بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 ستمبر 2020 ء

بینات

 
 

لال مسجداورجامعہ حفصہ سے متعلق اجلاس راولپنڈی کا اعلامیہ!

لال مسجداورجامعہ حفصہ سے متعلق اجلاس راولپنڈی کا اعلامیہ!



۱۱/جولائی ۲۰۰۷ء کو جامعہ اسلامیہ راولپنڈی میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی عاملہ کا اجلاس ہوا‘ جس میں سانحہ لال مسجدو مدرسہ حفصہ للبنات اسلام آباد پر نہایت رنج و غم کا اظہار کیا گیااور اس کی شدید مذمت کی گئی ۔حکومت و میڈیا کی جانب سے غلط پروپیگنڈے ، حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے ، پیش آمدہ نئی صورت حال اور اس کے اثرات کے ازالہ کے لئے لائحہ عمل مرتب کیا گیا‘ اس سلسلہ میں اجلاس راولپنڈی کا اعلامیہ پیش خدمت ہے‘ اس کی روشنی میں مسلمانوں کو حقائق سے آگاہ کیا جائے اور طے شدہ کنونشنوں کو کامیاب بنانے کی سعی و کوشش کی جائے۔ مزید مجلس عمل اور وفاق المدارس کے اکابر مل کر انشاء اللہ لائحہ عمل طے کریں گے۔ (ادارہ)

۲۵/ جمادی الاخریٰ ۱۴۲۸ھ مطابق ۱۱/جولائی ۲۰۰۷ء کو جامعہ اسلامیہ راولپنڈی صدر میں وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم کی زیر صدارت منعقد ہونے والا وفاق کی مجلس عاملہ کا یہ ہنگامی اجلاس اسلام آباد کی لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف حکومت کے مسلح آپریشن کی شدید مذمت کرتا ہے‘ جس کے نتیجے میں مولانا عبدالرشید غازی شہید اور ان کی والدہ محترمہ اور دیگر ہزاروں افراد شہید ہوگئے ہیں۔ یہ اجلاس اس آپریشن کے دوران شہید ہونے والے تمام افراد کی المناک موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی مغفرت کے لئے دعاگو ہے اور ان کے اہلِ خاندان کے ساتھ دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتا ہے۔ وفاق المداس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ یہ سمجھتی ہے کہ وفاق المدارس نے اس تنازع کے آغاز پر جس موقف کا اظہار کیا تھا وقت نے اسے درست ثابت کردیا ہے‘ وفاق نے یہ واضح کردیا تھا کہ یہ مسئلہ مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعہ حل کیا جانا ضروری ہے اور کسی فریق کی طرف سے بھی طاقت کا استعمال اور تشدد کا رویہ غلط ہوگا جو بہت سے شہریوں کی جانوں کے ضیاع کا باعث بن سکتا ہے‘ لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے کہ وفاق المدارس کی اس اپیل پر کسی فریق نے بھی توجہ نہیں د ی اور دونوں طرف سے اسلحہ اور طاقت کے بے جا استعمال نے پوری قوم کو کرب و الم کے ایک نئے دور میں داخل کردیا ہے‘ وفاق المدارس العربیہ کے راہنماؤں نے اس بحران کے پُرامن حل اور ہزاروں افراد بالخصوص طالبات اور بچوں کی جانیں بچانے کے لئے ۸/جولائی کو جس مصالحتی عمل کا آغاز کیا تھا‘ اسے آخری مرحلہ میں اچانک ناکام بنادیا گیا جو اس المیہ کا سب سے زیادہ افسوس ناک پہلو ہے اور مجلس عاملہ کی رائے ہے کہ صدر پرویز مشرف اس آپریشن کا قطعی فیصلہ کئی روز پہلے کرچکے تھے‘ جس کا اظہار انہوں نے بلوچستان میں انتہائی رعونت آمیز انداز میں کردیا تھا کہ لال مسجد و الے باہر آجائیں ورنہ ماردیئے جائیں گے‘ حالات کا تسلسل بتاتا ہے کہ اس دھمکی کو عملی جامہ پہنانے کے لئے وفاق المدارس کی مصالحتی کوششوں کو آخری مرحلہ میں جب کہ کم و بیش تمام امور میں فریقین میں اتفاق ہوچکا تھا‘ سبوتاژ کردیا گیا۔ جس کی ذمہ داری سب سے زیادہ صدر پرویز مشرف پر عائد ہوتی ہے‘ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ سمجھتی ہے کہ یہ صورت حال ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ میں مسلسل تاخیر‘ فحاشی کے فروغ‘ حدود شرعیہ میں غیر شرعی ترامیم‘ اسلام آباد میں مساجد کو گرائے جانے اور دینی اقدار و شعائر کے بارے میں حکومت کے مسلسل منفی اقدامات کے ردِ عمل کے طور پر پیدا ہوئی ہے‘ اس لئے حکومت کی اصل ذمہ داری ہے کہ وہ ان اسباب و عوامل کی طرف توجہ دے اور اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے ملک میں اسلامی نظام کے عملی نفاذ‘ فحاشی کے سدباب اور اسلام آباد میں گرائی جانے والی مساجد کی فوری دوبارہ تعمیر کا اہتمام کرے‘ یہ اجلاس میڈیا کے اکثر حلقوں کے اس طرز عمل پر تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ لال مسجد کے آپریشن کے دوران تصویر کا صرف ایک رخ پیش کیا جارہا ہے اور حالات کے معروضی تناظر کو سامنے لانے کی بجائے صدر پرویز مشرف کی اس فرمائش پر عمل کیا جارہا ہے کہ اگر میڈیا لاشیں نہ دکھانے کا یقین دلائے تو وہ لال مسجد کے خلاف آپریشن کے لئے تیار ہیں‘ اس سلسلہ میں ہماری شکایت اور تشویش کا اندازہ ۱۲/ مئی کے واقعات کے مقابلہ میں اسلام آباد کے سانحہ کے بارے میں میڈیا کے طرز عمل کو دیکھ کر بخوبی کیا جاسکتا ہے‘ یہ اجلاس میڈیا کے ذمہ دار حضرات کو توجہ دلاتا ہے کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں کا لحاظ رکھیں اور کسی ایک شخصیت کو خوش کرنے کی بجائے صحیح حالات کو ان کے اصل تناظر میں پیش کرنے کا راستہ اختیار کریں۔ یہ اجلاس جامعہ حفصہ کے آپریشن کی صورت حال کی آڑ میں وزیر اعظم کی طرف سے ملک بھر کے دینی مدارس کے خلاف دھمکی آمیز بیان پر شدید احتجاج کرتا ہے‘ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام آباد کے مخصوص حالات کی آڑ میں پورے ملک میں دینی مدارس کے خلاف کسی نئی مہم کا آغاز کیا جارہا ہے‘ جس کی تائید ان اطلاعات سے بھی ہوتی ہے کہ کل سے ملک کے مختلف حصوں میں دینی مدارس کے از سر نو کوائف طلب کرنے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے‘ دینی مدارس کے منتظمین کو ہراساں کیا جارہا ہے اور انہیں بلاوجہ پریشان کیا جارہا ہے۔ یہ اجلاس وزیر اعظم کے اس دھمکی آمیز بیان کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کرتا ہے کہ دینی مدارس کی آزادی‘ خود مختاری اور جداگانہ تعلیمی تشخص کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا اور اس کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ یہ اجلاس ملک بھر کے دینی مدارس سے اپیل کرتا ہے کہ و ہ کسی پریشانی اور خوف میں مبتلا نہ ہوں اور پورے اعتماد اور حوصلے کے ساتھ اپنا کام جاری رکھیں‘ اس کے ساتھ ہی یہ اجلاس اس امر کی یاددہانی ضروری سمجھتا ہے کہ باہمی طے شدہ فیصلہ کے مطابق کسی بھی دینی مدرسہ کے بارے میں اگر کوئی کوائف مطلوب ہیں تو وہ متعلقہ وفاق سے رجوع کرے اور براہ راست کسی مدرسہ سے کوائف طلب نہ کرے۔ یہ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ جامعہ فریدیہ اسلام آباد سے سرکاری فورسز کو فوری طور پر ہٹایا جائے اور معمول کی تعلیمی سرگرمیوں میں حائل تمام رکاوٹوں کو ختم کرکے اساتذہ اور طلبہ کو آزادی کے ساتھ اپنا کام کرنے کا موقع دیا جائے۔ نیز یہ اجلاس خبردار کرتا ہے کہ جامعہ حفصہ ایک دینی درسگاہ ہے‘ جس کے منتظمین کی کسی غلطی کی سزا مدرسہ کو دینے کی بات قبول نہیں کی جائے گی اور جامعہ حفصہ کی جگہ کوئی اور ادارہ تعمیر کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کی شدید مخالفت کی جائے گی‘ اس لئے یہ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ایک تعلیمی ادارہ کے طور پر جامعہ حفصہ کی حیثیت بحال کرکے وہاں معمول کی تعلیمی سرگرمیوں کے مواقع فراہم کئے جائیں۔ یہ اجلاس لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے آپریشن میں طوالت کے حوالہ سے ان اطلاعات کو تشویش ناک قرار دیتا ہے کہ یہ وقفہ وہاں سے لاشوں کو غائب کرنے اور وہاں اسلحہ و دیگر معاملات کے حوالہ سے اپنی مرضی کا ماحول قائم کرنے کے لئے کیا جارہا ہے‘ تاکہ دنیا کے سامنے حکومت کی مرضی کے مطابق اس کی تصویر پیش کی جاسکے‘ یہ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ لاشوں اور زخمیوں کے بارے میں غیر جانبدار حلقوں کی تصدیق کے ساتھ صحیح کوائف قوم کے سامنے لائے جائیں‘ کیونکہ مسلمہ طور پر غیر جانبدار حلقوں کی تصدیق کے بغیر حکومت کے یکطرفہ اعلانات اور اعداد و شمار کو اس سلسلہ میں قبول نہیں کیا جائے گا‘ یہ اجلاس ا المناک سانحہ کے سلسلہ میں قوم کے جذبات سے پوری طرح آگاہ اور اس سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے اور اعلان کرتا ہے کہ اس سلسلہ میں ۱۳/جولائی کو ملک بھر میں یوم احتجاج منایا جائے گا‘ علماء کرام خطبات جمعہ میں لال مسجد کے خلاف مسلح آپریشن کی مذمت کریں اور مختلف طبقات پرامن طور پر قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے جذبات کا اظہار کریں گے‘ جب کہ ملک کے اہم شہروں میں وفاق المدارس کے تحت تحفظ مدارس دینیہ کنونشن مندرجہ ذیل پروگرام کے مطابق منعقد کئے جائیں گے:
۱۶/ جولائی بروز پیر لاہور‘ ۱۹/جولائی بروز جمعرات اسلام آباد‘
۲۶/ جولائی بروز جمعرات پشاور‘ ۲۸/جولائی بروز ہفتہ مظفر آباد‘
۲/ اگست بروز جمعرات کراچی‘ ۹/اگست بروز جمعرات کوئٹہ۔
ان کنونشنوں سے اکابر علماء کرام اور زعماء خطاب کریں گے اور دینی مدارس کی آزادی‘ خود مختاری اور جداگانہ تشخص کی جدوجہد کے سلسلہ میں اہم اعلانات کئے جائیں گے۔ مجلس عاملہ کی طرف سے پورے ملک میں وفاق المدارس کے اراکین عاملہ اور مسؤلین کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ فوری طور پر ذمہ دار حضرات کے اجلاس طلب کرکے ۱۳/ جولائی کے یوم احتجاج اور مذکورہ بالا کنونشنوں کے پروگراموں کو کامیاب بنانے کے لئے لائحہ عمل طے کریں اور اس کا اہتمام کریں۔

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے