بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 ربیع الثانی 1442ھ- 02 دسمبر 2020 ء

بینات

 
 

عصبیت کا تعفن اور ہماری ذمہ داری

عصبیت کا تعفن اور ہماری ذمہ داری



تمام تعریفیں اس ذات کے لئے ‘ جس نے ایک انسان سے پوری انسانیت کو وجود بخشا اور درود وسلام ہو اس ہستی پر جس نے انسانیت کو آداب زندگی سکھائے اور خدا کی رحمتیں ہوں ان برگزیدہ لوگوں پر جن کے طفیل ہمیں ہدایت کی شمعیں نصیب ہوئیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ دنیا میں سب سے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام ہیں‘ جنہیں بندگی کے خاص مقاصد کی تکمیل کے لئے اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا‘ پھر ان کی کوکھ سے انسانیت کی اماں حضرت حواء علیہا السلام کو پیدا فرمایا‘ پھر آگے ان کی اولاد میں سے بہت سارے مرد وں اورعورتوں کو پھیلایا۔( نساء :۱) اولادِ آدم کا یہ پھیلاؤ اس قدر پھیلا کہ اب انسان ایک گھر یا گھرانہ سے کافی آگے جانے لگے تھے‘ یہانتک کہ شناخت اور پہچان کی ضرورت پیش آنے لگی تو حق تعالیٰ شانہ نے اپنی حکمت ومصلحت سے مختلف جتھوں اور قبائل سے موسوم ومتعارف کروادیا‘ تاکہ باہمی شناخت اور پہچان کا فائدہ حاصل ہوسکے۔ (الحجرات:۱۳) اور پھر ہر قبیلہ کے لئے مستقل رہنمائی کرنے والا اور سامانِ رشد وہدایت پہنچانے والے کا انتظام بھی فرمایا۔ ( الرعد:۷) ظاہر ہے کہ زمانہ کی گردش کے ساتھ ساتھ انسان ہدایت کی شمعوں سے دور ہونے لگے‘ جس کے نتیجے میں انسانیت میں مختلف روحانی اور اخلاقی امراض در آئے‘ منجملہ ”عصبیت وتفاخرہے“ یعنی اپنے نام ونسب اور قبیلہ وکنبہ کو اعزاز وافتخار کا نشان سمجھنا‘ ہر جائز وناجائز اور اچھے برے کی تمیز ختم کرکے تمام معاملات میں اپنے قبیلہ وکنبہ کے لئے مرمٹنے کا تاثر اور نظریہ اپنانا اور خاندانی وقبائلی تقسیم(جو منشأ خداوندی کے مطابق محض شناخت کے لئے تھی) کو عزت وذلت اور اونچ نیچ کی تقسیم سمجھنا ۔ آنحضرت ا نے دوسرے روحانی واخلاقی امراض کی طرح اس مرض کے قلع وقمع کے لئے خوب خوب تعلیم فرمائی اور بے شمار وعیدات کے ذریعہ اس بدبو دار فکر سے باز رہنے کی تلقین فرمائی اور ایسے تمام افکار ونظریات کی حوصلہ شکنی فرمائی ‘ جن سے لسانی‘ نسلی یا گروہی تعفن ابھر سکتاہو‘ بلکہ ضابطہٴ عام کے ذریعہ شرافت اور عزت کا مدار علم دین ‘ تقویٰ وخشیتِ الٰہی کو قرار دیتے ہوئے بڑی تاکید کے ساتھ فرمایا کہ:
”ان اللہ اوحی الیّ ان تواضعوا حتی لایفخر احد علی احد ولایبغی احد علی احد“ ۔ (رواہ مسلم‘ مشکوٰة:۴۱۷)
ترجمہ:․․․”اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی مجھے عاجزی وتواضع اختیار کرنے کا حکم فرمایا ہے اور ہرقسم کے غلط فخر اور ظلم وزیادتی سے بچنے کا ارشاد فرمایاہے“۔ اور حدیث میں تعصب کرنے والے قوم پرست اور نسل پرست تعصبی کو گبر (غلاظت کے کیڑے) کی مانند قرار دیا ہے جو گندگی سے پیدا ہوتا ہے‘ گندگی میں رہتا ہے اور گندگی ہی اس کا مشغلہ زندگی بنی رہتی ہے۔ اس سے اندازہ کیجئے کہ عصبیت‘ قوم پرستی اور نسل پرستی اسلام میں کس قدر ناپسند اور قابل نفرت چیز ہے۔ ایک اور حدیث میں آپ ا کا ارشاد ہے کہ: نسب کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کے سبب کسی کو برا کہا جائے یا عاردلائی جائے‘ بلکہ تم سب آدم علیہ السلام کی اولاد ہو‘ تمہاری مثال دو برابر سرابر برتنوں کی ہے جو خالی ہوں یعنی کچھ نہ کچھ کمی سے کوئی فرد خالی نہیں‘ کسی کو کسی پر دین اور تقویٰ کے علاوہ کوئی فضیلت وترجیح نہیں ہے۔ ایک حدیث شریف میں ارشاد ہے کہ: جب آپ کسی مسلمان بھائی کو عصبیت وقومیت کے باعث شرم وعارکے مقام پر پاؤ تو اسے اس باعثِ شرم وعار مقام سے ہٹاؤ یعنی اس کی غلط ذہنیت‘ بری خصلت اور بے جا تعصب وتفاخر سے باز رکھنے میں اس مسلمان بھائی کی مدد کرو‘ کیونکہ اگر وہ اس غلاظت میں لتھڑا رہا اور اسی حالت پر اسے موت آگئی تو بے چارہ امت محمدیہ (علی صاحبہا الصلوٰة والسلام) میں شمار نہ ہوسکے گا۔ آپ ا کا ارشاد گرامی ہے کہ :
”ولیس منا من مات علی عصبیة“۔(مشکوٰة:۴۱۷)
ترجمہ:․․”جسے عصبیت پر موت آئی وہ ہم میں سے نہیں ہے“ ۔یعنی ایسے فرد کا شمار امت محمدیہ میں نہ ہوگا۔ لہذا ہمیں اپنی ذہنی فکر وسوچ اور اپنے عمل وکردار کا خوب تجزیہ کرلینا چاہئے کہ خدانخواستہ ہم ”عصبیت“ کے روحانی مرض کا شکار ہوکر کہیں امت محمدیہ (علی صاحبہا الصلوٰة والسلام) میں شمولیت کے عظیم شرف سے محروم تو نہیں ہو رہے۔ نیز ہماری یہ بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اپنے ان بھائیوں کو بھی عصبیت کے چوہڑ سے دور کریں جو لسانیت ‘ قومیت یا علاقائیت کے خوشنما نعروں کے جال میں پھانسے جاچکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دینِ حق کا فدائی اور شیدائی بنادے اور دنیا کے مختلف جھوٹے نعروں کی لعنت سے محفوظ فرمائے‘ آمین۔

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے