بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 نومبر 2019 ء

بینات

 
 

فقہ اور اُصولِ فقہ کی تدریس ! مسالکِ اربعہ میں ائمہ کے اختلاف کے بنیادی اجتہادی اُصول (تیسری اور آخری قسط)

فقہ اور اُصولِ فقہ کی تدریس !

مسالکِ اربعہ میں ائمہ کے اختلاف کے بنیادی اجتہادی اُصول

(تیسری اور آخری قسط)

 

اہم فائدہ
 

چلتے چلتے ایک لفظی تسامح کی نشاندہی کرتے چلیں کہ بعض حضرات فقہ اسلامی کی عصری تطبیق اور تصویرِ مسئلہ کی خارجی تمثیل کو جدید مسائل کا نام دیتے ہوئے خود رائی اور اجتہادِ جدید کی طرف لپکنے لگ جاتے ہیں، حالانکہ اب تک جدید کہے جانے والے تقریباً تمام مسائل کا حل فقہی فروع یا اُصول و قواعد کی صورت میں ہی بتایا گیا ہے، اس بابت یہ یاد رکھنا چاہیے کہ مسائل یا احکام نئے نہیں ہوتے، بلکہ ان کی صورتیں نئی ہوتی ہیں، فقہاء زمانہ کا کام ہوتا ہے جدید صورتوں کی قدیم فقہ کے ساتھ تطبیق کرنا، قدیم فقہاء کے اجتہادات کی بدولت فقہ ابداعی، تطبیقی اور تقدیری ہمارے سامنے آچکی ہے۔ 
ہمارا اجتہاد ان کے اجتہاد سے پائیدار نہیں ہوسکتا، اس لیے بلاوجہ فقہ قدیم سے جدید مسائل کے نام پر عدول کرنا نامعقول امر ہے۔ ہاں! اگر ایسی صورت پیش آجائے جس کا فقہ قدیم کے ذخیرہ میں نصاً، اصولاً، فرعاً، اثباتاًیا نفیاً کوئی حل نہ ملتا ہو تو اس کے حل کے لیے فقہاء امت کے وضع کردہ اُصولوں کی روشنی میں متدین و متعبد علماء کی مجلسِ مشاورت منعقد کی جائے گی اور وہ مجلس ایسی مشکلات میں اُمت کی دینی رہنمائی کرے گی۔ ایسے مسائل ان کے حل کے لیے رہنما اصول اور اجتہاد کے اصول و شرائط سے متعلق حضرت علامہ محمد یوسف بنوری v کے چند گراں قدر مقالات جو فتاویٰ بینات کے شروع میں مقدمہ کے طور پرشامل  ہیں، ان سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔
بعض جدت پسندوں کو یہ بھی خبط ہوتا ہے کہ قدیم فقہ فقہاء کے اپنے زمانے کے احوال و مسائل کے حل کے لیے اجتہادی کوششیں تھیں ،اب زمانہ بدل گیا ہے، زمانے کے حالات تبدیل ہوچکے ہیں ، لہٰذا پرانی فقہ اس زمانے کے لیے کارآمد نہیں ہوسکتی، بلکہ اس میں تبدیلی ناگزیر ہے ،اس فکر کو خبط کہنا ہی کافی ہے، کیونکہ اس فکر کے حامل لوگ فقہ کی حقیقت سے نا واقف ہیں، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ فقہی احکام چار قسم کے ہوتے ہیں:
۱:-احکامِ منصوصہ اتفاقیہ        ۲:-احکامِ اجتہادیہ اتفاقیہ        ۳:-احکامِ اجتہادیہ خلافیہ        ۴:-احکامِ جدیدہ غیر مصرحہ نفیاً و اثباتاً 
پہلی دو قسموں میں زمانہ کی تبدیلی کا کوئی بھی اثر قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ تیسری قسم میں قدیم مجتہدین کے اجتہا دسے باہر نکلنے کی حاجت ہے، نہ اجازت ہے۔ اگر اجتہاد ہوسکتا ہے تو چوتھی قسم میں ہوگا، اس کی ضرورت کا کسی کو انکار نہیں۔ اسی طرح وہ مسائلِ اجتہادیہ عرفیہ جن کی بنا عرف وعادت پر رکھی گئی تھی، ایسے مسائل میں تغیرِ زمانہ کی وجہ سے تغیرِحکم کی حقیقت قابل تسلیم ہے، ایسے مسائل میں ازسرِنو غورو فکر ہوسکتا ہے اور ہونا بھی چاہیے، مگر اس آخری قسم کے اجتہاد کی ضرورت باور کرانے کے ساتھ ساتھ مجتہدین کی اہلیت اور مطلوبہ شرائط کا سوال بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے، حیرت کی بات یہ ہے کہ معاملہ ہو دین کا اور اجتہاد کی اجازت دین بیزار مانگ رہا ہو تو اسے خبط کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے؟!
بہرکیف! حضرت بنوری رحمہ اللہ کے بقول ایسے قابلِ اجتہاد مسائل کے حل کے لیے انفرادی وشخصی کاوشوں کی بجائے ’’لجنۃ الاجتہاد‘‘ قائم کی جائے، جس کے ارکان میں کم ازکم یہ پانچ اوصاف بدرجۂ تمام پائے جاتے ہوں:
۱:-اخلاص    ۲:-تقویٰ    ۳:-قرآن وسنت وفقہِ اسلامی میں مہارت ووسعت       ۴:-دقتِ نظر وذکاوت        ۵:-جدید مشکلات کے سمجھنے کی اہلیت
جسے اجتہادِ جدید کا شوق ہو یا وہ اُمت کا درد رکھتا ہو تو ان شرائط سے آراستہ ہوکر’’لُجنۃ الاجتہاد‘‘ کارکن بنے، اور چوتھی قسم کے مسائلِ جدیدہ کے حل میں ضرور مساہمت اختیار کرے۔ اگر اجتہادِ جدید کا کوئی شائق اس سے آگے لپکنے کی کوشش کرے گا تو اسے دین کے ساتھ مزاحمت سمجھاجائے گا، اور اس کی مزاحمت کرنا علماء دین کا فریضہ شمار ہوگا۔
 فقہی احکام کی بناء علتوں پر ہوتی ہے، حکمتوں پر نہیں، مگر کسی نہ کسی حد تک حکمتوں پر نظر ہونا بھی ضروری ہے، مثلاً: قیاسِ شرعی اور استحسان کے تقابل کی صورت میں علتِ جامعہ کا تقاضا یہ ہوگاکہ قیاس کی رعایت کی جائے، مگر حکمت و مصلحت، متقاضی ہوگی کہ قیاسِ ظاہر سے عدول کرلیا جائے، حکمت کی اسی رعایت اور ترجیح کا دوسرا نام استحسان ہے۔ استحسان فقہاء کے ہاں فقہ کا ذیلی ماخذ بھی شمار ہوتا ہے، بظاہر اصل ماخذ کے مقابلے میں ذیلی ماخذ کی طرف التفات‘ قوی کے مقابلے میں ضعیف کی طرف التفات ہے، مگر حکمت و مصلحت اس کی مرجح بنتی ہے۔ اس حکمت کی رعایت بھی فقہاء کے ہاں اصل کا درجہ رکھتی ہے ،اس لیے فقہی مدرسین کو اپنے مطالعہ کے دوران فقہی احکام کے ماخذ،اصول اور علتوں کے ادراک کے ساتھ ساتھ حکمتوں پر اطلاع کی کوشش بھی کرنی چاہیے، اس موضوع پر سب سے عمدہ کتاب حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ  کی ’’حجۃ اللہ البالغۃ‘‘ہے،علامہ شاطبی رحمۃ اللہ علیہ  کی ’’الموافقات‘‘ کا ’’جزء المقاصد‘‘ بھی مفید ہے۔
اسی طرح حضرت حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’المصالح العقلیۃ فی الأحکام الشرعیۃ‘‘ (احکامِ اسلام عقل کی نظر میں) بھی قابلِ استفادہ کتاب ہے، ان کتابوں کے مطالعہ میں رہنے سے یہ فائدہ ہوگاکہ ہمیں اور ہمارے طالب علم کو شرعی احکام کی معقولیت کاادراک ہوگا، اور عقل پرست طبقے کے زیغ وضلال سے محفوظ رہ سکیں گے۔

تدریسِ اصولِ فقہ

اس موضوع پر تین جہات سے بات ہوگی:
۱:-تمہید و توطیہ         ۲:-توضیح و تطبیق        ۳:-تفریع و تذییل

تمہید

اس عنوان کے تحت اُصولِ فقہ کے مبادیات کا سرسری جائزہ پیش کیا جائے گا، جس میں اصولِ فقہ کا تعارف، تدوین، تاریخ، تقسیم و تنویع اور ا س فن کے وہ متعلقات جو عموماً درسیات سے دور رہتے ہیں۔ تمہید کا تقاضا تو یہی ہے کہ وہ مقصود وممہّد سے زیادہ طویل نہ ہو، مختصر ہی بتایا جائے۔

تعارف

اُصولِ فقہ کی تعریف کی متعدد تعبیرات میں سے آسان تعبیر یہ ہے کہ یہ علمِ فقہ تک رسائی دینے والے قواعد کی پہچان کا نام ہے۔ شرعی دلائل سے فقہی احکام کے استنباط واستخراج کا ملکہ فراہم کرنے والے قواعد کو اُصولِ فقہ کہا جاتا ہے۔ (کشاف اصطلاحات الفنون، ج:۱، ص:۲۸، ط:سہیل اکیڈمی لاہور)
اصل کا معنی دلیل، مرجع اور قاعدہ سے بھی کیا جاتا ہے۔ ان تمام اُمور کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اُصولِ فقہ ان بنیادوں کانام ہے جن پر فقہ اسلامی کی عمارت کھڑی کی گئی ہے، یا ان قواعد و طرق کا نام ہے جن کے ذریعہ دلائل شرعیہ سے فقہی مسائل کا استنباط واستخراج ہوا ہے۔
فقہی مسائل کے استنباط واستخراج کے اس عمل کے بارے میں اطلاع پانے سے پہلافائدہ یہ ہوگا کہ فقہاء امت نے فقہی مسائل کو جس دقتِ نظری اور نکتہ رسی سے مرتب کیاہے ،یہ ان کااحسانِ عظیم ہے، اور یہ کہ ان کی مشقتوں کو دیکھ کر فقہ کی اہمیت کا اندازہ لگایا جائے، دوسرا فائدہ یہ حاصل ہوگاکہ اگر کوئی اجتہادی شان کا حامل ہو اور وہ دلائل سے مسائل کا استنباط کرنا چاہے تو اس کے لیے یہ راستہ متعین ہے، مجتہدِ زمانہ کم از کم سابقہ مجتہدین کے اجتہادات کی بنیادوں سے شروع ہوکر چوٹیوں تک پہنچنے کی کوشش کرے، پھر اگر سابقہ اجتہادات پر اضافہ کی ضرورت محسوس کرتا ہو تو وہ اپنی خدمات پیش کرے، اُمت اسے بھی اعتماد سے نوازے گی۔

اُصولِ فقہ کی تاریخ 

اُصولِ فقہ جب ان بنیادوں کا نام ہے جن پر فقہی احکام کی تخریج ہوئی ہے۔ تو اس تعریف سے یہ فائدہ معلوم ہوتا ہے کہ اُصولِ فقہ کی تاریخ فقہ سے مقدم ہے، جس دور سے فقہ کی تاریخ بتائی جائے گی اس سے کچھ پہلے یا کم از کم اس کے ساتھ ہی اُصولِ فقہ کا آغاز بھی ماننا اور بتانا پڑے گا۔ فقہ کا وجود اُصولِ فقہ کے وجود کو  مستلزم ہے۔
چنانچہ فقہ اسلامی کی تاریخی تشکیل سے معلوم ہوتا ہے کہ فقہ اسلامی کا وجود اور آغاز خود صاحبِ شریعت a کے دور سے چلا آرہا ہے۔ اس وقت اُصولِ فقہ کی صورت کیا تھی؟ اُصولِ فقہ کے مفہوم سے بے خبر کے لیے یہ سوال بڑا اہم ہے، مگر اُصولِ فقہ کا مفہوم جاننے والوں کے لیے کوئی بھاری نہیں ہے، کیونکہ وہ دور‘ شریعت کے نزول کا دور تھا، کسی بھی موقع اور مسئلہ میں بیانِ حکم کے لیے دو اصول کے ذریعہ حکم دریافت کرنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا: ایک بذریعہ وحی، دوسرا بذریعہ اجتہاد۔
 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دورِ اطہر میں جو جو مسائل پیش آئے ان کا حل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہی دو ذریعوں سے پیش فرمایا، گویا آپ a کے زمانے میں علمی احکام (فقہی مسائل) کے اخذ و اظہار کے یہ دو اصول تھے، انہیں زمانۂ نبوت کے فقہی اصول سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ 
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پردہ فرما جانے کے بعد وحی کا سلسلہ منقطع ہوگیا اور اجتہاد کا راستہ باقی رہا۔ صحابہ کرام s نے اسی اجتہادی اصول کے ذریعہ منصوص مسائل کی روشنی میں غیر منصوص مسائل کا استنباط و استنتاج فرمایا اور آگے چل کر اس سنت کو اپناتے ہوئے ائمہ مجتہدین نے سلسلۂ اجتہاد کو ضرورتِ مسائل کی بنیاد پر وسعت دی اور اس میدان میں نمایاں نام و مقام امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ  کو نصیب ہوا۔ اس لیے انہوں نے منصوص سے غیر منصوص کے استنباط و استنتاج کے اصول و فروع متعارف کرائے، پھر ان کی عیال داری میں یہ سلسلہ دینِ اسلام کی چارگانہ تعبیر بن گیا، بایں معنی اصطلاحی و عرفی فقہ اور اصول فقہ کے بانی و مدونِ اول امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ  ہی ہیں۔ (ابو الوفاء الافغانی، مقدمہ اصول السرخسی، ج:۱، ص:۳، دار الکتب العلمیۃ) پھر آپ کی تبعیت میں امام ابو یوسف یعقوبؒ ،امام محمد بن حسن الشیبانیؒ یا امام شافعی رحمۃ اللہ علیہم میں سے کسی کے بارے میں اولیت کا قول کیا جائے تو امرِ اضافی کے طور پر وہ بھی درست ہے، البتہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ  کی کتاب ’’الرسالۃ‘‘ کو اُصولِ فقہ کی کتاب قرار دینے کی صورت میں انہیں اُصولِ فقہ کی تدوین کی بجائے متداول تالیف میں اسبقیت کا اعزازحاصل رہے گا۔ تدوینِ اُصولِ فقہ کے موضوع پر مولاناسید مناظر احسن گیلانی رحمۃ اللہ علیہ  کی کتاب ’’تدوینِ فقہ واُصولِ فقہ‘‘ بہترین ذخیرہ ہے۔

اُصولِ فقہ کے مناہج اور اہم کتبِ مناہج

l  اُصولِ فقہ پر باقاعدہ منظم منہجی طریقے سے جوکام ہوا وہ چوتھی، پانچویں اور چھٹی ہجری میں ہوا، اس کے بعد کا جو کام ہے وہ تقریباً تعبیرِ جدید و تفتُّن فی العبارۃ یا جمع فی الطرق کا درجہ رکھتا ہے، ان ادوار میں اُصولِ فقہ کی تدوین کے تین مناہج متعارف ہوئے:
۱:-منہج المتکلمین / الشافعیہ        ۲:-منہج الفقہاء /الحنفیۃ             ۳:-منہج المتاخرین الجامع بین الطریقین
l  متکلمین کے طریق کو شافعیہ ومالکیہ کا طریق بھی کہا جاتا ہے، اس طبقہ والے صرف قواعد ذکر کرتے ہیں، قواعد کا دائرہ کار اور دلائل تک جاتے ہیں، جزئیات کی تطبیق کا التزام نہیں کرتے، جیسے امام الحرمین جوینیؒ کی ’’البرہان فی أصول الفقہ‘‘ (عبدالملک بن عبداللہ بن یوسف بن محمد الجوینی الملقب بامام الحرمین [۴۱۹ھ-۴۷۸ھ]) اور امام غزالیؒ کی ’’المستصفٰی‘‘ (ابوحامد محمد بن محمد الغزالی الطوسیؒ) وغیرہ۔ قاضی عبدالجبار المعتزلی کی ’’العمد‘‘، ابوالحسین بصری معتزلی کی ’’المعتمد‘‘ (المعتمد فی أصول الفقہ، محمد بن علی الطیب ابوالحسین البصری المعتزلی [متوفی:۴۳۶ھ]) بھی اسی منہج کی کتابیں شمار ہوتی ہیں، پھر ان کتابوں کے اسالیب کو امام رازیؒ [متوفی:۶۰۶ھ] نے ’’المحصول فی علم الأصول‘‘ میں اور علامہ آمدیؒ نے ’’الإحکام فی أصول الأحکام‘‘ (ابوالحسن سیدالدین علی بن ابی علی بن محمد بن سالم الثعلبی الآمدی [متوفی:۶۳۱ھ]) میں جمع فرمایا ہے۔
l  فقہائے حنفیہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے ائمہ کے اجتہادی مسائل کو سامنے رکھ کر اُصول وقواعد مرتب کرتے ہیں، قواعد کے ساتھ ہی تفریع کے لیے جزئیات ذکر کرتے ہیں، جس سے حنفی اُصول فقہ، اصول وجزئیات میں ارتباط اور تطبیق کا مظہر بن جاتی ہے، اور محض نظری کی بجائے تطبیقی اُصولِ فقہ بن جاتی ہے۔
حنفی طریق پر تالیف شدہ کتابوں میں دبوسی کی ’’تقویم الأدلۃ‘‘ (تقویم الأدلۃ فی أصول الفقہ، ابوزید عبیداللہ بن عمربن عیسی الدبوسی الحنفی[متوفی:۴۳۰ھ]) اور ’’ تاسیس النظر‘‘ معروف ہیں، اس کے علاوہ ابومنصور ماتریدیؒ کی ’’ماخذ الشریعۃ‘‘ اسی دور کی تالیف ہے۔
اس فن کی سب سے عمدہ کتاب امام ابوبکر جصاص کی ’’الفصول فی الأصول‘‘ (احمد بن علی ابوبکر الرازی الجصاص الحنفی [متوفی:۳۷۰ھ]) ہے، أصول البزدوي(للامام فخرالاسلام ابی الحسن علی بن محمد بن حسین البزدوی [۴۰۰-۴۸۲ھ]) اور أصول السرخسي بھی ہے۔ أصول البزدوي کی جامع شرح ’’کشف الأسرار‘‘ للعلامہ عبدالعز البخاری ہے (کشف الأسرار شرح أصول البزدوي، عبدالعزیزبن احمد بن محمد علاء الدین البخاری الحنفی [متوفی:۷۳۰ھ]) ، اُصولِ سرخسی کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے، اس کتاب کاایک امتیاز یہ بھی ہے کہ اس کی سنت کی بحث حنفی اُصولِ حدیث کی جامع تقریر کا درجہ رکھتی ہے۔
l  منہج المتاخرین جوجامع بین الطریقین کہلاتاہے ،اس طرز پر امام احمد بن علی البغدادی الحنفی الشہیر بابن ساعاتی [متوفی:۶۹۴ھ] کی ’’بدیع النظام الجامع بین کتابی البزدوي والإحکام‘‘ ، صدرالشریعۃ عبیداللہ بن مسعود کی’’ تنقیح الأصول‘‘اور اسی کی شرح’ ’التوضیح فی حل غوامض التنقیح‘‘ اسی پر تفتازانی کاحاشیہ ہے: ’’التلویح‘‘کے نام سے، یہی مجموعہ درسِ نظامی کا حصہ ہے’’ شرح التلویح علی التوضیح لمتن التنقیح‘‘کے نام سے۔اسی طرح علامہ سبکی رحمۃ اللہ علیہ  کی [متوفی:۷۷۱ھ]’’ جمع الجوامع‘‘ ہے، ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ  [متوفی:۸۶۱ھ] کی ’’التحریر فی أصول الفقہ‘‘ ہے، جس کی شرح ابن امیر حاج[متوفی:۸۷۹ھ] نے ’’التقریر والتحبیرفی شرح کتاب التحریر‘‘ کے نام سے لکھی، علامہ زاہد الکوثری رحمۃ اللہ علیہ  کی تحریروں میں ’’التحریر‘‘ اور’’ التقریر‘‘ کا تذکرہ بڑی اہمیت کے ساتھ ملتاہے۔’’مسلم الثبوت‘‘ (محب اللہ بن عبدالشکور البھاری الہندی)بھی اسی ڈَگر کی کتاب ہے، جس میں علامہ سبکی اور محقق ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہما  کے ذکرکردہ اصولی مباحث کی تلخیص اور ترتیب نوفرمائی گئی ہے، ’’فواتح الرحموت‘‘ (عبدالعلی محمد بن نظام الدین الانصاری الہندی) کے نام سے اس کی معروف شرح ہے، اور ’’مسلم الثبوت‘‘ کے ہیبت ناک رعب ورھب کوآسانی سے دورکرنے کے لیے ایک آسان ترین شرح ہمارے استاذگرامی حضرت مولانامحمد انورالبدخشانی مدظلہم نے ’’إزالۃ الرھبوت عن مشکلات مسلم الثبوت‘‘کے نام سے لکھی ہے۔
اسی موضو ع پر محمد بن علی بن محمد بن عبداللہ الشوکانی رحمۃ اللہ علیہ [متوفی:۱۲۵۰ھ] نے ’’إرشاد الفحول إلٰی تحقیق الحق من علم الأصول‘‘ کے نام سے کتاب لکھی، نواب صدیق حسن خانؒ [متوفی: ۱۳۰۷ھ] نے ’’حصول المأمول من علم الأصول‘‘ کے نام سے علامہ شوکانیؒ کی کتاب کی تلخیص کی ہے۔ علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ  کی اس کتاب کے حوالہ جات علامہ کوثری رحمۃ اللہ علیہ  کی تحریروں میں اور دیگر کئی باحثین کی ابحاث میں ملتے ہیں، گویاکہ اس کتاب سے ہمارے ہاں خوب استفادہ کیا گیا ہے، البتہ علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ  کا ایک خاص مزاج ہے، اور اس گہرے موضوع میں کہیں کہیں وہ اپنی روایتی ظاہربینی کا اظہار فرماجاتے ہیں، مگر مجموعی لحاظ سے یہ کتاب اصولی مباحث کا مکمل احاطہ کرتی ہے، فقہاء کے اختلاف کو کماحقہ نقل کرتی ہے،عبارت وتعبیرات عام فہم، سادہ، مختصر اور واضح ہیں، اس موضوع کی دیگر کتب کی طرح تعقیدات واغلاقات سے پاک ہے۔ علامہ کے خاص مزاج کالحاظ رکھتے ہوئے یہ کتاب متاخرین اصولیین کے منہج کو سمجھنے کے لیے کافی شافی ہے۔

اُصولِ فقہ کے مباحثِ خمسہ

اُصولِ فقہ کے مباحث کو حصر اور ضبط میں لانے کے لیے پانچ بنیادی مباحث اور ان مباحث کے مدلولات سے قدرے واقفیت بھی ہونی چاہیے، ان مباحث کی طرف فقہ کے تعارف میں بھی اشارہ کیا جاچکا ہے، وہ مباحث یہ ہیں:
۱:-حاکم        ۲:-حکم       ۳:-ادلۃ الاحکام       ۴:-مقاصد و مدارجِ احکام       ۵:-دلالۃ الکلام

حاکم

حاکم کا مطلب حکم دینے کی اتھارٹی یا تحلیل و تحریم کا فیصلہ کرنے کا مختار و مجاز کون ہے؟ یہ مسئلہ فقہ سے زیادہ علم کلام کے ساتھ تعلق رکھتاہے،اہلِ اسلام کا عقیدہ ہے کہ ’’أَلاَ لَہٗ الْحُکْمُ‘‘ (الانعام : ۶۲) ’’إِنِ الْحُکْمُ إِلَّا لِلّٰہِ‘‘ (یوسف:۶۷) یعنی کسی فعل کا حکم متعین کرنا اللہ تعالیٰ کاہی کام ہے، کسی اور ہستی یاعقل کا اس میں کوئی دخل نہیں ماناجاسکتا۔ شرعی احکام میں عقل کو حکم/حاکم، سمجھنے والے طبقے کا تعلق اہلِ اعتزال سے تو ہوسکتا ہے، مگر اہلِ سنت سے نہیں ہوسکتا۔ اُصولِ فقہ کے باحثین اور مدرسین کو دورانِ درس یاقبل از درس اس بحث کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ گمراہی کی بیشتر نالیاں عقل پرستی کے بحرِ مردار سے ہی نکلتی ہیں۔

حکم 

حکم کی حیثیت کیاہے؟ متعلقہ وصف کے ذریعہ اس کی نشاندہی کی جائے،یعنی فرض ، واجب ، سنت ، حلال،حرام ، مباح ومکروہ ،جائز وناجائز وغیرہ جو حکم کے القاب ہیں،ان سے واقفیت ہونی چاہیے ، کیونکہ مطلق امر وجوب سے لے کر اباحت تک مختلف مطالبات کے لیے استعمال ہوتاہے، اسی طرح نہی کا صیغہ حرام سے لے کر مکروہِ تنزیہی تک استعمال ہوتا ہے۔ جن فقہی احکام کے ہم اُصول پڑھنے جارہے ہیں، ان اُصول میں احکام کی یہ تفصیل اگر صحیح طور پر نہ سمجھی جائے تو کسی مسئلہ کا حکم متعین کرنے میں غلطی سے حفاظت نہیں ہوسکے گی، اگر چہ یہ کام افتاء کے دائرے میں آتا ہے، مگر افتاء کے لیے فقہ اور اُصولِ فقہ سے مکمل واقفیت ضروری ہے، اس ضمن میں اُصولِ فقہ کے طلبہ کو یہ ذہن نشین کرایا جائے کہ مسائل کے احکام کا بیان اور ان کی درجہ بندی کا تعین اس اُصولی عالم کا کام ہے جو اُصول میں کمال ومہارت کے بعد افتاء کے منصب سے عملاً وابستہ ہو، یہ ہر عالم کا کام نہیں ہے۔

ادلۃ الاحکام

ادلۃ الاحکام ،ادلۂ شرعیہ یاادلۂ تفصیلیہ سے مراد وہ مآخذ ہیں جہاں سے فقہاء مجتہدین نے فقہی واجتہادی مسائل اخذ فرمائے ہیں یا وہ طرق ہیں جن طرق سے فقہی فروعات حاصل کی گئی ہیں، ایسے مآخذ ،بنیادیں اور طرق دو قسم کے ہیں:
۱:-اصلی /اتفاقی مآخذ        ۲:-ذیلی/اختلافی مآخذ
مآخذِ اصلیہ اتفاقیہ چار ہیں:
۱:-کتاب اللہ    ۲:-سنت رسول اللہ       ۳:-اجماع      ۴:- قیاس
مآخذِ فرعیہ اختلافیہ آٹھ ہیں:
۱:-قولِ صحابی    ۲:- شرائع من قبلنا       ۳:- استحسان        ۴:-مصالحِ مرسلہ           ۵:-سدِ ذرائع    ۶:- استصحابِ حال       ۷:-عرف وعادت   ۸ :-تعاملِ اخیار 
ان میں سے بعض حنفیہ کے ہاں حجت ہیں، دیگر ائمہ اس کا انکار فرماتے ہیں، بعض دیگر کے ہاں معتبر ہیں اور حنفیہ کو تسلیم کرنے میں تامل ہے۔ یہ ایک مستقل بحث ہے۔ ان مآخذ کے تعارف پر مستقل کتابیں بھی لکھی گئی ہیں ، شیخ ابوزہرہ مصری v نے ائمہ مجتہدین کے تعارفی سلسلوں میں ’’الأصول التی بنی علیہاالإمام ۔۔۔۔۔۔ فقہہٗ‘‘ کے مستقل عنوان کے تحت اس موضو ع کی تنقیح و تہذیب فرمائی ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اجمالی طور پر اپنے طالب علم کو یہ بتائیں کہ فقہی مآخذ کی فہرست کیاہے،اور ہماری درسی کتاب میں اس ماخذ کے مکمل تعارف سے کہاں کہاں تعرض کیاگیا ہے، اور کہاں کہاں رہ گیا ہے، مثلاً: اصول الشاشی میں زیادہ تر حصہ اُصولِ فقہ کی صرف ایک بحث ’’دلالۃ الکلام‘‘ کے گرد گھومتا ہے، مآخذ میں سے صرف ادلہ اربعہ اتفاقیہ سے بحث ہے، یہ کتاب اُصولِ فقہ کے سارے مباحث کو جامع نہیں ہے، جو طالب علم صرف روایتی درسیات پڑھ کر اُصولِ فقہ کو اول آخر اُصول سمجھ کر فارغ ہوگا، یقیناً وہ اُصولِ فقہ سے متعلق ناقص خیال کا حامل ہی کہلائے گا، اس لیے مآخذ کا قدرے تعارف‘ مبادیات کے درس کے طور پر ہوناچاہیے، یا ان ذیلی مآخذ سے متعلق درسی کتاب میں جہاں اشارہ یا اجمالی تذکرہ ملتا ہے، وہاں پر قدرے تفصیلی گفتگو کرنی چاہیے۔

مقاصدِ شریعت ومدارجِ احکام 

احکامِ شرعیہ کے مقاصد، حِکم، اسرار و علل عقلیہ کیا ہیں؟ یہ بھی اُصولِ فقہ کے مباحث میں شامل ہے، مگر ہماری درسی کتب میں اس طرف رہنمائی بڑی دیر سے مخصوص لوگوں کو تخصصات میں نصیب ہو تو ہو، اس سے قبل نظر نہیں آتی، تخصصات میں جہاں ’’الموافقات للشاطبيؒ‘‘، ’’حجۃ اللّٰہ البالغۃ‘‘ اور ’’ الأشباہ والنظائر‘‘ پڑھائی جاتی ہیں، وہاں یہ بحث سامنے آتی ہے، ورنہ عام طلبہ کی نظروں سے یہ بحث اوجھل رہتی ہے، پس اختصار کے ساتھ اتنا بتایا جائے کہ احکامِ شرعیہ کے عمومی مقاصد پانچ ہیں: 
  ۱:-حفظِ دین     ۲:-حفظِ نفس    ۳:-حفظِ نسل    ۴:-حفظِ مال     ۵:-حفظِ عقل
(الموافقات فی اصول الشریعۃ لابراہیم بن موسی الغرنالمی الشاطبی [متوفی:۷۹۰ھ]، کتاب المقاصد، النوع الاول فی بیان قصد الشارع فی وضع الشریعۃ ، ج:۱، ص:۸، دارالکتب العلمیۃ)
 ان مقاصد کو فقہی کتابوں میں چار بڑے عناوین کے تحت منقسم احکام کے ضمن میں پھیلایا گیا ہے، یعنی عبادات، مناکحات ومعاشرت، معاملات اورخصومات وغیرہ، ان مقاصدِ خمسہ کو بنیادی انسانی حقوق بھی کہا جاتا ہے، اور فلسفۂ حیات سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے، ان اُمور کی توضیح و تنویع سے بنیادی فائدہ یہ ہوگاکہ حیاتِ انسانی کا حقیقی فلسفہ اور حقوقِ انسانی کی محیط نگرانی کا ضابطہ صرف اور صرف اسلام میں ہے اور جو لوگ دنیا میں انسانی حقوق کے دعویدارا ورعلمبردار بنے ہوئے ہیں وہ انسانی حقوق کے نام پر حق تلفیوں کے مرتکب ہورہے ہیں۔ غرض یہ کہ جو امر اِن مقاصدِ خمسہ میں سے ایک یاچند کے تحفظ میں معاون ومحرک بنتا ہو اُسے حکمت ومصلحت کہا جائے گا، اور ایسی حکمت ومصلحت کااثر شرعی حکم کے لیے قابلِ اعتبار مانا جائے گا۔
 جب کسی چیز پر کسی کا استحقاق مانا جائے تو اس کا درجہ کیا ہے؟ جس چیز کو ہم حاصل کرنا چاہ رہے ہیں، اس چیز کے حصول یاادائیگی میں کوئی حد بندی اور درجہ بندی بھی ہے یانہیں؟ شریعتِ اسلامیہ کسی حق کو تسلیم کرتے ہوئے اور صاحبِ حق کے لیے حق ثابت کرتے ہوئے احکامِ شرعیہ کے حوالے سے درجہ بندی کی قائل ہے، جس طرح احکام میں فرض، واجب اور حرام ومکروہ وغیرہ کی درجہ بندی ہے، اسی طرح احکام کے اثبات اور حقوق کے تسلیم کرنے کے لیے بھی درجہ بندی ہے، اس کو مدارجِ احکام سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔    
جب کوئی انسان کسی چیز کو اپناحق قرار دے کر اس کے حصول کے درپے ہو تو سب سے پہلے اس حق کی جائز اور ناجائز کے اعتبار سے تشخیص ضروری ہوتی ہے، پھر اگر جائز قرار پائے تو پھر اس میں تفصیل ہے کہ ہر جائز ومباح پر انسان کا حق تسلیم کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ اگر تسلیم کیا جائے تو کس حیثیت میںـ؟ فقہائے کرام نے ان باریکیوں اور گہرائیوں کو سامنے رکھتے ہوئے بندوں کے استحقاق سے متعلق احکام کی درجہ بندی کی وضاحت فرمائی ہے، یعنی جس چیز کو آپ حق سمجھ کر حاصل کرناچاہتے ہیں، وہ آپ کے لیے ضرورت کے درجہ میں ہے ،حاجت کے مرتبے میں ہے،تحسین کے رتبے میں ہے، تعیُّش کے  احاطے میں ہے یا فضول کے دائرے میں ہے؟ انسان کے ہاں قابلِ استحقاق چیزوں کی اسی تقسیم کو اُصولیین ضرورت، حاجت، منفعت، زینت اور فضول سے بھی تعبیر کیا کرتے ہیں۔
شرعی احکام کے لیے وضع کردہ یہ مدارج فی زمانہ اصولی فقیہ کے پیشِ نظر ہونا انتہائی ضروری ہیں، اس لیے کہ مغربی معاشیین نے ضروریات و تعیُّشات کو خلط ملط کرکے مغربی معاشی نظام کو زبردست ہوّا بنادیا ہے اور ہر خواہش کی تکمیل کو ضرورت باور کرایا جاتا ہے، پھر ہمارے بعض اسلامی معاشیین جب فقہ المعاملات کے راستہ سے مغربی معاشی نظام کا جائزہ لینے جاتے ہیں تو جس تعیُّش اور آسائش کو مغرب نے ’’ضرورت‘‘ کہہ کر جواز اور رواج بخشا ہوتا ہے، یہ اسلام کار لوگ بھی اُسے ’’ضرورت‘‘ کہہ کر سندِ اسلام دینے بیٹھ جاتے ہیں اور مغرب کی پھیلائی ہوئی معاشی صورتوں پر اسلامی لیبل لگا کر اسلامی معیشت کے قیام و نفاذ کے شادیانے بجانے لگ جاتے ہیں، حالانکہ ان کے لیے یہ سمجھنا مشکل نہیں تھا کہ مغرب کے ’’نظریۂ ضرورت‘‘ اور اسلامی ’’قاعدۂ ضرورت‘‘ کے درمیان لفظی قربت کے باوجود زمین و آسمان کا فرق ہے۔
ہمیں چاہیے کہ انسان کے بنیادی حقوق ،احکامِ شرعیہ کے مقاصدِ خمسہ اور مدارجِ احکام کے مراتبِ خمسہ کے بارے میں دورانِ درس کچھ نہ کچھ معلومات اپنے اُصولی طالب علم کو دینے کی کوشش کریں۔ اس کے بغیر بظاہر اُصولِ فقہ کی ابحاث ادھوری رہ جاتی ہیں۔

دلالۃُ الکلام

اُصولِ فقہ کے مباحث میں پانچویں بحث ’’دلالۃ الکلام‘‘ ہے۔ ’’دلالۃ الکلام‘‘ کا مفہوم یہ ہے کہ ہمارے فقہی مآخذ بالخصوص قرآن و سنت کی زبان عربی ہے۔ عربی تعبیرات، گفتگو کے اسالیب اور کلمات کے مقاصد اور محاورات سے واقفیت لازمی ہے، اس کے بغیر فقہی احکام کے مدلول و مصداق کا تعیُّن مشکل ہوتا ہے، مثلاً: ’’کُلُوْا وَ اشْرَبُوْا‘‘ بھی امر ہے اور ’’أَقِیْمُوْا الصَّلٰوۃَ  وَ اٰتُوْا الزَّکٰوۃَ‘‘بھی امر ہے، ’’فَمَنْ شَائَ فَلْیُؤْمِنْ وَّمَنْ شَائَ فَلْیَکْفُرْ‘‘ میں ایمان اور کفر دونوں کے لیے صیغۂ امر لایا گیا ہے۔ یہ امر قابلِ غور ہے کہ صیغۂ امر کب اور کہاں کس معنی کے لیے استعمال ہوتا ہے؟ اگر امر کو صرف وجوب کی دلالت کے لیے مانا جائے تو اس سے بہتیرے شرعی احکام میں خلل آئے گا۔
اسی طرح حرف کی بحث میں ’’واو‘‘ ، ’’فاء‘‘ اور ’’باء‘‘ وغیرہ جب کسی حکم کے ساتھ ہوں تو وہاں ان حروف کے استعمالات کا مکمل ادراک لازمی ہے، جو ’’واو‘‘ کے استعمالات سے واقف ہوگا وہی یہ سمجھ سکے گا کہ ’’واو‘‘ جمع کے لیے ہے یا ترتیب کے لیے ہے، وغیرہ وغیرہ، اسی طرح ’’فاء‘‘ تفریع کے لیے ہے، عطف کے لیے ہے یا جزا کے لیے ہے۔ اُصولِ بزدوی واُصولِ سرخسی میں اُصولِ فقہ کی اس بحث کو اہمیت کے ساتھ ابتدائی ابحاث میں جگہ دی گئی ہے۔     (اُصول البزدوی، باب الامر، ص:۱۹، ط: نور محمد)
اس لیے اُصولِ فقہ کے اساتذہ درس کے دوران عربی زبان کے دلالتی پہلو کو بطور خاص اہمیت دیں، ہماری کوشش یہ رہنی چاہیے کہ ہم اُصولِ فقہ سمجھنے اور سمجھانے کے ساتھ خود اُصولِ فقہ کو بھی تمام مباحث کے ساتھ سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کریں۔

توضیح وتطبیق

تمہیدی گفتگو کے بعد اب اُصولِ فقہ کی تدریس کے توضیحی پہلو کی طرف آتے ہیں، یعنی اُصولِ فقہ کی جوکتاب شاملِ درس ہے، اس کتاب کے مندرجات کی تفہیم کے لیے مدرس کو کیا کرنا چاہیے؟ اور یہی ہمارا بنیادی مقصد ہے، اور اس کو درج ذیل امور کاالتزام کرنا پڑے گا:
۱:… سبق کی تیاری۔۔۔ ۔۔یہ عمل ہرکتاب کے لیے کرنا ہوتا ہے، جیسے فقہ کی تیاری، مطالعہ اور ضبط کی ترتیب عرض کی گئی ہے، یہ عمومی ہدایت ہے۔ تیاری کے سلسلہ میں استاذ اور طالب علم دونوں کو تیاری کرکے آنے کی ضرورت ہے،جس کااوپر بیان گزر چکا ہے۔
۲:…طالب علم کو عبارت فہمی کی عادت ڈالنے کی محنت کرنا، عبارت فہمی کے لیے صحیح عبارت خوانی ضروری ہے اور صحیح عبارت خوانی کے لیے تلفُّظ، ادائیگی،اعراب کی درستگی اور جملوں کی ابتدا وانتہا کا علم ہونا ضروری ہے، اس مقصد کے لیے موقع بموقع صرف ونحو سے استمداد اور تذکار ضروری ہوتا ہے۔
۳:…عبارت کا صحیح ترجمہ اور مفہوم طالب علم سے کہلوایاجائے،شروع شروع میں یہ مشق زیادہ کی جائے، تاکہ طالب علم عادی ہوناشروع ہوجائیں۔
۴:…طالب علم کی دلچسپی حاصل کرنے اور استعداد کو بیدار کرنے کے لیے قدیم طرز پر طالب علم سے آمدہ سبق کی تیاری کرکے استاذ کے گھنٹے میں طلبہ کے سامنے سبق پیش کرنے کی محنت بھی کرائی جائے، پھر طالب علم کے فہم میں جو کمی رہ گئی ہو اُستاذ اس کی نشاندہی کرکے کمی دورکرنے کی کوشش کرے، اور آخر میں سبق کا خلاصہ ’’آمادگی‘‘ کے انداز میں استاذ طلبہ کے سامنے پیش کرے۔
۵:… درس کی مقدار میں توازن کالحاظ بہت ضروری ہے، مبادیات کے طور پر ذکر کردہ مباحث یا تحلیلِ عبارت سے متعلق مشقی فوائد کا یہ مطلب قطعاً نہیں لینا چاہیے کہ شروع شروع میں ہم کتاب سے خارج مباحث پر پوری توانائی صرف کریں اور کتاب کے مندرجات کی نوبت آنے پر محض نصاب پورا کرنے کی فکر میں سبک رفتاری کا شکار ہوجائیں، اس کمزوری سے بچنے کے لیے کم از کم تین اُمور کا التزام مفید ہوگا:
الف:    مدرس نے سبق کی تیاری کے دوران تفہیم کے لیے اور تسہیل کے لیے جو درس کا خاکہ بنایا ہے، درسی تقریر کو اسی تک محدود رکھنے کی کوشش کرے۔
ب:    مقررہ نصاب کے صفحات یا مباحث کا اندازہ لگاکر یومیہ درس کی مقدارِ خواندگی طے کرلی جائے، مثلاً: آدھا صفحہ، پورا صفحہ یا دو صفحے وغیرہ طے کرلیے جائیں، اگر آج ہدف پورا نہیں ہورہا تو اگلے دن یا دنوں میں اس کی کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی جائے۔
ج:    یہ سب کچھ مکمل حاضری کی صورت میں ہی ممکن ہوسکتا ہے، یعنی گھنٹے اور مہینے کی حاضری دونوں مکمل رکھی جائیں۔
۶:… حنفی اُصولِ فقہ دیگر فقہی اُصولوں کے مقابلے میں ممتاز اور سہل ہیں، بایں معنی کہ ہمارے اُصول محض نظری نہیں ہیں، بلکہ تطبیقی ہیں، اصل کے ساتھ فرع بھی توضیح وتطبیق کے طور پر موجود ہوتی ہے، اس تطبیق وتوضیح سے مناسبت وممارست پیدا ہونا درحقیقت کتاب فہمی ہے، اور کتاب پڑھنے کا ایک مقصد ہے، اور ہمارے ہاں اسی تطبیق کی مہارت کو اُصولِ فقہ کی مہارت کہا جاتا ہے، اس تطبیق و توضیح کے لیے در ج ذیل اُمور کا التزام معاون ہوسکتا ہے:
۱لف:-    اصل کو عام فہم انداز میں پہلے بتایا جائے، اس کے بعد بطور مثال کے کتاب میں ذکر کردہ تفریع یا تفریعات ذکرکردی جائیں، مثلاً: کہا جاتا ہے کہ نصِ قرآنی کے مدلولِ خاص پر خبرواحد سے زیادتی کرنا حنفیہ کے ہاں جائز نہیں، جس کی دوسری مناسب تعبیر یہ ہے کہ خبر واحدکے ذریعہ نصِ قرآنی سے ثابت شدہ حکم جیساحکم ثابت نہیں ہوسکتا۔ اس کی یہ تعبیر بھی کی جاسکتی ہے کہ اثباتِ حکم کے لیے خبرِ واحد کتاب اللہ کے ہم پلہ نہیں ہوسکتی، مثلاً: آیتِ وضو سے وضو کے ارکانِ اربعہ کی فرضیت ثابت ہے، اخبارِ آحاد سے تسمیہ، نیت، موالات، ترتیب اور تیامن ثابت ہوتا ہے، اگر اسے فرض کی مانند کہیں تو خبر واحد اور کتاب اللہ کے درجہ میں فرق ختم ہوجاتا ہے، حالانکہ دونوں ثبوت کے اعتبار سے برابر نہیں ہیں، جب اصل یہ ہے کہ خبرواحد اور کتاب اللہ کے مرتبوں میں تفاوت ہے تو ان سے ثابت ہونے والے احکام میں بھی تفاوت ہونالازمی ہے، لہٰذا اعضاء وضوسے متعلق کتاب اللہ کا حکم فرض ہوگا،اخبارِ آحاد کا مفاد سنت ہوگا، اگر وضو عبادتِ غیر مقصودہ نہ ہوتی تو واجب بھی کہہ سکتے تھے۔
ب:-    اس تطبیقی عمل میں مزید افادیت کے لیے کتاب کی مثالوں سے ہٹ کر بھی مثالیں بتائی جائیں، تاکہ تطبیق کا یہ عمل کتاب کی تفہیم تک محدود نہ رہے۔ا س کے لیے اُصولِ فقہ کی زیرِدرس کتاب کے علاوہ بقیہ کتابوں سے بھی استفادہ کیاجائے، بالخصوص ماضی قریب کے مؤلفین کی کتابوں سے استفادہ کیا جاسکتا ہے، شیخ ابوزہرہ مصری، شیخ وہبہ زحیلی اور شیخ علی الخفیف  رحمۃ اللہ علیہم کی کتابیں قابلِ استفادہ ہیں، ان کتابوں سے تعبیر کی سہولت کا فائدہ بھی حاصل ہوگا، جب کہ ہماری قدیم کتب میں سے ’’الأشباہ والنظائر‘‘لابن نجیم اور ’’تقویم الأدلۃ‘‘ لأبی زید الدبوسی خوب معاون ہوسکتی ہیں۔
ج:-    کتاب کی بعض مثالیں اصل پر بمشکل منطبق ہوتی ہیں، ایسے موقع پرخارجی مثالوں کے ذریعہ اصل سمجھادیں، اصل اور مثال کے درمیان عدمِ انطباق کی باادب نشاندہی کردی جائے، مثلاً: اصول الشاشی کے درس میں حقیقت ومجاز کی بحث پڑھتے ہوئے حقیقتِ متعذرہ کی مثال آتی ہے: ’’إذا حلف لایأکل من ھٰذہ الشجرۃ ۔۔۔ لوحلف من عین الشجرۃ لایحنث‘‘ یہاں محلوف علیہ عدمِ اکل ہے، جسے حقیقتِ متعذرہ کی مثال بنایا گیا ہے، حالانکہ عدمِ اکل متعذر نہیں ہے، اکل متعذر ہے۔ اس اصل اور مثال کے درمیان تطبیق میں روایتی تکلف کی بجائے اگر آسان انداز میں یوں کہا جائے: ’’واللّٰہ لأٰکُلَنَّ ھٰذاالجبلَ الضخمَ مبتلعًا وإلا عليَّ کذا وکذا‘‘ تو شاید بات بآسانی سمجھ آجائے، تطبیق وتعبیر کی سہولت کے لیے علامہ شوکانی رحمۃ اللہ علیہ  کی ’’إرشاد الفحول‘‘ بھی مفید ہے۔
جب کہ ہمارے استاذِ گرامی حضرت مولانا محمد انور البدخشانی دامت برکاتہم کی تسہیلات وتیسیرات بھی انتہائی مفید ہیں، متعلقہ درسی کتابوں کے مغلق مقامات یا تعبیری دقتوں سے یسروسہولت کے ساتھ نکلنے کے لیے استاذِ محترم کی کتابوں نے ہمارے جیسے طلبہ اور اچھے اچھے مدرسین کو خوب فائدہ پہنچایا ہے، تیسیراُصولِ فقہ ، تسہیل اصول الشاشی اور تسہیل الحسامی(التیسیر المہذب) وغیرہ لائقِ استفادہ ہیں۔
۷:… فن کی جو اہم اہم اصطلاحات دورانِ درس سامنے آئیں، انہیں سمجھا کر یاد رکھنے کی تاکید کی جائے، مثلاً: عام، خاص، مطلق، مقید، حقیقت، مجاز۔ پھر جو اصطلاحات متقارب المفہوم ہوں ان کے درمیان وجوہِ فرق کی پہچان بھی کرائی جائے، مثلاً: خاص و معرفہ اور عام و نکرہ کے درمیان کیا فرق ہے؟ اس کا لحاظ رکھا جائے، یہ اصطلاحات امتحان میں بھی پوچھی جائیں۔
۸:… تمہیدی گزارشات میں پڑھا کہ اُصولِ فقہ کم ازکم پانچ مباحث پر مشتمل فن کا نام ہے، ہماری درسی کتابوں میں ان مباحث سے کتنا تعرض ملتا ہے اور کس حد تک بے التفاتی پائی جاتی ہے، سب سے پہلے مدرس کو اس اہم نکتے سے واقفیت ہونی چاہیے، اس کے بعد طلبہ کے سامنے بھی اس مضمون کو حسبِ موقع دہرایا جائے، تاکہ ذی استعداد طلبہ کتاب فہمی کے بعد اُصولِ فقہ کے مباحث کی دیگر جہات سے شناسائی کے لیے متوجہ ہوسکیں، مثلاً:
l  ’’أُصول الشاشی‘‘ میں زیادہ تر حصہ ’’دلالۃ الکلام‘‘ سے متعلق مباحث پر مشتمل ہے۔ ادلۂ شرعیہ میں سے مآخذِ اصلیہ اتفاقیہ کا بیان تو ہے، لیکن مآخذِ ذیلیہ اختلافیہ سے مکمل بحث نہیں ہے۔ اسی طرح مقاصدِ احکام و مدارجِ احکام کا پہلو یہاں نہیں ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اُصول الشاشی کے طالب علم کو ان بھاری مباحث میں اُلجھانا تدریس کے تدریجی ضابطہ کے خلاف ہے تو یہ بات اپنی جگہ معقول ہے، لیکن خود کتاب کی ابتدائی ابحاث بھی تو ابتدائی طالب علم کے لیے کافی دشوار ہیں، جب ان ابحاث سے مناسبت ہوجاتی ہے تو ان ابحاث کے اشارات بھی زیادہ نامانوس نہیں رہیں گے۔
l  دوسری کتاب ’’نور الأنوار شرح المنار‘‘ للشیخ احمد (ملاجیون) الصدیقی ؒ [۱۰۴۸ھ- ۱۱۳۰ھ] ہے، اس میں حاکم اور احکامِ شریعت کے مقاصد و مدارج سے تعرض نہیں فرمایا گیا، تقریباً کتاب کا آدھا حصہ اُصولی مباحث میں سے صرف دلالتِ کلام اور اور اس کی تعریفات اور رد و قدح سے تعلق رکھتا ہے۔ فقہ کے ذیلی اصول و ذیلی مآخذ کا یہاں بھی کوئی اتاپتا نہیں ملتا، البتہ قیاس کے ساتھ استحسان کی بحث قدرے تفصیلی انداز میں مل جاتی ہے۔
l  تیسری درسی کتاب ’’منتخب حسامی‘‘ ہے، اس کا دائرۂ بحث بھی تقریباً ’’نور الأنوار‘‘ والا ہے، ایجاز و اغلاق بھی حل طلب ہے، جس کے حل کے لیے ہمارے جیسے مدرسین کے لیے استاذ بدخشانی مدظلہم کی تسہیل ازبس ضروری ہے، ورنہ استاذ اور طالب علم کا زیادہ تر وقت اُصولِ فقہ اخذ کرنے سے زیادہ حلِ کتاب میں صرف ہوتا رہے گا۔ بہرحال اس کتاب میں یہ خوبیاں بھی ہیں:
الف:    مباحث کی ترتیب، بزدوی وسرخسی کی ہے۔
ب:    قیاس واستحسان پر یہاں بھی اچھی بحث فرمائی گئی ہے۔
ج:    اہلیت وعوارضِ اہلیت کی ابحاث مناسب اندازمیں بیان فرمائی گئی ہیں۔
د:    ’’أُصول الفقہ المقارن‘‘ کی ایک جھلک بھی اس کتاب میں ملتی ہے کہ دیگر ائمہ کے ہاں دلالتِ کلام سے متعلق وہ معتبر اصول جن کاحنفیہ کے ہاں اعتبار نہیں ہوتا، ان کو وجوہِ فاسدہ کے عنوان سے بالتفصیل ذکر فرمایا گیا ہے، گوکہ یہ مناظرانہ ابحاث سہی، مگر اُصولِ فقہ کو ان ابحاث سے خالی نہیں قرار دیا جاسکتا۔
یہ ساری منفرد ابحاث چونکہ حسامی کے آخری حصہ میں ہیں، اس لیے جہاں ممکن ہو حسامی کو شروع کی بجائے سنت کی بحث سے اختتامِ کتاب تک شاملِ درس رکھا جائے، ابتدائی حصہ میں توانائی صرف کرنے کی بجائے شاید یہ زیادہ مفید ہو۔
l  اگلی درسی کتاب ’’شرح التلویح علی التوضیح لمتن التنقیح‘‘ لسعد الدین مسعود بن عمر التفتازانی [متوفی:۷۹۳ھ]‘‘ ہے، جو اپنے توضیحی نقاش اور کلامی رد وقدح کے حوالے سے مشہور ہے، اس کتاب کو تشحیذِ اذہان، ذہنی استعداد اور تحقیقی وتنقیحی ملکہ پیدا کرنے کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔ مگر فی زمانہ استعداد کے انحطاط وضعف کی وجہ سے کتاب ہذا کی جدلی ابحاث کے بیچ سے اُصول فقہ دریافت کرنے اور محفوظ رکھنے میں کمزور استعداد طلبہ کو کافی دشواری پیش آتی ہے، گوکہ اس درجے کے طلبہ کسی حد تک علمی وذہنی پختگی حاصل کر ہی چکے ہوتے ہیں، اس لیے اس درجہ کے لحاظ سے اُصولِ فقہ کی تدریس کے مقاصد کے حصول کے لیے یہ کیاجاسکتاہے کہ: اُصولِ فقہ کے حوالے سے ہماری درسی کتب میں صرف حنفی اُصول پڑھائے جاتے ہیں، جب کہ فقہ میں دیگر مذاہب کی آراء بھی موازنہ، مقارنہ اور محاجہ کے طور پر ذکر کی جاتی ہیں۔ اُصولِ فقہ میں بھی اگر یہ اسلوب اپنایا جائے اور اس اسلوب کی کتاب ’’توضیح وتلویح‘‘ کے ساتھ شامل کی جائے تو مناسب ہوگا، مگر درسی کتاب کا انتخاب چونکہ کئی پہلوؤں کی رعایت کا متقاضی ہوتا ہے، اس لیے زیادہ جد کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتے، البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ توضیح تلویح کا مدرس علامہ شوکانیؒ کی ’’إرشادالفحول‘‘ (إرشاد الفحول إلٰی تحقیق الحق من علم الأصول، محمد بن علی بن محمد بن عبداللہ الشوکانی الیمنی) اور شیخ ابوزہرہؒ کی ’’علم أصول الفقہ‘‘ سے استفادہ کرتے ہوئے مختلف مناسبات میں محاضرے کی صورت میں طلبہ کو مستفید فرمائے۔ بالخصوص اجتہاد اور اس کے متعلقات، اجتہاد، اجتہادِ جدید اور تجدُّدکے بارے میں بتائے، مجتہد کی اہلیت اور اوصاف، اجتہاد کی شروط وقیود وغیرہ کی طرف رہنمائی کی جائے، نیز اجتہاد کے مراحل، تحقیقِ مناط، تنقیحِ مناط اور تخریجِ مناط جیسی گم شدہ اصطلاحات سے طلبہ کو روشناس کرائے۔ (روضۃ الناظر و جنۃ المناظر فی اصول الفقہ علیٰ مذہب الامام احمدبن حنبل ، لابن قدامۃ [متوفی:۶۲۰ھ])
نیز فقہ اسلامی کے ان ذیلی مآخذ سے ضرور متعارف کرایا جائے، جو عموماً نو پیش آمدہ مسائل کے لیے بنیاد سمجھے جاتے ہیں، جیسے: عرف و عادت، سدِ ذرائع، اور مصالحِ مرسلہ وغیرہ کی حقیقت اور ان کا بجایا بے جا استعمال بتایا جائے۔
اُمید ہے کہ اس ترتیب سے ہمیں اُصولِ فقہ کی تدریس کے مقاصد و فوائد حاصل ہوجائیں گے۔
۹:… اصل اور فرع کے درمیان تطبیق اور ارتباط کو سمجھنے کے لیے استدلال وادلال کا طریقہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے، استدلال کے طریق سے یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ ماخذ کے طورپر کتاب میں جو نص ذکر کی گئی ہے وہ نص بورڈ پر لکھی جائے یازبانی بتائی جائے، پھر اس نص سے جو مسئلہ مستنبط کیاگیاہے اس مسئلے کے استنباط واستنتاج کاطریقہ بتایا جائے، مثلاً:
’’وَامْسَحُوْا بِرُئُ وْسِکُمْ‘‘ میں مسح کا حکم ہے، اب کل سر کا مسح ہے، یا بعض کا؟ اس میں اختلاف ہے، اس اختلاف کی ایک بنیاد لفظ ’’ب‘‘ ہے جو ’’رُئُ وْسِکُمْ‘‘ پر داخل ہے، اگر باء کو زائدہ کہیں تو مسح کا حکم پورے سر کو شامل ہوگا، جیسے: مالکیہ کے ہاں اور ’’ب‘‘ کو تبعیض کے لیے لیا جائے تو مسح کا وجوبی حکم سر کے بعض حصے کے ساتھ متعلق ہوگا، جیسے جمہور کے ہاں ہے، پھر اس بعض کی اپنی تفصیل ہے، ہم اُصول تک پہنچنے کے لیے یوں کہہ سکتے ہیں کہ اس دلیل سے فلاں امام نے یہ استدلال کیا ہے، جن کے نتیجے میں ان کے ہاں مسح کا یہ حکم ہے، فلاں امام نے یہ استدلال کیا جس کا یہ نتیجہ نکلا۔
اسی صورت کو اُلٹاکردیں کہ پہلے مسئلہ ذکرکریں، مسئلہ میں جو اقوال ہیں وہ بتائے جائیں، پھر اس فرع اور قول کی بنیاد کے طور پر دلیل اور ماخذ کو ذکر کردیں، یہ ترتیب ایک طرح فقہ کے درس کی وجہ سے ہمارے طلبہ کے لیے زیادہ مانوس ہے، وہ اس طریق سے فقہی اُصول کو جلدی سمجھ پائیں گے۔

تفریع و تذییل

اُصولِ فقہ کی تدریس کے دوران تمہیدوتوضیح سے جب فارغ ہوجائیں تو تین اضافی اُمور کی کوشش بھی کی جائے:
۱:- جیساکہ اوپر بھی بتایا گیا کہ اُصول کی تفہیم کے لیے کتاب کی مثالوں پر اکتفا کی بجائے درسی کتاب کے علاوہ اُصولِ فقہ کی دیگر کتابوں سے مثالیں بھی نکال کر بتائی جائیں، جس کو فروع میں اُصول فقہ کے اجراء کا عنوان بھی دیا جاسکتا ہے۔
۲:- آیات الاحکام منتخب کی جائیں اور ان آیات سے ثابت کیے گئے احکام کے طریقۂ اثبات معلوم کرنے کے لیے فقہی تفاسیر، قرطبی (’’الجامع لأحکام القرآن‘‘ابوعبداللہ محمد بن احمد بن ابی بکر القرطبیؒ [متوفی:۶۷۱ھ])، جصاص (’’أحکام القرآن‘‘ احمد بن علی ابوبکر الرازی الحنفی [متوفی: ۳۷۰ھ]) اور مظہری (’’التفسیر المظہري‘‘ قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ [متوفی:۱۲۲۵ھ]) وغیرہ سے کچھ کچھ مطالعہ کروایا جائے۔ اس محنت کو استدلالی اجراء کا نام دیا جاسکتا ہے۔
۳:-ہر بحث کے اختتام پر مشقی سوالات بنائے جائیں اور ان سوالات کے جوابات سابقہ خواندگی کی روشنی میں طلبہ سے نکلوائے جائیں، اس محنت کے لیے استاذِ محترم مولانا محمد انور بدخشانی زیدمجدہم کی ’’تسہیل اصول الشاشی‘‘ سے مدد لی جاسکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ائمہ اربعہ کے اختلاف کے بنیادی اجتہادی اصول

ہمارے سماج میں اختلافات اتنے زیادہ ہیں کہ جہاں اختلاف کا لفظ سماعتوں سے ٹکرایا وہیں نفرتوں کا تعفُّن محسوس کر نے کے لیے ناک پھیلنا یا سکڑنا شروع ہو جاتی ہے، اس لیے ائمہ مجتہدین بالخصوص ائمہ اربعہ کے اختلافِ رائے کی بنیاد بننے والے اصول یا اسباب کی طرف جانے سے قبل نفسِ اختلاف اور علمی و اجتہادی اختلاف کے بارے میں چند گزارشات پیشِ نظر رہنا مفید معلوم ہوتا ہے:
۱:- کسی بھی مسئلہ میں علمی و اجتہادی اختلاف مذموم نہیں، بلکہ محمود و مطلوب ہوتا ہے، کیوں کہ اگر اختلاف کا سبب نص کا احتمالی پہلو ہو تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ صاحبِ وحی نے خود اختلاف کی گنجائش دی ہے، مثلاً: ’’قُرُوْء‘‘ کے مصداق کی تعیین میں طہر اور حیض کے اختلاف کو مذموم قرار دینے کے بجائے منشأ خدا وندی کے قریب یا عین مطابق کہنے کی گنجائش بھی معلوم ہوتی ہے۔
۲:- جب ائمہ کا اختلاف نص کے احتمالی پہلو یا دلائل کے تنوُّع کی بنیاد پر ہو تو ایسے اختلاف کو اختلاف کے بجائے اقوال یا توجیہ سے تعبیر کرنا چاہیے، وہ حقیقت میں اختلاف ہے ہی نہیں، جیسے: فقہاء حنفیہ کی باہمی اختلافی آراء کو اقوال سے تعبیر کیا جاتا ہے اور شافعیہ کے ہاں ایسی آراء کو ’’وجوہ‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے، اسے اختلاف کے بجائے راہِ وسعت کے اختیار سے تعبیر کرنا چاہیے ۔ حضرت طلحہ بن مصرف رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں منقول ہے کہ ا

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے