بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

15 ربیع الثانی 1442ھ- 01 دسمبر 2020 ء

بینات

 
 

سورۃ الفتح کی آخری آیت پر ایک استنباطی نظراور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمت


سورۃ الفتح کی آخری آیت پر ایک استنباطی نظر 

 

اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمت

 

قرآن کریم میں ارشادِ ربانی ہے:
 ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ أَشِدَّائُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَائُ بَیْْنَہُمْ تَرَاہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا سِیْمَاہُمْ فِیْ وُجُوْہِہِمْ مِّنْ أَثَرِ السُّجُوْدِ ذٰلِکَ مَثَلُہُمْ فِیْ التَّوْرَاۃِ وَمَثَلُہُمْ فِیْ الْإِنجِیْلِ کَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَہٗ فَأٰزَرَہٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰی عَلٰی سُوْقِہٖ یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِیَغِیْظَ بِہِمُ الْکُفَّارَ وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ أٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصَّالِحَاتِ مِنْہُمْ مَّغْفِرَۃً وَأَجْراً عَظِیْماً ۔‘‘ (الفتح:۲۹)
’’محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) خدا کے پیغمبر ہیں اور جو لوگ اُن کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے حق میں سخت ہیں اور آپس میں رحم دل، (اے دیکھنے والے!) تو اُن کو دیکھتا ہے کہ (خدا کے آگے) جھکے ہوئے سر بسجود ہیں اور خدا کا فضل اور اس کی خوشنودی طلب کر رہے ہیں۔ (کثرت) سجود کے اثر سے ان کی پیشانیوں پر نشان پڑے ہوئے ہیں۔ ان کے یہی اوصاف تورات میں(مرقوم)ہیں۔ اور یہی اوصاف انجیل میں ہیں۔ (وہ) گویا ایک کھیتی ہیں جس نے (پہلے زمین سے) اپنی سوئی نکالی، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر موٹی ہوئی اور پھر اپنی نال پر سیدھی کھڑی ہوگئی اور لگی کھیتی والوں کو خوش کرنے، تاکہ کافروں کا جی جلائے۔ جو لوگ ان میں سے ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے، ان سے خدا نے گناہوں کی بخشش اور اجرِ عظیم کا وعدہ کیا ہے ۔‘‘

آیت کا ربط 

 پچھلی آیت میں فرمایا: ’’ہُوَالَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا۔‘‘اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی اس گواہی اور شہادت کا تذکرہ ہے۔ (۱)
 ماقبل والی آیت میں دین کے غلبہ کا وعدہ ہے: ’’لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ‘‘ اور اس آیت میں فرمایا: ’’فَاسْتَوٰی عَلٰی سُوْقِہٖ‘‘ سے اس قوت اور غلبہ کی طرف اشارہ ہے۔(۲)
 آیت کا ربط اول سورت سے ۔۔۔۔۔ ابتدائے سورت میں فرمایا: ’’لِیُدْخِلَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ‘‘ اس آیت میں دونوں ’’مَغْفِرَۃً وَّأَجْرًا عَظِیْمًا‘‘ سے تکفیرِسیئات اور جنت مراد ہے۔
 آیت کا ربط درمیانِ سورت سے ۔۔۔۔۔ ’’لَقَدْ رَضِيَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ‘‘ (درمیان میں) اس آیت میں فرمایا: ’’یَبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا‘‘ دوسرا یہ کہ ’’مغفرۃ‘‘اس کا نتیجہ ہے۔(۳)
 آیت کا ربط ماقبل والی سورۃ سے ۔۔۔۔۔ یہ بالکل واضح ہے کہ سورت کا نام محمد ہے، سورۃ القتال بھی ہے: ’’أَشِدَّائُ عَلَی الْکُفَّارِ۔‘‘(۴)
 آیت کا ربط مابعد والی سورت سے ۔۔۔۔۔ یہاں ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘ فرمایا،ا گلی سورت کی ابتداء سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تخاطب کا خاص طریقہ سمجھایا،(۵) اور اس عمل پر اس وعدہ کو دہرایا گیا: ’’إِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ أَصْوَاتَہُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ‘‘ آگے فرمایا: ’’لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّأَجْرٌ عَظِیْمٌ‘‘ نیز یہاں ’’رُحَمَائُ بَیْنَہُمْ‘‘فرمایا اور وہاں ’’إِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ إِخْوَۃٌ‘‘ فرمایا۔
 آیت کا ربط قرآن کریم سے ۔۔۔۔۔ مطلب یہ کہ یہ مفہوم قرآن کریم میں دوسری جگہ کہاں آیا ہے؟ سورۂ مائدہ میں فرمایا: ’’أَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ أَعِزَّۃٍ عَلَی الْکَافِرِیْنَ‘‘(۶) سورۂ حشر میںفرمایا: ’’الَّذِیْنَ أُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ وَأَمْوَالِہِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا۔‘‘
 آیت کا ربط دیگر کتبِ سماویہ سے ۔۔۔۔۔ یہ مفہوم تورات اور انجیل میں بھی ہے: ’’ذٰلِکَ مَثَلُہُمْ فِیْ التَّوْرَاۃِ وَمَثَلُہُمْ فِیْ الْإِنجِیْلِ‘‘ (۷)
 جاننا چاہیے کہ یہ آیتِ کریمہ سورۃ الفتح کی آخری آیت ہے، جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ رسالت کا تعلق تین چیزوں سے ہے: ۱:-مرسِل(اللہ)، ۲:-مرسَل (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم )، ۳:-مرسَل الیہم (صحابہ کرامؓ)۔ ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ آیت کئی اعتبار سے (مُرْسِل)اللہ تعالیٰ کے ساتھ متعلق ہے:
 اللہ کا رسول کون؟: ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘
 اللہ پر ایمان لانے والے کون؟: ’’وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ‘‘
 اللہ تعالیٰ کی مخلوق کون؟: ’’وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ أَشِدَّائُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَائُ بَیْْنَہُمْ‘‘ (مومن وکافر)
 اللہ تعالیٰ کی عبادت: ’’تَرَاہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا‘‘ (نماز)
 قبولیت کی شرط:’’ یَّبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا‘‘ (اخلاص)
 اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبولیت پر انعام اور اس کی علامت: ’’سِیْمَاہُمْ فِیْ وُجُوْہِہِمْ‘‘ 
 اللہ تعالیٰ کی کتابیں: ’’ذٰلِکَ مَثَلُہُمْ فِیْ التَّوْرَاۃِ وَمَثَلُہُمْ فِیْ الْإِنجِیْلِ‘‘
 اللہ تعالیٰ کی قدرت: ’’کَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَہٗ‘‘
 اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت کا وعدہ:’’وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ أٰمَنُوْا‘‘ 
 اللہ کی جنت اور بندوں کے لیے بڑا اَجر: ’’مَغْفِرَۃً وَّأَجْرًا عَظِیْمًا‘‘
یہ آیتِ کریمہ کئی اعتبار سے مُرْسَل (رسول صلی اللہ علیہ وسلم )کے ساتھ متعلق ہے:
 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام: ’’مُحَمَّدٌ‘‘
 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لقب:’’رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘ 
 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کا نشان:’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘
 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ:’’وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ‘‘
 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جہاد:’’أَشِدَّائُ عَلَی الْکُفَّارِ‘‘
 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق:’’رُحَمَائُ بَیْْنَہُمْ‘‘، دوسری آیت میں اشارہ ہے: ’’بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَؤُفٌ رَّحِیْمٌ‘‘۔
 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت :’’تَرَاہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا‘‘ (نماز)
 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ اور دلیلِ نبوت: ’’ذٰلِکَ مَثَلُہُمْ فِیْ التَّوْرَاۃِ وَمَثَلُہُمْ فِیْ الْإِنجِیْلِ‘‘
 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاص:’’ یَّبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا‘‘ 
 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا نتیجہ : ’’وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ أٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصَّالِحَاتِ مِنْہُمْ مَّغْفِرَۃً وَأَجْراً عَظِیْمًا‘‘
یہ آیت کئی اعتبار سے مرسَل الیہم یعنی صحابہ ر ضی اللہ عنہم سے متعلق ہے(اور یہ زیادہ واضح ہے اس آیت سے):
 صحابہؓ کا معلم یعنی استاذ: ’’ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘
 صحابہؓ کا معاملہ کفار کے ساتھ:’’أَشِدَّائُ عَلَی الْکُفَّارِ‘‘ (۸)
 صحابہؓ کا آپس میں معاملہ: ’’رُحَمَائُ بَیْْنَہُمْ‘‘(۹)
 صحابہؓ کا خالق یعنی اللہ سے معاملہ: ’’تَرَاہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا‘‘ 
 صحابہؓ کا مقصدِ زندگی: ’’ یَّبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا‘‘ (۱۰)
 صحابہؓ کی علامت (اثر عمل صالح) ’’سِیْمَاہُمْ فِیْ وُجُوْہِہِمْ مِّنْ أَثَرِ السُّجُوْدِ‘‘ (۱۱)
 صحابہؓ کے اوصاف: ’’ذٰلِکَ مَثَلُہُمْ فِیْ التَّوْرَاۃِ وَمَثَلُہُمْ فِیْ الْإِنجِیْلِ‘‘ (۱۲)
 صحابہؓ کی ابتدائی وانتہائی حالت:’’ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰی عَلٰی سُوْقِہٖ‘‘(۱۳)
 صحابہؓ کے دشمن اور حاسدین: ’’لِیَغِیْظَ بِہِمُ الْکُفَّارَ‘‘
 صحابہؓ کا ٹھکانہ جنت: ’’مَغْفِرَۃً وَّأَجْرًا عَظِیْمًا‘‘(۱۴)

آیت میں متعدد اُمور کے بارے میں ترتیب کی رعایت 

 رسول اور صحابیؓ کے درمیان ترتیبِ مکانی کی رعایت: ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ‘‘(۱۵)
 خالق اور مخلوق کے حق کے درمیان ترتیب، مخلوق کا حق مقدم ہے، ’’أَشِدَّائُ عَلَی الْکُفَّارِرُحَمَائُ بَیْْنَہُمْ‘‘ مقدم ہے ’’تَرَاہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا‘‘ پر۔
 رکوع اور سجدہ میں وقتی (زمنی) ترتیب کی رعایت: ’’تَرَاہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا‘‘ 
فائدہ: اللہ تعالیٰ نے دعا کو سجدہ کے ساتھ بیان فرمایا ہے، اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سجدہ‘ دعا کے لیے زیادہ مناسب مقام ہے، جیساکہ حدیث میں وارد ہے : وَأَمَّا السَّجْدَۃُ فَأَکْثِرُوْا فِیْہِ الدُّعَائَ فَقَمُنَ أَنْ یُّسْتَجَابَ لَکُمْ۔(۱۶)
 سختی اور نرمی کے درمیان ترتیب کی رعایت، کیونکہ دفعِ مضرت مقدم ہے جلبِ منفعت پر۔پہلے تحلیہ ہے، پھر تخلیہ: ’’أَشِدَّائُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَائُ بَیْْنَہُمْ‘‘ 
 توراۃ اور انجیل میں ترتیبِ زمانی کی رعایت: ’’ذٰلِکَ مَثَلُہُمْ فِیْ التَّوْرَاۃِ وَمَثَلُہُمْ فِیْ الْإِنجِیْلِ‘‘
 ایمان وعمل میں ترتیب کی رعایت: ’’وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ أٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصَّالِحَاتِ‘‘(۱۷)
 مغفرت اور اجر کے درمیان ترتیب کی رعایت، پہلے تخلّی ہے، پھر تحلّی: ’’مَغْفِرَۃً وَّأَجْرًا عَظِیْمًا‘‘(۱۸)
 دنیا اور آخرت کے درمیان ترتیبِ زمانی ’’فَضْلاً مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا‘‘ فضل سے مراد رزق ہے اور رضوان کا تعلق آخرت سے ہے۔(۱۹)
 عقیدہ اور عمل میں ترتیب کی رعایت: ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ أَشِدَّائُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَائُ بَیْْنَہُمْ‘‘ 
 دعویٰ اور دلیل کے درمیان ترتیب کی رعایت: ’’وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ أَشِدَّائُ عَلَی الْکُفَّارِ‘‘ اور ’’سِیْمَاہُمْ فِیْ وُجُوْہِہِمْ‘‘ بمنزلہ دعویٰ ہے، توراۃ اور انجیل کی گواہی بمنزلہ دلیل کے ہے۔

آیتِ کریمہ متعدد اُمور پر مشتمل ہے:

 اول یہ کہ ثنائیات پر مشتمل ہے، اللہ نے صحابہؓ کی تین جملوں میں صفت بیان فرمائیں اور ہر جملہ دو دو باتوں پر مشتمل ہے:
الف:- ’’أَشِدَّائُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَائُ بَیْْنَہُمْ‘‘      ب:- ’’تَرَاہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا‘‘ 
ج:- ’’ یَبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا‘‘ 
د:- پھر اللہ نے وعدہ میں بھی دو باتوں کا فرمایا: ۱:- مغفرت، ۲:- اجرعظیم
 اور آیت دعویٰ اور دلیل پر مشتمل ہے۔
’’وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ‘‘ اور ’’سِیْمَاہُمْ فِیْ وُجُوْہِہِمْ‘‘ بمنزلہ دعویٰ ہے اور ’’مَثَلُہُمْ فِیْ التَّوْرَاۃِ وَمَثَلُہُمْ فِیْ الْإِنجِیْلِ‘‘ بمنزلہ دو عادل لوگوں کی گواہی کے ہے۔
 آیتِ کریمہ دو چیزوں: یعنی ذات وصفت پر مشتمل ہے: ’’ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘میں ذات کا ذکر ہے اور ’’وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ أَشِدَّائُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَائُ بَیْْنَہُمْ‘‘ میںصفت کا ذکر ہے۔ ’’ مُحَمَّدٌ‘‘ ذات، ’’رَسُوْلُ اللّٰہِ‘‘میں اس کی صفت، ’’وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ‘‘ذات، ’’أَشِدَّائُ‘‘ اور ’’رُحَمَائُ‘‘صفت ہے۔
 اور آیت مشتمل ہے دین کی ابتدائی وانتہائی حالت پر، ابتداء رسالت ہے اور انتہاء اجرِ عظیم ہے۔ (جنت)
 آیت مشتمل ہے موضوعاتِ قرآن: توحید، رسالت اور آخرت پر
 ایمان، نیت اور عمل
 دنیا و آخرت: ’’ فَضْلاً مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا‘‘ 
 رسول صلی اللہ علیہ وسلم وصحابہ ر ضی اللہ عنہم 
 عمل اور اَجر
 مسلمان اور کافر
 توراۃ اور انجیل
 سختی، نرمی (جلال اور جمال)
 اُمورِ حسیہ اور معنویہ(نماز حسی ہے، اور سختی نرمی دونوں معنوی ہیں)
 خالق اور مخلوق کے حقوق پر مشتمل ہے۔
آیت کی ایک اور تشریح یہ بھی ہوسکتی ہے کہ آیت میں کچھ حقوق کا ذکر ہے:
 عام لوگوں کا حق: اور وہ رسول کا بھیجنا ہے
 رسول کا حق کہ اس پر ایمان لایاجائے کہ وہ اللہ کا سچا رسول ہے
 اللہ کی عبادت کا حق: ’’ تَرَاہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا‘‘ 
 مسلمان کا حق:رحمت
 کافر کا حق: سختی
 صحابہؓ کا حق: اللہ کی طرف سے جنت ’’أَجْراً عَظِیْمًا‘‘ اور رسول کی طرف سے محبت: ’’یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ‘‘
صحابہ کرامؓ کی نباتات کے ساتھ تشبیہ اور تمثیل
 ابتداء اور انتہاء میں اور ضعف وقوت میں تشبیہ یا جیسے کہ صحابہؓ کا ایمان آسمان سے اُتری ہوئی وحی کے ذریعہ مضبوط ہوتا ہے، اسی طرح فصل آسمان سے نازل شدہ پانی سے مضبوط ہوتی ہے۔(۲۰)
 قبول میں تشبیہ ، صحابہؓ قابلِ کاشت زمین کی طرح ہیں، تبھی تو انہوں نے علمِ وحی کو قبول کیا، جس طرح اچھی زمین پانی کو قبول کرتی ہے، ویسے بھی حدیث میں دینِ اسلام کو بارش سے تشبیہ دی گئی اور مؤمن کو زمین سے۔
 تواضع اور عاجزی میں تشبیہ۔ صحابہؓ سجدہ میں گرگئے، حددرجہ عاجزی کا اظہار کیا، اللہ نے ان کو اوپر اُٹھایا، طاقت اور قوت دی، جس طرح بیج کا دانہ زمین میں گر کرعاجزی کا اظہار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو اُبھارتا ہے، شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے
کہ دانہ خاک میں مل کر گُل و گلزار بنتا ہے

 وجہ تشبیہ تدریجی عمل میں: یہ سب کچھ آہستہ اور تدریجاً ہوا کہ وحی آہستہ آہستہ نازل ہوتی رہی اور صحابہؓ کا ایمان بڑھتا گیا اور قوت بڑھتی گئی، جس طرح فصل ابتداء میں کمزور ہوتی ہے، بعد میں آہستہ آہستہ حدِ کمال تک پہنچتی ہے۔(۲۱)
 یا پھر یہ کہ انسانیت اسلام اور مسلمانوں کا صحابہؓ اور دعوتِ صحابہؓ کی طرف احتیاج ایسا ہے جیسے کہ انسان اپنی بقاء کے لیے کاشت کاری کا محتاج ہے۔
آیتِ کریمہ میں باطل پر رد کی طرف اشارہ ہے
 ’’رُحَمَائُ بَیْْنَہُمْ‘‘میں ان لوگوں پر رد ہے جو صحابہؓ کے درمیان عداوت کا دعویٰ کرتے ہیں۔
 ’’ذٰلِکَ مَثَلُہُمْ فِیْ التَّوْرَاۃِ وَمَثَلُہُمْ فِیْ الْإِنجِیْلِ‘‘ میں رد ہے یہودیت اور مسیحیت پر کہ وہ اپنی کتب کی شہادت کے باوجود پیغمبرِ خدا پر ایمان نہیں لائے۔
 ’’ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ممتاز صفت اور بہترین لقب عبودیت اور رسالت ہے، ان لوگوں پر رد ہے جو پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں حد سے بڑھتے ہیں اور مختلف القاب گھڑتے ہیں۔
 ’’وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ أٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصَّالِحَاتِ مِنْہُمْ مَّغْفِرَۃً وَأَجْراً عَظِیْمًا‘‘ میں مرجئہ پر رد ہے جو عمل کو ضروری نہیں سمجھتے، حالانکہ یہاں ایمان وعمل دونوں پر اجر ومغفرت (نجات) کو مرتب کیا ہے۔
 ’’وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ أٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصَّالِحَاتِ مِنْہُمْ مَّغْفِرَۃً وَأَجْراً عَظِیْمًا‘‘ میں صحابہؓ کے حسنِ خاتمہ کی طرف اشارہ ہے، اس لیے کہ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ متحقق ہے۔ یہ ان لوگوں پر رد ہے جو اس کے خلاف عقیدہ رکھتے ہیں۔(۲۲)

آیتِ کریمہ میں عمومی فوائد ملاحظ فرمائیں:

 توحید: ’’تَرَاہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا‘‘ 
 رسالت: ’’ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘
 قیامت: ’’وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ أٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصَّالِحَاتِ مِنْہُمْ مَّغْفِرَۃً وَأَجْرًا عَظِیْمًا‘‘ 
 کلمۂ شہادت لفظاً ومعنًی: لفظاً: ’’ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ‘‘، معنی: ’’یَبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا‘‘ 
 صحبت: ’’ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ‘‘
 نیک لوگوں کی صحبت کا انسان کی زندگی پر اچھا اثر ہوتا ہے، ’’ وَالَّذِیْنَ مَعَہٗ‘‘سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ صحابہؓ نے یہ سب کچھ پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کی برکت سے حاصل کیا۔
 اعمالِ صالحہ کا انسان کے چہرہ پر اثر ہوتا ہے۔(۲۳)
 نماز کی اہمیت، حالانکہ صحابہؓ کی اور خصوصیات بھی تھیں، مگر نماز کا تذکرہ کیا گیا۔(۲۴)
 نماز کے تمام ارکان میں سجدہ کی اہمیت کہ خصوصیت کے ساتھ اس کا ذکر ہوا: ’’سِیْمَاہُمْ فِیْ وُجُوْہِہِمْ مِّنْ أَثَرِ السُّجُوْدِ‘‘
 لوگوں کے ساتھ تعامل میں اعتدال اور فرق۔ ہر حال میں یا ہر ایک سے نرمی بہتر ہے، نہ کہ گرمی، بلکہ موقع مناسبت کا لحاظ رکھنا: ’’أَشِدَّائُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَائُ بَیْْنَہُمْ‘‘ (۲۵)
 نامِ محمد کی تصریح: عام طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ نام کے بجائے رسالت یا نبوت کے القاب سے ہوا ہے۔(۲۶)
 عمل میں اخلاص: ’’یَبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا‘‘ 
 اخلاقِ عالیہ: ’’رُحَمَائُ بَیْْنَہُمْ‘‘
 جہاد کا ثبوت ’’أَشِدَّائُ عَلَی الْکُفَّارِ‘‘دوسری جگہ اس صفت کے بعد جہاد کا تذکرہ صراحۃً مذکور ہے، فرمایا: ’’أَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ أَعِزَّۃٍ عَلَی الْکَافِرِیْنَ یُجَاہِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ‘‘ علامہ اقبالؒ کے شعر سے بھی اس آیت کی طرف اشارہ ہے:

ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم

رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

 شجاعتِ صحابہؓ ’’أَشِدَّائُ عَلَی الْکُفَّارِ‘‘[صحابہؓ کی بہادری]
 صحابہؓ کی تواضع ’’رُحَمَائُ بَیْْنَہُمْ‘‘
 آیتِ کریمہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ بات کو مثال کے ساتھ واضح کرنا چاہیے۔
 اور مثال دینے میں واقع کی رعایت ضروری ہے، تاکہ لوگ سمجھ سکیں، یہاں صحابہؓ کے لیے زراعت اور کاشت کی مثال دی گئی، اس لیے کہ زراعت بعض صحابہؓ کا پیشہ بھی تھا۔
 تدریج میں حکمت:’’کَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَہٗ فَأٰزَرَہٗ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوٰی عَلٰی سُوْقِہٖ‘‘ 
 حسنِ عمل اور حسنِ اخلاق پر حوصلہ افزائی: ’’رُحَمَائُ بَیْْنَہُمْ تَرَاہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا‘‘
 علم اللہ سبحانہ وتعالیٰ، اللہ نے ان کو پیدا کرنے سے پہلے ان کی تعریف کی۔(۲۷)
 صحابہؓ کے لیے ’’رضی اللہ عنہ کہنا ، ترضّی جو اُن کا ہدف اور مقصد تھا: ’’یَبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا‘‘
 ’’رُکَّعًا سُجَّدًا‘‘ سے جماعتِ نماز پر استدلال کیا جاسکتا ہے، یا پھر قیام اللیل کی اہمیت، صحابہ کرامؓ کی رات اور دن کے اعمال کی طرف اشارہ ہے، رات کو قیام اللیل، رکوع سجدہ میں گزارے اور دن کو جہاد کرتے تھے۔
 صحابہ کرامؓ سے بغض کفر کی نشانی ہے: ’’لِیَغِیْظَ بِہِمُ الْکُفَّارَ‘‘(۲۸)
 پیغمبر کی صحابہؓ سے محبت: ’’یُعْجِبُ الزُّرَّاعَ‘‘سب سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیقؓ سے محبت کرتے تھے۔
 زراعت کی اہمیت انسان کی زندگی میں۔
 آسمانی کتابیں ایک دوسرے کے موافق اور مصداق ہیں۔
 تورات وانجیل میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت۔(۲۹)
القرآن یفسر بعضہٗ بعضًا، یہ مضمون دوسری جگہ پر مذکور ہے۔
 حدیث قرآن کی تشریح ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’ الْمُسْلِمُوْنَ کَجَسَدٍ وَّاحِدٍ‘‘
 واضح رہے کہ اکثر علماء کے نزدیک ’’سِیْمَاہُمْ فِیْ وُجُوْہِہِمْ‘‘ سے مراد پیشانی رگڑنے سے جو خاص نشان ہوتا ہے وہ مراد نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد وہ خاص نور ہے جو نمازی کے چہرے پر نمایاں ہوتا ہے۔(۳۰)
 آیت کی ابتداء، محمد اور انتہاء اجر عظیم جنت پر ہورہی ہے، یعنی مسلمان کی زندگی کی ابتداء پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور انتہاء جنت پر ہے۔ حرفِ میم سے حرفِ میم تک اور یہ وہ مبارک حرف ہے جس کا تین مرتبہ نام محمد کے لیے انتخاب کیا گیا۔
 اس آیتِ کریمہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ آیت الف سے لے کر یاء تک سارے حروفِ تہجی پر مشتمل ہے۔(۳۱)

حوالہ جات

۱:-تفسیر غرائب القرآن، ج:۶، ص:۱۵۳، ط:دارالکتب العلمیۃ، بیروت

۲:-تفسیر ابن کثیر، ج:۵، ص:۵۴۴۔
۳:- نظم الدرر، ج:۷، ص:۲۰۳

۴:- التفسیر المنیر، ج: ۲۶، ص: ۱۴۳۔
۵:-تفسیر ابن کثیر، ج: ۵، ص:۵۷۴ ۔

۶:-تفسیر روح المعانی، ج: ۲۶، ص:۳۸۶ ۔
۷:-المصباح المنیر، ج: ۱، ص: ۲۹۸۔

۸:-التفسیر المنیر، ج: ۲۶، ص: ۲۰۵-۲۰۹۔
۹:- ایضاً۔

۱۰:- ایضاً۔

۱۱:-ایضاً ۔
۱۲:- ایضاً۔

۱۳:- ایضاً۔

۱۴:- ایضاً۔
۱۵:- معارف القرآن (کاندھلویؒ)، ج: ۷، ص:۴۰۴ ۔

۱۶:- ایضاً۔
۱۷:- تفسیر کبیر، ج: ۲۸، ص: ۹۰۔

۱۸:- روح المعانی، ج:۲۶ ، ص:۳۹۵ ۔
۱۹:- تفسیر ابن کثیر، ج: ۵، ص: ۵۷۴۔

۲۰:- تفسیر ابن کثیر، ج: ۵، ص: ۵۷۶۔ تفسیر مظہری، ج: ۶، ص: ۳۸۶۔
۲۱:- معارف القرآن (کاندھلویؒ)، ج: ۷، ص: ۴۰۳، بحوالہ حضرت شاہ ولی اللہ ؒ۔

۲۲:- احکام القرآن للقرطبیؒ، ج:۱۷ ، ص: ۲۹۸۔ تفسیر النسفی، ج: ۴، ص: ۳۷۳۔
۲۳:- تفسیر الطبری، ص: ۱۲۹۔

۲۴:- تفسیر ابن کثیر، ج: ۵، ص: ۵۷۵۔
۲۵:- ایضاً۔

۲۶:- معارف القرآن(عثمانیؒ)، ج: ۸، ص: ۹۱۔
۲۷:- الدر المنثور، ج: ۷، ص: ۵۴۳۔ تفسیر الطبری، ص:۱۲۹۔

۲۸:- تفسیر ابن کثیر، ج: ۵، ص: ۵۷۶۔ معارف القرآن (کاندھلویؒ)، ج: ۷، ص:۴۰۷ ۔
۲۹:- تفسیرِ مظہری، ج: ۶، ص: ۳۸۵۔

۳۰:- معارف القرآن(عثمانیؒ)، ج: ۸، ص: ۹۳۔
۳۱:- حاشیۃ الجمل المشہور ب ’’الفتوحات الالٰہیۃ‘‘، ج: ۷، ص: ۲۳۲۔

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے