بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 نومبر 2019 ء

بینات

 
 

قدیم اور جدید معاشی نظریات کا تعارف (دوسری قسط)

قدیم اور جدید معاشی نظریات کا تعارف                                    (دوسری قسط)

عہدقدیم میںتجارتی اورسودی قرضے اس بات سے ہرسلیم الفطرت شخص واقف ہے کہ سودکی بنیادظلم پرہے کہ مالدارشخص غریب کی حاجت سے فائدہ اٹھاتاہے،اوراپنے لئے مقررہ نفع کی ضمانت ہرحال میںمشروط کرلیتاہے،چاہے معاملہ کی ابتداء میںہویاوقت ادائیگی میںمزیدمہلت دیتے وقت ہو۔ (القرص المصرفی للدکتورمحمدعلی البنا،باب تمہیدی،التطورالتاریخی للقرض،المطلب الثانی،أنواع القروض عندالعرب،ص: ۵۷،۵۸، دارالکتب العلمیۃ،بیروت) آج کی دنیامیںرائج معاشی نظام درحقیقت ایک مکمل سودی نظام ہے،جس کے تانے بانے زمانہ جاہلیت کے سودی معاملات سے ملے ہوئے ہیں۔سودسے بحث کرنے والے حضرات اس بات پرمتفق ہیں کہ قبل ازاسلام عصرجاہلیت میںصرفی قرضوںکے ساتھ تجارتی اورپیداواری قرضوںکابھی بھرپوررواج تھا،جن کی عمومی بنیادسودی نفع پرتھی،مذکورہ نوعیت کے قرضے اہل عرب کے لئے اجنبی نہ تھے۔ (سودپرتاریخی فیصلہ،ص:۵۴،۶۰-۶۶) اسلام سے پہلے حضرت عباس اورخالدبن ولید(رضی اللہ عنہما)نے زمانہ جاہلیت میں سودی شراکت کی تھی ،بنوعمروتجارتی بنیادوںپربنومغیرہ کوقرضے دیاکرتے تھے۔ (الدر المنثور للسیوطیؒ: ص: ۳۷۴، دار ہجر،مصر) علامہ سیوطیؒ اورعلامہ ابن جریرالطبریؒ نے اس سودی کاروبارکی نوعیت کوواضح الفاظ میںبیان کیاہے: ’’کان رباًیتبایعون بہ فی الجاہلیۃ‘‘۔                 (تفسیرالطبری:۵/۵۱، دار ہجر، مصر) ترجمہ:’’یہ وہ سودتھا،جس سے دورجاہلیت میںلوگ لین دین کرتے تھے‘‘۔ بنوثقیف کے ان قبائل کے تجارتی معاملات اورقرضوںکی نوعیت کاجائزہ لیاجائے تویہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ان کاآپس میںسودی لین دین صرفی قرضوں(Consumption Lons) کی بنیادپرنہیں،بلکہ تجارتی قرضوں (Commercial Lons)کی بنیادپرتھا،اوران قبائل اورسودی قرضے دینے والوںکی حیثیت آج کی اصطلاح میںتجارتی کمپنیوںجیسی تھی۔(القرص المصرفی للدکتور محمد علی البنا،باب تمہیدی،التطورالتاریخی للقرض،المطلب الثانی،أنواع القروض عند العرب، ص: ۵۷،۵۹، دارالکتب العلمیۃ،بیروت) جدیدمعاشی نظریات آج دنیاکے مختلف خطوںمیں مختلف معاشی نظام رائج ہیں،ان میںسب سے غالب اور نمایاں سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism)ہے،عربی زبان میںاسے ’’الرأسمالیۃ ‘‘کہاجاتاہے،  ۱۹۹۱ء تک روس جو’’سویت یونین‘‘کے نام سے ایک عالمی قوت کادرجہ رکھتا تھا، وہاں اشتراکیت (sochilism) کے غلغلے تھے،عربی زبان میںاُسے’’الاشتراکیۃ‘‘کہتے ہیں،اوراسی کی انتہائی صورت اشتمالیت (communism) ہے،جسے عربی میں’’الشیوعیۃ‘‘ کہا جاتا ہے، جہاد افغانستان کے نتیجے میںروس بطور’’یونین‘‘دنیاکے نقشے میںباقی نہ رہا،چین بھی اس شکست کے بعدعملاًسوشلزم کے اصولوں سے دستبردارہوچکاتھا۔ ان دونوںممالک کے مقبوضہ علاقوںمیںاشتراکیت اگرچہ اب ایک معاشی نظام کے طورپرباقی نہیں،لیکن ایک سیاسی قوت اورناکام نظریۂ حیات کے طورپرتاریخ کاحصہ ضرورہے۔ سرمایہ داریت اوراشتراکیت کی جائے پیدائش چوں کہ یورپ ہے،اس لئے وہاںکی تاریخ کا ایک سرسری ساجائزہ لیں گے ،تاکہ ان نظاموںکاپس منظر،مزاج اورنفسیاتی محرکات کوسمجھنے میں آسانی ہو۔ یورپ اوراس کے حواری آج مادی ترقی کی معراج اورتسخیرکائنات کے جتنے بلندبانگ دعوے کرتے نظرآرہے ہیں،اتنے ہی یہ قرون وسطی یعنی ۱۳۰۰ء سے ۱۴۰۰ء تک سیاسی ،معاشی اورمذہبی اعتبارسے تاریخ کے انتہائی سیاہ اورتاریک حالات کاشکاررہے ہیں۔ اسلام جودین فطرت ہے،انہی ایام میںعرب کے پہاڑوںاورریگزاروںسے نکل کر چہار دانگ عالم میںپیغام الٰہی کے زمزمے سنارہاتھا۔مسلمان قیصروکسریٰ کے تخت وتاج کوتاراج کرتے ہوئے مصراورشمالی افریقہ تک جاپہنچے،یہاںتک انہوںنے ۶۵۰ء میںیورپ کے عظیم الشان ملک اسپین کوبھی فتح کرنے کے بعدلوگوںکوانسان کی غلامی سے چھڑاکران پرقانونِ الٰہی نافذکردیاتھا۔ جاگیردارانہ نظام قرونِ وسطیٰ کے اس پورے عہدمیںیورپ کی معاشی زندگی کادارومدارجاگیردارانہ نظام پر تھا۔ زرعی پیداوارہی واحدذریعہ معاش تھا،صنعت وتجارت نہ ہونے کے برابرتھیں۔ تجارت کی راہیں مسدود ہونے میں ایک طرف عیسائی کیتھولک مذہب کی طرف سے تاجرپرعائدپابندیوںکادخل تھا تو دوسری طرف بیرونی دنیاسے رابطے کے تمام سمندری راستوںپرمسلمانوںکاقبضہ ہوچکاتھا،اس لئے کاروبارکوترقی دینا،یازیادہ دیرتک چلاناممکن نہ تھا،لہٰذاپوری معاشی زندگی کاانحصارزراعت اورزمین کی پیداوارپرموقوف تھا۔ جاگیردارانہ نظام میں اگرچہ زمیندار،جاگیرداراورکاشتکارکاآپس میںچولی دامن کا ساتھ تھا،مگرعملی طورپرکاشتکاراورجاگیردارکاتعلق بالکل غلام اورآقاوالاتھا،جاگیرداروں نے اس قدر طاقت وقوت حاصل کرلی تھی کہ وہ کسانوںکے سیاہ وسفیدکے مالک بنے ہوئے تھے،مرکزی حکومت اس وقت برائے نام تھی،رعایاکے حقوق اورجان ومال کی حفاظت ان کے دست قدرت سے باہرہوچکی تھی،نفاذِقانون کاکام بھی جاگیرداروںکے قبضے میںآچکاتھا،رعایا(کسانوں)کے لئے ان کاظلم وستم برداشت کرنے کے سواکوئی چارہ نہ تھا۔ عیسائی کیتھولک کلیساکی پورے یورپ پرمذہبی اجارہ داری تھی۔حکمرانوںسے زیادہ پوپ کا رعب تھا،اسے خدائی اختیارت حاصل تھے۔مالداراورجاگیردارغریبوںپرمظالم کے پہاڑتوڑنے کے بعد ایک مقررہ قیمت اداکرکے ’’مغفرت نامہ‘‘حاصل کرلیتے،دنیاوی گرفت کے ساتھ اخروی پکڑسے بھی خودکومامون کرتے۔ان تمام چیرہ دستیوںکی تان جس طبقے پرٹوٹتی وہ کسانوںکاطبقہ تھا،وہ دوہرے مظالم کی چکی میںپس رہے تھے۔ایک طرف جاگیرداروںکاسنگدل گروہ انتہائی بے دردی سے ان کاخون چوس رہاتھاتودوسری طرف کلیساکے مذہبی ٹھیکیداران کی ہڈیوںکاگودانکال رہے تھے۔ جاگیردارانہ نظام کازوال اورعہد ِجدیدکاآغاز تیرھویںاورچودھویںصدی میںیورپ کے حالات میںبڑے پیمانے پرتبدیلی آناشروع ہوئی،اس کااہم سبب اسلام اورعیسائیت کے درمیان لڑی جانے والی صلیبی جنگیںتھیں،جس کے نتیجہ میں مشرقی بحیرہ روم اوراس کے بڑے جزیرے مسلمانوںکے تسلط سے نکل کراہل یورپ کی دسترس میں آگئے۔ ان جنگوںکی بدولت جہازرانی اورتجارت ارتقاء پذیر ہوئے، تاجروں اور ساہوکاروں کا ایک بڑاطبقہ وجودمیںآیا،جوان جنگوںمیں شریک ہونے والے فوجی سرداروںاورجاگیرداروںکومالی امداد بطور قرض دیاکرتے تھے۔تجارتی ترقی اورسرمایہ داروںکے اس نئے طبقے نے آہستہ آہستہ جاگیرداری نظام میںدراڑیںڈال دیں۔ جاگیرداروںکی چیرہ دستیوںسے یورپی عوام اورحکمران دونوںتنگ تھے،لہٰذاوہاںکے بادشاہوں نے عوامی تائیدکابھرپورفائدہ اٹھایااوریورپ کے اکثرممالک خصوصاًانگلستان اورفرانس میں پائدارمرکزی حکومتیںقائم کیں،اورتجارت وصنعت کی خودبراہ راست سرپرستی کرکے انہیںخوب ترقی دی۔ ۱۴۵۳ء میںقسطنطنیہ پرمسلمانوںکے قبضے سے آبنائے باسفورس اوراہل یورپ کی مشرقی ممالک سے تجارتی گزرگاہیںمسلمانوں کے زیرتصرف آگئیں،جس کی وجہ سے اہل یورپ کونئے بحری راستوں کو تلاش کرناپڑا،جب کہ دوسری طرف ۱۴۹۲ء میںعیسائی بادشاہ فرڈی ننڈ(Frdi Nand) اور ملکہ ازابیلا (Isabella)کے گٹھ جوڑاورسازشوںکی وجہ سے اندلس میںمسلمانوںکی آٹھ سوسال سے قائم حکومت کاخاتمہ ہوا،وہاں ایک عیسائی ریاست کی داغ بیل ڈالی گئی۔ ۱۵۹۸ء میںاہل مغرب نے واسکوڈی گامہ(Vascode Gama)کی سرکردگی میں ہندوستان کی سرزمین پرقدم رکھا،جب کہ اندلس کے باشاہ اورملکہ کی سرپرستی میںکولمبس (Columbus) نے مسلمان جہاز رانوں کی مدد سے امریکہ کا نیا براعظم دریافت کرلیا تھا۔ امریکہ کی دریافت اور ہندوستان کے بحری راستوںکی تلاش سے یورپ کی تجارت، صنعت اور زراعت میں نمایاں اور ایسی بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں ،جنہیں مجموعی طورسے ایک صنعتی انقلاب سے تعبیرکیاجاسکتاہے۔ اس صنعتی انقلاب سے اہل یورپ کے لئے صنعت اورتجارت کے لئے ایک وسیع میدان میسرہوا، نئی نئی صنعتیں وجود میں آنے لگیں،بڑے بڑے شہرآباد ہوئے،غرض سولہویںصدی کے ان بدلے ہوئے حالات کے سامنے قرون وسطی کے جاگیرداری نظام نے دم توڑدیا۔ سترھویںسے اٹھارویںصدی تک مطلق العنان شاہی نظام اپنے پورے جوبن پررہا،ہرطرف خود مختار باد شاہی کاراج تھا،عوام کونہ توشخصی حقوق حاصل تھے اورنہ ہی سیاسی حقوق۔ انسانی حوائج اور مصالح عامہ کے حق میںآوازاٹھاناشہنشاہیت کی شان کے خلاف تھا۔یورپ اورکلیسانے جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کے نتیجے میںابھرنے والی علمی تحریک کی ابتدا میںشدیدمخالفت کی،اس تحریک کے علمبرداروں کوانتہائی شدیداورسخت ترین سزائیںدیں،حتیٰ کہ اس تحریک کے ایک معروف رہنما جان ہس (John Huss)اوراس کے شاگردجیروم(Jerome)کونذرآتش کیاگیا۔کلیساکے ان لرزہ خیز مظالم اورنام نہادمذہبی پیشواؤںکی تنگ نظری اورنفس پرستی بالآخران کے لئے موت کاپھندابن کررہی۔ اصلاحِ مذہب ،جدیدسائنسی تحقیقات اورفلسفے میںنئے افکارونظریات کی نومولودتحریک چونکہ حقیقی بیداری کانتیجہ تھی،اس لئے تشددسے دبنے کی بجائے مزیدآگے بڑھتی چلی گئی۔آزادیِٔ فکر اور جدت پسندی کے سیلاب نے مذہبی اقتدارکاخاتمہ کردیا۔اس نئی تحریک کے نتیجے میںجیسے کلیساکے مذہبی اقتدار کاخاتمہ ہوا،قریب تھاکہ عیسائی مذہب ہی کی جڑیںاکھڑجاتیںاوراس کامکمل خاتمہ ہوجاتاکہ عیسائیوںمیںپروٹسٹنٹ(Protestant)کے نام سے ایک نیافرقہ وجودمیںآیا،جس نے مذہب کو دنیا سے جداقراردیا،جدیدعلمی تحقیقات کی حوصلہ افزائی کی،حکمرانوںاوربڑے بڑے رئیسوںکی آغوش میں پناہ لے کران کے ہرجائزوناجائزکام کی تائیدکی۔نتیجہ یہ نکلاکہ روشن خیال اورآزادفکرطبقہ نے نہ صرف مذہب کاانکارکیا،بلکہ وہ سرے سے خداکے وجودہی کے منکربن بیٹھے،یوںاس طرح یورپ میں جنم لینے والے جدیدفلسفہ اورنظریات ،خالص مادیت،دہریت اورالحادکاشکارہوتے چلے گئے۔نئے سیاسی انقلابات اورجدیدمعاشرے نے قدیم مذہب اوراخلاقی روایات کی ہرقیدسے آزادہوکرایک سیاسی دنیابنائی،جس میںقدیم جاہلیت کی رسموں،طورطریقوںاورمعاشی اصطلاحات کوجدیدیت اور آزادیٔ فکرکے خوشنمالبادے میںدنیاکے سامنے پیش کیاگیا۔ سرمایہ دارانہ نظام (Capitalism) گزشتہ صفحات میںجاگیردارانہ نظام کی حقیقت ،پس منظر،زوال کے اسباب اور عہد جدیدکاتذکرہ آچکاہے،اسی کے ذیل میںصنعتی انقلاب کے بارے میںکچھ سطورلکھی گئی تھیں،اب مزید اس بارے میںوضاحت پیش خدمت ہے۔ اٹھارویںصدی عیسوی میںصنعتی انقلاب نے مزیدترقی کی،بھاپ اوربجلی کی ایجادواستعمال نے صنعت وحرفت ،زراعت ومواصلات کے شعبوںکوچارچاندلگادیئے،زندگی کے ہرشعبے میںہونے والی عجیب و غریب ایجادات سے اہل یورپ کی زندگی کانقشہ ہی بدل گیا۔دستکاریوںکی جگہ ملوں، کارخانوں اور فیکٹریوں نے لے لی۔گاؤں اوردیہات کے لوگ حصول روزگارکے لئے شہروںکارخ کرنے لگے،جس کے نتیجے میں بڑے بڑے شہروجودمیںآگئے۔ اسبابِ راحت وتعیش بآسانی دستیاب ہونے لگے،اورنفسیانی خواہشات کی تکمیل کاایک نہ رکنے والاسیلاب اُمڈآیا،مگرخالص مادی اورلادینی بنیادوںپرحاصل کی جانے والی صنعتی ترقی اس عیارانہ نظامِ سرمایہ داری(Capitalism)کاپیش خیمہ ثابت ہوئی،جس کے بے رحم جال میںپھنسنے کے بعدعوام کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھاکہ موت اس جال کی گرفت میںزیادہ اذیت ناک ہوتی ہے، یاجاگیرداروںکی اس چکی میںجس کے درمیان وہ کئی سال پستے رہے تھے۔ صنعتی انقلاب اوراس کی پیداکردہ خوشحالی پرسود،سٹے اورقماروغیرہ کے ذریعہ چندسرمایہ دار اورمہاجن سانپ بن کربیٹھ گئے۔انہوںنے صنعت وتجارت کاجونظام قائم کیا،اسی نظام کونظام سرمایہ داری سے تعبیرکیاجاتاہے۔زیرنظرتحریر میں گفتگونظام سرمایہ داری کے اصل فلسفے سے ہوررہی ہے،اس کی رائج الوقت صورتوںسے نہیں۔ بعدکے حالات سے مجبورہوکرمختلف ممالک نے اس نظام میںکچھ ترمیم شروع کی، جس کاسلسلہ آج بھی جاری ہے۔صنعت وتجارت میںحکومت کادخل بڑھ رہاہے اورفردکی آزادی گھٹ رہی ہے،تاہم یہ ترمیمیںایسی جزوی اورغیرمؤثرہیںکہ ان سے معاشرے کے مجموعی حالات پرکوئی گہرااثرمرتب نہیںہوتااوروہ الجھنیںختم نہیںہوتیںجن سے اس نظام کاخمیرتیارہواہے۔ معیشت کے بنیادی ستون کہلانے والے چارمسئلوںکا جوحل اس نظام نے پیش کیاہے،اس پر گفتگوکرنے سے پہلے اس کی حقیقت پرکلام کرنامناسب معلوم ہوتاہے، تاکہ اس نظام کی بنیادوں،اہم اصول اورنتائج سے بھی واقفیت حاصل ہوجائے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی حقیقت اس نظام کابنیادی اصول’’بے قیدمشقت‘‘ہے،جس کامطلب یہ ہے کہ صنعت وتجارت اورکسب معاش کے تمام طریقے اورمعاشیات کاپورانظام ہرقسم کے سرکاری قانون اورمذہبی پابندیوں سے کامل طورپرآزادہونا چاہئے، حکومت اورمذہب کویہ حق نہیںپہنچتاکہ وہ فردکے معاشی اور اقتصادی نظام میںکسی قسم کی مداخلت کرے۔فردکی حدسے بڑھی ہوئی یہ آزادی اس مفروضے پرقائم ہے کہ ہرشخص اپنے اچھے برے کی سمجھ خودرکھتاہے،اس کویہ بتانے کی نہ حکومت کوضرورت ہے کہ وہ اپنا معاشی کاروبارکیسے چلائے،اورنہ کسی معلم اخلاق کی ضرورت ہے جوحرص وطمع سے بازرہنے اور ایثار و سخاوت جیسی صفات کی تلقین کرے۔رہامذہب تووہ ایک ڈھونگ ہے،جس کی پیروی آزادیٔ فکر کے اس دور میںایک مہذب انسان کوزیب نہیںدیتی۔ انفرادی ملکیت خواہ وسائل پیداوارکی شکل میںہو،یاعام اشیاء ،وہ کلی طورپرآزادہوتی ہیں۔ خریدوفروخت کی جوبھی صورت فریقین کی باہمی رضامندی سے طے پائے اُسے روکنے کانہ مذہب کو اختیار ہے،نہ کسی حکومت کو۔افرادہرطرح سے آزادہوتے ہیںکہ جس طرح چاہیںنفع کمائیں،اس مقصد کے لئے پیداوارکوجس قدرچاہیں گھٹائیں یا بڑھائیں،پیداوارجس قسم کی چاہیںتیارکریں،کسی قسم کی کوئی قانونی یامذہبی تحدیدعائدنہیںکی جاسکتی۔ اس نظام میںجس طرح حصولِ ’’انفرادی ملکیت‘‘کے تمام ذرائع میںفردکوکھلی چھٹی دی گئی ہے ، اسی طرح خرچ وصرف کے معاملے میںبھی اس سے کوئی بازپرس نہیں۔مادی منافع کے علاوہ کسی دوسری مدمیںدولت کاخرچ کرناناپیدہوتاہے،نہ ہی کوئی مذہب یاقانون فردسے اس کامطالبہ کرسکتا ہے۔ اس پورے نظام میںذاتی نفع کوکل معاشی نظام کی روح قراردیاگیاہے۔ ذاتی نفع کی خاطرہروہ طریقہ کاراختیارکیاجاسکتاہے،جواس کے لئے مفیدہو،اگرچہ اس میں ملک وقوم کانقصان ہورہاہو،اس حوالے سے وہ کسی کوجوابدہ نہیں۔ بنیادی معاشی مسائل یہ بات تومعاشی مفکرین کے نزدیک مسلم ہے کہ انسانی ضروریات اورخواہشات انسانی وسائل کے مقابلے میںزیادہ ہیں۔ دستیاب وسائل کواس طرح استعمال کرناکہ زیادہ سے زیادہ ضرورتیںپوری ہوجائیں،اُسے معاشیات،اقتصاداورانگریزی زبان میں اکنامکس (Economics)کہتے ہیں۔ اس نقطۂ نظرسے معیشت کے چاربنیادی مسائل ہیں،جن کو حل کئے بغیرکسی بھی معیشت کی گاڑی نہیںچل سکتی،وہ مسائل درج ذیل ہیں: ۱:…ترجیحات کاتعین(Determinatian of Priorties) فرداورملک کے وسائل محدودہوتے ہیں،ان کے ذریعے تمام انسانی خواہشات کی بیک وقت تکمیل ناممکن ہے،لہٰذایہ متعین کرناکہ ان وسائل کے ذریعے کن ضروریات کوپوراکیاجائے؟اورکس چیز کی پیداوارکوترجیح دی جائے؟کون سی ضرورت اورخواہش کومقدم کیاجائے اورکس کومؤخرکیاجائے؟اس مسئلہ کانام ’’ترجیحات کاتعین‘‘ہے۔ ۲:…وسائل کی تخصیص(Allocatian of Resources) وسائل پیداوار،سرمایہ،محنت اورزمین کوکن کاموںمیںاورکس مقدارسے لگایاجائے؟زمین پرکیااگایاجائے؟کارخانوںسے کس طرح کی اشیاء اورمصنوعات حاصل کی جائیں؟اس بات کافیصلہ ’’وسائل کی تخصیص‘‘کہلاتاہے۔ ۳:…آمدنی کی تقسیم(Distributian of Income) مذکورہ بالاوسائل کواستعمال میںلانے کے بعدان سے حاصل شدہ پیداوار،یاآمدنی کوکس طرح اورکن بنیادوںپرتقسیم کیاجائے؟یہ’’آمدنی کی تقسیم‘‘کہلاتی ہے۔ ۴:…ترقی(Development) معاشی حاصلات کوترقی دیناکہ ان سے حاصل شدہ پیداوارکمیت وکیفیت کے لحاظ سے اچھی ہو،اسباب معیشت میںاضافہ ہواورنئی نئی ایجادات وجودمیںلائی جائیں،تاکہ لوگوںکوذرائع آمدن بسہولت مہیاہوں،اورمعاشرہ ترقی پذیرہوسکے،اس بات کومعیشت کی اصطلاح میں’’ترقی‘‘کے نام سے جاناجاتاہے۔ بنیادی معاشی مسائل کاحل اورسرمایہ دارانہ نظام ڈاکٹرنورمحمدغفاری صاحب اپنی کتاب ’’اسلام کامعاشی نظام‘‘میںبعنوان’’سرمایہ دارانہ نظام کاحل‘‘لکھتے ہیں:’’سرمایہ دارانہ نظام نے انسان کے معاشی مسئلہ کے حل کی بنیاددوباتوںپررکھی ہے: ۱:…فردکواس کے معاشی مسئلہ کے حل کے لئے آزادچھوڑدیاجائے،یعنی اس کی معاشی سرگرمیوںپرکسی قسم کی اخلاقی یاقانونی پابندی نہ ہو،وہ جس طریقہ یاذریعہ سے چاہے کمائے اوراس کمائی ہوئی دولت کوجس طرح چاہے خرچ کرے،وہ جوذریعہ معاش اپنے لئے چاہے پسندکرے،اسے کوئی روکنے ٹوکنے والانہ ہو۔ ۲:…ریاست فردکی معاشی سرگرمیوںمیںدخل اندازی نہیںکرے گی،بلکہ ان کی دیکھ بھال کرے گی،انہیںقانونی تحفظ دے گی،جس کے عوض فرد‘ریاست کوچندٹیکس بطورمعاوضۂ حفاظت اورسہولت اداکرے گا۔ سرمایہ دارانہ نظام نے تین اصولوںکی روشنی میںمعیشت کے بنیادی مسائل کوحل کرنے کی کوشش کی: ۱:…ذاتی ملکیت(Private Property) اس نظام کاپہلااصول اورفلسفہ یہ ہے کہ انسان ہرقسم کی اشیاء چاہے ان کاتعلق استعمال سے ہو، یاپیداوارسے ہو،انہیںوہ اپنی ذاتی ملکیت میںرکھ سکتاہے۔ ۲:…ذاتی منافع کامحرک(Profit Motive) پیداوارکے عمل میںذاتی منافع کے حصول کوبنیادی حیثیت حاصل ہے اوریہی چیزاساسی محرک قرار پایاہے۔ ۳:…حکومت کی عدم مداخلت (Laissez faire) ’’کرنے دو‘‘کی پالیسی کے تحت تیسرااصول یہ اپنایاگیاہے کہ تجارتی معاملات میںحکومت تاجرکوتنگ نہیںکرے،اسے کھلی چھوٹ حاصل ہوگی کہ وہ جس طرح چاہے تجارت کرے،حکومت اس کی معاشی سرگرمیوںمیںمداخلت نہیںکرے گی،اگرچہ بعدمیںاس پالیسی پرمکمل عملدرآمد نہیں کیا جاسکا۔ سرمایہ دارانہ ممالک میںحکومت کی مداخلت کسی نہ کسی عنوان سے جاری رہتی ہے،جواس کے اصول اور فلسفہ کے خلاف ہے۔ معاشی مسائل حل کرنے کاطریقہ کار معیشت کے بنیادی مسائل کے حل کے لئے سرمایہ دارانہ نظام نے ذاتی منافع کے محرک کا سہارا لیا۔اس نظام کاکہنایہ ہے کہ ان چاروںمسائل کوحل کرنے کاایک ہی طریقہ ہے کہ ہر انسان کو تجارتی اورصنعتی سرگرمیوںکے لئے بالکل آزادچھوڑدیاجائے،اوراسے اختیاردیاجائے کہ زیادہ سے زیادہ نفع کمانے کے لئے جوطریقہ بھی وہ مناسب سمجھے اُسے اختیارکرے،تومذکورہ مسائل خودبخودہی حل ہوتے چلے جائیںگے،کیوںکہ ہرشخص زیادہ نفع کی لالچ میںوہی کام کرے گاجس کی معاشرے کو ضرورت ہے،کیوںکہ دنیامیںقانون رسدوطلب(Supply and Demand)کارفرماعمل ہے، لہٰذا اگرتاجرکوزیادہ سے زیادہ نفع کمانے کے لئے آزادچھوڑدیاجائے تووہ اپنے نفع کی خاطروہ چیز مارکیٹ میںلائے گا جس کی ضرورت یاطلب زیادہ ہوگی،اسی طرح معاشرے میںانہی اشیاء کی پیداوار بڑھے گی جن کی معاشرے کوضرورت ہے،اوراتنی ہی مقدارمیںان کی پیداوارہوگی جتنی اس ضرورت کو پورا کرنے کرنے لئے واقعتاًدرکارہے،اس کوترجیحات کاتعین کہتے ہیں۔ وسائل کی تخصیص کاتعلق ترجیحات کے تعین سے ہے،لہٰذارسدوطلب کے قوانین جس طرح ترجیحات کاتعین کرتے ہیں،اسی طرح وسائل کی تخصیص کاعمل بھی سرانجام دیتے ہیں،نتیجتاً ہرمارکیٹ کی طلب کوپوراکیاجاسکے اوراسے زیادہ منافع حاصل ہوجائے۔ جب کہ آمدنی کی تقسیم کے بارے میں سرمایہ دارانہ نظام کاکہناہے کہ عواملِ پیدائش :زمین،محنت،سرمایہ اورآجریاتنظیم کے درمیان آمدنی کی تقسیم کاعمل انجام پائے گا،بایںطورکہ زمین والے کوکرایہ،محنت کرنے والے کواجرت ،سرمایہ فراہم کرنے والے کوسود اورآجرجواس عملِ پیدائش کااصل محرک ہے اُسے منافع دیاجائے،اورعواملِ پیدائش کے معاوضے کاتعین بھی طلب ورسدکی بنیادپرہوگا کہ جس کی طلب جس قدرزیادہ ہوگی اس کامعاوضہ بھی اتناہی زیادہ ہوگا۔ باقی رہی بات ترقی کی،توطلب ورسدکے قوانین کی بنیادپرتاجرجب زیادہ سے زیادہ نفع کمانے کاطلب گارہوگاتولازماًوہ نئی سے نئی چیزیں،بہترسے بہتراندازمیںمارکیٹ میںلائے گا،جس کے نتیجے میںترقی کاعمل بھی وجودمیںآجائے گا،اورمعیشت ترقی پذیرہوگی۔ سرمایہ داریت اور جمہوریت کا اشتراک     یورپ میںمعاشی تبدیلیوںکے ساتھ سیاسی میدان میںبھی ایک ہمہ گیرانقلاب انگڑائیاںلے رہا تھا،آزادفکرطبقہ‘ شخصی حکومتوںکوختم کرکے جمہوری حکومتیںقائم کرناچاہتاتھا۔ دوسری طرف سرمایہ دار لوگ بھی حکومت کی ان قانونی پابندیوںسے بیزارتھے،جوان کی نفع اندوزی کوپابندکررہی تھیں۔ اسی کا نتیجہ تھاکہ انیسویںصدی میںیورپ کے اکثرممالک جمہوری حکومتوںکے زیراثرآگئے۔معاشی وسائل اور ملکی دولت پرقابض ہونے کی وجہ سے نئی جمہوری حکومتیںسرمایہ داروںکے قبضے میںآگئیں۔ یوں یورپ کی کل آبادی دوحصوںمیںبٹ گئی،ایک طرف گنے چنے سرمایہ دارجوپوری دولت اورتمام وسائل پیداوار کے مالک تھے اورعنانِ حکومت بھی ان کی ذاتی اغراض کے تابع ہوچکی تھی۔ دوسری طرف وہ بے یار ومددگارمفلس لوگ تھے جوانتہائی شدیدمحنت ومشقت کے باوجودبھی زندگی کی بنیادی ضروریات کوترس رہے تھے۔مزدوروںاورمحنت کشوں کاطبقہ اپنے معاشی حالات سے تنگ آگیااورایک عرصہ تک سرمایہ داروں کے ظلم کی چکی میںپسنے کے بعد انہوںنے اپنے حقوق منوانے کے لئے مزدورانجمنیںقائم کرنا شروع کردیں۔یورپ کے بعض مفکرین بھی اس تحریک کی حمایت کرنے لگے،یوںیہی تحریک رفتہ رفتہ اشتراکیت کی بھیانک صورت میںڈھلتی چلی گئی۔سوشلٹ علمبرداروںنے مزدوروںاورمحنت کشوںکے جذبات کوہڑتالوں،توڑپھوڑ،قانون شکنی اور تشدد میںاستعمال کرکے متعددممالک میںانقلاب برپا کرکے سوشلٹ نظام نافذکردیا۔             (جاری ہے)

 

 

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے