بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 28 فروری 2020 ء

بینات

 
 

شرعی عائلی احکام کی دفعہ بندی: قانونِ رضاعت (دسویں قسط)

شرعی عائلی احکام کی دفعہ بندی:

قانونِ رضاعت         (دسویں قسط)


دودھ سے متعلق احکام

دفعہ۱۶۔ دودھ کی مختلف شکلیں اور ان کے احکام

دودھ کی مختلف شکلوں کے متعلق احکام درج ذیل ہوں گے:
(۱) دودھ کی ماہیت تبدیل ہوگئی تو حرمتِ رضاعت کا تحقق نہ ہوگا۔
(۲) دو یا زائد عورتوں کامخلوط دودھ بچہ نے پیا تو غالب اور مغلوب کا لحاظ کیے بغیر ہر ایک سے حرمت ثابت ہوگی۔
(۳) اگر دوعورتوں کا دودھ مقدار میں برابر ہو تو بالاتفاق دونوں سے حرمت ثابت ہوگی۔
(۴) اگر دودھ کو کسی جامد غذائی جنس کے ساتھ ملاکر پلایا گیا تو حرمت ثابت نہ ہوگی، خواہ دودھ کو پکایا گیا ہو، نہ پکا یا گیا ہو اور دودھ کی مقدار کم ہو یا زیادہ۔
(۵) اگر دودھ کسی دوسری عورت کے دودھ کے علاوہ کسی مائع چیز کے ساتھ ملاکر پلایا گیا تو غالب کا اعتبار ہوگا۔

دفعہ۱۷۔حرمتِ رضاعت کے ثبوت کے لیے دودھ کی مقدار

حرمتِ رضاعت اتنی مقدار دودھ پینے سے ثابت ہوجائے گی جس مقدار کا حلق سے اُتر کر پیٹ میں پہنچنا یقینی ہو۔

رضاعت بحیثیت حق

دفعہ۱۸۔رضاعت نومولود کا بنیادی حق

رضاعت نومولود کا بنیادی حق ہے۔

دفعہ۱۹۔مدتِ رضاعت کی تکمیل

کوئی معقول عذر مانع نہ ہو تو بچہ کا حق ہے کہ اسے کامل دوسال دودھ پلایا جائے۔

دفعہ۲۰۔ ماں کا حقِ رضاعت سب سے فائق ہے

رضاعت کا اولین حق ماں کو ہے، خواہ وہ بچے کے باپ کی زوجیت میں ہو، یا عدت گزار رہی ہو، یا عدت گزارنے کے بعداجنبیہ بن چکی ہو، اگر عدت میں ہو تو عدت طلاق کی ہو یا وفات کی ،اگر طلاق کی ہو تو طلاقِ رجعی ہو یا بائن ،اگر بائن ہو توبینونتِ صغریٰ ہو یا کبریٰ ،مسلمہ ہو یا غیر، دارالاسلام میں ہو یا دارالحرب میں ، آیسہ ہو یا ثیبہ، مگر شرط یہ ہے کہ:
 الف۔رضاعت میں رغبت اوراس پرقدرت رکھتی ہو۔ 
ب۔بلامعاوضہ رضاعت پر رضامند ہو۔
ج۔اگر رضاعت پر اُجرت طلب کرتی ہو تو اجنبی عورت سے زیادہ معاوضہ کا تقاضا نہ کرتی ہو۔
 د۔ماں کا دودھ رضیع کے لیے مضر نہ ہو۔

دفعہ۲۱ ۔رضاکار عورت کا حق کب مقدم ہے ؟

ماں رضاکارانہ رضاعت پر یا اجنبیہ سے کم اُجرت پر آمادہ ہو تو اس کاحقِ رضاعت بالاتفاق مقدم ہے، لیکن اگر ماں اُجرت طلب کرتی ہواور کوئی عورت رضاکارانہ رضاعت پر آمادہ ہویاماں سے کم اُجرت مانگتی ہوتوحنابلہ اور مالکیہ کے نزدیک ماں اُجرتِ مثل پر اجنبیہ سے مقدم ہے اور حنفیہ وشافعیہ کے نزدیک اجنبیہ مقدم ہے۔ 

رضاعت بحیثیت ذمہ داری

دفعہ۲۲۔ماں پر دودھ پلانا کب لازم ہے؟

ماں پر از روئے قضا دودھ پلانا لازم نہیں، مگر جب:
۱۔ ماں کے علاوہ کوئی اورمرضعہ نہ ہویا ہو مگر رضاعت پرآمادہ نہ ہو۔
۲۔مرضعہ رضاعت پر آمادہ ہو، مگر بچہ اس کا دودھ نہ پیتا ہو۔
۳۔بچہ دودھ پیتا ہو،مگر مرضعہ اُجرت طلب کرتی ہواور بچہ اور اس کا والد مفلس ہوں۔
توضیح: ماں پر رضاعت کا وجوبِ استحقاق اُجرت کے منافی نہیں۔

دفعہ۲۳۔جن صورتوں میں ماں پر رضاعت کا وجوب نہیں

۱۔ماں کا دودھ ہی نہ ہو۔
۲۔دودھ ہو مگر قلیل کالمعدوم ہو۔
۳۔رضاعت خود ماں کے لیے بوجہ مرض یا ضعف ‘مضرت کا باعث ہویا ماں کسی اورمعقول وجہ سے رضاعت سے معذور ہو۔
۴۔بچہ ماں کا دودھ پیتا نہ ہو۔
۵۔ماں کا دودھ بچے کے لیے ضرر کا باعث ہو۔
۶۔ماں کا دودھ بچے کو موافق نہ آتا ہو ۔
۷۔کوئی دوسری عورت رضاعت پر آمادہ ہو اور بچہ بھی اس کا دودھ پیتا ہو۔
۸۔دوسری عورت اُجرت طلب کرتی ہومگربچہ کے پاس مال ہویا بچہ فقیر ہو مگر باپ اَنَّا کے اخراجات اٹھا سکتاہو۔
۹۔ ماں کو بالجبر حقِ رضاعت سے محروم کردیا گیا ہو۔
۱۰۔بچہ کی مدتِ رضاعت گزرچکی ہو۔

دفعہ۲۴۔یتیم کے لیے رضاعت کا انتظام کس کی ذمہ داری ہے؟

یتیم کے لیے رضاعت کا انتظام اس شخص یا اشخاص پر ہے جو اس کے جائز وارث اور محرم ہوں۔
توضیح: یتیم کے نان ونفقہ کی ذمہ داری بھی دفعہ بالامیں مذکور اشخاص پر عائد ہوگی۔
توضیح: ایک سے زائد محرم ورثا ء ہونے کی صورت میں ہر ایک پراپنے حصۂ وراثت کے بقدر رضاعت کے اخراجات کی ذمہ داری عائد ہوگی۔

اُجرت کے احکام

دفعہ۲۵۔ ماں کب اُجرت کی مستحق نہیں؟

 (۱)ماں اپنے بچے کو دودھ پلانے پر اُجرت کی مستحق نہیں ،اگر:
بچے کے باپ کے نکاح میں ہو
یا طلاقِ رجعی کی عدت میں ہو
(۲) ماں اپنے بچے کو دودھ پلانے پر اُجرت کی مستحق ہوگی،اگر:
طلاقِ بائن کی عدت میں ہو، یاعدتِ وفات میں ہو،یاعدت گزار چکی ہو، خواہ عدت طلاقِ رجعی کی ہو،طلاقِ بائن کی ہویاوفات کی ہو۔
توضیح: طلاقِ بائن کی صورت میں بینونتِ صغریٰ وکبریٰ کا حکم یکساں ہے۔
استثناء: بیوی اپنے شوہر کے بچے کو دودھ پلانے پر اُجرت طلب کرنے کا حق رکھتی ہے، اگرچہ شوہر کی منکوحہ یا معتدہ ہو۔

دفعہ۲۶۔ ماں کب بلامعاہدہ رضاعت پر اُجرت کی مستحق ہے

جن صورتوں میں ماں کو اُجرت کا استحقاق رہتا ہے، ان صورتوں میں ماں بوجہ رضاعت اُجرت کی مستحق ہوگی، اگرچہ رضیع کے ولی یا وصی سے اُجرت کا کوئی معاہدہ نہ ہوا ہو،اور درصورتِ تنازع عدالت ماں کے حق میں اُجرتِ مثل کی ڈگری جاری کرے گی، اگر اُجرت پہلے سے طے شدہ نہ ہو۔
شرط۱۔ مگر لازم ہوگا کہ اُجرت کے معاملے میں رضاعت کی مدت صرف دوسال ہوگی۔
شرط۲۔ مزید شرط ہوگا کہ اُجرت کا استحاق تاریخِ رضاعت سے ہوگا۔

دفعہ۲۷۔ اُجرت کا حکم

اُجرتِ رضاعت مثلِ دَین‘ ادائیگی یا معافی سے ہی معاف ہوسکتی ہے۔ بنا برایں:
اگر مستحق کو اُجرت وصول نہ ہواور اس نے اپنا حق معاف بھی نہ کیا ہو اور ادائیگی سے قبل مدیون کا انتقال ہوجائے تو اُجرت بحکمِ دَین متوفی مدیون کے مال سے تقسیمِ ترکہ سے قبل منہا کی جائے گی اور اگر دائن کا انتقال ہوجائے تو دَین اس کا ترکہ شمار ہوگا جو حسبِ حصصِ شرعی اس کے ورثاء میں تقسیم ہوگا۔
اجرت بچے یا اس کے والد کے متروکہ مال سے وضع کی جائے گی، اگر بچہ یا اس کا باپ ادائیگی سے قبل وفات کرجائے اور اُجرت دودھ پلانے والی کا ترکہ شمار ہوگی، اگر وہ وصولی سے قبل انتقال کرجائے۔

دفعہ۲۸۔ اُجرتِ رضاعت کس کے ذمہ لازم ہے؟

الف۔ رضاعت کی اجرت بچہ کے مال میں سے محسوب ہوگی۔
ب۔اگر بچہ کا مال نہ ہوتو باپ پر ادائیگی لازم ہوگی۔
ج۔اگر باپ نہ ہو تو جس پر نفقہ کا وجوب ہو اس پر لازم ہوگی۔
توضیح: اُجرت کی مقدار کے سلسلے میں باہمی قراداد کے مطابق عمل درآمدہوگا اور کسی مقدار پر عدمِ اتفاق کی صورت میں اُجرتِ مثل لازم ہوگی جس کی تعیین عدالت کے سپرد ہوگی۔

دفعہ۲۹۔ اُجرت پر مصالحت کا حکم

اُجرت پر مصالحت جائز ہے، بشرطیکہ دفعہ کے تحت ماں اُجرت کی مستحق ٹھہرتی ہو۔

اَنَّا سے متعلق احکام

دفعہ۳۰۔ باپ پر اَنَّا کا انتظام کب لازم ہوگا؟

دفعہ کے احکام کے تابع جب ماں پرازروئے شرع رضاعت لازم نہ ہو اور وہ رضاعت پر رضامند بھی نہ ہو تو بچے کے باپ پر لازم ہے کہ بچے کے لیے اَنَّا کاانتظام کرے۔

دفعہ۳۱۔ ماں کے سوا دوسری عورت کا دودھ پلوانے کا حکم

باپ اگر کسی معقول مصلحت کے تحت ماں کے علاوہ کسی اور عورت سے اپنے بچے کو دودھ پلوانا چاہے تو اس کا مجاز ہے۔

دفعہ۳۲۔ اَنَّا کو مدتِ اجارہ ختم ہونے کے بعد اجارہ جاری رکھنے پر مجبور کرنا

اَنَّا کو مدتِ اجارہ کے اختتام کے بعد بھی رضاعت پر مجبور کیا جائے گا ،اگر بچہ کسی اور عورت کا دودھ نہ پیتا ہو،البتہ وہ ماں کے پاس بچہ کو دودھ پلانے کی پابند نہ ہوگی، اگر اجارہ میں اس طرح کی شرط عائد نہ کی گئی ہو۔

دفعہ۳۳ ۔ مقامِ رضاعت

مرضعہ مقامِ حضانت پر رضاعت کی پابند ہوگی، مگر وہاںسکونت کی پابند نہ ہوگی، الایہ کہ معاہدۂ رضاعت میں شرط ٹھہرا یا گیا ہو اور درصورتِ اختلاف کسی معاہدہ کی عدم موجودگی میں مقامِ رضاعت کے سلسلے میں حسبِ عرف ورواج عمل درآمد ہوگا۔                                (جاری ہے)
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے