بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الثانی 1442ھ- 01 دسمبر 2020 ء

بینات

 
 

’’صحیح بخاری‘‘ کے ’’تراجمِ ابواب‘‘ سے متعلق چند اُصول (دوسری قسط)

’’صحیح بخاری‘‘ کے ’’تراجمِ ابواب‘‘ سے متعلق چند اُصول

افاداتِ شیخ الحدیث مولانا محمد یونس جونپوری رحمۃ اللہ علیہ 

 (دوسری قسط)

 

 (’’تراجمِ صحیح بخاری‘‘ سے متعلق)اس (دقیق علمی) بحث کا خلاصہ درج ذیل دو فصلوں میں پیش کیا جا رہا ہے:

فصلِ اول: ’’ صحیح بخاری‘‘ کے تراجم کی اقسام

 (صحیح بخاری کے) تراجم کی بہت سی اقسام ہیںاور اُن کی انواع بیس سے زیادہ ہیں:

نوعِ اول

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ حدیث کے الفاظ سے ترجمہ قائم کرتے ہیںاور پھر کبھی ترجمہ میں اس کے حدیث ہونے کی صراحت فرماتے ہیں اورکبھی صراحت نہیں فرماتے ، دونوں صورتوں میں کبھی تو ترجمہ کے الفاظ اُن کی شرط کے مطابق اور ان کے نزدیک (سنداً) موصول ہوتے ہیں اور کبھی امام موصوف کی شرط کے مطابق تو نہیں ہوتے، لیکن دیگر محدثین کے ہاں موصول ہوتے ہیں۔یوںیہ کل چار قسمیں ہوئیں:

پہلی قسم

جہاں ترجمہ میں ہی اس کے حدیث ہونے کی صراحت ہو،مثلاً:
 ۱:-’’کتاب الإیمان‘‘ کی ابتداء میں ’’باب قول النبيّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: بني الإسلام علٰی خمس۔‘‘ (۱)
۲:- ’’باب قول النبيّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم : أنا أعلمکم باللّٰہ۔‘‘ (۲)
۳:-’’کتاب العلم‘‘ میں ’’باب قول النبيّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم : رُبّ مبلّغ أوعٰی من سامع۔‘‘ (۳)
۴:- ’’باب قول النبيّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم : اللّٰہم علّمہ الکتاب۔‘‘ (۴)
 ۵:- ’’کتاب الوضوء‘‘ (کذا)میں ’’باب قول النبيّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم : جعلت لي الأرضُ مسجدًا وطھورًا۔‘‘ (۵)
۶:- ’’کتاب الجنائز‘‘ میں ’’باب قول النبيّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم : إنّا بک لمحزونون۔‘‘ (۶) وغیرہ۔
یہ تما م الفاظ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک انہی ابواب میں یا کسی دوسرے مقام پر موصولاً مذکور ہیں، مثلاً: ’’رُبّ مبلّغ أوعٰی من سامع‘‘ کے الفاظ ’’کتاب الحج‘‘ میں موصولاً ذکر کیے ہیں۔ (۷)

دوسری قسم

ترجمہ میں اس کے الفاظ کے حدیث ہونے کی صراحت ہو اور وہ الفاظ‘ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے (نزدیک موصول نہ ہوں، لیکن ان کے) علاوہ دیگر محدثین کے ہاں (سنداً) موصول ہوں، مثلاً: 
۱:- ’’کتاب الإیمان‘‘ میں ’’باب قول النبيّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم :الدین النصیحۃ‘‘ (۸) یہ الفاظ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ کی روایت سے درج کیے ہیں۔ (۹)
۲:- ’’کتاب الصوم‘‘ میں ’’باب قول النبيّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم : إذا توضّأ فلیستنشق بمنخرہ الماء۔‘‘ (۱۰)، یہ روایت امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے (باسند) ذکر فرمائی ہے۔ (۱۱)
۳:- ’’باب لایمنعنّکم من سحورکم أذان بلال‘‘ (۱۲) یہ روایت امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ (ج:۳،ص:۷۷) نے حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کی روایت سے انہی الفاظ کے ساتھ ذکر کی ہے(۱۳)، اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ (ج:۱، ص:۳۵۰) نے ’’لایغرَّنّکم‘‘ کے لفظ کے ساتھ ذکر کی ہے۔ (۱۴)
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں تراجم کی یہ قسم کم پائی جاتی ہے۔

تیسری قسم

وہ تراجم جو کسی حدیث کے الفاظ پر مشتمل ہیں اور وہ احادیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں موصول ہیں، لیکن امام موصوف نے ان کے حدیث ہونے کی صراحت نہیں کی، جیسے:
۱:-’’کتاب الإیمان‘‘ میں ’’باب: المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ۔‘‘ (۱۵) 
۲:-’’کتاب العلم‘‘ میں ’’باب من یرد اللّٰہ بہ خیراً یفقّہہ في الدّین۔‘‘ (۱۶)
۳:-’’ کتاب الصلاۃ‘‘ کے ’’أبواب المساجد‘‘ میں ’’باب لیبصق عن یسارہٖ و تحت قدمہ الیسرٰی۔‘‘ (۱۷)
۴:- ’’باب ما أدرکتم فصلّوا، وما فاتکم فأتمّوا۔ ‘‘ (۱۸)
۵:- ’’باب إنّما جعل الإمام لیؤتمّ بہ۔‘‘ (۱۹)
۶:- ’’کتاب الجنائز‘‘ میں ’’باب لیس منّا من شقّ الجیوب۔‘‘ (۲۰)
۷:-’’باب لیس منّا من ضرب الخدود۔‘‘ (۲۱)

 چوتھی قسم

وہ تراجم جو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے علاوہ دیگر محدثین کے ہاں حدیث کے الفاظ (کے طو رپر ثابت) ہیں، لیکن امام موصوف نے ان کے حدیث ہونے کی تصریح نہیں کی، ایسے تراجم بہت سے ہیں۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ یہ انداز اس صورت میں اختیارکرتے ہیں جب وہ حدیث- جس پر ترجمہ قائم کیا گیا ہو- مشہور ہو، لیکن امام موصوف کی شرط کی مطابق نہ ہو اور قابلِ حجت نہ ہو، اس روایت سے امام موصوف استیناس فرماتے ہیں اورپھر اپنی شرط کے مطابق روایت سے اس کی تائید پیش کرتے ہیں،مثلاً:
۱:-’’کتاب الإیمان‘‘ میں ’’باب کفران العشیر وکفر دون کفر۔‘‘ (۲۲)
۲:-’’باب ظلم دون ظلم۔‘‘ (۲۳)
یہ دونوں جملے اس اثر کا جزء ہیں، جسے علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’الدرالمنثور‘‘ میں ایک جماعت سے منسوب کیا ہے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کیا ہے (۲۴)، جبکہ امام احمد اور محمد بن نصر رحمۃ اللہ علیہما نے ’’کتاب الإیمان‘‘ میں عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ سے ان کے قول کی حیثیت سے ذکر کیا ہے۔ (۲۵)
۳:-’’کتاب الوضوء‘‘ میں ’’باب لاتقبل صلاۃ بغیر طھور۔‘‘ (۲۶)
۴:-’’کتاب الزکوۃ‘‘ میں ’’باب لاتقبل صدقۃ من غلول۔‘‘ (۲۷)
یہ دونوں جملے امام مسلم اور اصحاب سنن رحمۃ اللہ علیہم کی روایت کردہ ایک حدیث کا حصہ ہیں۔ (۲۸)
 ۵:-’’کتاب الحیض‘‘ میں ’’باب تقضي الحائض المناسک کلّہا إلا الطواف بالبیت۔‘‘ (۲۹)
یہ اس حدیث کے الفاظ ہیں، جسے امام ابن ابی شیبہ رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیاہے، اس روایت کی سند میں ’’جابر جعفی‘‘ ہے۔ (۳۰) اور امام طبرانی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’المعجم الصغیر‘‘ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے ، اس روایت میں ’’حتّی تطھر‘‘ کے الفاظ کا اضافہ ہے اور اس کی سند میں ’’خصیف جزری‘‘ ہے۔ (۳۱)
۶:-’’ أبواب السترۃ‘‘ میں ’’باب سترۃ الإمام سترۃ من خلفہ‘‘ (۳۲)، یہ اس حدیث کے الفاظ ہیں، جسے امام طبرانی رحمۃ اللہ علیہ نے’’ المعجم الأوسط‘‘ میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے، البتہ اس روایت میں’’ لمن خلفہ‘‘ کے الفاظ ہیں، امام طبرانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’ اس روایت میں ’’سوید بن عبد العزیز‘‘ متفرد ہیں اور وہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں۔‘‘ (۳۳) نیز امام عبد الرزاق رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت کو حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اُن کے قول کی حیثیت سے موقوفاً روایت کیا ہے۔ (۳۴)
۷:-’’ أبواب الجماعۃ‘‘میں ’’باب اثنان فما فوقھا جماعۃ‘‘ (۳۵)، یہ اس حدیث کے الفاظ ہیں، جسے امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے (۳۶)، (مؤرخ) ابن سعد (ج:۷، ص:۷۱۵) اورامام بغوی رحمۃ اللہ علیہم نے حضرت حکم بن عمیر رضی اللہ عنہ سے (۳۷)، امام دار قطنی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’الأفراد‘‘ میں حضرت عبد اللہ بن عمر r سے (۳۸)، امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے (۳۹)اور امام طبرانی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’المعجم الأوسط‘‘ میں حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے (۴۰)اور سبھی نے اسے مرفوع نقل کیا ہے، نیز اس کی سندیں کلام سے خالی نہیں۔ 
۸:- ’’أبواب الجماعۃ‘‘ میں ’’باب إذا أقیمت الصلاۃ فلا صلاۃ إلا المکتوبۃ‘‘(۴۱)، اس حدیث کے الفاظ کو امام مسلم، اصحاب ِسنن، امام ابن خزیمہ اور امام ابنِ حبان رحمۃ اللہ علیہم نے عمرو بن دینار عن عطاء بن یسار عن أبي ھریرۃ رضي اللّٰہ عنہکی سند سے روایت کیا ہے (۴۲)، اس کے مرفوع ہونے یا عمرو بن دینار پر موقوف ہونے کے بارے میں اختلاف ہے۔ اما م سفیان ثوری رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت کو عمرو بن دینار سے موقوفاً نقل کیا ہے۔ یہ روایت امام عبد الرزاق رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر کی ہے (۴۳)، کہا گیا ہے کہ اسی اختلاف کی بناپر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اس روایت کو موصولاً نہیں لائے۔
۹:-’’أبواب الصفوف‘‘ میں ’’باب إقامۃ الصفّ من تمام الصلاۃ‘‘ (۴۴)، یہ الفاظ امام عبد الرزاق رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے روایت کیے ہیں ۔(۴۵)
۱۰:- ایک اور ترجمہ یوں قائم فرمایا ہے: ’’المرأۃ وحدہا تکون صفًّا‘‘ (۴۶)، حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ رقم طراز ہیں: ’’یہ الفاظ امام ابن عبد البر رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے نقل کیے ہیں۔‘‘(۴۷) میں کہتا ہوں: امام ابن عبد البر رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت کو ان الفاظ میں نقل کیا ہے :’’المرأۃ وحدھا صفّ‘‘ اور فرمایا: ’’یہ حدیث موضوع ہے، اسے اسماعیل بن یحییٰ بن عبد اللہ تیمی نے گھڑا ہے۔‘‘(۴۸)امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے یہ تصور بعید ہے کہ وہ اس موضوع حدیث کی طرف اشارہ فرمائیں، واللہ اعلم!
۱۱:-’’کتاب الجنائز‘‘ میں ’’باب الکفن من جمیع المال‘‘ (۴۹)، یہ الفاظ امام طبرانی رحمۃ اللہ علیہ نے’’ المعجم الأوسط‘‘میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حدیث سے نقل کیے ہیں (۵۰)اور امام ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ علیہ نے’’ کتاب العلل‘‘ میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ذکر کیے ہیں ، نیز اپنے والد امام ابو حاتم رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیا ہے کہ یہ حدیث منکر ہے۔ (۵۱)
۱۲:-’’کتاب الصوم‘‘ میں ’’باب شھرا عیدٍ لاینقصان‘‘(۵۲)، یہ الفاظ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیے ہیں، جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے ’’فتح الباري‘‘ (ج:۴،ص:۱۲۴) میں ذکر کیا ہے۔ (۵۳)
۱۳:- ’’باب الأمراء من قریش‘‘ (۵۴)، یہ الفاظ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے ہاں (ملتے) ہیں۔ (۵۵)

 نوعِ دوم

اما م بخاری رحمۃ اللہ علیہ کبھی حدیث کے الفاظ میں تصرف کرکے ترجمہ قائم کرتے ہیں۔

نوعِ سوم

اکثر وبیشتر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اپنے الفاظ میں ترجمہ قائم کرتے ہیں، جیسے:’’باب الفہم في العلم‘‘(۵۶) ، ’’باب من جعل لأہل العلم أیامًا معلومۃً‘‘ (۵۷)
پھر اس نوع کی مختلف صورتیں ہیں ، جو درج ذیل ہیں :
۱:- کبھی مبہم ترجمہ قائم کرتے ہیں ، جبکہ انہیں توقف ہو، یا وہاں اور کوئی احتمال بھی ہو، جیسے: ’’کتاب الجنائز‘‘میں یوں ترجمہ قائم کیا ہے: ’’ باب ما جاء في قاتل النفس‘‘ (۵۸)، یہ نکتہ علاّمہ ابن المنیّر رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر فرمایا ہے (۵۹)اور’’باب الرجل یوضّیٔ صاحبہ‘‘ (۶۰)، حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے یہ بات ذکر فرمائی ہے۔ (۶۱)
۲:- کبھی کسی پہلو کے جزم کے بغیر ترجمہ لاتے ہیں اور اس کے مختلف اسباب ہوتے ہیں:
۱: ۔۔۔۔۔ کبھی بیانِ توسع کے لیے ایسا کرتے ہیں، جیسے: ’’ باب ما یقول بعد التکبیر‘‘، ا س عنوان کے تحت ثناء کہنے کے متعلق حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث لائے ہیں اور ’’الحمد للّٰہ رب العالمین‘‘ سے آغاز کے متعلق حضرت انس رضی اللہ عنہ کی حدیث ذکر کی ہے۔ (۶۲)
۲: ۔۔۔۔۔ کبھی مسئلہ میں اختلاف کی بنا پر ایسا کرتے ہیں، جیسے: ’’باب أبوال الإبل‘‘ (۶۳)، ’’باب إذا صلّٰی ، ثمّ أمّ قوما‘‘ (۶۴) اور ’’باب کتابۃ العلم‘‘ (۶۵) عند الحافظ۔ 
۳: ۔۔۔۔۔ کبھی روایات کے اختلاف کی بنا پر یہ انداز اختیار کرتے ہیں ،جیسے :’’باب إذا حنث ناسیًا۔‘‘(۶۶)
۴: ۔۔۔۔۔ کبھی دلیل میں احتمال کی بنا پر یہ اسلوب اپناتے ہیں، جیسے:’’ باب إذا أسلمت المشرکۃ و النصرانیۃ تحت الذميّ و الحربي‘‘۔ (۶۷)
۳:-کبھی مسئلہ کے اختلافی ہونے کے باوجود دلیل قوی ہونے کی بنا پر جزم کے ساتھ ترجمہ قائم کرتے ہیں، مثلاً: ’’باب وجوب صلاۃ الجماعۃ‘‘ (۶۸)،’ ’ باب التیمم للوجہ والکفین‘‘ (۶۹)، ’’باب التیمم ضربۃ‘‘ (۷۰) اور ’’باب الأذان بعد ذہاب الوقت‘‘۔ (۷۱)
۴:- کبھی استفہامیہ انداز میں ترجمہ لاتے ہیں اور اس کی مختلف وجوہ ہوتی ہیں:
۱: ۔۔۔۔۔ دلیل میں احتمال کی بنا پر، جیسے:’’باب ھل ینفخ فیہما؟‘‘ (۷۲) اور ’’باب ھل یقول: إني صائم إذا شتم؟‘‘ (۷۳)
۲: ۔۔۔۔۔ مسئلہ میں تفصیل کی جانب اشارہ کی غرض سے، مثلاً:’’باب ھل تصلّي المرأۃ في ثوب حاضت فیہ؟‘‘ (۷۴) ’’باب ہل یمضمض من اللبن؟‘‘ (۷۵) ’’باب ھل یُدخِل الجنب یدہٗ في الإناء؟‘‘ (۷۶) ’’باب ھل تُکسَر الدِنان التي فیہا الخمر؟‘‘ (۷۷) اور ’’باب ھل یخرج من المسجد لِعلّۃ؟‘‘ (۷۸)
۳: ۔۔۔۔۔ حدیث میں ہی سوال وجواب ہو،جیسے :’’ھل یسافر بالجاریۃ قبل أن یستبرئھا؟‘‘ (۷۹)
۴: ۔۔۔۔۔ روایات میں اختلاف کی بناپر، جیسے:’’باب ھل یستخرج السحر؟‘‘ (۸۰)
۵:-کبھی مختلف اسباب کی بناپر’’ من قال کذا‘‘ یا ’’من فعل کذا‘‘ کے الفاظ کے ساتھ ترجمہ قائم کرتے ہیں :
۱: ۔۔۔۔۔ بیانِ احتمال کے لیے۔
۲: ۔۔۔۔۔ اپنے نزدیک مختار قول میں، جیسے:’’ باب من لم یتو ضأ إلاّ من المَخرجَین‘‘ (۸۱)اور ’’باب من لم یتوضأ إلاّ من الغشي المثقّل‘‘ (۸۲)
۳: ۔۔۔۔۔ علامہ برماوی رحمۃ اللہ علیہ کے بقول :کبھی تعمیم کی غرض سے اس پہلو کی جانب اشارہ کرنے کے لیے ایسا ترجمہ لاتے ہیں کہ حکم عام ہے، اگر چہ فاعل متعین ہو،جیسے :’’باب من برک عند الإمام أو المحدّث‘‘ (۸۳)، ’’باب من رفع صوتہٗ بالعلم‘‘ (۸۴)، ’’باب من قعد حیث ینتہي بہ المجلس‘‘ (۸۵) اور ’’باب من تبرّز علٰی لَبِنتین‘‘(۸۶)
۴: ۔۔۔۔۔ کبھی اجماعی مسئلہ میں بھی ایسا عنوان لاتے ہیں، جیسے: ’’باب من قال: لم یترک النبيّ صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم إلاّ ما بین الدفَّتین‘‘ (۸۷)، گویا اجماع کا مستندوبنیاد ذکر کرنا مقصود ہے۔
۶:- (عرب) قوم کے آداب کے ساتھ بھی ترجمہ قائم کرتے ہیں، مثلاً:’’ باب من برک‘‘ (۸۸) ’’ باب من قعد‘‘ (۸۹) اور’’ باب من رفع صوتہ بالعلم‘‘ (۹۰)
۷:-ترجمہ سے تاریخی واقعہ کی جانب بھی اشارہ فرماتے ہیں، جیسے: ’’باب ذکر قحطان‘‘(۹۱) اور ’’باب قصۃ زمزم‘‘۔ (۹۲)
۸:- کسی مسئلہ کا ترجمہ لاتے ہیں اور پھر فائدہ پر تنبیہ کی غرض سے ضمنی مسئلہ بھی لاتے ہیں، گویا باب دَر باب ہوتا ہے ، اس کے نظائر ’’کتاب بدء الخلق‘‘ میں کئی ہیں، اور ’’کتاب بدء الخلق‘‘ کے علاوہ بھی بہت سے مقامات پر ایسے تراجم آئے ہیں۔
۹:-کبھی کسی خاص فائدہ پر تنبیہ کے لیے ایسا ترجمہ بھی لاتے ہیں، جس کا زیادہ فائدہ نہیں ہوتا، جیسے:’’ باب قول الرجل:فاتتنا الصلاۃ‘‘ (۹۳)،اس موقع پر ان لوگوں کی تردید مقصود ہے جو یہ کہنا پسند نہیں کرتے۔ یہ نکتہ حافظ ابن دقیق العید رحمۃ اللہ علیہ نے ’’شرح العمدۃ‘‘ (ج:۱، ص:۶۴) میں ذکر کیا ہے۔ (۹۴)
۱۰:- بسا اوقات مخالف پر رد کے لیے ترجمہ لاتے ہیں ،جیسا کہ حافظ ابن دقیق العید رحمۃ اللہ علیہ (ج:۱، ص:۶۴) نے ذکر کیا ہے۔ (۹۵)
۱۱:-کبھی کسی مشکل کی وضاحت کے لیے ترجمہ قائم کرتے ہیں، جیسے:’’ باب ترک الحائض الصوم‘‘ (۹۶)، چونکہ روزہ میں طہارت شرط نہیں، اس بناپر اشارہ فرمایا کہ یہ ’’حکمِ تعبُّدی ‘‘ہے۔
۱۲:- حکم کی ابتدا ذکر کرنے کے لیے ترجمہ لاتے ہیں،جیسے:’’ باب بدء الوحي‘‘ (۹۷)، ’’باب بدء الحیض‘‘ (۹۸)،’’ باب بدء الأذان‘‘ (۹۹)،’’ باب بدء السلام‘‘ (۱۰۰) اور ’’کتاب بدء الخلق‘‘(۱۰۱)، ایسے تراجم امام موصوف کے علاوہ امام عبد الرزاق او رامام ابوداود  رحمۃ اللہ علیہم کے ہاں بھی پائے جاتے ہیں۔
۱۳:-کبھی اس انداز سے ترجمہ لاتے ہیں کہ مختلف روایات کے درمیان جمع وتطبیق ہو جائے، مثلاً: ’’باب لا تستقبل القبلۃ بغائط أو بول إلا عند البناء جدار و نحوہ‘‘ (۱۰۲)، اس ترجمہ میں حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کی مطلقاً ممانعت پر مبنی حدیث اور حضرت ابن عمر r کی اباحت وجواز پر مشتمل روایت کے درمیان پہلی روایت کو صحرا وبیابان پر اور دوسری روایت کو حائل پر محمول کرکے تطبیق دی ہے۔ اسی طرح ’’باب یعذّب المیّت ببعض بکاء أہلہ علیہ‘‘ (۱۰۳)
۱۴:- کبھی ایسے الفاظ کے ساتھ ترجمہ قائم کرتے ہیں کہ جن کا ظاہر مقصود نہیں ہوتا، جیسے: ’’باب من أدرک رکعۃ من العصر قبل الغروب‘‘۔ (۱۰۴)
۱۵:-دو یا دو سے زیادہ اُمور کا ترجمہ لاتے ہیں اوران میں سے بعض سے متعلق حدیث اس نکتہ کی جانب اشارہ کے لیے لے آتے ہیں کہ جن اُمور کی دلیل ذکر نہیں کی ،وہ ثابت نہیں، مثلاً: ’’باب الصلاۃ قبل الجمعۃ وبعدہا‘‘(کذا) (۱۰۵) کا ترجمہ قائم کرنے کے بعد (حدیث لاکر) قبلیّت کی نفی فرمادی، یہ نکتہ حافظ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے بیان فرمایا ہے۔ (۱۰۶)
۱۶:-کئی امور کا ترجمہ اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لیے لاتے ہیں کہ (اس مسئلہ کے متعلق ) ان کے پاس حدیث ہے، جیسے: ’’باب التقاضي والملازمۃ في المسجد‘‘ (۱۰۷)
۱۷:-دو یا زیادہ اُمور کا ترجمہ قائم کرتے ہیں اور اپنے علاوہ کسی اور (محدث)کے ہاں موجود حدیث کی جانب اشارہ کرتے ہیں، جیسے:’’ باب کنس المسجد والتقاط الخِرَق‘‘ (۱۰۸)
۱۸:- ترجمہ ذکر کرتے ہیں اور جانبین کے دلائل کی جانب اشارہ کے لیے اس کے تحت مختلف احادیث ذکر کرتے ہیں۔
۱۹:-کبھی شرط کے ساتھ یوں ترجمہ قائم کرتے ہیں: ’’إذا کان کذا‘‘ یا اس جیسے الفاظ اور پھر جواب ذکر کرتے ہیں: 
۱: ۔۔۔۔۔ اکثر وبیشتر مرفوع حدیث سے جواب لاتے ہیں، جیسے:’’ باب إذا وھب ھبۃ فقبضھا الآخر ولم یقل: قبلت‘‘ (ص:۳۵۴) (۱۰۹)، ’’باب إذا وھب جماعۃ لقوم‘‘ (ص:۳۵۵) (۱۱۰) ’’باب إذا أعتق عبداً بین اثنین أو أمۃ بین شرکاء‘‘ (۱۱۱)، اور ’’باب إذا کسر قصعۃ أو شیئاً لغیرہ‘‘ (ص:۳۳۷) (۱۱۲)
۲: ۔۔۔۔۔ کبھی آثار سے جواب لاتے ہیں، جیسے:’’ باب إذا أقرضہ إلٰی أجل مسمّی‘‘، اور اس کے بعد لکھا: ’’وقال ابن عمرؓ في القرض إلی أجل:لابأس بہ۔‘‘ (ص:۳۲۳) (۱۱۳)
’’باب ھل تُکسَر الدِنان وإن کسر صنمًا أو صلیبًا و طنبورًا و ما لاینتفع بخشبہ؟‘‘ آگے رقمطراز ہیں: ’’وأتی شریح في طنبور کُسِر، فلم یقض فیہ بشیء‘‘ (ص:۳۳۶) (۱۱۴) اور ’’باب إذا وھب دیناً علی رجل‘‘۔ آگے لکھتے ہیں: ’’قال شعبۃ عن الحکم: ھو جائز‘‘۔ (مسئلہ میں) اختلاف کی صورت میں سلف کی زبانی جواب لاکر یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ میرا اختیار کردہ قول ہی سلف کے ہاں معمول بہ ہے۔ (ص:۳۵۴) (۱۱۵)
۳: ۔۔۔۔۔ کبھی صراحۃً جواب لاتے ہیں، مثلاً: ’’باب إذا وقف أرضًا ولم یبّین الحدود فھو جائز‘‘ اور ’’باب إذا وقف جماعۃ أرضًا مشاعًا فھو جائز‘‘ (ص:۳۸۸) (۱۱۶)، ’’باب إذا وکّل المسلم حربیًّا في دارالحرب و دارالإسلام جاز‘‘ (ص:۳۰۸) (۱۱۷) اور ’’باب إذا أعتق نصیبًا في عبد، ولیس لہٗ مال استُسعِيَ العبد غیرَ مشقوق علیہ علی نحو الکتابۃ‘‘ (ص:۳۴۳) (۱۱۸)
 حافظ ابن دقیق العید رحمۃ اللہ علیہ ، ’’شرح العمدۃ‘‘ (ص:۲۴) میں رقم طراز ہیں:
’’اصحاب ِ تصانیف، احادیث سے مستنبط معانی کی جانب اشارہ کے لیے ان پرجو تراجم قائم کرتے ہیں، ان کے تین مرتبے ہیں:
۱: ۔۔۔۔۔ بعض تراجم مرادی معنی پر دلالت میں ظاہر ، واضح اور مطلوبہ فوائد کے حامل ہوتے ہیں۔
۲: ۔۔۔۔۔ بعض مراد پر دلالت میں خفی، بعید اور غیر مناسب ہوتے ہیں، تکلف کے بغیرچل نہیں پاتے۔
۳: ۔۔۔۔۔ بعض تراجم مراد پر دلالت میں واضح ہوتے ہیں، لیکن ان کا فائدہ قلیل ہوتا ہے، انہیں بھی مستحسن کہنا دشوار ہے، مثلاً:امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ترجمہ لایا ہے:’’ باب السواک عند رمي الجمار۔‘‘ (کذا في مقالۃ الشیخ وکتاب ابن دقیق العید، ولم أطلع علیہ في الصحیح، ولعلہٗ: باب السؤال والفتیا عند رمي الجمار، واللّٰہ أعلم)
 یہ تیسری قسم-جس کا فائدہ ظاہر نہیں ہوتا- اس صورت میں مستحسن ہوجاتی ہے، جب مراد میں کوئی ایسا معنی موجود ہو جو خصوصی تذکرہ کا متقاضی ہو، جبکہ بادی النظر میں اس معنی پر اطلاع نہ ہونے کی بنا پر وہ ترجمہ مستحسن نہیں لگتا۔
۱: ۔۔۔۔۔ پھرکبھی اس کا سبب مسئلہ میں کسی ایسے مخالف پر رد ہوتا ہے جس کا قول مشہور نہ ہو، جیسے : امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ایک ترجمہ قائم کیا ہے:’’ باب قول الرجل: ما صلّینا‘‘؛ کیونکہ بعض حضرات سے یوں کہنے کی کراہت منقول ہے ، امام موصوف نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ’’ اِنْ صلّیتُہا‘‘ (صحیح مسلم) یا ’’ماصلّیتُہا‘‘ (صحیح بخاری) سے قائل پر رد فرمایاہے۔
۲: ۔۔۔۔۔ کبھی اس کا سبب لوگوں کے درمیان پھیلے ہوئے کسی بے بنیادفعل پررَد ہوتا ہے ،چنانچہ اس فعل کے فاعل پر رد کے لیے حدیث ذکر کی جاتی ہے، جیسے: اسی مقام پر لوگوں کے درمیان’’ماصلّینا‘‘ کہنے سے اجتناب مشہور ہو، اگرچہ کسی سے اس کی کراہت صحیح طور پر ثابت نہ ہو۔
۳: ۔۔۔۔۔ کبھی کسی واقعہ کے ساتھ خاص معنی کی بناپرترجمہ لایا جاتا ہے ،جیسے :حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے:’’ وطرف السواک علی لسانہ یقول:أع أع‘‘ اس حدیث پر یوں ترجمہ قائم کیا ہے : ’’باب استیاک الإمام بحضرۃ رعیتہ‘‘؛، کیونکہ مسواک کرنا ہلکے اور چھوٹے کاموں میں سے ہے اور عام طور پر اس کے ساتھ تھوک وغیرہ بھی خارج ہوجاتا ہے، اس بناپر شاید بعض لوگوں کو یہ خیال ہوکہ یہ عمل مخفی ہونا چاہیے اور لوگوں کے سامنے نہیں کیا جانا چاہیے۔ فقہاء نے بہت سے مقامات میں اس معنی کا اعتبار کیا ہے اور وہ اسے ’’حفظِ مروء ت‘‘ کا نام دیتے ہیں، یہ حدیث یہی نکتہ بیان کرنے کے لیے لائی گئی ہے کہ مسواک کرنا ایسے امور میں سے نہیں جو مخفی رہنے کا تقاضا کرتے ہیں اور امام وحاکم کو رعایا کے سامنے نہیں کرنے چاہئیں اور مقصد اس عمل کوعبادات اورباعثِ ثواب اُمور میں داخل کرنا ہے، واللہ اعلم۔‘‘ (۱۱۹)

حواشی و حوالہ جات

۱ :- کتاب الإیمان، باب قول النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم : بني الإسلام علی خمس، (۱/۵) ، قدیمی۔
۲ :- کتاب الإیمان، باب قول النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم : أنا أعلمکم باللّٰہ إلخ، (۱/۹) 
۳ :- کتاب العلم، باب قول النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم : رب مبلغ أوعی من سامع، (۱/۱۶) 
۴ :- کتاب العلم، باب قول النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم : اللّٰہم علمہ الکتاب، (۱/۱۷) 
۵ :- کتاب الصلاۃ، باب قول النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم : جعلت لي الأرض مسجدا وطہورا، (۱/۱۶۲) 
۶ :- کتاب الجنائز، باب قول النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم : إنا بک لمحزونون، (1۱/۱۷۴) 
۷ :- کتاب المناسک، باب الخطبۃ أیام منی، (۱/۲۳۵) 
۸ :- کتاب الإیمان،باب قول النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم : الدین النصیحۃ إلخ، (۱/۱۳) 
۹:- صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب بیان أن الدین النصیحۃ، (۱/۵۴) ، قدیمی 
۱۰:- کتاب الصوم، باب قول النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم : إذا توضأ فلیستنشق بمنخرہ الماء ، (۱/۲۵۹) 
۱۱:- صحیح مسلم،کتاب الطہارۃ، باب الإیتار في الاستنثار والاستجمار، (۱/۱۲۴) 
۱۲:- کتاب الصوم، باب قول النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم : لایمنعنکم من سحورکم أذان بلال، (۱/۲۵۷) 
۱۳:- جامع الترمذي، أبواب الصوم، باب ماجاء في بیان الفجر، (۱/۱۱۵) ، قدیمی
۱۴:- صحیح مسلم،کتاب الصیام، باب بیان أن الدخول في الصوم یحصل بطلوع الفجر إلخ، (۱/۳۵۰۹)
۱۵:- کتاب الإیمان، باب المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ، (۱/۶) 
۱۶:- کتاب العلم، باب من یرد اللّٰہ بہ خیرا یفقہہ في الدین، (۱/۱۶) 
۱۷:- کتاب الصلاۃ، باب لیبصق عن یسارہ أو تحت قدمہ، (۱/۵۹) 
۱۸:- کتاب الأذان، باب ما أدرکتم فصلوا، وما فاتکم فأتموا، (۱/۸۸) 
۱۹:- کتاب الأذان، باب إنما جعل الإمام لیؤتم بہ، (۱/۹۵) 
۲۰:- کتاب الجنائز، باب لیس منا من شق الجیوب، (۱/۱۷۲) 
۲۱:- کتاب الجنائز، باب لیس منا من ضرب الخدود، (۱/۱۷۳) 
۲۲:- کتاب الإیمان، باب کفران العشیر وکفر دون کفر، (۱/۸) 
۲۳:- کتاب الإیمان، باب ظلم دون ظلم، (۱/۹) 
۲۴:- الدر المنثور، سورۃ المائدۃ، آیت :۴۷، (۳/۸۷) ، دار الفکر بیروت
۲۵:- فتح الباري لابن حجر، کتاب الإیمان، باب کفران العشیر وکفر دون کفر، (۱/۸۳) ، وباب ظلم دون ظلم (۱/۸۷) ، فتح الباري لابن رجب الحنبلي، کتاب الإیمان، باب ظلم دون ظلم (۱/۱۴۶) ، مکتبۃ الغرباء الأثریۃ، ۱۴۱۷ھ۔
۲۶:- کتاب الوضوء ، باب لاتقبل صلاۃ بغیر طہور، (۱/۲۵) 
۲۷:- کتاب الزکوۃ، باب لاتقبل صدقۃ من غلول، (۱/۱۸۹) 
۲۸:- صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب وجوب الطہارۃ للصلاۃ، (۱/۱۱۹)
- سنن أبي داود، کتاب الطہارۃ، باب فرض الوضوء ، (ص :۹) ، ایج ایم سعید.
- جامع الترمذي، أبواب الطہارۃ، باب ما جاء لاتقبل صلاۃ بغیر طہور، (۱/۳) 
- سنن النسائي، کتاب الطہارۃ، باب فرض الوضوء ،(۱/۳۳) وکتاب الزکوۃ، باب الصدقۃ من غلول، (۱/۳۴۹)
-سنن ابن ماجۃ، أبواب الطہارۃ وسننہا، باب لایقبل اللّٰہ صلاۃ بغیر طہور، (ص :۲۴) 
۲۹:- کتاب الحیض، باب تقضي الحائض المناسک إلا الطواف بالبیت، (۱/۴۴) 
۳۰:- مصنف ابن أبي شیبۃ، کتاب المناسک، باب في الحائض ما تقضي من المناسک، (۳/۲۹۶) ، مکتبۃ الرشد، الریاض۔
۳۱:- المعجم الصغیر، باب الحاء ، من اسمہ الحسن، (۱/۲۲۸) ، المکتب الإسلامي، بیروت، لبنان۔
۳۲:- کتاب الصلاۃ، باب سترۃ الإمام سترۃ من خلفہ، (۱/۷۱) 
۳۳:- المعجم الأوسط، باب الألف، من اسمہ :أحمد (۱/۱۴۷) ، دارالحرمین ، القاھرۃ، مصر۔ فتح الباري، کتاب الصلاۃ، باب سترۃ الإمام سترۃ من خلفہ (۱/۵۷۲) ۔ ’’المعجم الاوسط‘‘ کے مطبوعہ نسخے میں ’’من خلفہ‘‘ کے الفاظ ہیں، جبکہ ’’فتح الباري‘‘ میں ’’المعجم الأوسط‘‘ کے حوالے سے ہی ’’لمن خلفہ‘‘ کے الفاظ مذکور ہیں، بظاہر نسخوں کا اختلاف معلوم ہورہا ہے، یاممکن ہے کہ مولانا رحمہ اللہ نے ’’فتح الباري‘‘ سے ہی حوالہ دیا ہو۔
۳۴:- مصنف عبد الرزاق،کتاب الصلاۃ، باب سترۃ الإمام سترۃ من وراء ہ، (۲/۱۸) ، المکتب الإسلامي بیروت، لبنان۔
۳۵:- کتاب الأذان، باب إثنان فما فوقہا جماعۃ، (۱/۹۰) 
۳۶:- سنن ابن ماجۃ، أبواب إقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیہا، باب الإثنا ن جماعۃ، (ص :۶۹) 
۳۷:- الطبقات الکبری، ترجمۃ أبوأمامۃ الباہلي، (۷/۴۱۵) ، دار صادر ، بیروت، لبنان۔ معجم الصحابۃؓ لأبي القاسم البغوي، (۲/۱۰۷) مکتبۃ دارالبیان، کویت ۱۴۲۱ھ/۲۰۰۰م
۳۸:- الأفراد للدارقطنی، امام دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ کی یہ کتاب کامل دست یاب نہیں، کچھ اجزاء ملتے ہیں، سر دست تلاش کے باوجود یہ حوالہ ہمیں نہیں مل سکا۔
۳۹:- السنن الکبری، کتاب الصلاۃ، باب الإثنین فما فوقہا جماعۃ، (۹۸/۳) ، دار الکتب العلمیۃ، بیروت، لبنان۔
۴۰:- المعجم الأوسط، باب المیم، من اسمہ محمد، (۶/۳۶۳) ۔
 ۴۱:- کتاب الأذان، باب إذا أقیمت الصلاۃ فلا صلاۃ إلا المکتوبۃ، (۱/۹۱) 
۴۲:- صحیح مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا، باب کراہۃ الشروع في نافلۃ إلخ، (۱/۲۷۴) 
- سنن أبي داود، کتاب الصلاۃ، باب إذا أدرک الإمام ولم یصل رکعتی الفجر، (۱/۱۸۰) 
- جامع الترمذي، أبواب الصلاۃ، باب ما جاء إذا أقیمت الصلاۃ فلا صلاۃ إلا المکتوبۃ، (۱/۹۶) 
- سنن النسائي، کتاب الإمامۃ والجماعۃ، ما یکرہ من الصلاۃ عند الإقامۃ، (۱/۱۳۹) 
- سنن ابن ماجہ، أبواب إقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیہا، باب ما جاء إذا أقیمت الصلاۃ فلا صلاۃ إلا المکتوبۃ، (ص :۸۰) 
 -صحیح ابن خزیمۃ، کتاب الصلاۃ، باب النہي عن أن یصلي رکعتي الفجر بعد الإقامۃ الخ، (۲/۱۶۹) ، المکتب الإسلامي، بیروت، لبنان۔
- صحیح ابن حبان، کتاب الصلاۃ، باب فرض متابعۃ الإمام، (۵/۵۶۶) ، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، لبنان۔
۴۳:- مصنف عبد الرزاق، کتاب الصلاۃ، باب إذا أقیمت الصلاۃ فلا صلاۃ إلا المکتوبۃ، (۲/۴۳۶) ۔
۴۴:- کتاب الأذان، باب إقامۃ الصف من تمام الصلاۃ، (۱/۱۰۰) 
۴۵:- مصنف عبدالرزاق، کتاب الصلاۃ، باب الصفوف (۲/۴۴) ، البتہ’’مصنف عبد الرزاق‘‘ میں ’’من تمام الصلاۃ إقامۃ الصف‘‘ کے الفاظ ہیں۔
۴۶:- کتاب الأذان ، باب المرأۃ وحدہا تکون صفا (۱/۱۰۰)
۴۷:- فتح الباري، کتاب الأذان،باب المرأۃ تکون وحدہا تکون صفا، (۲/۲۱۲) 
۴۸:- التمہید لما في الموطا من المعاني والأسانید (۱/۲۶۸) ، وزارۃ عموم الأوقاف والشؤون الإسلامیۃ ۔
۴۹:- کتاب الجنائز، باب الکفن من جمیع المال، (۱/۱۷۰) 
۵۰:- المعجم الأوسط، باب المیم، من اسمہ : محمد، (۷/۲۴۵) 
۵۱:- العلل لابن أبي حاتم، علل أخبار رویت في الغزو والسیر، (۳/۵۷۳-۵۷۴) ، مطابع الحمیضي۔
۵۲:- کتاب الصوم، باب شہرا عید لا ینقصان، (۱/۲۵۶) 
۵۳:- فتح الباري، کتاب الصوم، باب شہرا عید لا ینقصان، (۴/۱۲۴) 
۵۴:- کتاب الأحکام، باب الأمراء من قریش، (۲/۱۰۵۷) 
۵۵:- مسند أحمد، مسند البصریین،حدیث أبي برزۃ الأسلمي، (۳۳/۴۲) ، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت، لبنان۔
۵۶:- کتاب العلم، باب الفہم في العلم، (۱/۱۶) 
۵۷:- کتاب العلم، باب من جعل لأہل العلم أیاما معلومۃ، (۱/۱۶) 
۵۸:- کتاب الجنائز، باب ما جاء في قاتل النفس، (۱/۱۸۲) 
۵۹:- فتح الباري، کتاب الجنائز، باب ما جاء في قاتل النفس، (۳/۲۲۶) 
۶۰:- کتاب الوضوء ، باب الرجل یوضیٔ صاحبہ، (۱/۳۰) 
۶۱:- فتح الباري، کتاب الوضوء ، باب الرجل یوضیٔ صاحبہ، (۱/۲۸۵) 
۶۲:- کتاب الأذان، باب ما یقول بعد التکبیر، (۱/۱۰۲-۱۰۳) 
۶۳:- کتاب الوضوء ، باب أبوال الإبل ألخ، (۱/۳۶) 
۶۴:- کتاب الأذان، باب إذا صلی ، ثم أم قوما، (۱/۹۸) 
۶۵:- کتاب العلم، باب کتابۃ العلم، (۱/۲۱) 
۶۶:- کتاب الأیمان والنذور، باب إذا حنث ناسیا في الأیمان، (۲/۶۸۹) 
۶۷:- کتاب الطلاق، باب إذا أسلمت المشرکۃ أو النصرانیۃ تحت الذمي أو الحربي، (۲/۷۹۶) 
۶۸:- کتاب الأذان، باب وجوب صلاۃ الجماعۃ، (۱/۸۹) 
۶۹:- کتاب التیمم، باب التیمم للوجہ والکفین، (۱/۴۸) 
۷۰:- کتاب التیمم، باب التیمم ضربۃ، (۱/۵۰) 
۷۱:- کتاب مواقیت الصلاۃ، باب الأذان بعد ذہاب الوقت، (۱/۸۳) 
۷۲:- کتاب التیمم، باب ہل ینفخ فیہما؟، (۱/۴۸) 
۷۳:- کتاب الصوم، باب ہل یقول : إني صائم إذا شتم، (۱/۲۵۵) 
۷۴:- کتاب الحیض، باب ہل تصلي المرأۃ في ثوب حاضت فیہ، (۱/۴۵) 
۷۵:- کتاب الوضوء ، باب ہل یمضمض من اللبن؟، (۱/۳۴) 
۷۶:- کتاب العسل، باب ہل یدخل الجنب یدہ في الإناء ؟الخ، (۱/۴۰) 
۷۷:- أبواب المظالم والقصاص، باب ہل تکسر الدنان التی فیہا الخمر؟ إلخ، (۱/۳۳۶) 
۷۸:- کتاب الأذان، باب ہل یخرج من المسجد لِعلۃ؟، (۱/۸۹) 
۷۹:- کتاب البیوع، باب ہل یسافر بالجاریۃ قبل أن یستبرئہا؟، (۱/۲۹۷) 
۸۰:- کتاب الطب، باب ہل یستخرج السحر، (۲/۸۵۸) 
۸۱:- کتاب الوضوء ، باب من لم یر الوضوء إلا من المخرجین إلخ، (۱/۲۹) 
۸۲:- کتاب الوضوء ، باب من لم یتوضأ إلا من الغشي المثقل، (۱/۳۰) 
۸۳:- کتاب العلم، باب من برک علی رکبتیہ عند الإمام أو المحدث، (۱/۲۰) 
۸۴:- کتاب العلم، باب من رفع صوتہ بالعلم، (۱/۱۴) 
۸۵:- کتاب العلم، باب من قعد حیث ینتہي بہ المجلس إلخ، (۱/۱۵) 
۸۶:- کتاب الوضوء ، باب من تبرز علی لبنتین، (۱/۲۶) 
۸۷:- کتاب فضائل القرآن، باب من قال : لم یترک النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم إلا مابین الدفتین، (۲/۷۵۱) 
۸۸:- کتاب العلم، باب من برک علی رکبتیہ عند الإمام أو المحدث، (۱/۲۰) 
۸۹:- کتاب العلم، باب من قعد حیث ینتہي بہ المجلس،إلخ، (۱/۱۵) 
۹۰:- کتاب العلم، باب من رفع صوتہ بالعلم، (۱/۱۴) 
۹۱:- کتاب المناقب، باب ذکر قحطان، (۱/۴۹۸) 
۹۲:- کتاب المناقب، باب قصۃ زمزم، (۱/۴۹۹) 
۹۳:- کتاب الأذان، باب قول الرجل : فاتتنا الصلاۃ، (۱/۸۸) 
۹۴:- شرح عمدۃ الأحکام، کتاب الصلاۃ، باب المواقیت، (ص :۲۳۲) ، دار ابن حزم، ۱۴۲۳ھ
۹۵:- أیضًا۔                    ۹۶:- کتاب الحیض، باب ترک الحائض الصوم، (۱/۴۴) 
۹۷:- باب کیف کان بدء الوحی إلی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، (۱/۲) 
۹۸:- کتاب الحیض، باب کیف کان بدء الحیض إلخ، (۱/۴۳) 
۹۹:- کتاب الأذان، باب بدء الأذان إلخ، (۱/۸۵) 
۱۰۰:- کتاب الاستیذان، باب بدء السلام، (۲/۹۱۹) 
۱۰۱ :- کتاب بدء الخلق (۱/۴۵۳) 
۱۰۲:- کتاب الوضوء ، باب لا تستقبل القبلۃ بغائط أو بول إلا عند البناء جدار أو نحوہ، (۱/۲۶) 
۱۰۳:- کتاب الجنائز، باب قول النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم : یعذب المیت ببعض بکاء أہلہ علیہ، (۱/۱۷۱) 
۱۰۴:- کتاب مواقیت الصلاۃ، باب من أدرک رکعۃ من العصر قبل الغروب، (۱/۷۹) 
۱۰۵:- کتاب الجمعۃ، باب الصلاۃ بعد الجمعۃ وقبلہا، (۱/۱۲۸) 
۱۰۶:- زاد المعاد في ھدي خیر العباد، فصل في ھدیہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم في الخطبۃ (۱/۴۱۸) ، موسسۃ الرسالۃ، بیروت، لبنان۔
۱۰۷:- کتاب الصلاۃ، باب التقاضي والملازمۃ في المسجد، (۱/۶۵) 
۱۰۸:- کتاب الصلاۃ، باب کنس المسجد والتقاط الخرق الخ، (۱/۶۵) 
۱۰۹:- کتاب الہبۃ وفضلہا والتحریض علیہا، باب إذا وہب ہبۃ فقبضہا الآخر ولم یقل : قبلت، (۱/۳۵۴) 
۱۱۰:- کتاب الہبۃ وفضلہا والتحریض علیہا، باب إذا وہب جماعۃ لقوم إلخ، (۱/۳۵۵) 
۱۱۱:- کتاب العتق، باب إذا أعتق عبدا بین إثنین أو أمۃ بین الشرکاء ، (۱/۳۴۲) 
۱۱۲:- أبواب المظالم والقصاص، باب إذا کسر قصعۃ أو شیئا لغیرہ، (۱/۳۳۶) 
۱۱۳:- کتاب في الاستقراض وأداء الدیون والحجر والتفلیس، باب إذا أقرضہ إلٰی أجل مسمی إلخ، (۱/۳۲۳) 
۱۱۴:- أبواب المظالم والقصاص، باب ہل تکسر الدنان التي فیہا الخمر؟ إلخ، (۱/۳۳۶) 
۱۱۵:- کتاب الہبۃ وفضلہا والتحریض علیہا، باب إذا وہب دینا علی رجل، (۱/۳۵۴) 
۱۱۶:- کتاب الوصایا، باب إذا وقف أرضا ولم یبین الحدود فہو جائز، وباب إذا وقف جماعۃ أرضا مشاعا فہو جائز، (۱/۳۸۸) 
 ۱۱۷ :- کتاب الوکالۃ، باب إذا وکل المسلم حربیا في دار الحرب أو دار الإسلام جاز، (۱/۳۰۸) 
 ۱۱۸ :- کتاب العتق، باب إذا أعتق نصیبا في عبد ولیس لہ مال استسعي العبد غیر مشقوق علیہ علی نحو الکتابۃ، (۱/۳۴۳) 
 ۱۱۹ :- شرح عمدۃ الأحکام، کتاب الطہارۃ، باب السواک، (ص:۱۲۵-۱۲۶)

(جاری ہے)

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے