بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 15 نومبر 2019 ء

بینات

 
 

’’ شرائع من قبلنا ‘‘  اور اُن کا حکم                            (چھٹی قسط)

’’ شرائع من قبلنا ‘‘  اور اُن کا حکم

 

(چھٹی قسط)

 

دوسرے مسلک کی وضاحت اور دلائل

دوسرامسلک یہ ہے کہ :’’شَرَائِعُ مَنْ قَبْلَنَا‘‘ کے کسی بھی حکم کی اتباع ہمارے او پر واجب نہیں، الا یہ کہ کسی دلیل سے ’’شَرَائِعُ مَنْ قَبْلَنَا‘‘ کے کسی متعین حکم پرعمل کرنے کاوجوب ثابت ہوجائے ۔‘‘
یہ مسلک پہلے مسلک کے بالکل برعکس ہے ،جو اس قاعدے پر مبنی ہے کہ: ’’ہرآسمانی شریعت صاحبِ شریعت(نبی) کی وفات یا دوسرے نبی کی بعثت کے ساتھ اختتام پذیر ہو جاتی ہے۔‘‘
اس اُصول کے مطابق شریعتِ موسویہ حضرت موسیٰ m کی وفات یاحضرت عیسیٰ m کی بعثت کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی ، اور شریعتِ عیسویہ حضرت عیسیٰ m کے رفع آسمانی یاحضرت محمد a کی بعثت کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔اس قول کاحاصل یہ ہے کہ ’’شرائع‘‘ میں اصل اختصاص ہے، ہرنبی کی شریعت اس کے ساتھ خاص ہے،جب تک وہ نبی حیات ہیں، ان کی شریعت قابلِ عمل ہے۔ دوسرے نبی کے آنے کے بعدنئی شریعت آجاتی ہے، اور سابق نبی کی شریعت قابلِ عمل نہیں رہتی، تاہم درمیانی عرصہ کے حوالے سے دونوں احتمالات ہیں،دوسرے نبی کی بعثت تک پہلی شریعت قابلِ عمل ہے،یا پہلے نبی کی وفات کے ساتھ ہی شریعت منسوخ ہوجاتی ہے،لیکن اس سے شریعت کے اختصاصی ہونے پر اَثر نہیں پڑتا۔ 
دوسرے مسلک کی صحت پر بھی نقلی وعقلی دلائل سے استدلال کیاگیا ہے، ملاحظہ ہوں:
(الف)نقلی دلائل
حسبِ ذیل آیاتِ کریمہ سے اس مسلک پر استدلال کیا گیا ہے:
پہلی نقلی دلیل
’’لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْہَاجًا۔‘‘ (المائدۃ:۴۸)
’’ہر ایک کو تم میں سے دیا ہم نے ایک دستور اور راہ ۔‘‘
 اس کا مقتضا یہ ہے کہ ہر اُمت کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک شریعت نازل فرمائی ہے، جو اس کے ساتھ خاص ہے، اور اس اُمت کا نبی اسی شریعت کی پیروی کرنے اور اس کی طرف دعوت دینے کا پابند ہے۔(۱) 
 دوسری نقلی دلیل
 الف:۔۔۔۔۔ ’’وَأٰتَیْنَا مُوْسٰی الْکِتَابَ وَجَعَلْنَاہُ ہُدًی لِّبَنِیْ إِسْرَائِیْلَ۔‘‘ (الإسراء :۲)
’’اور دی ہم نے موسیٰ کو کتاب اور کیا اس کو ہدایت بنی اسرائیل کے واسطے۔‘‘
ب:۔۔۔۔۔ ’’وَلَقَدْ أٰتَیْنَا مُوْسٰی الْکِتَابَ فَلَا تَکُنْ فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْ لِّقَائِہٖ وَجَعَلْنَاہُ ہُدًی لِّبَنِیْ إِسْرَائِیْلَ۔‘‘                                                       (السجدۃ:۲۳)
’’اورہم نے دی ہے موسیٰ کو کتاب سو تو مت رہ دھوکے میں اس کے ملنے سے اور کیا ہم نے اس کو ہدایت بنی اسرائیل کے واسطے۔‘‘
استدلال کا خلاصہ
ان دونوں آیاتِ کریمہ میں اس بات کی صراحت ہے کہ موسیٰ mکو دی گئی کتاب،یعنی تورات، خاص بنی اسرائیل کے لیے ہدایت ہے۔ امام سرخسیv اس استدلال کو نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’پس بنی اسرائیل کو اس بات کے ساتھ خاص کرنا کہ ’’ توراۃ اُنہیں کے لیے ہدایت ہے‘‘ اس بات کی دلیل ہے کہ ہم(اُمتِ محمدیہl) پر توراۃ کے احکام کی پیروی لازم نہیں، الا یہ کہ کوئی دلیل قائم ہو، جو اس بات کوثابت کرے کہ ہماری شریعت میں بھی توراۃ کے احکام پر عمل کرنا واجب ہے۔‘‘(۲)
(ب)دلیل عقلی
ہراُمت کے لیے شریعتِ خاصہ کا ہونا اس لیے اصل اور ضروری ہے کہ بعثتِ انبیاء کا مقصد ہی یہ ہے کہ ہر نبی اپنی اُمت کے سامنے محتاجِ بیان اُمور کو بیان کریں، تو اگرآنے والے رسول کی آمد وبعثت کے ساتھ پچھلے نبی کی شریعت اختتام پذیر نہ ہو اور آنے والا رسول ازسرِنو کوئی شریعت لے کر نہ آئے، تو دوسرے رسول کی بعثت کے وقت کسی امر کے بیان کی ضرورت نہیں ہوگی، اور اس نئے آنے والے نبی کی بعثت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور سنتِ الٰہیہ یہ ہے کہ بغیر کسی فائدہ ومقصد کے کسی رسول کو مبعوث نہیں کیا جاتا۔ پس ثابت ہوا کہ ہر نبی اوررسول کے ساتھ نئی شریعت اُتاری جاتی ہے، جو اس کے ساتھ خاص ہوتی ہے، صاحبِ کشف الاسرار کی عبارت کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیے:
’’اور دلیلِ عقلی سے بھی یہ بات ثابت ہے، اور وہ یہ کہ اصل یہ ہے کہ گزشتہ شریعت میں خصوصیت ہو، اس لیے کہ رسول کی بعثت صرف اس لیے ہوتی ہے کہ وہ اس اُمت کے لیے محتاجِ بیان اُمور کو بیان کرے۔ اگر گزشتہ رسول کی شریعت آنے والے رسول کی شریعت سے اختتام پذیر نہ ہو، اور دوسرا رسول از سرِنو نئی شریعت لے کر نہ آئے، تو گویا دوسرے رسول کی بعثت کے وقت لوگوں کو احکام بیان کرنے کی ضرورت وحاجت نہ ہوئی، پس اس کو مبعوث کرنے کا فائدہ نہیں ہوا، جبکہ اللہ تعالیٰ بغیر کسی فائدہ کے رسول نہیں بھیجتے، پس ثابت ہوا کہ ہر شریعت نبی کے ساتھ خاص ہونا ہی اصل ہے۔‘‘ (۳)
یہی وجہ ہے کہ یہ صرف ان احکام میں ہوگا جن میں نسخ ممکن ہے، یعنی فروعی احکام میں، اصول میں نہیں۔ امام سرخسیؒ فرماتے ہیں:
’’اسی لیے ہم نے اس کو ان احکام میں نسخ کی طرح قراردیا، جن میں نسخ کا احتمال ہے، ان احکام میں نہیں جن میں نسخ کا احتمال نہیں، جیسے توحید اور اصول الدین، کیا دیکھتے نہیں ہو کہ رسل o میں ان اُمور کے حوالے سے کوئی اختلاف نہیں، نہ اصل میں اور نہ وصف میں، اور ان میں اختلاف ممکن بھی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ بات قطعی ویقینی ہے کہ ہمارے نبی a کی شریعت قیامت تک باقی رہے گی، اس لیے کہ ہم دلیل قطعی سے یہ بات جانتے ہیں کہ آپ a کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں کہ(اس کی شریعت)آپ a کی شریعت کے لیے ناسخ بن جائے۔‘‘(۴)
(ج)مخصوص قوم اورعلاقے کی طرف انبیائB کی بعثت سے استدلال
اختصاصی شریعت کے نظریہ کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ بعض انبیاء B کی شریعتیں کسی خطے وعلاقے کے لوگوں ساتھ مخصوص تھیں اور صرف اس خطے والے لوگوں پر اس نبی کی شریعت کی پیروی اور اتباع لازم تھی، دوسرے خطے والوں پر نہیں،مثلاً: حضرت شعیب m اور حضرت موسیٰ m کی بعثت و نبوت کا زمانہ ایک تھا، جیسا کہ سورۂ قصص(آیات۲۳-تا-۲۸) میں حضرت شعیب اورحضرت موسیٰ n کی ملاقات کا صراحتًاتذکرہ ہے، لیکن حضرت شعیب m کی بعثت اہلِ مدین اور اصحاب الأیکۃکی طرف ہوئی تھی، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’وَإِلٰی مَدْیَنَ أَخَاہُمْ شُعَیْبًا۔‘‘     (الأعراف:۱۵)
’’اور مدین کی طرف بھیجا ان کے بھائی شعیب کو۔‘‘
نیز ارشاد ہے:
’’کَذَّبَ أَصْحٰبُ الْأَیْکَۃِ الْمُرْسَلِیْنَ إِذْ قَالَ لَہُمْ شُعَیْبٌ ألَاَتَتَّقُوْنَ۔‘‘      (الشعرائ: ۱۷۵-۱۷۶)
’’جھٹلایا بَن کے رہنے والوں نے پیغام لانے والوں کوجب کہا ان کو شعیب نے کیا تم ڈرتے نہیں۔‘‘
 جبکہ حضرت موسیٰ m کابنی اسرائیل کانبی وپیغمبرہونا أظہرمن الشمس ہے۔
استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح یہ ممکن بلکہ ایک امر واقع ہے کہ استثنائی صورتوں کے علاوہ گزشتہ انبیائo کی بعثت کسی ایک محدود علاقے اورمخصوص قوم کے ساتھ مختص ہوتی تھی،جیسا کہ اس حدیث شریف سے اس کی تائید ہوتی ہے :
’’ أُعْطِیْتُ خَمْسًا لَمْ یُعْطَہُنَّ أَحَدٌ قَبْلِیْ۔۔۔ وَکَانَ النَّبِیُّ یُبْعَثُ إِلٰی قَوْمِہٖ خَاصَّۃً وَبُعِثْتُ إِلٰی النَّاسِ عَامَّۃً ۔‘‘ (۵)
’’مجھے پانچ خصوصیتوں سے نوازاگیا ،جومجھ سے پہلے کسی کونہیں دی گئیں: مجھ سے پہلے نبی صرف اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوتے تھے،جبکہ میں تمام لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں ۔‘‘
تو اس طرح یہ بھی ممکن ہے کہ گزشتہ تمام انبیائo کی نبوت و بعثت ایک زمانے کے لوگوں کے ساتھ مختص ہو، اور دوسرے زمانے کے لوگوں پر اس شریعت کی پیروی لازم نہ ہو، بلکہ اس کے لیے دوسرے نبی کو مبعوث کیاگیا ہو، اور اس سے کوئی خرابی لازم نہ آئے۔ بالفاظِ دیگر جب اختصاص النبوۃ بالمکان دون مکان ممکن بلکہ واقع ہے، تو اختصاص النبوۃوالشریعۃ بالزمان دون زمان بھی ممکن ہو، اور اس میں کوئی قباحت وخرابی نہ ہو۔ صاحب کشف الاسرار فرماتے ہیں:
’’جب یہ بات ثابت ہوئی کہ انبیاء کرامo میں سے ایسے رسول گزرے ہیں جن کی شریعت پر عمل کرنا ایک علاقے کے لوگوں پر واجب تھا، دوسرے علاقے کے لوگوں پر نہیں، اور اگر یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ تھا، تو اس سے ہم جان گئے کہ یہ بھی ممکن ہے کہ کسی شریعت پر عمل کرنے کا وجوب ایک زمانے کے لوگوں پر ہو، دوسرے زمانے کے لوگوں پر نہیں۔ اور یہ کہ وہ شریعت دوسرے نبی کی بعثت کے ساتھ اختتام پذیر ہو، پس تحقیق یہ بھی ممکن ہے کہ اس ایک زمانے میں دو نبی دومختلف علاقوں میں بیک وقت اس طرح نبی ہوں کہ ان میں سے ہر ایک اپنی اپنی شریعت کی طرف لوگوں کودعوت دے۔ تو اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایسا دوزمانوں میں بھی ممکن ہے اور یہ کہ بعد والے زمانے میں مبعوث پیغمبر اپنی ہی شریعت کی طرف لوگوں کو دعوت دے اور اس کی پیروی کا حکم دے، اور اپنے سے پہلے والی شریعت پر عمل کرنے کی دعوت نہ دے۔‘‘(۶)
جبکہ خاتم الانبیاء a کی بعثت ونبوت قیامت تک آنے والے تمام زمانوں اور روئے زمین پر آباد ہر خطے کے تمام لوگوں، بالفاظِ دیگر تمام انسانیت کے لیے ہے، کسی خاص قوم کے لیے نہیں،جیسا کہ قرآن مجید میں بھی ارشادِ ربانی ہے:
’’قُلْ یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ إِلَیْکُمْ جَمِیْعاً ۔‘‘ (الاعراف:۱۵۸)
’’تو کہہ: اے لوگو! میں رسول ہوں اللہ کا تم سب کی طرف ۔‘‘
اختصاصی شرائع سے استثنائی صورت
کبھی ایسا بھی ہوا ہے کہ ایک نبی کودوسرے نبی کا تابع بنا کر مبعوث کیاگیا،صاحبِ کشف الاسرارکی عبارت کا حاصل یہ ہے کہ: ’’ اصولی طور پر تو ہر نبی کی اپنی خاص شریعت ہوا کرتی تھی جو اس نبی کے ساتھ مختص ہوتی تھی، لیکن ایسی مثالیں بھی ہیں کہ کسی نبی کو الگ کوئی شریعت نہیں دی گئی، بلکہ اس زمانے میں موجود کسی اور رسول کی پیروی کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کے لیے ان کو مبعوث کیاگیا۔ قرآن مجید میں اس نوع کے دو واقعات صراحتاً مذکور ہیں، ایک حضرت لوط m کا، جن کو حضرت ابراہیم m کی شریعت کا پیروکار بنایا گیا ہے، اور دوسرے حضرت ہارون m کا، جو بدعاء سیدنا موسیٰm  ان کے معاون اور پیروکار تھے۔‘‘(۷)
حضرت لوط m کاتذکرہ حسب ذیل ارشاد خداوندی میں ہے:
’’فَآمَنَ لَہٗ لُوْطٌ وَقَالَ اِنِّیْ مُہَاجِرٌ إِلٰی رَبِّیْ إِنَّہٗ ہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ۔‘‘ (العنکبوت: ۲۶)
’’پھر مان لیا اس کو لوط ؑنے اور وہ بولا: میں تو وطن چھوڑتا ہوں اپنے رب کی طرف، بے شک وہ ہی ہے زبردست حکمت والا۔‘‘
اس آیتِ کریمہ کی تفسیر میں مفسرابو سعود رقم طراز ہیں:
’’(فَأٰمَنَ لَہٗ لُوْطٌ) أی صدَّقہٗ فی جمیع مقالاتِہٖ لا فی نُبُّوتِہٖ وما دعا إلیہ من التَّوحیدِ فقط ، فإنَّہٗ کان منزَّہاً عن الکُفر۔‘‘ (۸)
’’(فَأٰمَنَ)پھر مان لیا اس کو لوطm نے،یعنی لوط m نے ابراہیم m کی تصدیق کی تمام احکام میں، صرف ان کی نبوت اور توحید میں نہیںجس کی طرف ابراہیم m نے دعوت دی تھی ، اس لیے کہ لوط m کفر سے منزہ تھے۔‘‘
حضرت ہارون m کاتذکرہ اس آیت کریمہ میں ہے:
’’فَأَرْسِلْہُ مَعِیَ رِدْئً ا یُّصَدِّقُنِیْ۔‘‘             (القصص: ۳۴) 
’’سو اس کو بھیج میرے ساتھ مدد کو کہ میری تصدیق کرے ۔‘‘
’’وَاجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ أَہْلِیْ ہَارُوْنَ أَخِیْ۔‘‘         (طہ:۲۹-۳۰)
’’ اور دے مجھ کو ایک کام بٹانے والا میرے گھر کا، ہارون میرا بھائی۔‘‘
دوسرے مسلک کی مرجوحیت
 یہ استثناء درحقیقت دوسرے مسلک کے اثبات کے لیے تیسری دلیل یعنی اختصاصی شرائع سے استدلال پروارد ہونے والے اس اشکال کا جواب ہے کہ جب شرائع میں اصل تخصیص ہے کہ ہر علاقے اور ہر زمانے کے لیے الگ نبوت والگ شریعت ہو، تو لوط m اور ہارون m کی نبوتیں اور شریعتیں تو اختصاصی نہیں ہیں،بلکہ بنصِ قرآن دوسرے انبیائo کی تابع تھیں، تو یہ کہنا کس طرح صحیح ہوا کہ شرائع میں اصل اختصاص ہے؟! 
جواب کا حاصل یہ ہے کہ ان دونوں انبیائn کا معاملہ استثنائی ہے، لیکن یہ استثناء خود اس بات کی دلیل ہے کہ اختصاصی شرائع کا نظریہ نصوص کے خلاف ہے۔ اس سے دوسرے مسلک اور اس کے استدلالات کا جواب سمجھنا چاہیے۔
حوالہ جات
۱:-دیکھیے،کشف الاسرارشرح اصول البزدوی،ج:۳،ص:۲۱۴        ۲:-اصول السرخسی ، ج:۲،ص:۱۰۱
۳:-کشف الأسرار شرح اصول البزدوی،ج:۳،ص:۲۱۴        ۴:-اصول السرخسی ،ج:۲،ص:۱۰۱
۵:-صحیح البخاری، کِتَابُ التَّیَمُّمِ ،رقم:۳۳۵ ۔            ۶:-کشف الاسرار ،ج:۳،ص:۲۱۴
۷:-کشف الاسرار شرح اصول البزدوی،ج:۳،ص:۲۱۴        ۸:-تفسیر ابی السعود، ج:۷، ص:۳۷
                                                                              (جاری ہے)

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے