بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 جنوری 2021 ء

بینات

 
 

علمِ اسناد کا تعارف اور اُس کی حقیقت!


علمِ اسناد کا تعارف اور اُس کی حقیقت!


دینِ اسلام کا امتیاز ہے کہ اس کے تمام شرعی علوم اپنے کہنے والے کے ساتھ سند کے ذریعے قائم اور مربوط ہیں، اسی امتیازی خصوصیت کی بنیاد پر علومِ اسلامیہ کی استنادی حیثیت نہایت مضبوط ہے، اس کے برعکس دوسرے ادیان اور مذاہب کے بنیادی عقائد سے لے کر عام علوم تک کی حیثیت نہ صرف مشکوک بلکہ ناقابلِ اعتمادہے۔

اسناد کی تعریف

لغت میں اسناد سے مراد ہے: اونچی زمین، پہاڑیا بلندی پر چڑھنا، نیچے سے اوپر جانا۔(۱) عام اصطلاح میں ’’رفع القول إلٰی قائلہٖ‘‘ یعنی قول کی نسبت اپنے کہنے والے کی طرف کرنے کا نام اسناد ہے۔ 
حدیث کی اصطلاح میں حافظ ابن جماعۃؒ(۷۳۳ھ) اور علامہ طیبیؒ(۷۴۳ھ) نے اس کی تعریف ’’ہو رفع الحدیث إلٰی قائلہٖ۔‘‘(۲) اور حافظ ابن حجرؒ (۸۵۲ھ) اور علامہ سخاوی رحمہ اللہ  (۹۰۲ھ) نے ’’حکایۃ طریق المتن‘‘ (۳) سے کی ہے، جن کا حاصل معنی تقریباً ایک نکلتا ہے، یعنی متن تک پہنچنا، کسی حدیث کی سند بیان کرنا، جبکہ سند سے مراد ہے راویوں کا وہ سلسلہ جو حدیث کے ابتدائی راوی سے لے کر رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی ذات گرامی تک پہنچتا ہے۔ اس کی مثال امام بخاری رحمہ اللہ  (۲۵۶ھ) کی اپنی صحیح میں بیان فرمودہ حدیث ہے:
’’ حدثنا مسدد، قال:حدثنا یحیٰی، عن شعبۃ، عن قتادۃ، عن أنس رضي اللّٰہ عنہ عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال:لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حتّٰی یُحبَّ لأَخیہِ ما یحبُّ لِنَفْسِہٖ۔‘‘(۴) 
مذکورہ مثال میں متن آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا قول: ’’لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ‘‘ حدیث ہے۔ طریق متن میں مذکور راوی یعنی مسدد، یحییٰ، شعبۃ، قتادہ، اور انس ہیں۔ اسناد امام بخاری رحمہ اللہ  کا یہ قول:’’حدثنا مسدد، قال:حدثنا یحیٰی، عن شعبۃ، عن قتادۃ، عن أنسؓ، عن النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔‘‘ ہے۔(۵) 
حدیثی اصطلاح میں سند کو طریق (۶) اور وجہ سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔(۷) 

اسناد کی اہمیت

اسناد دراصل کسی بھی علم کے قابلِ اعتماد ہونے یا نہ ہونے کا اہم ذریعہ ہے، خصوصاً علم حدیث میں کہ اس کے پورے ذخیرے کا دارمدار سند میں مذکور راویوں پر ہوتا ہے۔ راوی قابل اطمینان ہیں تو حدیث قابلِ قبول ہے، ورنہ نہیں، اس لیے مشہور حافظ علامہ ابو سعد السمعانی رحمہ اللہ  (۵۶۲ھ) ’’أدب الإملاء والاستملاء‘‘ میں لکھتے ہیں: 
’’وألفاظ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لا بد لہا من النقل، ولا تعرف صحتُہا إلا بالإسناد الصحیح، والصحۃ في الإسناد لا تعرف إلا بروایۃ الثقۃ عن الثقۃ والعدل عن العدل۔‘‘ (۸) 
’’ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ارشادات روایت کرنا ضروری ہے، اور ان کی صحت کی معرفت صحیح سند سے ہوسکتی ہے، اور سند کا صحیح ہونا اس طرح معلوم ہوگا کہ اس کے تمام راوی ثقہ اور عادل ہوں۔ ‘‘
اسناد کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہ جن افراد کے ناموں کا مجموعہ ہے، ان کے واسطے سے ہمیں احادیث، تفسیر، اور شریعت کے دیگر مآخذ پہنچے ہیں۔ تو گویا آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ارشادات، صحابہؓ، تابعین، تبع تابعین اور علمائے امت کے تفسیری اقوال کی صحت وعدمِ صحت کا مدار سند پر ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ دین سند پر موقوف ہے، اسی لیے عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ  نے فرمایا: ’’اَلْإِسْنَادُ مِنَ الدِّیْنِ۔‘‘(۹) یعنی سند بیان کرنے کا عمل دین کا حصہ ہے، اس لیے حاکم ’’معرفۃ علوم الحدیث‘‘ میں عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ  (۱۸۱ھ) کا مذکورہ قول نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: 
’’قال أبو عبد اللّٰہ: فلولا الإسناد و طلب ہٰذہٖ الطائفۃ لہٗ وکثرۃ مواظبتہم علٰی حفظہٖ لدرس منار الإسلام، ولتمکن أہل الإلحاد والبدع فیہ بوضع الأحادیث، وقلب الأسانید، فإن الأخبار إذا تعرت عن وجود الأسانید فیہا کانت بترا۔‘‘(۱۰) 
’’ اگر سند نہ ہوتی، اور سند کے سلسلے میں محدثین کا مذکورہ سخت طرزِ عمل نہ ہوتا تو اسلام کی علامت مٹ چکی ہوتی، جس کے نتیجے میں ملحدین اور اہلِ بدعت جھوٹی حدیثیں گھڑ کر اور اُلٹی سندیں پیش کرکے دین میں گھس جاتے، کیونکہ احادیث کو اسناد سے بے نیاز کردیا جائے تو ان کی بنیاد ختم ہوکر ناقص رہ جائیں گی۔‘‘
اسناد کی مذکورہ بالا اہمیت کے پیش نظر علامہ ابن حجر رحمہ اللہ  نے اس کا جاننا فرضِ کفایہ قرار دیا ہے۔ (۱۱) 
اس لیے کہ سند کے بغیر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ارشادات کی تصدیق و تحقیق مشکل تھی، اور فقہ اسلامی کا اصول ہے: ’’مالا یتم الواجب إلا بہٖ فہو واجب‘‘ کہ کوئی چیز فی نفسہٖ واجب نہ ہو، لیکن کسی اور واجب پر اس کے بغیر عمل درآمد ممکن نہ ہو تو وہ چیز بھی واجب ہوجائے گی، چونکہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ارشادات پر عمل درآمد فرض ہے، اس لیے ان ارشادات کو جاننا بھی فرض ہے، اور ان ارشادات کو جانا نہیں جاسکتا، جب تک سند کا معاملہ صاف نہ ہو۔ (۱۲) 
علامہ ابن العربی رحمہ اللہ  (۵۴۳ھ) تو سند کے بغیر روایت کرنے کا نتیجہ سلبِ نعمت کا ذریعہ بتلاتے ہیں، علامہ عبدالحی کتانیؒ (۱۳۸۳ھ) اپنی کتاب ’’فہرس الفہارس والإثبات‘‘ میں ان کی سراج المریدین سے نقل کرتے ہیں: 
’’واللّٰہ أکرم ہٰذہٖ الأمۃ بالإسناد، لم یعطہ أحد غیرہا، فاحذروا أن تسلکوا مسلک الیہود والنصاری فتحدثوا بغیر إسناد، فتکونوا سالبین نعمۃ اللّٰہ عن أنفسکم۔‘‘  (۱۳) 
’’اللہ تعالیٰ نے اسناد کی خصوصیت سے صرف اس امت کو نوازا ہے، لہٰذا دین کی باتیں نقل کرنے میں یہود اور نصاریٰ کی روش پر نہ چلو کہ بغیر سند کے دینی باتیں سنانے لگو، ورنہ تو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی یہ نعمت خود اپنے ہاتھوں گنوا بیٹھو گے۔ ‘‘

اسناد کی روایت، آغاز اور ارتقاء 

سند کی ابتداء صغار صحابہؓ کے زمانے میں اس وقت ہوئی، جب اسلامی ریاست داخلی فتنوں کی آماجگاہ بن گئی، مسلمانوں میں مختلف عقائد اور آراء رکھنے والی جماعتیں وجود میں آگئیں، جس کا اثر براہِ راست حدیثی روایات پر پڑا، تو ائمہ حدیث نے سند کا مطالبہ شروع کیا۔ مشہورتابعی امام محمدبن سیرین (۱۱۰ھ) فرماتے ہیں:
 ’’لم یکونوا یسألون عن الإسناد، فلما وقعت الفتنۃ قالوا:سموا لنا رجالکم، فینظر إلٰی أہل السنۃ فیؤخذ حدیثہم وینظر إلی أہل البدع فلا یؤخذ حدیثہم۔‘‘  (۱۴) 
’’فتنوں کے نمودار ہونے سے پہلے سند کا مطالبہ نہیں کیا جاتا تھا۔ جب فتنہ واقع ہوگیا تو ائمہ حدیث راو یوں سے کہنے لگے:اپنے اساتذہ کا نام بتاؤ، چھان بین کے بعد اہلِ سنت رواۃ کی روایت قبول کرتے اور بدعتیوں کی ردکرتے تھے۔ ‘‘
سند کے ابتدائی مطالبے کے سلسلے میں ایک واقعہ امام مسلم رحمہ اللہ  نے اپنی صحیح کے مقدمہ میں بھی ذکر کیا ہے، لکھتے ہیں: 
’’بشیر بن کعب عدوی حضرت ابن عباسؓ کی خدمت حاضر ہوکر احادیث سنانے لگا۔ آپ نے نہ اس کی حدیث سنی اورنہ اس کی جانب کوئی التفات کیا، بشیر بن کعب آپ کا یہ طرز عمل دیکھ کر کہنے لگا: کیا بات ہے؟ میں دیکھ رہاہوں کہ آپ میری حدیث نہیں سن رہے، حالانکہ میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے سنی ہوئی روایت بیان کررہا ہوں۔ حضرت ابن عباسؓ فرمانے لگے: ایک دور تھا کہ جب ہم کسی کی زبان سے ’’قال رسول اللّٰہ  صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ سنتے، تو ہماری نگاہیں اس کی جانب دوڑ پرتی تھیں، اور ہم ہمہ تن گوش ہوجاتے تھے۔ اب جبکہ حالت بدل گئی، لوگوں میں اچھے برے کی تمیز نہیں رہی، تو ہم صرف انہیں باتوں کوقبول کریں گے، جو ہم پہلے جانتے تھے۔‘‘ (۱۵) 
اسی سلسلے میں ایک روایت امام احمدؒ (۲۴۱ھ) اپنی سند سے امام نخعیؒ(۹۶ھ) سے روایت کرتے ہیں:
’’إنما سئل عن الإسناد أیام المختار، وسبب ہٰذا: أنہ کثر الکذب علٰی عليؓ في تلک الأیام۔‘‘ (۱۶) 
فرماتے ہیں: اسناد کا مطالبہ سب سے پہلے مختار کے زمانے میں ہوا۔ سبب اس کا یہ ہوا کہ اس نے حضرت علیؓ پر جھوٹ بولنے میں حد کردی، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ دورِ صحابہؓ میں سند اپنے مفہوم ’’رفع القول إلٰی قائلہٖ‘‘ کی شکل میں بھی نہیں تھی، بلکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے اقوال، افعال اور سیرت کی نسبت آپ کی جانب کرتے تھے اور بعض تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے نام نامی کے بجائے ایسا وصف ذکر کرتے تھے جو روایت کے متعلق عموماً ذہن میں آنے والے شبہات کو دور کرتا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  نے اسناد کا مذکورہ طرزِ عمل آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے سیکھا تھا، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  بسا اوقات اپنی باتوں کو حضرت جبرئیل علیہ السلام  کی طرف یا اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے تھے، احادیثِ قدسیہ اس کی واضح مثال ہیں۔
اسی طرح اس کا یہ مقصد بھی نہیں کہ اسی وقت ہی تمام احادیث سند کے ساتھ بیان ہونی لگیں، اس لیے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  نے جب کوئی روایت آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے براہِ راست نہیں سنی ہوتی، بلکہ کسی صحابیؓ سے سنی ہوتی تو اس کو بیان کرتے وقت سند ذکر نہیں کرتے تھے، چنانچہ صحابی رسول حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ  نے ایک موقع پر فرمایا:
’’عن البراءؓ قال:ما کل ما نحدثکم عن رسول اللّٰہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سمعناہ منہ، منہ ما سمعناہ، ومنہ ما حدثنا أصحابنا، ونحن لا نکذب۔‘‘(۱۷) 
’’ ہم جتنی احادیث بیان کرتے ہیں وہ ساری ہم نے آپ سے نہیں سنی ہوتی، بلکہ کچھ تو وہ ہیں جو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سے سنی ہیں اور دیگر وہ ہیں جو ہمیں ہمارے ساتھیوں نے سنائی ہیں اور ہم ان کی تکذیب نہیں کرتے۔ ‘‘
اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  حدیث بیان کرنے میں ہمیشہ سند ذکر کرنے کی پابندی نہیں کرتے تھے۔ ویسے بھی سند کا مطالبہ صحابہؓ سے نہیں ہوتا تھا، بلکہ صحابہؓ دوسروں سے سند کا مطالبہ کرتے تھے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  کو توحدیث رسول کے متعلق اپنی دیانت اور سچائی کا اس قدر اعتماد تھا کہ جب ان سے سند کا مطالبہ کیا جاتا تو وہ ناراضگی کا اظہار فرماتے، چنانچہ ابن الصلاح مقدمہ میں ذکر کرتے ہیں: 
’’وکان أنسؓ یغضب إذا سئل عن حدیث أسمعہ من النبی  صلی اللہ علیہ وسلم ، ویقول: ما کان بعضنا یکذب علی بعض۔‘‘ (۱۸) 
اسی طرح کی ایک روایت ابن عدیؒ(۳۶۵ھ) نے کامل میں لائی ہے، فرماتے ہیں: 
’’وذکر أنس حدیثا، فقال لہ رجل:أنت سمعت عن رسول اللّٰہ  صلی اللہ علیہ وسلم ؟ قال:نعم، أو حدثنی من لا یکذب، واللّٰہ ما کنا نکذب ولا ندری ما الکذب‘‘(۱۹) 
 ’’ایک مرتبہ حضرت انس رضی اللہ عنہ  نے حدیث ذکر فرمائی، کسی نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سے سنی ہے؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ  نے فرمایا: ہاں! مجھے اس شخص نے یہ حدیث بیان کی ہے جو جھوٹ نہیں بولتا، پھر قسم کھا کر فرمایا:خدا کی قسم ہم جھوٹ نہیں بولتے تھے اور نہ جھوٹ کا ہمیں کچھ پتہ تھا۔‘‘
صحابہ رضی اللہ عنہم  کے بعد جب تابعینؒ کا زمانہ آیا تو سند کا مطالبہ بڑھتا گیا، یہاں تک کہ سید التابعین حضرت حسن بصری رحمہ اللہ  سے مراسیل کی سند کا مطالبہ کیا جانے لگا، ابن عدیؒ نے ضعفاء میں ذکر کیاہے: 
’’قال رجل للحسنؒ: إنک تحدثنا فتقول: قال رسول اللّٰہ  صلی اللہ علیہ وسلم ، ولو کنت تسند إلی من حدثک؟ فقال لہ:إنا واللّٰہ ما کذبنا ولا کذبنا، ولقد غزوت غزوۃ إلٰی خراسان ومعنا ثلٰث مائۃ من أصحاب محمد۔‘‘ (۲۰) 
’’کسی نے حضرت حسن بصریؒ سے کہا:کہ آپ بلا واسطہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے حدیث نقل کرتے ہیں، اگر آپ اپنے استاذ کا حوالہ دیا کریں؟ حضرت حسن بصریؒ نے فرمایا:خدا کی قسم! نہ ہم نے جھوٹ بولاہے، اور نہ ہمیں جھوٹی بات کہی گئی ہے۔ میں خراسان کے ایک غزوہ میں تین سو صحابہؓ کے ساتھ رہا ہوں(یعنی میں تمہیں کس کس کا نام بتاؤں کہ فلاں روایت میں نے کن کن سے سنی ہے)۔‘‘
یحییٰ بن سعید قطانؒ (۱۹۸ھ) کی رائے میں زمانہ تابعین میں سب سے پہلے اسناد کا مطالبہ مشہور تابعی عامر بن شراحیل شعبیؒ (۱۰۳ھ) نے کیا، محدث رامہرمزیؒ (۳۶۰ھ) لکھتے ہیں:
’’قرأ الربیع بن خیثم علیہ حدیثا، قال الشعبيؓ:فقلت:من حدثک؟ قال عمرو بن میمون، وقلت لہٗ: من حدثک؟ فقال:أبو أیوب صاحب رسول اللّٰہ  صلی اللہ علیہ وسلم ۔ قال یحیٰی بن سعید: وہٰذا أول ما فتش عن الإسناد۔‘‘(۲۱) 
’’ربیع بن خیثمؒ(۶۵ھ) نے ان کے سامنے حدیث بیان کی، شعبیؒ کہتے ہیں:میں نے کہا:کس نے آپ سے بیان کیا ہے؟ کہا:عمرو بن میمون نے، اور میں نے ان سے (روایت لیتے وقت ) پوچھا تھا کہ آپ سے کس نے بیان کیا ہے؟ انہوں نے کہا: آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے صحابی ابو ایوب انصاریؓ نے۔ اس کے بعد رامہرمزیؒ لکھتے ہیں: یحییٰ بن سعید نے کہا:یہ سند کے مطالبے کی ابتدا تھی۔‘‘
بہر حال سند کے ساتھ حدیث بیان کرنے کی روایت دورِ صحابہؓ وتابعینؒ میں بھی تھی، مگر نسبتاً کم تھی، ان کا زمانہ گزرنے کے بعد جب وضعِ حدیث کا فتنہ عام ہوگیا اور زمانے کے ساتھ ساتھ اس کا دائرہ وسیع ہوتا گیا تو سند کے ساتھ روایت ذکر کرنا ایک امر ناگزیر قرارپایا، یہاں تک کہ مشہور محدث امام زہری رحمہ اللہ  (۱۱۲ھ) نے-جن کا تعلق صغارِ تابعینؒ کے طبقے سے ہے- بلاسند روایت بیان کرنے کو جرأت علیٰ اللہ قرار دیا، حاکم نے ’’معرفۃ علوم الحدیث‘‘ میں ذکر کیاہے، فرماتے ہیں:
’’حدث عتبۃ بن أبي حکیم أنہ کان عند إسحاق بن أبي فروۃ وعندہ الزہري۔ قال:فجعل ابن أبي فروۃ یقول: قال رسول اللّٰہ  صلی اللہ علیہ وسلم ، فقال لہ الزہريؒ: قاتلک اللّٰہ یا ابن أبي فروۃ! ما جرأک علی اللّٰہ لا تسند حدیثک؟ تحدثنا بأحادیث لیس لہا خطم ولا أزمۃ۔‘‘ (۲۲) 
’’ زہریؒ اور ابن ابی فروۃ (۷۰ھ) دونوں کسی مجلس میں تھے، ابن ابی فروۃ (حدیث بیان کرتے ہوئے) کہنے لگا: ’’قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم‘‘ ۔ زہریؒ نے مخاطب کرتے ہوئے کہا: تیرا ناس ہو ابن ابی فروۃ! تعجب ہے تمہاری جرأت پر، حدیث کی سند نہیں ذکر کرتے؟ بے لگام احادیث بیان کررہے ہو۔‘‘
حاصل یہ کہ اسناد کی ابتدا دورِ صحابہؓ میں ہوئی، پھر کبارِ تابعین کے زمانے میں بھی یہ سلسلہ رہا، یہاں تک کہ صغار تابعینؒ کے زمانے میں لازمی قرار پائی، چنانچہ سند کے ساتھ روایت اس عہد کا نمایاں طرزِ عمل رہا، جس کی اہمیت کا اندازہ زہریؒ کے مذکورہ بالا قول: ’’تحدثنا بأحادیث لیس لہا خطم ولا أزمۃ‘‘ اور عبداللہ بن المبارکؒ کے قول: ’’الإسناد من الدین، لولا الإسناد لقال من شاء ماشاء‘‘(۲۳) سے معلوم ہوتا ہے۔
انہی حضرات کے معاصر، معروف محدث، امام محمدبن سیرینؒ کا قول بھی اس سلسلے میں مشہور ہے، فرماتے ہیں: ’’إن ہٰذا العلمَ دین، فانظروا عمن تأخذون دینَکم۔‘‘(۲۴) ’’یہ علمِ دین ہے، پس تم دیکھو کہ کس سے یہ دین حاصل کرہے ہو۔‘‘
اس دور کے ائمہ حدیث: امام زہریؒ، ابن سیرینؒ اور ان کے معاصرین نہ صرف روایت کرنے میں سند کا التزام کرتے تھے، بلکہ بعض اوقات ادائیگی میں ایسا انداز اختیار فرماتے تھے، جس سے سامعین کے ذہنوں میں سند کی اہمیت بیٹھ جاتی تھی، چنانچہ اس عہد کے مشہور امام حدیث، امام اعمشؒ(۱۴۸ھ) کا طرزِ عمل ابن حبانؒ(۳۵۴ھ) نے ذکر کیاہے:کہ وہ روایت بیان کرنے کے بعد فرماتے: ’’بقي رأس المال، حدثنا فلان عن فلان عن فلان۔‘‘ (۲۵) گویا وہ اپنے طرزِ ادا سے اس بات کا تصور کراتے کہ روایت میں سند اتنی ضروری ہے کہ اس کے بغیر حدیث تام اور قابلِ قبول نہیں ہوتی، جس طرح بیع (خرید وفروخت) بغیر راس المال کے پوری نہیں ہوتی۔
ائمہ حدیث کے ہاں سند کا مذکورہ التزام اسی طرح پانچویں صدی کے اول نصف تک رہا، جس کے مشہور محدثین میں امام بیہقیؒ(۴۵۸ھ) ، ابونعیمؒ (۴۳۰ھ) اور ابن مندہؒ (۴۷۰ھ) کے نام نمایاں ہیں۔ شام کے مشہور محدث علامہ عبدالفتاح ابوغدۃؒ، علامہ لکھنویؒ (۱۳۰۴ھ) کی ’’الأجوبۃ الفاضلۃ‘‘ پر اپنی تعلیقات میں سند کے ساتھ روایت کرنے والے آخری محدث امام بیہقی  ؒ کو قرار دیتے ہیں، لکھتے ہیں کہ یہ طرزِ عمل صرف بیہقی کے ہاں ملتا ہے، ان کے بعد نسبتاً کم اس کی جھلک ضیاء مقدسی کے ہاں مختارۃ اور ابن عساکرؒ کے ہاں تاریخِ دمشق میں نظر آتی ہے۔(۲۶) 
سند زمانے کے ساتھ ساتھ لمبی ہوتی گئی، جو زمانہ دورِ رسالت کے قریب ہے، اس کی سندیں مختصر ہیں، اور جو زمانہ بعید ہے، وہاں سلسلۂ سند نسبتاً لمبا ہے، چنانچہ حدیثی کتابوں میں سب سے مختصر سند ’’کتاب الآثار‘‘ ، ’’مسند امام اعظم‘‘ اور ’’مؤطا امام مالک‘‘ کی ہیں، جبکہ سب سے لمبی سند بیہقی ؒ (۴۵۸ھ) کی ہے، جس میںسات سے نو تک نام ہوتے ہیں۔
جب سند کا سلسلہ آگے بڑھا، اس میں مذکور راویوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا، جس کی وجہ سے کسی راوی کا اپنے استاذ سے سماع کا یقینی طور پر معلوم ہونا مشکل ہوگیا، تو راویانِ حدیث کے طبقات مقرر کیے گئے، اور انہیں مختلف طبقات اور درجات میں تقسیم کرکے سند کے حوالے سے کوئی رائے قائم کرنے کے لیے بنیاد فراہم کردی گئی، اس سلسلے میں کبار صحابہؓ سے صغار تبع تابعین کے زمانے تک کے راویوں کو بارہ طبقات پر تقسیم کردیا گیا۔(۲۷) 
طبقات متعین کرنے کی افادیت یہ ہے کہ جب کسی راوی کے طبقہ کا تعین ہوگا تو اس کے زمانے کا تعین آسان ہوجائے گا۔ زمانہ معلوم ہونے سے اس با ت کے طے کرنے میں آسانی ہوجائے گی کہ اس راوی نے جس طبقے کے راوی سے روایت کی، وہ روایت ممکن بھی ہے کہ نہیں؟
اس کے بعد سند کے علم کو مزید ترقی دینے کے لیے علمِ رجال کا فن وجود میں آیا، محدثین نے ہزاروں راویانِ حدیث کے حالاتِ زندگی، حصولِ علم اور طلبِ علم کی ہمہ معلومات مرتب کردیں، ثقہ اور ضعیف ہونے کے اعتبار سے ان کا فرق بتادیا، ان کے درجات بناکرسند کی چھان بین آسان کردی، سند کی بنیا د پر حدیث کو پرکھنے اور قبول کرنے کے لیے اصول اور ضوابط مقرر کیے، جو اُصولِ حدیث کے نام سے معروف ہیں۔
علمِ رجال کی تدوین کی وجہ یہ تھی کہ علمِ اسناد اور علمِ رجال کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے۔ علمِ اسناد اس وقت سمجھ میں آسکتا ہے جب کہ رجال کی تفصیلات سامنے ہوں، اس لیے کہ حدیث کے خارجی نقد کی بنیاد علمِ روایت پر ہے، علمِ روایت کی اساس سند پر ہے اور سند کی اساس رجال پر ہے، رجال کی بنیاد پر حدیث کی سند کا تعین ہوگا اور سند کی بنیاد پر حدیث کے خارجی نقد پر بات ہوگی، جس کے نتیجے میں حدیث کا درجہ معلوم ہوگا۔(۲۸) 
علمِ رجال میں پھر علمِ جرح وتعدیل جو علمِ رجال کا ایک اہم شعبہ ہے، اس کا علمِ اسناد کے ساتھ نہایت مضبوط تعلق ہے، اس لیے کہ سند کے رجال سے متعلق عموماً دو پہلو زیر بحث آتے ہیں:
۱:۔۔۔۔۔ ایک پہلو خود رجال کے بارے میں معلومات، ان کی شخصیت، کردار اور ان کی ذات سے متعلق امور، جیسے:ان کے نام، کنیت، نسبت اور پیدائش ووفات کی تفصیلات، اور ان کے اساتذہ، تلامذہ اور طبقہ ودرجہ کا تعین ہے، یہ علمِ رجال کا عام پہلو ہے۔
۲:۔۔۔۔۔ دوسرا پہلو سند کے کسی راویِ حدیث کے قابلِ قبول یا ناقابلِ قبول ہونے کا فیصلہ، اس کے اصول وقواعد، اوران اصول وقواعد کی روشنی میں بالآخر کسی راوی کے قابلِ قبول ہونے یانہ ہونے کا حتمی فیصلہ جس فن کی روشنی میں کیا جاتا ہے، اس کو علمِ جرح وتعدیل کہاجاتاہے۔

اسناد کی روایت اور مسلمانوں کی خصوصیت

احادیثِ رسول (l) کے متعلق محدثین کی احتیاط اور اہتمام کا مذکورہ بالا طرزِ عمل جو اسناد کے مطالبے کی شکل اختیار کرگیا، اس نے مسلمانوں میں احتیاط کا وہ ذوق پیدا کیا جو وقت کے ساتھ ساتھ ان کے علمی مزاج کاحصہ بن گیا، اوریہ اُن کی فطرتِ ثانیہ بن گئی کہ جو علمی بات کسی کے سامنے کہی جائے پوری سند کے ساتھ کہی جائے۔
مسلمانوں کے ہاں نہ صرف علمِ حدیث، بلکہ تمام علوم وفنون میں سندکی روایت رواج پذیر ہوگئی، چنانچہ تمام تفسیری روایات، سیرت ومغازی کا ہر ہر واقعہ، قراء ات کا ایک ایک طریق، اور فقہ کا ایک ایک جزئیہ سند کے ساتھ محفوظ ہے۔ اور یہ طرزِ عمل علومِ دینیہ کے ساتھ ہی خاص نہ رہا، بلکہ ادب، شعر، بلاغت، صرف، نحو اور لغت سب کی سندیں محفوظ ہیں۔سند کی مذکورہ روایت صرف مسلمانوں کی خصوصیت ہے، جس سے اللہ تعالیٰ نے اس اُمت کو نوازا ہے، کسی اور قوم کے ہاں اس کا تصور بھی نہیں۔
خطیب بغدادیؒ (۴۶۳ھ) امام محمد بن حاتمؒ کے حوالے سے ذکر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: 
’’اللہ تعالیٰ نے اس اُمت کو اسناد کے اعزاز سے نوازا ہے، پہلے کی قدیم یا جدید، کسی امت کے ہاں یہ خصوصیت نہیں، ان کے ہاں وہ صحیفے ہیں جن میں انہو ں نے اپنی باتیں ملائی ہیں، اور اپنی باتوں کو تورات وانجیل کے کلام سے جدا کرنے کا ان کے پاس کوئی پیمانہ نہیں۔‘‘(۲۹) 
علامہ ابن حزمؒ(۴۵۶ھ) نے بھی ’’الفصل في الملل والأہواء والنحل‘‘ میں اس پر تفصیل سے کلام کیا ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے:
’’کسی قابلِ اعتماد راوی کا اپنے ہی جیسے راوی سے بات نقل کرتے ہوئے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  تک پہنچانا، جس میں مذکورہ راوی اپنے استاذ کا نام اور نسب بھی بتائے، دونوں کی ذات، صفات، زمانہ اور مکان بھی متعین ہوں، راویوں کی راست بازی اور سچائی بھی نمایاں ہو، یہ تنہا مسلمانوں کی خصوصیت ہے۔‘‘ (۳۰) 
علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ  (۷۲۸ھ) ’’منہاج السنۃ‘‘ میں رقم طراز ہیں: 
’’علمِ اسناد اور علمِ روایت -جس کی حیثیت علمِ درایت کے لیے زینے کی ہے- اللہ تعالیٰ نے اس اُمت کی خصوصیت بنائی ہے، اس کے برعکس اہلِ کتاب اور اس اُمت کے راہ سے بھٹکے ہوئے بدعتی فرقوں کے ہاں نقل کرنے کے لیے اسناد کا کوئی پیمانہ نہیں۔‘‘(۳۱) 
اسناد صرف اہلِ اسلام اور اہلِ سنت پر اللہ تعالیٰ کاعظیم احسان ہے، جس سے وہ صحیح، غلط اور سیدھے ٹیڑھے کا فرق کرتے ہیں۔ اس سے زیادہ تفصیل اور صراحت کے ساتھ اس کی وضاحت مولانا رحمت اللہ کیرانوی رحمہ اللہ  (۱۳۰۸ھ) کی اظہارالحق میں ہے، انہوں نے اس سلسلے میں ایک پوری فصل قائم فرمائی(۳۲) کہ اہلِ کتاب کے ساتھ عہدِ جدید اور عہدِ قدیم کی کتابوں کی کوئی سند نہیں۔ موصوف توریت سے لے کر اَناجیلِ مشہورہ تک کی ساری کتابوں پر انتہائی تفصیل کے ساتھ (۵۹) صفحات پر مشتمل کلام کرنے کے بعد اس پوری بحث کے آخر میں لکھتے ہیں: 
’’ مذکورہ تفصیل سے اس بات کی وضاحت ہوگئی کہ اہلِ کتاب کے پاس نہ عہدِ قدیم کی کتابوں کی کوئی سند ہے اور نہ عہدِ جدید کی۔‘‘(۳۳) 

سند کے فوائد

۱:۔۔۔۔۔ سند کا سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ راوی کا نام رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے روایت کرنے والوں کے ساتھ ہمیشہ پیوستہ رہتا ہے، اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ آدمی کی نسبت قائم ہوجاتی ہے۔
۲:۔۔۔۔۔ مطابع کی ایجاد سے پہلے سند کا دوسرا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ راوی کو گزشتہ تمام شیوخ کی یافت ودریافت اور تحقیقات کی نشر واشاعت کا حق حاصل ہوجاتا تھا۔
۳:۔۔۔۔۔ سند کا تیسرا فائدہ یہ ہے کہ سند جعل سازی سے حفاظت کی ضامن ہے ۔ سند سے جعل سازی کی قلعی کھل جاتی ہے، اور سند اس بات کا شاہد ہے کہ اس کے تمام راوی قابلِ اعتماد ہیں۔ (۳۴) 

حواشی و حوالہ جات

۱:- القاموس المحیط: ۳۷، ولسان العرب:۳/۱۲۱
۲:- المنہل الروی:۱/۸۱، الخلاصۃ فی أصول الحدیث للطیبی:۳۳
۳:- نزہۃ النظر للحافظ ابن حجر: ۳۴، وفتح المغیث للسخاوی:۱/۱۴
۴:- صحیح بخاری، کتاب الایمان:۱/۱۲            ۵:- توجیہ النظر لطاہر الجزائری:۲۵، والإسناد من الدین لأبی غدۃ:۱۴
۶:- جیسے کہتے ہیں:’’ہذا الطریق مروي من طریق الثوري:أي من سندہ‘‘ا لمیسر فی علم الرجال، ماجد الغوری:۱۶۰
۷:- ’’والوجہ‘‘جیسا محدثین کاقول: ’’ھٰذا الحدیث حسن غریب من ھٰذا الوجہ۔‘‘ اسی آخری تعبیر کا استعمال امام ترمذی رحمہ اللہ  نے اپنی ’’جامع ترمذی‘‘میں زیادہ کیا ہے۔المیسر فی علم الرجال، ماجد الغوری:۱۶۰
۸:- ادب الاملاء والاستملاء:۷                ۹:- مقدمہ صحیح مسلم:۱/۱۲
۱۰:- معرفۃ علوم الحدیث، حاکم، ص:۶
۱۱:- مرقاۃ المفاتیح:۱/۲۱۸، الاسناد من الدین:۳۰            ۱۲:- محاضراتِ حدیث:۲۱۷، ڈاکٹر محمود احمد غازی 
۱۳:- فہرس الفہارس والأثبات للکَتانی:۱/۸۰
۱۴:- مقدمہ صحیح مسلم:۱/۱۵، وابن عدی:الکامل ۱/۳۹، وابن حبان:المجروحین من المحدثین: ۲/۲۷
۱۵:- مقدمہ صحیح مسلم:۱/۱۳                    ۱۶:- شرح علل الترمذی لابن رجب:۱/۲۵۵
۱۷:-ابن عدی:۱/۱۵۷                    ۱۸:- مقدمۃ ابن الصلاح:۱/۳۸
۱۹:- ابن عدی: الکامل:۱/۵۱                ۲۰:- مصدرِسابق:۱/۵۱
۲۱:- المحدث الفاصل:۱/۱۲، بحوث فی تارخ السنۃ المشرفۃ:۵۰        ۲۲:- حاکم معرفۃ علوم الحدیث :۶
۲۳:- مقدمہ صحیح مسلم:۱/۱۵                ۲۴:- مقدمہ صحیح مسلم:۱/۱۳
۲۵:- ابن حبان:المجروحین من المحدثین:۱/۹            ۲۶:- الاجوبۃ الفاضلۃ:۱۵۰
۲۷:- محاضراتِ حدیث:۲۲۳                ۲۸:- محاضراتِ حدیث:۱۸۳-۱۸۵
۲۹:- شرف أصحاب الحدیث:۴۰ ۔ خطیب بغدادی، وفتح المغیث للسخاوی:۱/۳۳۱
۳۰:- الفصل فی الملل والأہواء والنِّحل لأبی محمد بن حزم: ۲/۸۲-۸۳
۳۱:- مجموعہ فتاوی شیخ الإسلام ابن تیمیۃ: ۱/۹، وأیضاً: منہاج السنۃ النبویۃ لہ :۷/۳۷
۳۲:- اظہار الحق: ۱/۱۶۷-۱۰۹                ۳۳:- اظہار الحق: ۱/۶۲۵-۴۲۵
۳۴:- مقدمۃ فوائد جامعۃ شرح عجالۃ نافعۃ :۵۵-۵۶، مولانا ڈاکٹر عبد الحلیم چشتی  ؒ
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے