بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 شعبان 1445ھ 26 فروری 2024 ء

بینات

 
 

فضیلتِ سیدنا معاویہ  رضی اللہ عنہ 


فضیلتِ سیدنا معاویہ  رضی اللہ عنہ 


کیا حضرت معاویہ بن ابی سفیان  رضی اللہ عنہما  کی فضیلت ثابت نہیں؟

سیدنا حضرت معاویہ بن ابی سفیان  رضی اللہ عنہما  پر مطاعن و مثالب کی بھرمار کی جاتی ہے، کیے جانے والے اعتراضات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپ ؓ کے فضائل میں احادیث موجود نہیں ہیں یا یہ کہ احادیث ِ صحیحہ نہیں ہیں کہ جن سے آپ کی فضیلت ثابت ہوسکے۔ نہ جانے اس اعتراض کا مقصد کیا ہے؟ لیکن عام طور پرجس پیرائے میں یہ اعتراض اُچھالا جاتا ہے،اس سے مقصود و مراد واضح ہوجاتی ہے۔
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ  کے فضائل کے بیان میں اول تو یہ بات خوب ذہن نشین رہنی چاہیے کہ وہ تمام فضائل و مناقب جو مطلقاً بغیر کسی تقیید و تخصیص کے مجموعی طور پر ـــ جماعت ِصحابہ  رضی اللہ عنہم  کے بارے میں وارد ہوئے ہیں، ان کا مصداق جہاں پوری جماعتِ صحابہؓ ہے، بعینہٖ اسی طرح ان فضائل و کرامات میں حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ  بھی برابر کے شریک و سہیم ہیں۔
حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ  ان چند منتخب اور چنیدہ بختاور افراد میں سے ہیں جن کو بارگاہ ِنبوت k سے کتابتِ وحی کا منصب عطا تھا اور وہ وحیِ الٰہی لکھا کرتے تھے۔ بعض مفسرین کی تفسیر کے مطابق ان کاتبینِ وحی کی فضیلت، کرامت اور شرافت قرآنِ حکیم نے بیان کی ہے: ’’بِأَیْدِیْ سَفَرَۃٍ ،کِرَامٍ بَرَرَۃٍ‘‘ (العبس:۱۵،۱۶) یعنی یہ قرآن ایسے لکھنے والوں کے ہاتھ میں ہے جو باعزت ،پاکبازاورنیکوکار ہیں۔
علاوہ ازیں خاص آپ ؓ کے بھی بہت سے فضائل وارد ہوئے ہیں،سر ِدست چند ایک پیشِ خدمت ہیں، نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: 
’’اللّٰہُمَّ اجْعَلْہُ ہَادِیًا مَّہْدِیًّا وَاہْدِ بِہٖ۔‘‘ (جامع ترمذی، رقم الحدیث: ۳۸۴۲)
ترجمہ: ’’اے اللہ! معاویہ ؓ کو دوسروں کے لیے راہبر و راہنما اور ہدایت یافتہ بنا اور ان کے ذریعے ہدایت پھیلا۔‘‘
اس روایت کو خود امام ترمذی ؒ نے حسن قرار دیا ہے،اور حدیثِ حسن محدثین کے ہاں مقبول ہے۔
دوسری حدیث میں ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے سیدنا حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ  کے لیے دعا فرمائی:
’’اللّٰہُمَّ عَلِّمْ مُعَاوِیَۃَ الْکِتَابَ وَالْحِسَابَ وَ قِہِ الْعَذَابَ ۔‘‘ (مسند احمد: ۲۸/۳۸۳، رقم الحدیث: ۱۷۱۵۲)
ترجمہ: ’’ اے اللہ! معاویہؓ کو کتاب اللہ اور حساب کا علم عطا فرما اور عذاب سے محفوظ فرما۔‘‘
اس حدیث کے بارے میں علّامہ عبدالعزیز پڑہاروی  رحمۃ اللہ علیہ  نے صحت کا لکھا ہے۔
حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ  کو قیمتی نصائح سے بہرہ ور فرمایا:
’’حَدَّثَنَا رَوْحٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا اَبُوْ اُمَیَّۃَ عَمْرُو بْنُ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَدِّیْ، یُحَدِّثُ، اَنَّ مُعَاوِیَۃَ، اَخَذَ الْإِدَاوَۃَ بَعْدَ اَبِيْ ہُرَیْرَۃَ یَتْبَعُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِہَا، وَاشْتَکٰی اَبُوْہُرَیْرَۃَ، فَبَیْنَا ہُوَ یُوَضِّئُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَفَعَ رَاْسَہٗ إِلَیْہِ مَرَّۃً اَوْ مَرَّتَیْنِ وَہُوَ یَتَوَضَّأ ، فَقَالَ: یَا مُعَاوِیَۃُ! إِنْ وُلِّیْتَ اَمْرًا فَاتَّقِ اللہَ عَزَّ وَجَلَّ وَاعْدِلْ ۔‘‘  (مسند احمد، رقم الحدیث۱۶۹۳۳)
ترجمہ: ’’حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ  حضرت ابوہریرہ  رضی اللہ عنہ  کے بعد پانی کا لوٹا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے پیچھے چل رہے تھے، حضرت ابوہریرہ ؓ بیمار تھے، اس دوران کہ حضرت معاویہ ؓ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو وضو کروارہے تھے، آنحضور  صلی اللہ علیہ وسلم  نے وضو کے دوران ہی ایک دو دفعہ اُن کی طرف سر اٹھایا اور فرمایا: اے معاویہ ! اگر تمہیں حکومت دی جائے تو تقویٰ اختیار کرنا اور عدل و انصاف سے کام لینا ۔ ‘‘
اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں اور صحیح بخاری کے رواۃ ہیں۔
ایسی روایت بھی سیدنا معاویہ  رضی اللہ عنہ  کی فضیلت میں موجود ہے جو محدثین کے ہاں صحیح ہے، چنانچہ صحیح بخاری میں ہے:
’’عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، اَنَّ عُمَیْرَ بْنَ الْأسْوَدِ الْعَنْسِیَّ، حَدَّثَہٗ  اَنَّہٗ اَتٰی عُبَادَۃَ بْنَ الصَّامِتِ وَہُوَ نَازِلٌ فِيْ سَاحَۃِ حِمْصَ وَہُوَ فِيْ بِنَاءٍ لَہٗ، وَمَعَہٗ اُمُّ حَرَامٍ، قَالَ: عُمَیْرٌ، فَحَدَّثَتْنَا اُمُّ حَرَامٍ: اَنَّہَا سَمِعَتِ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، یَقُولُ: اَوَّلُ جَیْشٍ مِّنْ اُمَّتِيْ یَغْزُوْنَ الْبَحْرَ قَدْ اَوْجَبُوْا، قَالَتْ اُمُّ حَرَامٍ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللہِ! اَنَا فِیْہِمْ؟ قَالَ: اَنْتِ فِیہِمْ، ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَوَّلُ جَیْشٍ مِنْ اُمَّتِيْ یَغْزُوْنَ مَدِیْنَۃَ قَیْصَرَ مَغْفُورٌ لَہُمْ، فَقُلْتُ: اَنَا فِیْہِمْ یَا رَسُوْلَ اللہِ؟ قَالَ: لَا۔‘‘

’’عمیر بن اسود عنسی کہتے ہیں کہ حمص کے ساحل پر عبادہ بن صامت  رضی اللہ عنہ  اپنے مقام پر فروکش تھے اور آپ کے ساتھ آپ کی زوجہ محترمہ امِ حرام بنت ملحان  رضی اللہ عنہا  بھی رفیقِ سفر ـتھیں، اس موقع پر جناب ام حرام  رضی اللہ عنہا  نے یہ بیان فرمایا کہ انہوں نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کو فرماتے ہوئے سنا کہ میری اُمت کا پہلا لشکر جو سمندری جہاد کرے گا اس نے اپنے اوپر جنت واجب کرلی، حضرت ام حرام ؓ نے عرض کی ! یارسول اللہ! کیا میں ان میں شریک ہوں گی؟ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: تم ان میں شامل ہو، پھر نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ میری اُمت کا پہلا لشکر جو مدینہ قیصر سے جہاد کرے گا، اس کی بخشش کردی جائے گی ، حضرت ام حرام ؓ نے کہا کہ یارسول اللہ! کیا مجھے اس میں شمولیت نصیب ہوگی؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: نہیں۔‘‘
محقق العصر حضرت مولانا محمد نافع صاحب  رحمۃ اللہ علیہ  تحریر فرماتے ہیں:
’’محدثین کے نزدیک یہ ایک امرمسلم ہے کہ پہلی بار غزوۂ بحر جو ۲۷ھ میں پیش آیا تھا اور جس کو غزوۂ قبرص کہتے ہیں، اس میں حضرت عبادہ بن صامت  رضی اللہ عنہ  اور ان کی اہلیہ محترمہ امِ حرام ؓ شامل تھیں، اس بحر ی غزوہ کے امیر جیش حضرت امیر معاویہ  رضی اللہ عنہ  تھے اور ان کی زوجہ محترمہ فاختہؓ بنت قرضہ نامی ان کے ہم راہ تھیں ، اس جیش کے حق میں زبانِ نبوت سے مژدہ ثابت ہے، فلہذا حضرت امیر معاویہ  رضی اللہ عنہ  کے لیے یہ ایک بہت بڑی فضیلت ہے اور اس عالمِ فانی میں جنت کی خوشخبری اور وہ زبانِ نبوت سے یہ ایک نہایت سعادت مندی ہے، پس حضرت امیر معاویہ  رضی اللہ عنہ  کے حق میں عدمِ فضیلت کا قول کسی طرح درست نہیں۔‘‘ (سیرتِ امیر معاویہ ؓ: ۱/۲۶۶، دارالکتاب، ۲۰۰۷ء)
حضرت مولانا محمد نافع صاحب قُدّس سرُّہ اسی طعن کا جواب دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
’’اگر عدمِ صحت سے مراد یہ ہے کہ ان کی فضیلت میں کوئی حدیث ثابت نہیں تو یہ قول درست نہیں، کیونکہ متعدد روایات جو درجۂ حسن میں ہیں، وہ حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ  کی فضیلت میں موجود اور ثابت ہیں، اگرچہ ان کا استناد اصطلاحی صحت کے درجہ سے کم ہے، اور جو روایات درجۂ حسن میں ہوں وہ محدثین کے نزدیک مقبول ہیں اور ان سے شرعی احکام ثابت ہوتے ہیں، یہ قاعدہ عندالعلماء تسلیم شدہ ہے۔‘‘ (سیرتِ امیر معاویہ ؓ: ۲/۲۶۲)
 صاحب النبراس علّامہ عبدالعزیز پڑہارویؒ (المتوفی:۱۲۳۹ھ) اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
’’فأحد المطاعن فیہ ہو أن بعض المحدثین ومنہم المجد الشیرازي في سفر السعادۃ، قالوا: لم یصح في فضائلہٖ حدیث۔ وکذا عنوان البخاري حدیث ابن أبي ملیکۃ۔ قولہ: ’’ذکر معاویۃ‘‘ لا بالمناقب والفضل کما فعل في غیرہٖ۔ والجواب أنہٗ مر حدیثان أحدہما من مسند أحمد والآخر من سنن الترمذي۔ فإن أرید بعدم الصحۃ عدم الثبوت فہو مردود لما مر بین المحدثین، فلا ضیر، فإن فسحتہا ضیقۃ، وعامۃ الأحکام والفضائل إنما تثبت بالأحادیث الحسان لعزۃ الصحاح۔ ولا ینحط ما في المسند والسنن عن درجۃ الحسن۔ وقد تقرر في فن الحدیث جواز العمل بالحدیث الضعیف في الفضائل، فضلا عن الحسن۔ وقد رأیت في بعض الکتب المعتبرۃ من کلام الإمام مجد الدین ابن الأثیر صاحب میزان الجامع: حدیث مسند أحمد في فضیلۃ معاویۃؓ صحیح، إلا أني لا أستحضر الکتاب في الوقت۔ ولم ینصف الشیخ عبد الحق الدہلوي في شرح سفر السعادۃ، فإنہٗ أقر کلام المصنف ولم یتعقبہ کتعقبہٖ علی سائر تعصباتہٖ۔ وأما الجواب عما فعلہ البخاري، فإنہٗ تفنن في الکلام، فإنہٗ فعل کذا في أسامۃ بن زید وعبداللہ بن سلام وجبیر بن مطعم بن عبد اللہ، فذکر لہم فضائل جلیلۃ معنونۃ بالذکر۔‘‘ (الناہیۃ عن طعن أمیر المؤمنین معاویۃؓ، ص:۶۷، ۶۸، ط:غراس، کویت)
یعنی ’’حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ  پر ایک اعتراض یہ بھی ہے جو بعض محدثین مثلاً مجدشیرازی نے سفر السعادہ میں کیا ہے، چنانچہ یہ کہا ہے کہ حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ  کے فضائل میں کوئی صحیح حدیث وارد نہیں ہے، نیز امام بخاری ؒ نے بھی حدیث ابن ملیکہ پر بجائے ’’المناقب‘‘ اور ’’الفضل‘‘ کے ’’ذکر معاویۃؓ‘‘ کا عنوان قائم کیا ہے، (جس سے ان کی فضیلت کے وارد نہ ہونے کا شبہ ہوتا ہے) جواب اس کا یہ ہے کہ حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ  کی فضیلت میں دو احادیث گزر چکی ہیں: ایک مسند احمد کی اور دوسری سنن ترمذی کی۔ اگر عدمِ صحت سے مراد یہ ہے کہ ان کی فضیلت میں کوئی حدیث ثابت نہیں تو یہ قول درست نہیں، اور اگر صحت سے صحتِ مصطلحہ عند المحدثین مراد ہے تو کوئی حرج نہیں، کیونکہ اس کا دائرہ تنگ ہے۔ احادیثِ صحیحہ کی قلت کی وجہ سے بیشتر شرعی احکام اور فضائل حسن درجہ کی احادیث سے ثابت ہوتے ہیں، اور مسند اور سنن کی روایت درجۂ حسن سے کم نہیں ہے، نیز فنِ حدیث میں یہ بات ثابت ہے کہ فضائل میں تو حدیثِ ضعیف پر بھی عمل کیاجاتا ہے، چہ جائیکہ حدیثِ حسن ، (حدیثِ ضعیف پر عمل کا یہ قاعدہ عام نہیں ہے، بلکہ اس میں تفصیلات ہیں جو کتبِ اصولِ حدیث میں موجود ہیں)جبکہ میں نے کسی معتبر کتاب میں صاحبِ میزان الجامع علّامہ مجدد الدین بن الاثیرؒ کی یہ بات دیکھی ہے کہ فضیلتِ سیدنا معاویہ  رضی اللہ عنہ  میں مسند کی روایت صحیح ہے، مگر اس وقت کتاب مستحضر نہیں، اور شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ  نے بھی ’’شرح سفر السعادۃ‘‘ میں انصاف نہیں فرمایا، بلکہ مصنف کے کلام کو ثابت کردیا ہے اور اس پر گرفت نہیں کی، جیسا کہ وہ ان کے دیگر تمام تعصبات پر گرفت فرماتے رہے ہیں۔ امام بخاری  رحمۃ اللہ علیہ  کے طرزِ عمل کا جواب یہ ہے کہ وہ تفننِ کلام کے طور پر ہے کہ انہوں نے حضرت اسامہ بن زید، حضرت عبداللہ بن سلام ، حضرت جبیر بن مطعم  رضی اللہ عنہم  کے تذکرہ میں بھی یہی انداز اختیار کیا ہے، پھر ’’ذکر‘‘ ہی کے عنوان پر ان کے عظیم الشان فضائل لائے ہیں۔‘‘
یہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ بات جب پہلے بعض حضرات نے کہی اور لکھی ہے تو اگر ہم نے کہہ دی تو کون سی ایسی بات ہے؟ جواب بہت صاف اور سادہ ہے کہ وہاں طعن و تنقید کے پیرائے میں نہیں ہے، اس کے باوجود علمائِ اہل السنۃ نے قبول نہیں کیا، جبکہ یہاں تو ایک مستقل محاذ کھولا جارہا ہے اور بطور طعن و تشنیع یہ اعتراض اُچھالا جارہا ہے، نیز کسی بھی صحابیؓ کے نام کے ساتھ فضیلت کا وارد نہ ہونا اور بات ہے، جبکہ اس چیز کو بنیاد بنا کر کسی صحابیؓ کو موضعِ طعن بنانا اور اس سے ان کی شخصیت پر جرح و قدح کرنا اور بات ہے، کیونکہ جماعت ِ صحابہ کرام ؓ میں بے شمار صحابہ ؓ ایسے ہیں کہ خاص ان کے بارے میں کوئی خاص فضیلت وارد نہیں ہوئی، مگر کیا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کی فی الجملہ فضیلت کا بھی انکار کردیا جائے؟ اور ان کے خلاف طعن و تشنیع اور تنقید کا بازار گرم کردیا جائے؟ 
علّامہ پڑہاروی ؒ فضیلتِ سیدنا معاویہ ؓ میں احادیث لانے سے پہلے بطور تمہید فرماتے ہیں:
’’اعلم أن صحابتہ الکرام مائۃ ألف وأربعۃ عشر ألفا کالأنبیاء ، ومن ورد فیہ أحادیث الفضائل أشخاص معدودۃ، وکفی بالصحبۃ فضلا للباقي، لترتب الفضائل العظیمۃ علیہا مما نطق بہ الکتاب والسنۃ۔ فإن فقدت أحادیث الفضائل لبعضہم أو قلّت فلا إحجاف بہ ۔‘‘ (الناہیۃ عن طعن أمیر المؤمنین معاویۃؓ،ص:۳۸) 
’’نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے صحابہ کرام ؓ انبیاء کرام  علیہم السلام  کی طرح ایک لاکھ چودہ ہزار تھے (تقریباً)، اور جن کے فضائل و مناقب میں احادیث وارد ہوئی ہیں ، وہ گنتی کے حضرات ہیں ، باقی حضرات کی فضیلت کے لیے صحبت ِ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  ہی کافی ہے، کیونکہ صحابیت کے بڑے فضائل و محامد ہیں، جن پر قرآن و سنت ناطق اور گواہ ہیں، لہٰذا اگر کسی صحابی ؓ کی فضیلت میں احادیث نہ ہوں یا کم ہوں تو کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے۔‘‘
مزید فرماتے ہیں:
’’وأقول قد صرح علماء الحدیث بأن معاویۃ رضي اللہ عنہ من کبار الصحابۃؓ ونجبائہم ومجتہدیہم ولو سلّم أنہ من صغارہم فلاشک في أنہٗ دخل في عموم الأحادیث الصحیحۃ الواردۃ في تشریف الصحابۃ رضي اللہ عنہم، بل قد ورد فیہ بخصوصہٖ أحادیث لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام : ’’اللّٰہُمَّ اجْعَلْہُ ہَادِیًا مَّہْدِیًّا وَاہْدِ بِہٖ‘‘ رواہ الترمذي و قولہ علیہ الصلاۃ والسلام اللّٰہُمَّ عَلِّمْ مُعَاوِیَۃَ الْحِسَابَ و الْکِتَابَ وَ قِہِ الْعَذَابَ۔ رواہ أحمد وماقیل: من أنہ لم یثبت في فضلہٖ حدیث فمحل نظر۔‘‘ (النبراس، ص۳۳۰، امدادیہ، ملتان)
ترجمہ: ’’محدثین نے یہ تصریح فرمائی ہے کہ حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ  کبار، معزز اور مجتہد صحابہ کرامؓ میں سے ہیں اور اگر یہ بھی تسلیم کرلیا جائے کہ وہ صغار صحابہ ؓ میں سے ہیں تو اس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ وہ فضیلت ِ صحابہؓ میں وارد صحیح احادیث کے عموم میں داخل اور شامل ہیں، بلکہ خاص حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ  کی فضیلت میں بھی احادیث موجود ہیں ۔۔۔۔ اور یہ جو کہاجاتا ہے کہ حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ  کی فضیلت ثابت نہیں ہے، یہ بات محل نظر ہے۔‘‘
احادیثِ بالا و عباراتِ مذکورہ سے یہ بات ثابت ہوئی کہ حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ  کی خصوصی فضیلت بھی احادیثِ صحیحہ اور احادیثِ حسان سے ثابت ہے۔
ثانیاً: اگر یہ بات تسلیم بھی کرلی جائے کہ حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ  کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے، بلکہ احادیثِ ضعیفہ ہیں تو محدثین کے ہاں یہ مسلّم ضابطہ ہے کہ حدیث ضعیف اگر کئی طرق سے مروی ہو تووہ درجۂ ضعف سے نکل کر درجۂ حسن کو پہنچ جاتی ہے۔
علاوہ ازیں کیا حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ  کی فضیلت و منقبت اور اعزاز کے لیے یہ بات ناکافی ہے کہ وہ صحابیِ رسول ہیں؟ اور صحابیِ  رسول کے بالاتر از تنقید ہونے کے لیے یہ کافی نہیں ہے کہ اسے صحبتِ رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میسر ہے؟
 اس بات کا اندازہ حضرت عبداللہ بن عباس  رضی اللہ عنہما  کی اس روایت سے بخوبی کیا جاسکتا ہے کہ جب حضرت عبداللہ بن عباس  رضی اللہ عنہما  کے سامنے تعداد ِ وتر کے مسئلہ میں سیدنا حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ  کی رائے اور موقف رکھا گیا تو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے چچا زاد حضرت ابن عباس ؓ جو خود اونچے درجے کے صحابی ، مفسر اور عالم تھے، انہوںنے فرمایا کہ: ان کے بارے میں کچھ مت کہو، کیونکہ بلاشبہ و بالتحقیق وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے صحابی ہیں، اور دوسری روایت میں ہے کہ حضرت ابن عباس  رضی اللہ عنہما  نے فرمایا: انہوں نے درست کہا ، لاریب وہ فقیہ مجتہد ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:
’’عَنِ ابْنِ اَبِيْ مُلَیْکَۃَ، قَالَ: اَوْتَرَ مُعَاوِیَۃُ بَعْدَ الْعِشَاءِ بِرَکْعَۃٍ، وَعِنْدَہٗ مَوْلًی لِابْنِ عَبَّاسٍ، فَأتَی ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: دَعْہُ فَإِنَّہٗ قَدْ صَحِبَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ۔‘‘  (صحیح البخاری، کتاب المناقب، باب ذکر معاویۃؓ، رقم: ۳۷۶۴)
’’ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ  نے عشاء کے بعد ایک رکعت وتر پڑھی، وہاں حضرت عبداللہ بن عباس  رضی اللہ عنہما  کے غلام بھی موجود تھے، انہوں نے آکر حضرت عبداللہ بن عباس  رضی اللہ عنہما  کو بتلایا تو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایاکہ : انہیں کچھ مت کہو، بلاشبہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے صحبت یافتہ ہیں۔ ‘‘
یعنی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی صحابیت اتنا عظیم شرف ہے کہ ان کے بارے میں رائے زنی کی مجال نہیں، چنانچہ علامہ عینی  ؒ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
’’(دعہ) ، أي: اترک القول فیہ والإنکار علیہ، فإنہٗ صحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وإنہٗ عارف بالفقہ۔‘‘ (عمدۃ القاری، ج: ۱۶، ص:۲۴۸، دار احیاء التراث العربی ، بیروت)
ترجمہ: ’’ ان پر رائے زنی اور اعتراض نہ کرو کہ وہ صحابیِ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  ہیں اور فقہ و اجتہاد کے عالم ہیں۔‘‘
’’عَنِ ابْنِ اَبِيْ مُلَیْکَۃَ، قِیْلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: ’’ ہَلْ لَکَ فِيْ اَمِیْرِ المُؤْمِنِیْنَ مُعَاوِیَۃَ، فَإِنَّہٗ مَا اَوْتَرَ إِلَّا بِوَاحِدَۃٍ؟ قَالَ: اَصَابَ، إِنَّہٗ فَقِیْہٌ ۔‘‘ (صحیح البخاری، کتاب المناقب، باب ذکر معاویۃؓ، رقم: ۳۷۶۵)
’’ابن ابی ملیکہ سے ہی مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس  رضی اللہ عنہما  سے عرض کیا گیا کہ آپ امیرالمؤمنین معاویہ  رضی اللہ عنہ  کے بارے میں کچھ فرمائیں گے کہ انہوں نے وتر ایک رکعت ہی پڑھی ہے؟ تو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ : انہوں نے درست کیا ہے ، بےشک وہ فقیہ ہیں۔‘‘
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ حضرت معاویہ ؓ پر فقہی نقد سے بھی منع فرمارہے ہیں، باوجودیکہ حضرت معاویہ ؓ کا یہ عمل باقی صحابہ کرام ؓ کے عمل سے مختلف تھا،جیسا کہ ملا علی قاری ؒ نے اس کی تصریح کی ہے:
’’(فأتی ابن عباس فأخبرہٗ، فقال: دعہ) ، أی اترکہ ولا تعترض علیہ بالإنکار (فإنہٗ قد صحب النبي صلی اللہ علیہ وسلم)قال الطیبي، أي فلایفعل إلا ما رآہ، یعنی: ولعلہٗ رأی ما لم یر غیرہٗ وأصحابہٗ کالنجوم بأیہم اقتدیتم اہتدیتم، وہم عدول ولا یفعلون شیئا من تلقاء أنفسہم، لکن الحدیث صریح في کون معاویۃ شاذا منفردا عن سائر الصحابۃؓ۔‘‘ (مرقاۃ المفاتیح، ج:۳، ص:۹۵۴، رقم:۱۲۷۷)
’’حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے غلام نے آکر جب انہیں یہ بتلایا( کہ حضرت معاویہؓ نے ایک رکعت وتر ادا فرمائی ہے) تو حضرت ابن عباسؓ نے ارشاد فرمایا کہ: انہیں کچھ مت کہو، یعنی انہیں چھوڑ دو اور ان پر اعتراض نہ کرو، کیونکہ انہیں شرفِ صحابیت حاصل ہے۔ علّامہ طیبیؒ (شارحِ مشکاۃ) فرماتے ہیں کہ: (مطلب یہ تھا کہ وہ صحابیؓ ہیں) لہٰذا وہی کریں گے جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  سے دیکھا ہے، اس لیے ممکن ہے کہ انہوں نے کچھ ایسا دیکھا ہو جو کسی اور نے نہ دیکھا ہو اور اصحابِ رسول ؓ ستاروں کی مانند ہیں، ان میں سے جس کا بھی اتباع کرو گے راہ یاب ہوں گے، نیز وہ عادل ہیں، کچھ بھی اپنی طرف سے نہیں کرتے ، لیکن یہ حدیث اس بات میں صریح ہے کہ حضرت معاویہؓ اپنے اس عمل میں باقی تمام صحابہ کرام ؓ سے منفرد تھے۔‘‘
اس حدیث مبارک سے دو امر مستفاد ہوئے: 1- حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ  کی فضیلتِ صحبت، 2-اس فضیلتِ صحابیت کی وجہ سے تنقید سے بالا تر ہونا۔
مولانا محمد معاویہ سعدی (مظاہر علوم، سہارن پور) تحریر فرماتے ہیں:
’’فضائل کا باب تو ایک اضافی چیز ہے، نہ معلوم کتنے صحابہؓ اور صحابیاتؓ، بنات ِ طیباتؓ بلکہ بہت سے انبیاء ِکرام  علیہم السلام  کی ذوات ِ قدسیہ ایسی ہیں کہ ان کے نام اور شخصیت کی تعیین کے ساتھ کوئی حدیث وارد نہیں ہوئی تو اس میںنقص کون سا ہے؟ کیا کسی ذات کی فضیلت کے لیے تنہا اس کا نبی یا صحابی ہونا کافی نہیں؟۔‘‘ (حرمت ِ صحابہ رضی اللہ عنہم، ص:۴۷، مکتبہ دار السعادۃ، سہارن پور، ۱۴۴۰ھ/۲۰۱۸ء)
علاوہ ازیں اقوالِ سلف صالحین سے بھی حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ  کی شخصیت و مقام آفتاب ِ نیم روز کی طرح روشن اور عیاں ہے۔ مشہور مؤرخِ اسلام علّامہ ابنِ کثیر ؒ نے لکھا ہے کہ محدثِ کبیر حضرت امام عبداللہ بن مبارک ؒ سے پوچھا گیا کہ حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ   افضل ہیں یا حضرت عمر ن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ ؟ تو انہوں نے فرمایا:کہ حضورِاکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی معیت و رفاقت میں جہاد کرتے ہوئے جو مٹی حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ  کے گھوڑے کے ناک میں گئی ، اس مٹی کے ذرے بھی حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ  سے افضل ہیں۔ (البدایہ و النہایہ ، جلد:۸، صفحہ:۱۳۹)
نیز یہ بھی آپ کی عظمت و شرافت کی دلیل ہے کہ آپ ؓ کو حضور نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  سے قرابت و رشتہ داری بھی حاصل ہے،آپ کی ہمشیرہ ام المؤمنین سیدہ ام حبیبہ  رضی اللہ عنہا  آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے حرمِ و زوجیت میں تھیں، یوں حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ  حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کے برادر ِ نسبتی ٹھہرے، اور ایمان و عمل کے ساتھ قرابتِ رسول بھی بہت بڑا شرف ہے۔
مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہم نے ایسے اعتراضات کی وجہ بیان فرمائی ہے:
’’حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ  کا سیاسی موقف چونکہ سیدنا حضرت علی المرتضیٰ  رضی اللہ عنہ  کے خلاف اور جمہور اہل السنۃ کے نزدیک حق حضرت علی  رضی اللہ عنہ  کے ساتھ تھا، اس لیے ان کے مخالفین بالخصوص روافض کو ان کے خلاف پرو پیگنڈے کا موقع مل گیا، اور ان کے خلاف الزامات و اتہامات کا طور مار لگا دیا گیا جس میں ان کے فضائل و مناقب چھپ کر رہ گئے، ورنہ وہ ایک جلیل القدر صحابیؓ ، کاتبِ وحی اور ایسے اوصاف ِ حمیدہ کے مالک تھے کہ آج ان کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔‘‘  (جہان ِ دیدہ،ص: ۳۰۳)

خلاصہ

خلاصہ یہ ہے کہ حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ  پر کیا جانے والا یہ اعتراض خلاف ِ حقیقت ہے، اگر بالفرض صحیح روایات موجود نہ بھی ہوتیں تو شانِ صحابیت کے ہوتے ہوئے اس سے کوئی نقص پیدا نہیں ہوتا کہ جسے بنیاد بناکر آپؓ پر بھونڈے اور رکیک مطاعن کا دروزاہ کھولا جائے۔ 
حقیقت اور صحیح بات یہ ہے کہ حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ  کے فضائل میں صحیح اور حسن درجہ کی روایات، نیز مؤیدات اور اقوالِ سلف موجود ہیں۔ 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین