بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 نومبر 2019 ء

بینات

 
 

علامہ سیّد عبدالمجید ندیم شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت ، یادگارِ اسلاف حضرت مولانا محمد عبداللہ (بھکر) کی رحلت

علامہ سیّد عبدالمجید ندیم شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت

۲۰؍ صفر المظفر۱۴۳۷ھ مطابق ۳؍ دسمبر ۲۰۱۵ء بروز جمعرات تقریباً صبح چھ بجے محدث العصر علامہ سیّد محمد یوسف بنوری نوراللہ مرقدہٗ کے شاگرد رشید، خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد قدس سرہٗ کے مسترشد، اپنے وقت کے خطیب العصر، سفیر اسلام، خوش الحان خطیب و مبلغ، حضرت مولانا مفتی محمود قدس سرہٗ کے تربیت یافتہ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس شوریٰ کے رکن، جمعیت علمائے اسلام کے عظیم رہنما حضرت علامہ سیّد عبدالمجیدندیم شاہ صاحبv اس دنیائے رنگ و بو کی ۷۴ بہاریں گزار کر خلد بریں کی طرف روانہ ہوگئے۔ إنا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون، إن للّٰہ ما أخذ ولہٗ ماأعطٰی وکل شیء عندہٗ بأجل مسمّٰی۔ راقم الحروف نے حضرت علامہ سیّد عبدالمجید ندیم شاہ صاحبv کا نام اس وقت سے سنا جب وہ چھوٹا تھا اور ابھی درس نظامی شروع ہی کیا تھا اور اس وقت خطباء اور واعظین کی ایک جماعت تھی جو ملکوں، شہروں اور دیہاتوں میں جگہ جگہ اپنے مواعظ، بیانات اور خطابات کے ذریعے عام سادہ لوح مسلمانوں کے عقائد کی درستی اور توحید و سنت کی تعلیم و تبلیغ پر مامور تھی، ایک طرف تنظیم اہل سنت کے پلیٹ فارم پر علماء کی کثیر جماعت جن کے قائد علامہ عبدالستار تونسویv تھے، عوام الناس کو دین اسلام کے بنیادی عقائد سے روشناس کرارہی تھی تو دوسری طرف تحفظِ حقوق اہل سنت وجما عت کے پلیٹ فارم سے علماء کی ایک جماعت دین اسلام کی اشاعت میں مصروف عمل تھی۔ ہر ایک عالم کے سمجھانے کا انداز دوسرے سے منفرد اور یکتا تھا۔ ہر ایک مقرر، واعظ اور خطیب اپنی جگہ ضروری تھا اور عوام ہر ایک کے بیان کو بڑی توجہ اور انہماک سے سنتے تھے، بلکہ دین سے محبت کرنے والے حضرات کو ان علمائے کرام اور خطبائے عظام کے بیانات سننے کا بڑی شدت سے انتظار ہی رہتا تھا۔ حضرت علامہ عبدالستار تونسویv،حضرت مولانا عبدالشکور دین پوریv، حضرت مولانا محمد ضیاء القاسمیv، حضرت مولانا قاری محمد حنیف ملتانیv، حضرت مولانا محمد لقمان علی پوریv، حضرت مولانا قاری محمد اجمل لاہوریv، مولانا عبدالکریم شاہ صاحبv اور مولانا منظور احمد حجازیv جیسے چوٹی کے خطباء حضرات کے جلسوں میں بارہا ان حضرات کے سامنے بیٹھ کر ان کے بیانات سننے کا موقع ملا۔ بہرحال یہ تمام علماء کرام ایسی ہستیاں ہیں جنہوں نے پوری زندگی دین اسلام کی تبلیغ وترغیب اور اس کی اشاعت و حفاظت میں صرف کردیں۔ حضرت شاہ صاحبv مسئلہ توحید کو بڑے سادہ اور دلنشین انداز میں لوگوں کے قلوب و اذہان میں راسخ فرماتے تھے۔ مسئلہ توحید بیان کرنے کے بعد لوگوں سے سوالیہ انداز میں پوچھتے تھے کہ: میرا اور تمہارا رب کون؟ پھر خود ہی جواب تلقین کرتے کہ: اللہ ہی۔ عزت دینے والا کون؟ اللہ ہی۔ اولاد عطا کرنے والا کون؟ اللہ ہی۔ رزق دینے والا کون ؟ اللہ ہی۔ آپ فرماتے تھے کہ:’’ توحید عین انصاف ہے اور شرک عین ظلم ہے۔ جس معاشرے میں، جس سوسائٹی میں، جس ملک میں شرک کے جراثیم موجود رہیں گے، اس سوسائٹی اور اس ملک میں عدل و انصاف کی حکمرانی کبھی قائم نہیں ہوسکتی۔ ‘‘ علامہ سیّد عبدالمجید ندیم شاہ صاحبv نے اپنی عملی زندگی کا آغاز حضرت مفتی محمودv کی رفاقت سے کیا، وہ اپنے منفرد بیان اور قادر الکلامی سے علمی حلقوں اور عوامی جلسوں میں مقبولیت عامہ پر پہنچے، انہوں نے از ابتدا تا انتہا پوری زندگی جمعیت علماء اسلام اور عقیدئہ ختم نبوت کے تحفظ میں گزار دی۔ یحییٰ خان کے مارشل لاء دور میں انہوں نے ایک عرصہ تک جیل بھی کاٹی۔ تحریک نظام مصطفی، تحریک ختم نبوت اور قومی اتحاد کے زمانہ میں علامہ سیّد عبدالمجید ندیم شاہ صاحبv نے ہر اول دستہ کا کردار ادا کیا۔ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: ’’میں نے دریا تیر کر بھی جلسوں میں شرکت کی۔‘‘ مولانا موصوفv نے تقریباً نصف صدی سے زائد عرصہ دین متین کی خدمت کی اور دنیا کے ۱۳۷ ممالک میں پہنچ کر اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اللہ تعالیٰ کا قرآن سنایا اور ان کو دین کے راستے پر لگایا۔ سینکڑوں لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔توحید و سنت کی اشاعت، شرک و بدعات کے رد، تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس اصحابؓ و اہل بیتؓ کے لیے آپ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ آپؒ نے اپنے حالاتِ زندگی اپنی کتاب مقالات و خطابات میں کچھ اس طرح لکھے ہیں: ’’۱۹۴۱ء (ماہ صیام میں) ولادت ہوئی، والد محترم حضرت سیّد غلام سرور ابن سیّد غلام حیدرؒ کا میں اکلوتا فرزند ہوں، جو حضرت سیّد حبیب سلطانؒ کی اولاد میں سے ہیں، جن کا مرقد درگ ضلع لورالائی (کوہِ سلیمان) میں ہے۔ وہ ایک باخدا، روشن ضمیر اور عابد شب زندہ دار انسان تھے۔ قرآن پڑھنا پڑھانا ان کا وظیفہ حیات تھا۔ کوہِ سلیمانی کے دامن میں واقع دور افتادہ مقام پر چالیس سال سے زیادہ عرصہ انہوں نے ہزاروں قلوب و اذہان کو قرآنی انوار و تجلیات سے معمور کیا۔ بغیر کسی اجر و مشاہرہ کے توکلاً علی اللہ سینکڑوں مسافر طلبا ان کے حلقۂ تعلیم و تربیت میں رہتے، جن کے قیام و طعام کے وہ کفیل تھے۔ قرآن کریم سے انہیں والہانہ عشق تھا اور وہ اس جذبہ سے سرشار ساری امیدیں اللہ سے وابستہ رکھتے، میں نے دنیا والوں سے استغنا کے جو مناظر ان کی زندگی میںد یکھے کہیں اور نظر نہیں آئے۔ طلبا کا کھانا ہمارے گھر ہی میں تیار ہوتا تھا۔ صبح تہجد کی نماز کے بعد والدہ مرحومہ کے ساتھ کچھ دیر خواتین چکی پر آٹا پیستیں، فجر کی نماز کے بعد دو ڈھائی سو طلبا کے لیے روٹیاں اور دیگچوں میں سالن تیار ہوتا، تقریباً ۱۱ اور ۱۲ بجے کے درمیان کھانا دیا جاتا۔ دو بجے تک آرام اور پھر نمازِ ظہر، اس کے بعد عصر تک تعلیم، بعد عصر تا مغرب چھٹی، مغرب و عشاء کے درمیان کھانا، بعد عشاء سے رات ۱۱ بجے تک تعلیم۔ میں نے ہوش سنبھالا تو قرآنی زمزموں سے لبریز فضائوں نے خیر مقدم کیا۔ حضرت والد محترمv ہی کے سایۂ عاطفت میں ۷ سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کرلیا، لکھنے پڑھنے کی صلاحیت کسی مکتب سے نہیں بلکہ جو طلبا استعداد رکھتے تھے انہی سے کچھ عرصہ رہنمائی حاصل کرتا رہا۔ والد محترم (نوراللہ مرقدہٗ) فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے بیٹے کی صورت میں جو نعمت و امانت مجھے سونپی ہے میں اس کی فکری و ذہنی تعمیر کے لیے قرآن پر قناعت کرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ انہوں نے (طالب علم کی حیثیت سے) مجھے ایک دن بھی اسکول نہیں بھیجا۔ فارسی نظم اور صرف کے ابتدائی مراحل حضرت والد محترم کے ایک قریبی دوست مولانا عبدالحق کے ہاں سرکیے، جو فاضل دارالعلوم دیوبند اور حضرت سیّد انور شاہ کشمیریv، علامہ شبیر احمد عثمانیv اور شیخ بدر عالم میرٹھیv کے فیض یافتہ تلمیذ تھے۔ صرف و نحو کے لیے حضرت مولانا منظور الحق، مولانا ظہور الحق مرحوم (جو کبیر والا ضلع ملتان میں فنون و ادب کے نامور استاد تھے) سے تقریباً تین سال تک اکتساب فیض کیا۔ منطق استاد دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا عبدالخالق مرحوم پڑھایا کرتے۔ دو سال ڈیرہ اسماعیل خان، بعد ازاں کراچی، لاہور میں تعلیمی عرصہ گزرا، دورئہ حدیث حضرت مولانا قاضی شمس الدین مرحوم سے گوجرانوالہ میں پڑھا۔ تکمیل و تخصیص کے آخری دو سال حضرت مولانا شیخ سیّد محمد یوسف بنوریv کے ہاں گزارے۔ ۶۱-۱۹۶۰ء میں فراغت کے بعد محدود عرصہ کراچی میں ہی گزر۔ ۶۴-۱۹۶۳ء میں عملی زندگی میں قدم رکھا اور مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودvسے فکری و عملی رفاقت کی۔ وطن عزیز میں اسلام کے نظام عدل کی ترویج و تقویم کی جدوجہد میں شامل رہا۔دعوت و تبلیغ کا آغاز بھی اسی عرصہ میں ہوا، توحید و سنت، مسئلہ ختم نبوت، عظمت اصحابؓ و اہل بیت رسولؓ اور اصلاح معاشرہ و وحدت امت میرے اہم فکری اہداف ہیں، جن کی اساس پر دعوت کا سفر جاری رہا۔ اب ایک فرقہ کے مطالبہ پر تعلیمی اداروں میں پرائمری سے میٹرک تک کے نصاب دینیات کو جداگانہ حیثیت دینے کے دعویٰ پر ملک کی واضح اکثریت کا جمہوری اور اصولی استحقاق مجروح کیا گیا اور مسلمانوں کے منصوص و مسلمہ عقائد کے مقابلہ میں ایسا مواد شامل نصاب کردیا گیا جس سے تفریق و منافرت کے جراثیم پھیلیں اور منفی رجحانات کی تکمیل ہو۔ اس مرحلہ پر ہم نے حضرت مولانا مفتی محمود، حضرت شیخ سیّد محمد یوسف بنوری، حضرت مولانا خان محمد کندیاں شریف والے، شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان اور شیخ عبدالہادی دین پوری w کی مشاورت و سرپرستی میں ’’مجلس تحفظ حقوق اہل سنت و جماعت‘‘ کی بنیاد رکھی، جس کے زیر اہتمام ملک کے مرکزی مقامات پر کانفرنسز کا انعقاد کرکے ملک کی نظریاتی سرحدات کے تحفظ کا فریضہ ادا کیا گیا۔ ۱۹۷۴ء لاہور میں عظیم الشان کنونشن ترتیب دیا، جس میں ۵۰۰ سے زیادہ علماء ومشائخ نے شرکت کرکے ’’عالمی مجلس تحفظ حقوق اہل سنت‘‘ کے مطالبات کی تائید فرمائی، جو مندرجہ ذیل تھے: ٭... جداگانہ نصاب دینیات ختم کرکے ملک کی واضح اکثریت کے عقائد و نظریات پر مبنی نصاب دوبارہ رائج کیا جائے۔  ٭...اصحابؓ و اہل بیت رسولؓ کے مقام و عظمت کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے اور اسلام کے نمائندہ کرداروں کے خلاف زبان و قلم سے توہین کرنے والوں کے لیے عبرتناک سزا تجویز ہو۔ ٭...ملک کا دستور قرآن و سنت کی بنیاد پر ترتیب دیا جائے، جس کی عملی تشریح و توضیح کے لیے دورِ خلافت راشدہ کو حجت بنایا جائے۔ ٭... خلفائے راشدینؓ کے ایام شہادت و وفات سرکاری سطح پر منائے جائیں۔ ٭... قومی اور فوجی خدمات کے صلہ میں ’’نشانِ حیدر‘‘ کی طرح دیگر صحابہ کرامs بالخصوص خلفائے راشدینs کے ناموں پر اعزازات موسوم کرکے ان محسنین امت کو خراجِ تحسین پیش کیا جائے۔ ٭... محرم الحرام پوری ملت اسلامیہ کے لیے ماہ محترم ہے، اسے فرقہ وارانہ تشخص کے فروغ میں استعمال ہونے سے بچایا جائے۔ ان مطالبات کے حق میں مفکرِ اسلام حضرت مولانا مفتی محمود، شیخ الاسلام حضرت مولانا سیّد محمد یوسف بنوری، حضرت مولانا خواجہ خان محمد، شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان، مولانا عبیداللہ انور نوراللہ مراقدہم اور دیگر علماء و مشائخ نے بھرپور تائید فرمائی۔ علاوہ ازیں کراچی سے کشمیر اور کوئٹہ سے درئہ خیبر تک ہزاروں کانفرنسز، پمفلٹس اور رسائل فرزندانِ اسلام کی فکری تعمیر کا تسلسل، ہماری جدوجہد کے روشن نقوش ہیں۔ کئی قومی اور ملی تحریکوں میں شرکت ہوتی رہی۔ بالخصوص تحریک تحفظ ختم نبوت، تحریک نظامِ مصطفی اور مختلف ادوار کی آمریت کے خاتمہ کی جدوجہد میں حصہ لیا۔ صدر ایوب خان اور یحییٰ خان کے دور میں قید و بند کے مراحل سے گزرا، بالخصوص یحییٰ خان کے مارشل لاء میں ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل میں بیتے ہوئے لمحات یاد رہیں گے۔ جب جون، جولائی اور اگست کی گرمی میں ہم پھانسی پانے والوں کی کوٹھڑیوں میں بند گویا موت و زیست کی کشمکش میں وقت گزارتے تھے۔ دینی محاذ پر اس ملک میں اسلام اور مسلمانوں کے مستقبل کے لیے جو فتنے خطرہ بنے ہوئے ہیں ان میں سرفہرست منکرین ختم نبوت اور مرزا قادیانی کی روحانی ذریت ہے، جو اسلام کے لبادہ میں امت مسلمہ کی مرکزیت کو سبوتاژ کرنے پر کمربستہ ہیں، جنہیں مغربی استعمار کی سرپرستی حاصل ہے اور وہ فرزندانِ اسلام کے دینی مستقبل کے لیے سب سے زیادہ مہلک قوت کے طور پر مصروف کار ہیں۔ اس فتنے کی سرکوبی میں حضرت مولانا سیّد محمد یوسف بنوریv، مولانا مفتی محمودv کے ساتھ جو کردار ادا کیا، اسے سرمایۂ نجات سمجھتا ہوں۔ ۷۴-۱۹۷۳ء میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی سینٹرل باڈی کا رُکن رہا، پورے ملک میں اس حوالہ سے ہونے والے جلسوں، کانفرنسز میں شرکت ہوتی رہی۔ پشاور سے کراچی اور کوئٹہ سے کشمیر تک ختم نبوت کانفرنسز میں شرکت کی۔ ۶؍ستمبر ۱۹۷۴ء میں رولپنڈی کے اس اجلاس میں بھی شریک تھا، جس کے اگلے روز ذوالفقار علی بھٹو نے قادیانیوں کے غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کا مطالبہ تسلیم اور اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا اور امت مسلمہ کی تقریباً ایک صدی کی تاریخی کاوشیں بارآور ہوئیں۔ اسی طرح ۱۹۸۴ء تا ۱۹۸۶ء عقیدئہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے ہونے والی مساعی میں شامل رہا۔ امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ کی سربراہی میں قائم مجلس عمل کا مرکزی رکن رہا۔ چاروں صوبوں میں ہونے والے اجتماعات میں شرکت اور تحریک کو مؤثر و نتیجہ خیز بنانے میں شب و روز کوشاں رہا۔ ۱۶؍ فروری ۱۹۸۶ء کو اسلام آباد پہنچ کر اسمبلی ہال کے سامنے مطالبات کے حق میں مظاہرہ کی ترغیب دی۔ کوئٹہ، حیدرآباد، کراچی، پشاور، ملتان، لاہور، سکھر اور دیگر مرکزی مقامات پر ہونے والی کانفرنسز میں لوگوں سے وعدہ لیا کہ وہ اسلام آباد پہنچ کر عقیدئہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے تجدید عہد اور اور ملی مرکزیت کا مظاہرہ کریں۔ لوگ انتہائی تکلیف دہ مشکلات کو عبور کرکے پہنچے، مگر بدقسمتی سے کچھ لوگوں نے.... اس وقت کے بے بس وزیر اعظم محمد خان جونیجو کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بازی ہار دی اور حکمران کی ساحری ہماری تمام جدوجہد کو ہڑ پ کرگئی۔ سرکار کے جھوٹے وعدوں پر یقین کرکے مظاہرہ ملتوی ہوگیا۔‘‘ حضرت شاہ صاحبv ایک مدت سے عارضۂ قلب اور شوگر کی تکلیف میں مبتلا چلے آرہے تھے۔ صبح اچانک طبیعت بگڑ گئی، آپ کو قریبی ہسپتال لے جایا گیا، لیکن آپ کی روح قفس عنصری سے پہلے ہی عالم بالا کو جاچکی تھی۔ رات آٹھ بجے نماز جنازہ کا اعلان ہوا، آپ کی نماز جنازہ آپ کے صاحبزادہ نے پڑھائی، جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی سعادت حاصل کی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت شاہ صاحبv کی جملہ حسنات و مساعی کو شرفِ قبولیت عطا فرمائیں، آپ کی جملہ سیئات کو مبدل بحسنات فرمائیں اور آپ کو جنت الخلد کا مکین بنائیں اور امت کو ان کا نعم البدل عطا فرمائیں۔ قارئین سے حضرت شاہ صاحبv کے لیے ایصالِ ثواب کی درخواست ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یادگارِ اسلاف حضرت مولانا محمد عبداللہ (بھکر) کی رحلت

جمعیت علماء اسلام کے سرپرست، حضرت مولانا عبدالقادر رائے پوری، حضرت مولانا عبدالعزیز رائے پوری نور اللہ مراقدہما کے مرید ومسترشد، حضرت سید نفیس شاہ الحسینیv کے خلیفہ مجاز، خواجہ خواجگان حضرت خواجہ خان محمد قدس سرہٗ کے محب ومرید، جامعہ قادریہ بھکر کے بانی، رئیس وشیخ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ (بھکر) ۲۸؍ صفر الخیر ۱۴۳۷ھ مطابق ۱۱؍ دسمبر ۲۰۱۵ء بروز جمعہ‘ رات دس بجے اس دنیا کی ۸۰؍ بہاریں دیکھ کر خالق حقیقی سے جاملے۔ إنا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون، إن للّٰہ ما أخذ ولہٗ ماأعطٰی وکل شیء عندہٗ بأجل مسمّٰی۔ حضرت مولانا محمد عبداللہv ۱۹۳۵ء میں ڈھوک زماں گاؤں کے باشندے، اعوان برادری کے چشم وچراغ حضرت مولانا یار محمد صاحب v کے گھر میں تولد ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر اور قرب وجوار کے مدارس ومساجد سے حاصل کی۔ پھر دارالعلوم دیوبند کے فاضل جناب حضرت مولانا محمد رمضان صاحب سے مسجد زرگراںمیانوالی میں تعلیم حاصل کی، دورہ حدیث جامعہ سراج العلوم سرگودھا سے کیا۔ ۱۹۶۰ء میں مدرسہ دارالہدیٰ کے ذمہ داران حضرات نے اپنے مدرسہ میں تدریس کی دعوت دی، جسے آپ نے بخوشی قبول کیا، اس کے ساتھ آپ نے مسجد -جس کا قدیمی نام طویلہ تھا اور بعد میں اس کا نام جامع مسجد فاروق رکھا گیا- میں امامت وخطابت کے فرائض بھی سرانجام دینا شروع کیے۔ ۱۹۷۷ء میں قومی اتحاد کا الیکشن لڑا، بیعت کا پہلا تعلق حضرت مولانا عبدالقادر رائے پوری قدس سرہٗ سے قائم کیا، اس کے بعد ان کے جانشین حضرت مولانا عبدالعزیز رائے پوریؒ سے تجدید بیعت کی، ان کے بعد حضرت مولانا سید نفیس شاہ الحسینی نور اللہ مرقدہٗ سے بیعت کی اور خلافت سے سرفراز ہوئے۔ حضرت شاہ صاحبv کی وفات کے بعد حضرت خواجہ خان محمد قدس سرہٗ سے بیعت کا تعلق قائم کیا۔ غالباً ۱۹۹۵ء میں اپنے شیخ اول کے نام سے مدرسہ کی بنیاد رکھی، جس کا نام جامعہ قادریہ رکھا گیا۔ آپ موصوف اس کے شیخ الحدیث تھے۔ آپ کے حالات کے بارہ میں شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب دامت برکاتہم رقم طراز ہیں: ’’ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کے دوران مولانا محمد عبداﷲ مسجد زرگراں مدرسہ تبلیغ الاسلام میں زیر تعلیم اور دفتر ختم نبوت کے انچارج ہوتے تھے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے صدر صوفی ایاز احمد خان نیازی، نائب صدر مولانا محمد رمضان صاحب اور ناظم اعلیٰ مولانا محمد عبداﷲ کو بنایا گیا۔ آپ نے لکھا ہے کہ اس وقت میری عمر سولہ سال کے لگ بھگ ہوگی۔ آپ ان دنوں شرح وقایہ والے سال پڑھتے تھے۔ آپ دفتر کے بھی انچارج تھے۔ مرکز سے رابطہ اور ان کے پروگرام کی روشنی میں میانوالی ضلع بھر میں تحریک کو آگے بڑھانا آپ کے دم قدم سے تھا۔ تحریک سے قبل وہاں ختم نبوت کانفرنس سے سید عطاء اﷲ شاہ بخاری، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا عبدالرحمن میانوی، مولانا محمد عبداﷲ درخواستی، مولانا غلام اﷲ خانw نے خطاب فرمایا تھا۔ مولانا محمد رمضان، صوفی ایاز خان نیازی، صوفی عبدالرحیم نیازی، صوفی شیر محمد زرگر، حضرت مولانا خواجہ خان محمد، مولانا پیر شاہ عالم، مولانا محمد عبداﷲ wاور دیگر حضرات نے میانوالی سے تحریک ختم نبوت کے اَلاؤ کو روشن رکھا۔ مولانا محمد عبداﷲ صاحبؒ ۳؍اپریل کو گرفتار ہوئے اور ۱۸؍جولائی ۱۹۵۳ء کو رہا ہوئے۔ مولانا محمد عبداﷲؒ جمعیۃ علماء اسلام کے احیاء ثانی تک مجلس تحفظ ختم نبوت سے وابستہ رہے۔ اس سے پہلے مجلس احرار اسلام سے تعلق تھا۔ جمعیۃ علماء اسلام کے احیاء کے بعد باقاعدہ مجلس تحفظ ختم نبوت سے استعفا دیا، جو صدر مجلس تحفظ ختم نبوت سید عطاء اﷲ شاہ بخاریv نے قبول فرمایا۔ اس کے بعد آپ نے باضابطہ جمعیۃ علماء اسلام میں شمولیت اختیار کی۔ پہلے ضلع میانوالی -ان دنوں بھکر بھی میانوالی کی ایک تحصیل تھی- پھر سرگودھا ڈویژن، اس کے بعد بارہا پنجاب کے جمعیۃ علماء اسلام کے امیر منتخب ہوئے۔ ایک ایسا وقت بھی آیا کہ جب جمعیۃ علماء اسلام میں آپ کے استاذ مولانا محمد رمضان مرحوم ایک طرف تھے، لیکن آپ برابر حضرت مولانا مفتی محمود صاحبv اور بعدہٗ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب کے ساتھ رہے۔ مولانا محمد عبداﷲ صاحبؒ کا مجلس ختم نبوت سے جمعیۃ علماء اسلام میں جانا، یہ جمعیۃ اور مجلس کے رہنماؤں کے باہمی تعاون کے فیصلوں پر عمل درآمد کا حصہ تھا۔ مولانا محمد عبداﷲؒ تادم واپسیں جمعیۃ علماء اسلام کل پاکستان کے مرکزی سرپرست اعلیٰ تھے۔ آپ نے تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ئ، تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ئ، تحریک ختم نبوت ۱۹۸۴ء غرض تینوں تحریکوں میں بھرپور حصہ لیا۔ آپ جب بھی ملتان تشریف لاتے آپ کا قیام ہمیشہ دفتر ختم نبوت میں ہوتا۔ ختم نبوت کانفرنسہائے چنیوٹ، پھر چناب نگر میں شرکت سے کبھی ناغہ نہیں ہوا۔ مجلس کے ایک ایک کام پر نظر رکھتے تھے۔ تعاون، سرپرستی، رہنمائی اور اصلاح فرماتے تھے۔ ختم نبوت کے کام کے دل وجان سے معترف تھے۔ مولانا محمد عبداﷲ صاحبؒ بہت صاف ستھرا لکھنے کا ذوق رکھتے تھے، اپنا مافی الضمیر تحریر کے ذریعہ سمجھانے کے ماہر تھے۔ ذوق انتہائی نفیس تھا، گفتگو ہمیشہ اتنی پاکیزہ اور بے عیب ہوتی تھی کہ دشمن بھی داد دئیے بغیر نہ رہ سکتا۔ فقیر نے ایک دفعہ ایک مجلس میں شیعہ حضرات کی کسی عبادت گاہ کا تذکرہ کرتے ہوئے امام باڑہ کا لفظ استعمال کیا، فوراً ٹوک دیا، فرمایا: امام بارگاہ کہو، وہ حضرات اپنی عبادت گاہ کو امام بارگاہ کہتے ہیں، امام باڑہ کہنا ان کے نام کو بگاڑنا ہے، جو اخلاقاً درست نہیں، ان کے امام ہمارے بھی رہنما اور بزرگ تھے، ان کی نسبت سے قائم جگہ کو باڑہ کہنا کتنا توہین آمیز ہے! اختلاف اپنی جگہ، اخلاقی قدروں کو پائمال نہیں کرنا چاہیے۔ زندگی میں ایک تو اس غلطی کا پہلی بار احساس ہوا، ورنہ مابدولت تو ہمیشہ یہی سوقیانہ نام استعمال کرتا تھا۔ دوسری یہ بات سمجھ آئی کہ زندگی بھر آپ نے پہلے ماہنامہ انوار مدینہ پھر ماہنامہ مناقب کے ذریعہ عظمت صحابہؓ واہل بیتؓ کی جنگ لڑی، لیکن طبیعت میں اعتدال کا یہ عالم تھا کہ علیحدگی میں بھی غیرمناسب ونازیبا الفاظ کا استعمال ان پر گراں گزرتا تھا۔ یہی وہ آپ کی خوبیاں تھیں جس نے آپ کو دوستوں وغیروں کی نظروں میں باوقار بنا دیا تھا۔ مولانا محمد عبداﷲ صاحبؒ ریکارڈ رکھنے کے خوگر تھے، ایک ایک پرزہ سنبھال کر رکھتے تھے۔ ان کی ذاتی لائبریری قومی تاریخ کا اپنے اندر بڑا ذخیرہ رکھتی ہے۔ مولانا محمد عبداﷲؒ کریم النفس، درویش منش، اجلی سیرت کے رہنما تھے، ان کا وجود خیروبرکت کا خزانہ تھا، وہ انتہائی زیرک اور شریف انسان تھے، ان سے علم اور علماء کا وقار قائم تھا۔ آپ جب تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں گرفتار ہوئے تو آپ کا قد ۵فٹ گیارہ انچ تھا، یہ آپ نے خود تحریر کیا ہے، یہ آغاز جوانی تھا۔ بعد میں کتنا اضافہ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ خوب دراز قد، خوب کتابی کھلا اور وجیہ گورا چٹا، چہرہ دل لبھانے والا تھا۔ کھلی پیشانی، عقابی نظریں، ستواں ناک، دل کی طرح سینہ بھی دراز، غرض وسیع القلب ووسیع الصدر تھے۔ سفید وجیہ چہرہ پر سفید داڑھی حسن کی بلندیوں کو چھوتی اور دلوں کو لبھاتی تھی۔ مولانا ہمیشہ سفید لباس استعمال کرتے تھے۔ شاید شلوار بھی استعمال کرتے ہوں، لیکن اکثر آپ چادر استعمال کرتے تھے، کندھے پر اکثر کلاچی کی لنگی ہوتی تھی۔ پگڑی ہمیشہ پشاوری استعمال کرتے تھے۔ چلنے میں علم کا وقار، متانت وسنجیدگی لیے ہوئے جس مجلس میں ہوتے اہل مجلس کی نگاہوں کا مرکز ہوتے تھے۔ بہت کم گو تھے، مگر جب بولتے تو موتی رولتے تھے۔ آپ کی ان خوبیوں نے آپ کو ہردل عزیزی اور محبوبیت کے مقام پر فائز کرایا تھا۔ حضرت مولانا محمد عبداﷲ بھکر والوں نے اپنے مشائخ عظام کا جس طرح احترام کیا وہ آج کل کی نسل کو سمجھانا مشکل ہے۔ راقم کا ذاتی مشاہدہ ہے کہ مولانا محمد عبداﷲ صاحبؒ گھنٹوں مجلس میں بیٹھتے تو حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحبv کے سامنے ایسے مؤدب ہوکر بیٹھتے کہ گویا ’’علٰی رأسہٖ طائر‘‘ کا مصداق بن جاتے۔ مولانا محمد عبداﷲ صاحبؒ امسال علالت کے باعث چناب نگر ختم نبوت پر تشریف نہ لائے، لیکن اپنے صاحبزادہ حضرت مولانا صفی اﷲ صاحب کو اپنی نمائندگی کے لیے روانہ فرمایا۔ مولانا محمد عبداﷲؒ بہت ہی جفاکش، محنتی اور بھرپور جذبہ رکھنے والے مشنری اور نظریاتی عالم دین تھے، ان کی ذات سے بہت ہی خیروبرکت کی یادیں وابستہ تھیں، ان کے وصال نے تاریخ کا ایک باب بند کر دیا۔ گزشتہ کچھ دنوں سے کمر کے مہروں میں درد شروع ہوا۔ بہاول پور وکٹوریہ ہسپتال جانے کا فیصلہ ہوا۔ گھر سے اپنے قائم کردہ جامعہ قادریہ میں تشریف لائے، تمام طلبہ واساتذہ سے فرداً فرداً مصافحہ وملاقات کی۔ بہاول پور گئے، علاج شروع ہوا، مہروں کا قریباً پانچ گھنٹے آپریشن ہوا، جوانوں کی طرح دل کام کر رہا تھا، آپریشن کرنے والے ڈاکٹر صاحبان بہت مطمئن تھے کہ آپریشن کامیاب رہا۔ آپ کے جسم میں بھی خوب حرکت آگئی، سب مطمئن تھے، لیکن تقدیر تو بہرحال تقدیر ہے۔ آپریشن کے بعد غذا میں کمی ہوگئی، کوئی چیز کھانے پینے کو طبیعت نہ کرتی تھی، اس سے نہ صرف کمزور ہوئے بلکہ بلڈپریشر کم ہوا، وزن کم ہوا، جسم میں قوتِ مدافعت کی کمی ہوئی، ایسی کمی ہوئی کہ دنیا میں آنکھ بند کی اور جنت میں جا کھولی۔ بہاول پور سے پھر ایمبولینس کے ذریعہ سفر شروع ہوا، جسد خاکی پھر جامعہ قادریہ بھکر صبح ساڑھے تین بجے لایا گیا، جب گئے تھے تو ملاقاتیوں کے دل دھڑکتے تھے، اب واپس تشریف لائے تو ملاقاتیوں کی آنکھیں چھلکتی تھیں۔ آپ کی وفات کی خبر ملک بھر میں پھیلی، جس نے خبر سنی دم بخود ہوگیا، اگلے دن بھکر کے سب سے بڑے اسٹیڈیم میں جنازہ ہوا جو ملک کے بڑے جنازوں میں سے ایک تھا۔ جب کہ بھکر شہر کی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔ عام قبرستان میں ابدی نیند سوگئے، اب اس دن اٹھیں گے جب کہ پوری انسانیت اٹھے گی۔ ‘‘آپ کی نماز جنازہ خواجہ خلیل احمد مدظلہ سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف نے پڑھائی۔ آپ نے اپنی یادگار دو بیٹے حافظ کفایت اللہ صاحب اور مولانا محمد صفی اللہ صاحب مدظلہما چھوڑے ہیں۔ ادارہ بینات حضرت کے متعلقین سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہے اور حضرت کی موت کو امت مسلمہ کا عظیم نقصان قرار دیتا ہے۔ قارئین بینات سے حضرت کے لیے ایصالِ ثواب کی درخواست ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی بال بال مغفرت فرمائے اور آپ کو جنت میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔ وصلی اللّٰہ تعالٰی علٰی خیر خلقہ سیدنا محمد وعلٰی أٰلہ وصحبہ أجمعین

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے