بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 17 جنوری 2021 ء

بینات

 
 

عزم وہمت کی منفرد مثال حضرت مولانا ڈاکٹر عادل خان شہید رحمہ اللہ 

عزم وہمت کی منفرد مثال

حضرت مولانا ڈاکٹر عادل خان شہید رحمہ اللہ 


حضرت مولانا ڈاکٹر محمد عبداللہ عادل خان شہید  رحمہ اللہ  بڑی نسبت، بڑے کردار اور گوناگوں صفات کے حامل انسان تھے۔ آپ نے جس ماحول میں آنکھ کھولی وہ ماحول مجاہدہ وریاضت، عزم و ہمت، زہد وورع، علم و عمل اور تدریس و تحریک کا ماحول تھا۔ انسانی فطرت پر ماحولیاتی اثرات کی اثر پذیری فطری امر ہے، ہر انسان اپنی فطری لیاقت اور قلبی رجحان کے سہارے ماحولیاتی اثرات میں سے کسی گہرے اثر کی چھاپ کا محور بن جاتا ہے۔ ہمارے حضرت ڈاکٹر عادل خان  رحمہ اللہ  فطری استعداد ولیاقت میں اپنے عظیم والد حضرت شیخ المشائخ قدس سرہٗ کا پرتو تھے، اس لیے آپ کی شخصیت میں آپ کے والد کی فکری وعملی زندگی کے تقریباً سب ہی آثارجھلکتے تھے۔ حضرت شیخ المشائخ کی نشو ونما ایک آسودہ متمول گھرانے میں ہوئی تھی، ان کی تعلیمی زندگی اورجوانی کا دور ہر قسم کی فراوانی سے عبارت تھا۔
مگر تدریسی زندگی اور اہتمام کا دور بڑے مجاہدوں اور ریاضتوں کا عنوان تھا، اس دور میں حضرت ڈاکٹر صاحب شہید رحمہ اللہ بھی پلے بڑھے، اورانہوں نے ادارتی زندگی اور مجاہدہ و ریاضت کو لازم وملزوم پایا اور ہمیشہ اسی تصور کی تصویر بنے رہے۔
قانونِ فطرت ہے کہ تنگیاں اپنے پیچھے قسما قسم کی آسانیاں اور وسعتیں لے کر آیا کرتی ہیں، اسی قانونِ فطرت کے تحت حضرت ڈاکٹر عادل خان شہید رحمہ اللہ  نے اپنے والد گرامی کے اہتمام اور وفاق کی نظامت وصدارت کے مناصب کے ادوار میں صاحبزادگی کے مواقع ومراحل بھی پائے، دنیا کے مختلف ممالک کے اسفار اور عملی زندگی کے گوناگوں نشیب و فراز بھی دیکھے، آسائشیں بھی دیکھیں اور راحتیں بھی پائیں، مگر مجاہدہ و ریاضت کی اولین چھاپ کے گہرے اثرات آپ کی طبیعت اور رویوں سے غائب نہیں ہوئے۔ وہ اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک کی بڑی بڑی آسائشوں کو بڑی ہی بے اعتنائی کے ساتھ ترک کرکے مسجد و مدرسہ کی روایتی اور فقید الوسائل زندگی جینے کے لیے اپنے وطن اور اپنے مدرسہ کو ترجیح دیتے رہے۔
امریکہ اور ملائیشیاجیسے ممالک میں اپنی ترجیحات کے مطابق تعلیمی و تدریسی مشاغل ملنا کس کی آرزو نہیں ہوسکتی؟! پھر ایسے مواقع کو خیر آباد کہہ کر وسائل کی تنگی، ماحول کی جکڑن اور فکری وفروعی انتشار کی کوفت میں دینِ اسلام کی تعلیم وتبلیغ کے لیے فیصلہ کرنا غیرمعمولی عزم اور ہمت کی علامت ہے ۔ بلاشبہ یہ عزم و ہمت آپ کے خون میں شامل سہی، مگر آپ نے اندرونی و بیرونی زندگی میں جن مشکلات کا مقابلہ کیا، اس میں کسبی کمال کاحصہ بھی بے مثال ہی ہے۔ ایسے حالات اگر کسی اور مضبوط سے مضبوط انسان پر آجاتے تو شاید اس کے اعصاب ساتھ چھوڑ جاتے، لیکن اس صاحبِ عزم و استقلا ل انسان کی ثابت قدمی کا اندازہ لگایئے کہ مشکل سے مشکل حالات میں جوسفر ادھورا رہا، اُسے نئے جذبہ کے ساتھ دوبارہ آغاز سے انجام تک گامزن کرنے کے لیے پابہ رکاب نظر آئے۔ کبھی شکستہ دلی ، پست ہمتی اور مایوسی کا مظاہرہ نہیں کیا۔
غالباً ۲۰۱۰ء کا زمانہ تھا جب آپ امریکہ سے واپس پاکستان آئے تو آپ اپنے اکابر کی طرح قید وبند کی صعوبتوں سے نیاجذبہ سیکھ کرآئے، اور اس جذبے کی عملی تصویر اور تنفیذ کے لیے بڑی تازگی اور چستی کے ساتھ مصروفِ کار دکھائی دیئے۔ اس جذبے کے ایک مظہر کا مشاہدہ راقمِ اثیم کو بھی نصیب رہا۔ آپ نے مدارس کے امتحانی نظام ، عملی وحدت، داخلے کے طریقہ کار اور اوقات کار میں یکسانیت پیدا کرنے کے لیے یہ فکری خاکہ سامنے رکھا کہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان سے ملحقہ اکثر مدارس ہمارے تین بڑے مدارس‘ جامعہ فارقیہ کراچی، جامعہ دارالعلوم کراچی اور جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے تدریسی و انتظامی سلسلے سے جڑے ہوئے ہیں، اگر یہ تینوں ادارے اپنے داخلے کے نظم، طریقۂ تدریس اور نظامِ امتحان میں وحدت ویکسانیت پیدا کرلیں تو وفاق سے ملحقہ تمام مدارس ایک مالا میں پروئے جاسکتے ہیں۔ اس فکر کی عملی شکل کے لیے طویل عرصہ تک مشاورتی سلسلہ قائم رہا، جس میں ان تینوں اداروں کے نظامتِ تعلیم کے مسئولین باقاعدگی سے شریک ہوتے رہے۔ جامعہ سے حضرت الاستاذ مولانا عطاء الرحمن شہید  رحمہ اللہ تشریف لے جایا کرتے تھے، اور آپ کے فائل بردار کے طور پر راقم کو بھی معیت سے نوازا جاتارہا۔ یہ مجلس اپنے مقررہ نصب العین تک اگرچہ نہ پہنچ سکی، مگر اس مجلس کے دو بڑے فائدے حاصل ہوئے: ایک یہ کہ ہمارے تینوں اداروں کے امتحانی اور تدریسی نظم میں ایک دوسرے سے بڑی مفید باتیں سیکھنے کو ملیں۔ دوسرا یہ کہ آپ کی اس مخلصانہ فکر ہی کا شاید نتیجہ ہے کہ ہمارے امتحانی بورڈ وفاق المدارس نے آگے چل کر نظامِ امتحان کی طرح مکمل ادارتی وتدریسی نظم کے لیے گراں قدر کوششیں کیں ، جن میں مذکورہ اداروں کے علاوہ مختلف اداروں نے اپنا اپنا حصہ بھی ملایا، اب وہ کاوش وفاق کے ملحقہ مدارس کے لیے انتظامی دستور العمل کے طور پر امید ہے کہ سامنے آجائے گی ۔مدارس کے اس دستور العمل کی فکری تخم ریزی کا سہرہ بلاشبہ حضرت ڈاکٹر عادل شہید رحمہ اللہ کی تربتِ ناز ہی کے سر سجنا چاہیے۔
اسی طرح حضرت شیخ المشائخ  رحمہ اللہ  جب سفرِ آخرت کے لیے رختِ سفر باندھ بیٹھے تو حضرت ڈاکٹر عادل خان صاحبؒ کے برادرِ گرامی حضرت مولانا عبیداللہ خالدمدظلہم نے پدرانہ شفقت، سرپرستی، سائبانی اور رہنمائی کے منصب کے لیے بڑ ے خلوص، درد و کرب کے ساتھ اپنے برادر کبیر حضرت ڈاکٹر عادل شہید  رحمہ اللہ کے پاؤں میں محبت کی وہ بیڑیاں ڈالیں کہ وہ جامعہ فاروقیہ کے اسیر بن کے رہ گئے اور اپنی فطری و موروثی صلاحیتوں سے جامعہ فاروقیہ کی تعلیمی و تعمیری ترقی میں اپنے عظیم والد کے مقتدر جانشین اور اپنے برادر گرامی کے دست و بازو ہی نہیں، بلکہ دل و دماغ بھی بن گئے اور حضرت شیخ کے بعد جامعہ فاروقیہ کے تعلیمی معیار کو برقرار رکھنے کی آزمائش میں پورے اُترے،بلکہ جامعہ فاروقیہ فیز ۲ کراچی کی تعلیمی وادارتی زبان کے لیے عربی زبان کو ایسا فروغ بخشا جو صرف جامعہ فاروقیہ ہی نہیں‘ ہمارے تمام مدارس کے لیے ایک مثالی کردار ثابت ہوا۔
جامعہ فاروقیہ فیز ۲کراچی میں تعلیمی وادارتی زبان کے طور پر عربی زبان کے فروغ سے جہاں جامعہ کے تعلیمی نظم میں کمال، انفرادیت اور امتیاز کا ایک باب بندھا،وہاں یہ سلسلہ جامعہ فاروقیہ فیز ۲ اور دیگر جامعات میں تعلیمی و استفادی روابط کا بہترین باعث بھی بنا۔ حضرت ڈاکٹر شہید  رحمہ اللہ اس تعلیمی انفرادیت میں کمال کے رنگ بھرنے کے لیے دیگر اداروں کے باذوق عربی داں اور عربی خواں اساتذہ کو بھی اپنے ہاں بلاکر اپنے اساتذہ کے ساتھ مختلف محاضرات اور مجالس کا اہتمام کرتے رہے، جس سے شرکاء کو ترغیب وتحریک کافائدہ بھی ہوا اور سیکھنے اور سکھانے کے جذبات ومواقع بھی بیدار ہوئے، جسے اس دور میں عربی زبان کے احیاء کا کارنامہ ہی نہیں، بلکہ ایک تحریک کا نام دینا چاہیے، جسے منزل یاب کرنے کی ذمہ داری جامعہ فاروقیہ کے مولانا عبداللطیف ، مولانا انس عادل ، مولانا عمیرعادل ،جامعہ دارالعلوم کراچی کے مولانا حسین قاسم ،جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے مولانا فخرالاسلام مدنی اور مولانا لطف الرحمن اور عربی زبان کے دیگر باذوق احباب کے کندھوں پر عائد ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں حضرت ڈاکٹر شہید  رحمہ اللہ کے نیک مقصد کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کا اعزاز بخشے، آمین۔
جامعہ فاروقیہ فیز ۲ کراچی کو دورِ جدیدکی مستعار تعبیر میں ’’عربک میڈیم‘‘ بنانے میں جہاں عربی زبان کے رواج واحیاء کی مہم ہے، وہاں علم وعمل کے حسین امتزاج کا بہترین سبق بھی ہے۔ ہمارا نصاب عربی زبان میں ہے ، مذہبی زبان عربی ہے ، مگر ہمارے عمومی طلبہ و اساتذہ عربی حوار اور انشاء پر استعداد کے باوصف قادر نہیں ہوتے۔ اس حجاب کو ختم کرنے میں حضرت ڈاکٹر عادل خان شہید رحمہ اللہ  کی فکری و عملی کاوشیں قابلِ تقلید اور لائقِ تحسین ہیں۔ یہ کاوشیں درحقیقت عزم و عمل میں رشتے، فکر و جہد میں رابطے اور قول وعمل میں تعلق کی عکاس ہیں۔ حضرت ڈاکٹر شہید  رحمہ اللہ جس کام کی فکر و لگن کا دماغی بوجھ اُٹھاتے، اُسے عملی شکل میں اُتارنے اور سدھارنے کے لیے شبانہ روز محنت فرماتے تھے، اور جس کام میں ہاتھ ڈالتے، اسے اس کے مثبت انجام تک پہنچانے میں کسی مشکل اور دشواری کو خاطر میں نہیں لاتے تھے ، جسے اس دور میں اکابر کی اولوا العزمی کی نادر مثال کہنا بجا ہے ۔
عموماً یہ دیکھا گیا ہے کہ میدانِ عمل سے وابستہ حضرات یا انتظامی ذمہ داریوں کے مسئولین اپنے تدریسی کمال کا سکہ کماحقہ نہیں جماسکتے، مگر حضرت ڈاکٹر شہید  رحمہ اللہ  کی عملی زندگی کا تنوع ، آپ کا تدریسی کمال متاثر یا متزلزل نہیں کرسکا۔ میں نے بالواسطہ حضرت شیخ شامزی شہید  رحمہ اللہ سے سنا کہ حضرت شیخ المشائخ (مولانا سلیم اللہ خان  رحمہ اللہ )اپنے معاصر اکابر میں جس تدریسی کمال سے ہم کنار تھے ، اس کمال کا وافر حصہ اللہ تعالیٰ نے مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان شہید  رحمہ اللہ  کو عطا فرمارکھاتھا۔ امریکہ ، ملائیشیا کی تدریسی زندگی میں اونچے درجے کی تدریسی ذمہ داریاں اور جامعہ فاروقیہ میں بخاری شریف اور مشکوٰۃ شریف کے دروس اپنے والد گرامی کی باکمال تدریس کی وراثت کا مظہر اوربین ثبوت ہے ۔ 
ہمارے خیال میں باکمال تدریس کے تین ارکان ہیں:۱:-درس کی اچھی تیاری ، ۲:-اچھی تعبیر وتفہیم، ۳:-درس کی مداومت و مواظبت۔ اس کما ل کے ساتھ تدریس والے علمائے کرام کی ہمارے اداروں میں کوئی کمی نہیں ہے ، مگر یہ کمال ان مدرسین کے لیے چیلنج کا درجہ رکھتا ہے جو تدریس کے ساتھ ساتھ تحریکی ذہن کے حامل اور میدانِ عمل کی کسی سرگرمی سے وابستہ ہوں۔ اس چیلنج کے سامنے عزم و استقلال کی چٹان اور برکت و روحانیت کے بلاخیز طوفان کے طور پر صرف اور صرف شیخ العرب والعجم شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نوراللہ مرقدہٗ کانام نامی اسم گرامی لیاجاسکتا ہے، یا پھر ان کے فکری پیروکاروں میں مفکرِ اسلام حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ  اور حضرت مولانا عبدالحق رحمہ اللہ  (اکوڑہ خٹک) جیسی ہستیاں بمشکل گنوائی جاسکتی ہیں۔
مگرحضرت مولانا ڈاکٹر عادل خان شہید  رحمہ اللہ  کا جتنامختصر مشاہدہ میں نے کیا وہ میدانِ عمل کے مردِ میدان ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے ان اکابر کی برکت وروحانیت جیسے اس کمال سے بھی محظوظ تھے۔ 
حضرت ڈاکٹر محمد عادل خان شہید  رحمہ اللہ کی ایک منفرد خصوصیت یہ تھی کہ آپ روایت وتصلُّب کے کوہِ گراں تھے۔ آپ کو وطن عزیز کے ہر شعبے اور طبقے تک رسائی اور شناسائی میسر رہی، دنیا کے سینکڑوں ممالک میں مختلف مجالس کی رونق اور رعنائی بنتے رہے، آسودہ ممالک کی سکونت وشہریت بھی حاصل رہی ، لیکن آپ کی طبیعت ،مزاج ،وضع قطع اور فکر وتصلُّب پر کوئی آنچ نہیں آئی۔ یہ آپ کے والد گرامی کے حسنِ تربیت کا ثمرہ ہے ، اورآپ کی فکری صلابت وسلامتی کی دلیل بھی ہے۔
حالانکہ انگریزی دورِ غلامی میں پیدا ہونے والے بڑے بڑے لوگ احساسِ کمتری اور مرعوبیت کے ہاتھوں مجبور ہوکر ایسے مواقع پر فکر وعمل کی موروثی استقامت سے محروم ہوجایا کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ کسی مناسبت سے ٹی ۔ وی ایکٹرز نوخیز علماء اور سیلفی ملاؤں کا تذکرہ چل نکلا، تو حضرت ڈاکٹر صاحبؒ فرمانے لگے: میں نے دنیا کے کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں ، آسائش و آرائش کے بہتیرے مواقع قریب سے دیکھے ہیں، مگر طبیعت و فطرت کی اس تذکیر نے ہمیشہ مجھے بیدار رکھا کہ جو عافیت وراحت اپنے اکابر کے فکری تصلُّب اور عملی استقامت میں اللہ نے رکھی ہے ، اس سے بڑی نعمت اور غنیمت کوئی اور چیز نہیں ہے۔ ہمیں ٹی ۔ وی، سیلفی اور تصویر کے دلدادہ مولویوں پر حیرت ہوتی ہے کہ یہ حضرات کس ندیدہ پن کا شکار ہیں، اورہم الحمدللہ حتی الوسع اجتناب کی کوشش کرتے ہیں، جہاں اجتناب نہ ہوسکے تو ناگواری اور نکیر کی ایمانی رمق کو زندہ رکھنے کی کوشش بہرحال کرتے ہیں۔
حضرت کے اس موروثی فکری تصلُّب اور عملی استقامت کا مشاہدہ مختلف مجالس میں نصیب ہوا، اور آپ کے ادارے (جامعہ فاروقیہ )کے علماء و طلباء کو اس تصلُّب واستقامت کا بہترین نمونہ پایا۔ حضرت شیخ  ؒکی طرح آپ کے جنازے اور تعزیت کے اجتماعات میں بھی اس تصلُّب و استقامت کے عملی مظاہر مشاہد ہوئے۔
ایک مرتبہ وفاق المدارس کی مجلسِ عاملہ کے ایک اجلاس میں ایک صاحب نے مجلس کے اعلامیہ کے اظہار کے لیے ویڈیوپیغام کا مشورہ دیا تو حضرت ڈاکٹر صاحب  رحمہ اللہ نے ان صاحب کو اپنے والد گرامی کے لب ولہجے میں مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایاکہ: ویڈیو اور میڈیائی عمل وفاق کے اجلاسوں میں نہیں ہوا کرتا، آپ یہ غلط طرح نہ ڈالیں۔ 
حضرت ڈاکٹر صاحب  رحمہ اللہ میں تصلُّب وروایت کی موروثی شناخت پر مستزاد آپ کی شخصیت میں دینی حمیت، اخلاقی جرأت اور عالمانہ بے باکی کا وصف بھی کمال درجہ کا تھا،دینی اجتماعات ہوں  یا مشاورتی مجالس یا انتظامی اجلاسات ، وہ اپنا موقف بڑی جرأت وحمیت ، دلیری، مگر عمدہ سلیقے اور شائستہ انداز میں پیش کرنے کا منفرد ملکہ رکھتے تھے، جس کی بدولت ایسی تمام مجالس میں آپ اپنے والد گرامی والی مرکزیت واہمیت کا رتبہ پالیا کرتے تھے۔ حق گوئی و بے باکی میں قبائلی پختون جگرے کے مالک تھے، جب کہ سلیقہ مندی اور شائستہ گفتاری میں دہلوی ولکھنوی آداب سے آراستہ تھے۔ ہر طبقے کی ہر مجلس میں طبقاتی لحاظ اور مجلس کے آداب کی جو شناوری آپ کو نصیب تھی، اس میں آپ کے معاصرین میں سے شاید ہی کوئی آپ کا ساجھی یا ثانی ہو۔ مگر یہ اُمت بانجھ نہیں ہے ،اللہ تعالیٰ یہ کمالات یا ان کا کچھ حصہ کسی بھی اپنے بندے میں پیدافرماسکتے ہیں اور ان کا میدانِ عمل اور مجالِ فکر خالی نہیں رہے گا، ان شاء اللہ۔
ڈاکٹر عادل خان شہید  رحمہ اللہ میدانِ عمل کے کرّار و فرّار بھی تھے، مگر اس کر وفر کے باجود علم وتحقیق جیسے یکسوئی طلب کاموں میں بھی اپنے علمی و تحقیقی مزاج کے اسلاف کے پیروکار اور اپنے معاصر محقق علماء کے ہم سفر بھی تھے، آپ کی کئی علمی وتحقیقی کاوشیں مختلف زبانوں میں منصہ شہود پر آچکی ہیں۔ بعض بڑے علمی وتحقیقی منصوبے آپ کے زیرِ تحقیق تھے ، جن میں فتاویٰ عالمگیری جیسے فقہی ذخیرے کی ترتیبِ نو اور ترتیبِ مفید کے درپے تھے ۔ آپ کے بعض تلامذہ اور رفقاء اس کارِخیر کوآپ کا ذخیرۂ آخرت اور صدقۂ جاریہ بنانے میں دل و جان سے کوشش کررہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کے جملہ علمی و تحقیقی کاموں کو تکمیل آشنا کرنے میں آپ کے رفقاء کو خاص توفیق نصیب فرمائے ۔
گزشتہ دنوں توہینِ صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین)کے جرائم کے ازالے اور انسداد کے لیے آپ کا کردار حضرت مدنی ،حضرت لکھنوی، حضرت مفتی احمدالرحمن اور حضرت شیخ سلیم اللہ خان ( رحمۃ اللہ علیہم ) کی خلافت، نیابت اور مسلکی حمیت کا مظہر تھا۔ اندھے فتنوں کے اس دور میں آپ مسلکِ دیوبند کے حمیت آمیز اعتدالی مؤقف کے مؤثر و معتدل ترجمان کے طور پر سامنے آئے، اور آپ نے عزیمت و حمیت اور توسط و اعتدال میں مسلک دیوبند کی خوب خوب ترجمانی فرمائی، آپ کی شخصیت کی اس مرکزیت کی اپنے حلقے میں قدر دانی سے قبل ہمارے دشمنوں کو اس کی اہمیت کا شاید اندازہ ہوچکا تھا، اس لیے مؤرخہ ۱۰ ؍اکتوبر ۲۰۲۰ء کوآپ کے معصوم اور نازک چہرے کو آہنی و آتشی گولیوں کا نشانہ بنایا گیا، جسے ایک مقامی اخبار نے خلافِ معمول بہت ہی مناسب عنوان دیا:’’ظالم نے عادل کو شہید کردیا‘‘، لیکن ظالموں کو یہ ادراک کبھی ہوا ہی نہ ہوگا کہ ظلم سے عادل مرتاہے، مگر عدل ہمیشہ کے لیے زندگی آشنا ہوجایا کرتا ہے۔ تاریخ عالم گواہ ہے کہ جس مشن میں شہیدوں کا خون شامل ہوجائے وہ مشن نہ مرتاہے، نہ دبتا ہے، نہ رکتا ہے، پس ہماری تکلیف عارضی ہے اور تمہاری تسکین وقتی ہے۔

اللّٰہم اغفرلہ وارحمہ وألحقہ بآبائہ الصالحین
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے