بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ربیع الاول 1442ھ- 20 اکتوبر 2020 ء

بینات

 
 

قرآنی آیات کے پس منظر کی حقیقت اور غامدی صاحب کا فکری انحراف!


قرآنی آیات کے پس منظر کی حقیقت اور غامدی صاحب کا فکری انحراف!

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
محترم ڈاکٹر غامدی اکثر پس منظر کی بات کرتے ہیں، حتیٰ کہ قرآنی آیات تک کے بارے میں۔ جناب والا! آج کے پس منظر میں موسیقی کی اجازت کیسے دی جاسکتی ہے؟ ذرا وضاحت فرمائیں۔ 
 مستفتی:شجاع الرحمن
الجواب باسمہٖ تعالٰی
واضح رہے کہ قرآن کریم کی متعدد آیات اپنا واقعاتی پس منظر رکھتی ہیں، جنہیں مفسرین کی اصطلاح میں اسبابِ نزول یا شانِ نزول کہا جاتا ہے۔ اس موضوع پر مستقل تالیفات بھی موجود ہیں اور تقریباً تمام تفاسیر میں ایسی آیات کے بارے میں پس منظر کی نشاندہی کے ساتھ بحث بھی ہوتی ہے، لیکن مخصوص پس منظر والی آیات کے افادات کو محض اس کے خاص پسِ منظر تک محدود ماننے کا نظریہ قطعی غلط ہے۔ غامدی صاحب یا اس ڈگر کے فکری منحرف حضرات‘ قرآنی احکام کو محدود یا معطل کرنے کے باطل نظریے کے تحت آیات کے واقعاتی پس منظر کے کلمۂ حق سے باطل مدعا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، چنانچہ غامدی صاحب جیسے لوگوں کا قرآنی آیات کے پس منظر کی بات اور مفسرین کے ہاں اسبابِ نزول کی بحث میں باطل اور حق کا فرق ہے۔ 
غامدی صاحب جیسے لوگ جب پس منظر کی بات کریں تو وہ اپنے باطل مدعا کو ثابت کرنے کے لیے کرتے ہیں، اس لیے عوام وخواص کو یہ سمجھنا چاہیے کہ قرآنی احکام کا مدار علتوں، حکمتوں اور احکام کے نزول کے حادثاتی اسباب پر موقوف نہیں ہے، بلکہ قرآن کے احکام قیامت تک کے لیے ہیں، الا یہ کہ کسی حکم کی تحدید نص سے ثابت ہوجائے، چنانچہ حج وعمرہ کے طواف میں ابتدائی تین چکروں کے دوران رمل کرنے کی ابتداء اگرچہ خاص پس منظر کی وجہ سے تھی، لیکن بعد میں بھی اس حکم کو باقی رکھا گیا، اسی طرح صفا ومروہ کی سعی کے دوران ایک مخصوص مقام پر دوڑ کے چلنا، رمی، جمار وغیر اُمور کے خاص اسباب تھے، لیکن ان کو قیامت تک کے لیے اسی طرح باقی رکھا گیا، اسی طرح بہت سی آیات کے خاص اسبابِ نزول تھے، لیکن باجماعِ امت ’’العبرۃ لعموم اللفظ لا لخصوص السبب‘‘ یعنی الفاظ کے عموم کا اعتبار ہوتا ہے، سبب اور پس منظر کا اعتبار نہیں ہوتا۔ متعدد مفسرین نے تو اس بنیادی اصول کے پیشِ نظر یہاں تک ارشاد فرمایا ہے کہ کسی بھی آیت کے بارے میں پس منظر تلاش کرنا، بیان کرنا اور آیات کو کسی پس منظر کے ساتھ خاص قرار دینا قرآن کی عمومی دعوت کے مقاصد کے منافی ہے، اس لیے قرآنی آیات کے اسبابِ نزول کو موضوع بنانے کی ضرورت ہی نہیں ہے، الا یہ کہ جہاں آیات کا مفہوم پس منظر کی وضاحت کے بغیر پورا نہ ہوسکے، اور ایسی صورت میں پس منظر‘ آیات کی وضاحت میں معاون تو سمجھا جاسکتا ہے، مگر آیت کو اس پس منظر تک محدود نہیں سمجھا جائے گا، بلکہ اس کے عمومی افادی پہلو کو بہرحال ملحوظ رکھا جائے گا۔1
 لہٰذا غامدی صاحب کا اسلامی احکام کو ایک خاص پس منظر تک محدود ماننا زیغ وضلال کے سوا کچھ نہیں ہے۔
باقی اسلام میں بڑی سختی کے ساتھ موسیقی سننے سے منع کیا گیا ہے اور حرام کہا جاتا ہے۔ بیسیوں احادیث میں موسیقی سننے کی ممانعت وارد ہوئی ہے۔ موسیقی سننے کی ممانعت جس طرح ابتدائے اسلام میں تھی وہ ممانعت آج بھی باقی ہے۔ حدیث شریف میں اس بات کو قیامت کی علامات میں سے شمار کیا گیا ہے کہ قیامت کے قریب ایسے لوگ آئیں گے جو موسیقی کو جائز کہیں گے اور حدیث میں ہے کہ شکلوں کو مسخ کردینے کا عذاب بھی ایسے لوگوں میں ہوگا۔2
حوالہ جات
 1:-’’الإتقان في علوم القرآن ‘‘ میں ہے: 
’’اختلف أہل الأصول: ہل العبرۃ بعموم اللفظ أو بخصوص السبب؟ والأصح عندنا الأول وقد نزلت آیات في أسباب واتفقوا علی تعدیتہا إلٰی غیر أسبابہا کنزول آیۃ الظہار في سلمۃ بن صخر وآیۃ اللعان في شأن ہلال بن أمیۃ وحد القذف في رماۃ عائشۃؓ ، ثم تعدی إلٰی غیرہم ۔۔۔۔۔ قال الزمخشري في سورۃ الہمزۃ: یجوز أن یکون السبب خاصا والوعید عاما لیتناول کل من باشر ذٰلک القبیح ، ولیکون ذٰلک جاریا مجری التعریض۔ قلت: ومن الأدلۃ علی اعتبار عموم اللفظ احتجاج الصحابۃؓ وغیرہم في وقائع بعموم آیات نزلت علی أسباب خاصۃ شائعا ذائعا بینہم ۔۔۔۔۔ فقال محمد بن کعب: إن الآیۃ تنزل في الرجل ثم تکون عامۃ بعد ۔۔۔۔۔ وقد ورد عن ابن عباسؓ ما یدل علی اعتبار العموم ، فإنہ قال بہ في آیۃ السرقۃ مع أنہا نزلت في امرأۃ سرقت ۔۔۔۔۔ عن نجدۃ الحنفي قال: سألت ابن عباسؓ عن قولہ: (والسارق والسارقۃ فاقطعوا أیدیہما) أخاص أم عام؟ قال: بل عام۔ وقال ابن تیمیۃ: قد یجيء کثیرا من ہٰذا الباب قولہم: ہٰذہ الآیۃ نزلت في کذا لا سیما إن کان المذکور شخصا کقولہم: ۔۔۔۔۔۔۔ إن آیۃ الکلالۃ نزلت في جابر بن عبد اللّٰہ وإن قولہ: (وأن احکم بینہم) نزلت في بنی قریظۃ والنضیر ونظائر ذلک مما یذکرون أنہ نزل في قوم من المشرکین بمکۃ أو في قوم من الیہود والنصاری أو في قوم من المؤمنین، فالذین قالوا ذلک لم یقصدوا أن حکم الآیۃ یختص بأولئک الأعیان دون غیرہم ، فإن ہذا لا یقولہ مسلم ولا عاقل علی الإطلاق۔‘‘ (الاتقان فی علوم القرآن، ج:۱، ص:۱۱۰)
’’علوم القرآن الکریم ، نور الدین عترؒ‘‘ میں ہے:
’’وإما أن یکون السبب خاصا ولفظ الآیۃ عاما: فالمعتمد الذي علیہ جمہور الفقہاء والأصولیین والمفسرین وغیرہم أن العبرۃ لعموم اللفظ لا لخصوص السبب۔ ومن الأدلۃ علی ذلک احتجاج الصحابۃؓ والتابعینؒ، فمن بعدہم في وقائع کثیرۃ بعموم آیات نزلت علی أسباب خاصۃ، وکان ذلک الاستدلال شائعا ذائعا بینہم، لا ینکرہ أحد۔ لذٰلک قال محمد بن کعب القرظي: إن الآیۃ تنزل في الرجل ثم تکون عامۃ بعد ۔۔۔۔۔ وہذہ القاعدۃ من البدیہات، لا یمکن للعالم أن یخصص ألفاظ القرآن العامۃ بأولئک الأعیان دون غیرہم، فإن ہٰذا لا یقولہ مسلم ولا عاقل علی الإطلاق کما قال ابن تیمیۃ ۔‘‘ (علوم القرآن الکریم ، ص:۵۳)
2:-قرآن مجید میں ہے:
’’ اَلْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْإِسْلَامَ دِیْنًا۔‘‘
تفسیر مظہری میں ہے:
’’ورضیت أي اخترت لکم الإسلام من بین الأدیان دینا وہو الدین الصحیح عند اللّٰہ لاغیر ، روی البغوي بسندہٖ عن جابر بن عبد اللّٰہ قال سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: قال جبرئیل: قال اللّٰہ تعالی: ’’ہٰذا دین ارتضیہ لنفسي ولن یصلحہ إلا السخاء وحسن الخلق ، فأکرموہ بہما ما صحبتموہ۔‘‘ واللّٰہ أعلم ۔‘‘۔۔۔۔۔۔۔
’’وقال أبو الصہباء البکري سألت ابن مسعودؓ عن ہٰذہ الآیۃ ، قال: ہو الغناء واللّٰہ الذي لا إلہ إلا ہو، یردّدہا ثلاث مرات۔ وقال ابن جریج: ہو الطبل، قلت: مورد النص وإن کان خاصا وہو الغناء أو قصص الأعاجم ، لٰکن اللفظ عام والعبرۃ لعموم اللفظ لالخصوص السبب…۔
(مسئلۃ :- ( اتخاذ المعازف والمزامیر حرام باتفاق فقہاء (۱) الأمصار عن أبي ہریرۃ أن النبي صلی اللّٰہ عیلہ وسلم نہی عن ثمن الکلب وکسب الزمارۃ۔ رواہ البغوي وعن أبي مالک الأشعري أنہ سمع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: یشربون الناس من أمتي الخمر یسمونہا بغیر اسمہا ۔۔۔۔۔۔۔ ویضرب علٰی رؤوسہم المعازف والقنیات یخسف اللّٰہ بہم الأرض ویجعل منہم القردۃ والخنازیر ، رواہ ابن ماجۃ وصححہ ابن حبان۔‘‘ (تفسیر مظہری ، ج:۷، ص:۲۶۰، اشاعت العلوم، دہلی)
تفسیر روح المعانی میں ہے:
’’ وأخرج ابن أبي شیبۃ، وابن أبي الدنیا ، وابن جریر، وابن المنذر، والحاکم وصححہ ، والبیہقي في شعب الإیمان عن أبي الصہباء قال: سألت عبد اللّٰہ بن مسعودؓ عن قولہٖ تعالٰی: ومن الناس من یشتري لہو الحدیث، قال: ہو واللّٰہ الغناء وبہٖ فسر کثیر، والأحسن تفسیرہ بما یعم کل ذٰلک کما ذکرناہ عن الحسن، وہو الذي یقتضیہ ما أخرجہ البخاري في الأدب المفرد، وابن أبي الدنیا وابن جریر، وابن أبي حاتم، وابن مردویہ، والبیہقي في سننہ عن ابن عباسؓ أنہ قال: لہو الحدیث ہو الغناء، وأشباہہ…‘‘ (تفسیر روح المعانی، ج:۱۱، ص:۶۷، ط:دار الکتب العلمیۃ)
تفسیر ابن کثیر میں ہے:
’’عطف بذکر حال الأشقیاء، الذین أعرضوا عن الانتفاع بسماع کلام اللّٰہ، وأقبلوا علی استماع المزامیر والغناء بالألحان وآلات الطرب، کما قال ابن مسعودؓ في قولہٖ تعالي:’’ ومن الناس من یشتري لہو الحدیث‘‘ قال: ہو واللّٰہ الغناء۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر، ج:۶،ص:۳۳۰، ط:دار طیبہ)
فتاویٰ ابن تیمیہ میں ہے:
’’فأما المشتمل علی الشبابات والدفوف المصلصلۃ فمذہب الأئمۃ الأربعۃ تحریمہ ۔۔۔۔۔ وقد ثبت في صحیح البخاري وغیرہ أن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم ذکر الذین یستحلون الحر والحریر والخمر والمعازف علٰی وجہ الذم لہم وأن اللّٰہ مُعاقبُہم ۔ فدل ہٰذا الحدیث علی تحریم المعازف۔ والمعازف ہي آلات اللّہو عند أہل اللغۃ وہٰذا اسم یتناول ہٰذہ الآلات کلہا۔‘‘
بخاری شریف میں ہے:
’’حدثني أبو عامر أو أبو مالک الأشعري واللّٰہ ما کذبني سمع النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول: لیکونن من أمتي أقوام یستحلون الحر والحریر والخمر والمعازف ولینزلن أقوام إلٰی جنب علم یروح علیہم بسارحۃ لہم یأتیہم یعنی الفقیر لحاجۃ، فیقولون: ارجع إلینا غدا فیبیتہم اللّٰہ ویضع العلم ویمسخ آخرین قردۃ وخنازیر علٰی یوم القیامۃ۔‘‘ 
 (صحیح البخاری، ج:۲،ص:۸۳۷، باب ماجاء فی من یستحل الخمر، کتاب الاشربۃ) 
 فقط واللہ اعلم 
 الجواب صحیح الجواب صحیح کتبہ
 ابوبکرسعید الرحمن محمد انعام الحق محمد زبیر خان
 الجواب صحیح الجواب صحیح تخصصِ فقہِ اسلامی
 محمد شفیق عارف رفیق احمد جامعہ علومِ اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے