بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

2 ذو الحجة 1443ھ 02 جولائی 2022 ء

بینات

 
 

صدقات وعطیات کی تقسیم کے رہنما شرعی اصول

صدقات وعطیات کی تقسیم کے رہنما شرعی اصول

 

زکاۃ اسلام کا تیسرا رکن ہے، قرآن کریم میں بیشتر مقامات پر نماز اور زکاۃ دونوں کا ساتھ ذکر کیاگیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان دونوں کا مقام اور درجہ قریب قریب ہے ۔ زکاۃ عبادت بھی ہے، ضرورت مندوں اور پریشان حالوں کی اعانت کی بنیاد پر اخلاقیات کا اہم باب بھی، نیز حبِ مال اور دولت پرستی کی ہوس جیسے روحانی امراض کی تطہیر اور تزکیہ کا ذریعہ بھی۔
مسلمانوں پر زکاۃ کے علاوہ بھی مالی حقوق عائدہوتے ہیں، فقط زکاۃ کی ادائیگی سے پوری ذمہ داری ختم نہیں ہوتی، البتہ یہ دیگر حقوق نہ دائمی ہیں نہ ان کے لیے کوئی نصاب مقرر ہے، بلکہ جب اور جتنی ضرورت ہو اس کاانتظام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے ۔ 
زکاۃ، صدقات اور عطیات کے سلسلہ میں شریعت نے چند ہدایات دی ہیں، ان کا لحاظ رکھنا مسلمانوں پر لازم ہے، ذیل میں ان ہی شرعی اصولوں کو مختصراً ذکر کیا جاتا ہے:

زکاۃ کی ادائیگی سے متعلق بنیادی اُصول 

٭   جو کچھ دوسروں پر خرچ کیاجائے، اس میں خالص اللہ کی رضا مقصود ہو،کسی بھی قسم کا بدلہ چاہنا، نام ونمود، ریا و دکھلاوا، احسان جتلانا یا لوگوں کے سامنے اس کاذکر کرنا ثواب کے ضیاع کا باعث ہے اور سخت گناہ کی بات ہے۔
٭   عمومی اَحوال میں صدقاتِ واجبہ، جیسے زکاۃ، فطرانہ وغیرہ ظاہر کرکے دینے کی اجازت ہے، البتہ صدقاتِ نافلہ پوشیدہ طور پر دینے چاہئیں، تاکہ ریا کاری پیدا نہ ہو۔ بعض مواقع پر صدقۂ واجبہ کا اظہار ضروری اور بعض مواقع پر اِخفا لازم ہوگا، اسی طرح بعض اوقات دوسروں کی ترغیب کی نیت سے یا کسی اور مصلحت کے پیشِ نظر نفلی صدقہ ظاہر کرکے بھی دیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ ریاکاری پیدا ہونے کا خطرہ نہ ہو۔ الغرض اَحوال کے اعتبار سے اس کی افضلیت بدل سکتی ہے۔ 
٭   زکاۃ کے سال کا حساب قمری مہینے سے کرنا چاہیے، نہ کہ شمسی تاریخوں سے، شمسی سال قمری سال سے تقریباً گیارہ دن بڑا ہوتا ہے، تاریخ کی تبدیلی سے ملکیت میں موجود مالیت میں کمی بیشی ہوسکتی ہے، نتیجتاً زکات کی مقررہ مقدار میں کمی بیشی کا امکان رہتاہے، جو زکاۃ ذمہ میں باقی رہ گئی تو مؤاخذہ ہوسکتاہے۔
٭   جس مسلمان کے پاس اس کی بنیادی ضرورت ( یعنی رہنے کا مکان، گھریلوبرتن، کپڑے وغیرہ)سے زائد نصاب کے بقدر (یعنی صرف سونا ہو تو ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی موجودہ قیمت کے برابر) مال یا استعمال سے زائد سامان موجود نہ ہو، وہ زکاۃ کا مستحق ہے۔
٭   زکاۃ کی ادائیگی کے لیے تملیک ( کسی مستحقِ زکات کو مالک بنانا) شرط ہے۔ جہاں تملیک نہ پائی جائے وہاں زکاۃ کی رقم صرف کرنے سے زکاۃ ادا نہ ہوگی۔
٭   اگر صاحبِ نصاب آدمی سال مکمل ہونے سے پہلے اپنے مال کی زکاۃ ادا کرنا چاہے تو جائز اور درست ہے، زکاۃ ادا ہوجائے گی، البتہ رقم دینے سے پہلے یا دیتے وقت زکاۃ کی نیت ضروری ہے، رقم دے دینے کے بعد نیت کا اعتبار نہیں ہوگا۔
٭   زکاۃ کے مستحق افراد کو زکاۃ کی رقم سے سامان یا راشن لے کر دینا بھی جائز ہے۔
٭   زکاۃ کی رقم کسی بھی کام کی اُجرت میں نہیں دی جاسکتی اور اس طرح اجرت میں دینے سے زکاۃ ادا نہ ہوگی۔
٭   ملازمین اگر مستحق ہوں تو انہیں بغیر کسی عوض کے زکاۃ کی رقم دی جاسکتی ہے،بطور تنخواہ زکاۃ کی رقم دینے سے زکاۃ ادا نہیں ہوگی۔
٭   اپنے اصول (والد، والدہ، دادا، نانا، دادی، نانی اوپر تک) اور فروع (بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی نیچے تک) کو زکاۃ نہیں دے سکتے۔
٭   سید کو (’’سید‘‘ کے مصداق وہ لوگ ہیں جو حضرت علیؓ، حضرت جعفرؓ،حضرت عباسؓ اورحضرت عقیلؓ اورحضرت حارث بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہم اجمعین کی اولاد میں سے ہیں) کو زکاۃ کی رقم دینا جائز نہیں۔ اگر سید آدمی غریب اور محتاج ہے تو صاحبِ حیثیت مال داروں پر لازم ہے کہ وہ سادات کی اِمداد زکاۃ اور صدقاتِ واجبہ کے علاوہ رقم سے کریں، اور یہ بڑا اجروثواب کا کام ہے اور حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ محبت کی دلیل ہے۔ 
٭   کسی غیر مسلم کو (چاہے وہ یہودی ہو، عیسائی ہویا ان کے علادہ دیگر مذاہب کے ماننے والے)کو زکاۃ دینا جائز نہیں۔ 
٭   میاں بیوی ایک دوسرے کو زکاۃ نہیں دے سکتے ۔
٭   رفاہِ عامہ کے کاموں مثلاً مساجد، ہسپتال، سڑک اور پل وغیرہ کی تعمیر میں زکاۃ اور دیگر صدقاتِ واجبہ (صدقۂ فطر، فدیہ اور کفارہ وغیرہ) کی رقم دینا درست نہیں، اور اس سے زکاۃ دینے والے کی زکاۃ اد انہیں ہوگی۔ اسی طرح زکاۃ کی رقم سے براہِ راست ہسپتالوں کے لیے مشینیں اور دیگر آلات خریدنا بھی جائز نہیں۔
٭   وہ رفاہی اور فلاحی ادارے جو (غیر سید) زکاۃ کے مستحق مسلمان افراد کو زکاۃ کا مالک بناکر زکاۃ کی رقم صرف کرتے ہوں، انہیں زکاۃ کی رقم دینا درست ہے۔ اور جو ادارے مستحق، غیر مستحق، مسلمان، غیر مسلم کی تمییز نہ کرتے ہوں، وہاں زکاۃ اور دیگر صدقاتِ واجبہ دینا درست نہیں۔ نیز جہاں شبہ ہو وہاں زکاۃ دینے کی بجائےخود مستحق تلاش کرکے زکاۃ کی رقم ادا کی جائے۔
٭   پیشہ ور سائل اور گداگر جو سڑکوں، چوراہوں اور گلی کوچوں میں مانگتے پھرتے ہیں، انہیں زکاۃ کی رقم دینا احتیاط کے خلاف ہے، جہاں معلوم ہوکہ پیشہ ور گداگر ہیں،محنت مزدوری کرسکتے ہیں، مگر مانگنے کی عادت ہے، وہاں زکاۃ دیناجائز نہیں۔ البتہ وہ گداگر جوصورت حال سے محتاج معلوم ہوتے ہوں، اور آدمی کو غالب گمان یہ ہوکہ یہ مستحق ہیں، انہیں زکاۃ دینےسے زکاۃ ادا ہوجائے گی۔
٭   زکاۃ کی ادائیگی میں ان لوگوں کو ترجیح دینی چاہیے جو اپنی عزت وآبرو اور خود داری کو برقرار رکھتے ہیں اور لوگوں پر اپنی حاجت مندی ظاہر نہیں کرتے۔ سڑکوں اور چوراہوں پر مانگنے والوں کی وجہ سے اکثر صبر وقناعت کے ساتھ فقر وفاقہ برداشت کرنے والے مالی امداد سے محروم رہ جاتے ہیں۔ 
٭   زکاۃ کا سب سے بہترین مصرف اپنے دین دار اقرباء ہیں، جب کہ وہ مستحق ہوں۔ فساق وفجار کو دینے سے دینی تعلیم میں مشغول لوگوں کو زکاۃ دینا زیادہ افضل ہے۔ اصول وفروع اور زوجین کے علاوہ تمام رشتہ داروں کو زکاۃ دینا جائز ہے جب وہ زکاۃ کے مستحق ہوں۔مستحق رشتہ داروں کوزکاۃ دینے سے دوہرا ثواب ہوتا ہے، کیونکہ اس میں صلہ رحمی بھی ہوجاتی ہے۔
٭   زکاۃ کی ادائیگی میں خصوصی طور پر معاشرے میں موجود معذور، نادار، یتیم، اور بیواؤں کو بھی ملحوظ رکھا جائے۔
٭   اس زمانہ میں علم دین کی طلب اور نشرواشاعت میں مصروف لوگ بہترین مصارفِ زکاۃ میں سے ہیں۔ قرآن کریم میں ذکر کردہ مصارفِ زکاۃ میں سے ’’فِیْ سَبِیْلِ اللہِ‘‘ میں فقہاء کرام نے طلبۂ علم کو داخل فرمایا ہے، لہٰذا دینی مدارس میں (جہاں رہائشی طلبہ ہوں اور ان کے کھانے پینے، علاج معالجہ کے اخراجات مدرسہ اُٹھاتا ہو، انہیں)زکاۃ دینا زکاۃ کی عبادت کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ دین کی نشرواشاعت میں معاون بنناہے اور صدقہ جاریہ بھی ہے۔

صدقۂ فطر:

٭   اپنی طرف سے اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے صدقۂ فطر دینا واجب ہے۔
٭   عید کی نماز سے پہلے پہلے صدقۂ فطر ادا کرنا بہتر ہے،لیکن اگر پہلے ادا نہ کرسکا تو بعد میں بھی ادا کرنا لازم ہے، اور جب تک ادا نہیں کرے گا ذمہ پر واجب رہے گا۔
٭   صدقۂ فطر بھی ان لوگوں کو دیا جاسکتاہے جنہیں زکاۃ دی جاسکتی ہے، یعنی صدقۂ فطر کے مستحق وہی افراد ہیں جو زکاۃ کے مستحق ہیں، یعنی مسلمان فقیر آدمی جو سید/ہاشمی نہ ہو۔ اور جنہیں زکاۃ دینا جائز نہیں انہیں صدقۂ فطر دینا بھی جائز نہیں ۔البتہ غریب پُرامن غیر مسلم لوگوں کو زکاۃ کے علاوہ صدقات (صدقۂ فطر،کفارہ اور نذر)دیئےجاسکتے ہیں،مگر مستحق مسلمانوں کو دینا زیادہ بہتر ہے۔
٭   اگر کسی بالغ مرد وعورت نے کسی وجہ سے روزے نہ رکھے، تب بھی ان پر صدقۂ فطر نصاب ہونے پر لازم ہے۔
٭   صدقۂ فطر جس طرح اجناس (گندم، جَو، کھجور اورکشمش) کی صورت میں دیا جاسکتا ہے، اسی طرح ان اجناس کے بجائے ان کی قیمت یا اس قیمت سے کپڑے یا راشن وغیرہ خرید کر مستحق کو دیا جاسکتا ہے۔

فدیہ:

٭   ایک نماز اور ایک روزے کا فدیہ ایک صدقۂ فطر کے برابر ہے۔ (دن رات میں وتر سمیت چھ نمازیں ہوتی ہیں )۔
٭   فدیہ چونکہ (روزے سے عاجز آدمی کے حق میں) روزوں کا بدل ہے، اس لیے رمضان المبارک آنے سے قبل روزوں کا فدیہ دینا درست نہیں۔ رمضان المبارک شروع ہونے پر آئندہ ایام کا فدیہ بھی اکٹھا دے سکتے ہیں۔ 
٭   فدیہ کے مستحق بھی وہی غیر سید مسلمان ہیں جنہیں زکاۃ اور صدقۂ فطر دیا جاسکتا ہے۔ جن لوگوں کو اورجن جگہوں پر زکاۃ دینا جائز نہیں، وہاں فدیہ بھی نہیں دے سکتے۔
٭   متعدد فدیے ایک مستحق کو دینا بھی جائز ہے، اور فدیہ میں اجناس کی بجائے نقد رقم یا نقدرقم سے راشن یا دیگر اشیاء خرید کر مستحق کو دینا جائز ہے۔

کفارات :

٭   قسم اورروزہ وغیرہ کے کفارے میں نقد رقم دینے کی صورت میں کفارہ کی رقم مساکین (مستحقِ زکاۃ)لوگوں کو مالک بناکر دینا شرط ہے۔
٭   کفارہ کی رقم کے مستحق بھی وہی لوگ ہیں جو زکاۃ کے مستحق ہیں ۔اور جہاں زکاۃ دینا جائز نہیں وہاں کفارے کی رقم کا استعمال بھی جائز نہیں ہے۔
٭   کفارے کی کل رقم یکمشت کسی مستحق کو دینا درست نہیں، یا تو ایک مسکین کو روزانہ دووقت کا کھانا یا اس کی رقم دی جائے،یا مختلف مساکین کوایک دن میں دو وقت کاکھانا یااس کی قیمت دے دی جائے ۔
٭   نابالغ یا غیر مستحق افراد کو کھانا کھلانے سے کفارہ ادا نہ ہوگا۔
٭   مختلف ہوٹلوں کے باہر بیٹھے نشے کے عادی، پیشہ ور مانگنے والے اور غیر مستحق افراد کو کفارے کاکھانا کھلانا درست نہیں، البتہ اس طرح کی جگہوں پر جو مستحق افراد ہوں انہیں کفارے کا کھانا کھلانا درست ہے۔

نذر:

٭   اگر کسی شخص نے جائز نذر مانی ہو، اور جس کام کی نذر مانی ہے وہ کام ہوجائے تو نذر کا پورا کرنا لازم ہے، نذر کی رقم وغیرہ مالدار لوگوں کو دینا درست نہیں، نذر کے مستحق بھی وہی لوگ ہیں جو زکاۃ کے مستحق ہیں۔
٭   نذر کے جانور کو ذبح کرکے اس کا گوشت اپنے اصول و فروع، سادات اور مالدار لوگوں کو دینا جائز نہیں، بلکہ فقراء و مساکین کو دینا لازم ہے، ورنہ نذر ادا نہ ہوگی۔

نفلی صدقات :

٭   نفلی صدقہ حسبِ استطاعت دیا جاسکتا ہے، نفلی صدقات میں شریعت نے کسی خاص دن، مقدار، یا خاص جانور کی قید نہیں لگائی، اسی طرح صدقہ میں کسی جانور کے ذبح کرنے کی بھی شرط نہیں ۔
٭   نفلی صدقات میں والدین اور قریبی عزیزوں کو مقدم رکھنا چاہیے، اس میں صلہ رحمی اور صدقہ دونوں کا ثواب ہے۔
٭   سید لوگوں کو نفلی صدقات دینے جائز ہیں۔
٭   نفلی صدقات‘ مساجد کی ضروریات، مدارس کی تعمیر وغیرہ میں دیئے جاسکتے ہیں ۔
٭   نفلی صدقات سے حاجت مند غیر مسلموں کی مدد کرنا جائز ہے۔
٭   جانوروں یا پرندوں کو گوشت وغیرہ ڈال کر اسے جان کا صدقہ سمجھنے کی کوئی اصل نہیں، ضرورت مند انسانوں پر صدقہ کرنا افضل ہے۔ البتہ جانوروں کو کھلانا مطلقاً موجبِ اجر ہے۔ 
٭   پیشہ ور گداگروں کو نفلی صدقہ بھی نہیں دینا چاہیے، البتہ اگر کوئی مانگنے والا غالب گمان کے مطابق مستحق ہو تو اسے دینا درست ہے۔
٭   نفلی صدقے سے آدمی خود بھی کھاسکتا ہے، البتہ جتنا حصہ صدقہ کیاجائے وہ صدقہ ہوگا اور جتنا حصہ خود رکھا وہ صدقہ نہیں کہلائے گا۔
٭   نفلی صدقہ اگر کسی مالدار (صاحبِ نصاب)شخص کو دیاجائے تو یہ جائز ہے، البتہ وہ صدقہ نہیں رہتا بلکہ ہبہ بن جاتا ہے۔
٭   خیرات کے نام سے کیے جانے والے صدقہ میں سے جو کچھ فقراء ومساکین پر خرچ ہوگا وہ صدقہ ہوگا اور ثواب کا باعث ہوگا۔ اور جو مالداروں کے حصہ میں آیا ہوگا وہ صدقہ شمارنہ ہوگا، بلکہ ہدیہ ہوگا۔

....................

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

گزشتہ شمارہ جات

مضامین