بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1441ھ- 09 اگست 2020 ء

بینات

 
 

عدالتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کا مفہوم

عدالتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کا مفہوم

 

    اہل السنۃ و الجماعۃ کا یہ اجماعی عقیدہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اگرچہ انبیاء کرام علیہم السلام کی طرح معصوم نہیں ہیں، مگر وہ عادل، مُتْقِن، متقی اور انتہا درجہ پرہیزگار ہیں۔ آسمانِ دیانت و تقویٰ کے درخشندہ ستارے ہیں۔ فسق و فجور جن کے قریب بھی نہیں پھٹکا، چنانچہ خداوند ِ قدوس نے قرآن کریم میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو مخاطَب کرکے فرمایا:
’’وَلٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ إِلَیْکُمُ الْإِیمَانَ وَزَیَّنَہٗ فِيْ قُلُوْبِکُمْ وَکَرَّہَ إِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالْعِصْیَانَ أُولٰئِکَ ہُمُ الرَّاشِدُوْنَ۔‘‘ (الحجرات:۷)
’’لیکن اللہ نے تمہارے دل میں ایمان کی محبت ڈال دی ہے اور اُسے تمہارے دلوں میں پرکشش بنادیا ہے، اور تمہارے اندر کفر کی اور گناہوں کی اور نافرمانی کی نفرت بٹھا دی ہے، ایسے ہی لوگ ہیں جو ٹھیک ٹھیک راستے پر آچکے ہیں۔‘‘
    نیز ارشادِ باری ہے:
’’أُولٰئِکَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰہُ قُلُوْبَہُمْ لِلتَّقْوٰی لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَأَجْرٌ عَظِیْمٌ۔‘‘(الحجرات:۷)
ترجمہ: ’’یہ وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے خوب جانچ کر تقویٰ کے لیے منتخب کرلیا ہے، ان کو مغفرت بھی حاصل ہے اور زبردست اجر بھی۔‘‘
’’علم العقائد‘‘ کی معروف کتاب ’’المسامرۃ شرح المسایرۃ‘‘ میں ہے: 
’’و اعتقاد أھل السنۃ و الجماعۃ تزکیۃ جمیع الصحابۃ رضي اللّٰہ عنہم وجوبًا بإثبات العدالۃ لکل منہم و الکف عن الطعن فیہم و الثناء علیہم ۔۔۔۔۔۔ و ماجریٰ بین علي و معاویۃ رضي اللّٰہ عنہما ۔۔۔۔۔۔۔ کان مبنیاً علی الاجتہاد من کل منہما لامنازعۃ من معاویۃ رضي اللّٰہ عنہ في الإمامۃِ۔‘‘ (المسامرۃ شرح المسایرۃ، ص: ۲۶۹، ۲۷۰)
ترجمہ: ’’اہل السنۃ و الجماعۃ کا عقیدہ تمام صحابہ کرام( رضی اللہ عنہم ) کا تزکیہ یعنی گناہوں سے پاکی بیان کرنا ہے، اس طرح کہ ا ن سب کے لیے عدالت ثابت کرنا اور ان کے بارے طعن سے رُکنا اور ان کی مدح و ثنا کرنا ہے۔ اور حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین جو کچھ معاملہ پیش آیا، یہ دونوں حضرات کے اجتہاد کی بنا پر تھا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے حکومت و امامت کا جھگڑا نہیں تھا۔‘‘
امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’ الصّحابۃؓ کلُّہم عدول من لابس الفتن وغیرہم بإجماع من یعتد بہ، قال تعالٰی: (وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَّسَطًا) (البقرۃ:۱۴۳) الآیۃ، أي عدولًا۔ وقال تعالٰی: (کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ) (آل عمران:۱۱۰)، والخطاب فیہا للموجودین حینئذ۔ وقال صلی اللّٰہ علیہ وسلم: خیر النّاس قرني ، رواہ الشیخان۔ قال إمام الحرمین: والسبب في عدم الفحص عن عدالتہم: أنہم حملۃ الشریعۃ۔‘‘ (تدریب الراوی، ص:۴۹۲، ۴۹۳، قدیمی کتب خانہ، کراچی)
’’باجماعِ معتبر علماء تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عادل ہیں، مبتلائے فتن ہوئے ہوں یا نہ ہوئے ہوں، (دلیل ) ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے:’’ وَکَذَلِکَ جَعَلْنَاکُمْ أُمَّۃً وَّسَطًا‘‘ کہ ’’ہم نے تمہیں اُمت وسط یعنی عادل بنایا۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’کُنْتُمْ خَیْرَ أُمَّۃٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ‘‘ کہ ’’تم بہترین اُمت ہو جو لوگوں کے لیے نکالے گئے ہو۔‘‘ ان آیات میں خطاب اُس وقت موجود حضرات (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ) کو ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگوں میں بہترین میرا زمانہ ہے۔ امام الحرمین نے فرمایا کہ: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت سے بحث و جستجو نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ حاملینِ شریعت و ناقلینِ شریعت ہیں۔‘‘
 مشہور حنفی محقق ملاقاری رحمۃ اللہ علیہ اِرقام فرماتے ہیں:
’’ذہب جمہور العلماء إلٰی أن الصحابۃَ رضي اللّٰہ عنہم کلُّہم عدول قبل فتنۃ عثمانؓ و عليؓ وکذا بعدہا ولقولہٖ علیہ الصلاۃ والسلام : ’’ أصحابي کالنجوم بأیّہم اقتدیتم اہتدیتم۔‘‘ (شرح الفقہ الأکبر لملاعلی القاریؒ، ص:۶۳)
ترجمہ: ’’جمہور علماء کا مذہب یہ ہے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عادل (پاکباز، متقی) ہیں، حضرت عثمان و علی رضی اللہ عنہما کے زمانوں میں وقوع پذیرفتنوں سے پہلے بھی اور اُس کے بعد بھی، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میرے صحابہ رضی اللہ عنہم ستاروں کی مانند ہیں، ان میں جس کی پیروی کرو گے ہدایت پاجاؤ گے۔‘‘
علّامہ ابن حجر مکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’قال ابن الصلاح والنووي الصحابۃؓ کلہم عدول وکان للنبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم مائۃ ألف وأربعۃ عشر ألف صحابي عند موتہٖ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، والقرآن والأخبار مصرّحان بعدالتہم وجلالتہم ولما جری بینہم محامل۔‘‘  (الصواعق المحرقۃ علی أہل الرفض والضلال والزندقۃ، ج:۲، ص: ۶۴۰، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)
’’ابن صلاحؒ اور امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ: تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عادل و متقی تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے وقت ایک لاکھ چودہ ہزار صحابہؓ تھے،قرآن کریم اور احادیث ِ طیبہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت و تقویٰ اور جلالت ِ شان کی صراحت و وضاحت کررہے ہیں، اور ان کے باہمی مشاجرات و معاملات کے محمل اور تاویلات موجود ہیں۔‘‘
اس لیے اہل السنۃ و الجماعۃ کا بجاطورپر موقف یہی ہے کہ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نہ صرف روایتِ حدیث میں عادل و پاکباز ہیں، بلکہ تمام معاملاتِ زندگی اور اعمالِ حیات میں بھی عادل و متقی اور پرہیزگار ہیں،تاہم معصوم نہیں ہیں کہ ان سے کوئی خطا اور گناہ سرزد ہی نہ ہو۔ معصوم عن الخطا صرف انبیاء کرام علیہم السلام کی ذواتِ قدسیہ ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم محفوظ عن الخطا ہیں، یعنی یا تو اللہ تبارک و تعالیٰ ان سے خطا و معصیت کا صدور ہونے نہیں دیتے، اور اگر کسی ایزدی حکمت وربانی مصلحت کی بنا پر کسی معصیت و گناہ کا صدور ہو تو خداوند ِ قدوس صحابیؓ کی زندگی میں ہی اس کا ازالہ و تدارک کروادیتے ہیں کہ صحابیؓ جب دنیا سے جاتا ہے تو بموجب ِ وعدۂ خداوندی ’’وَکُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی‘‘ جنتی بن کر دنیا سے رخصت ہوتا ہے، اس لیے ’’الصّحابۃؓ کُلُّہم عدول‘‘ کا یہ مطلب لینا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم انبیاء ِ کرام علیہم السلام کی مانند معصوم ہیں، نادرست اور غلط ہے، عصمت‘ خاصۂ انبیاء ہے، تاہم دوسر ی طرف یہ کہنا کہ صحابیؓ عام زندگی میں اس مفہوم میں بھی عادل نہیں ہوتا جو اہل السنۃ کے ہاں متفق علیہ و مسلَّم ہے، تصریحاتِ اہل السنۃ وتشریحات ِ اکابر علماء ِ دیوبند کے مطابق و موافق نہیں ہے۔ اس کا واضح مطلب تو یہ ہوا کہ صحابیؓ فاسق ہوسکتا ہے، کیونکہ عدالت اور فسق میں تباین و تضاد ہے، عادل ہے تو فاسق نہیں، فاسق ہے تو عادل نہیں، اور عادل نہیں تو فاسق ہے۔
مگر بہت سے گم راہ نظریات رکھنے والے لوگوں کا نظریہ اور اعتقاد یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم روایت ِ حدیث میں تو عادل ہیں، مگر دیگر احوالِ زندگی میں عادل اور متقی نہیں ہیں۔ درحقیقت اس اعتراض اور نقطۂ نظر کا مبدأ اور منشأ سیدنا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو غیرعادل اور فاسق و فاجر اور باغی و طاغی تک قرار دینا ہے، اسی ضرورت سے یہ نظریہ ایجاد کرنا پڑا۔ 
چنانچہ مودودی صاحب اپنی کتاب ’’خلافت و ملوکیت‘‘ میںلکھتے ہیں:
’’میں ’’الصَّحَابۃؓ کلُّہُم عدول‘‘ (صحابہؓ سب راست باز ہیں) کا یہ مطلب نہیں لیتا کہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم بے خطا تھے، اور ان میں کا ہر ایک ہر قسم کی بشری کمزوریوں سے بالا ترـتھا، اور ان میں سے کسی نے کبھی کوئی غلطی نہیں کی ہے، بلکہ میں اس کا مطلب یہ لیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرنے یا آپ کی طرف کوئی بات منسوب کرنے میں کسی صحابیؓ نے کبھی راستی سے ہرگز تجاوز نہیں کیا ہے۔‘‘ 
 (خلافت و ملوکیت، ص:۳۰۳، ط:ادراہ ترجمان القرآن، لاہور، ۲۰۱۹ء)
موجودہ دور میں بھی بعض ایسے نظریات ِ فاسدہ و خیالات ِ کاسدہ کے حامل لوگ پیدا ہوچکے ہیں ۔اس نظریہ کا علماء ِ امت نے ابطال اور رَد فرمایا ہے، چنانچہ مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب‘ مودودی صاحب کے اس موقف کا ردِ بلیغ کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
’’اگر اس کتاب (خلافت و ملوکیت) کے ان مندرجات کو درست مان لیا جائے جو خاص حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے متعلق ہیں تو اس سے عدالت ِ صحابہ رضی اللہ عنہم کا وہ بنیادی عقیدہ مجروح ہوتا ہے جو اہلِ سنت کا اجماعی عقیدہ ہے اور جسے مولانا مودودی صاحب بھی اصولی طور پر درست مانتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔ مولانا نے ’ ’الصحابۃؓ کلہم عدول‘‘ (تمام صحابہ رضی اللہ عنہم عادل ہیں) کو اصولی طور پر اپنا عقیدہ قرار دے کر یہ لکھا ہے کہ اس عقیدے کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوسکتی، بلکہ اس کا صحیح مطلب یہ ہے کہ روایتِ حدیث میں انہوں نے پوری دیانت اور ذمہ داری سے کام لیا ہے۔… لیکن اس گفتگو میں مولانا نے اس بحث کو صاف نہیں فرمایا، عقلی طور پر عدالتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کے تین مفہوم ہوسکتے ہیں:
۱:۔۔۔۔۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم معصوم اور غلطیوں سے بالکل پاک ہیں۔
۲:۔۔۔۔۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنی عملی زندگی میں (معاذ اللہ) فاسق ہوسکتے ہیں، لیکن روایتِ حدیث کے معاملے میں بالکل عادل ہیں۔
۳:۔۔۔۔۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نہ تو معصوم تھے اور نہ فاسق۔ یہ ہوسکتا ہے کہ ان میں سے کسی سے بعض مرتبہ بتقاضائے بشریت ’ ’دو ایک یا چند‘‘ غلطیاں سرزد ہوگئی ہوں، لیکن تنبُّہ کے بعد انہوں نے توبہ کرلی اور اللہ نے انہیں معاف فرمادیا، اس لیے وہ ان غلطیوں کی بنا پر فاسق نہیں ہوئے۔ چنانچہ یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی صحابیؓ نے گناہوں کو اپنی ’’پالیسی‘‘ بنالیا ہو، جس کی وجہ سے اسے فاسق قرار دیا جاسکے۔ ۔۔۔۔۔۔ پہلے مفہوم کو تو انہوں نے صراحتاً غلط کہا ہے اور جمہور اہل سنت بھی اسے غلط کہتے ہیں۔ اب آخری دو مفہوم رہ جاتے ہیں، مولانا نے یہ بات صاف نہیں کی کہ ان میں سے کون سا مفہوم وہ درست سمجھتے ہیں۔ مولانا نے یہ بات صاف نہیں کی کہ ان میں سے کون سا مفہوم درست ہے؟ اگر ان کی مراد دوسرا مفہوم ہے، یعنی یہ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین صرف روایت ِ حدیث کی حد تک عادل ہیں، ورنہ اپنی عملی زندگی میں وہ معاذ اللہ! فاسق و فاجر بھی ہوسکتے ہیں، تو یہ بات ناقابلِ بیان حد تک غلط اور خطرناک ہے۔ اس لیے کہ اگر کسی صحابیؓ کو فاسق و فاجر مان لیا جائے تو آخر روایت ِ حدیث کے معاملہ میں اسے فرشتہ تسلیم کرنے کی کیا وجہ ہے؟ جو شخص اپنے ذاتی مفاد کے لیے جھوٹ، فریب، رشوت، خیانت اور غداری کا مرتکب ہوسکتا ہے، وہ اپنے مفاد کے لیے جھوٹی حدیث کیوں نہیں گھڑ سکتا؟۔ ۔۔۔۔۔۔ اسی لیے تمام محدثین اس اُصول کو مانتے ہیں کہ جو شخص فاسق و فاجر ہو‘ اس کی روایت صحیح نہیں ہوتی۔ ورنہ اگر روایات کو مسترد کرنے کے لیے یہ شرط لگادی جائے کہ راوی کا ہر ہر روایت میں جھوٹ بولنا ثابت ہو تو شاید کوئی بھی روایت موضوع ثابت نہیں ہوسکے گی اور حدیث کے تمام راوی معتبر اور مستند ہوجائیں گے، خواہ وہ عملی زندگی میں کتنے ہی فاسق و فاجر ہوں۔ اور اگر مولانا مودودی صاحب عدالت ِ صحابہ رضی اللہ عنہم کو تیسرے مفہوم میں درست سمجھتے ہیں، جیساکہ اوپر نقل کی ہوئی ایک عبارت سے معلوم ہوتا ہے، سو یہ مفہوم جمہور اہل سنت کے نزدیک درست ہے، لیکن حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر انہوں نے جو اعتراضات اپنی کتاب میں کیے ہیں، اگر اُن کو درست مان لیا جائے تو عدالت کا یہ مفہوم ان پر صادق نہیں آسکتا۔  (حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور تاریخی حقائق، ص:۱۳۹ تا ۱۴۲، ط: معارف القرآن، کراچی، ۲۰۱۶ء)
یہی بحث حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب نے دوسرے باب ، صفحہ:۲۵۴ پر بھی کی ہے۔مولانا محمد ثاقب رسالپوری اسی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’دراصل مولانا مودودی صاحب نے عدالتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کا جو مفہوم بیان کیا ہے، اس کا حاصل یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم روایتِ حدیث کی حدتک تو عادل ہوسکتے ہیں، لیکن ز ندگی کے تمام معاملات میں ان سے بعض کام عدالت کے منافی صادر ہوسکتے ہیں۔ ‘‘ (حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ اور تاریخی روایات، ص۱۶۳، مکتبہ معارف القرآن، کراچی، ۲۰۱۱ء)
حضرت مفتی اعظم پاکستان مولانا محمد شفیع عثمانی دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ اس نظریہ کی تردید کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:
’’اور بعض علماء نے جو عدمِ عصمت اور عمومِ عدالت کے تضاد سے بچنے کے لیے ’’عدالت‘‘ کے مفہوم میں یہ ترمیم فرمائی کہ یہاں ’’عدالت‘‘ سے مراد تمام اوصاف و اعمال کی عدالت نہیں، بلکہ روایت میں کذب نہ ہونے کی عدالت مراد ہے،یہ لغت و شرع پر ایک زیادتی ہے، جس کی کوئی ضرورت نہیں۔‘‘ (مقامِ صحابہؓ، ص:۶۰)
محققِ اہل السنۃ مولانا مہر محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ (میانوالی) لکھتے ہیں:
’’اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بلااستثناء، دروغ گوئی خصوصاً کذب فی الروایۃ سے پاک و صاف تھے اور کسی سے بھی کذب کا صدور نہیں ہوا اور بایں معنی عادل ہونا بھی ان کی منقبت کی واضح دلیل ہے،لیکن عدالت ِ صحابہ رضی اللہ عنہم کو صرف اس معنی میں منحصر کرنا اور اسے محدثین کی مراد بتانا ناقابلِ تسلیم اور لائقِ مناقشہ ہے، کیونکہ بعض محدثین نے عدالت کی تفسیر میں جھوٹ سے بچنا لکھا ہے تو اس کا یہ معنی ہرگز نہیں کہ ان محدثین کے نزدیک صحابہ رضی اللہ عنہم روایت میں عمداً کذب بیانی کے سواباقی سب اُمور اور شعبہ ہائے حیات میں غیرعادل حتیٰ کہ ہرقسم کے کبیرہ گناہوں تک کا ارتکاب کرتے تھے، جیسے صاحبِ ’’خلافت و ملوکیت‘‘ اور ان کے حواریوں کا خیال ہے، بلکہ جھوٹ سے بچنے کی تصریح کا مطلب یہ ہے کہ بایں معنی صحابہ رضی اللہ عنہم کی عدالت اتنی قطعی اور اٹل ہے جیسے انبیاء علیہم السلام کی گناہوں سے عصمت کہ اس میں استثناء یا شذوذ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ کسی عالم نے آج تک یہ لکھا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جھوٹ بولتے تھے، بخلاف چند اور گناہوں کے کہ چند حضرات کی ان سے عصمت کا دعویٰ نہیں کیا جاسکتا۔ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ہر فرد انبیاء علیہم السلام کی طرح قطعی معصوم نہیں کہ صدور معصیت محال ہی ہو، ہم نے اپنی کتاب میں یہی موقف اختیار کیا ہے۔ ۔۔۔۔۔ عدالت ِصحابہ رضی اللہ عنہم صرف روایت عن الرسول میں منحصر نہیں، بلکہ ان کی سیرت کے ہر پہلو میں عام ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔ محدثین جو عام رُواۃ کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ عادل ہیں تو یہ اس کی پوری سیرت کی پاکیزگی پر شہادت ہوتی ہے کہ وہ کبائر سے مجتنب اور صغائر پر غیر مصر ہیں، پھر اسی بحث میں وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق کہتے ہیں : ’’الصّحابۃؓ کُلُّہم عدول‘‘ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سب کے سب عادل ہیں، تو اب اس عدالت کو تجنُّب عن الکذب میں مخصوص نہیں کیا جائے گا، ورنہ لازم آئے گا کہ غیرصحابیؓ کی عدالت صحابیؓ سے افضل ہو، وھو باطل۔ ……… علماء اصولِ حدیث اور محدثین ’’کُلُّہم عدول‘‘ کی دلیل ذکر کرتے ہوئے یہ جملہ فرماتے ہیں: ’’زَکّیاھم و عدّلاھم‘‘ کیونکہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا تزکیہ کیا ہے، اور ان کو عادل قرار دیا ہے۔ خدا اور رسول کا یہ تزکیہ اور تعدیل صرف کذب سے اجتناب میں نہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم دیگر گناہوں کے مرتکب ہوتے رہتے تھے، بلکہ یہ مجموعی طورپر ان کے اعمال و اخلاق کی عیوب سے طہارت اور آلودگیوں سے اجتناب پر شہادت ہے، تو معلوم ہوا محدثین کے نزدیک بھی عدالت میں تعمیم ہے۔ ۔۔۔۔۔۔ بہرحال! تزکیہ، نزاہت، قصد ِ معصیت سے تبریہ ان کی شان کی گناہوں سے بلندی جیسے واضح الفاظ ہمارے مؤید ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت عام ہے، اور وہ بالعموم سب گناہوں اور معاصی سے محفوظ ہیں، ایسی صراحتوں کے باوجود کیا اب بھی محدثین پر یہ اتہام لگایا جائے گا کہ ان کے نزدیک صحابہ رضی اللہ عنہم تعمدِ کذب فی الروایۃ تک عادل تھے، باقی ہر قسم کے کبائر اور معاصی کرتے تھے، اور ذنوب ان سے معدوم نہیں ہوئے تھے؟!۔‘‘ (عدالت ِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، ص:۷۰ تا ۷۵، طبع ہفتم)
یہ ایک بالکل بدیہی اور سادہ سی سے بات ہے، اگر یہ موقف تسلیم کرلیا جائے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عام زندگی میں عاد ل نہیں، صرف روایتِ حدیث میں عادل ہیں ، اور ان کی قبولِ روایت کے لیے عام زندگی میں عدالت ضروری نہیں تو اس سے نہ صرف یہ اصولِ حدیث میں برائے قبولِ روایت عدالت کی شرط ایک مذاق اور مضحکہ خیز قاعدہ بن کر رہ جائے گا، بلکہ اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے علاوہ دیگر رواۃ تو عام معاملات ِ حیات میں بھی عادل ہوں اور صحابیِ رسول رضی اللہ عنہ نعوذ باللہ! عادل نہ ہو، جیسا کہ حضرت مولانا مہر محمد صاحب میانوالوی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ذکر فرمایا ہے۔
بعض حضرات نے حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف بھی ایسی باتوں کی نسبت کی ہے، جس کے جواب میں مفتی اعظم پاکستان مولانا محمد شفیع عثمانی دیوبندی رضی اللہ عنہم نے (مقامِ صحابہؓ، ص:۶۰، ۶۱ میں) یہ تصریح فرمائی ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ اولاً: شاہ صاحب کی طرف ان عبارات کی نسبت مشکوک ہے۔ ثانیاً: اگر تسلیم کرلیا جائے کہ یہ حضرت شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی عبارات ہیں تو خلاف ِ جمہور ہونے کی وجہ سے متروک و مردود ہیں۔ دوسری طرف حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی عدالت و تقویٰ پر علماء امت کی تصریحات موجود ہیں، ’’مشتے نمونہ از خروارے‘‘ درج ذیل عبارت ملاحظہ فرمائیں۔ شارح صحیح مسلم امام نووی رحمۃ اللہ علیہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی عدالت پر مہرِ اثبات ثبت کرتے ہوئے میں فرماتے ہیں:
’’وأما معاویۃ رضي اللّٰہ عنہ فہو من العَدُول الفضلاء والصَّحابۃ النُّجباء رضي اللّٰہ عنہ وأما الحروب التي جرت فکانت لکل طائفۃ شبہۃ اعتقدت تصویب أنفسہا بسببہا وکلہم عدول رضي اللّٰہ عنہم ومتأولون في حروبہم وغیرہا ولم یخرج شيء من ذلک أحدا منہم عن العدالۃ لأنہم مجتہدون اختلفوا في مسائل من محل الاجتہاد کما یختلف المجتہدون بعدہم في مسائل من الدماء وغیرہا ولا یلزم من ذلک نقص أحد منہم ۔۔۔۔۔۔۔ فکلہم معذورون رضي اللّٰہ عنہم ولہٰذا اتفق أہل الحق ومن یعتد بہٖ في الإجماع علی قبول شہاداتہم وروایاتہم وکمال عدالتہم رضي اللّٰہ عنہم أجمعین۔‘‘ (شرح النووی علی الصحیح لمسلم، کتاب الفضائل، کتاب فضائل الصحابۃ رضی اللہ عنہم ، ۱۵/۱۴۹، دار إحیاء التراث العربی،بیروت)
ترجمہ: ’’بہرحال سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تو وہ عادل ، صاحبِ فضیلت اور معزز صحابی ہیں، جہاں تک ان محاربات و مشاجرات کا تعلق ہے جو اُن حضرات کے مابین پیش آئے تو وہاں ہر ایک کو کوئی اشتبا ہ و التباس تھا، جس کی وجہ سے ہر ایک نے خود کو درست سمجھا ، جبکہ وہ سب کے سب عادل ہیں، اوران کے مخاصمات و باہمی منازعات میں ان کے پاس تاویل موجود ہے، ایسے کسی معاملہ نے انہیں عدالت سے نہیں نکالا، کیونکہ وہ مجتہد تھے، (جس کا نتیجہ یہ ہے کہ) محلِ اجتہاد میں کچھ مسائل میں ان کا اختلاف ہوگیا، جیسا کہ ان کے بعد بھی مختلف مسائل میں مجتہدین کا اختلاف ہوتا رہتا ہے، اس سے ان میں سے کسی کی شان میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔۔۔ لہٰذا یہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم معذور ہیں اور اسی وجہ سے اہلِ حق اور ان لوگوں کا کہ اجماع کے باب میں جو لائقِ اعتبار وقابلِ شمار ہے، کا حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی گواہیوں اور روایات کے قبول ہونے نیز کمالِ عدالت و تقویٰ پر اتفاق اور اجماع ہے ۔‘‘
لہٰذا حضرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سمیت تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نہ صرف روایتِ حدیث میں بلکہ تمام امورِ حیات و معاملاتِ زندگی، احوال و آثار اور اوصاف و خصائل میں عادل اور متقی و پرہیزگار ہیں۔ یہ نظریہ کہ ’’صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین صرف روایت ِ حدیث میں عادل ہیں‘‘ خلاف ِ اہل السنۃ و الجماعۃ باطل اور غلط ہے۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے