بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ربیع الاول 1442ھ- 20 اکتوبر 2020 ء

بینات

 
 

قادیانیوں کی پاکستان کے خلاف ایک نئی سازش!


قادیانیوں کی پاکستان کے خلاف ایک نئی سازش!


الحمد للّٰہ وسلامٌ علٰی عبادہٖ الذین اصطفٰی

 

مفکرِ پاکستان حضرت علامہ اقبالؒ نے قادیانیوں کے بارہ میں فرمایا تھا کہ: ’’قادیانی ملک اور ملت دونوں کے غدار ہیں۔‘‘ علامہ اقبالؒ کے اس فکر انگیز ملفوظ کی صداقت ملکی وحکومتی مشکلات اور قومی انتشار کی صورت میں بارہا سامنے آچکی ہے، جس سے کوئی باشعور پاکستانی انکار نہیں کرسکتا۔ قادیانیت دراصل مغرب اور انگریز کا ایک جاسوس ٹولہ ہے، جو مسلمان ممالک خصوصاً پاکستان کے خفیہ رازوں کو اپنے آقاؤں تک پہنچاتا رہتا ہے اور آئے روز پاکستان کو مشکلات میں ڈالنے کے لیے تخریب کاروں کا کردار بڑی تن دہی اور چابک دستی سے ادا کرتا اور نبھاتا رہتا ہے۔ یہی قادیانی گروہ ہے جس نے آئینِ پاکستان کو آج تک نہیں مانا، بلکہ ملکی آئین اور دستور کے خلاف ان کا ہر خلیفہ نہ صرف یہ کہ بولتا ہے، بلکہ پاکستان کو خطرات سے دوچار کرنے اور پاکستان کو سبق سکھانے کی دھمکیاں بھی دیتا رہتا ہے، جن کی تقاریر آج بھی ریکارڈ پر موجود ہیں جو اُن کے گھناؤنے عزائم کی چیخ چیخ کر شہادت اور گواہی دے رہی ہیں۔ 
قادیانی قیامِ پاکستان کی تحریک کے آغاز سے ہی اس کے مخالف رہے۔ پاکستان بن جانے کے بعد انہوں نے اکھنڈ بھارت کا نعرہ لگایا اور آج تک یہ اُن کا عقیدہ ہے۔ اسی بناپر یہ لوگ اپنے مردے پاکستان میں امانتاً دفن کرتے ہیں کہ جب اکھنڈ بھارت بنے گا تو ان کو قادیان لے جایا جائے گا۔ اسی طرح ۱۹۴۸ء ، ۱۹۶۵ء کی جنگیں انہوں نے پاکستان کے اوپر مسلط کیں، مشرقی پاکستان انہیں کی سازشوں کی وجہ سے پاکستان سے علیحدہ ہوا۔ پاکستان کے ایٹمی رازوں کی مخبری انہوں نے کی۔ ہمارے وطنِ عزیز پاکستان کے خلاف ابھی اُن کی ایک اور تازہ ہرزہ سرائی اور سازش سامنے آئی ہے، جس نے ملکی اداروں اور ریاست کے ستونوں کے علاوہ موجودہ حکومت کی کابینہ میں شامل ایک وزیر موصوف کے بارہ میں بھی غلط الزام اور تہمتوں کا طوفانِ بدتمیزی برپا کیا ہے۔
 یہ رپورٹ قادیانیوں نے از خود بنائی ہے اور برطانوی پارلیمنٹ کے دونوں اداروں کے ممبران سے شاید یہ رپورٹ انہیں پڑھائے بغیر دستخط لے لیے گئے ہیں۔ اس رپورٹ کی مکمل روئیداد اور اس پر تجزیہ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب دامت برکاتہم مرکزی راہنما عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کے مضمون سے اخذ کرکے کچھ حک واضافہ کے بعد یہاں پیش کیا جارہا ہے:
’’برطانوی پارلیمنٹ کے دونوں ہائوسز کے تقریباً ۴۰؍ارکان پر مشتمل ’’آل پارٹیز پارلیمنٹری گروپ فار دی احمدیہ کمیونٹی‘‘ کی طرف منسوب قادیانیوں نے ۲۰؍جولائی ۲۰۲۰ء کو پاکستان کے خلاف سنگین الزامات پر مبنی ایک انتہائی خطرناک رپورٹ جاری کی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ قادیانیوں کے خلاف ظلم وجبر، استبداد اور بین الاقوامی انتہاء پسندی میں اضافہ ریاستِ پاکستان کی سرپرستی میں ہورہا ہے۔ اس رپورٹ کا ٹائٹل یہ ہے:

''suffocation of the faithful
The persecution of ahmadi muslims in pakistan and the Rise of international Extremisl''

یہ بنیادی اور مبینہ طور پر یک طرفہ انکوائری ہے، جو کہ اس گروپ کی چیئرپرسن شوون مکڈونہ ممبر پارلیمنٹ کی زیر سرپرستی کروائی گئی۔ اس کے وائس چیئرمین ۱۱؍ارکانِ پارلیمنٹ ہیں، دیگر تیس سے زیادہ ارکانِ پارلیمنٹ اس کے ممبر ہیں۔ اگرچہ اس کو ایک انکوائری کا نام دیاگیاہے، اس رپورٹ میں پاکستانی ہائی کمیشن لندن یا پاکستانی وزارت خارجہ کی طرف سے کوئی مؤقف نہیں لیا گیا۔ پاکستان کے خلاف نہایت سنجیدہ الزامات پر مبنی ۱۶۷ صفحات پر مشتمل رپورٹ جاری کردی گئی ہے۔ رپورٹ میں خود ہی جج، جیوری اور پراسیکیوٹر کا کام کیا گیا ہے۔ اس گروپ کی چیئر پرسن کے مطابق قادیانیوں پر یہ ظلم وجبر پاکستانی ریاست میں کیا جارہاہے۔ (state spurored persecution) مبینہ طور پر یہ رپورٹ قادیانیوں نے لکھی ہے اور برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان نے شاید بغیر پڑھے دستخط کردئیے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے:
۱:۔۔۔۔۔پاکستان میں ہر ایک احمدی کو اپنی پیدائش سے موت تک ظلم وجبر کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کو ووٹ کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے، یہ سب کچھ ریاست کی سرپرستی میں ہورہاہے۔ 
جب کہ یہ سراسر حقیقت کے برعکس ہے۔ پاکستان میں تمام اقلیتی برادریوں کے افراد ووٹ ڈالنے کا حق رکھتے ہیں۔ قادیانی بھی آئینِ پاکستان کے مطابق غیر مسلم اقلیت ہیں اور انہیں دیگر اقلیتوں کی طرح ووٹ ڈالنے کا پورا حق ہے۔ یہ رپورٹ پاکستان کو سازش کی کھائی میں گرانے کی کوشش ہے۔ 
۲:۔۔۔۔۔اس رپورٹ میں پاکستان کے وزیر برائے پارلیمانی امور جناب علی محمد خان پر بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ قادیانیوں کے قتل کے حق میں ہیں۔
۳:۔۔۔۔۔رپورٹ میں مختلف ملکوں میں اپنی مرضی سے چلے جانے والے قادیانیوں کو برطانیہ اور یورپ میں پناہ گزین کا درجہ دینے پر بھی زور دیا گیا ہے، جو اصل قادیانی جماعت کا منشأ اور اس رپورٹ کا حاصل ہے۔ 
۴:۔۔۔۔۔قادیانی رپورٹ کے مرتبین نے رپورٹ میں بڑی چالاکی سے برطانوی حکومت کو یہ بات باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ اب برطانیہ میںبھی قادیانیوں کے خلاف نفرت کا اظہار شروع ہوگیا ہے۔ اس رپورٹ میں اسد شاہ قادیانی کے ۲۰۱۶ء میں گلاسگو میں قتل کا تذکرہ بھی اس طرح کیا گیاہے، جیسے اس میں پاکستان کا ہاتھ ہے۔ 
جبکہ اسد شاہ نے خود مرزا صاحب کے بعد نبوت کا دعویٰ کیاتھا (جس کا ثبوت ریکارڈ پر موجود ہے) لہٰذا قادیانیوں نے اسد شاہ کو قادیانیت سے خارج کردیا تھا ،لیکن اس قتل کو قادیانی اپنے مفاد کے لیے خوب استعمال کر رہے ہیں۔
۵:۔۔۔۔۔اس رپورٹ میں یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ قادیانیوں کے خلاف نفرت پھیلانے والوں کا برطانیہ میں داخلہ بند کیاجائے۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سارا دبائو عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ کرنے والوں پر ڈالا جارہاہے، تاکہ ان کی زبان بند کی جاسکے، جس کے نتیجہ میں کوئی بھی مسلمان جھوٹے مدعیانِ نبوت کی نفی اور ان کی راہ نہ روک سکے۔
اس رپورٹ کی ایگزیکٹو سمری میں صاف نظر آتا ہے کہ یہ قادیانیوں کی طرف سے تیار کی گئی ہے، کیونکہ آغاز میں ہی مرزا غلام احمد کے نام سے پہلے لفظ ’’حضرت‘‘ کا اضافہ کیا گیاہے۔ اسی طرح جہاں رپورٹ میں مرزا طاہر اور مرزا مسرور کا نام آیا ہے، ان سے پہلے بھی لفظ ’’حضرت‘‘ استعمال کیا گیا ہے اور ۱۹۰۱ء میں افغانستان میں مرنے والے پہلے قادیانی کے لیے لفظ ’’شہید‘‘ استعمال کیا گیا ہے۔ جب کہ برطانیہ میں مسیحی ادارے، ممبرانِ پارلیمنٹ، خود چرچ آف انگلینڈ اور پادری صاحبان تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام  کے لیے بھی ’’حضرت‘‘ یا ’’شہید‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کرتے اور نا کسی مسلمان کے لیے وہ لفظ ’’شہید‘‘ استعمال کرتے ہیں۔
۶:۔۔۔۔۔اس رپورٹ میں قادیانیوں کو غیر متشدد اور پر امن کمیونٹی کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمیشن کو چاہیے کہ ان کی پرتشدد کارروائیوں جیسے ۱۹۷۴ء میں نشتر میڈیکل کالج ملتان کے معصوم طلبہ پر قادیانیوں کے مرکز ربوہ میں تشدد اور ۱۹۸۴ء میں مولانا اﷲیار ارشد کو اغوا کرکے ان پر تشدد جیسے واقعات سے برطانوی حکومت کو آگاہ کرے۔
رپورٹ کے مندرجات سے بالکل واضح ہے کہ یہ پاکستان کے خلاف یکطرفہ الزامات پر مبنی قادیانیوں کا تیار کردہ جھوٹ کا پلندہ ہے۔ اس لیے ہماری وزارت خارجہ کو چاہیے کہ وہ برطانوی ہائی کمشنر کو بلا کر اس رپورٹ پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرائے۔
۷:۔۔۔۔۔اس رپورٹ میں پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کو بھی چیلنج کیا گیا ہے اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ قادیانیوں نے ایک سیکولر ریاست بنانے کے لیے تحریکِ پاکستان میں مرکزی کردار ادا کیا۔ لیکن اسلام پسند یہاں پر شریعہ نظام لاگو کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے قادیانیوں کو تمام بااثر پوزیشنز سے ہٹادیا ہے۔
 جب کہ حقیقت یہ ہے کہ قادیانیوں نے تو اپنے مرنے والوں کو بھی امانتاً یہاں دفن کیا ہواہے۔ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ پاکستان پر جلد ہی ہندوستان کا قبضہ ہوگا اور اکھنڈ بھارت بنے گا اور وہ اپنے مرنے والوں کی باقیات کو نکال کر قادیان (انڈیا) لے جائیں گے۔
۸:۔۔۔۔۔سیکولر ریاست کے قیام کے حوالے سے رپورٹ میں قائد اعظم کے ایک بیان کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ :’’ہندو، ہندو نہیں رہے گا۔ مسلم، مسلم نہیں رہے گا۔‘‘  
جبکہ قائد اعظم مرحوم نے بار بار اپنے بیانات میں فرمایا کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہوگی اور یہ ریاستِ مدینہ کی طرز پر ہوگی۔ پاکستان کے اسلامی تشخص اور خالص مذہبی کارڈ کی وجہ سے تقریباً ہر آنے والا قائد کے فرمان کے مطابق پاکستان کے اساسی مذہبی کارڈ کو اپنی انتخابی کامیابی کے لیے استعمال بھی کرتا ہے۔ موجودہ حکمرانوں نے بھی اپنی کامیابی کے لیے ’’ریاستِ مدینہ‘‘ کا مبینہ عنوان استعمال کیا تھا، کون نہیں جانتا کہ قائد اعظم نے کہا کہ :’’پاکستان کا مطالبہ زمین کا ایک ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا گیا، بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے، جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں۔‘‘
یہاں ایک بات اور بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ قادیانیوں کی سماج و ملک کے خلاف مختلف اور خطرناک و افسوس ناک سوچ کے باعث ان کو با اثر عہدوں سے ہٹانے کا کام اس وقت کے منتخب وزیر اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم اور ان کی جمہوری پارٹی حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ مل کر متفقہ طور پر کیا تھا اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت بھی قرار دیا تھا۔ اس کے بعد صدرِ پاکستان محمد ضیاء الحق  ؒ کی حکومت نے امتناعِ قادیانیت آرڈیننس جاری کرکے اکثریت کے احساسات اور جذبات کی ترجمانی کی۔ 
۹:۔۔۔۔۔ اس انکوائری رپورٹ میں قادیانیوں کی دو عبادت گاہوں پر ۲۸؍مئی ۲۰۱۰ء کے حملوں کا ذکر کرکے یہ تأثر دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ یہاں قادیانیوں کی عبادت گاہیں محفوظ نہیں ہیں۔ 
جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ۲۰۱۰ء میں بیرونی طاقتوں کی مداخلت کی وجہ سے پاکستان پر دہشت گردوں نے آرمی، نیوی اور ایئرفورس کے ہیڈکوارٹرز کے ساتھ ساتھ ایئرپورٹس، یونیورسٹیز، کالجز، اسکولز، مساجد، امام بارگاہوں، مزارات، پارکس اور مارکیٹوں پر ہزاروں کی تعدادمیں حملے کرکے نہ صرف ان مقامات کو تباہ کرنے کی کوشش کی، بلکہ ساتھ ساتھ ہزاروں لوگوں کی جانیں بھی لیں۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کی نیوی اور آرمی کے ہیڈکوارٹرز، انٹیلی جنس ایجنسی آئی۔ایس۔آئی کے دفاتر بھی ان حملوں سے محفوظ نہ رہ سکے۔ جب کہ قادیانی عبادت گاہوں پر دہشت گردی باہر کے ویزے حاصل کرنے کے لیے خود قادیانی قیادت کی شاطرانہ چال سمجھی گئی ہے۔ 
ہم قادیانیوں اور ان کی عبادت گاہوں پر حملوں کی پرزور مذمت کرتے ہیں، لیکن اس پُر تشدد دور میں پاکستان کی سا  لمیت کو دہشت گردی سے جس قدر خطرہ تھا، ہم سمجھتے ہیں کہ ان کی دو عبادت گاہوں پر حملہ پاکستانی ریاست کی سرپرستی میں نہیں کیا گیا، جیسا کہ رپورٹ میں تأثر دینے کی کوشش کی گئی۔ 
۱۰:۔۔۔۔۔قادیانیوں کی اس تیار کردہ رپورٹ جو بظاہر منسوب ارکانِ پارلیمنٹ کی طرف ہے، اس انکوائری رپورٹ نے برطانوی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ پاکستان کو دی جانے والی امداد کو قادیانیوں سے متعلق مطالبات کو تسلیم کرنے سے مشروط کرے۔
۱۱:۔۔۔۔۔یک طرفہ انکوائری رپورٹ میں ہائی کورٹ کے جسٹس جناب شوکت عزیز صدیقی کے ایک فیصلے کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے، جس میں انہوں نے مسلح افواج اور دیگر اداروں کی اہم پوسٹوں سے قادیانیوں کو ہٹانے کا کہا ہے۔ 
۱۲:۔۔۔۔۔قادیانیوں کی طرف سے تیار کردہ اس رپورٹ میں پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ قادیانیوں کو ووٹ کا حق، لٹریچر چھاپنے کی اجازت اور مذہبی آزادی دی جائے۔ قادیانی مخالف تقاریر اور مبلغین پر پابندی عائد کی جائے، جبکہ برطانوی حکومت سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ پاکستان پر دبائو ڈالے کہ قادیانی مخالف قوانین ختم کرے۔ قادیانیوں کے سکولز، کالج واپس کرے۔ قادیانی پناہ گزینوں کو برطانیہ میں بسایا جائے۔ رپورٹ میں قادیانیوں کو برطانیہ میں مستقل رہائش دلانے پر بہت زور دیا گیاہے۔ یوں لگتا ہے کہ اس ساری کوشش کا بنیادی محور یہی نکتہ ہے،جس کے حصول کے لیے رپورٹ کا شاخسا نہ کھڑا کیا گیا ہے۔ 
اس میں ایک اور اہم نکتہ نظر آتا ہے کہ برطانیہ میں میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کے ادارے ofcom اور چیریٹی کمیشن میں اس بات پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے کہ قادیانیوں کو قادیانی مت لکھا اور کہا جائے، بلکہ انہیں احمدی مسلم کہا اور لکھا جائے۔ یہ اصطلاح برطانیہ میں سرکاری سرپرستی میں مسلمانوں کے اوپر مسلط کی جارہی ہے۔ مسلمانوں کے زیرِ سایہ چلنے والے ریڈیو اور ٹی وی اسٹیشن کو یہ بات نہ ماننے پر جرمانے کیے جارہے ہیں۔
دوسری جانب مسیحی برادری مورمن ( mormons) جو ہواواونٹس (Jehovah witness)  طرح کی برادریوں کے ساتھ کرسچن نہیں لکھا جاتا، کیونکہ وہ عیسائیوں کے بنیادی عقیدے تثلیث کو نہیں مانتے۔ مسیحی برادری حکومت کو اجازت بھی نہیں دیتی کہ انہیں عیسائی لکھا یا مانا جائے۔ جب کہ قادیانیوں کے ساتھ مسلم لگا کر ایک منظم کوشش کے ذریعہ ان غیر مسلموں کو مسلمانوں پر مسلط کیا جارہاہے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ :
۱:- ہماری وزارت خارجہ کو چاہیے کہ بین الاقوامی سطح پر اس مسئلے کو اجاگر کرے کہ ہماری مسلح افواج اور عدلیہ‘ آزاد اور باوقار ادارے ہیں، ان کے فیصلے حقیقت سے خالی نہیں ہوتے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کا ماٹو ’’جہاد فی سبیل اﷲ‘‘ہے، جبکہ قادیانی جماعت کے بانی اور اس کے ارکان جہاد کے منکر ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فوج اور قادیانی ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔
۲: - پاکستانی وزارتِ خارجہ کو چاہیے کہ وہ پاکستان میں مقیم برطانوی ہائی کمشنر کو طلب کرکے وضاحت حاصل کریں کہ پاکستان کا مؤقف لیے بغیر یہ یکطرفہ انکوائری رپورٹ کیسے چھاپ دی گئی؟ اسے فوراً انٹرنیٹ سے ہٹایا جائے۔ یہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت ہے۔
۳: - اس رپورٹ میں ہندو، شیعہ اور مسیحی برادری کو بھی پاکستان کے خلاف فریق بنایا گیا ہے، لہٰذا ان برادریوں کے سرکردہ افراد کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کرکے برطانوی حکومت کو ایک واضح پیغام دیا جائے۔
۴:-پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذمہ داران اس مسئلے کو ہر سطح پر اُٹھا کر عوام الناس میں آگاہی اور شعور پیدا کریں۔
۵: - پاکستان کے انٹیلی جنس ادارے اس بات کی تحقیق کریں کہ لندن میں پاکستانی سفارت کار اس معاملے پر خاموش کیوں ہیں؟
۶: -اسلام اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتاہے، اس لیے حکومتِ وقت کو چاہیے کہ اقلیتوں کے تحفظ کو مزید یقینی بنایا جائے۔ 
۷: -حکومت پاکستان کو چاہیے کہ وہ قادیانیوں کو اس رپورٹ کے تیار کرنے کی بناپر جس سے  پاکستان کو بدنا م کرنے اور پاکستان پر اقتصادی پابندیاں لگوانے کے لیے پاکستان کے خلاف سازش تیار کی گئی ہے، اس جرم میں قادیانی جماعت کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے۔
۸: -حکومتِ پاکستان اور وزارتِ خارجہ، بیرونِ ملک پاکستانی سفارت خانوں کو حقائق پر مبنی بریفنگ دے اور تمام سفارت خانوں کی ڈیوٹی لگائے کہ وہ اپنے اپنے ممالک کو صحیح صورت حال سے آگاہ کریں اور انہیں بتائے کہ اس رپورٹ میں قادیانیوں نے پاکستان کو بدنام کرنے ، مشکلات میں ڈالنے، اور اقتصادی طور پر مزید نڈھال کرنے کی گھناؤنی اور مذموم کوشش کی ہے۔ ان قادیانیوں کی جو ملکی وقار، سالمیت اور استحکام کے خلاف سازشیں ہیں، ان کو ناکام بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ 
اللہ تبارک وتعالیٰ ہمارے ملک ، ملکی اداروں اور ملکی وقار کی حفاظت فرمائے، پاکستان کے اندرونی وبیرونی دشمنوں کو نیست ونابود کرے، ہمارے ملک کو استحکام، خوشحالی اور امن وآشتی کا گہوارہ بنائے، آمین

وصلی اللّٰہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیدنا محمد و علٰی آلہٖ و صحبہٖ أجمعین
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے