیا ہے۔ اسی طرح علامہ نووی  رحمۃ اللہ علیہ  نے بھی اس کے بدعت وجہالت ہونے پر تصریح فرمائی ہے، لہٰذا اس نوعیت کے عمل سے احتراز کرنا لازم ہے۔(۲۲)
اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے فضل وکرم سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کے بیان کردہ صحیح نہج وفکر سمیت اپنے احکامات پر عمل پیرا ہونے اور دوسروں تک ان کو پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین)

حواشی وحوالہ جات

۱-فیض القدیر للمناوي، رقم الحدیث: ۴۷۱۸، المکتبۃ التجاریۃ الکبری، مصر، ۴/۱۱۳
۲-لسان العرب: ۱/۴۱۳، دارصادر، بیروت
۳-شعب الإیمان للبیہقي، فصل، حدیث: ۳۵۳۲، مکتبۃ الرشد للنشر والتوزیع: ۵/۳۳۸
۴-فضل رجب لابن عساکر، رقم الحدیث : ۸، مؤسسۃ الریان بیروت، فضائل شہر رجب للخلال، رقم الحدیث :۱۳، دار ابن حزم: ۱/۶۹
۵-تبیین العجیب لابن حجرؒ ، ص:۲۳، مؤسسۃ قرطبۃ
۶-سورۃ التوبۃ، آیت نمبر: ۳۶
۷-سنن أبو داؤد،رقم الحدیث : ۱۹۴۷، المکتبۃ العصریۃ، بیروت: ۲/۱۹۵
۸-تفسیر ابن کثیر، دارالکتب العلمیۃ، ۴/۱۳۰، تفسیر الطبري، مؤسسۃ الرسالۃ: ۱۴/۲۳۸
۹-سنن أبي داؤد، کتاب الصوم، باب في صوم أشہر الحرم، رقم الحدیث : ۲۴۲۸، المکتبۃ العصریۃ: ۲/۳۳۲
۱۰-مصنف عبدالرزاق، کتاب الصوم ، باب في صیام أشہر الحرم: ۷۸۵۶ا، المجلس العلمي: ۴/۲۹۲، مصنف ابن أبي شیبۃ، کتاب الصوم، باب ما ذکر في صوم المحرم وأشہر الحرم: ۹۲۲۵، مکتبۃ الرشد، الریاض: ۲/۳۰۰
۱۱-تبیین العجیب لابن حجرؒ ، ص:۳۳، مؤسسۃ قرطبۃ

۱۲-امداد الفتاویٰ(مجموعہ فتاویٰ جات حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ، مرتب مفتی محمد شفیع عثمانی ؒ)۴/۱۳۴،ط:زکریا بک ڈپو انڈیا، الہند
۱۳-شعب الإیمان للبیھقي، تخصیص شھر برجب، رقم الحدیث:۳۵۳۴
۱۴-مجمع الزوائد، باب في فضل شہور البرکۃ وفضل شہررمضان: ۳/۱۴۰، ط:مکتبۃ القدسي، القاہرۃ‎
۱۵-تذکرۃ الموضوعات للطاھر الفتني :۱/ ۱۱۷، إدارۃ الطبعات المنیریۃ
۱۶-مرقاۃ المفاتیح، باب الجمعۃ: ۳/۱۰۲۲، رقم الحدیث:۱۳۶۹، دار الفکر، بیروت

۱۷-تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: شرح الزرقاني علی المواہب اللدنیۃ: ۲/۶۷،دار الکتب العلمیۃ
۱۸-فتاویٰ دار العلوم دیوبند مکمل ومدلل: ۶/۴۰۶، مکتبہ حقانیہ، ملتان
۱۹-تفصیل کے ملاحظہ ہو:‎ فتاویٰ محمودیہ، مجموعہ فتاویٰ جات مفتی محمود حسن گنگوہی  ؒ (۳/۲۸۱،۲۸۲) باب البدعات والرسوم، ط:دار الافتاء جامعہ فاروقیہ، کراچی
۲۰-شعب الإیمان للبیہقي، تخصیص شہر رجب بالذکر: ۵/۳۴۶، رقم الحدیث :۳۵۳۱
۲۱-تبیین العجیب، ص: ۵۵
، نیز حافظ ابن حجر ؒ نے اس پر مستقل رسالہ تصنیف کیا ہے جو ’’الإنصاف لما في صلاۃ الرغائب من الاختلاف‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔
۲۲-شرح صحیح مسلم للنووي، باب کراہیۃ إفراد یوم الجمعۃ بصوم، رقم الحدیث: ۲۶۸۲
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین