بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

5 رمضان 1442ھ 18 اپریل 2021 ء

بینات

 
 

فضائلِ علم، حدیثِ نیّت اورحدیثِ مسلسل بالاوّلیّت  سے متعلق ایک پرمغز خطاب

فضائلِ علم، حدیثِ نیّت اورحدیثِ مسلسل بالاوّلیّت  سے متعلق ایک پرمغز خطاب


’’مؤرخہ ۲۷؍ ربیع الثانی ۱۴۴۲ھ مطابق ۱۳دسمبر ۲۰۲۰ء بروز اتوار حضرت مفتی رضاء الحق صاحب مدظلہٗ (سابق استاذِ جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن وحال شیخ الحدیث ورئیسِ دار الافتاء دار العلوم زکریا، جنوبی افریقہ) جامعہ تشریف لائے، اس موقع پر حضرت نے دار الحدیث میں اساتذہ وطلبہ کے مجمع سے پُر مغز خطاب فرمایا، جسے جامعہ کے تخصصِ فقہِ اسلامی کے طالب علم مولوی محمد احمد عبداللہ نے ریکارڈنگ سے کاغذ پر منتقل اور مرتب کیا۔ افادۂ عام کے لیے نذرِ قارئین کیا جارہا ہے۔‘‘ (ادارہ)

 

محترم طلبہ کرام اور اساتذہ کرام! اس مادرِ علمی میں بیان کرتے وقت یا کچھ کہتے وقت یقیناً مجھ پر ایک رعب طاری ہوجاتا ہے، اس لیے کہ یہ میری مادر ِعلمی ہے، اس میں بڑے بڑے مشائخ اور حضرات موجود ہیں، ان کی موجودگی میں کچھ کہنا یا کچھ پڑھانا میرے لیے مشکل ہے، لیکن ’’ اَلْأَمْرُ فَوْقَ الْأَدَبِ‘‘ کے تحت میں آپ حضرات کے سامنے بیٹھ گیا۔

علم کی مال پر فضیلت کی چھ وجوہات
 

اللہ تبارک وتعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ آپ حضرات کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے علمِ دین کی نعمت عطا فرمائی ہے، حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے ایک روایت تصوُّف کی کتابوں میں مروی ہے کہ علم کو مال پر بہت سی وجوہات کی بناپر فضیلت حاصل ہے: 
۱:- علم‘ انبیاء علیہم السلام کی میراث ہے اور مال ‘انبیاء علیہم السلام کی وراثت نہیں۔ مال‘ انبیاء علیہم السلام اور دوسرے سب لوگوں کو ملا ہے، قارون کو بھی مال ملا تھا، تو یہ مال انبیاء علیہم السلام کی میراث نہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ آواز لگائی - اگرچہ اس روایت کی سند میں کلام ہے- فرمایا کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث مسجد میں تقسیم ہو رہی ہے ، اس کے لیے تم حاضر ہوجاؤ! لوگ دوڑے دوڑے مسجد کی طرف آئے، مسجد میں ایک جگہ علم کی مجلس لگی ہوئی تھی، دوسری جگہ ذکر کی مجلس تھی، تیسری جگہ مذاکرہ کی مجلس تھی۔ لوگوں نے کہا: کہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث تقسیم ہو رہی ہے؟ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور انبیاء علیہم السلام کی میراث یہی علم ہے اور ابوداود میں وہ حدیث تو آپ کو معلوم ہے: ’’إِنَّ الْأَنْبِیَاءَ لَمْ یُوَرِّثُوْا دِیْنَارًا وَّلَا دِرْہَمًا، وَ إِنَّمَا وَرَّثُوْا الْعِلْمَ، فَمَنْ أَخَذَہٗ أَخَذَ بِحَظٍّ وَّافِرٍ۔‘‘ ترجمہ کی آپ حضرات کو ضرورت نہیں۔ ایک یہ کہ علم‘ انبیاء علیہم السلام کی میراث ہے ۔
۲:- علم اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے، اس لیے کہ علم سے مراد وہ علم ہے جس علم کے ساتھ عمل ہو، اور علم جب عمل کے ساتھ جمع ہو جائے تو یہ اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے۔ علماء فرماتے ہیں: ’’اَلْعِلْمُ بِلَا عَمَلٍ عَقِیْمٌ، وَالْعَمَلُ بِلَا عِلْمٍ سَقِیْمٌ ، وَکِلَاہُمَا طَرِیْقٌ مُّسْتَقِیْمٌ۔‘‘ یعنی علم عمل کے بغیر بانجھ ہے اور عمل بغیر علم کے مریض ہے،اس لیے کہ عمل نہ ہو تو علم کا کیا فائدہ؟ او رعلم اور عمل دونوں جمع ہو جائیں تو یہ طریقِ مستقیم ہے۔ اور یہ بھی فرماتے ہیں: ’’مَنْ تَفَقَّہَ وَلَمْ یَتَصَوَّفْ فَقَدْ تَفَسَّقَ، وَمَنْ تَصَوَّفَ وَلَمْ یَتَفَقَّہْ فَقَدْ تَزَنْدَقَ، وَمَنْ جَمَعَ بَیْنَہُمَا فَقَدْ تَحَقَّقَ۔‘‘ یا ’’ فَقَدْ حَقَّقَ‘‘ یعنی جوفقیہ بن جائے اور سیکھنے کے لیے عمل نہیں کرتا تووہ فاسق بن جائے گااورجو عمل کرتا ہے، اس کے پاس علم نہیں ،بغیر علم کے اپنی جہالت کو امام بنایا تو وہ زندیق بن جائے گا اور جو دونوں کو جمع کرے تو وہ محقق اور بہتر بن جائے گا۔ تو جو علم عمل کے ساتھ ہو‘ وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کو محبوب ہے اور مال محبوب بھی بن سکتا ہے، مبغوض بھی بن سکتا ہے۔
۳:- علم آدمی کے لیے حافظ ہے، حفاظت کرتا ہے اور مال محفوظ ہے، حافظ نہیں، مال کی حفاظت آپ کو کرنی پڑے گی تو علم حافظ ہے۔ جو علم حاصل کرے اللہ تعالیٰ اس کو بہترین گزارہ کرائے گااور وہ بہتر ین زندگی گزارے گا،اس لیے بعض علمانے فرمایا ہے کہ عالم کو اللہ تعالیٰ اجناس بہت دیتے ہیں، عالم کو مال کبھی ملتا ہے،کبھی نہیں ملتا، ا س لیے کہ عالم کو مال مل جائے تو ممکن ہے کہ راستے سے ہٹ جائے اور علم کا راستہ چھوڑدے، مال کا مقصد اجناس ہیں، اچھا کھانا پینا ، اچھا جوتا، اچھی کوٹھی، اچھی گھڑی، یہ سب اللہ تعالیٰ علماء کو دیتے ہیں، تو علم حافظ ہے اور مال محفوظ ہے، اس کی حفاظت کرنی پڑے گی ،اس کے لیے رات کو جاگنا پڑے گا۔
۴:- علم جب عمل کے ساتھ ہو تو اس کا حساب کتاب نہیں اور مال کا حساب کتاب ہوگا، کہاں سے کمایا؟ کتنا کمایا؟ کہاں خرچ کیا؟ زکوٰۃ نکالی یا نہیں؟ صدقہ دیا یا نہیں؟ او ر جب علم عمل کے ساتھ ہو تو یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ آپ نے افغانستان کے طالبِ علم کو کیوں پڑھایا؟ آپ نے مصر کے طالبِ علم کو کیوں پڑھایا؟ اس کا حساب دیں۔
۵:- علم باقی الذکر ہے اور مال باقی الذکر نہیں۔ کتنے مال دار مرجاتے ہیں،لیکن کوئی ان کا پوچھتا نہیں، اور جو علم عمل کے ساتھ ہو اس کا ذکر، اس کی شہرت اور اس کا نا م باقی رہتا ہے، لوگ اس کے لیے دعا کرتے ہیں۔ حضرت مولانا (محمد یوسف)بنوری رحمۃ اللہ علیہ جو اس جامعہ کے بانی ہیں، روزانہ ان کے لیے دعا ئیں ہوتی ہیں، روزانہ ان کاذکر ہوتا ہے، وفات کے بعد وہ ایسے ہوتے ہیں جیسے وفات پائی ہوئی نہ ہو، تو علم باقی الذکر ہے اور مال فاقد الذکر ہے۔ کتنے مالدار مرگئے، بس چلے گئے۔
۶:- مال خرچ کرنے سے کم ہوجاتا ہے اور علم خرچ کرنے سے بڑھ جاتا ہے، علم کو پھیلاتے جائیں، پھیلاتے جائیں، آپ کا علم خود بخود اُتنا مضبوط ہوجائے گا، یہ چھے نمبر ہیں جو علم اور مال میں فرق کرنے کے لیے ہیں، تو الحمد للہ! اللہ تعالیٰ نے آپ حضرات کو علم کے لیے قبول فرمایا ہے۔

’’حدیثِ مسلسل بالاوّلیّت‘‘ کی سند اور تشریح 

میں نے آپ حضرات کے سامنے جوحدیث پڑھی، آپ کو دوسرے اساتذہ نے بھی پڑھائی ہوگی، لیکن ہمارے شیخ حضرت مفتی محمود حسن رحمۃ اللہ علیہ کا طریقہ یہ تھا کہ وہ حدیث کی مجلس میں اس حدیث کو سب سے پہلے بیان فرماتے تھے: ’’اَلرَّاحِمُوْنَ یَرْحَمُہُمُ الرَّحْمٰنُ، اِرْحَمُوْا مَنْ فِيْ الْأَرْضِ یَرْحَمْکُمْ مَّنْ فِيْ السَّمَائِ۔‘‘ اس حدیث کو ’’حدیثِ مسلسل بالاوّلیّت‘‘ کہتے ہیں۔ ہم نے اپنے شیخ حضرت مفتی محمود حسن رحمۃ اللہ علیہ سے سب سے پہلے یہ حدیث سنی، انہوں نے حضرت مولانا زکریا رحمۃ اللہ علیہ سے سب سے پہلے یہ حدیث سنی، انہوں نے اپنے شیخ حضرت مولانا خلیل احمد رحمۃ اللہ علیہ سے سب سے پہلے یہ حدیث سنی، انہوں نے اپنے شیخ حضرت مولانا عبد القیوم بُڈھانوی رحمۃ اللہ علیہ سے سب سے پہلے یہ حدیث سنی۔ 
یہ مولانا عبد القیوم بڈھانوی رحمۃ اللہ علیہ ‘حضرت مولانا عبد الحی بڈھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے صاحبزادے تھے اور مولانا عبد الحی بڈھانوی رحمۃ اللہ علیہ وہی ہیں جو ہمارے علاقے میں بٹ خیلہ کے قبرستان میں مدفون ہیں ، حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ کے خاص لوگوں میں سے تھے، اُن کو شیخ الاسلام کہا جاتا تھا اور حضرت مولانا شاہ اسماعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ کو حجّۃ الاسلام کہتے تھے۔ مولانا عبد القیوم صاحب بڈھانوی رحمۃ اللہ علیہ ان کے صاحبزادے ہیں۔ 
مولانا عبد القیوم بڈھانوی رحمۃ اللہ علیہ کو حضرت مولانا شاہ محمداسحاق رحمۃ اللہ علیہ سے اجازتِ حاصل تھی، ان کو حضرت شاہ عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ سے اور اُن کو حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ سے۔ حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے بعد والی اَسانید اُن کے رسائل’’ الدُّرّ الثّمین‘‘، ’’الفضل المبین‘‘ اور ’’النوادر‘‘ میں مذکور ہیں،ا ور یہ کتاب حضرت مولانا عاشق الٰہی بلند شہری رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیقات اور حواشی کے ساتھ چھپی ہوئی ہے۔

’’حدیثِ مسلسل بالاوّلیّت‘‘ کے فوائد

علماء لکھتے ہیں کہ: ’’حدیثِ مسلسل بالاوّلیّت‘‘ کے بہت سے فوائد ہیں، ان میں سے تین فوائد یہ ہیں:
۱:-’’ حدیثِ مسلسل‘‘ میں انقطاع ختم ہوجاتا ہے، اس لیے کہ ہر ایک تلمیذ نے اپنے شیخ کی کیفیّت کو بیان کیا ہے۔
۲:-’’حدیثِ مسلسل‘‘ میں اس اُمت کے حدیث کے ساتھ اہتمام کا ذکر ہے کہ یہ امت‘ حدیث کا کتنا زیادہ اہتمام کرتی تھی کہ متن اور سند کو توچھوڑیئے، متن اور سند کے علاوہ سند کی کیفیّت کو بھی نقل کرتی تھی کہ اس سند کی کیا کیفیت ہے؟ تو اس میں اس امت کے حدیث کے ساتھ اہتمام کا ذکر ہے۔
۳:-’’حدیثِ مسلسل‘‘ میں جو کیفیّت ہے، اس کیفیّت کی نورانیّت‘ ناقل اور تلمیذ میں منتقل ہوجاتی ہے، اس لیے کہ وہ کیفیّت شیخ الشیخ سے شیخ کے پاس آئی، شیخ سے تلمیذ کے پاس آگئی اور تلمیذ سے پھر تلمیذ التلمیذ کے پاس آگئی، جیسے لائٹ میں اگر چہ کسی جگہ پر تار کا سلسلہ کمزور ہو، لیکن کمزور تار سے بھی لائٹ چل جائے گی، اسی طرح ہم تو بہت کمزور ہیں ،لیکن ہمارے مشائخ تو بہت اونچے درجے کے لوگ تھے، تو اُنہی کے واسطے سے جو حدیث کی نورانیّت ہے، وہ بھی منتقل ہوجائے گی۔

’’حدیثِ مسلسل ‘‘کی چھ قسمیں اور اُن کی مثالیں

حدیثِ مسلسل کی بہت سی قسمیں لوگوں نے بیان کی ہیں، لیکن میں ان کو چھ نمبر میں بند کرتا ہوں:
۱:-مسلسلِ قولی، ۲:-مسلسلِ فعلی، ۳:-مسلسلِ زمانی، ۴:-مسلسلِ مکانی، ۵:-مسلسل بالحالۃ العارضۃ، ۶:-مسلسل بالحالۃ الدائمۃ۔

۱:- ’’مسلسلِ قولی‘‘ 

جیسے: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابیؓ سے فرمایا: ’’ أَنَا أُحِبُّکَ‘‘، پھر صحابیؓ تابعیؒ سے کہے: ’’أَنَا أُحِبُّکَ‘‘، پھر تابعیؒ تبع تابعیؒ سے کہے: ’ ’أَنَا أُحِبُّکَ‘‘، علیٰ ہذا القیاس یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ 
۲:- ’’مسلسلِ فعلی‘‘ 
اس کی مثال یہ ہے کہ صحابیؓ کہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی اور آپ نے میرے ساتھ مصافحہ کیا، پھر صحابیؓ نے اپنے تلمیذ کے ساتھ مصافحہ کیا، تلمیذ نے پھرتلمیذ التملیذ کے ساتھ، اسی طرح آخر تک یہ مصافحہ کاسلسلہ چلتا رہا، یہ ’’مسلسلِ فعلی‘‘ ہے۔ 
۳:- ’’مسلسلِ زمانی‘‘ 
اس کی مثال یہ ہے کہ صحابیؓ کہے: عید کے دن میں نے یہ حدیث سنی، اسی طرح تلمیذ کہے:میں نے اپنے استاذ سے عید کے دن یہ حدیث سنی، پھراسی طرح یہ سلسلہ چلتا رہے۔
۴:- ’’مسلسلِ مکانی ‘‘ 
اس کی مثال یہ ہے کہ صحابیؓ کہے: میں نے یہ حدیث، مقامِ ابراہیم اور حجرِ اسود کے درمیان سنی، اور وہ اپنے تلمیذ کو اسی طرح سنائے، پھر تلمیذ اپنے تلمیذ کو اسی طرح سنائے، اس کو ’’مسلسلِ مکانی‘‘ کہتے ہیں۔ 
’’مسلسلِ زمانی‘‘ سے متعلق حضرت مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہٗ کا ایک واقعہ
’’مسلسلِ زمانی‘‘ کے بارے میں حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب اپناایک واقعہ بیان کرتے ہیں ،جو انہوں نے اپنی کسی کتاب میں لکھا ہے، فرماتے ہیں کہ: میں ایک مرتبہ جدّہ میں کسی کانفرنس میں شریک تھا، مجھے چار پانچ گھنٹے کا وقت مل گیا، میں نے ٹیکسی لی اور عمرے کے لیے چلا گیا، عمرے کے لیے جانے کے بعد جب سیڑھیوں سے اُتر رہا تھا تو وہاں ایک طالبِ علم میرے انتظار میں کھڑا تھا، اس نے مجھ سے کہا: آپ کو شیخ یاسین فادانی یاد فرمارہے ہیں اور انہوں نے مجھ سے کہا ہے کہ آپ کو فلاں جگہ مولانا تقی صاحب ملیں گے، ان کو میرے پاس بلائیے۔ 
شیخ یاسین فادانی کو اساتذہ جانتے ہیں ،آپ نہیں جانتے ہوں گے، وہ جامع المسانید تھے، بڑے بڑے مشائخ ان کے پاس حدیث کی سند لینے جاتے تھے، اصلاً انڈونیشیا کے تھے اورمکّہ مکرّمہ میں مقیم تھے۔ مولانا تقی صاحب نے فرمایا: شیخ کو کیسے پتہ چلا کہ میں آیا ہوں؟ طالبِ علم نے کہا: یہ تو مجھے معلوم نہیں، لیکن شیح نے مجھے یہ بتایا ہے کہ آپ فلاں دروازے کے پاس کھڑے ہوجائیں ،وہاں آپ کو تقی صاحب ملیں گے،ان کو لائیے گا۔ 
جب مولانا تقی صاحب شیخ کے پاس پہنچے تو شیخ یٰسین فادانی نے فرمایا: اصل میں میرے پاس ایک حدیث ’’مسلسل بیوم عاشورا‘‘ ہے اورآج عاشورا کا دن ہے، میں نے سوچا کہ آپ کو بلاؤں اورآپ کو ’’حدیثِ مسلسل بیوم عاشورا‘‘ کی اجازت دوں، اس لیے کہ یہ دن سال میں ایک مرتبہ آتا ہے، معلوم نہیں آئندہ سال آپ زندہ ہوں گے یا نہیں؟ میں زندہ رہوں گا یا نہیں؟ زندہ ہوں گے تو یہاں موجود ہوں گے یا نہیں؟ اس لیے میں نے آپ کو تکلیف دی، مولانا تقی صاحب نے فرمایا: حضرت! آپ کو پتہ کیسے چلا کہ میں آیا ہوں؟ وہ فرمانے لگے: بس باقی باتوں کو چھوڑ دیں، آپ حدیث کی اجازت لیں۔ کبھی کبھی اللہ تعالیٰ الہام فرماتے ہیں اور وہ الہام اعلیٰ درجے کا ہوتا ہے، بہر حال یہ’’ مسلسلِ زمانی‘‘اور ’’مسلسلِ مکانی‘‘ آپ حضرات کو سنائی۔ 

۵:- ’’مسلسل بالحالۃ الدائمۃ‘‘ 

جیسے تلمیذ کہے: میں نے اپنے شیخ سے سنا: ’’وَکَانَ أَعْمٰی ‘‘، انہوں نے اپنے شیخ سے سنا: ’’وَکَانَ أَعْمٰی‘‘، یہ اعمیٰ اعمیٰ کا سلسلہ حالتِ دائمہ ہو، سب کے سب نابینا ہوں، بینا نہ ہوں۔

۶:- ’’مسلسل بالحالۃ العارضۃ‘‘
 

جیسے صحابیؓ کہے: میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ’’وَکَانَ مُتَبَسِّمًا‘‘ اور اسی طرح تبسّم کی یہ کیفیّت آخرتک چلتی رہے،اس کو’’مسلسل بالحالۃ العارضۃ ‘‘کہتے ہیں، کیونکہ تبسّم کبھی ہوتا ہے اورکبھی نہیں ہوتا۔ تو بہرحال میں نے آپ حضرات کو ’’حدیثِ مسلسل بالاوّلیّت‘‘ سنائی، جو ہم نے اپنے شیخ حضرت مفتی محمود حسن گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ سے بارہا سنی ہے، مفتی عبد الرؤف صاحب (غزنوی) نے بھی کافی مرتبہ سنی ہوگی۔
 

’’حدیثِ نیّت ‘‘اور اس کی تشریح

اس کے بعد ان حضرات نے فرمایا ہے: میں (بخاری شریف) کی پہلی حدیث پڑھ دوں اور جو طلبہ ہیں‘ ان کو اجازت دے دوں۔ 
’’کَیْفَ کَانَ بَدْئُ الْوَحْيِ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَوْلُ اللّٰہِ جَلَّ ذِکْرُہٗ:’’إِنَّا أَوْحَیْنَا إِلَیْکَ کَمَا أَوْحَیْنَا إِلٰی نُوْحٍ وَالنَّبِیِّیْنَ مِنْ بَعْدِہٖ۔‘‘
حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِيُّ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الزُّبَیْرِ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْیَانُ قَالَ: حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیْدٍ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِيْ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیْمَ التَّیْمِيُّ أَنَّہٗ سَمِعَ عَلْقَمَۃَ بْنَ وَقَّاصٍ اللَّیْثِيَّ یَقُوْلُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللّٰہُ عَنْہُ عَلَی الْمِنْبَرِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وَإِنَّمَا لِکُلِّ امْرِئٍ مَا نَوٰی فَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ إِلٰی دُنْیَا یُصِیْبُہَا۔‘‘
اور دوسری جگہ کتاب الایمان میں پوری حدیث مذکور ہے کہ:
 ’’إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوٰی فَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ إِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ فَہِجْرَتُہٗ إِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہِ وَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ إِلٰی دُنْیَا یُصِیْبُہَا أَوِ امْرَأَۃٍ یَتَزَوَّجُہَا فَہِجْرَتُہٗ إِلٰی مَا ہَاجَرَ إِلَیْہِ۔‘‘
اس حدیث کی سند میں حضرت عمرؓ اورعلقمہؒ متفرّد ہیں، اسی طرح محمد بن ابراہیم تیمیؒ اور یحییٰ بن سعید انصاریؒ بھی متفرّد ہیں تو یہ حدیث چار طبقات میں غریب ہے، اس میں مصنف نے شاید یہ اشارہ کیا ہوگا کہ حدیث کے پڑھنے کے لیے یا غریب بن جاؤیا کالغریب بن جاؤ، یا مسافر بنو جو دور سے آئے یا مسافر کی طرح بنوکہ صرف کتاب سے تعلق ہو اور باقی چیزوں سے زیادہ تعلق نہ ہو۔ 

’’إِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوٰی‘‘ کی تشریح

پھر حدیث میں فرمایا: ’’إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ وَإِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوٰی‘‘ اس میں بھی مختصراً یہ عرض کرتا ہوں کہ اس حدیث میں چھ چیزوں کی طرف اشارہ ہے:
۱:- علم حاصل کرنے کے لیے محنت، یہ عمل ہے ،اس میں اچھی نیت کرو، اللہ کے لیے کرنا ہو۔
۲:-یہ’’ مَا نَوٰی‘‘ میں ’’مَا‘‘ عام ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ علم کی محنت میں جتنے متعلقات ہیں، ان متعلقات میں بھی اچھی نیت کروکہ میں یہ علم کے لیے کر رہا ہوں ، کپڑے بنانے ہیں تویہ علم کے لیے ٹوپی، اسی طرح کتاب کا خریدنا ہے ، کھانا پینا ہے اور مال خرچ کرنا ہے، سب میں اللہ کے راستے میں کر رہا ہوں، جب اللہ کے راستے میں کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے: جو اللہ کے راستے میں مال خرچ کرتا ہے، کم ازکم اس کو سات سو کا درجہ ملتا ہے، سات سو درجات یا سات سو مرتبے کس کو کہتے ہیں؟ وہ آیتِ کریمہ میں تلاوت کروں تو اس میں ٹائم لگ جائے گا، لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ فرمایا ہے۔
 ’’إِنَّمَا لِامْرِئٍ مَا نَوٰی‘‘ میں دوسری بات یہ ہے کہ علم کے جتنے متعلقات ہیں، ان میں اچھی نیت کرو کہ میں علم کے مقدمے کے طور پر یہ سب کام کر رہا ہوں،جو کوئی ایک درہم خرچ کریں ، اپنے اوپر ایک روپیہ خرچ کریں ، سو روپے خرچ کریں تو آپ یہ کہیں کہ یہ فی سبیل اللہ ہے : ’’مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ أَمْوَالَہُمْ فِيْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِيْ کُلِّ سُنْبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ وَاللّٰہُ یُضَاعِفُ لِمَنْ یَّشَائُ۔‘‘ اللہ تعالیٰ بہت زیادہ دیتے ہیں۔
۳:- اس کے بعد فرمایا: ’’وَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ إِلٰی دُنْیَا یُصِیْبُہَا‘‘، اور دوسری روایت میں ’’فَمَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ إِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ‘‘ ہے، اُس میں اس طرف اشارہ ہے کہ طالب ِعلم کے لیے ہجرتِ ظاہری بھی ہونی چاہیے اور ہجرت ِحقیقی بھی ہونی چاہیے۔ ہجرتِ ظاہری یہ ہے کہ دنیا کی چیزوں سے تعلق نہ رکھے، صر ف علم سے تعلق رکھے، پھر بعد میں علم کی تبلیغ کی نیت سے اَقارب اَباعد سب سے تعلق رکھے، لیکن علم حاصل کرنے کے وقت اس طرح بدل جائے، جیسے: مہاجر ، مہاجر اپنے وطن کو چھوڑتا ہے ،یہ اپنے شہر کو چھوڑے گا اور اگر اپنے شہر میں رہے گا تو کالمسافر ہوگا۔
۴:- ہجرت ِحقیقی کے متعلق آپ نے پڑھا ہے: ’’وَالْمُہَاجِرُ مَنْ ہَجَرَ مَا نَہَی اللّٰہُ عَنْہُ‘‘ منہیّات کو چھوڑے، آپ نے بارہا یہ شعر سنا ہے:

شَکَوْتُ إِلٰی وَکِیْعٍ سُوْئَ حِفْظِيْ
فَأَوْصَانِيْ إِلٰی تَرْکِ الْمَعَاصِيْ
فَإِنَّ الْعِلْمَ نُوْرٌ مِّنْ إِلٰہِيْ
وَنُوْرُ اللّٰہِ یَا (وَفَضْلُ اللّٰہ) لَا یُعْطٰی لِعَاصِيْ


نمبر پانچ اور چھ یہ ہے: ’’مَنْ کَانَتْ ہِجْرَتُہٗ إِلٰی دُنْیَا یُصِیْبُہَا۔‘‘ آپ کی ہجرت ‘ ہجرتِ مالی نہ ہو، یہ دیکھیں کہ کراچی میں آئے تو کراچی میں یہ ملے گا، یہ ملے گا، ہجرتِ مالی نہ ہو اور’’ أَوِ امْرَأَۃٍ یَتَزَوَّجُہَا‘‘ میں اس طرف اشارہ ہے کہ ہجرتِ جمالی نہ ہو۔
 یہ چھ نمبر ہیں جن کی طرف امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اشارہ فرمایا ہوگا، بس اتنا کافی ہے۔
دورہ حدیث کے طلبہ، متخصصین، اساتذہ، فضلاء سب کو میری طرف سے اجازت ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ علم ،عمل اور دعوت کے سلسلے کے لیے ہم سب کو قبول فرمائے۔ 

وصلَّی اللّٰہ علٰی محمد وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ أجمعین
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے