بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ربیع الثانی 1441ھ- 06 دسمبر 2019 ء

بینات

 
 

قربانی کے نصاب کا معیار سونا یا چاندی؟

 

قربانی کے نصاب کا معیار سونا یا چاندی؟

فقہ حنفی میں قربانی کے وجوب کے لیے وہی نصاب مقررہے جو زکوٰۃ کی فرضیت کے لیے ہے، البتہ دونوں کے نصاب میں دو طرح کا بنیادی فرق ہے: الف:۔۔۔۔۔۔ قربانی کے نصاب کے لیے مال کا نامی ہونا ضروری نہیں، لہٰذا اگر کوئی شخص اپنے ذاتی ملکیتی گھر میں خود رہائش پذیر نہ ہو اور نہ ہی اس نے اُسے کرایہ پر دیا ہو تو اس گھر کو قربانی کے نصاب میں شمار کریں گے۔ ب:۔۔۔۔۔۔ قربانی کے وجوب کے لیے مال پر سال گزرنا شرط نہیں، جب کہ زکوٰۃ کے مال پر سال گزرنا شرط ہے، لہٰذا جس شخص کے پاس قربانی کے دنوں (دس ، گیارہ اور بارہ ذو الحجہ) میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی ہو تو اس پر قربانی واجب ہے۔ اگر کسی کے پاس روپے (کرنسی نوٹ)یا سامان تجارت ہو تو اس کی قیمت لگا کر دیکھا جائے گا کہ وہ نصاب کے بقدر ہے یا نہیں؟اگر نصاب کے بقدر ہے تو قربانی واجب ہوگی، ورنہ نہیں۔ سامانِ تجارت کی تقویم میں فقہاء کے اقوال سامانِ تجارت کی قیمت لگانے میں فقہائے کرام کے تین طرح کے اقوال ملتے ہیں: ۱:… مالک کو اختیار ہے کہ وہ سونا یا چاندی کے نصاب میں سے جسے چاہے معیار بنائے۔ یہ ظاہرالروایۃ ہے ۔ ۲:… سونا یا چاندی میں سے مالِ تجارت جس کے نصاب کو پہنچتا ہو‘ اُسے معیار بنایا جائے گا، کیوں کہ اس میں فقراء و مساکین کا فائدہ ہے۔ یہ نادر الراویۃ ہے۔ ۳:… سامانِ تجارت سونا یا چاندی میں سے جس چیز کے بدلے میں خریدا گیا ہے، اسی کومعیار بنایا جائے گا، لہٰذا اگر سامانِ تجارت دراہم کے بدلے خریدا جائے تو چاندی کا نصاب معیار ہوگا اور اگر دینار کے بدلے خریدا جائے تو سونے کا نصاب معیار ہوگا۔ چاندی کو معیارِ نصاب بنانے پر سوالات اس زمانہ میں سونا اور چاندی کے نصاب میں کافی فرق ہے۔ چاندی کے نصاب کو معیار بنانے کی وجہ سے اس شخص پر بھی قربانی واجب ہوگی جس کے پاس تقریباً پینتیس ہزار روپے یا ایک تولہ سونابمع کچھ رقم ہو۔ لیکن اگر سونے کے نصاب کو معیار بنایا جائے تو ان لوگوں پر قربانی واجب نہیں ہوگی، ایسی صورتِ حال میں ’’أنفع للفقرائ‘‘ کے اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے ان پر قربانی کے وجوب کا حکم لگایا جائے، یا صاحب مال کی رعایت کرتے ہوئے اُسے اختیار دیا جائے کہ وہ سونا چاندی میں سے جسے چاہے معیار نصاب بنائے؟ اس سلسلے میں کئی سوالات تحقیق طلب ہیں: کیا مالک کو اختیار دینے والی ’’ظاہرالروایۃ‘‘چھوڑ کر ’’أنفع للفقرائ‘‘ والی’’نادر الروایۃ‘‘ پر فتویٰ دینا درست ہے، جب کہ’’انفع للفقراء ‘‘ کی رعایت امام صاحب v کی محض ایک روایت ہے؟ شریعت نے حج جیسے فریضہ میں اس بات کا خیال رکھا ہے کہ حج اس شخص پر فرض ہوگا جس کے پاس حج کے لیے آنے جانے اور اہل و عیال کے خرچے کے ساتھ ساتھ اتنی رقم بھی ہو جس سے وہ حج کی واپسی پر کاروبار جاری رکھ سکے۔ اگر ایک ٹھیلے والا ، جس کے ٹھیلے پر چالیس ہزار کا سامان ہو، ایک متوسط بکرا بھی خریدے تو اس کی قیمت بیس ہزار روپے تک ہوگی، بقیہ روپوں میں اس کے لیے اپنا کاروبار جاری رکھنا ممکن نہیں، یہ شخص قربانی کیسے کرے گا؟ ان امورکومدنظررکھتے ہوئے یہ رائے سامنے آئی ہے کہ قربانی کے نصاب میں قربانی کرنے والے کو اختیار دیا جائے، جب کہ زکوٰۃ کے باب میں حسبِ سابق چاندی ہی معیار ٹھہرے، قربانی اور زکوٰۃ میں وجۂ فرق یہ ہے کہ زکوٰۃ کا مقصد غریبوں کی حاجت پوری کرنا ہے، لہٰذا اس میں’’أنفع للفقرائ‘‘ کی روایت پرہی عمل ہو ، جب کہ قربانی کا مقصد غریبوں کی ہمدردی نہیں، لہٰذا وہاں یہ معاملہ قربانی کرنے والے پر چھوڑ دیا جائے۔ سامانِ تجارت کی مطلق تقویم کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جس میں حضرت عمر q نے فرمایا تھا کہ سامان تجارت کی قیمت لگاؤ اور زکوٰۃ ادا کرو۔(۱) ان تمام سوالات کے جواب میں درج ذیل نکات پیش خدمت ہیں: ۱:… نصاب کی تعیین میں ’’أنفع للفقرائ‘‘ کی رعایت حنفی کتب فقہ اور کتب فتاویٰ اس بات پر متفق ہیں کہ سامانِ تجارت کی تقویم میں ’’أنفع للفقرائ‘‘ کی رعایت کرتے ہوئے ’’نادر الروایۃ‘‘ پر فتویٰ دیا جائے گا ۔(۲) ۲:…سامانِ تجارت کی تقویم میں مالک کو کب اختیار ہے؟ سامانِ تجارت کی قیمت لگانے میں مالک اس وقت مختار ہے جب سامان سونا اور چاندی دونوں کی قیمت کے حساب سے نصاب کو پہنچتا ہو۔ اگر کسی ایک کے حساب سے نصاب مکمل ہو دوسرے کے حساب سے مکمل نہ ہو تو اسی کے ذریعہ قیمت لگانا ضروری ہے جس سے نصاب کی تکمیل ہو۔ اس صورت میں مالک کو اختیار نہیں دیا جائے گا۔(۳) ۳:… کیا نادر الروایۃ پر فتوی دیا جاسکتا ہے؟ علامہ شامی v نے ’’شرح عقود رسم المفتی‘‘ میں اس پہلوکو تفصیل سے بیان کیا ہے کہ اگر کسی ’’نادرالروایۃ‘‘ کی تصحیح موجود ہو تو اس تصحیح کا اعتبار کرکے اس پر فتویٰ دینا درست ہے ۔(۴) علامہ انور شاہ کشمیری v نے فیض الباری میں لکھا ہے کہ: جب کسی مسئلہ میں امام ابو حنیفہ v سے کئی روایات ہوں تو اکثر مشائخ کا یہ دستور ہے کہ وہ ’’نادر الروایۃ‘‘ کو چھوڑ کر’’ظاہر الروایۃ‘‘کو لیتے ہیں ، یہ طریقہ میرے نزدیک درست نہیں، خاص طور پر جب کسی حدیث سے ’’نادر الروایۃ‘‘کی تائید ہوتی ہو، میں ایسی صورت میں اس حدیث کو’’نادر الروایۃ ‘‘پر محمول کرتاہوں اور اس کی کوئی پرواہ نہیں کرتا کہ وہ’’نادرالروایۃ‘‘ہے، کیوں کہ جب امام ابوحنیفہ v کی جانب سے کوئی روایت منقول ہو تو ان کے پاس اس پر حدیث یا کوئی اور دلیل لازمی ہوگی،پھر جب مجھے اس کے موافق حدیث مل جاتی ہے تو میں اسے اس حدیث پر ہی محمول کرتا ہوں ۔(۵)  لہٰذا جب اکابر علمائے کرام نے ’’انفع للفقرائ‘‘والی روایت پر فتویٰ دیا ہے اور اس کی تصحیح کی ہے تو اس پرفتویٰ دینا درست ہے۔ ۴:… ’’أنفع للفقرائ‘‘ امام صاحب v کا مذہب ہے ’’أنفع للفقراء ‘‘کی پابندی امام صاحبv کی محض ایک روایت نہیں ، بلکہ ان کا مذہب ہے، ’’تبیین الحقائق‘‘(۶)’’النہر الفائق‘‘(۷)اور’’الجوہرۃ النیرۃ‘‘(۸)میں اسے امام صاحب v کا مذہب قرار دیا گیاہے،’’المحیط البرہانی‘‘میں ہے کہ یہ امام محمد v کی بھی ایک روایت ہے۔(۹) ۵:… ’’أنفع للفقراء ‘‘کی پابندی میں احتیاط ہے قربانی کے سلسلے میں احتیاط اسی میں ہے کہ مالِ تجارت کی تقویم میں سونا اور چاندی میں سے وہ چیز معیار ٹھہرائی جائے جس سے نصاب مکمل ہوجائے۔ مالک کو اختیار نہ دیا جائے۔ مالک کو اختیار وہاں دیا جاتا ہے جہاں دونوں نصاب پورے ہورہے ہوں۔ اگر صرف چاندی کا نصاب پورا ہورہا ہے، سونے کا پورانہیں ہورہا تو یہاں مالک کو اختیار دینے کی بجائے قربانی کے وجوب کا حکم دیا جانا متعین ہے۔ کیوں کہ عبادات، معاملات سے زیادہ احتیاط کے متقاضی ہوتے ہیں، ’’أنفع للفقرائ‘‘والی روایت میں احتیاط ہے، لہٰذا اسی پر فتویٰ دیا جائے گا، موجودہ زمانہ میں جب کہ عوام دینی احکامات کی بجاآوری میں سستی کا شکار ہیں ، ایسے موقع پر اُنہیں رخصتیں فراہم کرنا شریعت کے اُصولوں کے منافی اور خلافِ حکمت معلوم ہوتا ہے۔ ۶:… چاندی کے نصاب کا مالک شریعت کی نگاہ میں مالدار ہے چاندی کا نصاب ساڑھے باون تولہ ہے۔ اگر کسی شخص کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی ہو تو وہ شریعت کی نظر میں مالدار ہے۔ اب اگر اس کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کا مالِ تجارت ہو یا اتنی مالیت کی نقدی (کرنسی)ہو تو اُسے مالدار شمار نہ کرنا خلافِ مشروع ہے۔ :… اقل نصاب کے مالک کے لیے قربانی کی ممکنہ صورتیں یہ ضروری نہیں کہ جس شخص کے پاس چالیس ہزار روپے ہو وہ اس بات پر مجبو ر ہو کہ آدھی رقم سے قربانی کرے، کیوں کہ متوسط قسم کا بکرا دس سے بارہ ہزار روپے تک مل سکتا ہے، پھر قربانی میں بکرے کی جنس سے قربانی کرنا بھی لازم نہیں، بلکہ وہ گائے میں حصہ دار بن کر بھی یہ واجب ادا کرسکتا ہے۔ شہر کراچی میں گائے کے ایک حصہ کی قیمت ۸سے ۹ہزار روپے تک ہے۔نیز اگر واجب کی ادائیگی مقصود ہو تو شمالی علاقہ جات میں بعض مقامات پر ۳سے ۴ہزار روپے میں حصہ ڈال کر بھی قربانی کی جاسکتی ہے۔ بعض ذرائع سے معلوم ہواہے کہ بھارت میں گائے کی قربانی کا ایک حصہ تقریباً سترہ سو پاکستانی روپے کا مل جاتاہے۔ قربانی اور حج میں فرق قربانی کو حج پر قیاس کرنا درست نہیں، کیوں کہ قربانی کے سلسلے میں جو روایات ہیں، اس میں ’’سعۃ‘‘کا لفظ ہے۔ قربانی نہ کرنے والوں کے لیے جس طرز کی وعید وارد ہوئی ہے، اس کا سیاق و سباق یہی بتاتا ہے کہ اس گنجائش سے ادنیٰ درجہ کی گنجائش مراد ہے، انتہائی درجہ کی گنجائش مراد نہیں۔ اس کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ زکوٰۃ کی بہ نسبت قربانی کے نصاب میں زیادہ گنجائش نہیں دی گئی، کیوں کہ قربانی کے نصاب کا نامی ہونا اور اس پر سال گزرنا ضروری نہیں، جب کہ حج کے بارے میں وارد روایات میں خود زَاد اور رَاحلہ کی تفصیل ہے، اس میں گنجائش خود شارع نے دی ہے۔ نیز حج کے لیے انسان اپنا گھر بار چھوڑ کرجاتا ہے، اس لیے حج کی فرضیت کے لیے اتنا مال ہونا ضروری ہے جس سے وہ اپنے سفر کے اخراجات پورے کرسکے۔ گھر والوں کے لیے اتنا مال چھوڑ کر جائے جس سے اس کے گھر والے اپنی ضروریات پوری کرسکیں اور اگر وہ کاروباری شخص ہے تو اس کے پاس اتنی زائد رقم بھی ہوجس سے اس کے لیے حج سے واپسی پر ایسا کام جاری رکھنا ممکن ہو، جس سے وہ اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے ضروری اخراجات پورے کرسکے۔ ٹھیلے والااگر چالیس ہزار روپے میں سے دس ہزار بھی قربانی میں خرچ کردے تو بقیہ ۳۰ ہزار سے بآسانی اپنے گھر والوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کام جاری رکھ سکتا ہے۔(۱۰) ۹:…سونے کو نصاب مقرر کرنے میں خرابی سونے کا نصاب تقریباً چار لاکھ روپے بنتا ہے، جو بہت زیادہ ہے، اگر اُسے معیار بنایا گیا تو بہت سے ان لوگوں پر قربانی واجب نہیں ہوگی جو قربانی کی وسیع قدرت رکھتے ہیں، یوں قربانی صرف بہت زیادہ امیر لوگوں پر ہی واجب ہو کر رہ جائے گی۔  ۱۰:…  زکوٰۃ کے سلسلے میں مالِ تجارت کی مطلق تقویم کے بارے میں روایات کا محمل حضرت عمر q سے مروی روایت کامقصد یہ نہیں تھا کہ ہر صورت میں مالک کو اختیار ہے۔ حدیث کا منشأ سمجھنے کے لیے اس زمانے کے حالات کو پیش نظر رکھنا ہوگا، یہ اس زمانہ کی بات ہے جب سونا اور چاندی کے نصاب کی قیمت قریب قریب تھی، کیوں کہ نبی کریم a اور حضرت عمر q کے دور میںدونوں کے نصاب کی قیمت میں زیادہ تفاوت نہیں تھا، لہٰذاحضرت عمر q نے مطلقاً تقویم کا حکم دیا، کیوں کہ اس سے فرق نہیں پڑتا، جب کہ اس زمانہ میںدونوں کی قیمتوں میں کافی تفاوت آچکا ہے، اور دن بدن مزید آرہا ہے، اس لیے سونے کے نصاب کو معیار بنانے کے لیے موجودہ دور میں اس روایت سے استدلال کرنا درست نہیں۔ ۱۱:…زکوٰۃ اور قربانی دونوں کا مقصد غرباء کی حاجت برآری ہے زکوٰۃ اور قربانی میں فرق کرنے کے لیے یہ عذر پیش کیا گیا ہے کہ زکوٰۃ کا مقصد غریبوں کی حاجت کو پورا کرنا ہے ، جب کہ قربانی کی یہ غرض نہیں۔ یہ فرق درست نہیں ، کیوں کہ جس طرح زکوٰۃ کے ذریعے غریبوں کی مالی امداد و اعانت کی جاتی ہے ، اسی طرح قربانی بھی ان کے ساتھ مدد کا ایک اہم ذریعہ ہے، یہی وجہ ہے کہ قربانی کے گوشت کی ایک تہائی رشتہ داروں میں اور ایک تہائی عام غریبوں میں تقسیم کرنا مستحب ہے اور اس کی کھال صدقہ کی جاتی ہے۔ ۱۲:… قربانی اور زکوٰۃ کے نصاب میں فرق نہ کیا جائے زکوٰۃ اور قربانی کا ایک ہی نصاب ہے، جب قربانی میں سونے کے نصاب کو معیار بنایا جائے گا تو زکوٰۃ میں اُسے معیار نہ بنانے کی کوئی معقول وجہ سمجھ نہیں آتی ، جب کہ قربانی کے نصاب کے سلسلے میں ذکرکردہ تمام روایات زکوٰۃ ہی سے متعلق ہیں ۔ اس طرح یہ بات زکوٰۃ کے باب میں بھی سونے کو معیار بنانے کا پیش خیمہ ثابت ہوگی، جس کی وجہ سے بظاہربہت سے فقراء اور مستحقینِ زکوٰۃ مالی امداد اور تعاون سے بھی محروم ہوجائیں گے۔ ۱۳:…متقدمین اور متاخرین کی ترجیحات متقدمین ومتاخرین، قدیم و جدید تمام فقہائے حنفیہ نے نوادر کی ’’أنفع للفقرائ‘‘ والی روایت پر فتویٰ دیا ہے۔ یہ ایک قسم کا اجماع ہے۔ اس کے خلاف فتویٰ دینا درست نہیں۔ اسی بنیاد پر ہمارے اکابر نے بھی اسی روایت پر فتویٰ دیا ہے ۔ ۱۴:… قربانی کے ساتھ ملحق دیگر احکام میں بھی سونے کو معیار بنانا قربانی، صدقۂ فطر، زکوٰۃ کا مستحق ہونے اور رشتہ داروں کا نفقہ ذمہ پر واجب ہونے کا ایک ہی نصاب ہے ، جب قربانی کے وجوب کے لیے سونے کے نصاب کو معیار بنائیں گے تو صدقۂ فطر بھی صرف اس شخص پر واجب ہوگا جس کے پاس ساڑھے سات تولہ سونے کی مالیت (تقریباً چار لاکھ روپے)ہو، جس کے پاس اتنی رقم نہ ہو‘ اس پر صدقۂ فطر واجب نہ ہوگا، اس کے لیے زکوٰۃ لینا بھی جائز ہوگا اور اس پر اس کے غریب ، نادار رشتہ داروں کا نفقہ بھی واجب نہ رہے گا۔(۱۱) خلاصۂ کلام یہ ہے کہ موجودہ احوال میں قربانی کے وجوب کے سلسلے میں ’’أنفع للفقرائ‘‘کی روایت پر ہی بدستور فتویٰ دیا جائے، جیساکہ اسی روایت پر تمام فقہاء کرام اب تک فتویٰ دیتے چلے آرہے ہیں۔ تقویم میں مالک کو اختیار نہ دیا جائے۔ حوالہ جات ۱:… عن أبی عمرو بن حماس قال : کان حماس یبیع الأدم والجعاب ، فقال لہ عمرؓ:أدِّ زکاۃ مالک ۔قال:إنما مالی فی جعاب وأدم، فقال:قوَّمہ وأدَّ زکاتہٗ ۔ (السنن الصغری للبیہقی،کتاب الزکاۃ ، باب زکاۃ التجارۃ، ج: ۳، ص: ۱۹۸، ط:مکتبۃ الرشد) ۲:… (أو ) فی (عرض تجارۃ قیمتہ نصاب ) (من ذہب أو ورق ) (مقوّما بأحدہما ) إن استویا فلو أحدہما أروج تعین التقویم بہ ولو بلغ بأحدہما نصابًا دون الآخر تعین ما یبلغ بہ ولو بلغ بأحدہما نصابًا وخمسًا وبالآخر أقل قومہ بالأنفع للفقیر، سراج ۔ و فی الرد: قولہ (من ذہب أو ورق ) بیان لقولہ نصاب وأشار ب’’أو‘‘ إلٰی أنہٗ مخیر إن شاء قومہا بالفضۃ وإن شاء بالذہب لأن الثمنین فی تقدیر قیم الأشیاء بہما سواء ، بحر لکن التخییر لیس علٰی إطلاقہٖ کما یأتی  قولہ (مقوّما بأحدہما ) تکرار مع قولہٖ من ذہب أو ورق لأن معناہما التخییر ومحل التخییر إذا استویا فقط أما إذا اختلفا قوّم بالأنفع اہ ح  قولہ (تعین التقویم بہ) أی إذا کان یبلغ بہٖ نصابًا لما فی النہر عن الفتح یتعین ما یبلغ نصابًا دون ما لا یبلغ فإن بلغ بکل منہما وأحدہما أروج تعین التقویم بالأروج۔ (الدر المختار مع رد المحتار،کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال ، ج: ۲، ص:۲۹۹ ، ط:سعید) (قولہ وتفسیر الأنفع أن یقومہا بما بلغ نصابًا )صرح المصنف باختلاف الروایۃ وأقوال الصاحبین فی التقویم أنہٗ بالأنفع عینا أو بالتخییر أو بما اشتری بہٖ إن کان من النقود وإلا فبالنقد الغالب أو بالنقد الغالب مطلقًا ۔ثم فسر الأنفع الذی ہو أحدہا بأن یقوم بما یبلغ نصابًا ، ومعناہ أنہ إذا کان بحیث إذا قومہا بأحدہما لا تبلغ نصابًا والآخر تبلغ تعین علیہ التقویم بما یبلغ فأفاد أن باقی الأقوال یخالف ہذا ولیس کذلک ، بل لا خلاف فی تعین الأنفع بہذا المعنی علی ما یفیدہٗ لفظ النہایۃ والخلاصۃ ۔ قال فی النہایۃ فی وجہ ہذہ الروایۃ :إن المال کان فی ید المالک ینتفع بہ زمانًا طویلا فلا بد من اعتبار منفعۃ الفقراء عند التقویم ، ألا تری أنہٗ لو کان یقومہ بأحد النقدین یتم النصاب وبالآخر لا فإنہٗ یقومہ بما یتم بہ النصاب بالاتفاق فہذا مثلہٗ انتہٰی ۔ وفی الخلاصۃ قال :إن شاء قومہا بالذہب وإن شاء بالفضۃ وعن أبی حنیفۃ أنہٗ یقوم بما ہو الأنفع للفقراء وعن أبی یوسفؒ یقوم بما اشتری ، ہذا إذا کان یتم النصاب بأیہما قوم ، فلو کان یتم بأحدہما دون الآخر قوم بما یصیر بہٖ نصابًا انتہٰی ۔ فإنما یتجہ أن یجعل ما فسر بہٖ بعض المراد بالأنفع ، فالمعنی یقوم المالک بالأنفع مطلقًا فیتعین ما یبلغ بہٖ نصابًا دون ما لا یبلغ : فإن بلغ بکل منہما وأحدہما أروج تعین التقویم بالأروج ، وإن استویا رواجًا حینئذ یخیر المالک کما یشیر إلیہ لفظ الکافی  ہذا والمذکور فی الأصل المالک بالخیار إن شاء قومہا بالدراہم وإن شاء بالدنانیر من غیر ذکر خلاف ، فلذا أفادت عبارۃ الخلاصۃ التی ذکرناہا والکافی أن اعتبار الأنفع روایۃ عن أبی حنیفۃ ، وجمع بین الروایتین بأن المذکور فی الأصل من التخییر ہو ما إذا کان التقویم بکل منہما لا یتفاوت۔ (فتح القدیر ،کتاب الزکاۃ ، فصل فی العروض، ج: ۲،ص: ۱۶۷، ط:رشیدیۃ) ۳:… و جمع بینہما بحمل ما فی الأصل علی ما إذا کان التقویم بکل منہما لایتفاوت ، و تفسیر الأنفع أن یقومہا بما تبلغ نصابًا، وعن الثانی بما إذا اشتری إن کان الثمن من النقود و إلا فبالنقد الغالب ، و عن محمد بالنقد الغالب علی کل حال ، کذا فی الہدایۃ، و علیہ جری الشیخ و غیرہ و ہو مخالف لما فی النہایۃ من أنہ إن کان تقویمہٗ بأحد النقدین یتم بہ النصاب و بالآخر لا ، قوّمہا بما یتمّ بہٖ اتفاقا ، و فی الخلاصۃ إن شاء قوّمہا بالذہب أو بالفضۃ و عن الإمام أنہٗ یقوّمہا بما اشتری، ہذا إذا کان یتمّ النصاب بأیہما تقوم فلو کان یتمّ بأحدہما دون الآخر قوّم بما یصیر بہٖ نصابًا ، و علیہ فلا یصح تفسیر الأنفع بما ذکر إذ باقی الأموال لا یخالف ہذا، نعم یتجہ جعلہٗ تفسیرًا لبعض المراد بالأنفع ، فالمعنی : یقوّم المالک بالأنفع مطلقًا فیتعین ما یبلغ بہٖ نصابًا دون ما لا یبلغ فإن بلغ بکل منہما و أحدہما أروج تعین التقویم بالأروج و إن استویا رواجًا خیّر المالک، کذا فی الفتح۔ (النہر الفائق، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال، ج: ۱،ص:۴۴۱ ، ط:دارالکتب العلمیۃ ) وإذا کان تقدیر النصاب من أموال التجارۃ بقیمتہا من الذہب والفضۃ وہو أن تبلغ قیمتہا مقدار نصاب من الذہب والفضۃ فلا بد من التقویم حتی یعرف مقدار النصاب ثم بماذا تقوم ؟ ذکر القدوری فی شرحہ مختصر الکرخی أنہٗ یقوم بأوفی القیمتین من الدراہم والدنانیر حتی إنہا إذا بلغت بالتقویم بالدراہم نصابًا ولم تبلغ بالدنانیر قومت بما تبلغ بہ النصاب وکذا روی عن أبی حنیفۃ فی الأمالی أنہٗ یقومہا بأنفع النقدین للفقراء  ومشایخنا حملوا روایۃ کتاب الزکاۃ علی ما إذا کان لا یتفاوت النفع فی حق الفقراء بالتقویم بأیہما کان جمعًا بین الروایتین وکیفما کان ینبغی أن یقوم بأدنٰی ما ینطلق علیہ اسم الدراہم أو الدنانیر وہی التی یکون الغالب فیہا الذہب والفضۃ ، وعلٰی ہٰذا إذا کان مع عروض التجارۃ ذہب وفضۃ فإنہٗ یضمہا إلی العروض ویقومہ جملۃ۔ (بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع، کتاب الزکاۃ، ج: ۲،ص:۱۹ ، ط:دارالکتاب العربی، بیروت) وأشار بقولہٖ ورق أو ذہب إلٰی أنہٗ مخیر إن شاء قومہا بالفضۃ ، وإن شاء بالذہب ؛ لأن الثمنین فی تقدیر قیم الأشیاء بہما سواء ، وفی النہایۃ لو کان تقویمہٗ بأحد النقدین یتم النصاب وبالآخر لا فإنہٗ یقومہ بما یتم بہ النصاب بالاتفاق ا ہـ ۔وفی الخلاصۃ أیضا ما یفید الاتفاق علی ہذا وکل منہما ممنوع فقد قال فی الظہیریۃ رجل لہ عبد للتجارۃ إن قوم بالدراہم لا تجب فیہ الزکاۃ، وإن قوم بالدنانیر تجب فعند أبی حنیفۃ یقوم بما تجب فیہ الزکاۃ دفعًا لحاجۃ الفقیر وسدا لخلتہٖ، وقال أبو یوسفؒ:یقوم بما اشتری فإن اشتراہ بغیر النقدین یقوم بالنقد الغالب اہـ۔ فالحاصل أن المذہب تخییرہٗ إلا إذا کان لا یبلغ بأحدہما نصابًا تعین التقویم بما یبلغ نصابًا ، وہو مراد من قال یقوم بالأنفع ولذا قال فی الہدایۃ وتفسیر الأنفع أن یقومہا بما یبلغ نصابًا۔(البحرالرائق ، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال، ج: ۲،ص:۲۲۹ ، ط:سعید) (قولہٗ وعن أبی یوسف أنہٗ یقومہا إلخ ) رواہ عنہ محمدؒ قال فی الغایۃ وعنہ التخییر وہو محمول علی ما إذا لم یکن بینہما تفاوت ا ہـ۔ (حاشیۃ الشلبی علی تبیین الحقائق، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال، ج: ۲،ص:۷۷-۷۸، ط:سعید)     ۴:…         علم بأن الواجب اتباع ما        ترجیحہٗ  عن  أہلہٖ  قد  علما             أو کان ظاہر الروایۃ و لم         یرجحوا خلاف ذاک فاعلم  و قولی أو کان ظاہر الروایۃ الخ معناہ أن ما کان من المسائل فی الکتب التی رویت عن محمد بن الحسن روایۃ ظاہرۃ یفتی بہٖ و إن لم یصرحوا بتصحیحہٖ، نعم لو صححوا روایۃ أخری من غیر کتب ظاہر الروایۃ یتبع ما صححوہ، قال العلامۃ الطرطوسی فی أنفع الوسائل فی مسئلۃ الکفالۃ إلٰی شہر:إن القاضی المقلد لا یجوز لہٗ أن یحکم إلا بما ہو ظاہر الروایۃ لا بالروایۃ الشاذۃ إلا أن ینصوا علی الفتوی علیہا ، انتہی۔ (شرح عقود رسم المفتی  ص:۵و۱۱، ط:مرکز توعیۃ الفقہ الاسلامی، الہند) ۵:… فائدۃ: واعلم أن الروایات إذا اختلفت عن إمامنا فی مسألۃ، فعامۃ مشایخنا یسلکون فیہا مسلک الترجیح، فیأخذون بظاہر الروایۃ ویترکون نادرہا، ولیس بسدید عندی ولا سیما إذا کانت الروایۃ النادرۃ تتأید بالحدیث، فإنی أحملہٗ علی تلک الروایۃ، ولا أعبأ بکونہا نادرۃ، فإن الروایۃ إذا جاء ت عن إمامنا رحمہ اللّٰہ تعالٰی لا بد أن یکون لہا عندہٗ دلیل من حدیث أو غیرہٖ، فإذا وجدت حدیثا یوافقہا أحملہ علیہا۔ (فیض الباری، کتاب الصلاۃ، باب إذا ذکر فی المسجد أنہ جنب، ج: ۱، ص:۴۶۵ ،  ط: دارالکتب العلمیۃ) ۶:…واعتبار الأنفع مذہب أبی حنیفۃ ومعناہ یقوم بما یبلغ نصابًا إن کان یبلغ بأحدہما ولا یبلغ بالآخر احتیاطًا لحق الفقرائ۔ (تبیین الحقائق ، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال ، ج: ۲، ص:۷۷-۷۸،  ط:سعید) ۷:…و عن الإمام فی روایۃ النوادر یقوّمہا بالأنفع للفقراء وجعلہ الشارح مذہب الإمام۔ (النہر الفائق، کتاب الزکاۃ، باب زکاۃ المال، ج: ۱،ص: ۴۴۱، ط:دارالکتب العلمیۃ ) ۸:…(قولہٗ یقومہا بما ہو أنفع للفقراء والمساکین ) تفسیر الأنفع أن یقومہا بما یبلغ نصابًا عند أبی حنیفۃ۔ (الجوہرۃ النیرۃ ، کتاب الزکاۃ ، باب زکاۃ العروض ، ص:۱۶۰، ط:میر محمد ) ۹:… وعن أبی حنیفۃؒ أنہ یقوم بما فیہ إیجاب الزکاۃ، حتی إذا بلغ بالتقوم بأحدہما نصابًا ولم یبلغ بالآخر قوم بما یبلغ نصابًا، وہو إحدی الروایتین عن محمد۔ (المحیط البرہانی،کتاب الزکاۃ، الفصل الثالث، ج: ۲، ص:۴۳۲ ، ط: دار إحیاء التراث العربی) ۱۰:… وحرر فی النہر أنہٗ یشترط بقاء رأس مال لحرفتہٖ إن احتاجت لذلک وإلا لا مال لحرفتہٖ ) و فی الرد قولہٗ (اشترط بقاء رأس کتاجر ودہقان ومزارع کما فی الخلاصۃ ورأس المال یختلف باختلاف الناس بحر، قلت: والمراد ما یمکنہ الاکتساب بہٖ قدر کفایتہٖ وکفایۃ عیالہٖ لا أکثر لأنہٗ لا نہایۃ لہٗ۔ (الدر المختار مع رد المحتار ،کتاب الحج، ج: ۲،ص: ۴۶۲، ط:سعید) وأشار بقولہٖ وما لا بد منہ إلٰی أنہٗ لا بد أن یفضل لہٗ مال بقدر رأس مال التجارۃ بعد الحج إن کان تاجرًا وکذا الدہقان والمزارع أما المحترف فلا کذا فی الخلاصۃ ورأس المال یختلف باختلاف الناس۔ (البحر الرائق شرح کنز الدقائق ، کتاب الحج، ج: ۲، ص:۳۳۷ ، طبع: دار المعرفۃ) ۱۱:… (وبہٖ )أی بہذا النصاب (تحرم الصدقۃ ) کما مر وتجب الأضحیۃ ونفقۃ المحارم علی الراجح وفی الرد: قولہٗ (تحرم الصدقۃ )أی الواجبۃ أما النافلۃ فإنما یحرم علیہ سؤالہا وإذا کان النصاب المذکور مستغرقًا بحاجتہٖ فلا تحرم علیہ الصدقۃ ولا یجب بہٖ ما بعدہا قولہٗ (کما مر ) أی فی قولہٖ أیضا وغنی قولہ ( ونفقۃ المحارم ) أی الفقراء العاجزین عن الکسب أو الإناث إذا کن فقیرات وقید بہم لإخراج الأبوین الفقیرین فإن المختار أن یدخلہما فی نفقتہٖ إذا کان کسوبا۔(الدر المختار مع رد المحتار ، کتاب الزکاۃ، باب صدقۃ الفطر، ج:۲، ص:۳۶۰، ط: سعید)

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے