بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

- 21 نومبر 2019 ء

بینات

 
 

سندھ میں اسلام کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش اور سرکاری اسکولوں میں نصاب کی تبدیلی کی مہم!

سندھ میں اسلام کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش اور سرکاری اسکولوں میں نصاب کی تبدیلی کی مہم!

 

الحمد للّٰہ وسلامٌ علٰی عبادہٖ الذین اصطفٰی

اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اساس اور بنیاد اسلام پر رکھی گئی اور اس کے آئین میں درج ہے کہ چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہی پوری کائنات کا بلاشرکت غیرے حاکم مطلق ہے اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار واقتدار اس کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہوگا وہ ایک مقدس امانت ہے، اور یہ کہ جمہوریت، آزادی، مساوات اور عدلِ عمرانی کے اصولوں پر جس طرح اسلام نے ان کی تشریح کی ہے، پوری طرح عمل کیا جائے گا، جس میں مسلمانوں کو انفرادی اور اجتماعی حلقہ ہائے عمل میں اس قابل بنایاجائے گا کہ وہ اپنی زندگی کو اسلامی تعلیمات ومقتضیات کے مطابق جس طرح قرآن پاک اور سنت میں ان کا تعین کیا گیا ہے ترتیب دے سکیں۔ اور اسلام پاکستان کا مملکتی مذہب ہوگا۔ مذہب کی پیروی اور مذہبی اداروں کے انتظام کی آزادی کے عنوان کے تحت آرٹیکل نمبر:۲۰ میں ہے کہ:  ’’ ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق ہوگا۔‘‘ زبان، رسم الخط اور ثقافت کا تحفظ کے عنوان کے تحت آرٹیکل ۲۸؍ میں لکھا ہے کہ :  ’’آرٹیکل ۲۵۱؍ کے تابع، شہریوں کے کسی طبقہ کو، جس کی ایک زبان، رسم الخط یا ثقافت ہو، اُسے برقرار رکھنے اور فروغ دینے اور قانون کے تابع اس غرض کے لیے ادارے قائم کرنے کا حق ہوگا۔‘‘ باب:۲- حکمت عملی کے اصول کے عنوان کے تحت آرٹیکل :۳۶ میں ہے کہ: ’’ مملکت، اقلیتوں کے جائز حقوق اور مفادات کا جن میں وفاقی اور صوبائی ملازمتوں میں ان کی مناسب نمائندگی شامل ہے‘ تحفظ کرے گی۔‘‘ نظریۂ پاکستان، پاکستان کے آئین ودستور کے حوالہ سے یہ باتیں اس لیے درج کی گئی ہیں کہ سندھ اسمبلی میں اقلیتوں کے حقوق کے نام پر ایک بل پاس کیا گیا ہے، اخبارات کی اطلاعات کے مطابق اس کی تصویر کچھ یوں بنتی ہے کہ اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے کسی غیر مسلم کے مسلمان ہونے پر پابندی ہوگی اور اگر اس نے اسلام قبول کرہی لیا تو وہ اٹھارہ سال تک غیر مسلم ہی کہلائے گا۔ اٹھارہ سال سے زائد عمر کا کوئی شخص مرد ہو یا عورت، اپنے اسلام قبول کرنے کا اعلان نہیں کرسکے گا۔ مذہب تبدیل کرانے پر عمر قید تک کی سزا ہوگی۔ کسی نومسلم کا نکاح پڑھانے والے یا کسی نومسلم کو پناہ دینے والے شخص کو کم از کم پانچ سال یا عمر قید کی سزا دی جاسکے گی اور ان کی ضمانت بھی منظور نہیں ہوگی۔ عدالت سات دنوں کے اندر ایسا کیس سننا شروع کرے گی۔ اسلام قبول کرنے والے شخص کے بارہ میں میڈیا کوریج پر پابندی ہوگی۔ نومسلموں کے کیس کی سماعت اِن کیمرا اور مقدمات خصوصی عدالتوںمیں چلیں گے، جو نوے روز میں فیصلہ سنانے کی پابند ہوں گی۔ اس کے علاوہ نومسلموں کو دباؤ میں رکھنے کے لیے نفسیاتی دباؤ کی شق بھی شامل کی گئی ہے ، جس کی کوئی حد، تشریح یا وضاحت نہیں کی گئی۔  پاکستانی رائج قانون کے مطابق جب بھی کوئی نومسلم اسلام قبول کرتا ہے، وہ سب سے پہلے کسی مستند دینی ادارہ کے دارالافتاء کے کسی مفتی صاحب یا کسی بڑی دینی شخصیت کے ہاتھ پر اسلام قبول کرتا ہے، پھر وہ کسی مقامی، ضلعی یا ملک کی کسی بھی عدالت میں از خود پیش ہوکر مجسٹریٹ کے سامنے اپنے مسلمان ہونے کا اقرار اور بیان دیتا ہے، جس کے بعد عدالت اس کے اس بیان کو قبول کرتی ہے، اگر وہ برادری یا کسی گروہ سے خطرہ محسوس کرتا ہے اور عدالت سے درخواست کرتا ہے تو عدالت مجاز اتھارٹی کو حکم دیتی ہے کہ وہ اُسے ہر قسم کا تحفظ فراہم کرے۔ یہ ہے کسی نومسلم کے اسلام قبول کرنے کا شرعی، آئینی اور دستوری طریقہ، جس میں نہ کہیں کوئی جبر موجود ہے اور نہ زور زبردستی ہے اور نہ ہی کوئی اغواء یا بدنیتی کی کوئی جھلک ہے۔ اگر اس طریقہ کار کی کوئی جھلک دیکھنی ہو تو ماہنامہ بینات ماہِ رمضان وشوال ۱۴۳۵ھ مطابق اگست ۲۰۱۴ء کے شمارے میں ’’سندھ ہائی کورٹ کا تاریخی فیصلہ‘‘ کے عنوان سے اداریہ ایک بار پھر ملاحظہ فرمالیں۔ سندھ اسمبلی کے فلور پر اس بل کے آنے کے وقت سے منظور ہونے تک‘ علمائے کرام، ریٹائرڈ جج صاحبان، وکلاء حضرات، اتحادِ تنظیماتِ مدارسِ دینیہ کے تحت ملک بھر کے پانچوں وفاقوں کے اکابرین، مذہبی طبقہ اور دین کا درد رکھنے والے عام مسلمان سراپا احتجاج رہے اور اراکین اسمبلی کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے رہے کہ یہ بل شریعت اسلامیہ ، نظریۂ پاکستان، ۱۹۷۳ء کے متفقہ آئین اور عدل وانصاف کے تمام تقاضوں کو پامال کرنے کے مترادف ہے۔ اس لیے کہ قرآن کریم کی رو سے کسی کو زبردستی مسلمان بنانا ہرگز جائز نہیں اور نہ ہی آج تک اسلام قبول کرنے والوں نے اس کا اعلان واظہار کیا ہے کہ ہمیں جبراً اسلام قبول کرایا گیا ہے۔ بلکہ اس کے برعکس کسی نومسلم نے اسلام قبول کیا یا تو اُسے قتل کیا گیا یا اقلیتوں کے زیر اثر علاقہ کے وڈیرے، جاگیردار اور انتظامیہ نے اس کو غیرمسلموں کے حوالہ کیا اور اُسے مرتد بنایاگیا، نومسلم بچی چیختی اور چلاتی رہی، لیکن اس کی ایک نہ سنی گئی۔ اسی طرح کی کئی ایک مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ ہمارے ملک عزیز پاکستان کی موجودہ مجموعی صورت حال سے یہ معلوم ومحسوس ہوتا ہے کہ اسلام بیزار اور سیکولر طبقہ اس ملک کی اساس وبنیاد اور نظریۂ پاکستان کو بے وقعت بنانے، اُسے ملیا میٹ کرنے اور مٹانے پر مامور ومسلط کردیا گیا ہے۔ جس ملک میں اسلام کے کسی عمل کے بارہ میں ایک کافر بھی زبانِ طعن کھولنے سے پہلے سوبار سوچتا تھا، آج اسی اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک صوبائی اسمبلی کے مسلم اراکین ‘ اسلام کی تبلیغ اور اسلام قبول کرنے والوں پر پابندیاں عائد کررہے ہیں اور اُسے قابل تعزیر جرم قرار دے رہے ہیں: وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا اس موقع پر وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے قائدین شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب، شیخ الحدیث حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا قاری محمد حنیف جالندھری اور مولانا انوار الحق مدظلہم کی طرف سے یہ بیان جاری کیا گیا: ’’ کراچی (اسٹاف رپورٹر) وفاق المدارس العربیہ نے سندھ اسمبلی سے قبولِ اسلام سے متعلق منظور کیے جانے والے بل کو کالا قانون قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون غیرآئینی اور غیر اسلامی ہے۔ قانون‘ قبولِ اسلام کے راستے میں روڑے اَٹکانے اور نومسلموں کو ہراساں کرکے دوبارہ غیرمسلم بنانے کی مذموم کوشش ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نوٹس لے کر کالاقانون فوری واپس کرائے۔ ہندؤوں کے چند ووٹوں کے لیے آئین پاکستان کے منافی قانون سازی حیران کن اور مضحکہ خیز ہے۔ وفاق المدارس کے قائدین شیخ الحدیث مولانا سلیم اللہ خان، مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا محمد حنیف جالندھری، اور مولانا انوار الحق نے کہا ہے کہ اس بل میں ۲۱؍ روز تک قبولِ اسلام کا اعلان نہ کرنے کا پابند بناکر جبروتشدد کا راستہ کھولنے کی کوشش کی گئی ہے، تاکہ اسلام قبول کرنے والے فرد کو ان دنوں میں ہراساں کرکے اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کیاجاسکے۔ اس بل کے نتیجے میں اپنی رضا ورغبت سے اسلام قبول کرنے والے خاندانوں کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوںنے کہا کہ کئی بچے، بچیاں ۱۸؍ سال سے کم عمر میں بالغ ہوجاتے ہیں، انہیں بلوغت کے باوجود قبولیت ِاسلام سے روکنا کالاقانون ہے، جسے واپس لیا جائے۔‘‘                            (روزنامہ امت، کراچی، بروز اتوار، ۲۷؍ نومبر۲۰۱۶ئ) سابق آرمی چیف اور سیاسی تجزیہ نگار جناب اسلم بیگ صاحب نے اپنے انٹرویو میں اس سوال کہ: ’’اس صورت حال میں آپ کیا سمجھتے ہیںکہ پاکستان کے لیے اب سب سے بڑا خطرہ کیا ہے؟‘‘ کے جواب میںیہ بات بالکل بجا فرمائی کہ : ’’بھارت سے بڑی جنگ کا خطرہ نہیں ہے، لیکن پاکستان کو دو بڑے خطرات لاحق ہیں، جس کی نشاندہی ترکی کے صدر طیب اُردگان نے بھی کی ہے۔ پہلا خطرہ داعش کا ہے جو افغانستان میں بڑھتا جارہا ہے، اُسے مغربی ممالک ہوا دے رہے ہیں، جبکہ دوسرا خطرہ سیکولر طبقات اور اسلام پسندوں میں نظریاتی تصادم کا ہے۔ اس نظریاتی تصادم کی وجہ سے آج پاکستانی قوم دو حصوں میں تقسیم ہوتی نظر آرہی ہے۔ ہمیں اس بارے میں غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔پاکستان میں نظریاتی تصادم شدید صورت حال اختیار کرتا جارہا ہے، کیونکہ پاکستان کے آئین میں بیان کردہ اسلامی نظریۂ حیات کو نظر انداز کرکے صرف جمہوریت کی بات کی جارہی ہے، جس کی کوئی سمت نہیں ہے۔ آئین کہتا ہے کہ پاکستان کا جمہوری نظام قرآن وسنت کے اصولوں پر قائم ہوگا، لیکن یہاں تبلیغ اسلام پر پابندی لگائی جارہی ہے۔ حکمرانوں نے قرآن وسنت کی تعلیمات کو بھلادیا ہے۔ یہ بہت ہی خطرناک صورت حال ہے۔ انڈونیشیا میں بھی لوگوں کے نظریات کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں تصادم اور خانہ جنگی ہوئی۔ سندھ میں قبولِ اسلام پر پابندیاں لگاکر ایسی ہی صورت حال کو دعوت دی جارہی ہے۔‘‘                                               (روزنامہ امت، کراچی، بروز اتوار، ۲۷؍ نومبر۲۰۱۶ئ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جناب اسلم بیگ صاحب کے تجزیہ کی اس بات سے بھی تصدیق ہوتی ہے کہ امریکہ کے حکم، معاونت اور سرپرستی سے ایک این جی اوز ۲۰۱۱ء سے مسلسل اس بات کی مہم چلارہی ہے کہ پاکستان کے سرکاری اسکولوں کے نصاب میں تبدیلیاں لائی جائیں۔ ابھی حال میں اس نے ایک رپورٹ بنام ’’پاکستان میں عدم برداشت کی تدریس، سرکاری اسکول کی نصابی کتب میں مذہبی تعصب‘‘ میں یہ لکھا ہے کہ پاکستان کے صوبہ’’ کے ،پی، کے‘‘ اور صوبہ ’’پنجاب‘‘ میں ہمارے کہنے پر کئی تبدیلیاں کی گئی ہیں اور مزید کئی تبدیلیاں کی جانی باقی ہیں اور پھر اس نے ایک جدول کے ذریعہ اس کو واضح کیا ہے۔ اس رپورٹ میں اور باتوں کے علاوہ نصاب کی تیاری کے لیے تجاویز کے عنوان کے تحت ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ ’’اسلام کا بطور [واحد صحیح] ایمان ہونے کو درسی کتب سے ختم کیا جانا چاہیے۔‘‘ اس رپورٹ کی نشاندہی سب سے پہلے ہماری جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے ایک جید عالم اور استاذ حضرت مولانا محمد عمر بدخشانی حفظہ اللہ نے کی، جن کی حالاتِ حاضرہ پر گہری نظر رہتی ہے۔ انہوںنے اس رپورٹ کا لنک بھی بھیجا، راقم الحروف نے اس پوری رپورٹ کا پرنٹ نکلواکر اپنے پاس بھی محفوظ کیا اور کئی علماء کرام کو بھی ارسال کیا ۔ ارادہ تھا کہ ماہنامہ بینات کے اداریہ میں اس پر کچھ لکھا جائے گا، لیکن ۲۴؍ نومبر ۲۰۱۶ء کو روزنامہ جنگ کے مقبول ومعروف سینئر صحافی جناب انصار عباسی صاحب کا کالم ’’خبردار وہوشیار‘‘ کے عنوان سے واٹس ایپ کے ذریعہ پڑھنے کو ملا، جس میں بڑے کرب والم اور دردِ دل سے اس رپورٹ کا تذکرہ اور اس پر تبصرہ کیا گیا۔ افادۂ قارئین کے لیے اُسے یہاں نقل کیا جاتا ہے، محترم جناب انصار عباسی صاحب لکھتے ہیں:     ’’۱۱/۹ کے بعد پاکستان کے تعلیمی نصاب میں بہت تبدیلیاں کی گئیں، یہاں تک کہ جہاد کے بارے میں قرآنی آیات کو نصاب سے نکالا گیا۔ یہ سب کچھ امریکا اور یورپ کے دباؤ پر کیا گیا۔ اس پرشور بھی اُٹھا، لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ اسلام مخالف قوتوں کی ایما پر تعلیمی نصاب میں تبدیلی کا سلسلہ ابھی تک رُکا نہیں بلکہ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ خاموشی سے نجانے کیا کچھ تبدیل کیا جاچکا اور نہیں معلوم کہ یہ سلسلہ کہاں رُکے گا۔ اس سلسلے میں کبھی کبھار کہیں کوئی خبر شائع ہوجائے تو پتا چلتا ہے کہ کچھ غلط ہورہا ہے، لیکن یہ وہ معاملہ ہے جو اب ریڈ لائنز کو کراس کررہا ہے۔ چند روز قبل میں نے ایک خبر دی نیوز جنگ میں دی جو ایک امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی پاکستان سے متعلق سال ۲۰۱۶ء میں شائع کی گئی رپورٹ پر مبنی تھی۔ اس رپورٹ کی تیاری میں ایک پاکستانی این جی او پیس اینڈ ایجوکیشن فاؤنڈیشن نے کام کیا۔ رپورٹ کا موضوع ’’پاکستان میں عدم برداشت کی تدریس، پبلک اسکول کی نصابی کتب میں مذہبی تعصب‘‘ ہے، جس میں تعلیمی نصاب میں تبدیلی کے لیے ایسی ایسی سفارشات دی گئی جن کا صاف صاف مقصد پاکستان کی آئندہ نسلوں کو اسلام سے دور کرنا ہے۔ مسئلہ سنگین اس لیے ہے کہ اسی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں متعلقہ امریکی کمیشن (The US Commission on International Religious Freedom) اور لوکل این جی او (Peas and Education Foundation) کی ۲۰۱۱ء کی ایک رپورٹ کے نتیجے میں خصوصاً پنجاب اور خیبرپختون خوا میں تعلیمی نصاب میں کئی تبدیلیاں پہلے ہی کی جاچکی ہیں۔ ۲۰۱۶ء کی رپورٹ تفصیلی ہے اور اگر اس پر بھی عمل درآمد ہوا تو پھر کیا ہوگا اس کا اندازہ آپ رپورٹ پڑھ کر ہی لگاسکتے ہیں۔ قارئین کرام! حکام بالا، پارلیمنٹ، عدلیہ، سیاسی جماعتوں کی توجہ کے لیے اس رپورٹ کے کچھ حصے پیش کررہا ہوں، تاکہ اندازہ ہوسکے کہ پاکستان میں تعلیمی نصاب کی بہتری کے نام پر کس قسم کی سازش ہورہی ہے۔ رپورٹ میں لکھا ہے:  ’’سرکاری اسکول کی نصابی کتابیں جو ۴۱؍ لاکھ سے زائد بچوں تک پہنچتی ہیں، وہ اسلام مرکوز نقطہ نظر کو بطور واحد جائز اور منطقی سوچ ظاہر کرتے ہوئے مذہبی اقلیتوں کی منفی اور دقیانوسی انداز میں تصویر کشی کرتی ہیں۔‘‘      رپورٹ میں اس بات پر سخت اعتراض اُٹھایا گیا ہے کہ پاکستان کے تعلیمی نصاب میں اسلامی عقیدہ پر زور کیوں دیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں لکھا گیا:  ’’پاکستان کے مذہبی تنوع کے باوجود پورے نصاب میں اسلام کو پاکستان کی کلیدی خصوصیت اور پاکستان کی شناخت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ مذہبی اقلیتوں کے مذہبی عقائد کے ساتھ تنازع میں آتا ہے ۔‘‘      امریکی کمیشن کی اس رپورٹ میں یہ بھی اعتراض اٹھایا گیا کہ:  ’’معاشرتی علوم، مطالعہ پاکستان اور تاریخ کے نصاب میں طلبہ کو تاریخ کی وہ قسم پڑھائی جاتی ہے جو پاکستان کے ایک قومی اور اسلامی تشخص کو فروغ دیتی ہے اور اکثر مذہبی لحاظ سے بھارت کے ساتھ تنازعات کو بیان کرتی ہے۔‘‘      امریکی کمیشن کی یہ رپورٹ یہ بھی سمجھتی ہے کہ پاکستان کا تعلیمی نصاب جنگ اور تشدد کی ستائش کرتا ہے، اس بارے میں رپورٹ کہتی ہے:  ’’گریڈ کی تمام سطحوں کی نصابی کتب میں بار بار اُبھرتا رجحان جنگ اور جنگ کے ہیرو کی ستائش پر بہت زور دیتا ہے۔ خاص طور پر محمد بن قاسم اور سلطان محمود غزنوی کے ۱۷؍ مشہور حملوں سے سندھ کی فتح کو بہت فخر کے ساتھ ہر نصابی کتاب میں شامل کیا گیا ہے۔ برصغیر میں تہذیب کے آغاز کے طور پر ان دو واقعات کو اجاگر کرنا جب کہ فن، فن تعمیر اور ثقافت کے ارتقاء کا درسی کتب میں نظر انداز کیا جانا ایک اہم مسئلہ ہے۔‘‘     اپنی سفارشات (جو لوکل این جی او نے تیار کیں) میں امریکی کمیشن لکھتا ہے کہ:  ’’اسلام کو بطور[واحد صحیح] ایمان ہونے کو درسی کتب سے ختم کیا جانا چاہیے۔ ‘‘     کچھ دوسری سفارشات کے مطابق :     ’’درسی کتب میں اقلیتی گروپوں کے نامور افراد کی متناسب مثالیں شامل کی جانی چاہئیں اور تمام گروپوں سے سائنس، ادب، طب اور کھیلوں کے شعبوں میں سے قومی ہیروز شامل کیے جانے چاہئیں۔‘‘      ’’طالب علموں کو ایسا کوئی بھی مواد بالکل بھی نہیں سکھایا جانا چاہیے جو کسی ایک مذہب کو دوسرے مذہب کی قیمت پر ثابت کرے اور جیسا کہ پاکستان کے آئین میں ضمانت شدہ ہے تو کسی بھی غیر مسلم طلبہ کو اسلامی نصاب پڑھنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔‘‘      ’’ منفی تلقین ختم ہونی چاہیے اور بہتر مبصرانہ تعلیم کے لیے غیرجانبدارانہ مواد اپنایا جائے۔‘‘      رپورٹ کے مطابق کمیشن کی ۲۰۱۱ء کی رپورٹ میں اُٹھائے گئے کافی اعتراضات پاکستان تعلیمی نصاب سے ہٹادیئے گئے ہیں، جبکہ کئی کو ہٹانا ابھی باقی ہے۔ رپورٹ کے مطابق لائی گئی بہتری لائق تحسین ہے، لیکن نصابی کتب میں عدم برداشت اور متعصب مواد کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے پاکستان کی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ دی نیوز اور جنگ میں رپورٹ کے کچھ حصے چند روز قبل شائع ہونے کے بعد آج امریکی کمیشن کی ویب سائٹ پر رپورٹ غائب ہے اور اسے کھولا نہیں جاسکتا۔ وجہ کیا ہے؟ معلوم نہیں۔ ہوسکتا ہے اس رپورٹ کا اخبار میں شائع ہونا امریکا کے کسی دیسی خدمت گار کے لیے پریشانی کاباعث ہو اور اسی وجہ سے اس کو فی الحال بلاک کردیا گیا ہو۔ لیکن میں نے احتیاطاًرپورٹ کی کاپی اپنے کمپیوٹر پر Saveکرلی تھی ۔ رپورٹ انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں پوسٹ کی گئی۔ میں نے اپنی ذمہ داری پوری کی، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا حکومت، پارلیمنٹ، عدلیہ، میڈیا، سیاسی جماعتیں وغیرہ اس مسئلہ کی سنگینی کو محسوس کرتے ہیں کہ نہیں؟‘‘ شنید ہے کہ اس این جی اوز کی ان نئی سفارشات کی روشنی میں نیا نصاب بھی چھاپ دیا گیا ہے۔ اور ان کی خواہش کے مطابق ہیروز میں کئی غیرمسلموں کے نام شامل کیے گئے ہیں۔ اللہ کرے ایسا نہ ہو۔ لیکن اگر ایسا ہوگیا ہے تو ہم مسلمانوں کے لیے یہ بہت بڑا المیہ اور ہماری ملی غیرت اور حمیت اسلامی کے لیے کھلا چیلنج ہے۔ اگر اب بھی ہم بیدار نہ ہوئے اور دین اسلام، اسلامی اقدار اور اپنے اسلامی ورثہ اور اسلامی ہیروز کی تاریخ کی حفاظت نہ کرسکے تو پھر اس خطہ میں ہماری داستان نہ ہوگی داستانوں میں، ولافعل اللّٰہ ذٰلک۔ وصلی اللّٰہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیدنا محمد وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ أجمعین

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے

ہماری ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے