بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 نومبر 2019 ء

بینات

 
 

قومی خزانے کو نقصان پہنچاناقومی جرم ہے

 

قومی خزانے کو نقصان پہنچاناقومی جرم ہے

قومی ملکیت اور اس کے ابتدائی ذرائع آمدن  قومی ملکیت، قومی خزانہ، سرکاری خزانہ اور سرکاری املاک، ایسے الفاظ ہیںجو زبان زد خاص وعام ہیں، عوام وخواص ان الفاظ کے معانی سے زیادہ ان کے مفہوم،مصداق اور مدلول کو جانتے ہیں۔  اسلامی تاریخ کی رو سے اسلامی سلطنت اور قومی ملکیت کاتصور ہم عمر ہیں، حضور اکرم a نے جب اسلامی احکام کی بالادستی پر مشتمل اجتماعی نظم وضبط کا عملی نمونہ پیش فرمایا تو اس وقت اجتماعی نظم کے قیام کے لیے وسائل واسباب کی ضرورت درپیش ہوئی، اس کے لیے مختلف ذرائع زیر عمل آتے رہے،اس حوالے سے سب سے بڑا ذریعہ آمدن پہلی مرتبہ جو متعارف ہوا، وہ سن ۲؍ہجری میں بدر کے معرکہ کے نتیجے میں حاصل ہونے والے غنائم تھے، اس سے قبل مسلمانو ں کو اتنا بڑا مالی ذخیر ہ ہاتھ نہیں لگا تھا، اب اس مال کی بحفاظت منتقلی ، مناسب تقسیم اور دیگر احکا م کی تفصیلات اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم a کی زبانی بیان فرمائی:  ’’وَاعْلَمُوْا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَأَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِیْ الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ إِنْ کُنْتُمْ أٰمَنْتُمْ بِاللّٰہِ وَمَا أَنْزَلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقٰی الْجَمْعٰنِ، وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ۔‘‘                       (التوبۃ: ۴۱) یہ سلسلہ بعد میں بھی قائم رہا اور مختلف ذرائع سے غنائم حاصل ہوتے رہے، پھر اسلامی حکومت کی مصالحانہ پیش قدمی اور وسعت کے نتیجہ میں خراج ،عشر اور زکوٰۃ وغیرہ بھی مسلمانوں کے ــاجتماعی مال کے طور پر یکجا ہونا شروع ہوگئے تو آپ aنے اس اجتماعی مال کی وصولی سے لے کر مقررہ مصارف میں استعمال کرنے تک کے احکا م پوری تفصیل و تاکید کے ساتھ بیان فرمائے ،یہ سلسلہ جب خوب مستحکم ومستقل ہو ا تو اُسے’’ بیت المال‘‘ کے نام سے مستقل شعبے کا درجہ دیا گیا، چنانچہ قرن اول سے ہی اجتماعی املاک کے جمع وحفاظت کے شعبہ کو ’’بیت المال ‘‘یا’’ اموال النا س‘‘ کہا جاتا ہے ۔ قومی ملکیت ،بیت المال کی شرعی حیثیت بیت المال کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اس سلسلے میں آپ a کے ارشادات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ بیت المال کا خزانہ اور قومی وسرکا ری خزانہ تمام رعایا کی ملکیت شمار ہوتا ہے، یہ کسی بھی فرد کی ذاتی ملکیت شمار نہیں ہوتا، اسی لیے کسی بھی فرد کے لیے خواہ وہ رعایا کا ادنیٰ فرد ہو یا حاکم وقت، جائز نہیں کہ وہ سرکاری خزانے میں آزادانہ اور مالکانہ تصرفات کا مجاز ہو، حتیٰ کہ خود حضور a کے لیے بحکم خداوندی غنائم کا پانچواں حصہ مقر رتھا، آپ m اس کے بارے میں بھی یہی ارشاد فرماتے ہیں کہ وہ بھی تمہارے اوپر خرچ کرنے کے لیے ہوتاہے، اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیئے گئے محدود اختیار کی طرف اشارہ بھی فرماتے ہیں، چنانچہ حضرت ابوہریرہ q کی روایت ہے :  ’’قام فینا رسول اللّٰہ a ذات یوم فذکر الغلول فعظمہٗ وعظم أمرہٗ، ثم قال: لا ألفین أحدکم یجیٔ یوم القیامۃ علٰی رقبتہٖ بعیر لہٗ رغاء یقول: یارسول اللّٰہ ! أغثنی فأقول: لا أملک لک شیئًا، قد أبلغتک۔‘‘ (صحیح بخاری ،ج:۲، ص:۳۴۹، ط:قدیمی) حضورa نے سرکاری وقومی خزانے سے متعلق اپنے ذاتی صوابدیدی اختیارات کی نفی فرمائی تھی اور حکم شرعی کی پابندی و پاسداری کا سبق یوں دیا: ’’عن أبی ھریرۃ q قال: قال رسول اللّٰہ a ما أعطیکم ولا أمنعکم ،أنا قاسم أضع حیث أمرت۔‘‘                                                           (مشکوٰۃ: ۳۲۵) ’’حضرت ابوہریرہ qراوی ہیں کہ رسول کریم a نے ارشاد فرمایا:’’میں نہ تو تمہیں عطا کرتا ہوں اور نہ تمہیں محروم رکھتا ہوں،میں تو صرف باٹنے والا ہوں کہ جس جگہ مجھے رکھنے کا حکم دیا گیا میں وہاں رکھ دیتا ہوں۔‘‘                               (مظاہر حق)  امام ابن تیمیہ v فرماتے ہیں :  ’’ولیس لولاۃ الأموال أن یقسموہ بحسب أھوائھم کما یقسم المالک ملکہٗ، فإنما ھم أمناء ونواب ووکلاء لیسوا ملاکا، کما قا ل رسول اللّٰہ a: إنما أنا قاسم۔‘‘                   ( السیاسۃ الشرعیۃ فی اصلاح الراعی والرعیۃ، ص:۴۴،ط: دار عالم الفوائد) ’’مسلمانوں کے اموال کی حفاظت اورمصارف میں خرچ کی ذمہ داری پر مامور افراد کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اپنی ملکیت کی مانند جیسے چاہیں تصرف کریں، وہ ان اموال کے محافظ، مسلمانوں کی جانب سے وکیل اور نگہبان ہیں، مالک نہیں، نبی کریم a نے بھی اپنے آپ کو قاسم (تقسیم کرنے والا) فرمایا تھا۔‘‘ اس سے معلوم ہوا کہ حاکم وقت، قومی خزانے اور اجتماعی ملکیت کا محض محافظ، نگران اور دیکھ بھال کا ذمہ دار ہوتا ہے، وہ سرکاری خزانے میں مالکانہ اختیارات و تصرفات کا ہرگز مجاز نہیں ہوتا۔ اگر امین امانت میںخیانت کرے تو وہ مسلمان کہلانے کا حق دار نہیں رہتا، پھر سرکاری خزانے میں خیانت کا مرتکب حاکم توحق حکمرانی کا جواز بھی کھو بیٹھتا ہے، حاکم ہو یا کوئی عام فرد جب سرکاری خزانے اور ملکیت میں ناجائز تصرف اور خورد برد کا ارتکاب کرے تو اس کا یہ عمل شرعی اصطلاح میں ’’غلول‘‘ اور یہ شخص ’’غالّ‘‘ کہلاتا ہے، غلول اور غال کے بارے میں شریعت کیا بتاتی ہے؟ اس بارے میں کچھ تفصیل ملاحظہ فرمائیں: غلول (خیانت و غبن) کا حکم قرآن کریم کی روشنی میں غلول کی سنگینی کا بیان خود قرآن کریم میں موجود ہے: ’’ وَمَاکَانَ لِنَبِیٍّ أَنْ یَّغُلَّ وَمَنْ یَّغْلُلْ یَأْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔‘‘      (آل عمران:۱۶۱) ’’اور نبی کی یہ شان نہیں کہ وہ خیانت کرے، حالانکہ جو شخص خیانت کرے گا وہ شخص اپنی اس خیانت کی ہوئی چیز کو قیامت کے دن حاضر کرے گا۔‘‘               (ترجمہ حضرت تھانوی v) مذکورہ آیت‘آپ a سے متعلق بعض حضرات کی ایسی بدگمانی کے ازالے کے لیے اتری تھی،جس میں یہ تأثر مل رہا تھا کہ غنیمت یا بیت المال میں سے گم شدہ ایک چیز حضور a نے شاید اپنی صوابدید پر اپنے پاس رکھ لی ہو، اللہ تعالیٰ نے ایسے غلول کی نسبت بھی اپنے حبیب a کی طرف گوارا نہیں فرمائی،جب حضور aکے لیے غنیمت میں سے کوئی چیز اپنے لیے مختص کرنانامناسب ہے تو کسی اور کو اختیار یا استثنا کیونکر ہوسکتا ہے؟! امام ابو بکر جصاص رازی v اس آیت کے تحت فرماتے ہیں: ’’وقد عظم النبی a أمر الغلول حتی أجراہ مجری الکبائر، وروی قتادۃ عن سالم بن أبی الجعد ۔۔۔ من فارق روحُہٗ جسدَہٗ وہو بریٔ من ثلاث دخل الجنۃ: الکبر والغلول والدین۔‘‘                      (أحکام القرآن،ج:۲،ص:۶۳،ط:قدیمی) یعنی حضور a نے غلول کے معاملہ کو انتہائی سنگین قرار دیا ہے اور جنت میں داخلے کے لیے تکبر، قرض اور غلول سے براء ت کو شرط قرار دیا ہے۔ امام قرطبی v نے مذکورہ آیت کے تحت لکھا ہے کہ ’’غالّ‘‘ (غلول کرنے والا) قیامت کے دن غلول کردہ چیز کو اپنی گردن پر اٹھا کر اپنی خیانت کا اظہار کرتے ہوئے اور اپنے آپ کو کوستے ہوئے سب لوگوں کے سامنے اٹھائے ہوئے لائے گا۔ نیز آپ نے اس آیت سے ثابت شدہ احکام میں ذکر فرمایاہے: ’’قال العلمائ: والغلول کبیرۃ من الکبائر بدلیل ھذہٖ الأٰیۃ، فإذا غلّ الرجل فی المغنم ووجد أخذ منہ وأدب وعوقب بالتعزیر، أجمع العلماء علی أن للغال أن یرد جمیع ما غلّ إلٰی صاحب المقاسم قبل أن یفترق الناس إن وجد السبیل إلٰی ذٰلک،  وأنہٗ إن فعل ذٰلک فھی توبۃ لہٗ واختلفوا فیما یفعل بہٖ إذا افترق أھل العسکر ولم یصل إلیہ، فقال جماعۃ من أھل العلم: یدفع إلی الإمام خمسہ، ویتصدق بالباقی۔ ھٰذا مذھب الزھری ومالک والأوزاعی واللیث والثوری، روی عن عبادۃ بن الصامت ومعاویۃ والحسن البصری، وھو یشبہ مذھب ابن مسعودؓ وابن عباسؓ۔‘‘                          (تفسیر قرطبی، ج:۴،ص:۱۶۷،ط: بیروت) اس عبارت میں مندرجہ ذیل امور بیان ہوئے ہیں:  1- کہ غلول کبائر میں سے کبیرہ گناہ ہے۔ 2- جو شخص غلول کا مرتکب قرار پائے اور وہ مالِ مغلول (چوری کردہ،غبن کردہ مال)اس کے پاس پایا بھی جائے تواس سے واپس لینا لازم اور ایسے شخص کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے گی اور اس کو حاکم وقت مناسب سزا بھی دے گا۔ 3- علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ اجتماعی ملک اور قومی خزانے میں غلول وغبن کرنے والے پر لازم ہے کہ وہ قومی مال، قومی خزانے کو واپس کرے، ایسا کرنے پر اس کے لیے عنداللہ معافی وتوبہ کی گنجائش رہے گی۔                 (مستفادمن المسئلۃ السابعۃ، قرطبی، ج:۴،ص:۱۶۵تا۱۶۷) مذکورہ آیت کے تحت حضرت علامہ ابن کثیر v نے حضور a کا یہ ارشاد نقل فرمایا ہے: ’’ردّواالخیاط والمخیط؛ فإن الغلول عار ونار وشنار علی أھلہٖ یوم القیامۃ۔‘‘ (ج:۱،ص:۲۲۳) ’’(مالِ غنیمت ،اجتماعی ملکیت سے لیا ہوا)دھاگہ ہو یا سوئی واپس کرو ، بلاشبہ غلول قیامت کے دن شرمندگی،آگ اور بدترین عیب ہے۔‘‘ غلول کا حکم احادیث مبارکہ کی روشنی میں ۱:۔۔۔۔۔ ’’عن معاذؓ، قال: بعثنی رسول اللّٰہ a إلٰی الیمن، فلما سرت أرسل فی أثری فرددت فقال: أتدری لم بعثت إلیک؟ لاتصیبن شیئًا بغیر إذنی؛ فإنہ غلول، ومن یغلل یأت بما غل یو م القیامۃ، لھٰذا دعوتک فامض فی عملک۔‘‘    ( رواہ الترمذی، مشکوٰۃ:۳۲۶) ’’حضرت معاذq راوی ہیںکہ رسول کریم a نے مجھے (عامل)بناکر یمن بھیجا،(جب میں روانہ ہوا)تو آپ a نے میرے پیچھے بھیجا، میں لوٹ کر آیا تو آپ a نے فرمایا :تم جانتے ہو ،میں نے تمہیں بلانے کے لیے کیوں بھیجا تھا ؟ تم میری اجازت کے بغیر کچھ نہ لینا، یہ خیانت ہے۔‘‘ (مظاہر حق)  ۲:۔۔۔۔۔’’عن بریدۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ عن النبی a قال: من استعملناہ علٰی عمل فرزقناہ رزقًا، فما أخذ بعد ذلک فھو غلول۔‘‘                 (مشکوٰۃ :۳۲۶)  ’’حضرت بریدہ q، نبی کریم aسے نقل کرتے ہیں کہ آپa نے فرمایا :’’جس شخص کو ہم نے کسی کام پر مامور کیا اور اس کو رزق دیا (اس کام کی اجرت مقررکردی)،اس کے بعد اگر وہ (اپنی تنخواہ سے زائد)کچھ وصول کرے گا تو یہ مالِ غنیمت میں خیانت ہے۔‘‘       (مظاہر حق) ۳:۔۔۔۔۔’’من عمل منکم لنا علٰی عمل فکتمناہ منہ مخیطًا فمافوقہٗ فھو غالّ یأتی بہٖ یوم القیامۃ۔‘‘                                                       (مشکوۃ :۲۳۶)  ’’تم میں سے جو شخص کسی ذمہ داری پر مامور ہو اور اس میں سے ایک سوئی یا اس سے بھی کم مقدار کی کوئی چیز چھپالے تو قیامت کے روز’’ غلول ‘‘کرنے والے کی صورت میں ہی پیش ہوگا۔‘‘ مذکورہ نصوص کی روشنی میں معلوم ہوا کہ: 1 - شرعی و قانونی اجازت کے بغیر اجتماعی مال سے کوئی چیز ہتھیاناجرم ہے ،جو کہ غلول وحرام ہے۔  2-سرکاری ملازمین، حق الخدمت کے علا وہ جو خرد برد کریں یا ناحق وصولی کریں، وہ بھی غلول ہے۔ 3-ناحق ایک سلائی، دھاگہ بھی ہتھیانے والا غال ہے،غلول کا مرتکب ہے۔ ۴۔۔۔۔۔۔حضرت عبد اللہ بن عمر r سے مروی ہے کہ حضور a کے زمانے میں ــــــ’’کرکرہ ‘‘نامی ایک شخص کا انتقال ہوا تو حضور aنے اس کے بارے میں دوزخی ہونے کا اظہار فرمایا ،صحابہ کرام s نے جاکر دیکھا تو اس شخص پر غلول کردہ(ناجائز طریقے سے لی ہوئی)ایک چادر یا جبہ پایا ۔                                                (سنن ابن ماجہ، باب الغلول، ص:۲۰۴، قدیمی) ۵:۔۔۔۔۔حضرت زید بن خالد جہنی q کی روایت ہے کہ خیبر میں قبیلہ اشجع کے ایک شخص کا انتقال ہوگیا تو نبی کریم a نے فرمایا:  ’’صلّوا علٰی صاحبکم‘‘۔ (تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو)۔ لوگوں کو یہ بات عجیب لگی اور ان کے چہروں پر حیرت چھا گئی، آپ a نے ان کی کیفیت بھانپتے ہوئے فرمایا:’’إن صاحبکم غلّ فی سبیل اللّٰہ‘‘۔(تمہارے اس ساتھی نے راہِ خدا میں غلول کا ارتکاب کیاہے)چنانچہ ان کے سامان کو کھنگالا گیا تو محض دو درہموں کی مالیت کے بقدر یہود کے لڑی میں پرونے والے نگینے ملے۔   (سنن ابن ماجہ، باب الغلولِ ،ص:۲۰۴)  ۶:۔۔۔۔۔ حضرت خولہ انصاریہ t کی روایت سے منقول ہے : ’’إن رجالا یتخوضون فی مال اللّٰہ بغیر حق فلھم النار یوم القیامۃ۔‘‘(مشکوٰۃ:۳۲۵) ’’بہت سے لوگ خدا کے مال(زکوٰۃ،غنیمت اور بیت المال )میں ناحق تصرف کرتے ہیں، ان کے لیے قیامت میں آگ ہے۔‘‘ شارحین نے اس روایت میں دو باتیں ثابت فرمائی ہیں: الف:    مجاز اتھارٹی کی اجازت کے بغیر بیت المال وغیرہ میںتصرف کرنا۔ ب:    اپنی محنت اور حق الخدمت سے زیادہ ہتھیانا۔ (مظاہر حق،ج:۳،ص: ۶۷۲) ۷:۔۔۔۔۔ غیر قانونی طریقے سے سرکاری خزانے میںخرد برد کرنا غلول ہے اور اس کی سزا جہنم ہے، حضور a نے حضرت معاذبن جبل q کو یمن کا گورنر بناکر بھیجتے ہوئے اہتمام کے ساتھ ارشاد فرمایاتھا: ’’لا تصیبن شیأ بغیر إذنی فإنہٗ غلول؛ ومن یغلل یأت بما غل یوم القیامۃ۔‘‘ (مشکوۃ : ۳۲۶) ’’(تم اپنی مدتِ ملازمت کے دوران)میری اجازت کے بغیر کچھ نہ لینا ،کیونکہ یہ خیانت ہے اور جو شخص خیانت کرے گا وہ قیامت کے دن وہ چیز لے کر آئے جس میں اس نے خیانت کی ہے۔‘‘                                 ( مظاہر حق،ج:۳،ص:۶۷۳) ۸:۔۔۔۔۔’’عن خولۃ بنت قیس قالت: سمعت رسول اللّٰہ a یقول: إن ھذہ المال خضرۃ حلوۃ، فمن أصابہٗ بحق بورک لہٗ فیہ، ورب متخوض فیما شاء ت بہ نفسہ من مال اللّٰہ ورسولہ، لیس لہٗ یوم القیامۃ إلا النار۔‘‘    (رواہ الترمذی،بحوالہ مشکوٰۃ :۳۵۱) ’’حضرت خولہ بنت قیس t سے حضور a کا یہ ارشاد منقول ہے کہ یہ مال سبزوشیریں چیز ہے ، جس نے اسے جائز وحق طریقے سے حاصل کیا اس کے لیے بابرکت ہے اور جس نے اللہ اور اس کے رسول کے مال (بیت المال،غنائم)میں ناحق تصرف کیا، اس کے لیے جہنم کی آگ کے سوا اور کچھ نہیں۔‘‘ ۹:۔۔۔۔حضرت رویفع بن ثابت q کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ سرکاری مال اور قومی ملکیت سے عارضی استعمال کے لیے حاصل کردہ چیزوں کو صحیح وسالم حالت میں واپس کرنا ضروری ہے،ناقابل استعمال یاناکارہ کرکے واپس کرنا جرم ہے، نیز بلا ضرورت سرکاری املاک کا استعمال بھی جرم ہے،چنانچہ ارشادہے : ’’عن رویفع بن ثابتؓ أن النبی a قال:من کان یؤمن باللّٰہ والیوم الأٰخر فلایرکب دابۃ من فیٔ المسلمین، حتٰی إذا أعجفھا ردھا فیہ، ومن کان یؤمن باللّٰہ والیوم الأٰخر فلا یلبس ثوبًا من فیٔ المسلمین حتٰی إذاأخلقہٗ ردہٗ فیہ۔‘‘       (مشکوٰۃ:۳۵۱)  ’’جو شخص اللہ اورآخرت پر ایمان رکھے اس کے لیے قطعاً روا نہیں ہے کہ وہ مسلمانوں کے (مشترک) مالِ غنیمت کے کسی جانور پر (بلاضرورتِ شرعی)سوار ہو اور پھر جب وہ جانور (سواری)دُبلا ہوجائے تو اس کو مالِ غنیمت میں واپس کردے۔‘‘ (مظاہر حق ،ج:۳، ص:۸۱۴) ۱۰:۔۔۔۔۔ حضرت ابوبکر q کے ذمے بوقتِ وفات، بیت المال کے سات ہزار دراہم قرض تھے تو انہوں نے وصیت فرمائی کہ ان کی جانب سے یہ قرض بیت المال کو ادا کیا جائے۔ (کتاب الآثار بروایت امام ابویوسف v، باب الغزو والجیش، رقم الحدیث:۹۱۳، مطبعۃ الاستقامۃ) ۱۱:۔۔۔۔۔ حضرت عمر q کو کبھی ضرورت پیش آتی تو بیت المال کے خزانچی کے پاس جاکر قرض لیتے، پھر بسااوقات تنگی ہوتی اور خزانچی قرض کی ادائیگی کا مطالبہ کرتا تو آپ عذر فرماتے اور جونہی رقم ہاتھ آتی تو ادا فرمادیتے تھے۔ (طبقات ابن سعد، باب استخلاف عمرؓ،ج: ۳،ص:۲۷۶، دارصادر بیروت) ۱۱:۔۔۔۔۔حضرت عمر q فرماتے تھے: ’’إنی أنزلت نفسی من مال اللّٰہ بمنزلۃ مال الیتیم، إن استغنیت عففت، وإن افتقرت أکلت بالمعروف، قال وکیع فی حدیثہ:فإذا أیسرت قضیت‘‘۔(ایضا)  ’’بیت المال کے ساتھ میں یتیم کے مال کا سا معاملہ رکھتا ہوں، ضرورت نہ ہو تو اپنے آپ کو بچائے رکھتا ہوں، اور مجبوری پیش آہی جائے تو حسب ضابطہ لے کر کام میں لاتا ہوں اور جونہی ہاتھ کھلا ہو تو ادا کردیتا ہوں۔ ‘‘ مندرجہ بالا تصریحات سے یہ حکم معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص ناجائز طریقے سے سرکاری مال، قومی خزانے اور اجتماعی ملکیت میں خرد برد کرے، ناحق تصرف کرے ، اپنے حق سے زیادہ ہتھیانے کی کوشش کرے ، یا قانونی طریقے سے کام لے کر ناکارہ بنادے اور اس کے استعمال و افادیت میں خلل پیدا کرے تو وہ غلول جیسے گناہ کبیرہ کا مرتکب ہے ،اس کے لیے دنیا وآخرت دونوں میں عار ،شنار اور نار ہے۔ سرکاری خزانہ ہتھیانے کے بعد واپس نہ کرنے والے کا حکم اب اگر کوئی سرکاری خزانے سے قانونی طریقے پر جو چیز حاصل کرے اور واپس نہ کرسکے یا واپسی میں کوتاہی کرے تو اس کا حکم کیا ہوگا؟حضورa کے ارشاد ات وفرامین میں اس کی تفصیل متعدد زاویوں سے ملتی ہے: سب سے پہلی بات یہ ہے کہ وصولی کے بعد لوگ ادائیگی سے عاجز کیوں آتے ہیں؟ حضورaکے ارشاد کی روشنی میںاس کی بنیادی وجہ ایک روحانی بیماری اور اخلاقی کمزوری ہے اور وہ ہے دل کا کھوٹ اور نیت کی خرابی ۔حضرت ابوہریرہ q سے مروی ہے کہ حضورa نے فرمایا: ’’من أخذ أموالَ الناس یرید أدائَ ھا أدی اللّٰہ عنہ، ومن أخذ یرید إتلافھا أتلفہٗ اللّٰہُ علیہ۔ ‘‘                                                           (مشکوٰۃ: ۲۵۲) ’’ جو شخص لوگوں کا مال لے اور اس کے ادا کرنے کا ارادہ رکھتا ہو (یعنی کسی ضرورت واحتیاج کی بنا پر قرض لے اور قرض کو اداکرنے کا ارادہ بھی رکھتا ہو)تو اللہ تعالیٰ اس سے وہ مال ادا کرادیتا ہے اور جو شخص لوگوں کا مال لے اور ضائع کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے مال کو ضائع کردیتا ہے۔‘‘       (مظاہر حق، ج:۳، ص:۱۲۹، ط:دارالاشاعت) یعنی جو لوگ واقعی ضرورت مندہوں اور اس بنیاد پر ’’أموال الناس‘‘ (قرض وغیرہ) لیتے ہوں اور واپسی کا ارادہ بھی ہو تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو واپسی کی توفیق بھی دے دیتے ہیں اور ان کے لیے  ’’أموال الناس‘‘ واپس کرنے کی سبیل بن جاتی ہے اور جن کے دل میں کھوٹ اور چور ہواور وہ واپس کرنے کے بجائے ضائع کرنے کی نیت پر کاربند ہو ں تو انہیں حاصل کردہ اموال کے واپس کرنے کی توفیق بھی نہیں ملتی اور اللہ تعالیٰ ان کادیوالیہ بھی کر دیتے ہیں،اگر کسی کا دیوالیہ نہ ہوا ہو ، بلکہ صاحب استطاعت، مالدار اور غنی ہو، اس کے باوجود قرض واپس کرنے میں ٹال مٹول سے کام لیتا ہو، اپنے ذمہ واجب الادا حق ادا نہ کرتا ہو تو ایسا شخص ظالم ومجرم ہے، ارشاد ربانی ہے : ’’وَلَا تَأْکُلُوْا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ۔‘‘                                (البقرۃ:۱۸۸) اس کا ہر طرح سے پیچھاکیا جائے اور قرض وحق کی وصولیابی کے لیے اس کا ہر طرح تعاقب کیا جائے، آپ a کا ارشاد ہے : ’’مطل الغنی ظلم، وإذا اتبع أحدکم علی ملیٔ فلیتبع۔‘‘              (مشکوٰۃ: ۲۵۱) ’’صاحب استطاعت کا(ادائیگیِ قرض میں)تأخیر کرنا ظلم ہے اور جب تم میں سے کسی کو صاحب استطاعت کے حوالے کیا تو اس سے حوالہ کو قبول کرلینا چاہیے۔‘‘  (مظاہر حق) تشریح میں فرماتے ہیں: ’’جو شخص کوئی چیز خریدے اور اس کی قیمت ادا کرنے کی استطاعت رکھنے کے باوجود قیمت ادا نہ کرے ،یا کسی کا قرضدار ہو اور ادائیگیِ قرض پر قادر ہونے کے باوجود (قرض) ادا کرنے میںتاخیر کرے تو یہ ظلم ہے۔‘‘            (مظاہر حق،ج:۳،ص:۱۲۶) اسی طرح حضرت شرید q حضور aسے نقل فرماتے ہیں: ’’لیّ الواجد یحلّ عرضہٗ وعقوبتہٗ۔‘‘                                 (مشکوٰۃ:۲۵۳) ’’استطاعت رکھنے والے شخص کا (ادائیگیِ قرض)میں تاخیر کرنا اس کی بے آبروئی اور سزا دینے کو حلال کرتا ہے۔‘‘                                (مظاہر حق،ج:۳،ص:۱۳۲) احکام القرآن للجصاص میں ہے : ’’(وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَکُمْ رُؤُوْسُ أَمْوَالِکُمْ لَاتَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ)  یعنی(لَاتَظْلِمُوْنَ) بأخذ الزیادۃ ( وَلَاتُظْلَمُوْنَ)  بالنقصان من رأس المال، فدلّ ذٰلک علٰی أنہٗ متی امتنع من أداء جمیع رأس المال إلیہ کان ظالمًا لہٗ مستحقا بالعقوبۃ، واتفق الجمیع علٰی أنہٗ لایستحق العقوبۃ بالضرب، فوجب أن یکون حبسًا لاتفاق الجمیع علی أن ماعداہ من العقوبات ساقط عنہ فی أحکام الدنیا، وقد روی عن النبی a مثل ما دلت علیہ الأٰیۃ، وھو ما حدثنا محمد بن بکر۔۔۔ عن رسول اللّٰہ a قال: ’’لیّ الواجد یحلّ عرضہٗ وعقوبتہٗ۔‘‘  قال ابن المبارکؒ: ’’یحل عرضہٗ یغلظ لہٗ وعقوبتہٗ یحبس۔۔۔‘‘ وروی عن ابن عمرؓ وجابرؓ وأبی ہریرۃؓ عن النبی a أنہٗ قال: ’’مطل الغنی ظلم، وإذا أحیل أحدکم علی ملیء فلیحتل‘‘۔ فجعل مطل الغنی ظلمًا والظالم لا محالۃ مستحق العقوبۃ، وھی الحبس لاتفاقھم علی أنہٗ لم یرر غیرہٗ۔۔۔۔واختلف الفقھاء فی الحال التی توجب الحبس، فقال أصحابنا : إذا ثبت علیہ شیٔ من الدیون من أی وجہ ثبت فإنہٗ یحبس شھرین أو ثلاثۃ،  ثم یسأل عنہ  فإن کان موسرا ترکہٗ فی الحبس أبدا حتی یقضیہ، وإن کان معسرا خلّٰی سبیلہٗ،  وقال ابن أبی لیلٰی : ’’یحبسہٗ فی الدیون إذا أخبر إن عندہٗ مالا۔‘‘        (احکام القرآن للجصاص، ج:۱، ص:۶۴۹، ط:قدیمی) حاصلِ عبارت ۱:قرض دار سے اپنے سرمایہ سے زیادہ وصول کرنا ظلم ہے۔ ۲:قرض خواہ کو پورا قر ضہ ادا نہ کرنا بھی ظلم ہے۔ ۳:آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قرض خواہ کو پورا سرمایہ ادا نہ کرنے والا سزا کا مستحق ہے۔ ۴:فقہاء کا اتفاق ہے کہ بطور سزا ضعف قید کیا جاسکتا ہے ، مار پٹائی نہیں کی جاسکتی، اس لیے کہ دنیا میں اس سے باقی سزائیں ساقط ہیں۔ ۵:مالدار کا ٹال مٹول کرنا اس کی عزت کو پامال کرنے اور سزادینے کو حلال کردیتا ہے، حضرت عبد اللہ ابن مبارک v کے فرمان کے مطابق اس کے ساتھ سختی کرنا اور اسے قید کرنا جائز ہے۔ ۶:فقہاء کا اس میں اختلاف ہے کہ قرض دار کو کب قید کیا جاسکتا ہے؟ ہمارے اصحاب کا کہنا یہ ہے کہ جس پر تھوڑا قرض بھی ہو اور وہ اسے ادا نہ کرے تو اسے دو مہینہ قید کیا جائے گا۔ تفسیر القرآن للقرطبیؒ (ج:۳-۴، ص:۲۷۱، ط: الہیئۃ المصریۃ، بیروت)میں ہے:  ’’(وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَکُمْ رُؤُوْسُ أَمْوَالِکُمْ لَاتَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ،  وَإِنْ کَانَ ذُوْ عُسْرَۃٍ فَنَظِرَۃٌ إِلٰی مَیْسَرَۃٍ)’’ وَإِنْ کَانَ ذُوْ عُسْرَۃٍ‘‘ مع قولہ ’’وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَکُمْ رُؤُوْسُ أَمْوَالِکُمْ‘‘ یدل علٰی ثبوت المطالبۃ لصاحب الدین علی المدین،  وجواز أخذ مالہٖ بغیر رضاہ، ویدل علٰی أن الغریم متی امتنع من أداء الدین مع الإمکان کان ظالمًا؛ فإن اللّٰہ تعالٰی یقول:’’فَلَکُمْ رُؤُوْسُ أَمْوَالِکُمْ‘‘ فجعل لہٗ المطالبۃ  برأس مالہٖ ، فإذا کان لہٗ حق المطالبۃ فعلٰی من علیہ الدین لا محالۃ وجوب قضائہٖ ‘‘۔   دونوں آیتوں سے معلوم ہوا : ۱:قرض خواہ قرض دار سے اپنے قرض کا کسی بھی وقت کسی بھی طرح مطالبہ کر سکتاہے۔ ۲:اس کی رضا مندی کے بغیر بھی اس کا مال لے سکتا ہے۔ ۳:قرض خواہ کو مطالبے کا حق ہے اور قرض دار پر ادائیگی واجب ہے۔ فقہاء نے بیت المال کے لیے قرض لینے یا بیت المال سے قرض جاری کرنے کا جواز چند شرائط سے مشروط بتایا ہے، مثلاً: ۱:مصلحت عامہ ملحوظ ہو۔ ۲:ہر قسم کی توثیق اور اعتماد کا لحاظ ہو۔ ۳:قرض وصولی پر بھر پور قدرت بھی ہو۔ ۴:مجاز اتھارٹی کی اجازت یعنی قرض وصولی کے قانونی تقاضے پورے کیے جائیں۔ ۵:صرف ایسے لوگوں کو قرض جاری کیا جائے جو صاحب استطاعت اور امانت دار ہوں۔ ۶:ذاتی کاروبار کے فروغ کے لیے سرمایہ کاری کو قرضہ کی بنیاد بنانے والا نہ ہو۔ چنانچہ موسوعہ فقہیہ میں ہے: ’’الاستدانۃ من بیت المال و لبیت المال ونحوہ کالوقف: الأصل فی ذالک أن الاستدانۃ لبیت المال ومنہ جائزشرعًا، أما الاستدانۃ منہ فلما ورد أن أبابکرؓ استقرض من بیت المال سبعۃ آلاف درھم، فمات وھی علیہ، فأوصٰی أن تقضی عنہ، وقال عمرؓ: ’’إنی أنزلت نفسی من مال اللّٰہ منی بمنزلۃ مال الیتیم، إن احتجت إلیہ أخذت منہ، فإذا أیسرت قضیت‘‘۔ أما الاستدانۃ علٰی بیت المال فلما روٰی أبورافع أن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم استسلف من رجل بکرا، فقدمت علی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم إبل الصدقۃ، فأمر أبا رافع أن یقضی الرجل بکرہٗ، الحدیث۔ فھذہٖ استدانۃ علی بیت المال؛ لأن الرد کان من مال الصدقۃ، وکل ھذا یراعی فیہ المصلحۃ العامۃ، والحیطۃ الشدیدۃ فی توثیق الدین، والقدرۃ علٰی استیفائہ۔ ویشترط لذالک علی ماصرح بہ الحنفیۃ فی الوقف - وبیت المال مثلہ -أن یکون بإذن من لہ الولایۃ، وأن یکون الإقراض لملیء موتمن، وألایوجد من یقبل المال مضاربۃ، وألایوجد مستغلا تشتری بذالک المال‘‘۔   (الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ، مادۃ: الاستدانۃ، ج:۳،ص:۲۶۷، ۲۶۸،وزارۃ الاوقاف والشئون الاسلامیۃ الکویت) اسی طرح تمام فقہاء کا اس پر بھی اتفاق ہے کہ سرکاری ملک کو کسی بھی طور پر نقصان پہنچانا اور اُسے تلف کرنا یا ضائع کرنا قابل مواخذہ جرم ہے، ایسے مجرم سے قومی خزانے کے نقصان کی لازماً تلافی کرائی جائے گی، جیسا کہ موسوعہ کی مندرجہ ذیل عبارت سے واضح ہے: ’’لاخلاف بین الفقھاء فی أن من أتلف شیئًا من أموال بیت المال بغیر حق کان ضامنًا لما أتلفہٗ، وإن من أخذ منہ شیئًا بغیر حق لزمہٗ ردہٗ، أو رد مثلہٗ إن کان مثلیًّا، وقیمتہٗ إن کان قیمیًّا، وإنما الخلاف بینھم فی قطع ید السارق من بیت المال۔‘‘                                                 (أیضا، مادہ: بیت المال، ج:۸،ص:۲۶۲)   قومی خزانے کے مجرم کی پشت پناہی کا حکم   الغرض لوگوں کے انفرادی یا اجتماعی اموال، قرض یاکسی بھی نام سے ہتھیانے کے بعد استطاعت کے باوجود واپس نہ کرنا ،اس کا ضیاع واتلاف ہے اور یہ عمل خیانت ،غلول ،مطل(ٹال مٹول)اور ظلم وناانصافی کہلاتا ہے اور شرعاً قابل مواخذہ جرم ہے، ایسے شخص کے خلاف ہر قسم کی شرعی، اخلاقی اور قانونی کارروائی نہ صرف جائز ، بلکہ ضروری وواجب بھی ہے، ایسا شخص کسی قسم کی رعایت کا مستحق نہیں ہے اور اگر کوئی فرد ،ادارہ یاریاست ایسے مجرم کی پشت پناہی یا رعایت کی روادار ہو تووہ بھی شرعاً شریک جرم شمار ہوگی،نبی کریم a کاارشاد ہے: ’’من یکتم غالا فإنہٗ مثلہٗ۔‘‘                                           (مشکوٰۃ:۳۵۱) ’’جس شخص نے مال غنیمت میںخیانت کرنے والے کی خیانت کو چھپایا تو وہ بھی خیانت کرنے والے کی طرح ہے۔‘‘ اگر کوئی شخص سرکاری خزانے میں خیانت، غلول، غبن یا چوری کا مرتکب قرار پائے اور حاکم وقت اُسے رعایت اور معافی دینا چاہے تو اس کا یہ عمل بجائے خود خیانت شمار ہوگا اور حاکم کا یہ فعل ناجائز وجرم شمار ہوگا۔حاکم وقت‘سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے والے کی معافی کا قطعاً مجاز نہیں ہے۔ حضورa کے زمانے میں ایک شخص غلول کا مرتکب قرار پایا، پھر وہ بارہاآپ a کی خدمت میں معافی تلافی کے لیے حاضر ہوتا رہا، مگر آپ a نے اس کے اعتذار کو ناقابل سماعت قرار دیا: ’’لاأملک شیئًا، قد أبلغتک۔‘‘ (مشکوٰۃ: ۲۴۹) ’’میں کسی چیز کا مالک نہیں ہو، اپنی بات پہنچا چکا۔‘‘ ایک اور روایت میں فرمایا: ’’لیس لہٗ یوم القیامۃ إلا النار۔‘‘    (مشکوٰۃ : ۲۵۱) ’’اس کے لیے قیامت کے روز صرف جہنم کی آگ ہے ۔‘‘  معلوم ہوا کہ حضور aجس طرح اجتماعی اموال غنائم اور بیت المال کی تقسیم میں وحی کے پابند تھے، اسی طرح بیت المال میں غلول کے مرتکب کی معافی وتلافی اور عذر خواہی میں بھی وحی کے پابند تھے اور غلول وخیانت کے مرتکب کے لیے معافی کے مجاز نہ تھے ،ورنہ رحمۃللعالمینa کی رحمت وشفقت کا تقاضا تو یہی تھا کہ وہ معذور کی عذر خواہی کو رد نہ فرماتے ۔ اس سے بخوبی یہ اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ ایسے اموال جو’’ اجتماعی ملکیت‘‘ قرار پائے ہوں، ان اموال میں خیانت کرنے والے کو رحمۃ للعالمین،شفیع الامم ،بالمؤمنین رؤف رحیمaاگر معاف نہیں فرماسکتے توکسی مسلمان حاکم کو یہ اختیار کیسے حاصل ہوسکتا ہے کہ وہ ایسے مجرموں کو معاف کرے یا کسی کو بھی رعایت دے ؟ کیونکہ یہ معافی ورعایت کا معاملہ ذاتی مال میں تو ہو سکتا ہے، مگر قومی ملکیت جس کے آپ صرف نگران وامین ہیںمالک نہیںہیں ،شرعی اعتبار سے اس میں یہ اختیار قطعاً نہیں ہوسکتا۔ نتائجِ بحث 1:۔۔۔۔۔ بیت المال، غنائم، اموال الناس، قومی خزانہ اور دوسری سرکاری املاک پوری قوم کی مشترکہ ملک ہے، حاکم وقت‘ اس ملکیت کا نگران، امین،محافظ اور متولی ہوتاہے ۔ 2:۔۔۔۔۔حاکم وقت‘قومی خزانے میںصرف جائز تصرفات کا مجاز ہوتا ہے، ناجائز تصرفات پر خدا، خلق خدا اور شریعت وقانون کا مجرم شمار ہوتا ہے۔ 3:۔۔۔۔۔ضرورت کے وقت جائزمصارف میں خرچ کرنا جائز، بلکہ حاکم کی ذمہ داری ہے، مگر صوابدیدی عطایا،نوازشات کااُ سے اختیار نہیں ۔ 4:۔۔۔۔۔بوقتِ ضرورت،واقعی ضرورت مند افراد کو سرکاری خزانے سے قرض جاری کرسکتا ہے، مگر واپسی کی ذمہ داری اور ضمانت بادشاہِ وقت پر ہی عائد ہوتی ہے، اگر واپسی میں کوئی غفلت برتی تو خود بھی خیانت کا مرتکب ہوگا۔ 5:۔۔۔۔۔ایسے بااثر لوگ جو سرکاری خزانے یا عام لین دین میں بری شہرت رکھتے ہوں،انہیں سرکاری خزانے سے قرض دینابھی خیانت شمار ہوگا،کیونکہ عموماً ایسے لوگوںسے خیانت کا ظن غالب رہتا ہے اور ظن غالب وقوع پذیر امر کے حکم میں ہوتا ہے۔ 6:۔۔۔۔۔قرض لے کر واپس نہ کرنے والوں کو قرض دینا ناجائز ہے، ایسے لوگ کسی قسم کی عزت، رعایت اور نرم خوئی کے مستحق نہیںرہتے، یہ رعایتیں جب ان کا حق نہیں تو غیر حق دار کو نوازنا ایسا ہی ظلم و جرم ہے جیسے حق دار کو اس کے حق سے محروم کرنا ظلم و جرم ہے۔ 7:۔۔۔۔۔جو شخص قومی ملکیت یا خزانے میں خیانت ،غلول اور غبن کا مرتکب قرار پائے وہ معافی کا مستحق ہے، نہ حکومتِ وقت اُسے کسی قسم کی معافی دینے کی مجاز ہے۔ 8:۔۔۔۔۔جو لوگ قومی خزانے میں ناجائز تصرف، غیر قانونی استفادہ یا قرض لے کر ٹال مٹول کے مرتکب قرار پائیںوہ ظالم ہیں،ان کی حمایت ،پشت پناہی اور رعایتی سلوک بھی جرم وظلم ہی میں شمار ہوتا ہے۔ 9:۔۔۔۔۔قومی ملکیت اور خزانے سے کسی شکل میں ناجائز استفادہ ایسے کبائر گناہوں میں شمار ہوتا ہے، جن کے بارے میں’’ لیس لہم إلا النار‘‘ (ان کے لیے جہنم کی آگ کی سزا ہی ہوسکتی ہے)جیسی شدید وعید سنائی گئی ہے۔ 0:۔۔۔۔۔جو لوگ حکومت سے قرض لیتے ہیں ،پھر معاف کرالیتے ہیںاور بعض گروی رکھا ہوا سامان بھی اپنے اثر ورسوخ کی بنا پر اٹھا کے لے جاتے ہیں اور سرکار کے پاس قرض دی ہوئی رقم کی تلافی کے لیے کوئی شکل نہیںبچتی، ایسے لوگ تہرے جرم کے مرتکب شمار ہوں گے: الف:۔۔۔۔۔سرکاری خزانہ ،قومی ملکیت اور اموالِ ناس جنہیں اللہ کا مال بھی قرار دیا گیا ہے، اس میں خیانت ،غلول اور غبن کی تمام دفعات لاگو ہوں گی۔ ب:۔۔۔۔۔قرض لیتے ہوئے نیت میں فتور اوردل میں کھوٹ ہو اور رہن (گروی) رکھنا محض رسمی فریب ہو تویہ سب دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے، ایسے لوگ دھوکہ بازی کے مجرم بھی شمار ہوں گے، دھوکہ دینا ایمان کی علامتوں کی نفی کرتا ہے،ایسا شخص مسلمانوں کی فہرست میں شمار ہونے کا حقدار نہیں رہتا۔ ج:۔۔۔۔۔ہمارے ہاں عام لوگوں کو بھاری بھاری رقمیں قرض کے طور پر نہیں دی جاتیں، بلکہ یہ راستہ صرف ان لوگوں کے لیے کھلا رکھا گیا ہے، جو اپنے پس منظر میں گہرا اثر ورسوخ ،بڑی بڑی جاگیریں، وسیع کاروبار اور وافر سرمایہ رکھنے والے ہوتے ہیں، ایسے لوگ شرعی اعتبار سے غنی مالدار شمار ہوتے ہیں،اگر وہ اپنے سرمایہ سے زیادہ قرض لے لیںتو ان کا قرض چونکہ شرعاً اضطراری قرض نہیں بنتا، بلکہ پیداواری قرض ٹھہرتا ہے، اس لیے وہ ہرحال میں غنی( مالدار) ہی شمار ہوں گے اور اوپر تفصیل سے عرض ہوچکا کہ مالدار مقروض اگر قرض کی واپسی میں ٹال مٹول سے کام لے تو وہ ایسا ظالم ہے کہ اس کی ہر نوع کی بے آبروئی، اہانت ، سزاومواخذہ جائزہے، کیونکہ یہ شخص صاحب استطاعت ہونے کے باوجود ٹال مٹول کا مرتکب ہے، صاحبِ حیثیت مقروض کے لیے قرض کی واپسی نہ کرنے پر جتنی وعیدیں ،دنیا وآخرت کی سزائیں‘ احادیث میں وارد ہوئی ہیں ،ہمارے قومی خزانے کے مراعات یافتہ مقروض لوگ، ظالمانہ مطل(ٹال مٹول) کی وجہ سے ان تمام وعیدوں کے مستحق ومصداق قرار پائیں گے اور قومی خزانے کے ساتھ ان کا یہ ظالمانہ برتاؤ انہیں تہرے جرم کا مرتکب ٹھہرائے گا۔ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو امانت،دیانت،خوفِ خدا اور خوفِ آخرت کے بھلائے ہوئے اسباق یاد کرنے اور یاد رکھنے کی توفیق نصیب فرمائیں،آمین! وصلّٰی اﷲ علٰی سیدنا محمد وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ أجمعین

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے