بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 ربیع الثانی 1441ھ- 08 دسمبر 2019 ء

بینات

 
 

فرض نمازوں کے بعد دعا کی اہمیت (پہلی قسط)

فرض نمازوں کے بعد دعا کی اہمیت                 (پہلی قسط)

جامعہ کے قدیم استاذ اور شعبہ تخصص فی الفقہ و تخصص فی الدعوۃ والارشاد کے نگران حضرت مولانا مفتی محمد ولی درویش v (المتوفی:۱۹۹۹ئ) کی اپنے علمی وطبعی ذوق کے سبب دیرینہ خواہش تھی کہ سندھ کے امام شاہ ولی اللہ، محدث ومفسر ومصنف حضرت العلامہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی سندھی v (المتوفی:۱۱۷۴ھ) کا عربی میں تصنیف کردہ رسالہ   ’’التحفۃ المرغوبۃ  فی أفضلیۃ الدعاء بعد المکتوبۃ‘‘ جو ’’ثلاث رسائل فی استحباب الدعائ‘‘ نامی مجموعہ کا پہلا رسالہ ہے، اور شیخ عبدالفتاح ابوغدہ v(المتوفی ۱۴۱۷ھ) نے اس کا اختصار کیا ہے، اس کو اردو کے قالب میں ڈھالا جائے، تاکہ علماء کے علاوہ عوام بھی اس سے مستفید ہوں۔ حضرتؒ کی اسی دیرینہ خواہش کی تکمیل کے لیے اس کا ترجمہ ہدیۂ قارئین ہے۔

حمدوصلاۃ کے بعد اپنے غنی رب کی رحمت کا محتاج محمد ہاشم بن عبد الغفور ٹھٹھوی(اللہ تعالیٰ ہر وقت اور ہرآن اس کا معین ومددگار ہو)کہتاہے کہ:مجھ سے فرض نماز کے بعد دعاکے بارے میں پوچھاگیا کہ یہ سنت ہے یا نہیں؟ اور جن فرض نمازوں کے بعد سنن مؤکدہ ہوتی ہیں، ان میں سنتِ مؤکدہ سے پہلے دعاکرنا افضل ہے یابعد میں؟ تومیں نے جواب دیا کہ:فرض نماز کے بعد دعا ’’سنت مستحبہ ‘‘ہے،اس کاچھوڑنا اچھا نہیں ہے، خاص کر امام کے حق میں۔اور جس طرح سنت مؤکدہ سے پہلے دعاکرنا جائز ہے، اسی طرح اس کے بعد بھی جائز ہے۔اور بہتر یہ ہے کہ دعاسنت سے پہلے کی جائے اگر وہ لمبی نہ ہو۔ بعض معاصر علماء کرام نے تو میری رائے کی موافقت کی اور بعض حضرات نے بعض کتبِ فقہ کی روایات کو بنیاد بناکر میری مخالفت کی۔لہٰذامیں نے یہ رسالہ لکھا،اور اس میں مَیں نے وہ احادیث نبویہ l اورفقہ کی معتمد روایات ذکر کی ہیں جو سنت سے پہلے دعاکے مکروہ نہ ہونے بلکہ اس کے افضل ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ اس رسالہ کو میں نے جمعرات کی صبح ۱۹؍ صفر المظفر۱۱۶۸ھ کو شروع کیا،اوراس کا نام ’’التحفۃ المرغوبۃ فی أفضلیۃ الدعاء بعد المکتوبۃ‘‘ رکھا۔اس رسالہ کی بنیاد دوابواب اور ایک خاتمہ پر رکھی ہے۔ پہلاباب اس بارے میں ہے کہ نفسِ دعا فرض نمازوں کے بعد سنت مستحبہ ہے۔ اوردوسراباب اس بارے میں ہے کہ فرض نماز کے بعد سنت سے پہلے دعاکرناافضل ہے،بلکہ سنت کے بعد دعاکرنے کی بجائے سنت سے پہلے دعا کرناافضل ہے، بشرطیکہ دعاطویل نہ ہو۔ اور خاتمہ میں ان روایات کوذکر کیاہے جن سے مخالفین نے استدلال کیاہے (اوران کا جواب بھی دیا ہے) اور یہ (خاتمہ)اس رسالہ کا حاصل(اور اس کے سبب)کابیان ہے۔ پہلاباب’’نفسِ دعا فرض نماز کے بعد سنت مستحبہ ہے‘‘ ’’وہ احادیث مبارکہ جوفرض نمازکے بعد نفسِ دعاکے سنت مستحبہ ہونے پر دلالت کرتی ہیں‘‘ ۱:…امام ترمذی vنے اپنی سنن اورامام نسائیv نے ’’عمل الیوم واللیلۃ‘‘میں حضرت ابو امامہ باہلی qسے روایت کی ہے،فرماتے ہیں کہ رسول اللہ a سے پوچھاگیا: کون سی دعازیادہ قبول ہوتی ہے؟ آپ a نے فرمایا:رات کے آخری حصہ میں اور فرض نمازوں کے بعد (مانگی جانے والی)۔(۱)امام ترمذیv فرماتے ہیں کہ: یہ حدیث حسن ہے۔ امام عبدالحق دہلویv مشکوٰۃ کی فارسی شرح میں فرماتے ہیں کہ ’’دبرالصلوات المکتوبات‘‘ کی ظاہری عبارت سے مراد یہ ہے کہ دعافرض نمازکے متصل بعد ہو۔(۲) ۲:…امام بخاری vاپنی کتاب ’’التاریخ الأوسط‘‘ میں حضرت مغیرہ بن شعبہ q سے روایت کرتے ہیں کہ: رسول اللہ a ہر فرض نماز کے بعد تین مرتبہ دعافرماتے تھے۔(۳)     ۳:…امام مسلم v نے حضرت ثوبان q سے روایت کی ہے کہ جب رسول اللہ a نماز سے فارغ ہوتے تو تین بار استغفار کہتے،اور یہ دعافرماتے:’’أَللّٰھُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْکَ السَّلَامُ تَبَارَکْتَ یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِکْرَامِ‘‘۔(۴) اس حدیث کے راوی امام اوزاعیv سے پوچھاگیا کہ استغفارکیسے پڑھا جائے؟ توانہوں نے فرمایاکہ:یوں کہو:’’أَسْتَغْفِرُاللّٰہَ ، أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ ، أَسْتَغْفِرُاللّٰہَ‘‘۔ ۴:…امام بخاریv اور امام مسلمv اپنی صحیحین،امام ابو دائود vاورامام نسائی v اپنی سنن میں حضرت مغیرہ بن شعبہq سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہa سلام پھیرکر نماز سے فارغ ہوتے توفرماتے :’’لَاإِلٰہَ إِلاَّاللّٰہُ وَحْدَہٗ لاَشَرِیْکَ لَہٗ،لَہٗ الْمُلْکُ وَلَہٗ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ، أَللّٰھُمَّ لَامَانِعَ لِمَاأَعْطَیْتَ وَلَامُعْطِیَ لِمَامَنَعْتَ وَلَایَنْفَعُ ذَاالْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ‘‘۔(۵)  امام بخاریvنے ’’کتاب الاعتصام ‘‘میں ان الفاظ کے ساتھ نقل کیاہے کہ:’’ إنہ a کان یقول:ھذہ الکلمات دبر کل صلاۃ‘‘۔ یعنی آپ m مذکورہ(بالا)کلمات کو ہر نماز کے بعد پڑھتے تھے۔(۶)ا ور ’’کتاب الصلوٰۃ‘‘میں لفظ ’’مکتوبۃ‘‘کے اضافہ کے ساتھ ذکر کیاہے کہ: ’’دبر کل صلاۃ مکتوبۃ‘‘ یعنی ہر فرض نماز کے بعد یہ کلمات ذکر فرماتے تھے ۔تویہ (کلام) اپنے عموم کی وجہ سے ان فرض نمازوں کو بھی شامل ہے جن کے بعدسنتیں (پڑھی جاتی) ہیں اور ان کو بھی جن کے بعد سنتیں نہیں ہیں۔(۷) ۵:…امام مسلمv اپنی صحیح، امام ابودائود v اور امام نسائیv اپنی سنن میں حضرت عبداللہ بن زبیر r سے روایت کرتے ہیں کہ وہ (یعنی حضرت عبداللہ بن زبیرr)ہر نماز کے سلام پھیرنے کے بعد یہ کلمات پڑھاکرتے تھے :’’لاَإِلٰہَ إِلَّااللّٰہُ وَحْدَہٗ لاَشَرِیْکَ لَہٗ، لَہٗ الْمُلْکُ وَلَہٗ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیٍٔ قَدِیْرٌ وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ إِلاَّبِاللّٰہِ، لَانَعْبُدُإِلاَّإِیَّاہُ، لَہٗ النِّعْمَۃُ وَلَہٗ الْفَضْلُ وَلَہٗ الثَّنَائُ الْحَسَنُ، لاَإِلٰہَ إِلاَّاللّٰہُ مُخْلِصِیْنَ لَہٗ الدِّیْنَ، وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُوْنَ۔‘‘(۸) حضرت عبداللہ بن زبیرr فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ aہر نماز کے بعد ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے۔ ۶:… امام بخاری vاور امام مسلمv حضرت عبداللہ بن عباس r سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ a کے زمانے میں یہ ہوتا تھا کہ فرض نماز سے فراغت کے بعدمعمولی بلند آواز سے ذکر ہوتاتھا، حضرت ابن عباسr فرماتے ہیں کہ: جب میں اس ذکر کی آواز سنتا تو مجھے معلوم ہوجاتاکہ لوگ نماز سے فارغ ہوچکے ہیں۔(۹)ا ور ایک روایت میں اس طرح ہے کہ ہم رسول اللہa کی نماز کااختتام آپa کے (سلام پھیرنے کے بعد)اللہ اکبر کہنے سے معلوم کرتے تھے۔     ۷:…امام بخاریvنے اپنی صحیح کی کتاب الجہاد کے شروع میں حضرت سعد بن ابی وقاصrسے روایت کی ہے کہ رسول اللہ a ہر نماز کے بعد ان کلمات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگاکرتے :’’أَللّٰھُمَّ اِنِّیْ أَعُوْذُبِکَ مِنَ الْجُبُنِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ أَنْ أَرُدَّ إِلٰی أَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَأَعُوْذُ بِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الدُّنْیَا وَأَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبَرِ‘‘۔(۱۰) ۸:…اما م ابوبکر ابن ابی شیبہ v اپنی مصنَّف میں حضرت عبداللہ بن مسعودqسے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ a فرمایا کرتے تھے کہ: جب تم میں سے کوئی نماز سے فارغ ہوجائے تو یہ کہے:’’أَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ مِنَ الْخَیْرِ کُلِّہٖ مَاعَلِمْتُ مِنْہُ وَمَالَمْ أَعْلَمْ وَأَعُوْذُبِکَ مِنَ الشَّرِّ کُلِّہٖ مَاعَلِمْتُ مِنْہُ وَمَالَمْ أَعْلَمْ، أَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ مِنْ خَیْرِ مَاسَأَلَکَ بِہٖ عِبَادُکَ الصَّالِحُوْنَ، وَأَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَااسْتَعَاذَ مِنْہُ عِبَادُکَ الصَّالِحُوْنَ، رَبَّنَاآتِنَا فِیْ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِیْ الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ، رَبَّنَا إِنََّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْلَنَا ذُنُوْبَنَا۔۔۔۔۔۔ وَآتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلٰی رُسُلِکَ، وَلَاتُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، إِنَّکَ لَاتُخْلِفُ الْمِیْعَادَ‘‘۔(۱۱) ۹:…امام ابودائودؒ،امام نسائیؒ نے اپنی سنن اورامام ابونعیمw نے حلیہ میں حضرت معاذ بن جبلq سے نقل کیاہے کہ نبی کریمa نے ان سے فرمایا:اے معاذ! میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ ان کلمات کوہر نماز کے بعد پڑھنا مت چھوڑنا:’’أَللّٰھُمَّ أَعِنِّیْ عَلٰی ذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ‘‘۔(۱۲) ابونعیم vنے ان الفاظ کے ساتھ نقل کیاہے:’’أَعِنِّیْ عَلٰی تِلَاوَۃِ الْقُرْآنِ وَکَثْرَۃِ ذِکْرِکَ‘‘۔ ۱۰:…امام احمد v اپنی مسندمیں حضرت عبدالرحمن بن غنمqسے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہaنے فرمایا: جو شخص فجر اور مغرب (کی نماز)کے بعد اپنی جگہ سے اُٹھنے سے پیشتر اور پائوں موڑنے سے پہلے (یعنی جس طرح ’’التحیات‘‘ کے لیے بیٹھتاہے، اسی ہیئت کے ساتھ) ان کلمات کو دس مرتبہ پڑھے:’’لاَإِلٰہَ إِلاَّاللّٰہُ وَحْدَہٗ لاَشَرِیْکَ لَہٗ، لَہٗ الْمُلْکُ وَلَہٗ الْحَمْدُ بِیَدِہٖ الْخَیْرُ، یُحْیِیٖ وَیُمِیْتُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیٍٔ قَدِیْرٌ‘‘تواس کے لیے ہر ایک مرتبہ (پڑھنے )کے بدلے میںدس نیکیاں لکھی جاتی ہیں،اور اس کے دس گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں،اور یہ کلمات اس کے لیے ہر بری چیز اور شیطان مردود سے امان (کاباعث)بن جاتے ہیں، (یعنی نہ تواس پر کسی دینی ودنیاوی آفت وبلا کا اثر ہوتاہے اور نہ شیطان مردوداس پر حاوی ہوتاہے)اور شرک کے علاوہ کوئی گناہ(توفیقِ استغفار اور رحمت پروردگار کی وجہ سے)اسے ہلاکت میں نہیں ڈالتا،(یعنی اگر شرک میں مبتلاہوجائے گا اور شرک پر موت آئی، أعاذنا اللّٰہ منہ، توپھر اس عظیم عمل کی وجہ سے مغفرت وبخشش نہیں ہوگی)۔(۱۳)اور وہ شخص عمل کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے بہتر ہوگا،سوائے اس شخص کے جواس سے زیادہ افضل عمل کرے گا،(یعنی اس شخص سے وہ افضل ہوسکتاہے جس نے یہ کلمات اس سے زیادہ کہے ہوں)۔ ۱۱:…امام احمد vاورامام ترمذیvنے حضرت عبدالرحمن بن عائش ؒکے حوالہ سے بعض صحابہ کرام s،حضرت معاذ بن جبل اورحضرت عبداللہ بن عباسr سے اور وہ نبی کریم a سے روایت کرتے ہیںکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’اے محمد! جب تم نماز پڑھ چکو تویوں کہو:’’أَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ، وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاکِیْنِ، وَأَنْ تَغْفِرَلِیْ وَتَرْحَمَنِیْ، وَإِذَا أَرَدتَّ بِعِبَادِکَ فِتْنَۃً فَاقْبِضْنِیْ إِلَیْکَ غَیْرَ مَفْتُوْنٍ، أَللّٰھُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَحُبَّ عَمَلٍ یُقَرِّبُنِیْ إِلٰی حُبِّکَ‘‘۔ ۱۲:…امام ابن السنیv نے ’’عمل الیوم واللیلۃ‘‘میں اورابوالشیخ v نے حضرت انسq سے روایت کی ہے کہ نبی کریم a نے فرمایاکہ:ہر نماز کے بعد ہاتھ اٹھاکر کہو:’’أَللّٰھُمَّ إلٰہِیْ إِلٰہَ إِبْرَاھِیْمَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوْبَ، وَإِلٰہَ جِبْرَائِیْلَ وَمِیْکَائِیْلَ وَإِسْرَافِیْلَ أَسْأَلُکَ أَنْ تَسْتَجِیْبَ دَعْوَتِیْ، فَإِنِّیْ مُضْطَرٌّ، وَتَعْصِمَنِیْ فِیْ دِیْنِیْ، فَإِنِّیْ مُبْتَلًی، وَتَنَالَنِیْ بِرَحْمَتِکَ، فَإِنِّیْ مُذْنِبٌ، وَتَنْفِیْ عَنِّیْ الْفَقْرَ فَإِنِّیْ مُتَمَسْکِنٌ‘‘۔(۱۴) ۱۳:…اسی طرح امام ابن السنی vنے ’’عمل الیوم واللیلۃ‘‘میں حضرت ابواُمامہq سے روایت نقل کی ہے کہ میں (جب بھی)فرض یانفل نماز کے بعد رسول اللہ a کے قریب ہواتومیں نے آپ aکو یہ فرماتے ہوئے سنا:’’أَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَخَطَایَایَ کُلَّھَا، أَللّٰھُمَّ انْعَشْنِیْْ وَاجْبُرْنِیْ وَاھْدِنِیْ لِصَالِحِ الْأَعْمَالِ وَالْأَخْلَاقِ، إِنَّہٗ لَایَھْدِیْ لِصَالِحِھَا، وَلاَیَصْرِفُ سَیِّئَھَا إِلَّاأَنْتَ‘‘۔(۱۵) (مذکورہ بالا دعاکو امام طبرانی vنے ’’الصغیر ‘‘اور ’’الأوسط‘‘ میں حضرت ابوایوبq سے نقل فرمایا ہے، فرماتے ہیں کہ جب بھی میں نے نبی کریم a کے پیچھے نماز پڑھی تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد میں نے آپ aسے یہ دعاسنی: ’’أَللّٰھُمَّ اغْفِرْ خَطَایَایَ وَذُنُوْبِیْ‘‘ ۔۔۔۔۔ اور مذکورہ دعاذکرفرمائی)۔ ۱۴:…امام ابن السنیv’’عمل الیوم واللیلۃ‘‘میں اور امام طبرانی v ’’الأوسط‘‘ میں حضرت انسqسے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریمa نماز سے فارغ ہوجاتے (امام طبرانی v کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ جب نماز سے سلام پھیرتے) تو فرماتے: ’’أَللّٰھُمَّ اجْعَلْ خَیْرَ عُمْرِیْ آخِرَہٗ،وَخَیْرَ عَمَلِیْ خاَتِمَہٗ، وَخَیْرَ أَیَّامِیْ یَوْمَ أَلْقَاکَ‘‘۔(۱۶) میں کہتاہوں: مطلق نماز یافرض نمازکے بعد دعااور ذکر کے بارے میں جواحادیث مبارکہ آئی ہیں، وہ ان احادیث کے علاوہ کثیر تعداد اور وافر مقدار میں ہیں، جوہم نے ذکر کی ہیں۔ اور امام ابن الجزری v کی ’’الحصن الحصین‘‘، امام ابن السنیvکی’’عمل الیوم واللیلۃ‘‘ اور امام سیوطیvکی ’’الکلم الطیب‘‘میں مذکور ہیں،لیکن میں نے اسی مقدار پر اکتفا کیا اوریہ عمل کرنے والے مومن کے لیے کافی ہے۔ مصادر ومراجع ۱:…سنن الترمذی،۵/۱۸۸ ۔ سنن النسائی،ص:۱۸۲-۱۸۷ ۔        ۲:…أشعۃ اللمعات، ۴/۴۵۷۔ ۳:…التاریخ ا لأوسط،۳،۲/۸۰۔                ۴:…مسلم،۵/۸۹۔ ۵:…(بخاری،کتاب الدعوات،باب الدعاء بعدالصلاۃ ۔ مسلم،کتاب المساجد ومواضع الصلاۃ،باب استحباب الذکر بعدالصلوٰۃ وبیان صفتہ ۔ سنن نسائی، سنن ابوداؤد،کتاب الصلوٰۃ،باب مایقول الرجل إذا سلَّم ۔ ۶:…کتاب الاعتصام بخاری، باب مایکرہ من کثرۃ السؤال ومن تکلیف مالایعنیہ، ۱۳/۲۶۴۔ ۷:…بخاری،باب الذکر بعد الصلاۃ،۲/۳۲۵ ۔ ۸:…سنن مسلم،۵/۹۱-۹۲،کتاب المساجد،باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ وبیان صفتہ۔ سنن أبوداؤد:۲/۱۱۰، کتاب الصلاۃ، باب مایقول الرجل إذا سلم۔ سنن نسائی:۳/۷۰،کتاب السہو،باب عدد التہلیل والذکر بعد التسلیم۔ ۹:…بخاری،۲/۳۲۴،کتاب الأذان، باب الذکر بعد الصلاۃ۔ مسلم،۵/۸۳، کتاب المساجد، باب الذکر بعد الصلاۃ۔ ۱۰:…بخاری،کتاب الجھاد،۶/۳۵۔۳۶،باب مایتعوذ من الجبن۔ ۱۱:… مصنف ابن أبی شیبہ،۱۰/۲۳۰،کتاب الدعائ، باب مایقال فی دبر الصلوات،۱/۲۹۶،کتاب الصلوات،باب مایقال بعد التشہد ممارخص فیہ۔ ۱۲:…أبوداؤد،۲/۱۱۵،کتاب الصلاۃ،باب الاستغفار۔ سنن النسائی۳/۵۳، کتاب السہو، باب نوع آخر من الدعائ۔ ۱۳:…مسند احمد،۴/۲۲۷۔    ۱۴:…ابن السنی،عمل الیوم واللیلۃ، ص:۱۲۱، رقم:۱۳۸۔ ۱۵:…ابن السنی،عمل الیوم واللیلۃ،ص:۱۰۴-۱۰۵۔ ۱۶:… ابن السنی،عمل الیوم واللیلۃ، ص:۱۰۸، رقم:۱۲۱، وص:۵۴،رقم:۱۱۹۔                                                                         (جاری ہے)

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے